• "جہالت کے نعرے"
    ایک دفعہ کسی سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مہاجر کا ایک انصاری سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔
    مہاجر نے آواز لگادی: ’’یا للمھاجرین‘‘
    دوسرے نے آواز لگادی: ’’یا للانصار‘‘
    یعنی مہاجر نے آواز لگائی کہ میری مدد کے لیے مہاجرین آئیں، اور انصاری نے آواز لگائی کہ انصار میری مدد کے لیے آئیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جہالت کے نعرے کون لگارہا ہے؟ ’’دعوھا فانھا منتنۃ‘‘۔۔۔ ’’ان الفاظ کو چھوڑدو، یہ بدبودار الفاظ ہیں۔‘‘!!!

    Received in Inbox. I dont have refference. If someone can add. Would be great
    "جہالت کے نعرے" ایک دفعہ کسی سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مہاجر کا ایک انصاری سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ مہاجر نے آواز لگادی: ’’یا للمھاجرین‘‘ دوسرے نے آواز لگادی: ’’یا للانصار‘‘ یعنی مہاجر نے آواز لگائی کہ میری مدد کے لیے مہاجرین آئیں، اور انصاری نے آواز لگائی کہ انصار میری مدد کے لیے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جہالت کے نعرے کون لگارہا ہے؟ ’’دعوھا فانھا منتنۃ‘‘۔۔۔ ’’ان الفاظ کو چھوڑدو، یہ بدبودار الفاظ ہیں۔‘‘!!! Received in Inbox. I dont have refference. If someone can add. Would be great
    0 Reacties 0 aandelen 107 Views
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Reacties 0 aandelen 746 Views
  • جب آپ مجھ میں کوئی عیب دیکھو ، تو مجھ سے کہو ، کسی اور سے نہیں ، کیونکہ اس عیب کو میں نے ھی بدلنا ھے، کسی اور نے نہیں.....

    مجھ سے کہو گے تو نصیحت کہلائے گی اور اجر لکھا جائے گا ، کسی اور سے کہو گے تو غیبت کہلائے گی اور گناہ لکھا جائے گا....

    کیوں ہمیں اگر کسی کی برائی دکھتی ھے تو ہم سب کو بتاتے ہیں ، سوائے اس کے جس میں برائی نظر آئی ؟؟؟؟؟؟؟؟

    ہم ایک دوسرے کی بات کرنے میں ماہر ہیں بجائے ایک دوسرے سے بات کرنے میں !!!!!!!

    مجھے ایک ھوٹل میں لکھا ھوا یہ جملہ بہت پسند آیا....
    " اگر ھم سے راضی ہو تو ہماری بات کرو ...
    اور اگر ھم سے راضی نہ ہو تو ہم سے بات کرو....

    تو کیوں نہ ہم بھی اپنا یہ اصول بنالیں تاکہ ہماری مجلسیں غیبت سے پاک رہیں.

    کیونکہ زندگی بہت مختصر قصہ ھے
    (مٹی سے - مٹی پر - مٹی میں) پھر
    ( حساب - یا ثواب - یا عذاب)

    گناہ کرنے والوں کو حقارت سے نہ دیکھو اور نہ نفلیں نیکیاں کم کرنے والوں کو اپنے سے کم سمجھو اور خود کی زیادہ نیکیاں اور نمازیں اور روزے وظائف وغیرہ پر نہ خوش ہو اور نہ گھمنڈ کرو کیونکہ نہیں پتا الله کے ہاں کون مقبول ھے اور کس کا عمل مردود اور کس کا خاتمہ اچھا ھوگا اور کس کا نعوذ بالله بُرا....

    نصیحت کرو بغیر فضیحت کے
    اور شکوہ کرو بغیر کسی کو شرمندہ کئے.....
    🍀 جب آپ مجھ میں کوئی عیب دیکھو ، تو مجھ سے کہو ، کسی اور سے نہیں ، کیونکہ اس عیب کو میں نے ھی بدلنا ھے، کسی اور نے نہیں..... 🍀 مجھ سے کہو گے تو نصیحت کہلائے گی اور اجر لکھا جائے گا ، کسی اور سے کہو گے تو غیبت کہلائے گی اور گناہ لکھا جائے گا.... 🍀 کیوں ہمیں اگر کسی کی برائی دکھتی ھے تو ہم سب کو بتاتے ہیں ، سوائے اس کے جس میں برائی نظر آئی ؟؟؟؟؟؟؟؟ 🍀 ہم ایک دوسرے کی بات کرنے میں ماہر ہیں بجائے ایک دوسرے سے بات کرنے میں !!!!!!! 🍀 مجھے ایک ھوٹل میں لکھا ھوا یہ جملہ بہت پسند آیا.... " اگر ھم سے راضی ہو تو ہماری بات کرو ... اور اگر ھم سے راضی نہ ہو تو ہم سے بات کرو.... تو کیوں نہ ہم بھی اپنا یہ اصول بنالیں تاکہ ہماری مجلسیں غیبت سے پاک رہیں. 🍀 کیونکہ زندگی بہت مختصر قصہ ھے (مٹی سے - مٹی پر - مٹی میں) پھر ( حساب - یا ثواب - یا عذاب) 🍀 گناہ کرنے والوں کو حقارت سے نہ دیکھو اور نہ نفلیں نیکیاں کم کرنے والوں کو اپنے سے کم سمجھو اور خود کی زیادہ نیکیاں اور نمازیں اور روزے وظائف وغیرہ پر نہ خوش ہو اور نہ گھمنڈ کرو کیونکہ نہیں پتا الله کے ہاں کون مقبول ھے اور کس کا عمل مردود اور کس کا خاتمہ اچھا ھوگا اور کس کا نعوذ بالله بُرا.... 🍀 نصیحت کرو بغیر فضیحت کے اور شکوہ کرو بغیر کسی کو شرمندہ کئے.....
    0 Reacties 0 aandelen 175 Views
  • ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔
    کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔
    کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔
    کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔ (وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس

    Shared via Ijaz Inayat Masih Bishop
    ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔ کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔ کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔ کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔ (وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس Shared via Ijaz Inayat Masih Bishop
    0 Reacties 0 aandelen 282 Views
  • I have seen Roman Urdu, but never English Nastaleekh !

    وعلیکم السلام.
    آئی ایم ان ٹیچر. ٹیچنگ اردو
    اینڈ گوئنگ ٹو گودام
    I have seen Roman Urdu, but never English Nastaleekh ! وعلیکم السلام. آئی ایم ان ٹیچر. ٹیچنگ اردو اینڈ گوئنگ ٹو گودام
    0 Reacties 0 aandelen 73 Views
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 Reacties 0 aandelen 377 Views
  • This is how I feel many times doing here !

    ایک شخص سمندر کے کنارے واک کر رہا تھا تو اس نے دور سے دیکھا کہ
    کوئی شخص نیچے جھکتا ، کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے
    ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں ؎
    شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھا۔
    اور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینک کر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
    اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آگئی اور ہنستے ہوئے اسے کہا : اس طرح کیا فرق پڑنا ہے ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے ۔۔۔ ؟
    یہ سن کر وہ شخص نیچے جھکا ، ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا وہ مچھلی پانی میں جاتے ہی تیزی سے تیرتی ہوئی آگے نکل گئی پھراس نے سکون سے دوسرے شخص کو کہا ’’ اسے فرق پڑا ‘‘ ۔
    یہ کہانی ہمیں سمجھا رہی ہے کہ ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے ۔
    لھذا دل بڑا رکھیں اور اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی ؟
    بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اپنے حصے کی اچھائی کا حق کتنے حد تک ادا کیا ؟
    This is how I feel many times doing here ! ایک شخص سمندر کے کنارے واک کر رہا تھا تو اس نے دور سے دیکھا کہ کوئی شخص نیچے جھکتا ، کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں ؎ شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھا۔ اور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینک کر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آگئی اور ہنستے ہوئے اسے کہا : اس طرح کیا فرق پڑنا ہے ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے ۔۔۔ ؟ یہ سن کر وہ شخص نیچے جھکا ، ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا وہ مچھلی پانی میں جاتے ہی تیزی سے تیرتی ہوئی آگے نکل گئی پھراس نے سکون سے دوسرے شخص کو کہا ’’ اسے فرق پڑا ‘‘ ۔ یہ کہانی ہمیں سمجھا رہی ہے کہ ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ لھذا دل بڑا رکھیں اور اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی ؟ بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اپنے حصے کی اچھائی کا حق کتنے حد تک ادا کیا ؟
    0 Reacties 0 aandelen 144 Views
  • السلام علیکم,
    ھم دینی مدارس کے طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامات کا انعقاد کرتے رھتے ہیں اس وقت ھم نے سندھ کی سطح پر مدارس کے طلبہ کے مابین حفظ قرآن, حفظ حدیث,حسن قراٰت,خطاطی اور عربی میں تقریری مقابلہ جات کا انعقاد کیا ہے پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز دینے کے لیے ہم
    یکم مارچ کوکراچی میں ہی"معمار جہاں کنونشن" کا انعقاد کرنے جارہے ہیں اس میں ان طلبہ کو بھی ایوارڈز دیے جائیں گے جنہوں نے بورڈز کے سالانہ امتحانات اور دیگر مقابلہ جات میں نمایاں نمبر حاصل کیے ہیں یہ سارا کچھ ھم اس لیے بھی کر رہے ہیں تاکہ مدارس کے طلبہ احساس محرومی کا شکار نہ ھوں زندہ دلی سے تعلیم حاصل کر کہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر احسن انداز سے اپنے ملک و ملت کی خدمت کر سکیں
    تو ھم چاھتے ہیں کہ آپ اس کام میں ھمارا ساتھ دیں تاکہ ھم سب کی بھی کچھ ذمہ داری کا حق ادا ھو سکے سب سے پہلے تو آپ ہمارے اس پروگرام میں شرکت کریں تا کہ آپ کے ھاتھ سے ان طلبہ میں انعامات تقسیم کریں اور دوسری بات یہ کہ جو کچھ اس پروگرام پر اخراجات آرہے ہیں ان میں بھی آپ ہمارا ساتھ دیں تو آپ کی بہت بڑی نوازش ھوگی
    اس میں طعام,طلبہ کے نقد انعامات,ھال بکنگ,آمدورفت,اندرون سندھ سے ٹیلینٹڈ طلبہ آئیں گے ان کا سفر خرچ,کتب اور شیلڈیں وغیرہ کا خرچہ آئے گا.
    یقینا آپ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ھونگے لیکن ھم چاھتے ہیں کہ اس اچھے کام میں بھی آپ کا حصہ ھو امید ہے کہ آپ ضرور ھماری اس دعوت پر لبّیک کہیں گے.
    والسلام,
    جلال الدین منصوری
    منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ

    Jalaludin Mansoori
    السلام علیکم, ھم دینی مدارس کے طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامات کا انعقاد کرتے رھتے ہیں اس وقت ھم نے سندھ کی سطح پر مدارس کے طلبہ کے مابین حفظ قرآن, حفظ حدیث,حسن قراٰت,خطاطی اور عربی میں تقریری مقابلہ جات کا انعقاد کیا ہے پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز دینے کے لیے ہم یکم مارچ کوکراچی میں ہی"معمار جہاں کنونشن" کا انعقاد کرنے جارہے ہیں اس میں ان طلبہ کو بھی ایوارڈز دیے جائیں گے جنہوں نے بورڈز کے سالانہ امتحانات اور دیگر مقابلہ جات میں نمایاں نمبر حاصل کیے ہیں یہ سارا کچھ ھم اس لیے بھی کر رہے ہیں تاکہ مدارس کے طلبہ احساس محرومی کا شکار نہ ھوں زندہ دلی سے تعلیم حاصل کر کہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر احسن انداز سے اپنے ملک و ملت کی خدمت کر سکیں تو ھم چاھتے ہیں کہ آپ اس کام میں ھمارا ساتھ دیں تاکہ ھم سب کی بھی کچھ ذمہ داری کا حق ادا ھو سکے سب سے پہلے تو آپ ہمارے اس پروگرام میں شرکت کریں تا کہ آپ کے ھاتھ سے ان طلبہ میں انعامات تقسیم کریں اور دوسری بات یہ کہ جو کچھ اس پروگرام پر اخراجات آرہے ہیں ان میں بھی آپ ہمارا ساتھ دیں تو آپ کی بہت بڑی نوازش ھوگی اس میں طعام,طلبہ کے نقد انعامات,ھال بکنگ,آمدورفت,اندرون سندھ سے ٹیلینٹڈ طلبہ آئیں گے ان کا سفر خرچ,کتب اور شیلڈیں وغیرہ کا خرچہ آئے گا. یقینا آپ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ھونگے لیکن ھم چاھتے ہیں کہ اس اچھے کام میں بھی آپ کا حصہ ھو امید ہے کہ آپ ضرور ھماری اس دعوت پر لبّیک کہیں گے. والسلام, جلال الدین منصوری منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ Jalaludin Mansoori
    0 Reacties 0 aandelen 502 Views
  • اور بھی آئے تھے درمانِ محبت لے کر

    آپ بھی آئیں، نیا زخم لگائیں، جائیں...
    اور بھی آئے تھے درمانِ محبت لے کر آپ بھی آئیں، نیا زخم لگائیں، جائیں...
    0 Reacties 0 aandelen 54 Views
  • بہت عمدہ تحریر !


    بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی

    Zeeshan Usmani

    *آگے* *بڑیں*

    اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation
    کیسے آئے؟

    کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔

    آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔

    1۔ اعتراض نہ کریں:

    اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔

    خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔

    آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔

    شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔

    کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟

    اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔

    اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔

    فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔

    2۔ شکر ادا کریں:

    اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ
    Excel sheet
    بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں.

    مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔


    3۔ اپنا ذکر نہ کریں:

    یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔
    آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔

    اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔

    اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا

    یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔
    اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔
    ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے
    اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
    (تہذیب حافی)
    بہت عمدہ تحریر ! بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی Zeeshan Usmani *آگے* *بڑیں* اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation کیسے آئے؟ کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔ آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔ 1۔ اعتراض نہ کریں: اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔ خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔ آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔ شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔ کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟ اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔ اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔ 2۔ شکر ادا کریں: اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ Excel sheet بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں. مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ 3۔ اپنا ذکر نہ کریں: یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔ آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔ اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔ اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔ ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا (تہذیب حافی)
    0 Reacties 0 aandelen 340 Views
Zoekresultaten