• Dream High. Think Big. Be a Shaheen!

    “نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں”

    — علامہ محمد اقبال

    Allama Iqbal's powerful poetry teaches us to dream big, believe in ourselves, and aim for greatness. Just like a Shaheen, we should be brave, independent, and determined to reach new heights.

    Never limit your dreams. Work hard, build your character, and keep moving forward. Success comes to those who have courage, confidence, and a clear vision!

    Dream High. Think Big. Become a Leader.

    Rehan School — Learn | Grow | Make a Difference

    #AllamaIqbal #IqbalPoetry #اقبال #شاہین #UrduPoetry #Pakistan #DreamBig #ThinkBig #BeAleader #Motivation #InspirationalQuotes #StudentMotivation #PersonalGrowth #RehanSchool #LearnGrowMakeADifference #HassanEntrepreneurship
    🦅 Dream High. Think Big. Be a Shaheen! 🇵🇰 “نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں” — علامہ محمد اقبال ✨ Allama Iqbal's powerful poetry teaches us to dream big, believe in ourselves, and aim for greatness. Just like a Shaheen, we should be brave, independent, and determined to reach new heights. 🦅🚀 Never limit your dreams. Work hard, build your character, and keep moving forward. Success comes to those who have courage, confidence, and a clear vision! 🌟 Dream High. Think Big. Become a Leader. 🏫 Rehan School — Learn | Grow | Make a Difference #AllamaIqbal #IqbalPoetry #اقبال #شاہین #UrduPoetry #Pakistan #DreamBig #ThinkBig #BeAleader #Motivation #InspirationalQuotes #StudentMotivation #PersonalGrowth #RehanSchool #LearnGrowMakeADifference #HassanEntrepreneurship
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 273 Views
  • دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
    نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری

    دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
    افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی

    عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا
    سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

    مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے
    تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

    عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

    سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
    خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا

    کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
    یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

    اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
    کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

    جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی
    جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

    یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
    اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

    بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
    نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

    میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک
    ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی

    دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
    زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی

    مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی

    اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال
    مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا

    خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے
    ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا

    یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
    مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے

    نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
    یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی

    دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
    زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی

    مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
    دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 560 Views
  • Allama Muhammad Iqbal کے مطابق خودی کا مطلب صرف “انا” یا “غرور” نہیں ہے۔

    خودی کا اصل مطلب ہے:

    اپنے اندر اللہ کی دی ہوئی طاقت، صلاحیت اور مقصد کو پہچاننا اور اسے مضبوط بنانا۔

    اقبال کہتے تھے کہ ہر انسان کے اندر بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ:

    * ڈر میں جیتے ہیں،
    * دوسروں کی نقل کرتے ہیں،
    * آرام کے عادی ہو جاتے ہیں،
    * اور اپنی اصل صلاحیت کبھی نہیں پہچانتے۔

    اقبال چاہتے تھے کہ انسان:

    * مضبوط بنے،
    * خوددار بنے،
    * سوچنے والا بنے،
    * عمل کرنے والا بنے،
    * اور دنیا میں مثبت تبدیلی لائے۔

    ⸻

    اقبال کا مشہور شعر

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    اس کا آسان مطلب:

    اپنے کردار، محنت، سوچ، ایمان اور عمل کو اتنا بہتر بنا لو کہ تمہاری زندگی مقصد والی بن جائے۔

    ⸻

    خودی کو مضبوط کیسے کیا جاتا ہے؟

    اقبال کے مطابق خودی مضبوط ہوتی ہے:

    * محنت سے
    * علم سے
    * ڈسپلن سے
    * نماز اور اللہ سے تعلق سے
    * مشکلات کا مقابلہ کرنے سے
    * بڑی سوچ رکھنے سے
    * خوف چھوڑنے سے
    * عمل کرنے سے

    ⸻

    خودی کو کمزور کیا چیزیں کرتی ہیں؟

    اقبال کہتے تھے خودی کمزور ہوتی ہے:

    * ڈر سے
    * سستی سے
    * دوسروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے
    * صرف شکایت کرنے سے
    * آرام طلبی سے
    * مقصد کے بغیر زندگی گزارنے سے
    * صرف نقل کرنے سے

    ⸻

    شاہین کیوں؟

    اقبال نے شاہین کو خودی کی علامت بنایا۔

    کیونکہ شاہین:

    * اونچا اڑتا ہے،
    * آزاد رہتا ہے،
    * مردہ چیزیں نہیں کھاتا،
    * مشکل حالات سے نہیں ڈرتا۔

    اقبال چاہتے تھے نوجوان بھی شاہین جیسے بنیں:

    * بلند سوچ والے،
    * بہادر،
    * خوددار،
    * اور عمل کرنے والے۔

    ⸻

    اہم بات

    اقبال کی “خودی” غرور نہیں ہے۔

    غرور یہ ہے:

    “میں سب سے بڑا ہوں۔”

    لیکن خودی یہ ہے:

    “اللہ نے مجھے صلاحیت دی ہے، اب مجھے اسے استعمال کرنا ہے۔”

    ⸻

    آج کے دور میں خودی کیوں ضروری ہے؟

    آج بہت لوگ:

    * صرف موبائل استعمال کرتے ہیں،
    * صرف ویڈیوز دیکھتے ہیں،
    * صرف دوسروں کی نقل کرتے ہیں،
    * لیکن کچھ نیا نہیں بناتے۔

    اقبال چاہتے تھے انسان:

    * خود سوچے،
    * کچھ بنائے،
    * لوگوں کے کام آئے،
    * اور اپنی زندگی کو مقصد دے۔

    ⸻

    آسان ایک لائن میں

    خودی کا مطلب ہے اپنے اندر کی طاقت کو پہچان کر محنت، ایمان اور عمل کے ذریعے خود کو اتنا مضبوط بنانا کہ آپ دنیا میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔

    Via @chatgpt
    Allama Muhammad Iqbal کے مطابق خودی کا مطلب صرف “انا” یا “غرور” نہیں ہے۔ خودی کا اصل مطلب ہے: اپنے اندر اللہ کی دی ہوئی طاقت، صلاحیت اور مقصد کو پہچاننا اور اسے مضبوط بنانا۔ اقبال کہتے تھے کہ ہر انسان کے اندر بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ: * ڈر میں جیتے ہیں، * دوسروں کی نقل کرتے ہیں، * آرام کے عادی ہو جاتے ہیں، * اور اپنی اصل صلاحیت کبھی نہیں پہچانتے۔ اقبال چاہتے تھے کہ انسان: * مضبوط بنے، * خوددار بنے، * سوچنے والا بنے، * عمل کرنے والا بنے، * اور دنیا میں مثبت تبدیلی لائے۔ ⸻ اقبال کا مشہور شعر خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے اس کا آسان مطلب: اپنے کردار، محنت، سوچ، ایمان اور عمل کو اتنا بہتر بنا لو کہ تمہاری زندگی مقصد والی بن جائے۔ ⸻ خودی کو مضبوط کیسے کیا جاتا ہے؟ اقبال کے مطابق خودی مضبوط ہوتی ہے: * محنت سے * علم سے * ڈسپلن سے * نماز اور اللہ سے تعلق سے * مشکلات کا مقابلہ کرنے سے * بڑی سوچ رکھنے سے * خوف چھوڑنے سے * عمل کرنے سے ⸻ خودی کو کمزور کیا چیزیں کرتی ہیں؟ اقبال کہتے تھے خودی کمزور ہوتی ہے: * ڈر سے * سستی سے * دوسروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے * صرف شکایت کرنے سے * آرام طلبی سے * مقصد کے بغیر زندگی گزارنے سے * صرف نقل کرنے سے ⸻ شاہین کیوں؟ اقبال نے شاہین کو خودی کی علامت بنایا۔ کیونکہ شاہین: * اونچا اڑتا ہے، * آزاد رہتا ہے، * مردہ چیزیں نہیں کھاتا، * مشکل حالات سے نہیں ڈرتا۔ اقبال چاہتے تھے نوجوان بھی شاہین جیسے بنیں: * بلند سوچ والے، * بہادر، * خوددار، * اور عمل کرنے والے۔ ⸻ اہم بات اقبال کی “خودی” غرور نہیں ہے۔ غرور یہ ہے: “میں سب سے بڑا ہوں۔” لیکن خودی یہ ہے: “اللہ نے مجھے صلاحیت دی ہے، اب مجھے اسے استعمال کرنا ہے۔” ⸻ آج کے دور میں خودی کیوں ضروری ہے؟ آج بہت لوگ: * صرف موبائل استعمال کرتے ہیں، * صرف ویڈیوز دیکھتے ہیں، * صرف دوسروں کی نقل کرتے ہیں، * لیکن کچھ نیا نہیں بناتے۔ اقبال چاہتے تھے انسان: * خود سوچے، * کچھ بنائے، * لوگوں کے کام آئے، * اور اپنی زندگی کو مقصد دے۔ ⸻ آسان ایک لائن میں خودی کا مطلب ہے اپنے اندر کی طاقت کو پہچان کر محنت، ایمان اور عمل کے ذریعے خود کو اتنا مضبوط بنانا کہ آپ دنیا میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔ Via @chatgpt
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 241 Views
  • ریحان اسکول اسلام آباد کی ایک غیر معمولی لیڈر کو سالگرہ مبارک!

    آج ہم صرف ایک سالگرہ نہیں منا رہے،
    آج ہم سوچ، کردار اور قیادت کو سلیوٹ کر رہے ہیں

    Asma Shaheen EducationWali

    پرنسپل، ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس
    ایک ایسی معلمہ جو صرف اسکول نہیں چلاتیں،
    بلکہ انسان بناتی ہیں، اعتماد پیدا کرتی ہیں اور مستقبل تراشتی ہیں۔

    اگر آپ
    والدین ہیں،
    ٹیچر ہیں،
    یا اپنے بچوں کے لیے اصل تعلیم دیکھنا چاہتے ہیں —

    انہیں فالو کریں
    ان سے کنیکٹ کریں
    ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس آ کر خود دیکھیں

    یہ وہ قیادت ہے جو کتابوں میں نہیں،
    عمل میں نظر آتی ہے۔

    اللہ آپ کو لمبی عمر دے
    مزید ترقی دے
    اور آپ کے ہاتھوں ہزاروں لیڈر تیار ہوں

    سالگرہ مبارک، سسٹر آسمہ شاہین ایجوکیشن والی


    کمنٹ میں دعا دیں،
    انہیں ٹیگ کریں،
    اور اگر اسلام آباد میں ہیں تو ضرور وزٹ کریں — ایسی قیادت روز روز نہیں ملتی۔
    🎉 ریحان اسکول اسلام آباد کی ایک غیر معمولی لیڈر کو سالگرہ مبارک! 🎉 آج ہم صرف ایک سالگرہ نہیں منا رہے، آج ہم سوچ، کردار اور قیادت کو سلیوٹ کر رہے ہیں 🌟 Asma Shaheen EducationWali پرنسپل، ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس ایک ایسی معلمہ جو صرف اسکول نہیں چلاتیں، بلکہ انسان بناتی ہیں، اعتماد پیدا کرتی ہیں اور مستقبل تراشتی ہیں۔ 📍 اگر آپ والدین ہیں، ٹیچر ہیں، یا اپنے بچوں کے لیے اصل تعلیم دیکھنا چاہتے ہیں — 👉 انہیں فالو کریں 👉 ان سے کنیکٹ کریں 👉 ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس آ کر خود دیکھیں یہ وہ قیادت ہے جو کتابوں میں نہیں، عمل میں نظر آتی ہے۔ 🌱 اللہ آپ کو لمبی عمر دے 🌱 مزید ترقی دے 🌱 اور آپ کے ہاتھوں ہزاروں لیڈر تیار ہوں 🖖 سالگرہ مبارک، سسٹر آسمہ شاہین ایجوکیشن والی 👇 کمنٹ میں دعا دیں، انہیں ٹیگ کریں، اور اگر اسلام آباد میں ہیں تو ضرور وزٹ کریں — ایسی قیادت روز روز نہیں ملتی۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 79 Views
  • ایک شعر… مگر پورا نظامِ تعلیم ہلا دینے والا۔

    “شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
    سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا”

    یہ شعر ہے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا۔

    آسان لفظوں میں مطلب کیا ہے؟

    اقبال اللہ سے شکوہ کر رہے ہیں…

    کہ اے اللہ!
    یہ جو اسکولوں کے مالک اور استاد ہیں…
    یہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟

    شاہین کون ہے؟
    شاہین وہ پرندہ ہے جو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہے۔
    بلند نظر، آزاد، بہادر، خوددار۔

    اقبال کہتے ہیں:
    ہمارے بچے شاہین بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    لیکن…

    انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟

    خاک بازی —
    یعنی زمین پر رینگنا،
    چھوٹے خواب دیکھنا،
    صرف رٹنا،
    صرف نوکری کے پیچھے بھاگنا،
    صرف امتحان پاس کرنا۔

    اقبال کا درد یہ ہے کہ:

    جن بچوں کو آسمان فتح کرنا تھا
    انہیں مٹی میں کھیلنا سکھایا جا رہا ہے۔

    یہ صرف شعر نہیں۔
    یہ پورے تعلیمی نظام پر چارج شیٹ ہے۔

    سوال آپ سے ہے:

    آپ اپنے بچے کو شاہین بنا رہے ہیں؟
    یا صرف اچھے نمبروں کی مشین؟

    اگر یہ شعر دل کو لگا…
    تو اسے پڑھ کر مت چھوڑیں۔
    سوچیں۔
    اپنے اسکول سے سوال کریں۔
    اپنے نظام سے سوال کریں۔
    اور سب سے پہلے خود سے سوال کریں۔

    کیونکہ قومیں وہی بنتی ہیں
    جو شاہینوں کو شاہین رہنے دیتی ہیں۔
    🔥 ایک شعر… مگر پورا نظامِ تعلیم ہلا دینے والا۔ “شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا” یہ شعر ہے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا۔ آسان لفظوں میں مطلب کیا ہے؟ اقبال اللہ سے شکوہ کر رہے ہیں… کہ اے اللہ! یہ جو اسکولوں کے مالک اور استاد ہیں… یہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ 🦅 شاہین کون ہے؟ شاہین وہ پرندہ ہے جو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہے۔ بلند نظر، آزاد، بہادر، خوددار۔ اقبال کہتے ہیں: ہمارے بچے شاہین بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن… انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟ 🌪️ خاک بازی — یعنی زمین پر رینگنا، چھوٹے خواب دیکھنا، صرف رٹنا، صرف نوکری کے پیچھے بھاگنا، صرف امتحان پاس کرنا۔ اقبال کا درد یہ ہے کہ: جن بچوں کو آسمان فتح کرنا تھا انہیں مٹی میں کھیلنا سکھایا جا رہا ہے۔ یہ صرف شعر نہیں۔ یہ پورے تعلیمی نظام پر چارج شیٹ ہے۔ سوال آپ سے ہے: آپ اپنے بچے کو شاہین بنا رہے ہیں؟ یا صرف اچھے نمبروں کی مشین؟ 🔥 اگر یہ شعر دل کو لگا… تو اسے پڑھ کر مت چھوڑیں۔ سوچیں۔ اپنے اسکول سے سوال کریں۔ اپنے نظام سے سوال کریں۔ اور سب سے پہلے خود سے سوال کریں۔ کیونکہ قومیں وہی بنتی ہیں جو شاہینوں کو شاہین رہنے دیتی ہیں۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 78 Views
  • ‍ ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – اسلام آباد (صرف بچیوں کے لیے)

    پنجاب نے اے آئی ایجوکیشن کا اعلان کر دیا۔
    کے پی کے نے اے آئی پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔
    امریکہ نے بھی اے آئی کو قومی ترجیح قرار دے دیا۔

    پالیسیاں تیار ہیں۔
    اعلانات ہو چکے ہیں۔
    بجٹ منظور ہو رہے ہیں۔

    لیکن ایک سوال دل کو چیرتا ہے:

    اے آئی پڑھائے گا کون؟

    ٹرینڈ ٹیچرز کہاں ہیں؟
    بااعتماد ایجوکیٹرز کہاں ہیں؟
    وہ بیٹیاں کہاں ہیں جو کلاس کے سامنے کھڑی ہو کر کہہ سکیں:

    “مجھے آرٹیفیشل انٹیلیجنس آتی ہے۔ میں اسے پڑھا سکتی ہوں۔ میں لیڈ کر سکتی ہوں۔”

    آج ہزاروں گھروں میں
    باپ خاموش فکر میں ہے۔
    ماں دعا میں مصروف ہے۔

    انہیں عیش نہیں چاہیے۔
    انہیں دکھاوا نہیں چاہیے۔

    انہیں چاہیے:
    عزت۔
    تحفظ۔
    خود مختاری۔

    اور ہم اب بھی اپنی بچیوں کو پرانا نظام دے رہے ہیں۔

    اس لیے ہم نے فیصلہ کیا:

    ہم انتظار نہیں کریں گے۔

    ہم نے شروع کیا ہے:

    ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – گرلز کیمپس

    اسلام آباد (وہی ایڈریس جہاں ریحان اسکول – بارہ کہو برانچ ہے)

    یہ صرف ایک کالج نہیں۔

    یہ ایک مشن ہے۔

    ہم اپنی بچیوں کو سکھائیں گے:

    • آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز
    • چیٹ جی پی ٹی اور آٹومیشن
    • اے آئی کے ساتھ کوڈنگ
    • اے آئی پاورڈ کانٹینٹ کریئیشن
    • پبلک اسپیکنگ اور کانفیڈنس
    • پروفیشنل ٹیچنگ اسکلز

    تاکہ اگلے 2–4 سال میں:

    وہ جاب لائنوں میں نہ کھڑی ہوں۔
    وہ پرانی ڈگریوں پر انحصار نہ کریں۔
    وہ اے آئی ایجوکیٹر بنیں۔
    پاکستان بھر میں اے آئی پڑھائیں۔
    اپنی مہارت سے عزت کمائیں۔

    ذرا تصور کریں…

    1,000 ٹرینڈ بچیاں پورے پاکستان میں اے آئی پڑھا رہی ہوں۔
    دیہات میں بیٹیاں ٹیکنالوجی لیڈ کر رہی ہوں۔
    ایک ایسا پاکستان جہاں بچیوں کا تحفظ دیواروں سے نہیں…
    مہارت سے ہو۔

    یہ صرف تعلیم نہیں۔

    یہ طاقت ہے۔
    یہ تحفظ ہے۔
    یہ قومی تبدیلی ہے۔

    ⸻

    رمضان ٹائمنگ

    صبح 9:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے تک

    تاکہ عبادت، صحت اور تعلیم تینوں کا توازن برقرار رہے۔

    ⸻

    ویب سائٹ: rehancollege.com

    مقام: ریحان اسکول – اسلام آباد – بارہ کہو برانچ
    پرنسپل اسماء شاہین ایجوکیشن والی

    : +92 301 3445767
    قاسم
    : +92 308 5511534
    ☎ یو اے این
    : 0304-1116044

    اگر آپ باپ ہیں — بیٹی کو صرف ڈگری نہیں، مستقبل دیں۔
    اگر آپ ماں ہیں — اسے اعتماد دیں۔
    اگر آپ بیٹی ہیں — خود کو چھوٹا سمجھنا چھوڑ دیں۔

    اس پوسٹ کو شیئر کریں۔
    کسی ماں کو ٹیگ کریں۔
    کسی باپ کو ٹیگ کریں۔
    کسی بیٹی کو ٹیگ کریں۔

    جب اے آئی انقلاب آیا…
    ہماری بچیاں تیار تھیں۔

    واٹس ایپ گروپ جوائن کریں:
    https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    👩‍💻 ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – اسلام آباد (صرف بچیوں کے لیے) پنجاب نے اے آئی ایجوکیشن کا اعلان کر دیا۔ کے پی کے نے اے آئی پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے بھی اے آئی کو قومی ترجیح قرار دے دیا۔ پالیسیاں تیار ہیں۔ اعلانات ہو چکے ہیں۔ بجٹ منظور ہو رہے ہیں۔ لیکن ایک سوال دل کو چیرتا ہے: اے آئی پڑھائے گا کون؟ ٹرینڈ ٹیچرز کہاں ہیں؟ بااعتماد ایجوکیٹرز کہاں ہیں؟ وہ بیٹیاں کہاں ہیں جو کلاس کے سامنے کھڑی ہو کر کہہ سکیں: “مجھے آرٹیفیشل انٹیلیجنس آتی ہے۔ میں اسے پڑھا سکتی ہوں۔ میں لیڈ کر سکتی ہوں۔” آج ہزاروں گھروں میں باپ خاموش فکر میں ہے۔ ماں دعا میں مصروف ہے۔ انہیں عیش نہیں چاہیے۔ انہیں دکھاوا نہیں چاہیے۔ انہیں چاہیے: عزت۔ تحفظ۔ خود مختاری۔ اور ہم اب بھی اپنی بچیوں کو پرانا نظام دے رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا: ہم انتظار نہیں کریں گے۔ ہم نے شروع کیا ہے: 🎓 ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – گرلز کیمپس 📍 اسلام آباد (وہی ایڈریس جہاں ریحان اسکول – بارہ کہو برانچ ہے) یہ صرف ایک کالج نہیں۔ یہ ایک مشن ہے۔ ہم اپنی بچیوں کو سکھائیں گے: • آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز • چیٹ جی پی ٹی اور آٹومیشن • اے آئی کے ساتھ کوڈنگ • اے آئی پاورڈ کانٹینٹ کریئیشن • پبلک اسپیکنگ اور کانفیڈنس • پروفیشنل ٹیچنگ اسکلز تاکہ اگلے 2–4 سال میں: وہ جاب لائنوں میں نہ کھڑی ہوں۔ وہ پرانی ڈگریوں پر انحصار نہ کریں۔ وہ اے آئی ایجوکیٹر بنیں۔ پاکستان بھر میں اے آئی پڑھائیں۔ اپنی مہارت سے عزت کمائیں۔ ذرا تصور کریں… 1,000 ٹرینڈ بچیاں پورے پاکستان میں اے آئی پڑھا رہی ہوں۔ دیہات میں بیٹیاں ٹیکنالوجی لیڈ کر رہی ہوں۔ ایک ایسا پاکستان جہاں بچیوں کا تحفظ دیواروں سے نہیں… مہارت سے ہو۔ یہ صرف تعلیم نہیں۔ یہ طاقت ہے۔ یہ تحفظ ہے۔ یہ قومی تبدیلی ہے۔ ⸻ 🌙 رمضان ٹائمنگ 🕘 صبح 9:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے تک تاکہ عبادت، صحت اور تعلیم تینوں کا توازن برقرار رہے۔ ⸻ 🌐 ویب سائٹ: rehancollege.com 📍 مقام: ریحان اسکول – اسلام آباد – بارہ کہو برانچ 📞 پرنسپل اسماء شاہین ایجوکیشن والی : +92 301 3445767 📞 قاسم : +92 308 5511534 ☎ یو اے این : 0304-1116044 اگر آپ باپ ہیں — بیٹی کو صرف ڈگری نہیں، مستقبل دیں۔ اگر آپ ماں ہیں — اسے اعتماد دیں۔ اگر آپ بیٹی ہیں — خود کو چھوٹا سمجھنا چھوڑ دیں۔ اس پوسٹ کو شیئر کریں۔ کسی ماں کو ٹیگ کریں۔ کسی باپ کو ٹیگ کریں۔ کسی بیٹی کو ٹیگ کریں۔ جب اے آئی انقلاب آیا… ہماری بچیاں تیار تھیں۔ 🔗 واٹس ایپ گروپ جوائن کریں: https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 486 Views
  • اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے دو AI سیمینارز سے کیا سیکھا؟

    پرنسپل — ریحان اسکول اسلام آباد، بارہ کہو برانچ

    دو مسلسل AI for Education سیمینارز کرنا صرف ایونٹ مینجمنٹ نہیں تھا…
    یہ لیڈرشپ ٹریننگ تھی۔

    بطور پرنسپل، اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے تین بڑی چیزیں سیکھیں:

    ⸻

    AI کو “ٹول” نہیں، “سسٹم” بنانا

    انہوں نے محسوس کیا کہ AI صرف پریزنٹیشن کا موضوع نہیں —
    بلکہ روزمرہ تدریس، اسائنمنٹس، اور پیرنٹس کمیونیکیشن کا حصہ بنانا ہوگا۔
    • ہر ٹیچر کو AI سے لیسن پلان بنوانا
    • ہر بچے کو AI کے ذریعے خود سوال بنانا سکھانا
    • ہر پیرنٹ میٹنگ میں AI-based learning دکھانا

    نتیجہ: AI ڈیمو سے نکل کر پریکٹس میں آیا۔

    ⸻

    لوگ متاثر تب ہوتے ہیں جب نمبر واضح ہوں

    سیمینار میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ملی کہ:
    • 18 ماہ بعد بچہ اپنی فیس خود کما سکتا ہے
    • کلاس 6 تک آمدن کا ہدف
    • واضح KPIs اور ٹائم لائن

    انہوں نے سیکھا کہ وژن جذباتی ہو سکتا ہے،
    لیکن اعتماد ہمیشہ نمبرز سے آتا ہے۔

    ⸻

    پرنسپل صرف ایڈمن نہیں — مشن ایمبیسیڈر ہے

    دو سیمینارز کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ:
    پرنسپل کا کردار صرف حاضری اور ڈسپلن نہیں…
    بلکہ مشن کو بیان کرنا، دفاع کرنا، اور پھیلانا ہے۔

    انہوں نے خود سوالات کے جواب دیے،
    اعتراضات سنے،
    اور ریحان اسکول کے ماڈل کو واضح انداز میں پیش کیا۔

    یہ ان کے لیے پبلک لیڈرشپ کا پریکٹیکل کورس تھا۔

    ⸻

    ریحان اسکول — اسلام آباد — بارہ کہو برانچ

    rehanschool.net
    گوگل میپس: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic

    پرنسپل: اسماء ایجوکیشن والی
    +92 344 5152745

    قاسم: +92 308 5511534
    UAN: 0304-1116044

    ⸻

    دو سیمینارز نے ایک بات واضح کر دی:
    اگر پرنسپل خود سیکھ رہی ہو…
    تو اسکول رُکتا نہیں، بڑھتا ہے۔

    What did Asma Shaheen EducationWali learn by
    doing 2 ai seminars
    🌟 اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے دو AI سیمینارز سے کیا سیکھا؟ پرنسپل — ریحان اسکول اسلام آباد، بارہ کہو برانچ دو مسلسل AI for Education سیمینارز کرنا صرف ایونٹ مینجمنٹ نہیں تھا… یہ لیڈرشپ ٹریننگ تھی۔ بطور پرنسپل، اسماء شاہین ایجوکیشن والی نے تین بڑی چیزیں سیکھیں: ⸻ 1️⃣ AI کو “ٹول” نہیں، “سسٹم” بنانا انہوں نے محسوس کیا کہ AI صرف پریزنٹیشن کا موضوع نہیں — بلکہ روزمرہ تدریس، اسائنمنٹس، اور پیرنٹس کمیونیکیشن کا حصہ بنانا ہوگا۔ • ہر ٹیچر کو AI سے لیسن پلان بنوانا • ہر بچے کو AI کے ذریعے خود سوال بنانا سکھانا • ہر پیرنٹ میٹنگ میں AI-based learning دکھانا نتیجہ: AI ڈیمو سے نکل کر پریکٹس میں آیا۔ ⸻ 2️⃣ لوگ متاثر تب ہوتے ہیں جب نمبر واضح ہوں سیمینار میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ملی کہ: • 18 ماہ بعد بچہ اپنی فیس خود کما سکتا ہے • کلاس 6 تک آمدن کا ہدف • واضح KPIs اور ٹائم لائن انہوں نے سیکھا کہ وژن جذباتی ہو سکتا ہے، لیکن اعتماد ہمیشہ نمبرز سے آتا ہے۔ ⸻ 3️⃣ پرنسپل صرف ایڈمن نہیں — مشن ایمبیسیڈر ہے دو سیمینارز کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ: پرنسپل کا کردار صرف حاضری اور ڈسپلن نہیں… بلکہ مشن کو بیان کرنا، دفاع کرنا، اور پھیلانا ہے۔ انہوں نے خود سوالات کے جواب دیے، اعتراضات سنے، اور ریحان اسکول کے ماڈل کو واضح انداز میں پیش کیا۔ یہ ان کے لیے پبلک لیڈرشپ کا پریکٹیکل کورس تھا۔ ⸻ 📍 ریحان اسکول — اسلام آباد — بارہ کہو برانچ 🌐 rehanschool.net 📌 گوگل میپس: https://maps.app.goo.gl/L5u3BM7CmX3eM3qH6?g_st=ic پرنسپل: اسماء ایجوکیشن والی 📞 +92 344 5152745 قاسم: +92 308 5511534 ☎️ UAN: 0304-1116044 ⸻ دو سیمینارز نے ایک بات واضح کر دی: اگر پرنسپل خود سیکھ رہی ہو… تو اسکول رُکتا نہیں، بڑھتا ہے۔ What did Asma Shaheen EducationWali learn by doing 2 ai seminars
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 78 Views 0
  • کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟
    دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
    کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
    تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے
    نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ
    (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح)
    آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔
    علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں:
    مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن)
    اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔
    * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔
    شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ
    اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔
    * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔
    یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار)
    اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں:
    الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your Why)
    دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔
    ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection) ‍
    دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔
    ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts)
    اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔
    د: حرکت و عمل (Be Proactive)
    اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔
    حاصلِ کلام:
    دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔
    "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔"
    #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    🔥 کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟ 🔥 دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح) آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔ علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں: 1️⃣ مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن) 🥀 اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔ * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔ 2️⃣ شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ ⛓️ اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔ * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔ 🛠️ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار) اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں: الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your 'Why') 🎯 دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔ ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection) 🧘‍♂️ دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts) 📚 اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔ د: حرکت و عمل (Be Proactive) 🔥 اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔ 📢 حاصلِ کلام: دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔ "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔" #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 3333 Views 0