• اے عـــــید اس بار جو آنا
    هـــــر چهرے پر هنسی لانا
    هـــــر آنگن میں پهول کهلانا
    جـــــو روئے هیں انهیں هنسانا
    جـــــو روٹهے هیں انهیں منانا
    جـــــو بچهڑے هیں انهیں ملانا
    پیــــــاری عـــــید تم جب بهی آنا
    ســـب کــــے لــــئے خوشیـــاں لانا
    عید مبارک هو
    اے عـــــید اس بار جو آنا هـــــر چهرے پر هنسی لانا هـــــر آنگن میں پهول کهلانا جـــــو روئے هیں انهیں هنسانا جـــــو روٹهے هیں انهیں منانا جـــــو بچهڑے هیں انهیں ملانا پیــــــاری عـــــید تم جب بهی آنا ســـب کــــے لــــئے خوشیـــاں لانا عید مبارک هو
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 107 Views
  • عقل کی کروڑوں دلیلیں اللہ سے ایک گناہ بھی نھیں معاف کراسکتیں لیکن ندامت کا ایک آنسوممکن ھے زندگی بھر کے گناہ معاف کرا

    Zafar Qadir
    عقل کی کروڑوں دلیلیں اللہ سے ایک گناہ بھی نھیں معاف کراسکتیں لیکن ندامت کا ایک آنسوممکن ھے زندگی بھر کے گناہ معاف کرا Zafar Qadir
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 57 Views
  • Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala

    کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟
    جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے…
    ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔
    میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔
    ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔
    پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔
    کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔
    آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔
    بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔
    ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔
    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟ جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے… ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔ میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔ ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔ پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔ آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔ بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔ جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 191 Views
  • میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔
    میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔

    ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟
    اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔
    میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔

    ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا :
    1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے)
    2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے)
    3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات
    4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے)
    5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات
    6) : مذھبی ہم آہنگی
    انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا

    @jan Malik
    میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔ میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔ ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟ اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔ میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا : 1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے) 2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے) 3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات 4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے) 5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات 6) : مذھبی ہم آہنگی انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا @jan Malik
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 259 Views
  • تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
    (عربی سے ترجمہ شدہ)

    یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے،یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها،اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی ،لیکن قرضوں کے بوجه میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے.
    ایک دن وہ اپنے دوستوں میں مجلس میں گیا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها،کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشاکل اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں؟
    خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے .
    کہتا ہے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا.
    سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں.
    پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائی گی.
    پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساته اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کردیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا.
    الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا .
    میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا.

    اللہ کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو.
    صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے.

    نوٹ :
    1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی،

    سوچیے !!!
    آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا

    2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیاآپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجرہے.
    (جیسے میں نے اس میسج کو پڑه کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کہتا ہوں مجهے سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ،ایک ایسا اطمئنان محسوس ہوتا ہے کہ جسکا جواب نہیں.مترجم)
    میرے عزیز!!!
    اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپکو لگا بندها وظیفہ ملتاہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتناہوجائے کچه رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں.

    اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجه لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاته میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاته میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.

    کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟
    خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گآ

    سن لیں !
    صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!
    1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
    2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے.
    3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
    4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے
    5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں
    6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے
    7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے
    8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا.
    9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ہے.
    10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
    11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو.
    12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
    13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ہے.
    14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
    15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
    16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
    17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے.کام یابی اور رزق کا سبب ہے.
    18. صدقہ علاج بهی ہے دواء بهی اور شفاء بهی...
    19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
    20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں ناہو..
    آخری بات :
    بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں.

    Shred via Munawwar Ikhlas Allahwala
    تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ (عربی سے ترجمہ شدہ) یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے،یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها،اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی ،لیکن قرضوں کے بوجه میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے. ایک دن وہ اپنے دوستوں میں مجلس میں گیا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها،کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشاکل اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں؟ خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے . کہتا ہے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا. سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں. پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائی گی. پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساته اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کردیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا. الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا . میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا. اللہ کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو. صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے. نوٹ : 1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، سوچیے !!! آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا 2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیاآپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجرہے. (جیسے میں نے اس میسج کو پڑه کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کہتا ہوں مجهے سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ،ایک ایسا اطمئنان محسوس ہوتا ہے کہ جسکا جواب نہیں.مترجم) میرے عزیز!!! اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپکو لگا بندها وظیفہ ملتاہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتناہوجائے کچه رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں. اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجه لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاته میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاته میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی. کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟ خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گآ سن لیں ! صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!! 1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے 2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے. 3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا 4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے 5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں 6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے 7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے 8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا. 9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ہے. 10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے 11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو. 12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے 13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ہے. 14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے 15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے 16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے 17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے.کام یابی اور رزق کا سبب ہے. 18. صدقہ علاج بهی ہے دواء بهی اور شفاء بهی... 19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ہے 20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں ناہو.. آخری بات : بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں. Shred via Munawwar Ikhlas Allahwala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 264 Views
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 669 Views
  • وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 298 Views
  • ایک چڑیا کی تین نصیحتیں

    ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..
    چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..

    ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. ”
    اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے .. اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. ”
    چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ” جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. ”
    یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..”
    اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدردولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. ”
    اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کراپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں..
    چڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پرجا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ہوسکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
    میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا..
    تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.. ”
    یہ کہتے ہوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اورہوا میں پرواز کر گئی.. وہ شخص وہیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ھوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!
    وہ لوگ خوش نصیب ھوتے ھیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ھم اکثر خود کو عقلِ کل سمجھتے ھوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے..
    یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ‘ ھم نے سن لیا..بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ھونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقیننا” ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ھو سکتے ھیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!

    حکایتِ رومی
    ایک چڑیا کی تین نصیحتیں ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا.. چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. ” اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے .. اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. ” چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ” جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. ” یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..” اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدردولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. ” اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کراپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پرجا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ہوسکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟ میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.. ” یہ کہتے ہوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اورہوا میں پرواز کر گئی.. وہ شخص وہیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ھوۓ سوچوں میں کھو گیا..!! وہ لوگ خوش نصیب ھوتے ھیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ھم اکثر خود کو عقلِ کل سمجھتے ھوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ‘ ھم نے سن لیا..بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ھونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقیننا” ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ھو سکتے ھیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..! حکایتِ رومی
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 78 Views
  • میرا ایک سٹوڈنٹ تھا.. میں نے کچھ عرصہ اسے قرآن پاک پڑھایا... شروع سے س کی کچھ عادات مختلف تھیں اب آ کر کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک خواجہ سرا ھے...
    اور وہ اب گھر والوں کو بتائے بغیر اور تنگ آ کر کسی کوٹھے پہ جا رہا ھے...
    اس کو ہر کوئی چھیڑتا ھے وہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ لوگ ان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں..
    تو بس اتنا چاہتا ہوں کے اگر ان لوگوں کے لئے کوئی اچھی آرگنائزیشن یا NGO کا پتہ ہو تو میری مدد کیجئے گا تاکہ شاید وہ اس ناچ گانے والے کوٹھے پہ جانے سے بج جائے...
    جزاک اللہ...

    What can we do for him ?

    Please join https://www.facebook.com/groups/HijraPk/

    and write there
    میرا ایک سٹوڈنٹ تھا.. میں نے کچھ عرصہ اسے قرآن پاک پڑھایا... شروع سے س کی کچھ عادات مختلف تھیں اب آ کر کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک خواجہ سرا ھے... اور وہ اب گھر والوں کو بتائے بغیر اور تنگ آ کر کسی کوٹھے پہ جا رہا ھے... اس کو ہر کوئی چھیڑتا ھے وہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ لوگ ان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں.. تو بس اتنا چاہتا ہوں کے اگر ان لوگوں کے لئے کوئی اچھی آرگنائزیشن یا NGO کا پتہ ہو تو میری مدد کیجئے گا تاکہ شاید وہ اس ناچ گانے والے کوٹھے پہ جانے سے بج جائے... جزاک اللہ... What can we do for him ? Please join https://www.facebook.com/groups/HijraPk/ and write there
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 119 Views
  • JPSD Transport Alert:
    رمضان ٹائمینگ

    بلوچ کالونی سے ٹاور
    پہلا ٹرپ صبح9:45
    دوسرا ٹرپ صبح11:30
    واپسی ٹاور سے بلوچ کالونی کیلئے مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے

    اللہ والا ٹاون سے ٹاور
    پہلا ٹرپ صبح9:15
    دوسرا ٹرپ صبح10:30
    واپسی ٹاور سے اللہ والا ٹاون کیلئے مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے

    آنریری ناظم سروس وین سب کمیٹی
    JPSD Transport Alert: رمضان ٹائمینگ بلوچ کالونی سے ٹاور پہلا ٹرپ صبح9:45 دوسرا ٹرپ صبح11:30 واپسی ٹاور سے بلوچ کالونی کیلئے مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے اللہ والا ٹاون سے ٹاور پہلا ٹرپ صبح9:15 دوسرا ٹرپ صبح10:30 واپسی ٹاور سے اللہ والا ٹاون کیلئے مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے آنریری ناظم سروس وین سب کمیٹی
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 91 Views
Αναζήτηση αποτελεσμάτων