• ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب

    ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟
    آگے چلیے!
    اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے!

    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!!

    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!!

    ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔

    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔

    اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم!

    Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob

    Jamia Binoria International [Official]
    ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟ #مولانا_محمد_جہان_یعقوب ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟ آگے چلیے! اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!! ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔ ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم! Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob Jamia Binoria International [Official]
    0 Commentarii 0 Distribuiri 458 Views
  • اِک بندہ وَکھراسا!!
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب

    بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔

    یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔

    دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے!

    سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔

    سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔

    ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔

    اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔)

    Molana Jahan Yaqoob Dr, Mufti
    Head of Department
    Jamia Binoria International [Official]
    اِک بندہ وَکھراسا!! #مولانا_محمد_جہان_یعقوب بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔ یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔ دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے! سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔ سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔ ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔ اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔) Molana Jahan Yaqoob Dr, Mufti Head of Department Jamia Binoria International [Official]
    0 Commentarii 0 Distribuiri 154 Views
  • Thank you mufti Molana Jahan Yaqoob

    اِک بندہ وَکھراسا!!
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب
    بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔
    یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔
    دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے!
    سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔
    سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔
    ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔
    اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔)
    Thank you mufti Molana Jahan Yaqoob اِک بندہ وَکھراسا!! #مولانا_محمد_جہان_یعقوب بچپن میں ایک شعرسماعتوں سے ٹکرایاتھا،جانے کس کاہے اورکس کے بارے میں کہاہے:چلاہے چاندکوچھونے ارادے دیکھوپاگل کے۔یہ پاگل توچاندکوچھونے چلاتھامگر’’یہ‘‘توچاہتاہے کہ وطنِ عزیزکاہرباسی،ہرکالاگورا،چھوٹابڑا،ملامسٹر،مردعورت حتیٰ کہ بچے بھی چاندکومسخرکرنے کے لیے نکل پڑیں،یہ چاندکومسخرکرچکاہے،اس کے پاس چاندکومسخرکرنے کے صرف گُرنہیں ہیں برسوں پرمحیط تجربہ بھی ہے۔یہ گلی گلی،محلے محلے،قریہ قریہ،بستی بستی صدائیں دے رہاہے:آو،چاندکوچھونے چلیں،سواری بھی میری،ڈائریکشن بھی میرے ذمے،ڈرائیونگ بھی میری طرف سے،سارے خرچ اخراجات کابھی میں کفیل ہوں،بس!تم عزم،جذبہ،حوصلہ،اُمنگ اورسچی طلب کے ساتھ اپنی قوتِ ارادی کوجگاو،یہ ایک کام تمھاراباقی کام میرے سپرد،پھربھی نتیجہ نہ آیاتوتمھاری رقم واپس!یہ دن رات صدالگارہاہے:ہے کوئی چاندکومسخرکرنے کاسچاجذبہ رکھنے والا،ہے کوئی جوچاندکی تسخیرکے سفرمیں میراہم رکاب ہو۔۔۔ہے کوئی۔۔۔۔ہے کوئی!یہ صداکئی سالوں سے لگ رہی تھی،اب مزیدتواناہوگئی ہے،نوجوانوں اورجوانوں کی ایک بڑی تعداداِس کی ہم رکابی میں جانبِ منزل رواں دواں ہے،کچھ راہ میں ہیں اورکچھ۔۔۔۔ نہیں بلکہ کئی سارے منزل پاچکے۔جومرادپاچکے وہ دوسروں کواِس سفرپرلے جانے کے لیے اُسی جذبے،حوصلے،اخلاص اورلگن سے تیارہیں جس جذبے،اخلاص اورلگن کے ساتھ ’’وہ‘‘انھیں اِس سفرپرلے گیاتھا۔ یہ دیوانہ کون ہے؟یہ جوبھی ہےاِس کاعزم بڑانیک ہے۔یہ چاہتاہے تیسری دنیاکے ملک کاہرباسی غریبوں کی فہرست سے اپنانام کٹوادے۔یہ وطنِ عزیزپاکستان کے لیے خاص طورپرفکرمندہے،یہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے:اِس سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے دورمیں بھی کوئی خطِ غربت یااُس سے نیچے زندگی گذاررَہاہےتویہ اُس کی کم حوصلگی ہے،یہ اُس کی کمزوری ہے،یہ اُس کی سستی اورغفلت ہے۔وہ اِن غریبوں کو’’شوقیہ غریب‘‘کانام دیتاہے۔وہ اِرتکازِدولت کاقائل نہیں،اُس کافلسفہ ہے کہ اچھاکماو،اچھے طریقے سے اپنی ضروریات پوری کرواوراچھے طریقے سے دوسروں میں بانٹنے والے بن جاو۔اُس نے سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ تیارکیے ہیں جوکبھی مانگاکرتے تھےاَب دیتے ہیں،جوکبھی کسی کے مرہونِ منت تھے اَب کئی گھرانوں کے کفیل ہیں،جوعلم بھی مفت بانٹ رہے ہیں اوریہ جذبہ بھی اوروں میں منتقل کررہے ہیں۔ دیوانوں کی باتیں فرزانوں کوکب سمجھ میں آئی ہیں۔فرزانے توایسی باتوں کوناممکن ومحال ہی سمجھتے ہیں۔ہماری تان سازش سے شروع ہوکرفراڈپرٹوٹتی ہے،جوچیزاپنے احاطہ علم وعقل میں نہ آئے اُسے ہم فراڈکہہ کردوسروں کے بھی حوصلے توڑدیتے ہیں۔اِس سے بڑاتیرماریں تواُس چیزکواندرونی یابیرونی سازش کہہ کرسکون کاسانس لیتے ہیں۔بلاتحقیق سازش اورفراڈکہہ کرہم کتنوں کی راہ روک رہے ہیں کبھی اِس طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا،کہ یہ ہماری عمومی نفسیات کاحصہ ہے! سوشل میڈیاانکوبیٹرکے دورے کے دوران ایک بہت نفیس نوجوان سے ملاقات ہوئی،جن کانام شاہ رخ علی تھا،ریحان بھائی نے انھیں شاہ رخ علی کاروباروالابنادیا۔بتارہے تھےکہ جب کووِڈکے بعدمیں ریحان بھائی کے نیٹ ورک کاحصہ بناتووہ فری لانسنگ کے حوالے سے فکرمندتھے۔مجھے کہا:اچھے طریقے سے ریسرچ کرکے بتادو،کہیں یہ فراڈتونہیں۔میں نے نہ صرف اوروں کے ریسرچ آرٹیکلزپڑھےبلکہ خودفائیورپرجاکرگِگ بنائی،مجھے جوپہلی ڈیل موصول ہوئی وہ کئی لاکھ کی تھی،جسے دیکھ کرہمیں یقین آگیاکہ یہ کوئی فراڈ نہیں۔ہم نے لوگوں کواِس طرف بعدمیں بُلایا،پہلے خوداِس کوآزمایا۔ہماری راہ نمائی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ فائیورسے کمارہے ہیں۔ سو،اے اہلِ وطن!وقت کی صداپرکان دھرو۔اِس ’’مجذوب‘‘کی صداپرکان لگاو۔اسے دیوانے کی بڑنہ سمجھو،یہ شخص جہاں دیدہ ہے،اِس نے گھاٹ گھاٹ کاپانی پیاہے،یہ تمھارابھلاچاہتاہے۔یہ تمھیں خودکفیل بناناچاہتاہے۔اِس کاپیغام ہے کہ اَب دوسروں پرانحصارکرناچھوڑو۔تم میں سے ہرفردملت کے مقدرکاستارہ ہے۔تم میں سے ہرشخص ڈالرکماکراچھی زندگی ہی نہیں گذارسکتا،ملک کے لیے زرِمبادلہ بھی کماسکتاہے۔ ہم نے اِس صداپرلبّیک کہی ہے،آپ کوبھی دعوت دیتے ہیں،آئیے!سب سے پہلے فری لانسنگ،کینوااورفائیورکے حوالے سے غلط فہمیاں دورکرنے اورذہنی طورپرتیارہونے کے لیےہم سے کینوافائیورکی بیسک اے بی سی ڈی کی کلاس لیجیےپھرفیصلہ کیجیےکہ کیاکیاتوکرناچاہیے،کیاکیانہ چاہیے۔ اوقات:بروزِجمعہ،اتواردِن ایک سے دوبجے،فیس فقط:ایک سوروہےمکمل کورس(کیونکہ ریحان صاحب اوراُن کے متعلقین کانظریہ ارتکازِدولت نہیں،چراغ سے چراغ جلاناہے۔)
    0 Commentarii 0 Distribuiri 159 Views 0