• RSIF8
    Roll no 94
    TEDx Talk no 18
    TED Talk topic
    آج میں نے TEDx Talk "What Makes an Idea?" از نبیل قادر دیکھی۔ اس گفتگو سے یہ سیکھنے کو ملا کہ بڑے خیالات اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ تجسس، مشاہدے، تخلیقی سوچ اور مسلسل محنت سے پروان چڑھتے ہیں۔ ہر کامیاب ایجاد اور تبدیلی ایک چھوٹے سے خیال سے شروع ہوتی ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ہمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص کے پاس ایک منفرد خیال ہو سکتا ہے، مگر کامیابی اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے خیالات پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

    آپ کے خیال میں ایک اچھے آئیڈیا کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

    #TEDx #نبیل_قادر #WhatMakesAnIdea #خیال #تخلیقی_صلاحیت #جدت #حوصلہ #کامیابی #ترقی #سیکھنا #تحریک #Motivation
    RSIF8 Roll no 94 TEDx Talk no 18 TED Talk topic 🎥💡 آج میں نے TEDx Talk "What Makes an Idea?" از نبیل قادر دیکھی۔ اس گفتگو سے یہ سیکھنے کو ملا کہ بڑے خیالات اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ تجسس، مشاہدے، تخلیقی سوچ اور مسلسل محنت سے پروان چڑھتے ہیں۔ ہر کامیاب ایجاد اور تبدیلی ایک چھوٹے سے خیال سے شروع ہوتی ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ہمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص کے پاس ایک منفرد خیال ہو سکتا ہے، مگر کامیابی اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے خیالات پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ 🌟🚀 آپ کے خیال میں ایک اچھے آئیڈیا کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ 👇 #TEDx #نبیل_قادر #WhatMakesAnIdea #خیال #تخلیقی_صلاحیت #جدت #حوصلہ #کامیابی #ترقی #سیکھنا #تحریک #Motivation 💡🚀✨📚🌍
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 210 Visualizações 1
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 3617 Visualizações
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 2497 Visualizações
  • پاکستان کے پہلے AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم کی تعمیر کا سفر

    ہر عظیم کامیابی کی ابتدا ایک چھوٹے سے خیال سے ہوتی ہے، اور ہر خواب حقیقت بننے سے پہلے صرف ایک تصور ہوتا ہے۔

    Phoneopia کی کہانی بھی کسی بڑی سرمایہ کاری یا وسیع وسائل سے نہیں، بلکہ ایک سادہ مگر طاقتور سوال سے شروع ہوئی:

    "کیا کمیونیکیشن صرف پیغامات بھیجنے تک محدود رہنی چاہیے؟"

    آج کی تیز رفتار دنیا میں لوگ روزانہ گھنٹوں پیغامات کے جواب دینے، لمبی وائس نوٹس سننے، مختلف زبانوں کی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور فراڈ یا اسپیم سے بچنے میں صرف کر دیتے ہیں۔

    ہم نے محسوس کیا کہ جب مصنوعی ذہانت (AI) ہر شعبے میں انقلاب لا رہی ہے، تو کمیونیکیشن کا تجربہ بھی زیادہ ذہین، تیز اور محفوظ ہونا چاہیے۔

    اسی سوچ نے Phoneopia کو جنم دیا۔

    Phoneopia صرف ایک میسجنگ ایپ نہیں، بلکہ ایک AI سے چلنے والا جدید کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد لوگوں کا وقت بچانا، ان کی پیداواری صلاحیت (Productivity) میں اضافہ کرنا اور رابطوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

    Phoneopia کی نمایاں خصوصیات:
    AI Auto Reply
    Voice Transcription
    Live Translation
    Scam & Fraud Detection
    AI-Powered Communication
    محفوظ اور اسمارٹ کمیونیکیشن

    لیکن ہمارا مقصد صرف جدید فیچرز متعارف کروانا نہیں۔

    ہمارا وژن ایک ایسی دنیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی گفتگو کو آسان، مؤثر اور محفوظ بنائے، تاکہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگتا رہے۔

    یہ سفر کبھی بھی آسان نہیں تھا۔

    بے شمار راتوں کی محنت...
    لاتعداد Bugs...
    نئے خیالات...
    مسلسل بہتری...
    اور صارفین کے اعتماد نے ہمیں ہر دن مزید مضبوط بنایا۔

    ہر مشکل نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر مقصد بڑا ہو تو راستے کی رکاوٹیں صرف سیکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

    آج Phoneopia گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے، لیکن ہمارے لیے یہ اختتام نہیں...

    بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کی شروعات ہے۔

    ہمارا خواب ہے کہ پاکستان سے ایک ایسا AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم بنایا جائے جو پوری دنیا میں لوگوں کے رابطے اور گفتگو کے انداز کو بدل دے۔

    یہ صرف ایک Startup نہیں...
    یہ ایک خواب ہے۔
    یہ ایک وژن ہے۔
    یہ ایک مشن ہے۔
    اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان سے شروع ہو کر دنیا تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اگر آپ جدت، مصنوعی ذہانت اور پاکستانی ٹیلنٹ پر یقین رکھتے ہیں، تو اس سفر کا حصہ بنیے۔

    آج ہی Phoneopia ڈاؤن لوڈ کریں اور AI کمیونیکیشن کے مستقبل کا تجربہ حاصل کریں۔

    **"پاکستان سے دنیا تک... ایک بہتر، ذہین اور محفوظ کمیونیکیشن کے سفر پر۔"**

    #Phoneopia #Pakistan #AI #Startup #Innovation #MadeInPakistan #Tech #GooglePlay #FutureOfCommunication #PakistanToTheWorld
    🚀🇵🇰 پاکستان کے پہلے AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم کی تعمیر کا سفر ہر عظیم کامیابی کی ابتدا ایک چھوٹے سے خیال سے ہوتی ہے، اور ہر خواب حقیقت بننے سے پہلے صرف ایک تصور ہوتا ہے۔ Phoneopia کی کہانی بھی کسی بڑی سرمایہ کاری یا وسیع وسائل سے نہیں، بلکہ ایک سادہ مگر طاقتور سوال سے شروع ہوئی: 💭 "کیا کمیونیکیشن صرف پیغامات بھیجنے تک محدود رہنی چاہیے؟" آج کی تیز رفتار دنیا میں لوگ روزانہ گھنٹوں پیغامات کے جواب دینے، لمبی وائس نوٹس سننے، مختلف زبانوں کی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور فراڈ یا اسپیم سے بچنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ جب مصنوعی ذہانت (AI) ہر شعبے میں انقلاب لا رہی ہے، تو کمیونیکیشن کا تجربہ بھی زیادہ ذہین، تیز اور محفوظ ہونا چاہیے۔ ✨ اسی سوچ نے Phoneopia کو جنم دیا۔ Phoneopia صرف ایک میسجنگ ایپ نہیں، بلکہ ایک AI سے چلنے والا جدید کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد لوگوں کا وقت بچانا، ان کی پیداواری صلاحیت (Productivity) میں اضافہ کرنا اور رابطوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ 🤖 Phoneopia کی نمایاں خصوصیات: ✅ AI Auto Reply 🎙️ Voice Transcription 🌍 Live Translation 🛡️ Scam & Fraud Detection 🧠 AI-Powered Communication 🔒 محفوظ اور اسمارٹ کمیونیکیشن لیکن ہمارا مقصد صرف جدید فیچرز متعارف کروانا نہیں۔ 🎯 ہمارا وژن ایک ایسی دنیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی گفتگو کو آسان، مؤثر اور محفوظ بنائے، تاکہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگتا رہے۔ یہ سفر کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ 💻 بے شمار راتوں کی محنت... 🐞 لاتعداد Bugs... 💡 نئے خیالات... 📈 مسلسل بہتری... ❤️ اور صارفین کے اعتماد نے ہمیں ہر دن مزید مضبوط بنایا۔ ہر مشکل نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر مقصد بڑا ہو تو راستے کی رکاوٹیں صرف سیکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ 📲 آج Phoneopia گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے، لیکن ہمارے لیے یہ اختتام نہیں... بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کی شروعات ہے۔ 🌍 ہمارا خواب ہے کہ پاکستان سے ایک ایسا AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم بنایا جائے جو پوری دنیا میں لوگوں کے رابطے اور گفتگو کے انداز کو بدل دے۔ یہ صرف ایک Startup نہیں... یہ ایک خواب ہے۔ یہ ایک وژن ہے۔ یہ ایک مشن ہے۔ اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان سے شروع ہو کر دنیا تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 🇵🇰❤️ اگر آپ جدت، مصنوعی ذہانت اور پاکستانی ٹیلنٹ پر یقین رکھتے ہیں، تو اس سفر کا حصہ بنیے۔ 📲 آج ہی Phoneopia ڈاؤن لوڈ کریں اور AI کمیونیکیشن کے مستقبل کا تجربہ حاصل کریں۔ **"پاکستان سے دنیا تک... ایک بہتر، ذہین اور محفوظ کمیونیکیشن کے سفر پر۔"** 🌍🚀 #Phoneopia #Pakistan #AI #Startup #Innovation #MadeInPakistan #Tech #GooglePlay #FutureOfCommunication #PakistanToTheWorld 🇵🇰
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1865 Visualizações
  • "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔
    اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔
    پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں --
    2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمٰن"

    Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔ اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔ پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں -- 2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن" Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1211 Visualizações
  • What do you think ?

    Faisal Pony Wala
    1 hr ·

    سلام۔ ۔

    آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔

    میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔

    والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔

    میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔

    ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔

    اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا سٹیک اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔

    کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔

    بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔

    چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔

    دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔
    دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری

    بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔

    آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    What do you think ? Faisal Pony Wala 1 hr · سلام۔ ۔ آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔ میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔ والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔ میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔ ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔ اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا '' سٹیک '' اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔ کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔ بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔ چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔ دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔ دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔ آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 625 Visualizações
  • Rehan Allahwala
    ریحان اللہ والا ایک سوشل ورکر ، پاکستان میں جدت متعارف کروانے والے انسان ہیں کچھ روز قبل ان کی اور ان کی ٹیم کے ساتھ مختصر سا تعارف ہوا پر ان پر کافی ریسرچ کی تو ان کے مشن کی سمجھ آئی
    ریحان اللہ والا کہتے ہیں کہ آپ غریبوں کو ماہانہ راشن ، کھانا دے کر ان کو اور ان کی پوری نسلوں کو فقیر اور محتاج بنا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ ان سے بھلائی کرتے کرتے ان کی نسلوں میں نکھٹو اور ہڈحرام پیدا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ جس رقم سے انہیں کھانا اور راشن دیتے ہیں اس رقم سے ایک خاندان کی بیٹی بیٹا مرد عورت کسی ایک فرد کو ٹیکنالوجی یا کوئی ہنر سیکھا دیں کوئی کورس کروا دیں کچھ ماہ بعد وہ خاندان اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے گا ان کا ماننا ہے کہ جس شخص کو بیٹھے بیٹھائے نوالہ مل جائے وہ کبھی خود کمانے کی کوشش نہیں کرتا ۔بےشک ہماری فاونڈیشن بھی سینکڑوں گھروں کو ماہانہ راشن تقسیم کرتی ہے لیکن اس سے میرا شروع سے ہی اختلاف تھا کہ آپ ماہانہ راشن ختم کر کے ہر خاندان کے ایک فرد کو کوئی نہ کوئی ہنر کوئی کاروبار بنا دیں تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے اور اسے اس لعنت سے چھٹکارا مل جائے انشاءاللہ رحمت انسانیت فاونڈیشن جلد ہی ایسی حکمت عملی بنائے گی جس سے غربت کو کم کیا جا سکے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ کسی فرد کو کھانے یا راشن کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے
    محمد اویس انجم

    Muhammad Awais Anjum
    Rehan Allahwala ریحان اللہ والا ایک سوشل ورکر ، پاکستان میں جدت متعارف کروانے والے انسان ہیں کچھ روز قبل ان کی اور ان کی ٹیم کے ساتھ مختصر سا تعارف ہوا پر ان پر کافی ریسرچ کی تو ان کے مشن کی سمجھ آئی ریحان اللہ والا کہتے ہیں کہ آپ غریبوں کو ماہانہ راشن ، کھانا دے کر ان کو اور ان کی پوری نسلوں کو فقیر اور محتاج بنا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ ان سے بھلائی کرتے کرتے ان کی نسلوں میں نکھٹو اور ہڈحرام پیدا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ جس رقم سے انہیں کھانا اور راشن دیتے ہیں اس رقم سے ایک خاندان کی بیٹی بیٹا مرد عورت کسی ایک فرد کو ٹیکنالوجی یا کوئی ہنر سیکھا دیں کوئی کورس کروا دیں کچھ ماہ بعد وہ خاندان اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے گا ان کا ماننا ہے کہ جس شخص کو بیٹھے بیٹھائے نوالہ مل جائے وہ کبھی خود کمانے کی کوشش نہیں کرتا ۔بےشک ہماری فاونڈیشن بھی سینکڑوں گھروں کو ماہانہ راشن تقسیم کرتی ہے لیکن اس سے میرا شروع سے ہی اختلاف تھا کہ آپ ماہانہ راشن ختم کر کے ہر خاندان کے ایک فرد کو کوئی نہ کوئی ہنر کوئی کاروبار بنا دیں تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے اور اسے اس لعنت سے چھٹکارا مل جائے انشاءاللہ رحمت انسانیت فاونڈیشن جلد ہی ایسی حکمت عملی بنائے گی جس سے غربت کو کم کیا جا سکے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ کسی فرد کو کھانے یا راشن کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے محمد اویس انجم Muhammad Awais Anjum
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1200 Visualizações
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 2912 Visualizações
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 2914 Visualizações
  • **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا**

    میرے عزیز ہم وطنوں،

    السلام علیکم،

    آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔

    اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔

    AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں:

    1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔

    - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔

    - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔

    - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔

    2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔

    3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔

    4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

    6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔

    7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔

    8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔

    9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔

    10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔

    آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

    آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد!

    شکریہ۔
    **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا** میرے عزیز ہم وطنوں، السلام علیکم، آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔ اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔ AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں: 1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔ - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔ - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔ - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔ 2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔ 3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔ 4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ 5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ 6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔ 7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔ 8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔ 9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔ 10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔ آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد! شکریہ۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 2156 Visualizações
Páginas Impulsionadas