• RSIF8
    Roll no 94
    TEDx Talk no 9
    TEDx Talk topic
    آج میں نے نیلم حنیف کی متاثر کن TEDx Talk "اپنا شوق تلاش کریں" انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دیکھی۔
    یہ شاندار گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ شوق (Passion) اچانک نہیں ملتا بلکہ اپنی دلچسپیوں کو دریافت کرنے، مسلسل سیکھنے اور اپنے خوابوں پر یقین رکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نیلم حنیف ہمیں حوصلہ دیتی ہیں کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، خود پر اعتماد کریں اور اپنے مقصد کے ساتھ آگے بڑھیں۔
    اگر آپ طالب علم ہیں، پیشہ ور ہیں یا اپنے مستقبل کے لیے بڑے خواب رکھتے ہیں، تو یہ TEDx Talk آپ کے لیے بہت مفید اور حوصلہ افزا ہے۔
    انگریزی اور اردو دونوں ورژنز دیکھ کر پیغام کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا۔
    #FindingYourPassion #NeelamHanif #TEDxTalk #TEDxUrdu #اپنا_شوق_تلاش_کریں #ترقی #کامیابی #حوصلہ_افزائی #خود_اعتمادی #تعلیم #سیکھتے_رہیں #خواب_بڑے_رکھیں #مثبت_سوچ #طلبہ #اردو #انگریزی
    RSIF8 Roll no 94 TEDx Talk no 9 TEDx Talk topic 🌟 آج میں نے نیلم حنیف کی متاثر کن TEDx Talk "اپنا شوق تلاش کریں" انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دیکھی۔ 🎤✨ یہ شاندار گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ شوق (Passion) اچانک نہیں ملتا بلکہ اپنی دلچسپیوں کو دریافت کرنے، مسلسل سیکھنے اور اپنے خوابوں پر یقین رکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ 💡❤️ نیلم حنیف ہمیں حوصلہ دیتی ہیں کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، خود پر اعتماد کریں اور اپنے مقصد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🚀🌈 اگر آپ طالب علم ہیں، پیشہ ور ہیں یا اپنے مستقبل کے لیے بڑے خواب رکھتے ہیں، تو یہ TEDx Talk آپ کے لیے بہت مفید اور حوصلہ افزا ہے۔ 🌟 🎥 انگریزی اور اردو دونوں ورژنز دیکھ کر پیغام کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا۔ 🌍📚 #FindingYourPassion #NeelamHanif #TEDxTalk #TEDxUrdu #اپنا_شوق_تلاش_کریں #ترقی #کامیابی #حوصلہ_افزائی #خود_اعتمادی #تعلیم #سیکھتے_رہیں #خواب_بڑے_رکھیں #مثبت_سوچ #طلبہ #اردو #انگریزی 🌟✨📖
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 210 Views 1
  • RSIF8
    Roll no.38
    TEDX task no.25
    topic: Mariana Atencio
    : Mariana Atencio کی TEDx گفتگو “What Makes You Special?” ایک متاثر کن اور حوصلہ دینے والی گفتگو ہے، جس میں وہ خود کو قبول کرنے اور اپنی انفرادیت کو اپنانے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ماریانا اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ بچپن میں وینزویلا سے امریکہ منتقل ہونے کے بعد انہیں اپنی زبان، ثقافت اور پسِ منظر کی وجہ سے خود کو دوسروں سے مختلف اور اجنبی محسوس ہوتا تھا۔
    اپنی کہانی کے ذریعے وہ سمجھاتی ہیں کہ جو چیزیں ہمیں دوسروں سے مختلف بناتی ہیں، انہیں کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ہماری ثقافت، تجربات، شخصیت، صلاحیتیں اور منفرد پسِ منظر ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ دوسروں جیسا بننے کی کوشش کرنے کے بجائے خود کو قبول کریں اور اپنی اصل شخصیت پر فخر کریں۔
    اس گفتگو سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ ہمیں دوسروں کی قبولیت حاصل کرنے کے لیے خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں خود پر یقین رکھنا چاہیے، دوسروں کے اختلافات کا احترام کرنا چاہیے اور اپنی انفرادیت کو خوشی سے اپنانا چاہیے۔
    خود بنیں، اپنی انفرادیت کو قبول کریں، اور یاد رکھیں کہ جو چیز آپ کو دوسروں سے مختلف بناتی ہے، وہی آپ کو خاص بناتی ہے۔
    #WhatMakesYouSpecial #MarianaAtencio #BeYourself #BelieveInYourself #EmbraceYourDifferences #Inspiration #Motivation #PersonalGrowth #TEDx #Learning
    RSIF8 Roll no.38 TEDX task no.25 topic: Mariana Atencio : Mariana Atencio کی TEDx گفتگو “What Makes You Special?” ایک متاثر کن اور حوصلہ دینے والی گفتگو ہے، جس میں وہ خود کو قبول کرنے اور اپنی انفرادیت کو اپنانے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ماریانا اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ بچپن میں وینزویلا سے امریکہ منتقل ہونے کے بعد انہیں اپنی زبان، ثقافت اور پسِ منظر کی وجہ سے خود کو دوسروں سے مختلف اور اجنبی محسوس ہوتا تھا۔ اپنی کہانی کے ذریعے وہ سمجھاتی ہیں کہ جو چیزیں ہمیں دوسروں سے مختلف بناتی ہیں، انہیں کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ہماری ثقافت، تجربات، شخصیت، صلاحیتیں اور منفرد پسِ منظر ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ دوسروں جیسا بننے کی کوشش کرنے کے بجائے خود کو قبول کریں اور اپنی اصل شخصیت پر فخر کریں۔ اس گفتگو سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ ہمیں دوسروں کی قبولیت حاصل کرنے کے لیے خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں خود پر یقین رکھنا چاہیے، دوسروں کے اختلافات کا احترام کرنا چاہیے اور اپنی انفرادیت کو خوشی سے اپنانا چاہیے۔ ✨ خود بنیں، اپنی انفرادیت کو قبول کریں، اور یاد رکھیں کہ جو چیز آپ کو دوسروں سے مختلف بناتی ہے، وہی آپ کو خاص بناتی ہے۔ #WhatMakesYouSpecial #MarianaAtencio #BeYourself #BelieveInYourself #EmbraceYourDifferences #Inspiration #Motivation #PersonalGrowth #TEDx #Learning
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 995 Views 12
  • السلام علیکم۔

    میرا نام Habib Internet Wala ہے۔

    جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔

    میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔

    آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔

    علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔

    وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔

    میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔

    آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔

    وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔

    وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

    وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔

    میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔

    علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔

    میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔

    شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy.

    I will remember you.
    I will remember what you taught me.
    And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward.

    اللہ حافظ، علی انکل۔

    ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔

    — Habib Internet Wala
    السلام علیکم۔ میرا نام Habib Internet Wala ہے۔ جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔ میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔ آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔ علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔ وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔ میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔ وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔ علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy. I will remember you. I will remember what you taught me. And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward. اللہ حافظ، علی انکل۔ ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔ — Habib Internet Wala
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1559 Views
  • السلام علیکم۔

    میرا نام Habib Internet Wala ہے۔

    جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔

    میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔

    آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔

    علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔

    وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔

    میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔

    آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔

    وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔

    وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

    وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔

    میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔

    علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔

    میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔

    شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy.

    I will remember you.
    I will remember what you taught me.
    And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward.

    اللہ حافظ، علی انکل۔

    ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔

    — Habib Internet Wala
    السلام علیکم۔ میرا نام Habib Internet Wala ہے۔ جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔ میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔ آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔ علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔ وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔ میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔ وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔ علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy. I will remember you. I will remember what you taught me. And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward. اللہ حافظ، علی انکل۔ ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔ — Habib Internet Wala
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1328 Views
  • سرفراز کا کامیابی کا سفر | ایک متاثر کن کہانی
    ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والا نوجوان سرفراز بڑے خواب رکھتا تھا۔ حالات آسان نہیں تھے، وسائل کم تھے، لیکن اس کے اندر کچھ نیا سیکھنے اور اپنی زندگی بدلنے کا جذبہ موجود تھا۔
    سرفراز ہمیشہ سوچتا تھا کہ وہ ایسی مہارتیں سیکھے جن سے وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی تلاش میں اسے ریحان اسکول کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں صرف کتابی تعلیم نہیں بلکہ عملی زندگی کی مہارتیں، ٹیکنالوجی اور جدید اسکلز سکھائی جاتی تھیں۔
    ریحان اسکول پہنچ کر سرفراز کی ملاقات حمزہ اور عائشہ سے ہوئی۔
    حمزہ ایک محنتی طالب علم تھا جو ہمیشہ سرفراز کو آگے بڑھنے اور نئی چیزیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔
    عائشہ ایک باصلاحیت طالبہ تھی جو پہلے سے ڈیجیٹل اسکلز سیکھ رہی تھی اور دوسروں کی مدد کرتی تھی۔ وہ سرفراز کو بھی سیکھنے اور اپنے آئیڈیاز کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دیتی تھی۔
    سرفراز نے ریحان اسکول میں AI، کمیونیکیشن، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل اسکلز سیکھنا شروع کیں۔ شروع میں بہت سی مشکلات آئیں، نئی چیزیں سمجھنے میں وقت لگا، لیکن سرفراز نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روز سیکھتا، پریکٹس کرتا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہا۔
    کچھ مہینوں کی محنت کے بعد سرفراز نے اپنے سیکھے ہوئے ہنر سے مختلف پروجیکٹس بنانا شروع کیے۔ اس کا اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنے خوابوں کے قریب پہنچنے لگا۔
    آج سرفراز صرف خود آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی سیکھنے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔
    سرفراز کہتا ہے:
    "ریحان اسکول نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ مجھے اپنے آپ پر یقین کرنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا سکھایا۔"
    سبق:
    زندگی میں کامیابی کے لیے صرف مواقع کا انتظار نہ کریں، خود کو بہتر بنائیں، نئی چیزیں سیکھیں اور محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ جو انسان سیکھنا نہیں چھوڑتا، وہ آگے بڑھنا کبھی نہیں چھوڑتا۔
    #RehanSchool #SarfarazEducationwala #SuccessStory #LearningJourney #FutureSkills #AIEducation #DigitalSkills #SkillDevelopment #PakistanYouth #DreamBig #NeverGiveUp #Motivation #EducationForFuture
    ✨ سرفراز کا کامیابی کا سفر 🚀 | ایک متاثر کن کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والا نوجوان سرفراز بڑے خواب رکھتا تھا۔ حالات آسان نہیں تھے، وسائل کم تھے، لیکن اس کے اندر کچھ نیا سیکھنے اور اپنی زندگی بدلنے کا جذبہ موجود تھا۔ 🌱 سرفراز ہمیشہ سوچتا تھا کہ وہ ایسی مہارتیں سیکھے جن سے وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی تلاش میں اسے ریحان اسکول کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں صرف کتابی تعلیم نہیں بلکہ عملی زندگی کی مہارتیں، ٹیکنالوجی اور جدید اسکلز سکھائی جاتی تھیں۔ 💻✨ ریحان اسکول پہنچ کر سرفراز کی ملاقات حمزہ اور عائشہ سے ہوئی۔ حمزہ ایک محنتی طالب علم تھا جو ہمیشہ سرفراز کو آگے بڑھنے اور نئی چیزیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ 🤝 عائشہ ایک باصلاحیت طالبہ تھی جو پہلے سے ڈیجیٹل اسکلز سیکھ رہی تھی اور دوسروں کی مدد کرتی تھی۔ وہ سرفراز کو بھی سیکھنے اور اپنے آئیڈیاز کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دیتی تھی۔ 🌟 سرفراز نے ریحان اسکول میں AI، کمیونیکیشن، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل اسکلز سیکھنا شروع کیں۔ شروع میں بہت سی مشکلات آئیں، نئی چیزیں سمجھنے میں وقت لگا، لیکن سرفراز نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روز سیکھتا، پریکٹس کرتا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہا۔ 🔥 کچھ مہینوں کی محنت کے بعد سرفراز نے اپنے سیکھے ہوئے ہنر سے مختلف پروجیکٹس بنانا شروع کیے۔ اس کا اعتماد بڑھ گیا اور وہ اپنے خوابوں کے قریب پہنچنے لگا۔ 🚀 آج سرفراز صرف خود آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی سیکھنے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ 🌍 سرفراز کہتا ہے: "ریحان اسکول نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ مجھے اپنے آپ پر یقین کرنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا سکھایا۔" ❤️ سبق: زندگی میں کامیابی کے لیے صرف مواقع کا انتظار نہ کریں، خود کو بہتر بنائیں، نئی چیزیں سیکھیں اور محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ جو انسان سیکھنا نہیں چھوڑتا، وہ آگے بڑھنا کبھی نہیں چھوڑتا۔ 🚀✨ #RehanSchool #SarfarazEducationwala #SuccessStory #LearningJourney #FutureSkills #AIEducation #DigitalSkills #SkillDevelopment #PakistanYouth #DreamBig #NeverGiveUp #Motivation #EducationForFuture 🌟
    0 Yorumlar 1 hisse senetleri 6243 Views
  • ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔

    نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔

    ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

    Via Haider Hassan
    ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔ نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔ ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ Via Haider Hassan
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 544 Views
  • ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘
    یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
    زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔
    نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
    دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار
    دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔
    ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔
    صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔
    اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔
    لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔
    معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘
    تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔
    سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘
    اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں)
    جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔
    لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔
    پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔
    لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔
    ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔
    کمپنی کا غیر جانبدار نام
    کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔
    دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
    جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔
    شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔
    اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘
    چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔
    پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔
    کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔
    چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ
    پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔
    لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘
    بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔
    وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘
    فوجی بوٹ، سروس
    ،تصویر کا ذریعہREUTERS
    اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔
    لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔
    انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔
    تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔
    سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں
    کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔
    لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔
    چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔
    انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔
    یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔
    کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔
    چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔
    دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔
    اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔
    کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔
    سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔
    کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔
    سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERIVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں
    برآمدات کی ابتدا
    60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
    سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔
    محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘
    ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘
    وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘
    اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
    اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔
    ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔
    ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘
    اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔
    جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘
    امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔
    لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔
    ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘
    وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔
    کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔
    چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔
    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
    کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔
    اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
    نو ماسک، نو سروس
    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ
    ،تصویر کا کیپشن
    باٹا کا اشتہار: نو ماسک، نو سروس
    سروس بمقابلہ باٹا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔
    کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ نو ماسک، نو سروس۔
    پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔
    لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔
    سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔
    وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔
    یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔
    وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔
    سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘ یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔ نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔ ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔ صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔ لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔ معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘ تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘ اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں) جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔ لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔ پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔ لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔ ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔ کمپنی کا غیر جانبدار نام کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔ لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘ چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔ پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔ کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔ چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔ لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔ چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘ بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘ فوجی بوٹ، سروس ،تصویر کا ذریعہREUTERS اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔ لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔ انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔ سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔ لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔ چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔ انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔ یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔ کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔ چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔ دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔ اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔ کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔ سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔ کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔ سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERIVIS ،تصویر کا کیپشن فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں برآمدات کی ابتدا 60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔ سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔ محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘ ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘ اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔ ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔ ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔ جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘ امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔ لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔ ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘ وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔ کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔ چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ 'نو ماسک، نو سروس' ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ ،تصویر کا کیپشن باٹا کا اشتہار: 'نو ماسک، نو سروس' سروس بمقابلہ باٹا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔ کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ 'نو ماسک، نو سروس۔' پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔ لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔ سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔ یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔ وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1960 Views
  • میرے محسن اور سرپرست ریحان اللہ والا
    میں اپنے سفر کے دوران آپ کی تمام رہنمائی اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر آپ کا غیر متزلزل یقین مسلسل حوصلہ افزائی اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے، اور میں آپ کے ہر کام کے لیے آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔
    میں آپ کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ میری زندگی میں گیم چینجر ChatGPT کتنا رہا ہے۔ اس ناقابل یقین AI لینگویج ماڈل نے نہ صرف مجھے اپنی استفسارات پر درست اور معلوماتی جوابات فراہم کیے ہیں بلکہ اس نے میری آمدنی کو پہلے کی نسبت دوگنا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں واقعی اس حیرت انگیز تحفہ کے لئے شکر گزار ہوں!
    ایک بار پھر، آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے آپ کا شکریہ۔ آپ کی رہنمائی اور ChatGPT کی مدد نے مجھے نئی بلندیوں کو حاصل کرنے میں مدد کی ہے، اور میں یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہوں کہ مستقبل میں کیا ہے۔
    مخلص،
    امیر پاپکارن والا
    میرے محسن اور سرپرست ریحان اللہ والا میں اپنے سفر کے دوران آپ کی تمام رہنمائی اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر آپ کا غیر متزلزل یقین مسلسل حوصلہ افزائی اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے، اور میں آپ کے ہر کام کے لیے آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ میں آپ کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ میری زندگی میں گیم چینجر ChatGPT کتنا رہا ہے۔ اس ناقابل یقین AI لینگویج ماڈل نے نہ صرف مجھے اپنی استفسارات پر درست اور معلوماتی جوابات فراہم کیے ہیں بلکہ اس نے میری آمدنی کو پہلے کی نسبت دوگنا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں واقعی اس حیرت انگیز تحفہ کے لئے شکر گزار ہوں! ایک بار پھر، آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے آپ کا شکریہ۔ آپ کی رہنمائی اور ChatGPT کی مدد نے مجھے نئی بلندیوں کو حاصل کرنے میں مدد کی ہے، اور میں یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہوں کہ مستقبل میں کیا ہے۔ مخلص، امیر پاپکارن والا
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 367 Views
  • اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں

    ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔
    گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔
    اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔
    روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان
    کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔

    مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
    ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔
    یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔ گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔ اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔ روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔ مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔ یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1437 Views
  • اسلامی دور کی تعلیم کے تاریخی واقعات کی ٹائم لائن:

    622 CE: حضرت محمدﷺ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کرتے ہیں جو اسلام میں علم کی اہمیت کو زور دیتی ہیں۔
    ساتویں صدی: مساجد اور غیر رسمی تعلیمی حلقے (حلقہ) عام ہو جاتے ہیں جو قرآن، اسلامی فقہ اور عربی زبان سکھاتے ہیں۔
    آٹھویں صدی: عباسی خلافت قائم ہوتی ہے، جو اسلامی عہد زرین کے آغاز کو زور دیتی ہیں اور تعلیم کے حوالے سے توسیع کا دور کا آغاز۔
    750 CE: خلیفہ ہارون الرشید کی جانب سے بغداد میں حکمت کا گھر قائم ہوتا ہے جو بعد میں علم و تعلیم کے مرکز کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔
    نویں صدی: پہلے مدرسے یعنی اسلامی مذہبی اسکولز قائم ہوتے ہیں جو سنگت بندی کی تعلیم اور نصاب فراہم کرتے ہیں۔
    859 CE: فاطمہ الفہری مراکش میں القروین یونیورسٹی قائم کرتی ہیں، جو دنیا کے سب سے پرانے تعلیمی ادارے میں سے ایک بن جاتی ہیں۔
    دسویں-گیارہویں صدی: مصر کی قاہرہ میں الازھر یونیورسٹی قائم ہوتی ہے جو اسلامی تعلیمی مراکز
    میں سب سے عمردار اور معروف بن جاتی ہیں۔
    8. گیارہویں-بارہویں صدی: نظام الملک کی جانب سے نظامیہ مدرسے قائم ہوتے ہیں جو مسلم دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور علماء کو جیسے الغزالی پیدا کرتے ہیں۔

    بارہویں-تیرہویں صدی: یونانی فلاسفہ کے کاموں کا عربی میں ترجمہ کر کے مسلم علماء کو اپنے فلسفی، سائنسی اور ریاضی کے نظریات تشکیل دینے میں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔
    تیرہویں صدی: ابن خلدون اپنے اثر انگیز کام "المقدمہ" لکھتے ہیں جو اسلامی دنیا کی تاریخ، معاشرت اور تعلیم کا جامع تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔
    پندرہویں-سولہویں صدی: عثمانیہ سلطنت میں دولتی تعلیمی نظام قائم کرتی ہے، ساحن-آی سیمان، جس میں مدرسوں اور اسکولوں کا نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔
    انیسویں-بیسویں صدی: اسلامی ممالک میں مغربی انداز میں جدید تعلیم کا داخلہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیکولر اسکولز اور یونیورسٹیز قائم ہوتی ہیں۔
    1875 CE: سر سید احمد خان الیگڑھ، ہندوستان میں محمدان انگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھتے ہیں
    اسلامی دور کی تعلیم کے تاریخی واقعات کی ٹائم لائن: 622 CE: حضرت محمدﷺ مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کرتے ہیں جو اسلام میں علم کی اہمیت کو زور دیتی ہیں۔ ساتویں صدی: مساجد اور غیر رسمی تعلیمی حلقے (حلقہ) عام ہو جاتے ہیں جو قرآن، اسلامی فقہ اور عربی زبان سکھاتے ہیں۔ آٹھویں صدی: عباسی خلافت قائم ہوتی ہے، جو اسلامی عہد زرین کے آغاز کو زور دیتی ہیں اور تعلیم کے حوالے سے توسیع کا دور کا آغاز۔ 750 CE: خلیفہ ہارون الرشید کی جانب سے بغداد میں حکمت کا گھر قائم ہوتا ہے جو بعد میں علم و تعلیم کے مرکز کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔ نویں صدی: پہلے مدرسے یعنی اسلامی مذہبی اسکولز قائم ہوتے ہیں جو سنگت بندی کی تعلیم اور نصاب فراہم کرتے ہیں۔ 859 CE: فاطمہ الفہری مراکش میں القروین یونیورسٹی قائم کرتی ہیں، جو دنیا کے سب سے پرانے تعلیمی ادارے میں سے ایک بن جاتی ہیں۔ دسویں-گیارہویں صدی: مصر کی قاہرہ میں الازھر یونیورسٹی قائم ہوتی ہے جو اسلامی تعلیمی مراکز میں سب سے عمردار اور معروف بن جاتی ہیں۔ 8. گیارہویں-بارہویں صدی: نظام الملک کی جانب سے نظامیہ مدرسے قائم ہوتے ہیں جو مسلم دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور علماء کو جیسے الغزالی پیدا کرتے ہیں۔ بارہویں-تیرہویں صدی: یونانی فلاسفہ کے کاموں کا عربی میں ترجمہ کر کے مسلم علماء کو اپنے فلسفی، سائنسی اور ریاضی کے نظریات تشکیل دینے میں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ تیرہویں صدی: ابن خلدون اپنے اثر انگیز کام "المقدمہ" لکھتے ہیں جو اسلامی دنیا کی تاریخ، معاشرت اور تعلیم کا جامع تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔ پندرہویں-سولہویں صدی: عثمانیہ سلطنت میں دولتی تعلیمی نظام قائم کرتی ہے، ساحن-آی سیمان، جس میں مدرسوں اور اسکولوں کا نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ انیسویں-بیسویں صدی: اسلامی ممالک میں مغربی انداز میں جدید تعلیم کا داخلہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیکولر اسکولز اور یونیورسٹیز قائم ہوتی ہیں۔ 1875 CE: سر سید احمد خان الیگڑھ، ہندوستان میں محمدان انگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھتے ہیں
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1066 Views
Arama Sonuçları