• RSIF8 Roll no:100 TEDxTalk no:1 TEDxTalk topic:Watch TEDx Talk: "The Power of Dreams and Curiosity" – Adeel Hashmi خوابوں اور تجسس کی طاقت خواب ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنے کا حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ تجسس ہمیں نئی چیزیں سیکھنے، سوال پوچھنے اور دنیا کو مختلف انداز سے سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس TEDx Talk میں ہم جانتے ہیں کہ ہمارے خواب، خیالات اور سوالات ہماری زندگی کو کس طرح بہتر سمت دے سکتے ہیں۔ تجسس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ "کیوں؟"، "کیسے؟" اور "اگر ایسا ہو تو کیا ہوگا؟" ہر سوال ہمارے لیے علم اور دریافت کا ایک نیا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے محنت، صبر، ہمت اور مسلسل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راستے میں مشکلات اور ناکامیاں آ سکتی ہیں، لیکن یہی تجربات ہمیں مضبوط بناتے ہیں اور آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ TEDx Talk ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں کبھی بڑے خواب دیکھنے سے نہیں ڈرنا چاہیے اور نہ ہی سوال پوچھنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے سے رکنا چاہیے۔ خواب دیکھیں، سوال پوچھیں، سیکھتے رہیں اور اپنے مستقبل پر یقین رکھیں! #TEDx #خواب #تجسس #خوابوں_کی_طاقت #DreamBig #Curiosity #Motivation #Inspiration #Learning #NeverGiveUp #BelieveInYourself #GrowthMindset #تعلیم #کامیابی #حوصلہ #مثبت_سوچ #سیکھتے_رہیں #آگے_بڑھیں
    RSIF8 Roll no:100 TEDxTalk no:1 TEDxTalk topic:Watch TEDx Talk: "The Power of Dreams and Curiosity" – Adeel Hashmi 🌟 خوابوں اور تجسس کی طاقت 🌟 خواب ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنے کا حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ تجسس ہمیں نئی چیزیں سیکھنے، سوال پوچھنے اور دنیا کو مختلف انداز سے سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ 💭🌍✨ اس TEDx Talk میں ہم جانتے ہیں کہ ہمارے خواب، خیالات اور سوالات ہماری زندگی کو کس طرح بہتر سمت دے سکتے ہیں۔ 🚀💡 تجسس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ "کیوں؟"، "کیسے؟" اور "اگر ایسا ہو تو کیا ہوگا؟" 🔍🧠 ہر سوال ہمارے لیے علم اور دریافت کا ایک نیا دروازہ کھول سکتا ہے۔ 📚🌟 یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے محنت، صبر، ہمت اور مسلسل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 💪🔥 راستے میں مشکلات اور ناکامیاں آ سکتی ہیں، لیکن یہی تجربات ہمیں مضبوط بناتے ہیں اور آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ 🌱✨ یہ TEDx Talk ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں کبھی بڑے خواب دیکھنے سے نہیں ڈرنا چاہیے اور نہ ہی سوال پوچھنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے سے رکنا چاہیے۔ 🌈🚀 خواب دیکھیں، سوال پوچھیں، سیکھتے رہیں اور اپنے مستقبل پر یقین رکھیں! ❤️🌟 #TEDx #خواب #تجسس #خوابوں_کی_طاقت #DreamBig #Curiosity #Motivation #Inspiration #Learning #NeverGiveUp #BelieveInYourself #GrowthMindset #تعلیم #کامیابی #حوصلہ #مثبت_سوچ #سیکھتے_رہیں #آگے_بڑھیں 🌟💭🚀
    0 Commentaires 0 Parts 1167 Vue 12
  • Story Post : 53
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:01:26


    🪽 ملا نصرالدین اور اڑنے کی کوشش

    ایک دن ملا نصرالدین نے سوچا کہ آخر انسان بھی کیوں نہ پرندوں کی طرح آسمان میں اڑ سکے؟ 🪽 اپنے منفرد انداز اور عجیب و غریب منصوبے کے ساتھ وہ اڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتا ہے!

    یہ مزاحیہ اردو کہانی ملا نصرالدین کی حیرت انگیز سوچ، بہادری اور حاضر جوابی کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی کام سے پہلے سمجھ داری، تیاری اور احتیاط بہت ضروری ہے۔

    اس کہانی سے سبق:
    کوشش کے ساتھ عقل بھی ضروری ہے۔
    خطرناک کاموں میں احتیاط کریں۔
    غلطیوں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔
    نئے خیالات کے ساتھ آگے بڑھیں، مگر سمجھ داری سے!

    ایک مزاحیہ کوشش، ایک حیران کن نتیجہ، اور ملا نصرالدین کا یادگار سبق! 🪽

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Comedy #FlyingStory #Cleverness #Learning #InterestingStories #FunnyKahani
    Story Post : 53 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:01:26 🪽😂 ملا نصرالدین اور اڑنے کی کوشش 🪂✨ ایک دن ملا نصرالدین نے سوچا کہ آخر انسان بھی کیوں نہ پرندوں کی طرح آسمان میں اڑ سکے؟ 🤔🪽 اپنے منفرد انداز اور عجیب و غریب منصوبے کے ساتھ وہ اڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتا ہے! 😂🤣 یہ مزاحیہ اردو کہانی ملا نصرالدین کی حیرت انگیز سوچ، بہادری اور حاضر جوابی کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کرتی ہے۔ 🧠😄 ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی کام سے پہلے سمجھ داری، تیاری اور احتیاط بہت ضروری ہے۔ 💡🛡️ 🌟 اس کہانی سے سبق: 🧠 کوشش کے ساتھ عقل بھی ضروری ہے۔ ⚠️ خطرناک کاموں میں احتیاط کریں۔ 😂 غلطیوں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔ 💪 نئے خیالات کے ساتھ آگے بڑھیں، مگر سمجھ داری سے! 📖 ایک مزاحیہ کوشش، ایک حیران کن نتیجہ، اور ملا نصرالدین کا یادگار سبق! 🪽😂✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Comedy #FlyingStory #Cleverness #Learning #InterestingStories #FunnyKahani
    0 Commentaires 0 Parts 1207 Vue
  • Level 1
    Book 1
    Day 5
    Task canva post
    Summary

    یہ اقتباس زندگی میں آزادی، بلند حوصلے، خوابوں اور مثبت سوچ کی اہمیت بتاتا ہے۔ انسان کو محدود سوچ کے بجائے اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھنا چاہیے۔

    Input

    زندگی کو پرواز، آزادی اور بلند حوصلے کی علامت سمجھنا۔

    Output

    اپنے خوابوں کو بڑا رکھیں، ہمت سے آگے بڑھیں اور زندگی کو بامقصد بنائیں۔

    Moral

    بلند سوچ اور مضبوط حوصلہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

    Keywords

    آزادی، پرواز، خواب، حوصلہ، زندگی، کامیابی، امید، بلند سوچ، مقصد، خود اعتمادی

    #️⃣ Hashtags

    #AllamaIqbal #IqbalQuotes #UrduQuotes #UrduPoetry #LifeQuotes #Motivation #Inspiration #DreamBig #Freedom #Courage #Hope #Success #PositiveThinking #HighAims #SelfBelief #Pakistan #Poetry #Wisdom #MotivationalQuotes #LifeMotivation b


    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Waryam Tharparkar Wala
    Shazia Javed Educationwali
    Level 1 Book 1 Day 5 Task canva post 🌟 Summary یہ اقتباس زندگی میں آزادی، بلند حوصلے، خوابوں اور مثبت سوچ کی اہمیت بتاتا ہے۔ انسان کو محدود سوچ کے بجائے اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھنا چاہیے۔ 🕊️✨ 📥 Input زندگی کو پرواز، آزادی اور بلند حوصلے کی علامت سمجھنا۔ 📤 Output اپنے خوابوں کو بڑا رکھیں، ہمت سے آگے بڑھیں اور زندگی کو بامقصد بنائیں۔ 🌟 💡 Moral بلند سوچ اور مضبوط حوصلہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ 🚀 🔑 Keywords آزادی، پرواز، خواب، حوصلہ، زندگی، کامیابی، امید، بلند سوچ، مقصد، خود اعتمادی #️⃣ Hashtags #AllamaIqbal #IqbalQuotes #UrduQuotes #UrduPoetry #LifeQuotes #Motivation #Inspiration #DreamBig #Freedom #Courage #Hope #Success #PositiveThinking #HighAims #SelfBelief #Pakistan #Poetry #Wisdom #MotivationalQuotes #LifeMotivation b Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala Shazia Javed Educationwali
    0 Commentaires 0 Parts 3428 Vue
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Commentaires 0 Parts 3300 Vue
  • ### **کہانی: تین کردار، ایک پلیٹ فارم **

    **علی:**
    "میں ایسی سوشل میڈیا ایپ ڈھونڈ رہا تھا جہاں صرف پاکستانی ہوں، تاکہ اپنے ملک کے لوگوں سے جڑ سکوں۔"

    **عائشہ:**
    "مجھے جعلی اکاؤنٹس اور غیر ضروری مواد سے تنگ آ چکی تھی۔ پھر مجھے **Paki.com** ملا، جہاں محفوظ اور معیاری پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔"

    **حمزہ:**
    "میں چاہتا تھا کہ اپنی صلاحیتیں، خیالات اور کامیابیاں صرف پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کروں۔ اب ہم تینوں **Paki.com** پر ہیں۔"

    ### **اختتام**

    **آئیں، پاکستان کی اپنی سوشل پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔**
    **Paki.com — جڑیں، شیئر کریں، اور ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔**
    ### **کہانی: تین کردار، ایک پلیٹ فارم 🇵🇰** 👨 **علی:** "میں ایسی سوشل میڈیا ایپ ڈھونڈ رہا تھا جہاں صرف پاکستانی ہوں، تاکہ اپنے ملک کے لوگوں سے جڑ سکوں۔" 👩 **عائشہ:** "مجھے جعلی اکاؤنٹس اور غیر ضروری مواد سے تنگ آ چکی تھی۔ پھر مجھے **Paki.com** ملا، جہاں محفوظ اور معیاری پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔" 👨 **حمزہ:** "میں چاہتا تھا کہ اپنی صلاحیتیں، خیالات اور کامیابیاں صرف پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کروں۔ اب ہم تینوں **Paki.com** پر ہیں۔" ### **اختتام** **آئیں، پاکستان کی اپنی سوشل پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔** 🇵🇰 **Paki.com — جڑیں، شیئر کریں، اور ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔**
    0 Commentaires 0 Parts 904 Vue
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Commentaires 0 Parts 2236 Vue
  • ### **کہانی: تین کردار، ایک پلیٹ فارم **

    **علی:**
    "میں ایسی سوشل میڈیا ایپ ڈھونڈ رہا تھا جہاں صرف پاکستانی ہوں، تاکہ اپنے ملک کے لوگوں سے جڑ سکوں۔"

    **عائشہ:**
    "مجھے جعلی اکاؤنٹس اور غیر ضروری مواد سے تنگ آ چکی تھی۔ پھر مجھے **Paki.com** ملا، جہاں محفوظ اور معیاری پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔"

    **حمزہ:**
    "میں چاہتا تھا کہ اپنی صلاحیتیں، خیالات اور کامیابیاں صرف پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کروں۔ اب ہم تینوں **Paki.com** پر ہیں۔"

    ### **اختتام**

    **آئیں، پاکستان کی اپنی سوشل پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔**
    **Paki.com — جڑیں، شیئر کریں، اور ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔**
    ### **کہانی: تین کردار، ایک پلیٹ فارم 🇵🇰** 👨 **علی:** "میں ایسی سوشل میڈیا ایپ ڈھونڈ رہا تھا جہاں صرف پاکستانی ہوں، تاکہ اپنے ملک کے لوگوں سے جڑ سکوں۔" 👩 **عائشہ:** "مجھے جعلی اکاؤنٹس اور غیر ضروری مواد سے تنگ آ چکی تھی۔ پھر مجھے **Paki.com** ملا، جہاں محفوظ اور معیاری پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔" 👨 **حمزہ:** "میں چاہتا تھا کہ اپنی صلاحیتیں، خیالات اور کامیابیاں صرف پاکستانیوں کے ساتھ شیئر کروں۔ اب ہم تینوں **Paki.com** پر ہیں۔" ### **اختتام** **آئیں، پاکستان کی اپنی سوشل پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔** 🇵🇰 **Paki.com — جڑیں، شیئر کریں، اور ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔**
    0 Commentaires 0 Parts 1158 Vue
  • بہت عمدہ تحریر !


    بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی

    Zeeshan Usmani

    *آگے* *بڑیں*

    اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation
    کیسے آئے؟

    کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔

    آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔

    1۔ اعتراض نہ کریں:

    اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔

    خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔

    آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔

    شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔

    کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟

    اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔

    اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔

    فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔

    2۔ شکر ادا کریں:

    اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ
    Excel sheet
    بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں.

    مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔


    3۔ اپنا ذکر نہ کریں:

    یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔
    آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔

    اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔

    اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا

    یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔
    اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔
    ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے
    اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
    (تہذیب حافی)
    بہت عمدہ تحریر ! بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی Zeeshan Usmani *آگے* *بڑیں* اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation کیسے آئے؟ کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔ آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔ 1۔ اعتراض نہ کریں: اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔ خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔ آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔ شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔ کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟ اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔ اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔ 2۔ شکر ادا کریں: اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ Excel sheet بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں. مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ 3۔ اپنا ذکر نہ کریں: یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔ آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔ اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔ اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔ ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا (تہذیب حافی)
    0 Commentaires 0 Parts 1371 Vue
  • اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
    امن عالم کا خون ہے آخر
    بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
    روح تعمیر زخم کھاتی ہے
    کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
    زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
    ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
    کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
    فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
    زندگی میتوں پہ روتی ہے
    جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
    جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
    آگ اور خون آج بخشے گی
    بھوک اور احتیاج کل دے گی

    اس لئے اے شریف انسانو
    جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
    آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
    شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
    برتری کے ثبوت کی خاطر
    خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
    گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
    گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
    جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
    صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
    حاصل زندگی خرد بھی ہے
    حاصل زندگی جنوں ہی نہیں
    آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
    فکر کی روشنی کو عام کریں
    امن کو جن سے تقویت پہنچے
    ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
    جنگ وحشت سے بربریت سے
    امن تہذیب و ارتقا کے لئے
    جنگ مرگ آفریں سیاست سے
    امن انسان کی بقا کے لیے
    جنگ افلاس اور غلامی سے
    امن بہتر نظام کی خاطر
    جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
    امن بے بس عوام کی خاطر
    جنگ سرمائے کے تسلط سے
    امن جمہور کی خوشی کے لیے
    جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
    امن پر امن زندگی کے لیے
    اپنا ہو یا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روح تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں حاصل زندگی خرد بھی ہے حاصل زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ وحشت سے بربریت سے امن تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ مرگ آفریں سیاست سے امن انسان کی بقا کے لیے جنگ افلاس اور غلامی سے امن بہتر نظام کی خاطر جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے امن بے بس عوام کی خاطر جنگ سرمائے کے تسلط سے امن جمہور کی خوشی کے لیے جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن پر امن زندگی کے لیے
    0 Commentaires 0 Parts 513 Vue
  • خون اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
    امن عالم کا خون ہے آخر

    بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
    روح تعمیر زخم کھاتی ہے
    کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
    زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
    ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
    کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
    فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
    زندگی میتوں پہ روتی ہے

    جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
    جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
    آگ اور خون آج بخشے گی
    بھوک اور احتیاج کل دے گی

    اس لئے اے شریف انسانو
    جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
    آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
    شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
    ۲
    برتری کے ثبوت کی خاطر
    خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
    گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
    گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
    جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
    صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
    حاصل زندگی خرد بھی ہے
    حاصل زندگی جنوں ہی نہیں

    آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
    فکر کی روشنی کو عام کریں
    امن کو جن سے تقویت پہنچے
    ایسی جنگوں کا اہتمام کریں

    جنگ وحشت سے بربریت سے
    امن تہذیب و ارتقا کے لئے
    جنگ مرگ آفریں سیاست سے
    امن انسان کی بقا کے لیے

    جنگ افلاس اور غلامی سے
    امن بہتر نظام کی خاطر
    جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
    امن بے بس عوام کی خاطر
    جنگ سرمائے کے تسلط سے
    امن جمہور کی خوشی کے لیے
    جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
    امن پر امن زندگی کے لیے

    ساحر لدھیانوی صاحب۔۔۔
    خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روح تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے ۲ برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں حاصل زندگی خرد بھی ہے حاصل زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ وحشت سے بربریت سے امن تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ مرگ آفریں سیاست سے امن انسان کی بقا کے لیے جنگ افلاس اور غلامی سے امن بہتر نظام کی خاطر جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے امن بے بس عوام کی خاطر جنگ سرمائے کے تسلط سے امن جمہور کی خوشی کے لیے جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن پر امن زندگی کے لیے ساحر لدھیانوی صاحب۔۔۔
    0 Commentaires 0 Parts 366 Vue
Plus de résultats