• خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی

    یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔

    وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔

    #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں
    #نوجوانوں_کی_کامیابی
    #مسلسل_محنت
    #خود_اعتمادی
    #مثبت_سوچ
    #آگے_بڑھو
    #حوصلہ
    #ترقی_کا_سفر
    Rehan Allahwala
    Doulat EducationWala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Jai Parkash EducationWala
    ✨ خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔ وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔ 🌟 #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں #نوجوانوں_کی_کامیابی #مسلسل_محنت #خود_اعتمادی #مثبت_سوچ #آگے_بڑھو #حوصلہ #ترقی_کا_سفر Rehan Allahwala Doulat EducationWala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Jai Parkash EducationWala
    0 تبصرے 0 شیئرز 308 ویوز 0
  • علی نے جب ریحان اسکول میں داخلہ لیا تو اس کی زندگی میں سیکھنے کے نئے دروازے کھل گئے۔ یہاں اسے صرف کتابی تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنی تخلیقی سوچ کو بہتر بنانے کے مواقع بھی ملے۔ ریحان اسکول کے بہترین تعلیمی ماحول اور جدید طریقۂ تعلیم نے علی کو اپنے خوابوں کے قریب جانے اور مستقبل کے لیے خود کو بہتر انداز میں تیار کرنے میں مدد دی۔

    عائشہ کے لیے ریحان اسکول ایک ایسی جگہ ثابت ہوا جہاں اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو بھی نکھارا۔ اسکول میں مختلف سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع کی بدولت اس کی کمیونیکیشن، اعتماد اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں میں بہتری آئی۔ آج عائشہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد ہے اور اپنے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

    حمزہ نے ریحان اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پڑھائی میں بہتری لائی بلکہ مستقبل میں کامیابی کے لیے ضروری عملی مہارتیں بھی سیکھیں۔ ریحان اسکول نے اسے سوال کرنے، سوچنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔ علی، عائشہ اور حمزہ کی طرح ہر بچہ اپنے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھتا ہے، اور ریحان اسکول کا مقصد ہر بچے کو ایک روشن، کامیاب اور باصلاحیت مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
    علی نے جب ریحان اسکول میں داخلہ لیا تو اس کی زندگی میں سیکھنے کے نئے دروازے کھل گئے۔ یہاں اسے صرف کتابی تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنی تخلیقی سوچ کو بہتر بنانے کے مواقع بھی ملے۔ ریحان اسکول کے بہترین تعلیمی ماحول اور جدید طریقۂ تعلیم نے علی کو اپنے خوابوں کے قریب جانے اور مستقبل کے لیے خود کو بہتر انداز میں تیار کرنے میں مدد دی۔ عائشہ کے لیے ریحان اسکول ایک ایسی جگہ ثابت ہوا جہاں اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو بھی نکھارا۔ اسکول میں مختلف سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع کی بدولت اس کی کمیونیکیشن، اعتماد اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں میں بہتری آئی۔ آج عائشہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد ہے اور اپنے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ حمزہ نے ریحان اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پڑھائی میں بہتری لائی بلکہ مستقبل میں کامیابی کے لیے ضروری عملی مہارتیں بھی سیکھیں۔ ریحان اسکول نے اسے سوال کرنے، سوچنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔ علی، عائشہ اور حمزہ کی طرح ہر بچہ اپنے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھتا ہے، اور ریحان اسکول کا مقصد ہر بچے کو ایک روشن، کامیاب اور باصلاحیت مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 149 ویوز
  • علی نے جب ریحان اسکول میں داخلہ لیا تو اس کی زندگی میں سیکھنے کے نئے دروازے کھل گئے۔ یہاں اسے صرف کتابی تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنی تخلیقی سوچ کو بہتر بنانے کے مواقع بھی ملے۔ ریحان اسکول کے بہترین تعلیمی ماحول اور جدید طریقۂ تعلیم نے علی کو اپنے خوابوں کے قریب جانے اور مستقبل کے لیے خود کو بہتر انداز میں تیار کرنے میں مدد دی۔

    عائشہ کے لیے ریحان اسکول ایک ایسی جگہ ثابت ہوا جہاں اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو بھی نکھارا۔ اسکول میں مختلف سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع کی بدولت اس کی کمیونیکیشن، اعتماد اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں میں بہتری آئی۔ آج عائشہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد ہے اور اپنے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

    حمزہ نے ریحان اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پڑھائی میں بہتری لائی بلکہ مستقبل میں کامیابی کے لیے ضروری عملی مہارتیں بھی سیکھیں۔ ریحان اسکول نے اسے سوال کرنے، سوچنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔ علی، عائشہ اور حمزہ کی طرح ہر بچہ اپنے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھتا ہے، اور ریحان اسکول کا مقصد ہر بچے کو ایک روشن، کامیاب اور باصلاحیت مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
    علی نے جب ریحان اسکول میں داخلہ لیا تو اس کی زندگی میں سیکھنے کے نئے دروازے کھل گئے۔ یہاں اسے صرف کتابی تعلیم ہی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنی تخلیقی سوچ کو بہتر بنانے کے مواقع بھی ملے۔ ریحان اسکول کے بہترین تعلیمی ماحول اور جدید طریقۂ تعلیم نے علی کو اپنے خوابوں کے قریب جانے اور مستقبل کے لیے خود کو بہتر انداز میں تیار کرنے میں مدد دی۔ عائشہ کے لیے ریحان اسکول ایک ایسی جگہ ثابت ہوا جہاں اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو بھی نکھارا۔ اسکول میں مختلف سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع کی بدولت اس کی کمیونیکیشن، اعتماد اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں میں بہتری آئی۔ آج عائشہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد ہے اور اپنے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ حمزہ نے ریحان اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پڑھائی میں بہتری لائی بلکہ مستقبل میں کامیابی کے لیے ضروری عملی مہارتیں بھی سیکھیں۔ ریحان اسکول نے اسے سوال کرنے، سوچنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔ علی، عائشہ اور حمزہ کی طرح ہر بچہ اپنے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھتا ہے، اور ریحان اسکول کا مقصد ہر بچے کو ایک روشن، کامیاب اور باصلاحیت مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 149 ویوز
  • سرفراز کا کامیابی کا سفر | ایک متاثر کن کہانی
    ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والا نوجوان سرفراز بڑے خواب رکھتا تھا۔ حالات آسان نہیں تھے، وسائل کم تھے، لیکن اس کے اندر کچھ نیا سیکھنے اور اپنی زندگی بدلنے کا جذبہ موجود تھا۔
    سرفراز ہمیشہ سوچتا تھا کہ وہ ایسی مہارتیں سیکھے جن سے وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی تلاش میں اسے ریحان اسکول کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں صرف کتابی تعلیم نہیں بلکہ عملی زندگی کی مہارتیں، ٹیکنالوجی اور جدید اسکلز سکھائی جاتی تھیں۔
    ریحان اسکول پہنچ کر سرفراز کی ملاقات حمزہ اور عائشہ سے ہوئی۔
    حمزہ ایک محنتی طالب علم تھا جو ہمیشہ سرفراز کو آگے بڑھنے اور نئی چیزیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔
    عائشہ ایک باصلاحیت طالبہ تھی جو پہلے سے ڈیجیٹل اسکلز سیکھ رہی تھی اور دوسروں کی مدد کرتی تھی۔ وہ سرفراز کو بھی سیکھنے اور اپنے آئیڈیاز کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دیتی تھی۔
    سرفراز نے ریحان اسکول میں AI، کمیونیکیشن، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل اسکلز سیکھنا شروع کیں۔ شروع میں بہت سی مشکلات آئیں، نئی چیزیں سمجھنے میں وقت لگا، لیکن سرفراز نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روز سیکھتا، پریکٹس کرتا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہا۔
    کچھ مہینوں کی محنت کے بعد سرفراز نے اپنے سیکھے ہوئے ہنر سے مختلف پروجیکٹس بنانا شروع کیے۔ اس کا اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنے خوابوں کے قریب پہنچنے لگا۔
    آج سرفراز صرف خود آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی سیکھنے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔
    سرفراز کہتا ہے:
    "ریحان اسکول نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ مجھے اپنے آپ پر یقین کرنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا سکھایا۔"
    سبق:
    زندگی میں کامیابی کے لیے صرف مواقع کا انتظار نہ کریں، خود کو بہتر بنائیں، نئی چیزیں سیکھیں اور محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ جو انسان سیکھنا نہیں چھوڑتا، وہ آگے بڑھنا کبھی نہیں چھوڑتا۔
    #RehanSchool #SarfarazEducationwala #SuccessStory #LearningJourney #FutureSkills #AIEducation #DigitalSkills #SkillDevelopment #PakistanYouth #DreamBig #NeverGiveUp #Motivation #EducationForFuture
    ✨ سرفراز کا کامیابی کا سفر 🚀 | ایک متاثر کن کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والا نوجوان سرفراز بڑے خواب رکھتا تھا۔ حالات آسان نہیں تھے، وسائل کم تھے، لیکن اس کے اندر کچھ نیا سیکھنے اور اپنی زندگی بدلنے کا جذبہ موجود تھا۔ 🌱 سرفراز ہمیشہ سوچتا تھا کہ وہ ایسی مہارتیں سیکھے جن سے وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی تلاش میں اسے ریحان اسکول کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں صرف کتابی تعلیم نہیں بلکہ عملی زندگی کی مہارتیں، ٹیکنالوجی اور جدید اسکلز سکھائی جاتی تھیں۔ 💻✨ ریحان اسکول پہنچ کر سرفراز کی ملاقات حمزہ اور عائشہ سے ہوئی۔ حمزہ ایک محنتی طالب علم تھا جو ہمیشہ سرفراز کو آگے بڑھنے اور نئی چیزیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ 🤝 عائشہ ایک باصلاحیت طالبہ تھی جو پہلے سے ڈیجیٹل اسکلز سیکھ رہی تھی اور دوسروں کی مدد کرتی تھی۔ وہ سرفراز کو بھی سیکھنے اور اپنے آئیڈیاز کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دیتی تھی۔ 🌟 سرفراز نے ریحان اسکول میں AI، کمیونیکیشن، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل اسکلز سیکھنا شروع کیں۔ شروع میں بہت سی مشکلات آئیں، نئی چیزیں سمجھنے میں وقت لگا، لیکن سرفراز نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روز سیکھتا، پریکٹس کرتا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہا۔ 🔥 کچھ مہینوں کی محنت کے بعد سرفراز نے اپنے سیکھے ہوئے ہنر سے مختلف پروجیکٹس بنانا شروع کیے۔ اس کا اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنے خوابوں کے قریب پہنچنے لگا۔ 🚀 آج سرفراز صرف خود آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی سیکھنے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ 🌍 سرفراز کہتا ہے: "ریحان اسکول نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ مجھے اپنے آپ پر یقین کرنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا سکھایا۔" ❤️ سبق: زندگی میں کامیابی کے لیے صرف مواقع کا انتظار نہ کریں، خود کو بہتر بنائیں، نئی چیزیں سیکھیں اور محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ جو انسان سیکھنا نہیں چھوڑتا، وہ آگے بڑھنا کبھی نہیں چھوڑتا۔ 🚀✨ #RehanSchool #SarfarazEducationwala #SuccessStory #LearningJourney #FutureSkills #AIEducation #DigitalSkills #SkillDevelopment #PakistanYouth #DreamBig #NeverGiveUp #Motivation #EducationForFuture 🌟
    0 تبصرے 1 شیئرز 1372 ویوز
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 تبصرے 0 شیئرز 1589 ویوز
  • وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 886 ویوز
  • قندیل بلوچ پر تبصروں میں مصروف احباب کی خدمت میں....

    ام المؤمنین صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا فوت شدگان کو برا مت کہو بےشک وہ آپنے آگے بھیجے ہوئے( اچھے یا برے )اعمال( کے بدلے ) کو پا چکے ہیں.
    صحیح بخاری حدیث 1393
    اگر آپ میں اپنی بہن ، بیوی ، بیٹی یا ماں کی میت کی تصویر فیس پر شائع کرنے کا حوصلہ ہے تو جی بھر کر حرارت سے محروم ، بُجھی ہوئی قندیل کی لاش کی تصاویر بھی شئیر کیجیے !!! بصورتِ دیگر خُدارا بدکِردار ریاست کی اُس بَدنصیب بیٹی کو اب بخش دیجیے !! اُس نے اپنی زندگی میں آپ کی آنکھوں کی سیرابی کے لیے کیا نہیں کیا !! لیکن آپ کی ہوس مٹنے پر ہی نہیں آ رہی !! چادر سے محروم چارپائی پہ دھری قندیل کی شاید بخشش ہو جائے !! کہ ناحق قتل ہو گئی !! لیکن استغفار کی تسبیح رولتے !! اس کی تصویر پر نمکین تبصرے کرنے والے متکبر مومنین کو کون سمجھائے کہ بندے اور خالق کے بیچ بہت کُچھ ذاتی بھی ہوتا ہے !!!
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محمد عبداللہ بھائی کا پیغام
    قندیل بلوچ پر تبصروں میں مصروف احباب کی خدمت میں.... ام المؤمنین صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا فوت شدگان کو برا مت کہو بےشک وہ آپنے آگے بھیجے ہوئے( اچھے یا برے )اعمال( کے بدلے ) کو پا چکے ہیں. صحیح بخاری حدیث 1393 اگر آپ میں اپنی بہن ، بیوی ، بیٹی یا ماں کی میت کی تصویر فیس پر شائع کرنے کا حوصلہ ہے تو جی بھر کر حرارت سے محروم ، بُجھی ہوئی قندیل کی لاش کی تصاویر بھی شئیر کیجیے !!! بصورتِ دیگر خُدارا بدکِردار ریاست کی اُس بَدنصیب بیٹی کو اب بخش دیجیے !! اُس نے اپنی زندگی میں آپ کی آنکھوں کی سیرابی کے لیے کیا نہیں کیا !! لیکن آپ کی ہوس مٹنے پر ہی نہیں آ رہی !! چادر سے محروم چارپائی پہ دھری قندیل کی شاید بخشش ہو جائے !! کہ ناحق قتل ہو گئی !! لیکن استغفار کی تسبیح رولتے !! اس کی تصویر پر نمکین تبصرے کرنے والے متکبر مومنین کو کون سمجھائے کہ بندے اور خالق کے بیچ بہت کُچھ ذاتی بھی ہوتا ہے !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عبداللہ بھائی کا پیغام
    0 تبصرے 0 شیئرز 330 ویوز
  • مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

    اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔
    *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"*

    *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"*

    اسکی دوسری بات
    *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"*

    *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"*

    اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔
    *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"*

    *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"*
    یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
    *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"*

    میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔
    *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں*
    *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔*
    انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔

    "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔"
    *بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔*

    *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"*

    *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"*

    Via Saif Bhai
    مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔ *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"* *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"* 👈اسکی دوسری بات *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"* *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"* اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔ *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"* *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"* یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"* میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔ *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں* *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔* انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔ "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔" *👈بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔* *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"* *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"* Via Saif Bhai
    0 تبصرے 0 شیئرز 603 ویوز
  • ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔

    نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔

    ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

    Via Haider Hassan
    ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔ نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔ ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ Via Haider Hassan
    0 تبصرے 0 شیئرز 97 ویوز
  • کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں
    ناجانے کس کس کا حوصلہ ہوں میں

    Via Yameenuddin Ahmed
    کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں ناجانے کس کس کا حوصلہ ہوں میں Via Yameenuddin Ahmed
    0 تبصرے 0 شیئرز 121 ویوز
More Results