• "وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو #مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیں:

    بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر، اٸر کنڈیشن اور اٸر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ . . . . .
    مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں
    مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟
    #چند_تجاویز

    1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو

    2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔

    3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو

    4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے

    5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو

    6۔ آپسمیں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے

    7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ

    8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو

    9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو

    10۔ ھماری مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں
    قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کیلیۓ استعمال کیا جا سکتا ہے

    اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں

    ان میں سے کوٸ بھی تجویز نٸ نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ کے مدینہ میں بھی ہوتے تھے

    جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں..!

    Via Major Dr Ejaz Bashir phd education

    Addition by Rehan Allahwala add wifi that is open all hours accept of prayers
    Use the mosque as a Coworking space
    Have a tea / coffee shop in mosque so people can do their meetings there

    Share if agreed
    "وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو #مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیں: بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر، اٸر کنڈیشن اور اٸر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ . . . . . مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟ #چند_تجاویز 📖 1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو 2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔ 3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو 4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے 5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو 6۔ آپسمیں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے 7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ 8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو 9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو 10۔ ھماری مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کیلیۓ استعمال کیا جا سکتا ہے اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں ان میں سے کوٸ بھی تجویز نٸ نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ کے مدینہ میں بھی ہوتے تھے جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں..! Via Major Dr Ejaz Bashir phd education Addition by Rehan Allahwala add wifi that is open all hours accept of prayers Use the mosque as a Coworking space Have a tea / coffee shop in mosque so people can do their meetings there Share if agreed
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 237 Visualizações
  • آج کی ملاقات صرف تعارف تک محدود نہیں رہی…

    میں نے
    Mahmood Ahmed صاحب کے ساتھ بیٹھ کر
    ان کی شاندار کامیابیوں کو سراہا —
    422 اسکول، 1,40,000 سے زائد طلبہ
    اور کردار سازی کا نصاب جو 18,000+ اسکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔

    لیکن ساتھ ہی میں نے چند تجاویز بھی شیئر کیں…

    ہر اسکول میں Entrepreneurship Club
    جہاں بچے 9ویں جماعت سے پہلے اپنی پہلی کمائی کریں۔

    طلبہ کے لیے Micro-Internships Model
    تاکہ وہ تعلیم کے دوران حقیقی دنیا کا تجربہ حاصل کریں۔

    اساتذہ کے لیے AI Tools Training
    تاکہ نصاب کی رفتار اور اثر دونوں بڑھیں۔

    ہر کیمپس میں سالانہ ہدف:
    کم از کم 20 طلبہ جو اپنا چھوٹا بزنس شروع کریں۔

    میں نے کہا:
    “جب آپ نے 422 اسکول بنا دیے،
    تو اب اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ
    ان 1,40,000 بچوں میں سے
    ہر سال ہزاروں بچے کمانا شروع کریں۔”

    تعلیم + کردار + کمائی = باعزت قوم۔

    بات تنقید کی نہیں تھی،
    بات وسعت کی تھی۔
    جب وژن بڑا ہو
    تو گفتگو بھی بڑی ہوتی ہے۔

    اللہ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنے اور مل کر آگے بڑھنے کی توفیق دے۔

    — ریحان اللہ والا
    آج کی ملاقات صرف تعارف تک محدود نہیں رہی… میں نے Mahmood Ahmed صاحب کے ساتھ بیٹھ کر ان کی شاندار کامیابیوں کو سراہا — 422 اسکول، 1,40,000 سے زائد طلبہ اور کردار سازی کا نصاب جو 18,000+ اسکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی میں نے چند تجاویز بھی شیئر کیں… 🌱 🔹 ہر اسکول میں Entrepreneurship Club جہاں بچے 9ویں جماعت سے پہلے اپنی پہلی کمائی کریں۔ 🔹 طلبہ کے لیے Micro-Internships Model تاکہ وہ تعلیم کے دوران حقیقی دنیا کا تجربہ حاصل کریں۔ 🔹 اساتذہ کے لیے AI Tools Training تاکہ نصاب کی رفتار اور اثر دونوں بڑھیں۔ 🔹 ہر کیمپس میں سالانہ ہدف: کم از کم 20 طلبہ جو اپنا چھوٹا بزنس شروع کریں۔ میں نے کہا: “جب آپ نے 422 اسکول بنا دیے، تو اب اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ان 1,40,000 بچوں میں سے ہر سال ہزاروں بچے کمانا شروع کریں۔” تعلیم + کردار + کمائی = باعزت قوم۔ بات تنقید کی نہیں تھی، بات وسعت کی تھی۔ جب وژن بڑا ہو تو گفتگو بھی بڑی ہوتی ہے۔ ✨ اللہ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنے اور مل کر آگے بڑھنے کی توفیق دے۔ — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 239 Visualizações 0