• ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب

    ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟
    آگے چلیے!
    اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے!

    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!!

    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!!

    ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔

    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔

    اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم!

    Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob

    Jamia Binoria International [Official]
    ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟ #مولانا_محمد_جہان_یعقوب ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟ آگے چلیے! اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!! ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔ ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم! Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob Jamia Binoria International [Official]
    0 Commentaires 0 Parts 434 Vue
  • [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?]

    آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔

    ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔

    ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔

    ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

    #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?] آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔ ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔ ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    0 Commentaires 0 Parts 724 Vue
  • [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?]

    آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔

    ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔

    ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔

    ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

    #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?] آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔ ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔ ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    0 Commentaires 0 Parts 720 Vue
  • ایک دن، کراچی، پاکستان کے شہر میں ایک خوبصورت اور مدرن سکول "ریحان اسکول" تھا۔ ریحان اسکول میں مختلف ملکوں سے آنے والے بچے پڑھتے تھے۔

    ایک روز، ریحان اسکول کے سب بچے ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ایک خصوصی تقریب منائیں۔ اس تقریب کا نام "آئیے انٹرویو کریں" تھا۔ سب بچے خوشی سے ہم ساتھ بیٹھے اور ایک دوسرے کے ساتھ انٹرویو کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔

    پہلے، ریحان اسکول کے بچے اپنے ہی کلاس میں ہی انٹرویو کرنے شروع کیے۔ ہر ایک بچہ اپنی پسندیدہ چیزوں کے بارے میں بتاتا اور دوسرے بچوں کو اپنی دلچسپ کہانیاں بھی سناتا۔

    پھر، ریحان اسکول کے بچے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد، انٹرنیشنل ملکوں کے بچوں کے ساتھ انٹرویو کرنے کے لئے بھی تیار ہوئے۔ ان کے سامنے چیئر لگائی گئی اور ہر ایک بچہ اپنے ملک کے بارے میں مختصر بیان دیتا۔ وہ اپنے رہائشی ملک کے بارے میں، اپنی ثقافت اور اپنے روزمرہ زندگی کے بارے میں بھی بتاتے۔

    ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرنے کے دوران، بچوں نے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے جانا کہ ہمارے دنیا میں بہت سارے مختلف ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا انوکھا تصورات اور تجربے ہوتے ہیں۔

    ریحان اسکول کی یہ تقریب سب کے دلچسپی اور علمی لطف اٹھانے کا ایک بہترین موقعہ ثابت ہوا۔ بچے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہوئے اپنے علمی حوصلے کو بڑھاتے رہے اور دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے معلومات سے روشن ہوتے رہے۔ اور یہ سب کچھ کرتے کرتے، انہوں نے اپنے ریحان اسکول کو ایک بہترین سکول بنا دیا، جو اتنے مختلف ملکوں کے بچوں کو ایک ساتھ جوڑتا تھا۔
    ایک دن، کراچی، پاکستان کے شہر میں ایک خوبصورت اور مدرن سکول "ریحان اسکول" تھا۔ ریحان اسکول میں مختلف ملکوں سے آنے والے بچے پڑھتے تھے۔ ایک روز، ریحان اسکول کے سب بچے ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ایک خصوصی تقریب منائیں۔ اس تقریب کا نام "آئیے انٹرویو کریں" تھا۔ سب بچے خوشی سے ہم ساتھ بیٹھے اور ایک دوسرے کے ساتھ انٹرویو کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ پہلے، ریحان اسکول کے بچے اپنے ہی کلاس میں ہی انٹرویو کرنے شروع کیے۔ ہر ایک بچہ اپنی پسندیدہ چیزوں کے بارے میں بتاتا اور دوسرے بچوں کو اپنی دلچسپ کہانیاں بھی سناتا۔ پھر، ریحان اسکول کے بچے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ انٹرویو کرنے کے بعد، انٹرنیشنل ملکوں کے بچوں کے ساتھ انٹرویو کرنے کے لئے بھی تیار ہوئے۔ ان کے سامنے چیئر لگائی گئی اور ہر ایک بچہ اپنے ملک کے بارے میں مختصر بیان دیتا۔ وہ اپنے رہائشی ملک کے بارے میں، اپنی ثقافت اور اپنے روزمرہ زندگی کے بارے میں بھی بتاتے۔ ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرنے کے دوران، بچوں نے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے جانا کہ ہمارے دنیا میں بہت سارے مختلف ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا انوکھا تصورات اور تجربے ہوتے ہیں۔ ریحان اسکول کی یہ تقریب سب کے دلچسپی اور علمی لطف اٹھانے کا ایک بہترین موقعہ ثابت ہوا۔ بچے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے ہوئے اپنے علمی حوصلے کو بڑھاتے رہے اور دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے معلومات سے روشن ہوتے رہے۔ اور یہ سب کچھ کرتے کرتے، انہوں نے اپنے ریحان اسکول کو ایک بہترین سکول بنا دیا، جو اتنے مختلف ملکوں کے بچوں کو ایک ساتھ جوڑتا تھا۔
    0 Commentaires 0 Parts 254 Vue
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Commentaires 0 Parts 736 Vue
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Commentaires 0 Parts 734 Vue
  • ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات

    آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔

    #### قرآن میں بولنے کی اہمیت

    قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں:

    الرَّحْمَـٰنُ
    عَلَّمَ الْقُرْآنَ
    خَلَقَ الْإِنسَانَ
    عَلَّمَهُ الْبَيَانَ

    ترجمہ:

    رحمٰن
    جس نے قرآن کی تعلیم دی
    انسان کو پیدا کیا
    اسے بولنا سکھایا

    یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔

    #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا

    اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔

    **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

    **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔

    **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔

    #### بولنے کی طاقت کا اثر

    ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔

    #### نتیجہ

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔

    میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔ #### قرآن میں بولنے کی اہمیت قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں: الرَّحْمَـٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ترجمہ: رحمٰن جس نے قرآن کی تعلیم دی انسان کو پیدا کیا اسے بولنا سکھایا یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔ #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔ **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔ **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔ #### بولنے کی طاقت کا اثر ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔ #### نتیجہ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔ میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    0 Commentaires 0 Parts 335 Vue
  • ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس)
    آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔
    گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔
    جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں
    جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔
    پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟
    دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔
    سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔
    اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔

    Via Ayaz Morris
    ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس) آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔ جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟ دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔ سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔ Via Ayaz Morris
    0 Commentaires 0 Parts 564 Vue
  • ریحان اسکول آپ کے شہر آ رہا ہے – آئیے پاکستان کو AI میں لیڈر بنائیں! السلام علیکم، میں ہوں ریحان اللہ والا۔ ہم پاکستان کے چھوٹے شہروں اور اضلاع میں ریحان اسکول کے کیمپس کھول رہے ہیں — اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے میں اس نیکی کا آغاز کریں۔

    یہ ہے طریقہ:
    اپنے شہر یا ضلع کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بنائیں۔
    کم از کم 25 ایسے طالبعلم جمع کریں جن کی عمر کم از کم 9 سال ہو اور جو ماہانہ 1000 روپے فیس دینے پر آمادہ ہوں۔
    0305-8887388 کو گروپ ایڈمن بنائیں تاکہ اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے۔
    3 مقامی اساتذہ تلاش کریں، جو دو ماہ کی آن لائن ٹریننگ (فیس کے ساتھ) لینے کو تیار ہوں۔
    تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں تنخواہ دی جائے گی اور اسکول کا قیام شروع ہوگا۔
    تب تک طالبعلم آن لائن کلاسز سے سیکھنا شروع کر سکتے ہیں۔

    پہلا مرحلہ: طلباء 6 ماہ کے لیے روزانہ 1 گھنٹہ کا فاؤنڈیشن کورس کریں گے۔
    ہمارا مقصد: طالبعلم لیول 4 (آٹھویں جماعت) تک کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور AI کے ماہر بن جائیں — اور ماہانہ 1 لاکھ روپے سے زیادہ کمانا شروع کریں۔

    یہی ہمارا خواب ہے — ہر ضلع میں 200 AI اسکولز قائم کرنا تاکہ پاکستان ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کرے۔ انشاءاللہ۔

    rehan.school
    🎓 ریحان اسکول آپ کے شہر آ رہا ہے – آئیے پاکستان کو AI میں لیڈر بنائیں! السلام علیکم، میں ہوں ریحان اللہ والا۔ ہم پاکستان کے چھوٹے شہروں اور اضلاع میں ریحان اسکول کے کیمپس کھول رہے ہیں — اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے میں اس نیکی کا آغاز کریں۔ 🌟 یہ ہے طریقہ: 📱 اپنے شہر یا ضلع کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بنائیں۔ 👨‍🎓 کم از کم 25 ایسے طالبعلم جمع کریں جن کی عمر کم از کم 9 سال ہو اور جو ماہانہ 1000 روپے فیس دینے پر آمادہ ہوں۔ 📞 0305-8887388 کو گروپ ایڈمن بنائیں تاکہ اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ 🧑‍🏫 3 مقامی اساتذہ تلاش کریں، جو دو ماہ کی آن لائن ٹریننگ (فیس کے ساتھ) لینے کو تیار ہوں۔ 💸 تربیت مکمل ہونے کے بعد انہیں تنخواہ دی جائے گی اور اسکول کا قیام شروع ہوگا۔ 💻 تب تک طالبعلم آن لائن کلاسز سے سیکھنا شروع کر سکتے ہیں۔ 📚 پہلا مرحلہ: طلباء 6 ماہ کے لیے روزانہ 1 گھنٹہ کا فاؤنڈیشن کورس کریں گے۔ 🎯 ہمارا مقصد: طالبعلم لیول 4 (آٹھویں جماعت) تک کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور AI کے ماہر بن جائیں — اور ماہانہ 1 لاکھ روپے سے زیادہ کمانا شروع کریں۔ 🇵🇰 یہی ہمارا خواب ہے — ہر ضلع میں 200 AI اسکولز قائم کرنا تاکہ پاکستان ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کرے۔ انشاءاللہ۔ 🌐 rehan.school
    0 Commentaires 0 Parts 309 Vue
  • Artificial Intelligence کی ٹیچر بنیں — سیکھیں بھی، اور پانچ ہزار روپے انعام بھی حاصل کریں!

    یہ وہ کورس ہے جسے کرنے پر آپ کو فیس نہیں دینا پڑے گی — بلکہ انعام دیا جائے گا!

    ریحان اسکول – راولپنڈی لا رہا ہے ایک سنہرا موقع —
    ایسے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھتے ہیں، اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

    “یہ تنخواہ نہیں، سیکھنے کا انعام ہے!”



    پروگرام کی تفصیل:

    Rehan AI Teacher Training – Level 1
    مدت: 1 مہینہ
    روزانہ وقت: 4 گھنٹے بطور facilitator (مددگار استاد)
    انعام: کامیابی پر 5,000 روپے
    مستقل ملازمت کا موقع کامیاب امیدواروں کے لیے
    سیکھنے کے دوران کلاس روم کا عملی تجربہ
    AI، تربیت، اور انسانیت کی طاقت کا امتزاج



    داخلے کے لیے شرائط:

    عمر: کم از کم 18 سال
    تعلیم: انٹرمیڈیٹ (یا اس سے زیادہ)، بنیادی انگریزی آنی چاہیے
    اپنا سمارٹ فون لازمی ہو
    لیپ ٹاپ والوں کو ترجیح دی جائے گی



    پتہ:
    مکان نمبر 444، صادق ٹاؤن، لین نمبر 7، اقبال سٹریٹ، دھاماں موڑ، اڈیالہ روڈ، راولپنڈی

    رابطہ نمبر:
    +92 308 5511534



    صرف 10 سیٹیں دستیاب ہیں!
    اگر آپ سیکھنے، کمانے اور دنیا کو بدلنے کے خواب رکھتے ہیں —
    تو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں!

    آئیں، سیکھیں، بڑھیں، اور سوسائٹی میں ایک روشنی بنیں۔
    🌟 Artificial Intelligence کی ٹیچر بنیں — سیکھیں بھی، اور پانچ ہزار روپے انعام بھی حاصل کریں! 🎓 یہ وہ کورس ہے جسے کرنے پر آپ کو فیس نہیں دینا پڑے گی — بلکہ انعام دیا جائے گا! ریحان اسکول – راولپنڈی لا رہا ہے ایک سنہرا موقع — ایسے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھتے ہیں، اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ “یہ تنخواہ نہیں، سیکھنے کا انعام ہے!” ⸻ 📚 پروگرام کی تفصیل: ✅ Rehan AI Teacher Training – Level 1 ✅ مدت: 1 مہینہ ✅ روزانہ وقت: 4 گھنٹے بطور facilitator (مددگار استاد) ✅ انعام: کامیابی پر 5,000 روپے ✅ مستقل ملازمت کا موقع کامیاب امیدواروں کے لیے ✅ سیکھنے کے دوران کلاس روم کا عملی تجربہ ✅ AI، تربیت، اور انسانیت کی طاقت کا امتزاج ⸻ ✅ داخلے کے لیے شرائط: 🔹 عمر: کم از کم 18 سال 🔹 تعلیم: انٹرمیڈیٹ (یا اس سے زیادہ)، بنیادی انگریزی آنی چاہیے 🔹 اپنا سمارٹ فون لازمی ہو 🔹 لیپ ٹاپ والوں کو ترجیح دی جائے گی ⸻ 📍 پتہ: مکان نمبر 444، صادق ٹاؤن، لین نمبر 7، اقبال سٹریٹ، دھاماں موڑ، اڈیالہ روڈ، راولپنڈی 📞 رابطہ نمبر: +92 308 5511534 ⸻ 🔥 صرف 10 سیٹیں دستیاب ہیں! اگر آپ سیکھنے، کمانے اور دنیا کو بدلنے کے خواب رکھتے ہیں — تو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں! آئیں، سیکھیں، بڑھیں، اور سوسائٹی میں ایک روشنی بنیں۔
    0 Commentaires 0 Parts 320 Vue
Plus de résultats