اَسلَامُ و عَلیکُم وَ رحمتہُ اللّہِ و برکاتهُ ،
آزاد شاعری بغیر کسی قافیہ اور ردیف یا اردو ادب کے شاعرانہ وزن کی پابندی کے اپنے کزنوں کے نام لکھی تھی چند سال پہلے، آج اچانک فیس بُک پر یاداشت کے طور پر سوچا شئیر کر دیں:
جو سمارٹ فون کا کبوتر یا اسکی فاختہ نہیں رکھتے
ایسے کزنوں کا کیا فائدہ جو باہمی رابطہ نہیں رکھتے
فقط اِک میسیج، اِک ای میل، وٹس ایپ ہو یا ہو سکائپ
کنجوسی پھر کیوں ہے جب خالی بٹن ہی کرنا ہے ٹائپ
اب تو فیس بک سے بھی رابطہ اور آسان ہے
میسنجر یوز کرو کہ کوئی اپنا ، یا انجان ہے
وہ دور جا چکا جب انسان کبوتر کی منتیں کرتا تھا
ڈاک اورٹیلیگرام کے انتظار میں رہ رہ دن گنتا تھا
اب آپ کا ادب و آداب اس ٹیکنالوجی سے ظاہر ہے
جو جو بزرگوں سے سیکھا ہے وہ اندر سے باہر ہے
اگر یہ سہولت اس وقت کے مجنوں کے ہاتھ ہوتی
تو میرا دعوٰی ہے لیلی اس سے کبھی بھی نا جدا ہوتی
ہاتھ آتی یہ شیریں کے تو کرتی فرہاد کو پھرٹیکسٹ
وہ جان جاتا کہ اب ہم نےکیا سٹیپ لینا ہے پھرنیکسٹ
اگر یہ جیب میں اپنے رومیو شروع ہی سے رکھتا
تو بیچارہ جولیٹ کے چکر میں کھجل ہو کہ نا مرتا
مزاق اپنی جگہ آپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے
کہ رشتے رکھو زندہ یہی اللّہ رسول کا پیغام ہے
اگر آپ آگاہ رکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے
کہ محبتوں کی شمع ہمیشہ دیر سے پگھلتی ہے
یہ وقت کے ہتھیار ہے ان سے کچھ بھی کام لو
وقت کو ضائع کرو یا تبلیغ میں اپنا بھی نام لو
بس بیٹھے بیٹے لکھ ڈالا جو بھی آمد ہوئی
دل کی آواز تھی جو جا لفظوں میں جامد ہوئی
میرزا علی ۔ نیویارک
Mirza Ali
آزاد شاعری بغیر کسی قافیہ اور ردیف یا اردو ادب کے شاعرانہ وزن کی پابندی کے اپنے کزنوں کے نام لکھی تھی چند سال پہلے، آج اچانک فیس بُک پر یاداشت کے طور پر سوچا شئیر کر دیں:
جو سمارٹ فون کا کبوتر یا اسکی فاختہ نہیں رکھتے
ایسے کزنوں کا کیا فائدہ جو باہمی رابطہ نہیں رکھتے
فقط اِک میسیج، اِک ای میل، وٹس ایپ ہو یا ہو سکائپ
کنجوسی پھر کیوں ہے جب خالی بٹن ہی کرنا ہے ٹائپ
اب تو فیس بک سے بھی رابطہ اور آسان ہے
میسنجر یوز کرو کہ کوئی اپنا ، یا انجان ہے
وہ دور جا چکا جب انسان کبوتر کی منتیں کرتا تھا
ڈاک اورٹیلیگرام کے انتظار میں رہ رہ دن گنتا تھا
اب آپ کا ادب و آداب اس ٹیکنالوجی سے ظاہر ہے
جو جو بزرگوں سے سیکھا ہے وہ اندر سے باہر ہے
اگر یہ سہولت اس وقت کے مجنوں کے ہاتھ ہوتی
تو میرا دعوٰی ہے لیلی اس سے کبھی بھی نا جدا ہوتی
ہاتھ آتی یہ شیریں کے تو کرتی فرہاد کو پھرٹیکسٹ
وہ جان جاتا کہ اب ہم نےکیا سٹیپ لینا ہے پھرنیکسٹ
اگر یہ جیب میں اپنے رومیو شروع ہی سے رکھتا
تو بیچارہ جولیٹ کے چکر میں کھجل ہو کہ نا مرتا
مزاق اپنی جگہ آپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے
کہ رشتے رکھو زندہ یہی اللّہ رسول کا پیغام ہے
اگر آپ آگاہ رکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے
کہ محبتوں کی شمع ہمیشہ دیر سے پگھلتی ہے
یہ وقت کے ہتھیار ہے ان سے کچھ بھی کام لو
وقت کو ضائع کرو یا تبلیغ میں اپنا بھی نام لو
بس بیٹھے بیٹے لکھ ڈالا جو بھی آمد ہوئی
دل کی آواز تھی جو جا لفظوں میں جامد ہوئی
میرزا علی ۔ نیویارک
Mirza Ali
اَسلَامُ و عَلیکُم وَ رحمتہُ اللّہِ و برکاتهُ 😊،
آزاد شاعری بغیر کسی قافیہ اور ردیف یا اردو ادب کے شاعرانہ وزن کی پابندی کے اپنے کزنوں کے نام لکھی تھی چند سال پہلے، آج اچانک فیس بُک پر یاداشت کے طور پر سوچا شئیر کر دیں: 😃
جو سمارٹ فون کا کبوتر یا اسکی فاختہ نہیں رکھتے
ایسے کزنوں کا کیا فائدہ جو باہمی رابطہ نہیں رکھتے
فقط اِک میسیج، اِک ای میل، وٹس ایپ ہو یا ہو سکائپ
کنجوسی پھر کیوں ہے جب خالی بٹن ہی کرنا ہے ٹائپ
اب تو فیس بک سے بھی رابطہ اور آسان ہے
میسنجر یوز کرو کہ کوئی اپنا ، یا انجان ہے
وہ دور جا چکا جب انسان کبوتر کی منتیں کرتا تھا
ڈاک اورٹیلیگرام کے انتظار میں رہ رہ دن گنتا تھا
اب آپ کا ادب و آداب اس ٹیکنالوجی سے ظاہر ہے
جو جو بزرگوں سے سیکھا ہے وہ اندر سے باہر ہے
اگر یہ سہولت اس وقت کے مجنوں کے ہاتھ ہوتی
تو میرا دعوٰی ہے لیلی اس سے کبھی بھی نا جدا ہوتی
ہاتھ آتی یہ شیریں کے تو کرتی فرہاد کو پھرٹیکسٹ
وہ جان جاتا کہ اب ہم نےکیا سٹیپ لینا ہے پھرنیکسٹ
اگر یہ جیب میں اپنے رومیو شروع ہی سے رکھتا
تو بیچارہ جولیٹ کے چکر میں کھجل ہو کہ نا مرتا
مزاق اپنی جگہ آپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے
کہ رشتے رکھو زندہ یہی اللّہ رسول کا پیغام ہے
اگر آپ آگاہ رکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے
کہ محبتوں کی شمع ہمیشہ دیر سے پگھلتی ہے
یہ وقت کے ہتھیار ہے ان سے کچھ بھی کام لو
وقت کو ضائع کرو یا تبلیغ میں اپنا بھی نام لو
بس بیٹھے بیٹے لکھ ڈالا جو بھی آمد ہوئی
دل کی آواز تھی جو جا لفظوں میں جامد ہوئی
میرزا علی ۔ نیویارک
Mirza Ali
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
201 Views