• . حاصل زیست

    کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے.

    ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected maam کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا.

    اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا..

    اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے.

    تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے.

    اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے.

    دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے.

    آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے..

    آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں.

    ( ابن فاضل)
    #ابن_فاضل

    #Ibn_e_fazil
    #ibnefazil

    Ibn e Fazil
    . حاصل زیست کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے. ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected ma'am کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا. اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا.. اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے. تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے. اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے. دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے. آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے.. آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں. ( ابن فاضل) #ابن_فاضل #Ibn_e_fazil #ibnefazil Ibn e Fazil
    0 Комментарии 0 Поделились 444 Просмотры
  • . فرق پڑتا ہے اگر…

    قیام پاکستان سے قبل ایک عالم دین بزرگ انتہائی خوبصورت انداز بیان کی وجہ سے بہت شہرت رکھتے تھے. جب کہیں ان کا بیان ہوتا لوگ دور دور سے سننے کی خاطر آتے اور فیض یاب ہوتے.

    ایک بار کسی جگہ ان کا بیان تھا، ہزاروں کا مجمع تھا. گھنٹہ بھر خوبصورت گفتگو فرمائی. وعظ ختم ہوا تو قریب ہی ایک جگہ میزبانوں نے کھانے کا انتظام کررکھا تھا وہاں تشریف لے گئے. ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار آیا اور آتے ہی کہنے لگا حضرت میں بہت دور سے آیا ہوں مگر تمام کوشش کے باوجود دیر ہوگئی. آپ کے نصائح سے محروم رہ گیا.

    آپ نے اسے قریب بٹھایا اور گھنٹہ بھر کا وہی بیان جو سارے مجمع کو کیا اس اکیلے شخص کو بھی سنادیا. وہ شخص بہت حیران ہوا. پوچھا حضرت آپ تو بہت مصروف آدمی ہیں مجھ ناچیز پر اتنی عنایت کیوں. حضرت نے انتہائی خوبصورت جواب دیا. جو کسی بھی داعی یا مبلغ کے لیے مشعل راہ ہے.

    آسمان کی طرف انگشت شہادت کرتے ہوئے فرمایا.. "پہلے بھی میں اس ایک کو راضی کررہا تھا اب بھی اس ایک کو ہی خوش کرنے کی کوشش کی"

    تو صاحبو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فالورز ہزار ہیں یا لاکھ اگر سمت درست ہے تو خیر کی خوشبو پھیلتی رہے گی…. سلامت رہیں. اور اپنے حصے کا دیا جلاتے رہیں.

    ( ابن فاضل )
    #ابن_فاضل
    #Ibn_e_fazil

    Via Ibn e Fazil
    . فرق پڑتا ہے اگر… قیام پاکستان سے قبل ایک عالم دین بزرگ انتہائی خوبصورت انداز بیان کی وجہ سے بہت شہرت رکھتے تھے. جب کہیں ان کا بیان ہوتا لوگ دور دور سے سننے کی خاطر آتے اور فیض یاب ہوتے. ایک بار کسی جگہ ان کا بیان تھا، ہزاروں کا مجمع تھا. گھنٹہ بھر خوبصورت گفتگو فرمائی. وعظ ختم ہوا تو قریب ہی ایک جگہ میزبانوں نے کھانے کا انتظام کررکھا تھا وہاں تشریف لے گئے. ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار آیا اور آتے ہی کہنے لگا حضرت میں بہت دور سے آیا ہوں مگر تمام کوشش کے باوجود دیر ہوگئی. آپ کے نصائح سے محروم رہ گیا. آپ نے اسے قریب بٹھایا اور گھنٹہ بھر کا وہی بیان جو سارے مجمع کو کیا اس اکیلے شخص کو بھی سنادیا. وہ شخص بہت حیران ہوا. پوچھا حضرت آپ تو بہت مصروف آدمی ہیں مجھ ناچیز پر اتنی عنایت کیوں. حضرت نے انتہائی خوبصورت جواب دیا. جو کسی بھی داعی یا مبلغ کے لیے مشعل راہ ہے. آسمان کی طرف انگشت شہادت کرتے ہوئے فرمایا.. "پہلے بھی میں اس ایک کو راضی کررہا تھا اب بھی اس ایک کو ہی خوش کرنے کی کوشش کی" تو صاحبو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فالورز ہزار ہیں یا لاکھ اگر سمت درست ہے تو خیر کی خوشبو پھیلتی رہے گی…. سلامت رہیں. اور اپنے حصے کا دیا جلاتے رہیں. ( ابن فاضل ) #ابن_فاضل #Ibn_e_fazil Via Ibn e Fazil
    0 Комментарии 0 Поделились 210 Просмотры
  • . جانے کیوں

    ہندوستان کی تقسیم سے سال بھر قبل لاہور صوبہ گجرات کے علاقے " کیرا" کے گوالوں کو شکایت ہوئی کہ بیوپاری ان سے دودھ انتہائی سستے داموں خرید کر قریب کی بستیوں میں بہت مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں.. انہیں مسلسل اس تکلیف دہ احساس کا سامنا تھا کہ ان کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں دیا جارہا. کچھ عرصہ تک اس مالی جبر کو برداشت کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کا کوئی حل ہونا چاہیے. ایک صاحب حکمت نے مشورہ دیا کہ سارے گوالے مل کر اپنی ایک ڈسٹریبیوشن کمپنی بنالیں. اور بیوپاری کو منہا کرکے براہ راست گاہک کو دودھ فروخت کریں.

    کیرا کے گوالوں نے.. کیرا ڈسٹرکٹ کوآپریٹو ملک پروڈیوسر یونین کے نام سے ایک انجمن بنائی اور کل دوسو چوہتر 274 لیٹر دودھ سے ڈسٹریبیوشن کا آغاز کیا. یہ آغاز دنیا کی دودھ اور دودھ کی مصنوعات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی امول AMUL کا ہے. جو آج تیرہ ہزار پانچ سو گاؤں کے چھتیس لاکھ گوالوں کی ملکیت ہے. سال 2022 میں امول کی پیداوار ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد ہے.

    لوگوں کے اشتراک سے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل حل کرتے ہوئے جمہور کے لیے خیر اور آسودہ حالی حاصل کرنے کی یہ ایک مثال ہے. ارلا فوڈز ڈنمارک سے لے کر تائیوان کوآپریٹو بنک تک دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے.

    کل ایک رکشے کے پیچھے یہ اشتہار دیکھ کر جی میں خیال آیا کہ کاش ہماری ایسوسی ایشن اور یونینز بھی سیاست سے آگے بڑھ کر بھی ایسے کام کریں. تصور کریں لاہور میں ایک لاکھ سے زائد رکشہ والے ہوں گے. اگر ان میں سے دو چار ہزار بھی اس ایسوسی ایشن کے رکن ہوں. تو محض چند سو روپے فی کس ملا کر یہ اوبر یا کریم جیسی لاہور رکشہ یا اس سے ملتے جلتے نام کی کوئی اپلیکیشن بنالیں. ممبرز بنانے کا ان کو مسئلہ ہی نہیں.

    اپلیکیشن سے رکشہ والوں اور شہریوں کو جو سکون اور فوائد ہوں گے وہ ایک طرف چند ماہ میں اپلیکیشنز کی اپنی قدر کی کروڑوں میں ہوگی. شہر کے لوگ جو رکشہ والوں کی من مانی کی وجہ سے اوبر یا ان ڈرائیو کو ترجیح دینے لگے ہیں فکس اور قابل بھروسہ نرخ مہیا ہونے پر بے دھڑک استعمال کیا کریں گے سب کا بھلا ہوگا.

    صرف رکشہ والوں پر ہی کیا موقوف صاحب ہر بڑی مارکیٹ کی تنظیم اپنی آنلائین مارکیٹ بناسکتی ہے. صنعتی ایسوسی ایشن صنعتوں اور صنعتی پیداوار کے تعارف کی اپلیکیشنز بنائیں . لیدر، فرنیچر، گوشت، پھل، سبزیوں اور دیگر تمام اشیاء ضرورت کے فروخت کنندگان ایسی اپلیکیشنز سے دنیا بھر سے گاہک تلاش کرسکتے ہیں.

    اس قدر غیر محدود امکانات کے جہاں میں جانے کیوں ہم مایوس اور پریشان بیٹھے ہیں ۔

    ( ابن فاضل)
    #ابن_فاضل
    #Ibn_e_fazil
    . جانے کیوں ہندوستان کی تقسیم سے سال بھر قبل لاہور صوبہ گجرات کے علاقے " کیرا" کے گوالوں کو شکایت ہوئی کہ بیوپاری ان سے دودھ انتہائی سستے داموں خرید کر قریب کی بستیوں میں بہت مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں.. انہیں مسلسل اس تکلیف دہ احساس کا سامنا تھا کہ ان کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں دیا جارہا. کچھ عرصہ تک اس مالی جبر کو برداشت کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کا کوئی حل ہونا چاہیے. ایک صاحب حکمت نے مشورہ دیا کہ سارے گوالے مل کر اپنی ایک ڈسٹریبیوشن کمپنی بنالیں. اور بیوپاری کو منہا کرکے براہ راست گاہک کو دودھ فروخت کریں. کیرا کے گوالوں نے.. کیرا ڈسٹرکٹ کوآپریٹو ملک پروڈیوسر یونین کے نام سے ایک انجمن بنائی اور کل دوسو چوہتر 274 لیٹر دودھ سے ڈسٹریبیوشن کا آغاز کیا. یہ آغاز دنیا کی دودھ اور دودھ کی مصنوعات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی امول AMUL کا ہے. جو آج تیرہ ہزار پانچ سو گاؤں کے چھتیس لاکھ گوالوں کی ملکیت ہے. سال 2022 میں امول کی پیداوار ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد ہے. لوگوں کے اشتراک سے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل حل کرتے ہوئے جمہور کے لیے خیر اور آسودہ حالی حاصل کرنے کی یہ ایک مثال ہے. ارلا فوڈز ڈنمارک سے لے کر تائیوان کوآپریٹو بنک تک دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے. کل ایک رکشے کے پیچھے یہ اشتہار دیکھ کر جی میں خیال آیا کہ کاش ہماری ایسوسی ایشن اور یونینز بھی سیاست سے آگے بڑھ کر بھی ایسے کام کریں. تصور کریں لاہور میں ایک لاکھ سے زائد رکشہ والے ہوں گے. اگر ان میں سے دو چار ہزار بھی اس ایسوسی ایشن کے رکن ہوں. تو محض چند سو روپے فی کس ملا کر یہ اوبر یا کریم جیسی لاہور رکشہ یا اس سے ملتے جلتے نام کی کوئی اپلیکیشن بنالیں. ممبرز بنانے کا ان کو مسئلہ ہی نہیں. اپلیکیشن سے رکشہ والوں اور شہریوں کو جو سکون اور فوائد ہوں گے وہ ایک طرف چند ماہ میں اپلیکیشنز کی اپنی قدر کی کروڑوں میں ہوگی. شہر کے لوگ جو رکشہ والوں کی من مانی کی وجہ سے اوبر یا ان ڈرائیو کو ترجیح دینے لگے ہیں فکس اور قابل بھروسہ نرخ مہیا ہونے پر بے دھڑک استعمال کیا کریں گے سب کا بھلا ہوگا. صرف رکشہ والوں پر ہی کیا موقوف صاحب ہر بڑی مارکیٹ کی تنظیم اپنی آنلائین مارکیٹ بناسکتی ہے. صنعتی ایسوسی ایشن صنعتوں اور صنعتی پیداوار کے تعارف کی اپلیکیشنز بنائیں . لیدر، فرنیچر، گوشت، پھل، سبزیوں اور دیگر تمام اشیاء ضرورت کے فروخت کنندگان ایسی اپلیکیشنز سے دنیا بھر سے گاہک تلاش کرسکتے ہیں. اس قدر غیر محدود امکانات کے جہاں میں جانے کیوں ہم مایوس اور پریشان بیٹھے ہیں ۔ ( ابن فاضل) #ابن_فاضل #Ibn_e_fazil
    0 Комментарии 0 Поделились 113 Просмотры