• انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد

    مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی،

    صفحات:48، قیمت:100 روپے

    یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

    Iqbal Khursheed Thank you
    انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی، صفحات:48، قیمت:100 روپے یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ Iqbal Khursheed Thank you
    0 Comments 0 Shares 487 Views
  • What do you think she should do ?

    میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔

    Faiza Nuzhat
    What do you think she should do ? میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔ Faiza Nuzhat
    0 Comments 0 Shares 449 Views
  • My First Urdu short Story :) - Happy Independence day
    ==========================================

    ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ،

    تم اتنی سخت کیوں ہو؟

    اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟
    لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں.

    دھوپ مسکرا کر بولی ،

    "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے.

    میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں.

    بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟

    دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں "

    بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟

    دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے،

    آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں !

    دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ .

    اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :)

    پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!!

    خوش رہیں ، آباد رہیں

    یومِ آزادی مبارک

    پاکستان زدہ باد

    ریحان الله والا
    My First Urdu short Story :) - Happy Independence day ========================================== ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ، تم اتنی سخت کیوں ہو؟ اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟ لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں. دھوپ مسکرا کر بولی ، "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے. میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں. بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟ دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں " بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟ دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے، آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں ! دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ . اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :) پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!! خوش رہیں ، آباد رہیں یومِ آزادی مبارک پاکستان زدہ باد ریحان الله والا
    0 Comments 0 Shares 213 Views
  • ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ،

    تم اتنی سخت کیوں ہو؟

    اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟
    لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں.

    دھوپ مسکرا کر بولی ،

    "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے.

    میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں.

    بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟

    دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں "

    بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟

    دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے،

    آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں !

    دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ .

    اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :)

    پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!!

    خوش رہیں ، آباد رہیں

    یومِ آزادی مبارک

    پاکستان زدہ باد

    ریحان الله والا
    ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ، تم اتنی سخت کیوں ہو؟ اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟ لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں. دھوپ مسکرا کر بولی ، "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے. میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں. بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟ دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں " بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟ دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے، آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں ! دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ . اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :) پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!! خوش رہیں ، آباد رہیں یومِ آزادی مبارک پاکستان زدہ باد ریحان الله والا
    0 Comments 0 Shares 193 Views
  • میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔
    میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔

    ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟
    اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔
    میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔

    ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا :
    1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے)
    2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے)
    3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات
    4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے)
    5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات
    6) : مذھبی ہم آہنگی
    انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا

    @jan Malik
    میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔ میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔ ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟ اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔ میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا : 1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے) 2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے) 3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات 4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے) 5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات 6) : مذھبی ہم آہنگی انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا @jan Malik
    0 Comments 0 Shares 279 Views
  • سر ریحان اللہ والا کے میوچل فرینڈ ایکسپیریمینٹ سے حاصل کئیے گئے چند فوائد :
    ١.نظریے میں تبدیلی پیدا ہوئی.
    ٢.ٹولز کو استعمال کرنے کے مقاصد تبدیل ہو گئے.
    ٣.اپنے فن کو دیکھانے کا طریقہ آگیا.
    ٤.آس پاس نالج کا انبار لگ گیا.
    ٥.نئے نئے ٹولز چلانے سیکھے.
    ٦.کتابیں اور آرٹیکلز پڑھنے کا شوق پیدا ہوا.
    ٧.لکھائی مزید بہتر ہوئی.
    ٨.انگلش بھی پہلے سے کچھ بہتر ہوئی.
    ٩.مثبت، دلچسپ اور پہلے سے تھوڑا بڑا نیٹ ورک ملا.
    ١٠. رئیل لائف میں بھی دوست بنے.
    ١١.معلوم ہوا کہ زندگی مقصد کے بنا فضول ہے.
    ١٢.ٹرینڈ سے آشنا ہوا.
    ١٤.ماحول کو آبسرو (Observe)کرتے ہوئے آئڈیاز بنانے سیکھے.
    ١٥.شخصیات کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی.
    ١٧.لوگوں سے ملنے کا اور ان کے بارے میں جاننے کا اور ان پر لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا.
    ١٩.برداشت اور خاص طور پر دوسرے مزاہب اور قوموں کے لئیے برداشت پیدا ہوئی.
    ٢٠.کسی پر تنقید کرنے سے دور رہنے کی کوشش کرنے لگا.
    ٢١.ہر نئی چیز کے بارے میں جاننے کی جستجو اور سوالات پوچھنے کی عادت پیدا ہوئی.

    @Usama Dawood
    سر ریحان اللہ والا کے میوچل فرینڈ ایکسپیریمینٹ سے حاصل کئیے گئے چند فوائد : ١.نظریے میں تبدیلی پیدا ہوئی. ٢.ٹولز کو استعمال کرنے کے مقاصد تبدیل ہو گئے. ٣.اپنے فن کو دیکھانے کا طریقہ آگیا. ٤.آس پاس نالج کا انبار لگ گیا. ٥.نئے نئے ٹولز چلانے سیکھے. ٦.کتابیں اور آرٹیکلز پڑھنے کا شوق پیدا ہوا. ٧.لکھائی مزید بہتر ہوئی. ٨.انگلش بھی پہلے سے کچھ بہتر ہوئی. ٩.مثبت، دلچسپ اور پہلے سے تھوڑا بڑا نیٹ ورک ملا. ١٠. رئیل لائف میں بھی دوست بنے. ١١.معلوم ہوا کہ زندگی مقصد کے بنا فضول ہے. ١٢.ٹرینڈ سے آشنا ہوا. ١٤.ماحول کو آبسرو (Observe)کرتے ہوئے آئڈیاز بنانے سیکھے. ١٥.شخصیات کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی. ١٧.لوگوں سے ملنے کا اور ان کے بارے میں جاننے کا اور ان پر لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا. ١٩.برداشت اور خاص طور پر دوسرے مزاہب اور قوموں کے لئیے برداشت پیدا ہوئی. ٢٠.کسی پر تنقید کرنے سے دور رہنے کی کوشش کرنے لگا. ٢١.ہر نئی چیز کے بارے میں جاننے کی جستجو اور سوالات پوچھنے کی عادت پیدا ہوئی. @Usama Dawood
    0 Comments 0 Shares 213 Views
  • آپ سب کے لئے بہت سے عید کی مبارکباد
    ریحان اللہ والا
    آپ سب کے لئے بہت سے عید کی مبارکباد ریحان اللہ والا
    0 Comments 0 Shares 209 Views
  • ریحان اللہ والا جی اپ کو کیمانڑی میں دیکهکر مجهے اپنا بچپن یاد ایا اپ سے شئیر بهی کیا اب ایک بہت ضروری بات اپ سے شئیر کرتا هوں اور امید کرتا هوں کہ اپ اس بات کی طے تک پونچوگے 2002 ابوظبئی کےشیخ عزت ماب الشیخ خلیفہ بن زاید نے ابو ظبئی کاپرانہ الیکٹرک جرنئیٹر جو کہ اربوں روپیہ کا تها اس وقت کے سفیر پاکستان ائیر مارشل قیصرحسین کے ترو هماری کوششوں سے پاکستان کو ڈونیٹ کیا تها جو کہ پورے کراچی کوبجلی سپلائی کے لئے کافی تها اس پتہ لگانا هے کہ اخراس کا کیا بنا ان ظالم حکمرانوں نے کہیں سکرپ میں تو نہیں ڈالا میں نے بہت سے لوگوں اس بارے میں بات کی هے مگر کسی نے بهی تسلی بخش جواب نہیں دیا مزکورہ جنریٹر پانی سے بجلی بناتا هےاس کی تفتیش ضرور کیجیےگااور مجهے تسلی بخش جواب دیجیےگا وسلام شکریہ

    Question from Sher Akbar Afridi - Does anyone know more details about this project ?

    #electricity #kesc #keletric
    ریحان اللہ والا جی اپ کو کیمانڑی میں دیکهکر مجهے اپنا بچپن یاد ایا اپ سے شئیر بهی کیا اب ایک بہت ضروری بات اپ سے شئیر کرتا هوں اور امید کرتا هوں کہ اپ اس بات کی طے تک پونچوگے 2002 ابوظبئی کےشیخ عزت ماب الشیخ خلیفہ بن زاید نے ابو ظبئی کاپرانہ الیکٹرک جرنئیٹر جو کہ اربوں روپیہ کا تها اس وقت کے سفیر پاکستان ائیر مارشل قیصرحسین کے ترو هماری کوششوں سے پاکستان کو ڈونیٹ کیا تها جو کہ پورے کراچی کوبجلی سپلائی کے لئے کافی تها اس پتہ لگانا هے کہ اخراس کا کیا بنا ان ظالم حکمرانوں نے کہیں سکرپ میں تو نہیں ڈالا میں نے بہت سے لوگوں اس بارے میں بات کی هے مگر کسی نے بهی تسلی بخش جواب نہیں دیا مزکورہ جنریٹر پانی سے بجلی بناتا هےاس کی تفتیش ضرور کیجیےگااور مجهے تسلی بخش جواب دیجیےگا وسلام شکریہ Question from Sher Akbar Afridi - Does anyone know more details about this project ? #electricity #kesc #keletric
    0 Comments 0 Shares 782 Views
  • اج بروز اتوار 4 بجے تاج محل ریسٹورنٹ بریشیاء میں ایک پروگرام تشکیل دیا ہے جس میں ریحان اللہ والا صاحب پاکستانی کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے اور آپ سب دوستوں کو اس میں شرکت کی دعوت ہے۔
    اج بروز اتوار 4 بجے تاج محل ریسٹورنٹ بریشیاء میں ایک پروگرام تشکیل دیا ہے جس میں ریحان اللہ والا صاحب پاکستانی کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے اور آپ سب دوستوں کو اس میں شرکت کی دعوت ہے۔
    0 Comments 0 Shares 208 Views
  • What do you think ?

    Faisal Pony Wala
    1 hr ·

    سلام۔ ۔

    آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔

    میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔

    والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔

    میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔

    ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔

    اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا سٹیک اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔

    کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔

    بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔

    چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔

    دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔
    دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری

    بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔

    آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    What do you think ? Faisal Pony Wala 1 hr · سلام۔ ۔ آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔ میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔ والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔ میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔ ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔ اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا '' سٹیک '' اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔ کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔ بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔ چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔ دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔ دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔ آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    0 Comments 0 Shares 142 Views
More Results