• ایک مصروف بازار کے بیچوں بیچ لوگ ایک کرتب دیکھنے جمع تھے
    اوپر، دو عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر ایک کرتب باز چل رہا تھا
    لوگ حیرت اور جوش میں تالیاں بجا رہے تھے
    نیچے، مُلا نصرالدین خاموشی سے کھڑے اپنی داڑھی سہلا رہے تھے
    ایک بچہ ان کے قریب آیا، "مُلا جی! کیا آپ حیران نہیں؟"
    مُلا نے آسمان کی طرف دیکھا، "ہاں، حیران ہوں۔"
    "تو پھر آپ خوشی سے چیخ کیوں نہیں رہے؟"
    مُلا مسکرا کر بولے، "میں انتظار کر رہا ہوں کہ وہ نیچے کیسے آئے گا۔"
    لوگ ہنس پڑے، سمجھ گئے کہ یہ مذاق میں بھی حکمت ہے
    کرتب باز نے پلٹا مارا اور کامیابی سے نیچے اتر آیا
    سب نے زور سے تالیاں بجائیں، سوائے مُلا کے
    مُلا نے بچے سے کہا، "اب یہ واقعی کمال ہے!"
    بچے نے پوچھا، "کیا آپ کبھی ایسا کریں گے؟"
    مُلا ہنس کر بولے، "میں تو زمین پر بھی سیدھا نہیں چل پاتا!"
    تبھی کرتب باز نے آواز دی، "چلیں مُلا جی! آپ بھی آ جائیں!"
    مُلا نے اونچی آواز میں جواب دیا،
    "بیوقوفی دکھانا بہادری نہیں کہلاتی!"
    لوگ پھر سے ہنسنے لگے، مُلا کی بات دل میں اُتر گئی
    مُلا نصرالدین پلٹے، اور بازار کی چائے کی دکان کی طرف بڑھ گئے
    جہاں حکمت ہمیشہ ہنسی کے ساتھ ملتی ہے

    #مُلا_نصرالدین #حکمت_بھری_ہنسی #کرتب #لطیفہ #اردوکہانی #رسّی_پر_چلنا #بازار_کا_منظر #ہنسی_اور_دانائی
    ایک مصروف بازار کے بیچوں بیچ لوگ ایک کرتب دیکھنے جمع تھے 🌆 اوپر، دو عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر ایک کرتب باز چل رہا تھا 🏙️ لوگ حیرت اور جوش میں تالیاں بجا رہے تھے 🎉 نیچے، مُلا نصرالدین خاموشی سے کھڑے اپنی داڑھی سہلا رہے تھے 🤔 ایک بچہ ان کے قریب آیا، "مُلا جی! کیا آپ حیران نہیں؟" 🧒 مُلا نے آسمان کی طرف دیکھا، "ہاں، حیران ہوں۔" 😌 "تو پھر آپ خوشی سے چیخ کیوں نہیں رہے؟" مُلا مسکرا کر بولے، "میں انتظار کر رہا ہوں کہ وہ نیچے کیسے آئے گا۔" 😏 لوگ ہنس پڑے، سمجھ گئے کہ یہ مذاق میں بھی حکمت ہے 😂 کرتب باز نے پلٹا مارا اور کامیابی سے نیچے اتر آیا 🙌 سب نے زور سے تالیاں بجائیں، سوائے مُلا کے 👏 مُلا نے بچے سے کہا، "اب یہ واقعی کمال ہے!" 😄 بچے نے پوچھا، "کیا آپ کبھی ایسا کریں گے؟" مُلا ہنس کر بولے، "میں تو زمین پر بھی سیدھا نہیں چل پاتا!" 😂 تبھی کرتب باز نے آواز دی، "چلیں مُلا جی! آپ بھی آ جائیں!" مُلا نے اونچی آواز میں جواب دیا، "بیوقوفی دکھانا بہادری نہیں کہلاتی!" 🤭 لوگ پھر سے ہنسنے لگے، مُلا کی بات دل میں اُتر گئی 😇 مُلا نصرالدین پلٹے، اور بازار کی چائے کی دکان کی طرف بڑھ گئے ☕ جہاں حکمت ہمیشہ ہنسی کے ساتھ ملتی ہے ✨ #مُلا_نصرالدین #حکمت_بھری_ہنسی #کرتب #لطیفہ #اردوکہانی #رسّی_پر_چلنا #بازار_کا_منظر #ہنسی_اور_دانائی 😂🎪☕
    0 Commenti 0 condivisioni 376 Views
  • برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 Commenti 0 condivisioni 1182 Views
  • **The Dreamer’s Vision**

    In a quiet town, there was a young girl named Sarah who always dreamed of painting the most beautiful masterpiece. She would spend hours sketching, using different colors and techniques, but she never felt her work was good enough. People would often encourage her, but Sarah doubted her own abilities.

    One day, the town hosted an art competition. Sarah hesitated, thinking that her painting would never stand out. But her teacher gently reminded her, “It’s not about winning, it’s about sharing your vision with the world.”

    Sarah decided to participate, pouring her heart into her painting. When the competition ended, her artwork didn’t just win first place; it touched everyone who saw it. They saw her passion, her vision, and her story. Sarah realized that believing in herself and following her dreams was more important than anything else.

    **خواب دیکھنے والے کی بصیرت**

    ایک خاموش شہر میں، ایک نوجوان لڑکی سارہ رہتی تھی جو ہمیشہ سب سے خوبصورت تصویری شاہکار بنانے کا خواب دیکھتی تھی۔ وہ گھنٹوں تک اسکچ کرتی، مختلف رنگوں اور تکنیکوں کا استعمال کرتی، لیکن وہ کبھی بھی اپنے کام کو اتنا اچھا نہیں سمجھتی تھی۔ لوگ اکثر اسے حوصلہ دیتے، لیکن سارہ اپنی صلاحیتوں پر شک کرتی۔

    ایک دن، شہر میں ایک فنونِ لطیفہ کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ سارہ ہچکچائی، سوچتی رہی کہ اس کی تصویر کبھی بھی نمایاں نہیں ہوگی۔ لیکن اس کی استاد نے نرمی سے اسے یاد دلایا، "یہ جیتنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنی بصیرت دنیا کے ساتھ شیئر کریں۔"

    سارہ نے شرکت کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے دل کو اپنی تصویر میں ڈال دیا۔ جب مقابلہ ختم ہوا، اس کی آرٹ ورک نے صرف پہلی پوزیشن نہیں جیتی بلکہ وہ سب کو چھو گئی جو اسے دیکھتے تھے۔ انہوں نے اس کے جذبے، اس کی بصیرت اور اس کی کہانی کو محسوس کیا۔ سارہ نے یہ سمجھا کہ خود پر یقین رکھنا اور اپنے خوابوں کا پیچھا کرنا سب سے اہم ہے۔

    Student: Rehan School
    School: Level One.Five
    Story Post Number: 143
    Roll Number: 157
    **The Dreamer’s Vision** In a quiet town, there was a young girl named Sarah who always dreamed of painting the most beautiful masterpiece. She would spend hours sketching, using different colors and techniques, but she never felt her work was good enough. People would often encourage her, but Sarah doubted her own abilities. One day, the town hosted an art competition. Sarah hesitated, thinking that her painting would never stand out. But her teacher gently reminded her, “It’s not about winning, it’s about sharing your vision with the world.” Sarah decided to participate, pouring her heart into her painting. When the competition ended, her artwork didn’t just win first place; it touched everyone who saw it. They saw her passion, her vision, and her story. Sarah realized that believing in herself and following her dreams was more important than anything else. **خواب دیکھنے والے کی بصیرت** ایک خاموش شہر میں، ایک نوجوان لڑکی سارہ رہتی تھی جو ہمیشہ سب سے خوبصورت تصویری شاہکار بنانے کا خواب دیکھتی تھی۔ وہ گھنٹوں تک اسکچ کرتی، مختلف رنگوں اور تکنیکوں کا استعمال کرتی، لیکن وہ کبھی بھی اپنے کام کو اتنا اچھا نہیں سمجھتی تھی۔ لوگ اکثر اسے حوصلہ دیتے، لیکن سارہ اپنی صلاحیتوں پر شک کرتی۔ ایک دن، شہر میں ایک فنونِ لطیفہ کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ سارہ ہچکچائی، سوچتی رہی کہ اس کی تصویر کبھی بھی نمایاں نہیں ہوگی۔ لیکن اس کی استاد نے نرمی سے اسے یاد دلایا، "یہ جیتنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنی بصیرت دنیا کے ساتھ شیئر کریں۔" سارہ نے شرکت کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے دل کو اپنی تصویر میں ڈال دیا۔ جب مقابلہ ختم ہوا، اس کی آرٹ ورک نے صرف پہلی پوزیشن نہیں جیتی بلکہ وہ سب کو چھو گئی جو اسے دیکھتے تھے۔ انہوں نے اس کے جذبے، اس کی بصیرت اور اس کی کہانی کو محسوس کیا۔ سارہ نے یہ سمجھا کہ خود پر یقین رکھنا اور اپنے خوابوں کا پیچھا کرنا سب سے اہم ہے۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 143 Roll Number: 157
    0 Commenti 0 condivisioni 235 Views