• RSIF8
    Roll no:112
    TED x Talk Post no:3
    TED x Talk Post Topic: TEDx Talk Review: Never Give Up on Your Dreams – Imran Khan

    میں نے حال ہی میں عمران خان کی TEDx Talk **“Never Give Up on Your Dreams”** دیکھی۔ یہ Talk میرے لیے بہت متاثر کن، حوصلہ افزا اور سوچنے پر مجبور کرنے والی تھی۔
    اس Talk کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے خوابوں اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے **کبھی آسانی سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔** زندگی میں کامیابی کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ راستے میں مشکلات، ناکامیاں، تنقید اور مختلف چیلنجز آ سکتے ہیں، لیکن ہمیں ان حالات سے سیکھ کر آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
    عمران خان نے اپنی زندگی اور کرکٹ کے تجربات سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے **محنت، مستقل مزاجی، صبر، اعتماد اور مضبوط ارادے** کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اس Talk سے مجھے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ **ناکامی ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی۔** کبھی کبھی ناکامی ہمیں اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور خود کو بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔ اگر ہم ہر مشکل کے بعد دوبارہ کوشش کریں تو ہم اپنے مقصد کے مزید قریب جا سکتے ہیں۔
    مجھے اس Talk کا یہ پیغام خاص طور پر پسند آیا کہ ہمیں دوسرے لوگوں کی رائے یا شک کی وجہ سے اپنے خوابوں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اگر ہمارا مقصد اچھا ہے تو ہمیں اس کے لیے محنت کرتے رہنا چاہیے اور اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے۔
    ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے اس Talk کا سبق بہت اہم ہے۔ پڑھائی، مہارتیں سیکھنے اور مستقبل کے مقاصد حاصل کرنے کے سفر میں بھی مشکلات آ سکتی ہیں۔ لیکن ہمیں مشکلات سے ڈرنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا چاہیے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور مسلسل آگے بڑھنا چاہیے۔
    میرا سب سے بڑا takeaway یہ ہے:
    **خواب بڑے رکھیں۔**
    **محنت کرتے رہیں۔**
    **ناکامی سے سیکھیں۔**
    **اپنے مقصد پر توجہ رکھیں۔**
    **اور کبھی آسانی سے ہمت نہ ہاریں۔**
    مجموعی طور پر، مجھے یہ TEDx Talk بہت motivating اور meaningful لگی۔ اس نے مجھے یاد دلایا کہ کامیابی صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ پورے سفر میں سیکھنے، کوشش کرنے اور مضبوط رہنے کا نام بھی ہے۔
    میں اس Talk سے یہ مثبت پیغام لے کر جا رہی ہوں کہ **اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، مشکلات سے سیکھیں اور اپنے مقصد کی طرف مسلسل قدم بڑھاتے رہیں۔**
    **Never Give Up on Your Dreams!**
    خواب دیکھیں،
    محنت کریں،
    سیکھتے رہیں،
    اور آگے بڑھتے رہیں!
    #TEDx #TEDxTalk #NeverGiveUp #NeverGiveUpOnYourDreams #ImranKhan #DreamBig #Dreams #Motivation #Inspiration #Success #HardWork #Determination #Perseverance #BelieveInYourself #KeepGoing #PositiveThinking #LifeLessons #StudentLife #Learning #PersonalGrowth #SelfImprovement #Goals #AchieveYourDreams #StayMotivated
    RSIF8 Roll no:112 TED x Talk Post no:3 TED x Talk Post Topic: TEDx Talk Review: Never Give Up on Your Dreams – Imran Khan میں نے حال ہی میں عمران خان کی TEDx Talk **“Never Give Up on Your Dreams”** دیکھی۔ یہ Talk میرے لیے بہت متاثر کن، حوصلہ افزا اور سوچنے پر مجبور کرنے والی تھی۔ 💭✨ اس Talk کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے خوابوں اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے **کبھی آسانی سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔** 🎯💪 زندگی میں کامیابی کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ راستے میں مشکلات، ناکامیاں، تنقید اور مختلف چیلنجز آ سکتے ہیں، لیکن ہمیں ان حالات سے سیکھ کر آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ 🌱🚀 عمران خان نے اپنی زندگی اور کرکٹ کے تجربات سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے **محنت، مستقل مزاجی، صبر، اعتماد اور مضبوط ارادے** کی ضرورت ہوتی ہے۔ 🏏💯🔥 اس Talk سے مجھے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ **ناکامی ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی۔** کبھی کبھی ناکامی ہمیں اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور خود کو بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔ اگر ہم ہر مشکل کے بعد دوبارہ کوشش کریں تو ہم اپنے مقصد کے مزید قریب جا سکتے ہیں۔ 📚🌟 مجھے اس Talk کا یہ پیغام خاص طور پر پسند آیا کہ ہمیں دوسرے لوگوں کی رائے یا شک کی وجہ سے اپنے خوابوں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اگر ہمارا مقصد اچھا ہے تو ہمیں اس کے لیے محنت کرتے رہنا چاہیے اور اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے۔ ❤️💪 ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے اس Talk کا سبق بہت اہم ہے۔ پڑھائی، مہارتیں سیکھنے اور مستقبل کے مقاصد حاصل کرنے کے سفر میں بھی مشکلات آ سکتی ہیں۔ لیکن ہمیں مشکلات سے ڈرنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا چاہیے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور مسلسل آگے بڑھنا چاہیے۔ 🎓📖🚀 میرا سب سے بڑا takeaway یہ ہے: 🌟 **خواب بڑے رکھیں۔** 💪 **محنت کرتے رہیں۔** 📚 **ناکامی سے سیکھیں۔** 🎯 **اپنے مقصد پر توجہ رکھیں۔** 🚀 **اور کبھی آسانی سے ہمت نہ ہاریں۔** مجموعی طور پر، مجھے یہ TEDx Talk بہت motivating اور meaningful لگی۔ اس نے مجھے یاد دلایا کہ کامیابی صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ پورے سفر میں سیکھنے، کوشش کرنے اور مضبوط رہنے کا نام بھی ہے۔ 🌈✨ میں اس Talk سے یہ مثبت پیغام لے کر جا رہی ہوں کہ **اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، مشکلات سے سیکھیں اور اپنے مقصد کی طرف مسلسل قدم بڑھاتے رہیں۔** 🌟💯 🎤✨ **Never Give Up on Your Dreams!** 💭 خواب دیکھیں، 💪 محنت کریں، 🌱 سیکھتے رہیں، 🚀 اور آگے بڑھتے رہیں! #TEDx #TEDxTalk #NeverGiveUp #NeverGiveUpOnYourDreams #ImranKhan #DreamBig #Dreams #Motivation #Inspiration #Success #HardWork #Determination #Perseverance #BelieveInYourself #KeepGoing #PositiveThinking #LifeLessons #StudentLife #Learning #PersonalGrowth #SelfImprovement #Goals #AchieveYourDreams #StayMotivated 🎤🌟💭💪🎯🚀🔥🏏📚🎓🌱🌈🏆✨❤️😊💯
    0 Commentarios 0 Acciones 699 Views 6
  • RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:04(urdu)
    TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu).
    "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان

    خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔

    #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:04(urdu) TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu). 🌟 "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان 💙🎤 خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ 💪✨ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ 🌱🚀 مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔ 🌟📚 #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن 💙✨
    0 Commentarios 0 Acciones 518 Views 5
  • ہر سال حج پر تقریباً 70 لاکھ مسلمان خانہ کعبہ میں کھڑے ہو اسلام کی سر بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں مگر دعا قبول نہیں ہوتی جب بھی شام ، رومانیہ ، افغانستان ، اے پی ایس سکول جہاں کہیں بھی غیر مسلم مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہیں ہم آن لائن تقریباً اربوں مسلمان بد دعائیں دیتے ہیں مگر نہ تو ہماری دعائیں قبول ہوتیں ہیں نہ بد دعائیں قبول ہوتیں ہیں اس کی کیا وجہ ہے کبھی سوچا ہم نے ، ہمارے پاس کتنے نیک لوگ ہیں جو دن رات اللہ اللہ کرتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو دوسروں کی اولاد بند کر سکتے ہیں روزی روٹی بند کر سکتے ہیں ، یعنی جادو گر ، کچھ بے چارے سمجھتے ہیں میری روزی روٹی اولاد پر جادو کیا ہوا ہے ، پھر بھی ہمارے حالات کیوں نہیں بدلتے اس کی کیا وجہ ہے ، کچھ تو کمی ہے ہم میں جو ہماری دعا اور بد دعا میں اثر نہیں رہا ، افغانستان میں جو کچھ ہوا ہم بھول جائیں گے ، شام ایران عراق ، کربلا کی طرح ہم سب کو بھول جائیں گے ، گورا ریسرچ کرتا ہے ایسا کیوں ہوا ہم کہتے ہیں تقدیر میں ہی یہ لکھا تھا ، اگر ہم کسی کے بچے جو موٹرسائیکل گاڑی تلے روند کر چلے جاتے ہیں تو ہاتھ بندھ کر اس کو تقدیر پر ایمان لانے کو مجبور کر دیتے ہیں اور وہ معاف کر دیتا ہے ، آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تقدیر میں یہ لکھا ہے یا ہم خود ذمہ دار ہیں ، بھائی ہم مر اس لیے رہے ہیں کی ہم جینا چاہتے ہیں وہ بھی اپنی چاہت کے ساتھ مگر خدا فرماتا ہے تھکا دو گا تم کو تری چاہت میں ، کیا ہم تھک نہیں چکے ، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ، دوسری اقوام مسئلہ کا حل نکالتیں ہیں ہم احتجاج کرتے ہیں ، ایک دفعہ ایک جماعت نے امریکا کے سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا اور ایک صحافی امریکی سفیر کے پاس گیا کہ اب کیا ہو گا اس نے جواب دیا اگر میں باہر نکل کر علان کر دو کہ جو چپ چاپ گھر چلا جائے اس کو امریکا کی نیشنلٹی دو گا اور ان کو یقین ہو کہ ملے گی یہ سب چلے جائیں گے ، ، ہمارے دل کی کیفت تمام اقوام عالم جان چکی ہے اگر ہمارے وزیراعظم کے کپڑے اتر کر بے عزت کیا جارہا ہے تو ان کو پتہ ہے جس ملک کا وزیراعظم ہے وہ خود اس کو جوتے مارتے ہیں ہم تو اپنے ملک کا قانون فالو کر رہے ہیں عمران خان پر ہم کیا کیا باتیں کرتے ہیں لوگ تو بانی پاکستان پر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ، ڈاکٹر قدیر خان کس کس کا نام لو ، کیا یہ سب تقدیر کا لکھا ہے ،

    By Sarwar Adil
    ہر سال حج پر تقریباً 70 لاکھ مسلمان خانہ کعبہ میں کھڑے ہو اسلام کی سر بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں مگر دعا قبول نہیں ہوتی جب بھی شام ، رومانیہ ، افغانستان ، اے پی ایس سکول جہاں کہیں بھی غیر مسلم مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہیں ہم آن لائن تقریباً اربوں مسلمان بد دعائیں دیتے ہیں مگر نہ تو ہماری دعائیں قبول ہوتیں ہیں نہ بد دعائیں قبول ہوتیں ہیں اس کی کیا وجہ ہے کبھی سوچا ہم نے ، ہمارے پاس کتنے نیک لوگ ہیں جو دن رات اللہ اللہ کرتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو دوسروں کی اولاد بند کر سکتے ہیں روزی روٹی بند کر سکتے ہیں ، یعنی جادو گر ، کچھ بے چارے سمجھتے ہیں میری روزی روٹی اولاد پر جادو کیا ہوا ہے ، پھر بھی ہمارے حالات کیوں نہیں بدلتے اس کی کیا وجہ ہے ، کچھ تو کمی ہے ہم میں جو ہماری دعا اور بد دعا میں اثر نہیں رہا ، افغانستان میں جو کچھ ہوا ہم بھول جائیں گے ، شام ایران عراق ، کربلا کی طرح ہم سب کو بھول جائیں گے ، گورا ریسرچ کرتا ہے ایسا کیوں ہوا ہم کہتے ہیں تقدیر میں ہی یہ لکھا تھا ، اگر ہم کسی کے بچے جو موٹرسائیکل گاڑی تلے روند کر چلے جاتے ہیں تو ہاتھ بندھ کر اس کو تقدیر پر ایمان لانے کو مجبور کر دیتے ہیں اور وہ معاف کر دیتا ہے ، آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تقدیر میں یہ لکھا ہے یا ہم خود ذمہ دار ہیں ، بھائی ہم مر اس لیے رہے ہیں کی ہم جینا چاہتے ہیں وہ بھی اپنی چاہت کے ساتھ مگر خدا فرماتا ہے تھکا دو گا تم کو تری چاہت میں ، کیا ہم تھک نہیں چکے ، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ، دوسری اقوام مسئلہ کا حل نکالتیں ہیں ہم احتجاج کرتے ہیں ، ایک دفعہ ایک جماعت نے امریکا کے سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا اور ایک صحافی امریکی سفیر کے پاس گیا کہ اب کیا ہو گا اس نے جواب دیا اگر میں باہر نکل کر علان کر دو کہ جو چپ چاپ گھر چلا جائے اس کو امریکا کی نیشنلٹی دو گا اور ان کو یقین ہو کہ ملے گی یہ سب چلے جائیں گے ، ، ہمارے دل کی کیفت تمام اقوام عالم جان چکی ہے اگر ہمارے وزیراعظم کے کپڑے اتر کر بے عزت کیا جارہا ہے تو ان کو پتہ ہے جس ملک کا وزیراعظم ہے وہ خود اس کو جوتے مارتے ہیں ہم تو اپنے ملک کا قانون فالو کر رہے ہیں عمران خان پر ہم کیا کیا باتیں کرتے ہیں لوگ تو بانی پاکستان پر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ، ڈاکٹر قدیر خان کس کس کا نام لو ، کیا یہ سب تقدیر کا لکھا ہے ، By Sarwar Adil
    0 Commentarios 0 Acciones 244 Views
  • Can someone introduce me to her !

    (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔
    اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔
    00:00
    انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
    Can someone introduce me to her ! (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔ اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ 00:00 انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 699 Views
  • Article by Ved Pratap Vaidik

    عمران پاک کی زیادہ بہتری کیلئے سوچیں
    18/03/2021
    ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک
    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو آسان بنانے کے لئے پہل کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیکیورٹی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتا ہے تو وسط ایشیاءکی پانچ ممالک تک پہنچنے کے لئے اسے بڑی سہولت ملے گی ، لیکن یہ تب ہوگا جب بھارت کشمیر میں رائے شماری کے لئے تیار ہوگا .... عمران خان کو شاید یہ یاد نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود اقوام متحدہ کے ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکاہے۔ پاکستان نے خود اس کے لئے کبھی تیاری نہیں کی۔ اس تجویز کے آغاز میں ، یہ کہا گیا ہے کہ پاک فوج اور اہلکاروں کو مقبوضہ کشمیر سے مکمل طور پر نکل جانا چاہئے۔ کیا گزشتہ 70 سالوں میں پاکستانی حکومت نے کبھی بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کی ہے؟
    اسلام آباد میں ، جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مجھ سے رائے شماری کے بارے میں بات کی تھی تو میں نے ان سے یہی سوال کیاتھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔ میں وزیر اعظم نواز شریف ، جنرل مشرف اور بہت سے دوسرے صدور اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے پوچھتا تھا کہ کیا آپ کشمیریوں کو تیسرا آپشن یعنی آزادی دینے پر راضی ہیں ، تووہ کہتے تھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو اس کا الحاق پاکستان میں ہوگا یا ہندوستان میں! کیا عمران خان تیسرے آپشن کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ریفرنڈم کا معاملہ بے معنی ہے۔
    کشمیر یقینی طور پر ایک مسئلہ ہے۔ اس کو مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اٹل جی ، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور جنرل مشرف نے چار نکاتی راستہ نکالاتھا۔ عمران کیوں اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے؟ جہاں تک وسط ایشیاءکی اقوام سے ہندوستان کو فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے تو ، عمران بالکل ٹھیک ہیں۔ اگر پاک بھارت تعلقات ہموار ہوجائیں تو ہندوستان کو پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کی یہ پانچ ممالک - ازبیکستان ، قازقستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور کرغزستان - معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ تیل ، گیس ، لوہا ، تانبا ، ایلومینیم اور قیمتی پتھروں کے ان گنت ذخائر ابھی تک دسترس سے دور ہیں۔
    میں پچھلے 50 سالوں سے ان ممالک کا دورہ کرتا رہا ہوں۔ میں کئی بار 1200 کلومیٹر آمو دریا (وکشو سریتا) کے کنارے بھی جا چکا ہوں۔ اگر ہم اس خطے کی معدنی دولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان اگلے پانچ سالوں میں یورپ سے زیادہ مالدار بن سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ وہ راستہ تلاش کرے۔ اگر وہ پاکستان اور افغانستان سے نہیں جاپا رہا ہے تو ، ایران کے راستے جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، پاکستان کنارے لگ جائے گا۔ ایسانہیں ہو،اس کے لئے لازمی ہے کہ عمران خان دہشت گردی کے خلاف بہت سخت ہوں اور کشمیر پر بات چیت کا آغاز کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، یہ پاکستان کے لئے بھارت سے زیادہ بہتر ہوگا۔
    (مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔)

    You can whatspp him on +91 98917 11947
    Article by Ved Pratap Vaidik عمران پاک کی زیادہ بہتری کیلئے سوچیں 18/03/2021 ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو آسان بنانے کے لئے پہل کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیکیورٹی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتا ہے تو وسط ایشیاءکی پانچ ممالک تک پہنچنے کے لئے اسے بڑی سہولت ملے گی ، لیکن یہ تب ہوگا جب بھارت کشمیر میں رائے شماری کے لئے تیار ہوگا .... عمران خان کو شاید یہ یاد نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود اقوام متحدہ کے ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکاہے۔ پاکستان نے خود اس کے لئے کبھی تیاری نہیں کی۔ اس تجویز کے آغاز میں ، یہ کہا گیا ہے کہ پاک فوج اور اہلکاروں کو مقبوضہ کشمیر سے مکمل طور پر نکل جانا چاہئے۔ کیا گزشتہ 70 سالوں میں پاکستانی حکومت نے کبھی بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کی ہے؟ اسلام آباد میں ، جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مجھ سے رائے شماری کے بارے میں بات کی تھی تو میں نے ان سے یہی سوال کیاتھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔ میں وزیر اعظم نواز شریف ، جنرل مشرف اور بہت سے دوسرے صدور اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے پوچھتا تھا کہ کیا آپ کشمیریوں کو تیسرا آپشن یعنی آزادی دینے پر راضی ہیں ، تووہ کہتے تھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو اس کا الحاق پاکستان میں ہوگا یا ہندوستان میں! کیا عمران خان تیسرے آپشن کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ریفرنڈم کا معاملہ بے معنی ہے۔ کشمیر یقینی طور پر ایک مسئلہ ہے۔ اس کو مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اٹل جی ، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور جنرل مشرف نے چار نکاتی راستہ نکالاتھا۔ عمران کیوں اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے؟ جہاں تک وسط ایشیاءکی اقوام سے ہندوستان کو فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے تو ، عمران بالکل ٹھیک ہیں۔ اگر پاک بھارت تعلقات ہموار ہوجائیں تو ہندوستان کو پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کی یہ پانچ ممالک - ازبیکستان ، قازقستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور کرغزستان - معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ تیل ، گیس ، لوہا ، تانبا ، ایلومینیم اور قیمتی پتھروں کے ان گنت ذخائر ابھی تک دسترس سے دور ہیں۔ میں پچھلے 50 سالوں سے ان ممالک کا دورہ کرتا رہا ہوں۔ میں کئی بار 1200 کلومیٹر آمو دریا (وکشو سریتا) کے کنارے بھی جا چکا ہوں۔ اگر ہم اس خطے کی معدنی دولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان اگلے پانچ سالوں میں یورپ سے زیادہ مالدار بن سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ وہ راستہ تلاش کرے۔ اگر وہ پاکستان اور افغانستان سے نہیں جاپا رہا ہے تو ، ایران کے راستے جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، پاکستان کنارے لگ جائے گا۔ ایسانہیں ہو،اس کے لئے لازمی ہے کہ عمران خان دہشت گردی کے خلاف بہت سخت ہوں اور کشمیر پر بات چیت کا آغاز کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، یہ پاکستان کے لئے بھارت سے زیادہ بہتر ہوگا۔ (مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔) You can whatspp him on +91 98917 11947
    0 Commentarios 0 Acciones 637 Views
  • آئیے ایمانداری سے بات کریں کہ عمران خان سے کہاں غلطی ہوئی؟ اس نے اصل میں کیا غلط کیا جس کی وجہ سے وہ اس صورت حال سے دوچار ہوا؟ منطق کے ساتھ بحث کریں۔

    let’s honestly discuss where Imran Khan went wrong ? What exactly he did incorrectly that lead him to this situation ? Discuss with logics
    آئیے ایمانداری سے بات کریں کہ عمران خان سے کہاں غلطی ہوئی؟ اس نے اصل میں کیا غلط کیا جس کی وجہ سے وہ اس صورت حال سے دوچار ہوا؟ منطق کے ساتھ بحث کریں۔ let’s honestly discuss where Imran Khan went wrong ? What exactly he did incorrectly that lead him to this situation ? Discuss with logics
    0 Commentarios 0 Acciones 266 Views
  • ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟

    قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔

    لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔

    کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔

    اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔

    ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔

    ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔

    شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔

    ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔

    سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

    اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی.

    آصف فاروقی
    بی بی سی اردو
    ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟ قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔ سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔ لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔ اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔ شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔ بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی. آصف فاروقی بی بی سی اردو
    0 Commentarios 0 Acciones 1164 Views
  • السلامُ علیکم سر
    میرا نام احمد رضا ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔پیشے کی لحاظ سے میں ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ ہوں اور انسٹالمنٹس بیسڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پراپرٹی ڈیلر بھی ہوں جیسا کے سر آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنا گھر ایک خواب جیسا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں گھر بنانا نہایت ہی مشکل ہے ۔اس سلسلے میں عمران خان صاحب نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے خاندان کو گھر مہیا کرنے کا بیڑا اٹھایا جو کہ حکومت نہ رہنے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا اس دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی G-Songuo Housing
    https://www.facebook.com/Songuopk?mibextid=ZbWKwL
    نے Galvanized steel insulated homes کا ایک ماڈل پیش کیا جو کہ تقریباً آدھی قیمت اور قلیل وقت میں گھر بنتا ہے جس کا تفصیلی انٹرویو لنک بھی لگا رہا ہوں ساتھ
    https://youtu.be/zv1qPB3b_nk
    حکومت ختم ہونے کے بعد یہ کمپنی بھی اپنا کام بند کر چکی ہے جو کہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا سر آپ جا نتے ہیں کہ یہ بہت بڑی انڈسٹری اور اسے آگے بڑھنا چاہیے میرا بھی زاتی گھر نہیں ہے البتہ 2 پلاٹ ہیں اس لیے میں گھر نہ ہونے کا احساس سمجھتا ہوں سر میں یہاں کمپنی کی مارکیٹنگ ڈائیریکٹر روبینہ عامرکا سوشل لنک بھی دے رہا ہوں
    https://www.facebook.com/rubeena.amer?mibextid=ZbWKwL
    براہ مہربانی آپ ان کا انٹر ویو کیجیئے اور انہیں یہ کام کرنے کے لئےموٹیوٹ کیجیئے ۔ شکریہ
    آپکا شاگرد احمد رضا
    السلامُ علیکم سر میرا نام احمد رضا ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔پیشے کی لحاظ سے میں ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ ہوں اور انسٹالمنٹس بیسڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پراپرٹی ڈیلر بھی ہوں جیسا کے سر آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنا گھر ایک خواب جیسا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں گھر بنانا نہایت ہی مشکل ہے ۔اس سلسلے میں عمران خان صاحب نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے خاندان کو گھر مہیا کرنے کا بیڑا اٹھایا جو کہ حکومت نہ رہنے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا اس دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی G-Songuo Housing https://www.facebook.com/Songuopk?mibextid=ZbWKwL نے Galvanized steel insulated homes کا ایک ماڈل پیش کیا جو کہ تقریباً آدھی قیمت اور قلیل وقت میں گھر بنتا ہے جس کا تفصیلی انٹرویو لنک بھی لگا رہا ہوں ساتھ https://youtu.be/zv1qPB3b_nk حکومت ختم ہونے کے بعد یہ کمپنی بھی اپنا کام بند کر چکی ہے جو کہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا سر آپ جا نتے ہیں کہ یہ بہت بڑی انڈسٹری اور اسے آگے بڑھنا چاہیے میرا بھی زاتی گھر نہیں ہے البتہ 2 پلاٹ ہیں اس لیے میں گھر نہ ہونے کا احساس سمجھتا ہوں سر میں یہاں کمپنی کی مارکیٹنگ ڈائیریکٹر روبینہ عامرکا سوشل لنک بھی دے رہا ہوں https://www.facebook.com/rubeena.amer?mibextid=ZbWKwL براہ مہربانی آپ ان کا انٹر ویو کیجیئے اور انہیں یہ کام کرنے کے لئےموٹیوٹ کیجیئے ۔ شکریہ آپکا شاگرد احمد رضا
    0 Commentarios 0 Acciones 718 Views
  • اگر آپ عمران خان کے اے آئی سے کچھ پوچھ سکتے ہیں۔
    آپ اس سے کیا پوچھنا چاہیں گے؟
    اگر آپ عمران خان کے اے آئی سے کچھ پوچھ سکتے ہیں۔ آپ اس سے کیا پوچھنا چاہیں گے؟
    0 Commentarios 0 Acciones 540 Views
  • Chairman Communist Party of Pakistan (CPP) Engineer Jameel Ahmad Malik today filed his Nomination Paper on NA-55 Attock-I before the Returning Officer Attock.

    His manifesto for election is as under:-

    میرا انتخابی منشور صرف اور صرف یک ایجنڈا پر مشتمل ہے. اور میری ساری الیکشن کیمپین (campaign) صرف اور صرف اسی ایک پروگرام پر مشتمل ہے. میں حلقہ نمبر NA-55 Attock -I کے ایک ایک گاؤں جاؤں گااور لوگو کو بتاؤں گا کہ کالا باغ ڈیم کیوں ضروری ہے اور لوگو کو باور کراؤں گا کہ اگر کالا باغ ڈیم نہ بنا تو ہماری آنے والی نسلے پانی کی ایک ایک بوند کو ترسے گئیں.

    میں اپنے حلقے کے عوام سے ووٹ برادری, رشتہ داری, دوستی یا تعلق کی بنیاد پر نہیں مانگوں گا بلکہ مجھے حلقے میں صرف ان لوگوں کا ووٹ چاہے ہو گا جو نظریاتی اور زہنی طور پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہوں اور اس بات کو سمجھتے ہوں کہ آنے والے وقت میں پانی کا مسۂلہ سب سے اہم ہو گا.

    نواز شریف کی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ایک طویل عرصہ تک حکمران رہے ہیں مگر ان دونوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں کوئی عملی دلچسپی نہیں لی ہے. عمران خان کی تحریک انصاف کو بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر سی کوئی سروکار نہیں ہے.

    جبکہ پاکستان کی تمام سیاسی , مذہبی اور علاقائی جماعتوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور اور آنے والے وقت میں پانی کی قلت اور بحران سے کوئی سروکارنہیں ہے. پانی کی اہمیت ہمارے ملک میں صرف جنرل ایوب نے محسوس کی اور تربیلا ڈیم اور منگلہ ڈیم وغیرہ ایوب کے زمانے میں ہی تعمیر ہوئےہیں.جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف بھی موقعہ پرستی کا شکار رہے.

    کچھ عرصہ پہلےواپڈا کے چیئرمین ظفر محمود نے جنگ اخبار میں کالا باغ ڈیم کے حق میں قسط وارمضامین لکھے مگر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ اور دیگر موقعہ پرست سیاست دانوں نے بغیروجہ اور دلیل کےکالاباغ ڈیم کی مخالفت کی. ہمارے تمام سیاست دان جو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے وہ پاکستان کے مفادات سے کھیل رہے اور ان تمام پاکستانی سیاست دانوں نے بلاوجہ کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنا رکھاہےجبکہ کالا باغ ڈیم خالصتاً ایک ٹیکنیکی مسۂلہ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق واستہ نہیں ہے.

    میں خود سول انجینئر ہوں اور چالیس سال سے زیادہ تجربہ ہے. بجلی کے بحران پر مستقل بنیادوں پر قابو پانا اور آنے والی نسلوں کو پانی مہیا کرنا ہے تو اس کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر اور ضروری ہے.

    دوسری طرف بھارت کے کشن گنگا ڈیم کی وجہ سے ہمارے ملک پاکستان کے آبی زرائع متاثر ہوئے ہیں اور پانی کے مسائل میں شدید اضافہ ہوا ہے.

    ہمارے حلقہ کا یہ نعرہ ہے.

    ووٹ کو عزت دو

    کالا باغ ڈیم کو ووٹ دو.

    منجابب: کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (CPP)

    مرکزی الیکشن آفس: کمیونسٹ پارٹی سیکرٹریٹ

    مکان نمبر 1426 فتح جنگ چوک. اٹک کینٹ

    Tel Election Office: 057-2611426

    Fax Election Office: 057-2612591

    Mob Election Office: 0300-9543331

    E-Mail: jamco@jamco.com.pk

    Engr Jameel Ahmad Malik
    Chairman Communist Party of Pakistan (CPP) Engineer Jameel Ahmad Malik today filed his Nomination Paper on NA-55 Attock-I before the Returning Officer Attock. His manifesto for election is as under:- میرا انتخابی منشور صرف اور صرف یک ایجنڈا پر مشتمل ہے. اور میری ساری الیکشن کیمپین (campaign) صرف اور صرف اسی ایک پروگرام پر مشتمل ہے. میں حلقہ نمبر NA-55 Attock -I کے ایک ایک گاؤں جاؤں گااور لوگو کو بتاؤں گا کہ کالا باغ ڈیم کیوں ضروری ہے اور لوگو کو باور کراؤں گا کہ اگر کالا باغ ڈیم نہ بنا تو ہماری آنے والی نسلے پانی کی ایک ایک بوند کو ترسے گئیں. میں اپنے حلقے کے عوام سے ووٹ برادری, رشتہ داری, دوستی یا تعلق کی بنیاد پر نہیں مانگوں گا بلکہ مجھے حلقے میں صرف ان لوگوں کا ووٹ چاہے ہو گا جو نظریاتی اور زہنی طور پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہوں اور اس بات کو سمجھتے ہوں کہ آنے والے وقت میں پانی کا مسۂلہ سب سے اہم ہو گا. نواز شریف کی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ایک طویل عرصہ تک حکمران رہے ہیں مگر ان دونوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں کوئی عملی دلچسپی نہیں لی ہے. عمران خان کی تحریک انصاف کو بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر سی کوئی سروکار نہیں ہے. جبکہ پاکستان کی تمام سیاسی , مذہبی اور علاقائی جماعتوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور اور آنے والے وقت میں پانی کی قلت اور بحران سے کوئی سروکارنہیں ہے. پانی کی اہمیت ہمارے ملک میں صرف جنرل ایوب نے محسوس کی اور تربیلا ڈیم اور منگلہ ڈیم وغیرہ ایوب کے زمانے میں ہی تعمیر ہوئےہیں.جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف بھی موقعہ پرستی کا شکار رہے. کچھ عرصہ پہلےواپڈا کے چیئرمین ظفر محمود نے جنگ اخبار میں کالا باغ ڈیم کے حق میں قسط وارمضامین لکھے مگر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ اور دیگر موقعہ پرست سیاست دانوں نے بغیروجہ اور دلیل کےکالاباغ ڈیم کی مخالفت کی. ہمارے تمام سیاست دان جو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے وہ پاکستان کے مفادات سے کھیل رہے اور ان تمام پاکستانی سیاست دانوں نے بلاوجہ کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنا رکھاہےجبکہ کالا باغ ڈیم خالصتاً ایک ٹیکنیکی مسۂلہ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق واستہ نہیں ہے. میں خود سول انجینئر ہوں اور چالیس سال سے زیادہ تجربہ ہے. بجلی کے بحران پر مستقل بنیادوں پر قابو پانا اور آنے والی نسلوں کو پانی مہیا کرنا ہے تو اس کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر اور ضروری ہے. دوسری طرف بھارت کے کشن گنگا ڈیم کی وجہ سے ہمارے ملک پاکستان کے آبی زرائع متاثر ہوئے ہیں اور پانی کے مسائل میں شدید اضافہ ہوا ہے. ہمارے حلقہ کا یہ نعرہ ہے. ووٹ کو عزت دو کالا باغ ڈیم کو ووٹ دو. منجابب: کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (CPP) مرکزی الیکشن آفس: کمیونسٹ پارٹی سیکرٹریٹ مکان نمبر 1426 فتح جنگ چوک. اٹک کینٹ Tel Election Office: 057-2611426 Fax Election Office: 057-2612591 Mob Election Office: 0300-9543331 E-Mail: jamco@jamco.com.pk Engr Jameel Ahmad Malik
    0 Commentarios 0 Acciones 443 Views
Resultados de la búsqueda