• level 1
    Book 1
    Day 4
    Task canva post
    "جس درجے سے کوئی مکمل میں گیا وہ سماج میں سلامتی رہتے ہے، پہچان جان کو جانتے ہیں، لیکن جان کی کوئی بات نہیں۔" — Allama Iqbal

    علم و شعور
    سلامتی
    انسانیت
    امن
    محبت
    اتحاد
    خود شناسی
    کردار
    زندگی

    Summary

    یہ پیغام ہمیں علم، شعور، امن اور انسانیت کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں اچھے کردار، محبت اور اتحاد کو اپنانا چاہیے۔

    Moral

    اچھا کردار اور انسانیت ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔

    Input

    علم + شعور + انسانیت + امن + اچھا کردار

    Output

    ایک بہتر، پُرامن اور بااخلاق معاشرہ۔

    #️⃣ Hashtags

    #AllamaIqbal #Iqbal #UrduQuotes #UrduPoetry #Knowledge #Wisdom #Peace #Humanity #GoodCharacter #Unity #Education #LifeQuotes #Motivation #PositiveThinking #Pakistan #Inspiration #علم #شعور #امن #انسانیت #کردار

    @highlight
    Imran Khan Street Wala
    Tania Khan Mentorship Wali
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Waryam Tharparkar Wala
    Shazia Javed Educationw
    level 1 Book 1 Day 4 Task canva post "جس درجے سے کوئی مکمل میں گیا وہ سماج میں سلامتی رہتے ہے، پہچان جان کو جانتے ہیں، لیکن جان کی کوئی بات نہیں۔" — Allama Iqbal علم و شعور سلامتی انسانیت امن محبت اتحاد خود شناسی کردار زندگی 📝 Summary یہ پیغام ہمیں علم، شعور، امن اور انسانیت کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں اچھے کردار، محبت اور اتحاد کو اپنانا چاہیے۔ 🌟 Moral اچھا کردار اور انسانیت ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔ 📥 Input علم + شعور + انسانیت + امن + اچھا کردار 📤 Output ایک بہتر، پُرامن اور بااخلاق معاشرہ۔ #️⃣ Hashtags #AllamaIqbal #Iqbal #UrduQuotes #UrduPoetry #Knowledge #Wisdom #Peace #Humanity #GoodCharacter #Unity #Education #LifeQuotes #Motivation #PositiveThinking #Pakistan #Inspiration #علم #شعور #امن #انسانیت #کردار @highlight Imran Khan Street Wala Tania Khan Mentorship Wali Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala Shazia Javed Educationw
    0 Commentarii 0 Distribuiri 759 Views
  • Wise words by Sister Aishah Sids

    ھماری قوم کو کاٹنا بہت آسان ہے اسی لیے تو ہم سب بٹّےھوے ھیں۔ عقل اور شعور کو استعمال کے بجاے لوگوں کی راے اور تعریف کو مشعل راہ اور مطمع نظر سمجھتے ہیں۔
    اصلاڅ کی ابتدا اپنی ذات سے کریں۔
    اجتماعی اصلاڅ څود بڅود ہوگی۔

    Do inbox her to add you to her list so she can send you more of her wisdom if you like.
    Wise words by Sister A'ishah Sids ھماری قوم کو کاٹنا بہت آسان ہے اسی لیے تو ہم سب بٹّےھوے ھیں۔ عقل اور شعور کو استعمال کے بجاے لوگوں کی راے اور تعریف کو مشعل راہ اور مطمع نظر سمجھتے ہیں۔ اصلاڅ کی ابتدا اپنی ذات سے کریں۔ اجتماعی اصلاڅ څود بڅود ہوگی۔ Do inbox her to add you to her list so she can send you more of her wisdom if you like.
    0 Commentarii 0 Distribuiri 105 Views
  • السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ !
    برادرم / محترم !!

    ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:-

    سولہ دسمبر کا دن آرہا ہے۔ اب سے پینتالیس سال قبل، ہمارے مُلک کو بیرونی مُداخلت اور عسکری جارحیت کا سنگین اور ہولناک سامنا کرنا پڑا تھا۔

    سولہ دسمبر کو ڈھاکا پر، جارح ہندوستانی فوج کا قبضہ مکمل ہوا تھا، اور دِفاعِ پاکستان پر مامور افواج کو ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔

    المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم، اِس سانحہ کو بُھلا بیٹھی ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر و نفسیات میں اور ہمارے شَعور و لا شعور میں، اِس عبرت ناک واقعہ کا، کوئی اَثر، کوئی عمل دخل ہی نہیں۔

    بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں، اِس " بُھلاوے" کا بھی، بڑا عَیّارانہ، بےرحمانہ اور بھرپور اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔

    وائے ناکامی، مَتاعِ کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دِل سے، اِحساسِ زِیاں جاتا رہا !!

    نتیجتاً آج ہمارے نوجوان، اپنی مِلّی تاریخ کے اِس دردناک باب سے ناواقف، یا کم ہی آگاہ ہیں۔

    لھٰذا ایک عاجزانہ رائے ہے کہ کم از کم ہم لوگ، اپنے خاندان کے بچّوں اور بچّیوں کو، سولہ دسمبر یا اُس کے آس پاس، کھانے پر جمع کریں۔

    اُنھیں پاکستان حاصل کرنے، اور بعد میں اِس کی حفاظت نہ کرسکنے کی تاریخ کے کچھ اَبواب، کچھ حصّے، کچھ قِصّے سُنائیں، سمجھائیں، یاد کرائیں۔

    تاکہ ہماری اگلی نسلوں کے اجتماعی شعور اور لا شعور میں، اِس درد ناک، چَشم کُشا اور سبق آموز واقعہ کی آگہی، شِدَّتِ احساس اور قُوّتِ عمل بخشنے والی خَلِش، زندہ بھی رہے اور کار فرما بھی ہو۔

    اِمسال، سولہ دسمبر کو، جمعہ ہے۔ اُسی شب، یا اگلی شب (سترہ دسمبر کو) یہ نشست ہوسکتی ہے۔

    اِس عاجز کی رائے ہے کہ ہمیں سارے کام، اھلِ اِختیار و اقتدار پر نہیں چھوڑنے چاہییں۔
    نِجی سطح پر، خود بھی کچھ اچھی رِوایات کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔
    اِسی سلسلہ میں، ہمیں چاہیے کہ سولہ دسمبر کے حوالہ سے، اپنے اپنے خاندانوں میں، نوجونوں کی نشستوں کا،
    (اپنے بچّوں اور نوجوانوں کے مشوروں سے)،
    اہتمام کریں۔ اِس سے مُعاشرہ میں، ایک اچھی رِوایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    خُدا کرے کہ اِمسال، ہماری حکومت، اِسٹابلِشمنٹ اور میڈیا، سُقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحہ کو بُھلانے، دَبانے، یا اس سے نظریں چُرانے کی غلطی نہ کرے۔

    اللہ کریم، خیر و برکت و عافیت سے نوازیں۔ شکریہ!
    والسلام!!
    شاہد ہاشمی ۔ کراچی

    Whatsapp : +92 333 3987711

    To get more from him on whatsapp do whatsapp him to add you to his Groupon
    السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ! برادرم / محترم !! ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں:- سولہ دسمبر کا دن آرہا ہے۔ اب سے پینتالیس سال قبل، ہمارے مُلک کو بیرونی مُداخلت اور عسکری جارحیت کا سنگین اور ہولناک سامنا کرنا پڑا تھا۔ سولہ دسمبر کو ڈھاکا پر، جارح ہندوستانی فوج کا قبضہ مکمل ہوا تھا، اور دِفاعِ پاکستان پر مامور افواج کو ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم، اِس سانحہ کو بُھلا بیٹھی ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر و نفسیات میں اور ہمارے شَعور و لا شعور میں، اِس عبرت ناک واقعہ کا، کوئی اَثر، کوئی عمل دخل ہی نہیں۔ بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں، اِس " بُھلاوے" کا بھی، بڑا عَیّارانہ، بےرحمانہ اور بھرپور اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ وائے ناکامی، مَتاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دِل سے، اِحساسِ زِیاں جاتا رہا !! نتیجتاً آج ہمارے نوجوان، اپنی مِلّی تاریخ کے اِس دردناک باب سے ناواقف، یا کم ہی آگاہ ہیں۔ لھٰذا ایک عاجزانہ رائے ہے کہ کم از کم ہم لوگ، اپنے خاندان کے بچّوں اور بچّیوں کو، سولہ دسمبر یا اُس کے آس پاس، کھانے پر جمع کریں۔ اُنھیں پاکستان حاصل کرنے، اور بعد میں اِس کی حفاظت نہ کرسکنے کی تاریخ کے کچھ اَبواب، کچھ حصّے، کچھ قِصّے سُنائیں، سمجھائیں، یاد کرائیں۔ تاکہ ہماری اگلی نسلوں کے اجتماعی شعور اور لا شعور میں، اِس درد ناک، چَشم کُشا اور سبق آموز واقعہ کی آگہی، شِدَّتِ احساس اور قُوّتِ عمل بخشنے والی خَلِش، زندہ بھی رہے اور کار فرما بھی ہو۔ اِمسال، سولہ دسمبر کو، جمعہ ہے۔ اُسی شب، یا اگلی شب (سترہ دسمبر کو) یہ نشست ہوسکتی ہے۔ اِس عاجز کی رائے ہے کہ ہمیں سارے کام، اھلِ اِختیار و اقتدار پر نہیں چھوڑنے چاہییں۔ نِجی سطح پر، خود بھی کچھ اچھی رِوایات کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔ اِسی سلسلہ میں، ہمیں چاہیے کہ سولہ دسمبر کے حوالہ سے، اپنے اپنے خاندانوں میں، نوجونوں کی نشستوں کا، (اپنے بچّوں اور نوجوانوں کے مشوروں سے)، اہتمام کریں۔ اِس سے مُعاشرہ میں، ایک اچھی رِوایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ خُدا کرے کہ اِمسال، ہماری حکومت، اِسٹابلِشمنٹ اور میڈیا، سُقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحہ کو بُھلانے، دَبانے، یا اس سے نظریں چُرانے کی غلطی نہ کرے۔ اللہ کریم، خیر و برکت و عافیت سے نوازیں۔ شکریہ! والسلام!! شاہد ہاشمی ۔ کراچی Whatsapp : +92 333 3987711 To get more from him on whatsapp do whatsapp him to add you to his Groupon
    0 Commentarii 0 Distribuiri 624 Views
  • اپنی فرینڈ لسٹ کے باشعور خواتین و حضرات کو ٹیگ کریں جو اپنا نظریہ رکھنے کے باوجود دوسرے کے نظریئے کا بھی احترام کرتے ہیں۔

    شکریہ
    اپنی فرینڈ لسٹ کے باشعور خواتین و حضرات کو ٹیگ کریں جو اپنا نظریہ رکھنے کے باوجود دوسرے کے نظریئے کا بھی احترام کرتے ہیں۔ شکریہ
    0 Commentarii 0 Distribuiri 512 Views
  • اسلام علیکم!
    وقتاً فوقتاً میں آپ کو تنگ کرتا رہوں گا...
    کیوں کہ آپ سے بات کرکے کوئی ایسی بات ذہن میں آجاتی ہے جس سے سوچنے اور کچھ کرنے کا راستہ مل جاتا ہے.
    آج سے کوئی 3 سال پہلے جب بات ہوئی تھی پہلی بات تو آپ نے زمین کے حوالے سے سوال کیا لیکن اس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا پھر آپ کسی سے بات کرتے ہوئے بات کی کہ ایک آدمی کے پاس 40 لاکھ کی زمین ہے پھر بھی وہ مزدوری کر رہا ہے یہاں سعودی میں میرے جیسے بہت ہیں جو تقریباً 50 ایکڑ سے اوپر کے زمین دار ہیں جو کہ 500 ڈالر یا 1500 ریال تنخواہ پر کام کر رہے ہیں وجہ کیا ہے....؟
    لاشعوری اور دوسری بات یہ اس زمیندار کو اتنی بھی بچت نہیں ہوتی کہ سکون کی زندگی جی سکے سب سب کچھ ان کی وجہ کام نہ کرنا اور ٹھیک معلومات کا فقدان..
    میں نے اسی دن اس پر کام کرنا شروع کیا معلومات لینا اور اس پر کام کرنا تین سال میں میں صرف خود کو اور گھر والوں کو اس بات پر مطمئن کر پایا ہوں کہ اسی زمین سے میں اس طریقے سعودی میں جتنا کما رہا ہوں 4 کنا کما سکتا ہوں
    اب الحمد اللہ اس پر باقاعدہ کام شروع کر چکا ہوں اور مجھے دیکھتے دیکھتے بہت سے دوست میرے ساتھ ہو گئے ہیں اب میرے پاس 20 سے زیادہ بکریاں ہوگئے ہیں اور اءک لاکھ تک پیسے پاکستان بھی بھیجے جا چکے ہیں مزید بکریاں لیے جا رہے ہیں اگر نارمل نسل کی بکریاں بھی ہوں تو 20 ہزار کی ایک ہے اس حساب سے ایک بکری سال میں تین بچے عام طور پر دیتی ہے مطلب کہ 60 ہزار ایک بکری سے ایک سال کا میں اس سے سارے اخراجات نکال کر 36ہزار کی امید کرتا ہوں مطلب کہ ایک ماہ میں 3 ہزار ایک بکری کا اور 20 بکریاں 60 ہزار ایک مہینے کا بچت یہاں جو لوگ مزراء میں سعودیوں کے بکریاں چراتے ہیں دو آدمی آرام سے 150 بکریوں کا دیکھ بھال کرتے ہیں مگر پاکستان میں اس وقت دو آدمی 20 بکریاں بھی ٹھیک سے نہیں سمبھال پا رہے....
    خیر اس کی وجہ مشینری کا نہ ہونا کامبکرنے والے کو معلومات نہ ہونا مگر اب اس پر بھی کافی حد تک کام کر چکا ہوں ان شاء اللہ امید ہے ایک سے دو سال میں میں مکمّل کرکے پاکستان جا چکا ہوں گا تب تک پڑھائی جاری رہے گی...
    اب جو مسائل مجھے پیش آ رہے ہیں ان میں ایک تو بہت سے دوست کہتے ہیں ہم نے بھی آپ کے ساتھ کام کرنا ہے ہمیں بھی پاٹنر بنا لو کیوں کہ ان کے ہاں بھی کام کرنے والے بہت ہیں کام کروانے والا کوئی نہی مطلب کام لینے والا کوئی نہی...
    مجھے یہ آپ سے سیکھنا کہ بڑے پیمانے پر کرنے کیلئے پاٹنر شب یا جو صرف پیسے دیں ان کو کس حساب سے بچت میں حصہ ملنا چاہیئے مجھے اس کیلئے کچھ آپ رہنمائی کریں یا کوئی کتاب ریکومنٹ کریں تاکہ میں یہ سیکھ سکوں دوسری بات یہ کہ موبائل-فون بھی تمام دوستوں کے پاس ہیں مگر پھر بھی ان کو استعمال اپنے فائدے کیلئے نہیں کر رہے سپیڈ بہت کمزور ہے اس کو کیسے بہتر کیا جائے؟
    اور باقی مشینری کیلئے ایک ساتھ پیسے اکٹھے نہیں ہو رہے اور قسطوں پر مل نہیں رہے اس کا متبادل کیا کیا جائے؟
    اس کام کو آن لائن لانے کیلئے فیس بک پیج بھی ہے اس کے علاوہ ویب سائٹ بنانا مناسب ہوگا یا ابھی جلدی کر رہا ہوں.....
    ایک تو یہ ہو گیا میرے جیسے حاجی صاحب کے کام دوسرے وہ جو ایک ماحول ہے ہم لوگ فنڈ اکٹھا کرکے کوئی بھی غریب ویزا لے کر دیتے ہیں یہ سلسلہ بند کر رہا ہوں خاص ان لوگوں سے جو سعودی نہیں آ سکتے مختلف مسائل کی وجہ سے انبکو گائیڈ کر رہے ہیں کہ یار کچھ کام کریں وہی پیسے آپ اپنے گھر بیٹھے کما سکتے ہیں
    تیسری بات خواتین....
    سر یہ کام بہت ضروری ہے یہی سارے مسائل کا جڑ ہے جب تک خواتین کی بہتری نہیں کریں گے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہم لوگ بلوچ ہیں نہ موبائل دے پا رہے ہیں نا سکول جانے کی اجازت دیتے ہیں نہ ملازمت کرنے کی اور نہ گھر میں کام کرنے کے بعد ان کا کچھ حق ہے
    میں چاہتا ہوں آپ سے اس موضوع پر بات کروں لیکن کسی فیس بک گروپ میں مطلب کہ یہ ویڈیو ریکارڈ بھی ہو لیکن سوشل میڈیا پر نہ جایے وہاں ان لوگوں تک صرف پہچ سکے جن تک ہم پہنچانا چاہتے ہوں تاکہ ان کو فائدہ پہنچ سکے خاص کر خواتین کے حوالے سے....
    باقی میں اپنے فیملی میں پہلے سے ہی بغاوت کروا چکا ہوں اپنی بیوی کو اور جو جو میرے فیملی کے ممبر ہیں ان کو موبائل-فون دے چکا ہوں فیک بک میری بیوی بھی چلا رہی ہیں لیکن میرے اپنے پروفائل سے تاکہ کچھ تربیت ہو جائے پھر ہی ان کو اپنا آئ ڈی بنا کر دوں گا
    واٹساپ پہ البتہ سب حاجیوں کے خواتین ہیں مطلب کہ ان تک آواز پہچ رہی ہے....
    یہ ہے میرا ہوم ورک
    آپ ان کو چیک کریں پھر جو جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں پھر آگے کا سبق میرے ذمے لگائیں....

    Via Ameer Khan
    اسلام علیکم! وقتاً فوقتاً میں آپ کو تنگ کرتا رہوں گا... کیوں کہ آپ سے بات کرکے کوئی ایسی بات ذہن میں آجاتی ہے جس سے سوچنے اور کچھ کرنے کا راستہ مل جاتا ہے. آج سے کوئی 3 سال پہلے جب بات ہوئی تھی پہلی بات تو آپ نے زمین کے حوالے سے سوال کیا لیکن اس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا پھر آپ کسی سے بات کرتے ہوئے بات کی کہ ایک آدمی کے پاس 40 لاکھ کی زمین ہے پھر بھی وہ مزدوری کر رہا ہے یہاں سعودی میں میرے جیسے بہت ہیں جو تقریباً 50 ایکڑ سے اوپر کے زمین دار ہیں جو کہ 500 ڈالر یا 1500 ریال تنخواہ پر کام کر رہے ہیں وجہ کیا ہے....؟ لاشعوری اور دوسری بات یہ اس زمیندار کو اتنی بھی بچت نہیں ہوتی کہ سکون کی زندگی جی سکے سب سب کچھ ان کی وجہ کام نہ کرنا اور ٹھیک معلومات کا فقدان.. میں نے اسی دن اس پر کام کرنا شروع کیا معلومات لینا اور اس پر کام کرنا تین سال میں میں صرف خود کو اور گھر والوں کو اس بات پر مطمئن کر پایا ہوں کہ اسی زمین سے میں اس طریقے سعودی میں جتنا کما رہا ہوں 4 کنا کما سکتا ہوں اب الحمد اللہ اس پر باقاعدہ کام شروع کر چکا ہوں اور مجھے دیکھتے دیکھتے بہت سے دوست میرے ساتھ ہو گئے ہیں اب میرے پاس 20 سے زیادہ بکریاں ہوگئے ہیں اور اءک لاکھ تک پیسے پاکستان بھی بھیجے جا چکے ہیں مزید بکریاں لیے جا رہے ہیں اگر نارمل نسل کی بکریاں بھی ہوں تو 20 ہزار کی ایک ہے اس حساب سے ایک بکری سال میں تین بچے عام طور پر دیتی ہے مطلب کہ 60 ہزار ایک بکری سے ایک سال کا میں اس سے سارے اخراجات نکال کر 36ہزار کی امید کرتا ہوں مطلب کہ ایک ماہ میں 3 ہزار ایک بکری کا اور 20 بکریاں 60 ہزار ایک مہینے کا بچت یہاں جو لوگ مزراء میں سعودیوں کے بکریاں چراتے ہیں دو آدمی آرام سے 150 بکریوں کا دیکھ بھال کرتے ہیں مگر پاکستان میں اس وقت دو آدمی 20 بکریاں بھی ٹھیک سے نہیں سمبھال پا رہے.... خیر اس کی وجہ مشینری کا نہ ہونا کامبکرنے والے کو معلومات نہ ہونا مگر اب اس پر بھی کافی حد تک کام کر چکا ہوں ان شاء اللہ امید ہے ایک سے دو سال میں میں مکمّل کرکے پاکستان جا چکا ہوں گا تب تک پڑھائی جاری رہے گی... اب جو مسائل مجھے پیش آ رہے ہیں ان میں ایک تو بہت سے دوست کہتے ہیں ہم نے بھی آپ کے ساتھ کام کرنا ہے ہمیں بھی پاٹنر بنا لو کیوں کہ ان کے ہاں بھی کام کرنے والے بہت ہیں کام کروانے والا کوئی نہی مطلب کام لینے والا کوئی نہی... مجھے یہ آپ سے سیکھنا کہ بڑے پیمانے پر کرنے کیلئے پاٹنر شب یا جو صرف پیسے دیں ان کو کس حساب سے بچت میں حصہ ملنا چاہیئے مجھے اس کیلئے کچھ آپ رہنمائی کریں یا کوئی کتاب 📙 ریکومنٹ کریں تاکہ میں یہ سیکھ سکوں دوسری بات یہ کہ موبائل-فون 📱 بھی تمام دوستوں کے پاس ہیں مگر پھر بھی ان کو استعمال اپنے فائدے کیلئے نہیں کر رہے سپیڈ بہت کمزور ہے اس کو کیسے بہتر کیا جائے؟ اور باقی مشینری کیلئے ایک ساتھ پیسے اکٹھے نہیں ہو رہے اور قسطوں پر مل نہیں رہے اس کا متبادل کیا کیا جائے؟ اس کام کو آن لائن لانے کیلئے فیس بک پیج بھی ہے اس کے علاوہ ویب سائٹ بنانا مناسب ہوگا یا ابھی جلدی کر رہا ہوں..... ایک تو یہ ہو گیا میرے جیسے حاجی صاحب کے کام دوسرے وہ جو ایک ماحول ہے ہم لوگ فنڈ اکٹھا کرکے کوئی بھی غریب ویزا لے کر دیتے ہیں یہ سلسلہ بند کر رہا ہوں خاص ان لوگوں سے جو سعودی نہیں آ سکتے مختلف مسائل کی وجہ سے انبکو گائیڈ کر رہے ہیں کہ یار کچھ کام کریں وہی پیسے آپ اپنے گھر بیٹھے کما سکتے ہیں تیسری بات خواتین.... سر یہ کام بہت ضروری ہے یہی سارے مسائل کا جڑ ہے جب تک خواتین کی بہتری نہیں کریں گے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہم لوگ بلوچ ہیں نہ موبائل دے پا رہے ہیں نا سکول جانے کی اجازت دیتے ہیں نہ ملازمت کرنے کی اور نہ گھر میں کام کرنے کے بعد ان کا کچھ حق ہے میں چاہتا ہوں آپ سے اس موضوع پر بات کروں لیکن کسی فیس بک گروپ میں مطلب کہ یہ ویڈیو ریکارڈ بھی ہو لیکن سوشل میڈیا پر نہ جایے وہاں ان لوگوں تک صرف پہچ سکے جن تک ہم پہنچانا چاہتے ہوں تاکہ ان کو فائدہ پہنچ سکے خاص کر خواتین کے حوالے سے.... باقی میں اپنے فیملی میں پہلے سے ہی بغاوت کروا چکا ہوں اپنی بیوی کو اور جو جو میرے فیملی کے ممبر ہیں ان کو موبائل-فون دے چکا ہوں فیک بک میری بیوی بھی چلا رہی ہیں لیکن میرے اپنے پروفائل سے تاکہ کچھ تربیت ہو جائے پھر ہی ان کو اپنا آئ ڈی بنا کر دوں گا واٹساپ پہ البتہ سب حاجیوں کے خواتین ہیں مطلب کہ ان تک آواز پہچ رہی ہے.... یہ ہے میرا ہوم ورک آپ ان کو چیک کریں پھر جو جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں پھر آگے کا سبق میرے ذمے لگائیں.... Via Ameer Khan
    0 Commentarii 0 Distribuiri 649 Views
  • How to make this better

    نام ہے ہمارا انسان
    کام ہے ہمارا انسانیت
    عورت ہو, مرد ہو, یا کوئی بھی انسان
    ہماری ذمہداری ہے آپ کی جان
    آپ سے ہیں ہم, آپ سے ہماری پہچان
    ہمارا عزم ہے آپ کی شان
    دو مقاصد ہیں ہمارے
    عزت کی روزی کو کرنا ہے عام
    اور روشن کرنا ہے پاکستان کا نام
    ٹیکنالوجی کو بنانا ہے اپنا ہتھیار
    آپ کے شعور سے کرنا ہے دنیا کو مال و مال
    آپ کی محنت کا پھل لانا ہے آپ کے پاس
    انسانیت کی خاطر بنانی ہے اپنی پہچان
    غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہم
    روشن ہوتا دیکھیں گے اپنا یہ چمن
    انسان ہو تم
    انسان ہیں ہم
    مل کر کریں گے
    اس ملک کا کام
    How to make this better نام ہے ہمارا انسان کام ہے ہمارا انسانیت عورت ہو, مرد ہو, یا کوئی بھی انسان ہماری ذمہداری ہے آپ کی جان آپ سے ہیں ہم, آپ سے ہماری پہچان ہمارا عزم ہے آپ کی شان دو مقاصد ہیں ہمارے عزت کی روزی کو کرنا ہے عام اور روشن کرنا ہے پاکستان کا نام ٹیکنالوجی کو بنانا ہے اپنا ہتھیار آپ کے شعور سے کرنا ہے دنیا کو مال و مال آپ کی محنت کا پھل لانا ہے آپ کے پاس انسانیت کی خاطر بنانی ہے اپنی پہچان غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہم روشن ہوتا دیکھیں گے اپنا یہ چمن انسان ہو تم انسان ہیں ہم مل کر کریں گے اس ملک کا کام
    0 Commentarii 0 Distribuiri 674 Views
  • غربت کی دلدل سے نکلیں گے
    ہنر سیکھیں گے سکھائیں گے
    اس موبائل فون کو اب ہم
    اپنی طاقت بنائیں گے
    بدلیں گے بس خود کو اب
    کسی اور اوڑھ نہ دیکھیں گے
    ۔
    ۔
    روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان
    ہم ہیں انسان
    ہماری انسانیت پہچان
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔

    ہمارا نظریہ ٹیکنالوجی
    ہمارا ہتھیار ٹیکنالوجی
    شعور کا سکہ چلے گا
    ہماری پہچان بنے گی ٹیکنالوجی
    اپنے ملک کو سب مل کر ڈیجیٹلئ آگے بڑھائیں گے
    جی۔10 کی لسٹ میں ہمیں شامل کرے گی ٹیکنالوجی

    روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان
    ہم ہیں انسان
    ہماری انسانیت پہچان
    غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہنر سیکھیں گے سکھائیں گے اس موبائل فون کو اب ہم اپنی طاقت بنائیں گے بدلیں گے بس خود کو اب کسی اور اوڑھ نہ دیکھیں گے ۔ ۔ روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان ہم ہیں انسان ہماری انسانیت پہچان ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا نظریہ ٹیکنالوجی ہمارا ہتھیار ٹیکنالوجی شعور کا سکہ چلے گا ہماری پہچان بنے گی ٹیکنالوجی اپنے ملک کو سب مل کر ڈیجیٹلئ آگے بڑھائیں گے جی۔10 کی لسٹ میں ہمیں شامل کرے گی ٹیکنالوجی روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان ہم ہیں انسان ہماری انسانیت پہچان
    0 Commentarii 0 Distribuiri 574 Views
  • اللہ کرے پاکستان اور پاکستان کی عوام بہترین وقت دیکھے، خوب ترقی اور خوشحالی آئے، آنے والا ہر دن گزرے دنوں سے بہت بہتر اور خوبصورت ہو۔ لوگ باشعور ہو کر رہیں۔ ہماری نسلیں اصل معنی میں آزاد اور خوددار ہوں اور ہم سے بھی بہتر دن دیکھیں۔ آمین
    اللہ کرے پاکستان اور پاکستان کی عوام بہترین وقت دیکھے، خوب ترقی اور خوشحالی آئے، آنے والا ہر دن گزرے دنوں سے بہت بہتر اور خوبصورت ہو۔ لوگ باشعور ہو کر رہیں۔ ہماری نسلیں اصل معنی میں آزاد اور خوددار ہوں اور ہم سے بھی بہتر دن دیکھیں۔ آمین
    0 Commentarii 0 Distribuiri 245 Views
  • “حسد اور دکھاوابازی شعور کے نچلے ترین درجہ کی پیداوار ہے”
    ریحان اللہ والا
    “Jealousy and show off comes from a very low level of conciousness.”
    “حسد اور دکھاوابازی شعور کے نچلے ترین درجہ کی پیداوار ہے” ریحان اللہ والا “Jealousy and show off comes from a very low level of conciousness.”
    0 Commentarii 0 Distribuiri 453 Views
  • ‎ائے ہمیں پالنے والے، ہم پر خاص کرم کیجئے ، اور ہم پر رحمت کیجئے، اور ہم لوگوں کو شعور اور علم دیجیے،ہمارے زیہنونکو کہول دیجیے تاکہ، ہم آپ کے دیے ہوے

    ‎ اوزاروں کی مدد سے اپنی دنیا اور آخرت کو آسانی سے حاصل کر لیں - امین ۔
    ‎ائے ہمیں پالنے والے، ہم پر خاص کرم کیجئے ، اور ہم پر رحمت کیجئے، اور ہم لوگوں کو شعور اور علم دیجیے،ہمارے زیہنونکو کہول دیجیے تاکہ، ہم آپ کے دیے ہوے ‎ اوزاروں کی مدد سے اپنی دنیا اور آخرت کو آسانی سے حاصل کر لیں - امین ۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 153 Views
Sponsorizeaza Paginile