• سنت کو زندہ کریں اس گرمیوں میں قیلوہ کے ساتھ!

    جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے، یہ پاکستان میں ہمارے لیے بہترین وقت ہے کہ ہم قیلوہ (دوپہر کا قیلہ) کی فائدہ مند روایت کو اپنائیں۔ آئیں ہم اپنا دن فجر کی نماز کے بعد صبح 6 بجے سے شروع کریں اور دوپہر 12 بجے تک محنت کریں۔ پھر، ہم ایک تازہ دم قیلوہ لے کر دن کے سب سے گرم حصے میں آرام کریں۔ عصر کی نماز کے بعد ہم اپنے کام کو نئی توانائی کے ساتھ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور عشاء تک کام کر سکتے ہیں۔

    قیلوہ کو اپنی روزمرہ کی روٹین میں شامل کر کے، ہم گرمی کو شکست دے سکتے ہیں، مستعد رہ سکتے ہیں، اور اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سنت کو زندہ کرنے کا ثواب بھی ملے گا، جس سے ہمیں جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ روحانی انعامات بھی حاصل ہوں گے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیلوہ کیا کرو، بے شک شیاطین قیلوہ نہیں کرتے۔" (ابن ماجہ)

    آئیں اس وقت کی عزت دار روایت کو اپنا کر اپنی گرمیوں کے دنوں کا بہترین استعمال کریں!

    #قیلوہ #سنت_کو_زندہ_کریں #گرمیوں_کی_روٹین #مستعد_رہیں #گرمی_کو_شکست_دیں #صحت_مند_زندگی #پاکستان
    🌞 سنت کو زندہ کریں اس گرمیوں میں قیلوہ کے ساتھ! 🌞 جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے، یہ پاکستان میں ہمارے لیے بہترین وقت ہے کہ ہم قیلوہ (دوپہر کا قیلہ) کی فائدہ مند روایت کو اپنائیں۔ آئیں ہم اپنا دن فجر کی نماز کے بعد صبح 6 بجے سے شروع کریں اور دوپہر 12 بجے تک محنت کریں۔ پھر، ہم ایک تازہ دم قیلوہ لے کر دن کے سب سے گرم حصے میں آرام کریں۔ عصر کی نماز کے بعد ہم اپنے کام کو نئی توانائی کے ساتھ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور عشاء تک کام کر سکتے ہیں۔ قیلوہ کو اپنی روزمرہ کی روٹین میں شامل کر کے، ہم گرمی کو شکست دے سکتے ہیں، مستعد رہ سکتے ہیں، اور اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سنت کو زندہ کرنے کا ثواب بھی ملے گا، جس سے ہمیں جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ روحانی انعامات بھی حاصل ہوں گے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیلوہ کیا کرو، بے شک شیاطین قیلوہ نہیں کرتے۔" (ابن ماجہ) آئیں اس وقت کی عزت دار روایت کو اپنا کر اپنی گرمیوں کے دنوں کا بہترین استعمال کریں! #قیلوہ #سنت_کو_زندہ_کریں #گرمیوں_کی_روٹین #مستعد_رہیں #گرمی_کو_شکست_دیں #صحت_مند_زندگی #پاکستان
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 709 Views
  • اسلام میں پانی پینے کے بارے میں دی گئی ہدایات اور ان کے سائنسی فوائد درج ذیل ہیں:

    ### 1. **پانی گھونٹ گھونٹ کر پینا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پانی ایک ہی سانس میں نہ پیو بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔
    > "اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیو، بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔" (سنن ابن ماجہ)

    - **سائنسی وجہ**: پانی کو آہستہ آہستہ پینے سے جسم پانی کو بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔ اگر آپ ایک ساتھ زیادہ پانی پیتے ہیں تو یہ گردوں کو مغلوب کر دیتا ہے اور پانی جلدی جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ چھوٹے گھونٹ لینے سے جسم کو مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ ہونے کا وقت ملتا ہے۔

    ### 2. **بیٹھ کر پانی پینا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر پانی پینے کی تلقین فرمائی ہے۔
    > "تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پیے؛ اگر کوئی بھول جائے تو اسے الٹی کرنی چاہیے۔" (صحیح مسلم)

    - **سائنسی وجہ**: بیٹھ کر پانی پینے سے جسم کو زیادہ آرام ملتا ہے اور پانی کو صحیح طریقے سے جذب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے پانی تیزی سے گزر جاتا ہے اور ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ بیٹھ کر پینے سے پانی کے ہضم ہونے اور گردوں کے بہتر کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    ### 3. **پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" کہنا اور بعد میں "الحمدللہ" کہنا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" اور پینے کے بعد "الحمدللہ" کہنے کی تاکید فرمائی۔

    - **سائنسی وجہ**: "بسم اللہ" کہنا ذہنی شعور کو بیدار کرتا ہے اور پانی پیتے وقت غور و فکر کا باعث بنتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پانی پیتا ہے۔ یہ آہستہ پینے کا عمل ہاضمے اور ہائیڈریشن میں بہتری لاتا ہے۔ شکر گزاری ("الحمدللہ") کا اظہار ذہنی سکون اور صحت مند عادات کو فروغ دیتا ہے۔

    ### 4. **پانی پینے میں اعتدال**
    - **اسلامی تعلیم**: اسلام ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، چاہے وہ کھانا پینا ہو یا کوئی اور عمل:
    > "کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (قرآن 7:31)

    - **سائنسی وجہ**: زیادہ پانی پینا (Overhydration) ایک حالت کو جنم دے سکتا ہے جسے **hyponatremia** کہا جاتا ہے، جس میں خون میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ یہ حالت متلی، سر درد، الجھن، اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اعتدال سے پانی پینا جسم کے پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

    ### 5. **پانی کو ضائع نہ کرنا**
    - **اسلامی تعلیم**: قرآن کریم ہمیں پانی سمیت کسی بھی نعمت کو ضائع نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
    > "بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان ہمیشہ اپنے رب کا ناشکرا ہے۔" (قرآن 17:27)

    - **سائنسی وجہ**: پانی ایک قیمتی اور محدود وسیلہ ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ جدید ماحولیاتی سائنس خبردار کرتی ہے کہ پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پانی کو ضائع نہ کرنا نہ صرف ایک مذہبی اصول ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری کے لیے بھی ضروری ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔

    ### 6. **صبح اُٹھ کر پانی پینا**
    - **اسلامی عمل**: اگرچہ اس بارے میں کوئی مخصوص حدیث موجود نہیں، لیکن بہت سے اسلامی علماء صبح کے وقت پانی پینے کو صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔

    - **سائنسی وجہ**: کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ صبح کے وقت پانی پینا جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرتا ہے، میٹابولزم کو فعال کرتا ہے اور رات بھر میں جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    ### 7. **پانی کو رحمت اور زندگی کا ذریعہ سمجھنا**
    - **اسلامی تعلیم**: قرآن میں پانی کو بار بار ایک نعمت اور زندگی کا ذریعہ کہا گیا ہے:
    > "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟" (قرآن 21:30)

    - **سائنسی وجہ**: جدید سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً 60% پانی پر مشتمل ہے اور پانی مختلف جسمانی افعال کے لیے اہم ہے، جیسے کہ ہاضمہ، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا، اور غذائی اجزاء کی منتقلی۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔

    ### خلاصہ:
    اسلامی تعلیمات میں پانی پینے کے آداب سائنسی حقائق کے مطابق ہیں۔ چاہے وہ اعتدال میں پینا ہو، بیٹھ کر پینا ہو، یا پانی کے ضیاع سے بچنا ہو، یہ تمام ہدایات صحت مند زندگی اور ماحول کے تحفظ کے لیے مفید ہیں۔
    اسلام میں پانی پینے کے بارے میں دی گئی ہدایات اور ان کے سائنسی فوائد درج ذیل ہیں: ### 1. **پانی گھونٹ گھونٹ کر پینا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پانی ایک ہی سانس میں نہ پیو بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔ > "اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیو، بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔" (سنن ابن ماجہ) - **سائنسی وجہ**: پانی کو آہستہ آہستہ پینے سے جسم پانی کو بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔ اگر آپ ایک ساتھ زیادہ پانی پیتے ہیں تو یہ گردوں کو مغلوب کر دیتا ہے اور پانی جلدی جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ چھوٹے گھونٹ لینے سے جسم کو مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ ہونے کا وقت ملتا ہے۔ ### 2. **بیٹھ کر پانی پینا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر پانی پینے کی تلقین فرمائی ہے۔ > "تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پیے؛ اگر کوئی بھول جائے تو اسے الٹی کرنی چاہیے۔" (صحیح مسلم) - **سائنسی وجہ**: بیٹھ کر پانی پینے سے جسم کو زیادہ آرام ملتا ہے اور پانی کو صحیح طریقے سے جذب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے پانی تیزی سے گزر جاتا ہے اور ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ بیٹھ کر پینے سے پانی کے ہضم ہونے اور گردوں کے بہتر کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ### 3. **پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" کہنا اور بعد میں "الحمدللہ" کہنا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" اور پینے کے بعد "الحمدللہ" کہنے کی تاکید فرمائی۔ - **سائنسی وجہ**: "بسم اللہ" کہنا ذہنی شعور کو بیدار کرتا ہے اور پانی پیتے وقت غور و فکر کا باعث بنتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پانی پیتا ہے۔ یہ آہستہ پینے کا عمل ہاضمے اور ہائیڈریشن میں بہتری لاتا ہے۔ شکر گزاری ("الحمدللہ") کا اظہار ذہنی سکون اور صحت مند عادات کو فروغ دیتا ہے۔ ### 4. **پانی پینے میں اعتدال** - **اسلامی تعلیم**: اسلام ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، چاہے وہ کھانا پینا ہو یا کوئی اور عمل: > "کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (قرآن 7:31) - **سائنسی وجہ**: زیادہ پانی پینا (Overhydration) ایک حالت کو جنم دے سکتا ہے جسے **hyponatremia** کہا جاتا ہے، جس میں خون میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ یہ حالت متلی، سر درد، الجھن، اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اعتدال سے پانی پینا جسم کے پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ ### 5. **پانی کو ضائع نہ کرنا** - **اسلامی تعلیم**: قرآن کریم ہمیں پانی سمیت کسی بھی نعمت کو ضائع نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ > "بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان ہمیشہ اپنے رب کا ناشکرا ہے۔" (قرآن 17:27) - **سائنسی وجہ**: پانی ایک قیمتی اور محدود وسیلہ ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ جدید ماحولیاتی سائنس خبردار کرتی ہے کہ پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پانی کو ضائع نہ کرنا نہ صرف ایک مذہبی اصول ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری کے لیے بھی ضروری ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔ ### 6. **صبح اُٹھ کر پانی پینا** - **اسلامی عمل**: اگرچہ اس بارے میں کوئی مخصوص حدیث موجود نہیں، لیکن بہت سے اسلامی علماء صبح کے وقت پانی پینے کو صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔ - **سائنسی وجہ**: کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ صبح کے وقت پانی پینا جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرتا ہے، میٹابولزم کو فعال کرتا ہے اور رات بھر میں جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ### 7. **پانی کو رحمت اور زندگی کا ذریعہ سمجھنا** - **اسلامی تعلیم**: قرآن میں پانی کو بار بار ایک نعمت اور زندگی کا ذریعہ کہا گیا ہے: > "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟" (قرآن 21:30) - **سائنسی وجہ**: جدید سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً 60% پانی پر مشتمل ہے اور پانی مختلف جسمانی افعال کے لیے اہم ہے، جیسے کہ ہاضمہ، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا، اور غذائی اجزاء کی منتقلی۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ ### خلاصہ: اسلامی تعلیمات میں پانی پینے کے آداب سائنسی حقائق کے مطابق ہیں۔ چاہے وہ اعتدال میں پینا ہو، بیٹھ کر پینا ہو، یا پانی کے ضیاع سے بچنا ہو، یہ تمام ہدایات صحت مند زندگی اور ماحول کے تحفظ کے لیے مفید ہیں۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 266 Views
  • , اسلام و علیکم
    پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ
    سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔
    جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔
    اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔
    لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں
    سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں
    ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔
    اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟
    اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔

    اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے
    موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔
    خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو
    الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں
    اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین
    جزاک اللہ خیرا کثیرا
    بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ
    عرفان انجم ڈاکٹر
    Irfan Anjum

    +92 321 66 22 811

    Join the group Organ Donation Pakistan
    , اسلام و علیکم پچھلے دنوں سیالکوٹ واقعے کے بعد علم ھوا کہ سری لنکا نے تقریبا 83000 ھزار آنکھیں عطیہ کیں۔ جس کا 40 ٪ پاکستان کو دیا گیا۔ اس کو ایک مثبت خبر کے طور پر لیا گیا بظاھر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا گیا ۔جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کچھ حقائق میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں سری لنکا کی کی آبادی تقریبا 22 ملین یعنی دو کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے 90 ٪ نان مسلم ہیں ڈیت کے بعد عام طور پر ڈیڈ باڈی کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کے اندر سے ضروری اعضاء باہر نکال لئے جاتے ہیں اور اس کے بعد اپنے رسم و رواج کے مطابق کچھ دنوں کے بعد اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان جس کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے اور یہاں اگر سری لنکا سے 35000 آنکھوں کا عطیہ مل چکا ہے تو کیا پاکستان میں آنکھوں کا عطیہ کے طور پر جو استعمال ہے یہاں سے پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس کی اہمیت کے پیش نظر بحیثیت مسلمان ھمیں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہم اس چیز پر توجہ دیں۔ اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے موت بر حق ھے اور اگر مرنے والا اپنے اعضاء عطیہ کے طور پر دے دے تو کتنے لوگوں کو صحت مند زندگی مل سکتی ھے ۔ خاص طور پر مزہبی طبقے اس کو ایک مثبت سوچ کے ساتھ لے کے آگے بڑھیں تو کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کتنے ایسے ہوں گے جن کے لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی جسم کے اعضاء ان کے استعمال میں آئیں گے اور مرنے والوں اور اس کے لواحقین کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا میں اس حوالے سے ریکویسٹ کروں گا کہ سوشل میڈیا کی جو شخصیات ہیں اس معاملے کو اٹھایئے اور اس سے ریلیٹڈ جتنے قانونی، معاشرتی، مذہبی پہلو ھیں اس کو دیکھتے ہوئے اس پر گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے اور تجویز کے طور پر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زندگی میں ہی عطیہ کرنے کے لئے اس عمل کا آغاز کرے تو اس کو مثبت اپروچ سے آئی ڈی کارڈ پر مینشن کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو معاشرے میں VIP سمجھا جائے تاکہ اس طرف رجحان پیدا ہو تو یہ بہت اچھا عمل ہوگا میری ریکویسٹ ہے کہ تمام لوگ اس تجویز کو دیکھتے ہوئے اس پر رائے دیں اور اس کو آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں تاکہ اس سے ملک و قوم انسانیت کا بھلا ہو الحمدللہ میں ریگولر بلڈ ڈونر ھوں اور انشاء اللہ اپنی موت پر اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرنے جا رہا ہوں اللہ تعالیٰ ھمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین جزاک اللہ خیرا کثیرا بہت معذرت کے ساتھ میرا سوشل میڈیا علم نہ ہونے کے باوجود آداب کے ساتھ عرفان انجم ڈاکٹر Irfan Anjum +92 321 66 22 811 Join the group Organ Donation Pakistan
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 221 Views
  • پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوید سید دنیا کے وہ پہلے سائنسدان ہیں، جو دماغ کے خلیات کو ایک سلیکون چپ کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    ڈاکٹر نوید سید کی اِس کامیابی پر اُنہیں دنیا بھر کے سائنسدانوں نے داد و تحسین سے نوازا ہے

    یہ ایجاد انسانی دماغ کو کمپیوٹر کے ساتھ ضم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دنیا بھر کے سائنسدان ایک عرصہ دراز سے ایسے افراد کو صحت مند زندگی کی جانب لانے کیلئے برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں یا اُنہیں دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے۔

    برین سلیکون چپ جیسی ایجاد سے مستقبل میں اِس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ نہ صرف ذہنی طور پر مفلوج افراد عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں گے بلکہ عام لوگوں کی ذہنی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔

    امریکا میں بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی فوجیوں کو کم وقت میں بہتر فیصلہ لینے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

    چین بھی بالکل ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چپ کو انسانی دماغ میں نصب کیا جائے گا اور انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا، مذکورہ ممالک کی برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر جاری تحقیقات سے ڈاکٹر نوید سید کی ایجاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر نوید سید کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نظر کو بغیر سرجری کے بہتر بنانے اور کھوئی ہوئی یاداشت کو واپس لانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔

    (دانش احمد)

    The great Naweed Syed
    پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوید سید دنیا کے وہ پہلے سائنسدان ہیں، جو دماغ کے خلیات کو ایک سلیکون چپ کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر نوید سید کی اِس کامیابی پر اُنہیں دنیا بھر کے سائنسدانوں نے داد و تحسین سے نوازا ہے یہ ایجاد انسانی دماغ کو کمپیوٹر کے ساتھ ضم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دنیا بھر کے سائنسدان ایک عرصہ دراز سے ایسے افراد کو صحت مند زندگی کی جانب لانے کیلئے برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں یا اُنہیں دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ برین سلیکون چپ جیسی ایجاد سے مستقبل میں اِس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ نہ صرف ذہنی طور پر مفلوج افراد عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں گے بلکہ عام لوگوں کی ذہنی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ امریکا میں بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی فوجیوں کو کم وقت میں بہتر فیصلہ لینے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ چین بھی بالکل ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چپ کو انسانی دماغ میں نصب کیا جائے گا اور انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا، مذکورہ ممالک کی برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر جاری تحقیقات سے ڈاکٹر نوید سید کی ایجاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نوید سید کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نظر کو بغیر سرجری کے بہتر بنانے اور کھوئی ہوئی یاداشت کو واپس لانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔ (دانش احمد) The great Naweed Syed
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 103 Views