• Level 1
    Book 1
    Day 10
    Week
    Task canva post

    شعر

    "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی" — علامہ اقبال

    Meaning / مطلب

    اگر اس مٹی کو تھوڑی سی نمی اور مناسب ماحول مل جائے تو یہ بہت کچھ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    Summary / خلاصہ

    یہ شعر انسان کی صلاحیت، قابلیت اور امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر انسان کو صحیح رہنمائی، محنت اور مواقع ملیں تو وہ بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔

    Moral / سبق

    صلاحیت ہر انسان میں ہوتی ہے، ضرورت صرف صحیح مواقع، محنت اور رہنمائی کی ہے۔

    Keywords
    محنت
    صلاحیت
    کامیابی
    مواقع
    رہنمائی
    امید
    قابلیت
    ترقی
    خود اعتمادی
    امکانات
    Hashtags

    #AllamaIqbal #Iqbal #UrduPoetry #Motivation #Success #HardWork #SelfBelief #Inspiration #UrduQuotes #خودی #علامہ_اقبال

    Input

    نمی + محنت + صحیح رہنمائی + مواقع

    Output

    صلاحیت کا نکھار + کامیابی + ترقی + روشن مستقبل

    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Waryam Tharparkar Wala
    @followers
    Shazia Javed Educationwali
    Level 1 Book 1 Day 10 Week Task canva post 🌟 شعر "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی" — علامہ اقبال ✅ Meaning / مطلب اگر اس مٹی کو تھوڑی سی نمی اور مناسب ماحول مل جائے تو یہ بہت کچھ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 📝 Summary / خلاصہ یہ شعر انسان کی صلاحیت، قابلیت اور امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر انسان کو صحیح رہنمائی، محنت اور مواقع ملیں تو وہ بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ 💡 Moral / سبق صلاحیت ہر انسان میں ہوتی ہے، ضرورت صرف صحیح مواقع، محنت اور رہنمائی کی ہے۔ 🔑 Keywords محنت صلاحیت کامیابی مواقع رہنمائی امید قابلیت ترقی خود اعتمادی امکانات 🏷️ Hashtags #AllamaIqbal #Iqbal #UrduPoetry #Motivation #Success #HardWork #SelfBelief #Inspiration #UrduQuotes #خودی #علامہ_اقبال 📥 Input نمی + محنت + صحیح رہنمائی + مواقع 📤 Output صلاحیت کا نکھار + کامیابی + ترقی + روشن مستقبل Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala @followers Shazia Javed Educationwali
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 183 Views
  • Level 01 Work Book 01
    Day 17
    Task Canva Post 60
    Topic علامہ اقبالؒ کا خوبصورت پیغام

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر،
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی۔

    یہ شعر ہمیں اپنی پہچان، اتحاد، خودی اور اپنی منفرد اقدار کو سمجھنے کا پیغام دیتا ہے۔

    #AllamaIqbal #Iqbal #IqbalPoetry #UrduPoetry #Khudi #Unity #MuslimUmmah #IqbalQuotes #UrduQuotes #Poetry #Education #RehanSchool #Learning #inspiration

    @followers
    @highlight
    Tania Khan Mentorship Wali
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Shazia Javed Educationwali
    Hafsa Noor
    Level 01 Work Book 01 Day 17 Task Canva Post 60 Topic 🌟 علامہ اقبالؒ کا خوبصورت پیغام 🌟 اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر، خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی۔ ✨ یہ شعر ہمیں اپنی پہچان، اتحاد، خودی اور اپنی منفرد اقدار کو سمجھنے کا پیغام دیتا ہے۔ 📚💫 #AllamaIqbal #Iqbal #IqbalPoetry #UrduPoetry #Khudi #Unity #MuslimUmmah #IqbalQuotes #UrduQuotes #Poetry #Education #RehanSchool #Learning #inspiration @followers @highlight Tania Khan Mentorship Wali Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Shazia Javed Educationwali Hafsa Noor
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1529 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 7
    Week
    Task canva post 20

    "اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی،
    تو اگر میرا نہیں بنتا ہے، نہ بن، اپنا تو بن۔"
    — علامہ اقبال

    KEY WORDS
    خودی
    زندگی
    اندرونی تلاش
    خود شناسی
    مقصد
    کامیابی
    حوصلہ
    اعتماد
    شخصیت
    خود اعتمادی
    SUMMARY

    یہ شعر ہمیں اپنی ذات کو پہچاننے اور اپنے اندر جھانکنے کا پیغام دیتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی زندگی کا مقصد خود تلاش کرنا چاہیے۔ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ خود شناسی انسان کو کامیابی اور بہتر زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔

    INPUT
    خود کو پہچاننا
    اپنی صلاحیتوں کو سمجھنا
    زندگی کا مقصد تلاش کرنا
    اپنے اندر جھانکنا
    OUTPUT
    خود اعتمادی
    بہتر شخصیت
    واضح مقصد
    کامیابی کی کوشش
    مضبوط کردار
    MORAL

    اپنے آپ کو پہچانو، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھو اور اپنی زندگی کا مقصد خود تلاش کرو۔

    #️⃣ HASHTAGS

    #AllamaIqbal #IqbalPoetry #Khudi #SelfDiscovery #SelfAwareness #LifePurpose #Motivation #UrduPoetry #IslamicPoetry #PositiveThinking #SelfConfidence #Success #Inspiration
    Level 1 Book 1 Day 7 Week Task canva post 20 "اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی، تو اگر میرا نہیں بنتا ہے، نہ بن، اپنا تو بن۔" — علامہ اقبال 🔑 KEY WORDS خودی زندگی اندرونی تلاش خود شناسی مقصد کامیابی حوصلہ اعتماد شخصیت خود اعتمادی 📝 SUMMARY یہ شعر ہمیں اپنی ذات کو پہچاننے اور اپنے اندر جھانکنے کا پیغام دیتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی زندگی کا مقصد خود تلاش کرنا چاہیے۔ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ خود شناسی انسان کو کامیابی اور بہتر زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ 📥 INPUT خود کو پہچاننا اپنی صلاحیتوں کو سمجھنا زندگی کا مقصد تلاش کرنا اپنے اندر جھانکنا 📤 OUTPUT خود اعتمادی بہتر شخصیت واضح مقصد کامیابی کی کوشش مضبوط کردار 🌟 MORAL اپنے آپ کو پہچانو، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھو اور اپنی زندگی کا مقصد خود تلاش کرو۔ #️⃣ HASHTAGS #AllamaIqbal #IqbalPoetry #Khudi #SelfDiscovery #SelfAwareness #LifePurpose #Motivation #UrduPoetry #IslamicPoetry #PositiveThinking #SelfConfidence #Success #Inspiration
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1937 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 9
    Task Canva post
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
    — علامہ اقبال

    Summary

    یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنی خودی، محنت اور حوصلے کو مضبوط کرے۔ بلند ارادے اور خود اعتمادی انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

    #️⃣ Hashtags

    #AllamaIqbal #Khudi #SelfConfidence #Motivation #Success #UrduPoetry #IqbalPoetry #Inspiration #HardWork #PositiveThinking

    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Shazia Javed
    Waryam Tharparkar Wala
    Level 1 Book 1 Day 9 Task Canva post خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے — علامہ اقبال 📝 Summary یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنی خودی، محنت اور حوصلے کو مضبوط کرے۔ بلند ارادے اور خود اعتمادی انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ #️⃣ Hashtags #AllamaIqbal #Khudi #SelfConfidence #Motivation #Success #UrduPoetry #IqbalPoetry #Inspiration #HardWork #PositiveThinking Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Shazia Javed Waryam Tharparkar Wala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 2059 Views
  • Level 01 Book 01
    Day 07
    Task Canva post

    Summary

    "اپنے اندر خودی کو بیدار کریں، کیونکہ اصل کامیابی اپنے آپ کو پہچاننے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے میں ہے۔

    علامہ اقبالؒ کا یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو اپنی ذات کو پہچان لیتا ہے، وہ زندگی کی ہر منزل کو اعتماد کے ساتھ طے کرتا ہے۔

    "اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، محنت کریں، اور اپنی پہچان خود بنائیں۔"

    — Allama Iqbal

    #AllamaIqbal #IqbalQuotes #UrduQuotes #Motivation #SelfBelief #Khudi #Inspiration #Education #RehanSchool #Learning #Leadership #FutureLeaders #Pakistan #DailyMotivation #quoteofthedayシ

    Tania Khan Mentorship Wali
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Hafsa Noor
    Rehan School Korangi Campus
    Level 01 Book 01 Day 07 Task Canva post Summary "اپنے اندر خودی کو بیدار کریں، کیونکہ اصل کامیابی اپنے آپ کو پہچاننے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے میں ہے۔ 💙✨ علامہ اقبالؒ کا یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو اپنی ذات کو پہچان لیتا ہے، وہ زندگی کی ہر منزل کو اعتماد کے ساتھ طے کرتا ہے۔ "اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، محنت کریں، اور اپنی پہچان خود بنائیں۔" — Allama Iqbal #AllamaIqbal #IqbalQuotes #UrduQuotes #Motivation #SelfBelief #Khudi #Inspiration #Education #RehanSchool #Learning #Leadership #FutureLeaders #Pakistan #DailyMotivation #quoteofthedayシ Tania Khan Mentorship Wali Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Hafsa Noor Rehan School Korangi Campus
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 4197 Views
  • Level 01 Book 01
    Day 06
    Task canva post

    Summary

    "پرواز کی خواہش رکھنے والوں کے لیے آسمان بھی ایک آغاز ہے۔"

    علامہ اقبالؒ ہمیں سکھاتے ہیں کہ بلند حوصلے، خودی پر یقین، اور مسلسل محنت ہی کامیابی کی اصل کنجی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، علم حاصل کریں، اور اپنے مستقبل کو خود روشن بنائیں۔

    At Rehan School, we inspire every student to dream fearlessly, think boldly, and soar beyond limits.

    #AllamaIqbal #IqbalDay #Khudi #DreamBig #Education #RehanSchool #LearnGrowSucceed #StudentSuccess #Motivation #Inspiration #FutureLeaders #QualityEducation #PakistanEducation #YouthEmpowerment #KnowledgeIsPower #SuccessMindset #UrduQuotes #EducationalQuotes #SchoolLife #BelieveInYourDreams

    @highlight
    Tania Khan Mentorship Wali
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Shazia EducationWali
    Hafsa Noor
    Level 01 Book 01 Day 06 Task canva post 🌟 Summary "پرواز کی خواہش رکھنے والوں کے لیے آسمان بھی ایک آغاز ہے۔" ✨ علامہ اقبالؒ ہمیں سکھاتے ہیں کہ بلند حوصلے، خودی پر یقین، اور مسلسل محنت ہی کامیابی کی اصل کنجی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، علم حاصل کریں، اور اپنے مستقبل کو خود روشن بنائیں۔ At Rehan School, we inspire every student to dream fearlessly, think boldly, and soar beyond limits. 💙📚 #AllamaIqbal #IqbalDay #Khudi #DreamBig #Education #RehanSchool #LearnGrowSucceed #StudentSuccess #Motivation #Inspiration #FutureLeaders #QualityEducation #PakistanEducation #YouthEmpowerment #KnowledgeIsPower #SuccessMindset #UrduQuotes #EducationalQuotes #SchoolLife #BelieveInYourDreams @highlight Tania Khan Mentorship Wali Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Shazia EducationWali Hafsa Noor
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 7928 Views
  • Level 01 Book 01
    Day 02
    Task Canva post 06
    Topic : "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے" –

    #AllamaIqbal #Khudi #IqbalQuotes #UrduQuotes #UrduPoetry #SelfBelief #SelfRespect #SelfEmpowerment #Motivation #Inspiration #SuccessMindset #PersonalGrowth #Pakistan #Wisdom #LifeLessons #IslamicWisdom #ThinkBig #DreamBig #PositiveMindset #dailymotivation

    Tania Khan Mentorship Wali
    Shazia EducationWali
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Rehan School Korangi Campus
    Hafsa Noor
    Level 01 Book 01 Day 02 Task Canva post 06 Topic : "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے" – #AllamaIqbal #Khudi #IqbalQuotes #UrduQuotes #UrduPoetry #SelfBelief #SelfRespect #SelfEmpowerment #Motivation #Inspiration #SuccessMindset #PersonalGrowth #Pakistan #Wisdom #LifeLessons #IslamicWisdom #ThinkBig #DreamBig #PositiveMindset #dailymotivation Tania Khan Mentorship Wali Shazia EducationWali Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Rehan School Korangi Campus Hafsa Noor
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 4630 Views
  • خودی میں بہت سے سوالات کے جوابات ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب دﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﭖ ﭘﯿﺪﺍ کرنے کا ہے۔ اس اعتبار سے بلند خودی سے آپ اپنی دنیا کی معمار بن سکتے ہیں۔
    خودی میں بہت سے سوالات کے جوابات ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب دﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﭖ ﭘﯿﺪﺍ کرنے کا ہے۔ اس اعتبار سے بلند خودی سے آپ اپنی دنیا کی معمار بن سکتے ہیں۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 629 Views
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 2293 Views
  • نہ جانے کون سے لمحے میں
    ھم مٹی میں مل جائیں

    چلو کچھ کام کر جائیں
    کسی کے کام آ جائیں
    کوئی رستہ سُجھا جائیں
    کوئی بستہ تھما جائیں
    کسی کی رھنمائی اور
    کسی کا گھر بنا جائیں
    کہیں فکری ضرورت ھے
    کہیں عملی ضرورت ھے
    نئی فکریں جگا جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    ابھی بھی وقت ھے یارو
    اے علم و فن کے ھرکارو
    جو سیکھا ھے سکھا جاؤ
    جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ
    رسائی سوچ کی اپنی
    گلی کوچوں میں پھیلاؤ
    فروغ نسل کی خاطر
    ذرا سا وقت دے جاؤ
    کوئی تبدیلی لے آئیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    من و سلویٰ نہ آئے گا
    زمانہ نوچ کھائے گا
    خودی کو جو جگائے گا
    وھی تو آگے آئے گا
    محض باتوں سے تبدیلی
    کوئی بھی لا نہ پائے گا
    تمہی امید ِ اوّل ھو
    تمہی سے رنگ آئے گا
    سبق آموز ھو جائیں
    چلو کچھ کام کر جائیں

    Via Hameed Garbagewala
    نہ جانے کون سے لمحے میں ھم مٹی میں مل جائیں چلو کچھ کام کر جائیں کسی کے کام آ جائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رھنمائی اور کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ھے کہیں عملی ضرورت ھے نئی فکریں جگا جائیں چلو کچھ کام کر جائیں ابھی بھی وقت ھے یارو اے علم و فن کے ھرکارو جو سیکھا ھے سکھا جاؤ جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ رسائی سوچ کی اپنی گلی کوچوں میں پھیلاؤ فروغ نسل کی خاطر ذرا سا وقت دے جاؤ کوئی تبدیلی لے آئیں چلو کچھ کام کر جائیں من و سلویٰ نہ آئے گا زمانہ نوچ کھائے گا خودی کو جو جگائے گا وھی تو آگے آئے گا محض باتوں سے تبدیلی کوئی بھی لا نہ پائے گا تمہی امید ِ اوّل ھو تمہی سے رنگ آئے گا سبق آموز ھو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں Via Hameed Garbagewala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1059 Views
Αναζήτηση αποτελεσμάτων