• ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔

    ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، ”اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے؟“۔

    ”مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں “ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ”اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں“

    ”میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟“ باپ غصے سے بولا ۔

    ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ” ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے“۔

    ” بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہےتمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا “۔
    آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ” تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا“ ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔

    ”کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا“ ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔

    نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، ” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہےتو دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے“۔

    کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے
    تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔
    ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔ ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، ”اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے؟“۔ ”مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں “ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ”اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں“ ”میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟“ باپ غصے سے بولا ۔ ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ” ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے“۔ ” بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہےتمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا “۔ آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ” تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا“ ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔ ”کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا“ ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔ نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، ” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہےتو دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے“۔ کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔
    0 Commentaires 0 Parts 90 Vue
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 Commentaires 0 Parts 569 Vue
  • جب تھک جائیں ،تو آرام کر لیں ،رکیں نہیں
    جب تھک جائیں ،تو آرام کر لیں ،رکیں نہیں
    0 Commentaires 0 Parts 56 Vue
  • اشفاق احمد کہتے ہیں*
    میں نے اپنے بابا جی کو بہت ہی فخرسے بتایا کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔
    میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔
    میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔
    تو بابا جی نے کہا:
    " اشفاق احمد، میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔
    میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔
    ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔
    سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔"
    بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا:
    " بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟"
    میں نے فٹ سے جواب دیا:
    " نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔"
    بابا بولا :
    " بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّہ تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔"
    بابا عجیب سی ترنگ میں بولا، *" پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، ان سے مسکرا کے بات کرنے والا اور دوسروں کو مُعاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو، اب بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شُکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کرلو، تو امر ہو جاؤ گے۔"*
    یہ کہہ کر بابا دین مُحمد تیزی سے مین گیٹ سے باہر نکل گیا اور میں سرجُھکائے زارو قطار رو رہا تھا اور دل ہی دل میں رب العزت کا شُکر ادا کر رہا تھا کہ بابا دین محمد نے مُجھے کامیابی کا راز بتا دیا تھا۔ اللہ ہمیں آسانیاں عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔۔

    Via Dr Major Ejaz Bashir
    اشفاق احمد کہتے ہیں* میں نے اپنے بابا جی کو بہت ہی فخرسے بتایا کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے، اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے۔ میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔ میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی۔۔۔ تو بابا جی نے کہا: " اشفاق احمد، میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے س خصوصی محبت تھی۔ اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے، مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔ میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بِنا محنت کیے، اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔ ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے۔ اماں نے جیسے ہی مُٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا، کبھی بائیں۔ کبھی شمال، کبھی جنوب۔ سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اُسکا پیٹ بھی نہیں بھرا۔" بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا: " بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟" میں نے فٹ سے جواب دیا: " نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا، نہ ذلیل ہوتا۔" بابا بولا : " بالکل ٹھیک، یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے، تو اللّہ تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔ تُو نے اللّہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔" بابا عجیب سی ترنگ میں بولا، *" پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، ان سے مسکرا کے بات کرنے والا اور دوسروں کو مُعاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو، اب بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شُکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کرلو، تو امر ہو جاؤ گے۔"* یہ کہہ کر بابا دین مُحمد تیزی سے مین گیٹ سے باہر نکل گیا اور میں سرجُھکائے زارو قطار رو رہا تھا اور دل ہی دل میں رب العزت کا شُکر ادا کر رہا تھا کہ بابا دین محمد نے مُجھے کامیابی کا راز بتا دیا تھا۔ اللہ ہمیں آسانیاں عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔۔ Via Dr Major Ejaz Bashir
    0 Commentaires 0 Parts 61 Vue
  • عنوان: مسجد میں مسافیر خانہ کی اہمیت

    اسلامی روایت میں، مساجد نہ صرف عبادت گاہیں ہیں بلکہ اجتماعی زندگی، تعلیم اور سماجی خدمات کے مراکز کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ مسجد کی زندگی کا ایک اہم پہلو مسافروں اور زائرین کو پناہ دینے کی روایت ہے۔

    تاریخی طور پر، مساجد اکثر ایسی جگہیں تھیں جہاں مسافروں کو اپنے سفر میں پناہ مل سکتی تھی۔ مساجد مسافروں کو آرام کرنے، سونے اور نماز پڑھنے کے لیے ایک محفوظ اور خوش آئند جگہ فراہم کرتی ہیں۔ یہ روایت آج بھی مسلم دنیا کے بہت سے حصوں میں جاری ہے، جہاں مساجد نے "مصافیر خانہ" یا "مہمان خانہ" کے نام سے علاقے مختص کیے ہیں جہاں مسافر رات گزار سکتے ہیں۔

    مسجد میں مصحف خانہ میں قیام کرنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ یہ مسافروں کو ایک محفوظ اور آرام دہ ماحول میں آرام کرنے اور ری چارج کرنے اور مقامی مسلم کمیونٹی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ مسافروں کو اسلام اور مقامی ثقافت کے بارے میں مزید جاننے اور مقامی کمیونٹی سے جڑنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

    جدید دور میں مسافروں کو پناہ دینے کی روایت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ بہت سی مساجد اب بھی مسافروں کے لیے بنیادی رہائش فراہم کرتی ہیں، جیسے سونے اور نہانے کی جگہ، جدید دور کے مصافیر خانوں نے 21ویں صدی میں مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت سی خدمات اور سہولیات کو شامل کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    کچھ مساجد اب مسافروں کے استعمال کے لیے مفت وائی فائی، چارجنگ اسٹیشن اور یہاں تک کہ کمپیوٹر ٹرمینلز بھی پیش کرتی ہیں۔ دوسروں کے پاس نماز کے کمرے، لائبریریاں اور کیفے ٹیریا ہیں جہاں مسافر اپنا وقت گزار سکتے ہیں۔ بہت سی مساجد مسافروں کو رہنمائی اور مدد بھی پیش کرتی ہیں، ان کو غیر مانوس ماحول میں جانے میں مدد کرتی ہیں اور مقامی رسوم و رواج کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔
    عنوان: مسجد میں مسافیر خانہ کی اہمیت اسلامی روایت میں، مساجد نہ صرف عبادت گاہیں ہیں بلکہ اجتماعی زندگی، تعلیم اور سماجی خدمات کے مراکز کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ مسجد کی زندگی کا ایک اہم پہلو مسافروں اور زائرین کو پناہ دینے کی روایت ہے۔ تاریخی طور پر، مساجد اکثر ایسی جگہیں تھیں جہاں مسافروں کو اپنے سفر میں پناہ مل سکتی تھی۔ مساجد مسافروں کو آرام کرنے، سونے اور نماز پڑھنے کے لیے ایک محفوظ اور خوش آئند جگہ فراہم کرتی ہیں۔ یہ روایت آج بھی مسلم دنیا کے بہت سے حصوں میں جاری ہے، جہاں مساجد نے "مصافیر خانہ" یا "مہمان خانہ" کے نام سے علاقے مختص کیے ہیں جہاں مسافر رات گزار سکتے ہیں۔ مسجد میں مصحف خانہ میں قیام کرنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ یہ مسافروں کو ایک محفوظ اور آرام دہ ماحول میں آرام کرنے اور ری چارج کرنے اور مقامی مسلم کمیونٹی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ مسافروں کو اسلام اور مقامی ثقافت کے بارے میں مزید جاننے اور مقامی کمیونٹی سے جڑنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ جدید دور میں مسافروں کو پناہ دینے کی روایت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ بہت سی مساجد اب بھی مسافروں کے لیے بنیادی رہائش فراہم کرتی ہیں، جیسے سونے اور نہانے کی جگہ، جدید دور کے مصافیر خانوں نے 21ویں صدی میں مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت سی خدمات اور سہولیات کو شامل کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ کچھ مساجد اب مسافروں کے استعمال کے لیے مفت وائی فائی، چارجنگ اسٹیشن اور یہاں تک کہ کمپیوٹر ٹرمینلز بھی پیش کرتی ہیں۔ دوسروں کے پاس نماز کے کمرے، لائبریریاں اور کیفے ٹیریا ہیں جہاں مسافر اپنا وقت گزار سکتے ہیں۔ بہت سی مساجد مسافروں کو رہنمائی اور مدد بھی پیش کرتی ہیں، ان کو غیر مانوس ماحول میں جانے میں مدد کرتی ہیں اور مقامی رسوم و رواج کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔
    0 Commentaires 0 Parts 266 Vue
  • ہماری زندگی کے سفر میں، صبر اور استقامت ایسی خصوصیات ہیں جو ہمیں سب سے مشکل وقتوں سے گزرنے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن میں سورہ البقرہ (2:153) میں یہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنی چاہئے۔ صبر کا مطلب صرف انتظار نہیں ہوتا، بلکہ انتظار کرتے ہوئے مثبت رویہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلووں میں اس اصول کو اپنانا ہوگا، اپنے الفاظ، اعمال، اور نیتوں کے ذریعے۔

    قانون اور نظم و ضبط کی احترام گہری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اس اصول کی تائید قرآن کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے (سورہ البقرہ، 2:11)۔ یہ کہنے کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے کمیونٹی کے قوانین کا احترام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اور ہمیشہ آرام اور امن کی طرف کوشش کرنی ہوگی۔

    جب ہم بحث میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے عقائد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، تو
    ہمیں یہ کام صبر، سمجھ بوجھ اور اپنے کمیونٹی کے آمن و سکون کے لئے احترام کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہمیں امن اور اتحاد کے مسئول بننا چاہئے، ہر روز اپنی دنیا کو تھوڑا بہتر بنانے کے لئے۔

    آئیے ہم سب مل کر یہی سیکھیں اور اپنائیں۔

    #صبر #احترام #آرام #قرآنی_تعلیمات
    🌟 ہماری زندگی کے سفر میں، صبر اور استقامت ایسی خصوصیات ہیں جو ہمیں سب سے مشکل وقتوں سے گزرنے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن میں سورہ البقرہ (2:153) میں یہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنی چاہئے۔ صبر کا مطلب صرف انتظار نہیں ہوتا، بلکہ انتظار کرتے ہوئے مثبت رویہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلووں میں اس اصول کو اپنانا ہوگا، اپنے الفاظ، اعمال، اور نیتوں کے ذریعے۔ 🌍 قانون اور نظم و ضبط کی احترام گہری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اس اصول کی تائید قرآن کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے (سورہ البقرہ، 2:11)۔ یہ کہنے کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے کمیونٹی کے قوانین کا احترام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اور ہمیشہ آرام اور امن کی طرف کوشش کرنی ہوگی۔ 🕊️ جب ہم بحث میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے عقائد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، تو ہمیں یہ کام صبر، سمجھ بوجھ اور اپنے کمیونٹی کے آمن و سکون کے لئے احترام کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہمیں امن اور اتحاد کے مسئول بننا چاہئے، ہر روز اپنی دنیا کو تھوڑا بہتر بنانے کے لئے۔ آئیے ہم سب مل کر یہی سیکھیں اور اپنائیں۔ 🙏🌍💖 #صبر #احترام #آرام #قرآنی_تعلیمات
    0 Commentaires 0 Parts 409 Vue
  • ہر شخص پیٹرول کی پرائس سے پریشان ہے ہر شخص آرام سے اپنے پیٹرول کے خرچے آدھا کر سکتا ہے کس طرح
    ہرشخص اپنے گھر سے دفتر تک کا ساتھی ڈھونڈ لیں کار والا تین سے چار لوگوں کو اپنے ساتھ چھوڑ لیں بائیک والا ایک شخص کو ۔پیٹرول کی لاگت آدھی آپ کا سفر کا ساتھی ادا کرے گا۔
    شرط صرف اتنی ہوگی آپ دونوں کا روزانہ کا سفر منزل ایک ہی ہو ۔
    اسی لوگو ں کو کوئی wahatsapp grop یا facebooks pages یا کسی website سے آپس میں چوڑا جاسکتا ہے ۔۔
    لاکھوں لیٹر پیٹرول کی بچت ہوگی ۔اور traffic کم ہوجاۓ گا صبح اور شام کے وقت میں ۔۔۔۔۔

    Via Tariq Niazi
    ہر شخص پیٹرول کی پرائس سے پریشان ہے ہر شخص آرام سے اپنے پیٹرول کے خرچے آدھا کر سکتا ہے کس طرح ہرشخص اپنے گھر سے دفتر تک کا ساتھی ڈھونڈ لیں کار والا تین سے چار لوگوں کو اپنے ساتھ چھوڑ لیں بائیک والا ایک شخص کو ۔پیٹرول کی لاگت آدھی آپ کا سفر کا ساتھی ادا کرے گا۔ شرط صرف اتنی ہوگی آپ دونوں کا روزانہ کا سفر منزل ایک ہی ہو ۔ اسی لوگو ں کو کوئی wahatsapp grop یا facebooks pages یا کسی website سے آپس میں چوڑا جاسکتا ہے ۔۔ لاکھوں لیٹر پیٹرول کی بچت ہوگی ۔اور traffic کم ہوجاۓ گا صبح اور شام کے وقت میں ۔۔۔۔۔ Via Tariq Niazi
    0 Commentaires 0 Parts 169 Vue
  • میرا تو جی چاہتا ہے کہ کسی روز آپ کے خلاف پوسٹ لکھوں ۔۔
    کہ اچھے بھلے ہم سب سو رہے ہوتے ہیں ، سکون کی نیند اور آپ ہمیں " جگانا " شروع کر دیتے ہیں کہ یہ کرو اور یوں کرو۔۔۔۔ ۔۔۔
    او بھائی !
    ساری دنیا یہ کام کر رہی ہے نا ، وہی کافی ہے ۔۔ ہمیں کچھ نہیں کرنا ۔۔۔ ہمیں سونے دیں ۔۔۔ اور ہمارے لیڈروں کو بھی آرام کرنے دیں۔۔۔
    میرا تو جی چاہتا ہے کہ کسی روز آپ کے خلاف پوسٹ لکھوں ۔۔ کہ اچھے بھلے ہم سب سو رہے ہوتے ہیں ، سکون کی نیند اور آپ ہمیں " جگانا " شروع کر دیتے ہیں کہ یہ کرو اور یوں کرو۔۔۔۔ ۔۔۔ او بھائی ! ساری دنیا یہ کام کر رہی ہے نا ، وہی کافی ہے ۔۔ ہمیں کچھ نہیں کرنا ۔۔۔ ہمیں سونے دیں ۔۔۔ اور ہمارے لیڈروں کو بھی آرام کرنے دیں۔۔۔ 😥😥
    0 Commentaires 0 Parts 84 Vue
  • بہت سال پہلے، لاہور شہر میں سائمہ نامی ایک محنتی لڑکی رہتی تھی۔ سائمہ کا سب سے بڑا خواب اپنے علاقے میں ایک خوبصورت باغ بنانا تھا، جہاں لوگ سکون پائیں اور بچے کھیل سکیں۔ لیکن، وہ ہمیشہ اس خواب کو پورا کرنے میں ناکام رہی کیونکہ وہ صحیح منصوبہ بندی نہیں کر پا رہی تھی۔

    ایک دن، محلے کے بزرگ، حکیم صاحب، نے سائمہ کی پریشانی دیکھی اور اسے "سمارٹ" منصوبہ بندی کا طریقہ بتایا۔ حکیم صاحب نے سائمہ کو سمجھایا کہ اگر وہ واقعی اپنے خواب کو حقیقت بنانا چاہتی ہے، تو اسے پانچ بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا:

    1. **Specific (خاص)**: سائمہ کو اپنے باغ کی ہر تفصیل کا واضح تعین کرنا تھا، جیسے کون سے پھول، درخت اور پودے کہاں لگانے ہیں، اور کہاں بنچز وغیرہ رکھنے ہیں۔

    2. **Measurable (پیمائشی)**: اس نے کام کی پیش رفت کو ناپنے کے معیارات مقرر کیے، مثلاً ہر ہفتے کتنے پودے لگانے ہیں۔

    3. **Achievable (حاصل کرنے کے قابل)**: سائمہ کو حقیقت پسندانہ اہداف طے کرنے تھے، جو اس کے وسائل کے مطابق ممکن ہوں۔

    4. **Relevant (متعلقہ)**: یہ باغ سائمہ کے خواب کے عین مطابق ہونا چاہیے، تاکہ لوگوں کے لیے واقعی فائدہ مند ہو۔

    5. **Time-bound (وقت کے مطابق)**: سائمہ نے ایک مقررہ مدت طے کی جس میں باغ مکمل ہو جانا چاہیے، مثلاً ایک سال کے اندر اندر۔

    سائمہ نے حکیم صاحب کے اصولوں پر عمل کیا، اور باغ کو سمارٹ منصوبہ بندی کے ذریعے مکمل کیا۔ ایک سال میں باغ مکمل ہو گیا، جہاں لوگ آرام کرنے اور بچے کھیلنے آنے لگے۔ سائمہ نے سمارٹ اصولوں کی سمجھ بوجھ ہمیشہ یاد رکھی، اور بعد میں زندگی کے باقی خواب بھی ان اصولوں پر عمل کر کے پورے کیے۔

    یوں، سائمہ کی محنت اور سمارٹ منصوبہ بندی کی بدولت، باغ آج بھی خوشبو اور سبزے سے بھرپور ہے، اور لوگ ہمیشہ سائمہ کو اس خواب کی حقیقت میں بدلنے کے لیے یاد رکھتے ہیں۔
    بہت سال پہلے، لاہور شہر میں سائمہ نامی ایک محنتی لڑکی رہتی تھی۔ سائمہ کا سب سے بڑا خواب اپنے علاقے میں ایک خوبصورت باغ بنانا تھا، جہاں لوگ سکون پائیں اور بچے کھیل سکیں۔ لیکن، وہ ہمیشہ اس خواب کو پورا کرنے میں ناکام رہی کیونکہ وہ صحیح منصوبہ بندی نہیں کر پا رہی تھی۔ ایک دن، محلے کے بزرگ، حکیم صاحب، نے سائمہ کی پریشانی دیکھی اور اسے "سمارٹ" منصوبہ بندی کا طریقہ بتایا۔ حکیم صاحب نے سائمہ کو سمجھایا کہ اگر وہ واقعی اپنے خواب کو حقیقت بنانا چاہتی ہے، تو اسے پانچ بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا: 1. **Specific (خاص)**: سائمہ کو اپنے باغ کی ہر تفصیل کا واضح تعین کرنا تھا، جیسے کون سے پھول، درخت اور پودے کہاں لگانے ہیں، اور کہاں بنچز وغیرہ رکھنے ہیں۔ 2. **Measurable (پیمائشی)**: اس نے کام کی پیش رفت کو ناپنے کے معیارات مقرر کیے، مثلاً ہر ہفتے کتنے پودے لگانے ہیں۔ 3. **Achievable (حاصل کرنے کے قابل)**: سائمہ کو حقیقت پسندانہ اہداف طے کرنے تھے، جو اس کے وسائل کے مطابق ممکن ہوں۔ 4. **Relevant (متعلقہ)**: یہ باغ سائمہ کے خواب کے عین مطابق ہونا چاہیے، تاکہ لوگوں کے لیے واقعی فائدہ مند ہو۔ 5. **Time-bound (وقت کے مطابق)**: سائمہ نے ایک مقررہ مدت طے کی جس میں باغ مکمل ہو جانا چاہیے، مثلاً ایک سال کے اندر اندر۔ سائمہ نے حکیم صاحب کے اصولوں پر عمل کیا، اور باغ کو سمارٹ منصوبہ بندی کے ذریعے مکمل کیا۔ ایک سال میں باغ مکمل ہو گیا، جہاں لوگ آرام کرنے اور بچے کھیلنے آنے لگے۔ سائمہ نے سمارٹ اصولوں کی سمجھ بوجھ ہمیشہ یاد رکھی، اور بعد میں زندگی کے باقی خواب بھی ان اصولوں پر عمل کر کے پورے کیے۔ یوں، سائمہ کی محنت اور سمارٹ منصوبہ بندی کی بدولت، باغ آج بھی خوشبو اور سبزے سے بھرپور ہے، اور لوگ ہمیشہ سائمہ کو اس خواب کی حقیقت میں بدلنے کے لیے یاد رکھتے ہیں۔
    0 Commentaires 0 Parts 278 Vue
  • سنت کو زندہ کریں اس گرمیوں میں قیلوہ کے ساتھ!

    جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے، یہ پاکستان میں ہمارے لیے بہترین وقت ہے کہ ہم قیلوہ (دوپہر کا قیلہ) کی فائدہ مند روایت کو اپنائیں۔ آئیں ہم اپنا دن فجر کی نماز کے بعد صبح 6 بجے سے شروع کریں اور دوپہر 12 بجے تک محنت کریں۔ پھر، ہم ایک تازہ دم قیلوہ لے کر دن کے سب سے گرم حصے میں آرام کریں۔ عصر کی نماز کے بعد ہم اپنے کام کو نئی توانائی کے ساتھ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور عشاء تک کام کر سکتے ہیں۔

    قیلوہ کو اپنی روزمرہ کی روٹین میں شامل کر کے، ہم گرمی کو شکست دے سکتے ہیں، مستعد رہ سکتے ہیں، اور اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سنت کو زندہ کرنے کا ثواب بھی ملے گا، جس سے ہمیں جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ روحانی انعامات بھی حاصل ہوں گے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیلوہ کیا کرو، بے شک شیاطین قیلوہ نہیں کرتے۔" (ابن ماجہ)

    آئیں اس وقت کی عزت دار روایت کو اپنا کر اپنی گرمیوں کے دنوں کا بہترین استعمال کریں!

    #قیلوہ #سنت_کو_زندہ_کریں #گرمیوں_کی_روٹین #مستعد_رہیں #گرمی_کو_شکست_دیں #صحت_مند_زندگی #پاکستان
    🌞 سنت کو زندہ کریں اس گرمیوں میں قیلوہ کے ساتھ! 🌞 جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے، یہ پاکستان میں ہمارے لیے بہترین وقت ہے کہ ہم قیلوہ (دوپہر کا قیلہ) کی فائدہ مند روایت کو اپنائیں۔ آئیں ہم اپنا دن فجر کی نماز کے بعد صبح 6 بجے سے شروع کریں اور دوپہر 12 بجے تک محنت کریں۔ پھر، ہم ایک تازہ دم قیلوہ لے کر دن کے سب سے گرم حصے میں آرام کریں۔ عصر کی نماز کے بعد ہم اپنے کام کو نئی توانائی کے ساتھ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور عشاء تک کام کر سکتے ہیں۔ قیلوہ کو اپنی روزمرہ کی روٹین میں شامل کر کے، ہم گرمی کو شکست دے سکتے ہیں، مستعد رہ سکتے ہیں، اور اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سنت کو زندہ کرنے کا ثواب بھی ملے گا، جس سے ہمیں جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ روحانی انعامات بھی حاصل ہوں گے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیلوہ کیا کرو، بے شک شیاطین قیلوہ نہیں کرتے۔" (ابن ماجہ) آئیں اس وقت کی عزت دار روایت کو اپنا کر اپنی گرمیوں کے دنوں کا بہترین استعمال کریں! #قیلوہ #سنت_کو_زندہ_کریں #گرمیوں_کی_روٹین #مستعد_رہیں #گرمی_کو_شکست_دیں #صحت_مند_زندگی #پاکستان
    0 Commentaires 0 Parts 942 Vue
Plus de résultats