• RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:05(Urdu)
    TEDx Talk topic: "Power of a Single Decision" by Zara Noor Abbas (Review video in & Urdu).
    ایک فیصلے کی طاقت – زارا نور عباس

    ہماری زندگی ہمارے فیصلوں سے بنتی ہے۔ زارا نور عباس کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مثبت فیصلہ ہماری سوچ، عادات اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگر ہم خود پر یقین رکھیں، خوف کا سامنا کریں اور درست راستہ اختیار کریں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ آئیں آج ہی ایک ایسا فیصلہ کریں جو ہمیں ہمارے خوابوں کے قریب لے جائے۔

    #ایک_فیصلے_کی_طاقت #زارا_نور_عباس #اردو #حوصلہ #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #تعلیم #طلبہ #ترقی #موٹیویشن
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:05(Urdu) TEDx Talk topic: "Power of a Single Decision" by Zara Noor Abbas (Review video in & Urdu). 🌟 ایک فیصلے کی طاقت – زارا نور عباس 🎤💙 ہماری زندگی ہمارے فیصلوں سے بنتی ہے۔ ✨ زارا نور عباس کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مثبت فیصلہ ہماری سوچ، عادات اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے۔ 💪📚 اگر ہم خود پر یقین رکھیں، خوف کا سامنا کریں اور درست راستہ اختیار کریں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ 🌱🚀 آئیں آج ہی ایک ایسا فیصلہ کریں جو ہمیں ہمارے خوابوں کے قریب لے جائے۔ 🌟 #ایک_فیصلے_کی_طاقت #زارا_نور_عباس #اردو #حوصلہ #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #تعلیم #طلبہ #ترقی #موٹیویشن 💙✨
    0 Kommentare 0 Anteile 405 Ansichten 8
  • RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:04(urdu)
    TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu).
    "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان

    خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔

    #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:04(urdu) TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu). 🌟 "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان 💙🎤 خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ 💪✨ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ 🌱🚀 مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔ 🌟📚 #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن 💙✨
    0 Kommentare 0 Anteile 532 Ansichten 5
  • السلام و علیکم سر ریحان صاحب میں ایک موٹیویشنل سپیکر بننا چاہتا ہوں الحمدللہ اس کی پریکٹس بھی کر رہا ہوں اور مطالعہ بھی کرتا ہوں بکس کا

    آپکا کیا مشورہ ہے اس بارے میں ?
    السلام و علیکم سر ریحان صاحب میں ایک موٹیویشنل سپیکر بننا چاہتا ہوں الحمدللہ اس کی پریکٹس بھی کر رہا ہوں اور مطالعہ بھی کرتا ہوں بکس کا آپکا کیا مشورہ ہے اس بارے میں ?
    0 Kommentare 0 Anteile 394 Ansichten
  • زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے

    اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185

    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ‎﴿١٨٥﴾‏

    ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185)

    راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔

    میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔

    راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔

    اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔

    Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
    زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185 كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ‎﴿١٨٥﴾‏ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185) راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔ میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔ اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔ Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
    0 Kommentare 0 Anteile 852 Ansichten
  • ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب

    ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟
    آگے چلیے!
    اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے!

    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!!

    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!!

    ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔

    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔

    اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم!

    Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob

    Jamia Binoria International [Official]
    ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟ #مولانا_محمد_جہان_یعقوب ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟ آگے چلیے! اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!! ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔ ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم! Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob Jamia Binoria International [Official]
    0 Kommentare 0 Anteile 1026 Ansichten
  • کامیابی منزل میں نہیں، سفر میں ہے

    یہ سب کچھ میں اُس وقت کہنا چاہتا تھا جب میرے دوست ظفر صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ ChaiCon پر مجھ سے ملنے آئے تھے۔ جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا، دل کانپ سا گیا۔ ان کے چہرے پر ایسی اداسی اور تھکن تھی جیسے انہوں نے صدیوں کا سفر طے کر لیا ہو۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں، مگر ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، جھکے ہوئے کندھے اور چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں بتا رہی تھیں کہ زندگی کا بوجھ انہوں نے اپنے دل پر اُٹھا رکھا ہے۔

    میں چاہتا تھا کہ اُس لمحے Zafar Abundance Walaa صاحب کا ہاتھ تھام کر انہیں بتاؤں کہ وہ کتنا آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن زبان بند تھی، الفاظ موجود نہ تھے۔ آج یہ تحریر میں صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ہر اُس نوجوان کے لیے لکھ رہا ہوں جو مایوسی اور تھکن میں ڈوبا ہوا ہے۔

    1. زندگی کو کس پیمانے سے ناپتے ہیں؟

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ کوئی دوست باہر چلا گیا تو ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں، کوئی ہم جماعت بڑی گاڑی لے آیا تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ خود ہم کہاں تک پہنچے ہیں؟

    نیپولین ہِل نے اپنی کتاب Think and Grow Rich میں لکھا ہے:
    “اپنی کامیابیوں کا حساب رکھو، کیونکہ یہی تمہیں اگلی لڑائی جیتنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔”

    یہی پہلا سبق ہے: زندگی کو دوسروں کے ترازو میں نہ تولو، اپنا ترازو بناؤ۔

    2. خاموش کامیابیاں بھی کامیابی ہیں

    ہم اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں چھوٹی جیتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت انہی چھوٹی کامیابیوں میں چھپی ہے۔
    • وہ دن جب ظفر صاحب نے ہمت ہارنے کے باوجود صبح اُٹھ کر دفتر کا راستہ لیا، یہ بھی کامیابی ہے۔
    • وہ رات جب انہوں نے قرض کے دباؤ کے باوجود اپنے بچوں کو مسکرا کر سنبھالا، یہ بھی جیت ہے۔
    • وہ لمحہ جب لوگوں نے ان کے خوابوں پر ہنسا لیکن انہوں نے دل میں خواب محفوظ رکھا، یہ بھی فتح ہے۔

    یہی چھوٹے چھوٹے قدم کل کی بڑی منزل بناتے ہیں۔

    3. قانونِ توجہ: جس پر نظر ہو، وہی بڑھتا ہے

    نیپولین ہِل کہتے ہیں: “جہاں توجہ ہو، وہیں توانائی جاتی ہے۔”

    اگر ہماری نظریں صرف کمی، ناکامی اور غربت پر رہیں گی تو وہی بڑھے گی۔ لیکن اگر ہماری نظریں اپنی محنت، اپنے سیکھے گئے سبق اور اپنے چھوٹے چھوٹے کارناموں پر رہیں گی تو انہی میں سے طاقت پیدا ہوگی۔

    یہ قانون قرآن سے بھی میل کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    “اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (ابراہیم: 7)

    شکر کا مطلب صرف زبانی نہیں، بلکہ اپنی کامیابیوں پر غور کرنا بھی ہے۔

    4. کامیابی کا نیا پیمانہ

    ہمارے معاشرے میں کامیابی ہمیشہ دوسروں سے مقابلے میں ناپی جاتی ہے۔
    • فلاں کے پاس بڑی گاڑی ہے۔
    • فلاں کا کاروبار ہے۔
    • فلاں نے گھر خرید لیا۔

    لیکن اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے:
    • کل میں جو نہیں جانتا تھا، کیا آج جانتا ہوں؟
    • کل میں جو نہیں کر سکتا تھا، کیا آج کر سکتا ہوں؟
    • کل میں جو خوف سے رُک گیا تھا، کیا آج ایک قدم آگے بڑھا لیا ہے؟

    یہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ دوسروں کی دولت یا شہرت۔

    5. موٹیویشن نہیں، مومنٹم

    ہم اکثر کہتے ہیں: “ہمیں موٹیویشن چاہیے۔” لیکن موٹیویشن وقتی چیز ہے، آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ اصل طاقت مومنٹم میں ہے۔

    جب ظفر صاحب سوچتے ہیں: “میں نے کل کے مقابلے میں آج ایک قدم آگے بڑھایا ہے” تو یہی سوچ کل کے سفر کو آسان بنا دیتی ہے۔ اور یہی مومنٹم انسان کو کبھی نہ رکنے دیتا ہے۔

    6. زخم اور داغ: اصل ریزیومے

    دنیا کے سب سے بڑے لیڈرز اور بزنس مین کی کامیابیاں ان کے زخموں پر کھڑی ہیں۔ ہر ناکامی، ہر ٹھوکر، ہر دھوکہ ان کے لیے اگلے قدم کا استاد بنا۔

    ظفر صاحب کے چہرے پر جو تھکن کی لکیریں ہیں، وہ دراصل ان کے تجربے کا سرمایہ ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بار بار گرے اور بار بار اُٹھے۔ یہی داغ ان کے ریزیومے کی اصل طاقت ہیں۔

    7. موازنہ: سب سے بڑا زہر

    ہم اپنی زندگی دوسروں کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ یہی سب سے بڑا زہر ہے۔

    قرآن کہتا ہے:
    “اور کسی اور کی چیزوں کو نہ للچاؤ جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔” (النساء: 32)

    اللہ نے ہر ایک کا سفر الگ بنایا ہے۔ تمہارا مقابلہ کسی اور سے نہیں، صرف اپنے کل سے ہے۔

    8. شکر گزاری + عزم = تقدیر کا انجن

    کامیابی کے لیے دو چیزیں لازم ہیں:
    1. شکر گزاری — جو کچھ ملا ہے، اسے پہچانو۔
    2. عزم — جو پانا ہے، اس کے لیے لگن رکھو۔

    یہ دونوں چیزیں مل کر تقدیر کا انجن بناتی ہیں۔ اگر شکر نہ ہو تو دل خالی رہتا ہے، اور اگر عزم نہ ہو تو قدم رُک جاتے ہیں۔

    ظفر صاحب جیسے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شکر صرف اللہ کے سامنے سر جھکانے کا نہیں بلکہ اپنی چھوٹی کامیابیوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ اور عزم کا مطلب صرف خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ ہر دن ایک قدم بڑھانے کا نام ہے۔

    9. خوف کیوں ختم ہوتا ہے؟

    جب انسان اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس طرح اُس نے مشکلات کو شکست دی، تو اس کے اندر ایک نیا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی یقین مستقبل کے طوفانوں سے بے خوف کر دیتا ہے۔

    ظفر صاحب! آپ کے اندر پہلے ہی وہ طاقت ہے جو کل کے طوفان جھیل سکتی ہے۔ بس آپ کو یاد رکھنا ہے کہ آپ کتنی بار مشکلات جھیل چکے ہیں۔

    10. مایوسی سے امید تک

    مایوسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: “جب تک سانس باقی ہے، امکانات باقی ہیں۔”

    آپ جتنا سفر طے کر چکے ہیں، وہ آپ کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں سے آگے بڑھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔

    ظفر صاحب، اور آپ جیسے ہر نوجوان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آپ کے اندر وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو کاٹ سکتی ہے، وہ ہمت ہے جو طوفانوں کو چیر سکتی ہے، اور وہ یقین ہے جو تقدیر بدل سکتا ہے۔ یاد رکھیں! اللہ نے آپ کو زندہ رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے حصے کا کام ابھی باقی ہے، آپ کے حصے کی کامیابیاں ابھی لکھی جانی ہیں

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ظفر صاحب کا اپنے نام کے ساتھ “Abundancewala” جوڑ لینا اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ فراوانی کو پہچان لیا ہے۔ اب یہ ہم سب کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی بے پایاں رحمتوں کو دیکھیں۔ جب ہم اس کی عطا کردہ فراوانی پر نظر رکھتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، تو ہم اپنی زندگی کے مقاصد کی طرف زیادہ ہمت اور اعتماد سے قدم بڑھا سکتے ہیں

    Usman Chughtai
    کامیابی منزل میں نہیں، سفر میں ہے یہ سب کچھ میں اُس وقت کہنا چاہتا تھا جب میرے دوست ظفر صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ ChaiCon پر مجھ سے ملنے آئے تھے۔ جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا، دل کانپ سا گیا۔ ان کے چہرے پر ایسی اداسی اور تھکن تھی جیسے انہوں نے صدیوں کا سفر طے کر لیا ہو۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں، مگر ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، جھکے ہوئے کندھے اور چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں بتا رہی تھیں کہ زندگی کا بوجھ انہوں نے اپنے دل پر اُٹھا رکھا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اُس لمحے Zafar Abundance Walaa صاحب کا ہاتھ تھام کر انہیں بتاؤں کہ وہ کتنا آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن زبان بند تھی، الفاظ موجود نہ تھے۔ آج یہ تحریر میں صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ہر اُس نوجوان کے لیے لکھ رہا ہوں جو مایوسی اور تھکن میں ڈوبا ہوا ہے۔ 1. زندگی کو کس پیمانے سے ناپتے ہیں؟ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ کوئی دوست باہر چلا گیا تو ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں، کوئی ہم جماعت بڑی گاڑی لے آیا تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ خود ہم کہاں تک پہنچے ہیں؟ نیپولین ہِل نے اپنی کتاب Think and Grow Rich میں لکھا ہے: “اپنی کامیابیوں کا حساب رکھو، کیونکہ یہی تمہیں اگلی لڑائی جیتنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔” یہی پہلا سبق ہے: زندگی کو دوسروں کے ترازو میں نہ تولو، اپنا ترازو بناؤ۔ 2. خاموش کامیابیاں بھی کامیابی ہیں ہم اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں چھوٹی جیتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت انہی چھوٹی کامیابیوں میں چھپی ہے۔ • وہ دن جب ظفر صاحب نے ہمت ہارنے کے باوجود صبح اُٹھ کر دفتر کا راستہ لیا، یہ بھی کامیابی ہے۔ • وہ رات جب انہوں نے قرض کے دباؤ کے باوجود اپنے بچوں کو مسکرا کر سنبھالا، یہ بھی جیت ہے۔ • وہ لمحہ جب لوگوں نے ان کے خوابوں پر ہنسا لیکن انہوں نے دل میں خواب محفوظ رکھا، یہ بھی فتح ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے قدم کل کی بڑی منزل بناتے ہیں۔ 3. قانونِ توجہ: جس پر نظر ہو، وہی بڑھتا ہے نیپولین ہِل کہتے ہیں: “جہاں توجہ ہو، وہیں توانائی جاتی ہے۔” اگر ہماری نظریں صرف کمی، ناکامی اور غربت پر رہیں گی تو وہی بڑھے گی۔ لیکن اگر ہماری نظریں اپنی محنت، اپنے سیکھے گئے سبق اور اپنے چھوٹے چھوٹے کارناموں پر رہیں گی تو انہی میں سے طاقت پیدا ہوگی۔ یہ قانون قرآن سے بھی میل کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (ابراہیم: 7) شکر کا مطلب صرف زبانی نہیں، بلکہ اپنی کامیابیوں پر غور کرنا بھی ہے۔ 4. کامیابی کا نیا پیمانہ ہمارے معاشرے میں کامیابی ہمیشہ دوسروں سے مقابلے میں ناپی جاتی ہے۔ • فلاں کے پاس بڑی گاڑی ہے۔ • فلاں کا کاروبار ہے۔ • فلاں نے گھر خرید لیا۔ لیکن اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے: • کل میں جو نہیں جانتا تھا، کیا آج جانتا ہوں؟ • کل میں جو نہیں کر سکتا تھا، کیا آج کر سکتا ہوں؟ • کل میں جو خوف سے رُک گیا تھا، کیا آج ایک قدم آگے بڑھا لیا ہے؟ یہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ دوسروں کی دولت یا شہرت۔ 5. موٹیویشن نہیں، مومنٹم ہم اکثر کہتے ہیں: “ہمیں موٹیویشن چاہیے۔” لیکن موٹیویشن وقتی چیز ہے، آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ اصل طاقت مومنٹم میں ہے۔ جب ظفر صاحب سوچتے ہیں: “میں نے کل کے مقابلے میں آج ایک قدم آگے بڑھایا ہے” تو یہی سوچ کل کے سفر کو آسان بنا دیتی ہے۔ اور یہی مومنٹم انسان کو کبھی نہ رکنے دیتا ہے۔ 6. زخم اور داغ: اصل ریزیومے دنیا کے سب سے بڑے لیڈرز اور بزنس مین کی کامیابیاں ان کے زخموں پر کھڑی ہیں۔ ہر ناکامی، ہر ٹھوکر، ہر دھوکہ ان کے لیے اگلے قدم کا استاد بنا۔ ظفر صاحب کے چہرے پر جو تھکن کی لکیریں ہیں، وہ دراصل ان کے تجربے کا سرمایہ ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بار بار گرے اور بار بار اُٹھے۔ یہی داغ ان کے ریزیومے کی اصل طاقت ہیں۔ 7. موازنہ: سب سے بڑا زہر ہم اپنی زندگی دوسروں کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ یہی سب سے بڑا زہر ہے۔ قرآن کہتا ہے: “اور کسی اور کی چیزوں کو نہ للچاؤ جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔” (النساء: 32) اللہ نے ہر ایک کا سفر الگ بنایا ہے۔ تمہارا مقابلہ کسی اور سے نہیں، صرف اپنے کل سے ہے۔ 8. شکر گزاری + عزم = تقدیر کا انجن کامیابی کے لیے دو چیزیں لازم ہیں: 1. شکر گزاری — جو کچھ ملا ہے، اسے پہچانو۔ 2. عزم — جو پانا ہے، اس کے لیے لگن رکھو۔ یہ دونوں چیزیں مل کر تقدیر کا انجن بناتی ہیں۔ اگر شکر نہ ہو تو دل خالی رہتا ہے، اور اگر عزم نہ ہو تو قدم رُک جاتے ہیں۔ ظفر صاحب جیسے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شکر صرف اللہ کے سامنے سر جھکانے کا نہیں بلکہ اپنی چھوٹی کامیابیوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ اور عزم کا مطلب صرف خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ ہر دن ایک قدم بڑھانے کا نام ہے۔ 9. خوف کیوں ختم ہوتا ہے؟ جب انسان اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس طرح اُس نے مشکلات کو شکست دی، تو اس کے اندر ایک نیا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی یقین مستقبل کے طوفانوں سے بے خوف کر دیتا ہے۔ ظفر صاحب! آپ کے اندر پہلے ہی وہ طاقت ہے جو کل کے طوفان جھیل سکتی ہے۔ بس آپ کو یاد رکھنا ہے کہ آپ کتنی بار مشکلات جھیل چکے ہیں۔ 10. مایوسی سے امید تک مایوسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: “جب تک سانس باقی ہے، امکانات باقی ہیں۔” آپ جتنا سفر طے کر چکے ہیں، وہ آپ کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں سے آگے بڑھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔ ظفر صاحب، اور آپ جیسے ہر نوجوان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آپ کے اندر وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو کاٹ سکتی ہے، وہ ہمت ہے جو طوفانوں کو چیر سکتی ہے، اور وہ یقین ہے جو تقدیر بدل سکتا ہے۔ یاد رکھیں! اللہ نے آپ کو زندہ رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے حصے کا کام ابھی باقی ہے، آپ کے حصے کی کامیابیاں ابھی لکھی جانی ہیں آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ظفر صاحب کا اپنے نام کے ساتھ “Abundancewala” جوڑ لینا اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ فراوانی کو پہچان لیا ہے۔ اب یہ ہم سب کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی بے پایاں رحمتوں کو دیکھیں۔ جب ہم اس کی عطا کردہ فراوانی پر نظر رکھتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، تو ہم اپنی زندگی کے مقاصد کی طرف زیادہ ہمت اور اعتماد سے قدم بڑھا سکتے ہیں Usman Chughtai
    0 Kommentare 0 Anteile 729 Ansichten
  • وعلیکم میں آپ کو وسیم قریشی سے متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک شخصیت ہیں جن کے لفظ اور اعمال سے ہمیں متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رائٹر، موٹیویشنل سپیکر اور پیرنٹنگ کاونسلر ہیں، اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے حوالے سے کامواب ہیں۔

    وقاص قریشی "قطرہ قطرہ قلزم" کے بانی ہیں، جو ایک منفرد فلاحی پلیٹ فارم ہے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو گداگری سے ہٹا کر خود داری پر لگانا اور انہیں ان کی جڑوں سے جوڑنا ہے۔

    وقاص قریشی کی لکھائی، موٹیویشنل سپیچز اور کاؤنسلنگ کے ذریعے، وہ نوجوانوں کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کو قبول کرنے، مضبوطی بنانے اور کامیابی کی راہ پر ترقی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے تجربات اور راہنمائی کا قیمتی خزانہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خود کو درست راہ پر لانا چاہتے ہیں۔

    میں فیس بک پر وقاص قریشی کے ساتھ رابطہ کر کے بہت خوش قسمت ہوں اور ہمارے تعاملات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی نوجوانوں کو قوت دیتے ہوئے، ان کو منفی افکار سے نکالنے اور خودی پیدا کرنے کے لئے دلی دعوت ہیں۔

    ہم اپنے چہرے کے ساتھ وقاص قریشی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے تجربات اور دانائی سے سیکھنے کیلئے بڑے لوگوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کی پیج کو فالو کریں اور ان کے مواد کے ساتھ تعامل کریں تاکہ آپ بھی اپنی صلاحیتوں کو خارج کر سکیں اور خود کی خودی کی سفر پر نکلیں۔

    وقاص قریشی، آپ کے موٹیویشن اور رہنمائی کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کے کوششوں سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں مستفید ہوتی رہیں۔ آپ کو اپنے منصوبوں میں مکمل کامیابی کی خواہش کرتے ہیں!

    #انسپیریشن #موٹیویشن #خودی_پیدا_کریں #فالو_کریں_اور_سیکھیں #نیا_دوست
    وعلیکم میں آپ کو وسیم قریشی سے متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک شخصیت ہیں جن کے لفظ اور اعمال سے ہمیں متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رائٹر، موٹیویشنل سپیکر اور پیرنٹنگ کاونسلر ہیں، اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے حوالے سے کامواب ہیں۔ وقاص قریشی "قطرہ قطرہ قلزم" کے بانی ہیں، جو ایک منفرد فلاحی پلیٹ فارم ہے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو گداگری سے ہٹا کر خود داری پر لگانا اور انہیں ان کی جڑوں سے جوڑنا ہے۔ وقاص قریشی کی لکھائی، موٹیویشنل سپیچز اور کاؤنسلنگ کے ذریعے، وہ نوجوانوں کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کو قبول کرنے، مضبوطی بنانے اور کامیابی کی راہ پر ترقی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے تجربات اور راہنمائی کا قیمتی خزانہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خود کو درست راہ پر لانا چاہتے ہیں۔ میں فیس بک پر وقاص قریشی کے ساتھ رابطہ کر کے بہت خوش قسمت ہوں اور ہمارے تعاملات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی نوجوانوں کو قوت دیتے ہوئے، ان کو منفی افکار سے نکالنے اور خودی پیدا کرنے کے لئے دلی دعوت ہیں۔ ہم اپنے چہرے کے ساتھ وقاص قریشی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے تجربات اور دانائی سے سیکھنے کیلئے بڑے لوگوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کی پیج کو فالو کریں اور ان کے مواد کے ساتھ تعامل کریں تاکہ آپ بھی اپنی صلاحیتوں کو خارج کر سکیں اور خود کی خودی کی سفر پر نکلیں۔ وقاص قریشی، آپ کے موٹیویشن اور رہنمائی کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کے کوششوں سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں مستفید ہوتی رہیں۔ آپ کو اپنے منصوبوں میں مکمل کامیابی کی خواہش کرتے ہیں! #انسپیریشن #موٹیویشن #خودی_پیدا_کریں #فالو_کریں_اور_سیکھیں #نیا_دوست
    0 Kommentare 0 Anteile 461 Ansichten
  • ریحان اللہ والا ایک جادوگر ۔۔۔۔

    ریحان اللہ والا سے میرا ڈیجیٹل تعارف غالبا 2015 کے اواخر یا 16 کے اوائل میں ہوا تھا جب میں نے اپنے گلشن معمار میں قائم ادارے مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کا نظام اہتمام سنبھالا تھا۔۔۔۔۔

    یہ وہ دور تھا جب میں آئی ٹی کے نام کی صرف abbreviation جانتا تھا اور باوجود کئی کمپیوٹر کورسز کرنے کے کسی ایک کورس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھارہا تھا ۔۔۔۔۔

    ریحان اللہ والا کو شروع شروع میں جب سننا شروع یا تو ان کی باتیں کسی پاگل کی بڑ محسوس ہوئیں، لگا کہ کہ یہ بندہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہے غلطی سے ہمارے سیارے پر آگیا ہے اور جو باتیں وہ کررہا ہے وہ عملی باتیں نہیں ہیں جادوئی دنیا میں تو یہ سب ہوسکتا ہے لیکن حقیقی دنیا کے اصول کچھ الگ ہیں۔۔۔۔

    مگرچند سال سنتے رہنے کے بعد احساس ہوا کہ ۔۔۔۔ نہیں یار کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ چلو ایک دفعہ آئی ٹی کی دنیا میں اتر کر دیکھ لینا چاہئیے کیا منجن ہے یہ ۔۔۔جہاں زندگی کے 24,25 سال ضائع کردیے ہیں وہاں ایک آدھ سال اور سہی ۔۔۔۔

    2016 میں گرافک ڈیزائننگ کا کام سیکھا اور شروع کیا الحمدللہ پہلے ہی سال ہزاروں روپوں کے پراجیکٹس بنالئے، پھر کمپیوٹر ٹائپنگ کے میدان میں اترے وہاں سے بھی ہزاروں روپے بنالئے۔۔۔ پھر کانٹینٹ رائٹنگ شروع کی ۔۔۔ جو کہ تاحال جاری ہے۔۔ جس کے بقیہ پراجیکٹس اب میرے طلباء سنبھالتے ہیں ۔۔

    2017 میں ڈیجیٹل اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کے میدان میں آیا اور الحمدللہ اس سے بھی ہزاروں روپے بنائے اور اسی کام کے ذریعے سوشل میڈیا پر میری مختصر سی پہچان بنی۔۔۔۔ لیکن چونکہ صرف ایک سال کیلئے ہی سوچا تھا تو اللہ تعالی نے ایک سال کے عرصے میں ہی مجھے اتنا کچھ عطا فرمایا جو گزشتہ 24 سالوں میں حاصل نہیں کرسکا تھا۔۔۔ 2017 میری زندگی کا اہم موڑ واقع ہوا۔۔۔ اور پھر میں نے زندگی بھر کیلئے اسی فیلڈ کا انتخاب کرلیا

    2017 سے 2018 میں الحمدللہ میں نے اپنے شعبے یعنی تعلیم کے میدان میں وہ مقام بنایا جو سالوں لگا کر لوگ نہیں بنا پاتے ۔۔۔ اللہ تعالی نے وہ عزت اور مقام عطا فرمایا کہ شاید چند کے علاوہ الحمدللہ کراچی کے ہر بڑے اسلامک اسکول کے مالک، پرنسپل یا ایڈمن مجھے نام سے جانتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی نے مختلف تعلیمی بورڈز کا ممبر بننے کا شرف بھی عطا فرمایا اور اسی نیٹ ورکنگ کی بدولت پاکستان بھر میں 1500 سے زائید تعلیمی اداروں کا ورچوئل اور فزیکل وزٹ بھی کروایا۔۔۔۔

    اگر میں غلط نہیں ہوں تو کراچی کا پہلا ایجوکیشنل ایونٹس گروپ بھی میں نے قائم کیا جس میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں کے سربراہان بنفس نفیس تاحال گزشتہ پانچ سالوں سے شامل ہیں ۔۔۔

    2018 میں ریحان اللہ والا سے میری پہلی ملاقات کراچی میں منعقدہ ایک بہت بڑے عالمی ایونٹ میں اس وقت ہوئی جب میں وہاں ایک پراجیکٹ کو ہیڈ کررہا تھا اس وقت میں نے اپنا مذکورہ بالا تعارف کروایا تو خوش ہوکر انہوں نے اپنے آئی فون سے ایک سیلفی کلک کی اور مجھے میسنجر بھی بھیج دی اس کے بعد ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا

    2021 میں ایک شہر کو ڈیجیٹل لٹریٹ کرنے کے منصوبے میں بھی ریحان اللہ والا کے ساتھ جانے کا موقع ملا پھر 2022 میں وہ خود ہمارے ادارے کے وزٹ پر تشریف لائے جس کے بعد مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کو پاکستان بھر میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔۔۔

    ریحان اللہ والا کے وژن کو سمجھنے میں مجھے 2 سال لگے اور پھر اس کے وژن پر کام کرتے ہوئے وہ سب حاصل کرنے میں جس کا میں صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا اس میں مجھے 4 سال لگے۔۔۔

    ایک شخص جس نے مسلسل بغیر ہمت ہارے مجھے موٹیویشن دی اور یہ یقین دلایا کہ میں کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ میری ہر کال اور میسج کا سب سے پہلے رپلائی کیا ۔۔۔۔ میری ایک دعوت پر میرے ادارے کے وزٹ پر آئے اور ہماری پوری ٹیم کو ہمت حوصلہ اور موٹیویشن دے کر چلے گئے۔۔۔۔

    ایک آدمی کی ہمت لگن، مستقل مزاجی، اپنے کام سے واقفیت، جذبہ، خلوص اور پاگل پن نے میرے جیسے کئی لوگوں کی دنیا آئی ٹی فیلڈ میں بدلی ہیں۔۔۔۔۔

    اور الحمدللہ اب میں کئی سو لوگوں کی زندگیاں اسی پیشن اور ڈیڈیکیشن کے ساتھ بدلنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔۔۔

    مجھے امید ہے ریحان اللہ والا اب ایک شخص نہیں رہا اس نے اپنے جیسے کئی والے اور والیاں بنادیے ہیں جو ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ایک جادوگر ہے جس کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن اس کے پاس مستقل مزاجی ہے، ہمت ہے، جہد مسلسل کی طاقت ہے، گالی سن کر برداشت کرنے کا حوصلہ ہے، طنز سہہ کر پی جانے کا گر جانتا ہے، پتھر کھاکر پھول پیش کرتا ہے، منع کرنے باوجود لگا رہتا ہے، لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ سب کیلئے راستے بناتا رہتا ہے ۔۔۔۔

    Post Credit: Abdur Rahman Khan
    ریحان اللہ والا ایک جادوگر ۔۔۔۔ ریحان اللہ والا سے میرا ڈیجیٹل تعارف غالبا 2015 کے اواخر یا 16 کے اوائل میں ہوا تھا جب میں نے اپنے گلشن معمار میں قائم ادارے مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کا نظام اہتمام سنبھالا تھا۔۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب میں آئی ٹی کے نام کی صرف abbreviation جانتا تھا اور باوجود کئی کمپیوٹر کورسز کرنے کے کسی ایک کورس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھارہا تھا ۔۔۔۔۔ ریحان اللہ والا کو شروع شروع میں جب سننا شروع یا تو ان کی باتیں کسی پاگل کی بڑ محسوس ہوئیں، لگا کہ کہ یہ بندہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہے غلطی سے ہمارے سیارے پر آگیا ہے اور جو باتیں وہ کررہا ہے وہ عملی باتیں نہیں ہیں جادوئی دنیا میں تو یہ سب ہوسکتا ہے لیکن حقیقی دنیا کے اصول کچھ الگ ہیں۔۔۔۔ مگرچند سال سنتے رہنے کے بعد احساس ہوا کہ ۔۔۔۔ نہیں یار کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ چلو ایک دفعہ آئی ٹی کی دنیا میں اتر کر دیکھ لینا چاہئیے کیا منجن ہے یہ ۔۔۔جہاں زندگی کے 24,25 سال ضائع کردیے ہیں وہاں ایک آدھ سال اور سہی ۔۔۔۔ 2016 میں گرافک ڈیزائننگ کا کام سیکھا اور شروع کیا الحمدللہ پہلے ہی سال ہزاروں روپوں کے پراجیکٹس بنالئے، پھر کمپیوٹر ٹائپنگ کے میدان میں اترے وہاں سے بھی ہزاروں روپے بنالئے۔۔۔ پھر کانٹینٹ رائٹنگ شروع کی ۔۔۔ جو کہ تاحال جاری ہے۔۔ جس کے بقیہ پراجیکٹس اب میرے طلباء سنبھالتے ہیں ۔۔ 2017 میں ڈیجیٹل اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کے میدان میں آیا اور الحمدللہ اس سے بھی ہزاروں روپے بنائے اور اسی کام کے ذریعے سوشل میڈیا پر میری مختصر سی پہچان بنی۔۔۔۔ لیکن چونکہ صرف ایک سال کیلئے ہی سوچا تھا تو اللہ تعالی نے ایک سال کے عرصے میں ہی مجھے اتنا کچھ عطا فرمایا جو گزشتہ 24 سالوں میں حاصل نہیں کرسکا تھا۔۔۔ 2017 میری زندگی کا اہم موڑ واقع ہوا۔۔۔ اور پھر میں نے زندگی بھر کیلئے اسی فیلڈ کا انتخاب کرلیا 2017 سے 2018 میں الحمدللہ میں نے اپنے شعبے یعنی تعلیم کے میدان میں وہ مقام بنایا جو سالوں لگا کر لوگ نہیں بنا پاتے ۔۔۔ اللہ تعالی نے وہ عزت اور مقام عطا فرمایا کہ شاید چند کے علاوہ الحمدللہ کراچی کے ہر بڑے اسلامک اسکول کے مالک، پرنسپل یا ایڈمن مجھے نام سے جانتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی نے مختلف تعلیمی بورڈز کا ممبر بننے کا شرف بھی عطا فرمایا اور اسی نیٹ ورکنگ کی بدولت پاکستان بھر میں 1500 سے زائید تعلیمی اداروں کا ورچوئل اور فزیکل وزٹ بھی کروایا۔۔۔۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو کراچی کا پہلا ایجوکیشنل ایونٹس گروپ بھی میں نے قائم کیا جس میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں کے سربراہان بنفس نفیس تاحال گزشتہ پانچ سالوں سے شامل ہیں ۔۔۔ 2018 میں ریحان اللہ والا سے میری پہلی ملاقات کراچی میں منعقدہ ایک بہت بڑے عالمی ایونٹ میں اس وقت ہوئی جب میں وہاں ایک پراجیکٹ کو ہیڈ کررہا تھا اس وقت میں نے اپنا مذکورہ بالا تعارف کروایا تو خوش ہوکر انہوں نے اپنے آئی فون سے ایک سیلفی کلک کی اور مجھے میسنجر بھی بھیج دی اس کے بعد ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا 2021 میں ایک شہر کو ڈیجیٹل لٹریٹ کرنے کے منصوبے میں بھی ریحان اللہ والا کے ساتھ جانے کا موقع ملا پھر 2022 میں وہ خود ہمارے ادارے کے وزٹ پر تشریف لائے جس کے بعد مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کو پاکستان بھر میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔۔۔ ریحان اللہ والا کے وژن کو سمجھنے میں مجھے 2 سال لگے اور پھر اس کے وژن پر کام کرتے ہوئے وہ سب حاصل کرنے میں جس کا میں صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا اس میں مجھے 4 سال لگے۔۔۔ ایک شخص جس نے مسلسل بغیر ہمت ہارے مجھے موٹیویشن دی اور یہ یقین دلایا کہ میں کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ میری ہر کال اور میسج کا سب سے پہلے رپلائی کیا ۔۔۔۔ میری ایک دعوت پر میرے ادارے کے وزٹ پر آئے اور ہماری پوری ٹیم کو ہمت حوصلہ اور موٹیویشن دے کر چلے گئے۔۔۔۔ ایک آدمی کی ہمت لگن، مستقل مزاجی، اپنے کام سے واقفیت، جذبہ، خلوص اور پاگل پن نے میرے جیسے کئی لوگوں کی دنیا آئی ٹی فیلڈ میں بدلی ہیں۔۔۔۔۔ اور الحمدللہ اب میں کئی سو لوگوں کی زندگیاں اسی پیشن اور ڈیڈیکیشن کے ساتھ بدلنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔۔۔ مجھے امید ہے ریحان اللہ والا اب ایک شخص نہیں رہا اس نے اپنے جیسے کئی والے اور والیاں بنادیے ہیں جو ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ایک جادوگر ہے جس کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن اس کے پاس مستقل مزاجی ہے، ہمت ہے، جہد مسلسل کی طاقت ہے، گالی سن کر برداشت کرنے کا حوصلہ ہے، طنز سہہ کر پی جانے کا گر جانتا ہے، پتھر کھاکر پھول پیش کرتا ہے، منع کرنے باوجود لگا رہتا ہے، لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ سب کیلئے راستے بناتا رہتا ہے ۔۔۔۔ Post Credit: Abdur Rahman Khan
    0 Kommentare 0 Anteile 138 Ansichten
  • یہاں “بزنس مین” اور “انٹرپرینیور” (کاروباری شخص اور تخلیقی کاروباری) کے درمیان فرق آسان اردو میں بیان کیا گیا ہے:



    1. تعریف اور توجہ
    • بزنس مین:
    بزنس مین وہ ہوتا ہے جو پہلے سے موجود کاروبار چلاتا ہے۔ اس کی توجہ منافع کمانے، کاروبار کو بہتر بنانے اور آزمائے ہوئے طریقوں پر چلنے پر ہوتی ہے۔
    • انٹرپرینیور:
    انٹرپرینیور وہ ہوتا ہے جو کوئی نیا خیال لاتا ہے، نیا کاروبار شروع کرتا ہے یا پرانے نظام میں تبدیلی لاتا ہے۔ وہ تخلیق اور نیاپن پر یقین رکھتا ہے۔



    2. رسک (خطرہ) کے بارے میں رویہ
    • بزنس مین:
    زیادہ محتاط ہوتا ہے، رسک کم لیتا ہے، وہ ایسے شعبوں میں کام کرتا ہے جہاں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں۔
    • انٹرپرینیور:
    رسک لینے سے نہیں گھبراتا۔ وہ نیا کام کرنے، نیا تجربہ کرنے اور مارکیٹ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔



    3. تخلیق یا مینجمنٹ
    • بزنس مین:
    زیادہ تر مینجمنٹ پر فوکس کرتا ہے، یعنی چیزوں کو بہتر طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔
    • انٹرپرینیور:
    نئے آئیڈیاز اور تخلیقی سوچ پر فوکس کرتا ہے، وہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔



    4. وژن اور عمل
    • بزنس مین:
    کسی اور کا بنایا ہوا وژن یا کاروبار سنبھالتا ہے، اس کو بہتر طریقے سے چلاتا ہے۔
    • انٹرپرینیور:
    اپنا وژن خود بناتا ہے، اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔



    5. مقصد یا موٹیویشن
    • بزنس مین:
    زیادہ تر پیسہ کمانا، مارکیٹ میں آگے رہنا اور کاروبار کو محفوظ رکھنا مقصد ہوتا ہے۔
    • انٹرپرینیور:
    پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ کچھ نیا کرنے، فرق ڈالنے یا سماجی تبدیلی لانے کی خواہش رکھتا ہے۔



    6. ترقی کی سوچ
    • بزنس مین:
    آہستہ اور محفوظ ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ روایتی طریقے اپناتا ہے۔
    • انٹرپرینیور:
    تیز ترقی، نیا مارکیٹ تلاش کرنے، اور جلدی بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جلد فیصلے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔



    خلاصہ:
    بزنس مین عام طور پر موجودہ کاروبار کو سنبھالتا ہے اور محفوظ راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ انٹرپرینیور نئی راہیں تلاش کرتا ہے، رسک لیتا ہے اور تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں کا اپنا اپنا اہم کردار ہوتا ہے، لیکن سوچ اور طریقے مختلف ہوتے ہیں۔
    یہاں “بزنس مین” اور “انٹرپرینیور” (کاروباری شخص اور تخلیقی کاروباری) کے درمیان فرق آسان اردو میں بیان کیا گیا ہے: ⸻ 1. تعریف اور توجہ • بزنس مین: بزنس مین وہ ہوتا ہے جو پہلے سے موجود کاروبار چلاتا ہے۔ اس کی توجہ منافع کمانے، کاروبار کو بہتر بنانے اور آزمائے ہوئے طریقوں پر چلنے پر ہوتی ہے۔ • انٹرپرینیور: انٹرپرینیور وہ ہوتا ہے جو کوئی نیا خیال لاتا ہے، نیا کاروبار شروع کرتا ہے یا پرانے نظام میں تبدیلی لاتا ہے۔ وہ تخلیق اور نیاپن پر یقین رکھتا ہے۔ ⸻ 2. رسک (خطرہ) کے بارے میں رویہ • بزنس مین: زیادہ محتاط ہوتا ہے، رسک کم لیتا ہے، وہ ایسے شعبوں میں کام کرتا ہے جہاں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں۔ • انٹرپرینیور: رسک لینے سے نہیں گھبراتا۔ وہ نیا کام کرنے، نیا تجربہ کرنے اور مارکیٹ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ ⸻ 3. تخلیق یا مینجمنٹ • بزنس مین: زیادہ تر مینجمنٹ پر فوکس کرتا ہے، یعنی چیزوں کو بہتر طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ • انٹرپرینیور: نئے آئیڈیاز اور تخلیقی سوچ پر فوکس کرتا ہے، وہ کچھ مختلف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ⸻ 4. وژن اور عمل • بزنس مین: کسی اور کا بنایا ہوا وژن یا کاروبار سنبھالتا ہے، اس کو بہتر طریقے سے چلاتا ہے۔ • انٹرپرینیور: اپنا وژن خود بناتا ہے، اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ ⸻ 5. مقصد یا موٹیویشن • بزنس مین: زیادہ تر پیسہ کمانا، مارکیٹ میں آگے رہنا اور کاروبار کو محفوظ رکھنا مقصد ہوتا ہے۔ • انٹرپرینیور: پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ کچھ نیا کرنے، فرق ڈالنے یا سماجی تبدیلی لانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ⸻ 6. ترقی کی سوچ • بزنس مین: آہستہ اور محفوظ ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ روایتی طریقے اپناتا ہے۔ • انٹرپرینیور: تیز ترقی، نیا مارکیٹ تلاش کرنے، اور جلدی بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جلد فیصلے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ⸻ خلاصہ: بزنس مین عام طور پر موجودہ کاروبار کو سنبھالتا ہے اور محفوظ راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ انٹرپرینیور نئی راہیں تلاش کرتا ہے، رسک لیتا ہے اور تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں کا اپنا اپنا اہم کردار ہوتا ہے، لیکن سوچ اور طریقے مختلف ہوتے ہیں۔
    0 Kommentare 0 Anteile 139 Ansichten
  • Liaquat Ali — شور نہیں، نظام بنانے والا انسان

    کچھ لوگ ٹرینڈ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
    کچھ عہدوں کے پیچھے۔
    کچھ داد اور تالियों کے۔

    اور پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جیسے لیاقت علی —
    جو خاموشی سے، دہائیوں تک، ایسے نظام بناتے ہیں جو واقعی کام کرتے ہیں۔

    تیس سال سے زائد عرصے تک، لیاقت علی انجینئرنگ کی سخت منطق، انٹرپرائز سسٹمز کی حقیقت، اور انسانی صلاحیت کے سنگم پر کھڑے رہے ہیں۔
    جب دنیا ہر چند سال بعد نئے نعرے ایجاد کر رہی تھی، وہ ایک ہی سوال پر قائم رہے:

    نظام حقیقت میں کیسے چلتے ہیں، اور انہیں بہتر کیسے بنایا جائے؟

    انہوں نے بطور انجینئر آغاز کیا —
    اور انجینئرنگ ایک بنیادی سبق دیتی ہے:
    نتائج کو جعلی نہیں بنایا جا سکتا۔
    یا تو نظام چلتا ہے، یا ناکام ہوتا ہے۔

    بعد ازاں انہوں نے بزنس اور اسٹریٹیجی میں ایم بی اے کیا —
    تعریف کے لیے نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کے لیے کہ
    فیصلے کیسے بڑے پیمانے پر اثر ڈالتے ہیں،
    ادارے کیسے رویہ اختیار کرتے ہیں،
    اور قیادت نظاموں کو کیسے بدلتی ہے۔

    یہی امتزاج — انجینئرنگ کی درستگی اور اسٹریٹیجک سوچ — ان کے پورے سفر کی بنیاد بنا۔

    1995 میں انہوں نے LA Consulting Corporation قائم کی۔
    یہ کسی اسٹارٹ اپ کہانی جیسا قصہ نہیں —
    بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط بات ہے:

    تیس سال تک مسلسل متعلق رہنا۔

    جب ٹیکنالوجی بدلی، پلیٹ فارمز آئے گئے،
    اور کمپنیاں ابھریں اور گریں،
    وہ ہمیشہ مشکل مسائل کے اندر رہے:
    • ایسے انٹرپرائز سسٹمز جو بند نہیں ہو سکتے
    • ایسی سپلائی چینز جو ٹوٹ نہیں سکتیں
    • ایسے SAP ماحول جہاں ایک غلطی لاکھوں کا نقصان ہوتی ہے، لائکس نہیں

    وہ وہاں کام کرتے رہے جہاں
    شور کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اور ناکامی کے حقیقی نتائج ہوتے ہیں۔



    وہ لمحہ جو مشاہدے سے عمل تک لے گیا

    کل ہی، پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم
    Khalid Maqbool Siddiqui
    کی درخواست پر، لیاقت علی نے
    Rehan School
    کا دورہ کیا۔

    یہ کوئی رسمی وزٹ نہیں تھا۔
    وہ وہاں ساڑھے تین گھنٹے رکے۔

    انہوں نے کلاس روم دیکھے۔
    طلبہ سے بات کی۔
    بچوں کو AI، زبان، اعتماد اور مسئلہ حل کرنے کی عملی تربیت میں مصروف دیکھا —
    نظریہ نہیں، روزمرہ عمل۔

    دورے کے بعد انہوں نے وزیرِ تعلیم کو صرف ایک لائن کا پیغام بھیجا:

    “میرا ذہن ہل گیا ہے (My mind is blown)”

    نہ لمبی تقریر۔
    نہ تعریفوں کا انبار۔

    لیکن اصل بات اس کے بعد آئی۔

    جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،
    اس سے متاثر ہو کر، انہوں نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ
    وہ اسی طرز کا ایک ماڈل خود اپنے تحت شروع کریں گے — ابتدا آن لائن سے۔

    تیس سال سے نظام جانچنے والا انسان
    نعروں سے متاثر نہیں ہوتا۔
    وہ صرف چلتے ہوئے ماڈل سے متاثر ہوتا ہے۔



    کارپوریٹ نظاموں سے قومی صلاحیت تک

    آج ان کی توجہ واضح ہے:

    مصنوعی ذہانت، افرادی قوت کی تیاری، اور زبان کی صلاحیت
    کے سنگم پر
    قابلِ توسیع نظام بنانا۔

    نہ تقریریں۔
    نہ موٹیویشنل باتیں۔
    انفراسٹرکچر۔
    • Pakistan AI Centers of Excellence کے ذریعے
    وہ AI ٹیلنٹ کو صرف سکھا نہیں رہے،
    بلکہ عملی صنعت سے جوڑ رہے ہیں۔
    • Pakistan Phonetic Alphabet کے ذریعے
    وہ ایک سچ کو سامنے لا رہے ہیں:
    زبان کا مسئلہ ذہانت کا نہیں،
    ادائیگی، اعتماد اور دماغی نقشہ سازی کا ہوتا ہے۔
    • AI پر مبنی لینگویج ٹیوٹر کے ذریعے
    وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ
    ذاتی نوعیت کی تعلیم بڑے پیمانے پر ممکن ہے —
    یہ خواب نہیں، ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔



    یہ سب کیوں اہم ہے؟

    فرق ambition سے نہیں پڑتا — وہ بہتوں میں ہوتی ہے۔
    فرق پڑتا ہے صبر سے۔

    تیس سال کا صبر۔
    تیس سال کی خاموش تعمیر۔
    تیس سال روشنی کے بجائے بنیاد پر توجہ۔

    وہ نہ شور مچاتے ہیں۔
    نہ خود کو بیچتے ہیں۔
    وہ بناتے ہیں، آزماتے ہیں، بہتر کرتے ہیں، اور نافذ کرتے ہیں۔

    ایسے دور میں، جہاں ہر کوئی جلدی میں ہے،
    لیاقت علی ہمیں یاد دلاتے ہیں:

    حقیقی تبدیلی کا اعلان نہیں ہوتا — وہ انجینئر کی جاتی ہے۔

    یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔
    یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ
    تجربہ، عاجزی، اور چلتے ہوئے ماڈل
    آج بھی دنیا بدل سکتے ہیں۔

    اور شاید،
    یہی خیال اس دور میں سب سے زیادہ انقلابی ہے۔
    Liaquat Ali — شور نہیں، نظام بنانے والا انسان کچھ لوگ ٹرینڈ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ کچھ عہدوں کے پیچھے۔ کچھ داد اور تالियों کے۔ اور پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جیسے لیاقت علی — جو خاموشی سے، دہائیوں تک، ایسے نظام بناتے ہیں جو واقعی کام کرتے ہیں۔ تیس سال سے زائد عرصے تک، لیاقت علی انجینئرنگ کی سخت منطق، انٹرپرائز سسٹمز کی حقیقت، اور انسانی صلاحیت کے سنگم پر کھڑے رہے ہیں۔ جب دنیا ہر چند سال بعد نئے نعرے ایجاد کر رہی تھی، وہ ایک ہی سوال پر قائم رہے: نظام حقیقت میں کیسے چلتے ہیں، اور انہیں بہتر کیسے بنایا جائے؟ انہوں نے بطور انجینئر آغاز کیا — اور انجینئرنگ ایک بنیادی سبق دیتی ہے: نتائج کو جعلی نہیں بنایا جا سکتا۔ یا تو نظام چلتا ہے، یا ناکام ہوتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بزنس اور اسٹریٹیجی میں ایم بی اے کیا — تعریف کے لیے نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کے لیے کہ فیصلے کیسے بڑے پیمانے پر اثر ڈالتے ہیں، ادارے کیسے رویہ اختیار کرتے ہیں، اور قیادت نظاموں کو کیسے بدلتی ہے۔ یہی امتزاج — انجینئرنگ کی درستگی اور اسٹریٹیجک سوچ — ان کے پورے سفر کی بنیاد بنا۔ 1995 میں انہوں نے LA Consulting Corporation قائم کی۔ یہ کسی اسٹارٹ اپ کہانی جیسا قصہ نہیں — بلکہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط بات ہے: تیس سال تک مسلسل متعلق رہنا۔ جب ٹیکنالوجی بدلی، پلیٹ فارمز آئے گئے، اور کمپنیاں ابھریں اور گریں، وہ ہمیشہ مشکل مسائل کے اندر رہے: • ایسے انٹرپرائز سسٹمز جو بند نہیں ہو سکتے • ایسی سپلائی چینز جو ٹوٹ نہیں سکتیں • ایسے SAP ماحول جہاں ایک غلطی لاکھوں کا نقصان ہوتی ہے، لائکس نہیں وہ وہاں کام کرتے رہے جہاں شور کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اور ناکامی کے حقیقی نتائج ہوتے ہیں۔ ⸻ وہ لمحہ جو مشاہدے سے عمل تک لے گیا کل ہی، پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم Khalid Maqbool Siddiqui کی درخواست پر، لیاقت علی نے Rehan School کا دورہ کیا۔ یہ کوئی رسمی وزٹ نہیں تھا۔ وہ وہاں ساڑھے تین گھنٹے رکے۔ انہوں نے کلاس روم دیکھے۔ طلبہ سے بات کی۔ بچوں کو AI، زبان، اعتماد اور مسئلہ حل کرنے کی عملی تربیت میں مصروف دیکھا — نظریہ نہیں، روزمرہ عمل۔ دورے کے بعد انہوں نے وزیرِ تعلیم کو صرف ایک لائن کا پیغام بھیجا: “میرا ذہن ہل گیا ہے (My mind is blown)” نہ لمبی تقریر۔ نہ تعریفوں کا انبار۔ لیکن اصل بات اس کے بعد آئی۔ جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس سے متاثر ہو کر، انہوں نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اسی طرز کا ایک ماڈل خود اپنے تحت شروع کریں گے — ابتدا آن لائن سے۔ تیس سال سے نظام جانچنے والا انسان نعروں سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ صرف چلتے ہوئے ماڈل سے متاثر ہوتا ہے۔ ⸻ کارپوریٹ نظاموں سے قومی صلاحیت تک آج ان کی توجہ واضح ہے: مصنوعی ذہانت، افرادی قوت کی تیاری، اور زبان کی صلاحیت کے سنگم پر قابلِ توسیع نظام بنانا۔ نہ تقریریں۔ نہ موٹیویشنل باتیں۔ انفراسٹرکچر۔ • Pakistan AI Centers of Excellence کے ذریعے وہ AI ٹیلنٹ کو صرف سکھا نہیں رہے، بلکہ عملی صنعت سے جوڑ رہے ہیں۔ • Pakistan Phonetic Alphabet کے ذریعے وہ ایک سچ کو سامنے لا رہے ہیں: زبان کا مسئلہ ذہانت کا نہیں، ادائیگی، اعتماد اور دماغی نقشہ سازی کا ہوتا ہے۔ • AI پر مبنی لینگویج ٹیوٹر کے ذریعے وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ذاتی نوعیت کی تعلیم بڑے پیمانے پر ممکن ہے — یہ خواب نہیں، ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔ ⸻ یہ سب کیوں اہم ہے؟ فرق ambition سے نہیں پڑتا — وہ بہتوں میں ہوتی ہے۔ فرق پڑتا ہے صبر سے۔ تیس سال کا صبر۔ تیس سال کی خاموش تعمیر۔ تیس سال روشنی کے بجائے بنیاد پر توجہ۔ وہ نہ شور مچاتے ہیں۔ نہ خود کو بیچتے ہیں۔ وہ بناتے ہیں، آزماتے ہیں، بہتر کرتے ہیں، اور نافذ کرتے ہیں۔ ایسے دور میں، جہاں ہر کوئی جلدی میں ہے، لیاقت علی ہمیں یاد دلاتے ہیں: حقیقی تبدیلی کا اعلان نہیں ہوتا — وہ انجینئر کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تجربہ، عاجزی، اور چلتے ہوئے ماڈل آج بھی دنیا بدل سکتے ہیں۔ اور شاید، یہی خیال اس دور میں سب سے زیادہ انقلابی ہے۔
    0 Kommentare 0 Anteile 157 Ansichten
Suchergebnis