• Story Post : 53
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:01:26


    🪽 ملا نصرالدین اور اڑنے کی کوشش

    ایک دن ملا نصرالدین نے سوچا کہ آخر انسان بھی کیوں نہ پرندوں کی طرح آسمان میں اڑ سکے؟ 🪽 اپنے منفرد انداز اور عجیب و غریب منصوبے کے ساتھ وہ اڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتا ہے!

    یہ مزاحیہ اردو کہانی ملا نصرالدین کی حیرت انگیز سوچ، بہادری اور حاضر جوابی کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی کام سے پہلے سمجھ داری، تیاری اور احتیاط بہت ضروری ہے۔

    اس کہانی سے سبق:
    کوشش کے ساتھ عقل بھی ضروری ہے۔
    خطرناک کاموں میں احتیاط کریں۔
    غلطیوں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔
    نئے خیالات کے ساتھ آگے بڑھیں، مگر سمجھ داری سے!

    ایک مزاحیہ کوشش، ایک حیران کن نتیجہ، اور ملا نصرالدین کا یادگار سبق! 🪽

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Comedy #FlyingStory #Cleverness #Learning #InterestingStories #FunnyKahani
    Story Post : 53 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:01:26 🪽😂 ملا نصرالدین اور اڑنے کی کوشش 🪂✨ ایک دن ملا نصرالدین نے سوچا کہ آخر انسان بھی کیوں نہ پرندوں کی طرح آسمان میں اڑ سکے؟ 🤔🪽 اپنے منفرد انداز اور عجیب و غریب منصوبے کے ساتھ وہ اڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتا ہے! 😂🤣 یہ مزاحیہ اردو کہانی ملا نصرالدین کی حیرت انگیز سوچ، بہادری اور حاضر جوابی کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کرتی ہے۔ 🧠😄 ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی کام سے پہلے سمجھ داری، تیاری اور احتیاط بہت ضروری ہے۔ 💡🛡️ 🌟 اس کہانی سے سبق: 🧠 کوشش کے ساتھ عقل بھی ضروری ہے۔ ⚠️ خطرناک کاموں میں احتیاط کریں۔ 😂 غلطیوں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔ 💪 نئے خیالات کے ساتھ آگے بڑھیں، مگر سمجھ داری سے! 📖 ایک مزاحیہ کوشش، ایک حیران کن نتیجہ، اور ملا نصرالدین کا یادگار سبق! 🪽😂✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Comedy #FlyingStory #Cleverness #Learning #InterestingStories #FunnyKahani
    0 Commentaires 0 Parts 1436 Vue
  • #rsisb
    Roll No.240
    Story No.29
    Level one

    اس دلچسپ اردو کہانی میں ملا نصرالدین رات کے وقت اپنے گھر میں ایک چور کو داخل ہوتے دیکھتے ہیں۔ ملا نصرالدین گھبرانے کے بجائے پرسکون رہتے ہیں اور اپنی حاضر جوابی اور سمجھ داری سے چور کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    کہانی میں مزاح، ذہانت اور ایک خوبصورت سبق شامل ہے۔ ملا نصرالدین ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے عقل اور سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔

    یہ کہانی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے دلچسپ ہے اور ہمیں ہوشیاری، احتیاط، ایمانداری اور اچھے فیصلے کرنے کی اہمیت بتاتی ہے۔

    کہانی دیکھیں، لطف اٹھائیں اور اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں!

    #ملا_نصرالدین #اردو_کہانی #مزاحیہ_کہانی #سبق_آموز_کہانی #چور_اور_ملا_نصرالدین #دلچسپ_کہانی #بچوں_کی_کہانی #کہانی_ٹائم #حاضر_جوابی #سمجھداری #ایمانداری #اچھا_سبق

    Rehan School Islamabad Campus
    Asma Shaheen EducationWali
    Irum Asim Leadershipwali
    Saima Empowerment Wali

    #rsisb Roll No.240 Story No.29 Level one اس دلچسپ اردو کہانی میں ملا نصرالدین رات کے وقت اپنے گھر میں ایک چور کو داخل ہوتے دیکھتے ہیں۔ 🌙🏠 ملا نصرالدین گھبرانے کے بجائے پرسکون رہتے ہیں اور اپنی حاضر جوابی اور سمجھ داری سے چور کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 😄🧠 کہانی میں مزاح، ذہانت اور ایک خوبصورت سبق شامل ہے۔ ✨ ملا نصرالدین ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے عقل اور سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔ 💡👏 یہ کہانی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے دلچسپ ہے اور ہمیں ہوشیاری، احتیاط، ایمانداری اور اچھے فیصلے کرنے کی اہمیت بتاتی ہے۔ 📚❤️ کہانی دیکھیں، لطف اٹھائیں اور اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں! 🌙🏮😊 #ملا_نصرالدین #اردو_کہانی #مزاحیہ_کہانی #سبق_آموز_کہانی #چور_اور_ملا_نصرالدین #دلچسپ_کہانی #بچوں_کی_کہانی #کہانی_ٹائم #حاضر_جوابی #سمجھداری #ایمانداری #اچھا_سبق 📖🌙✨ Rehan School Islamabad Campus Asma Shaheen EducationWali Irum Asim Leadershipwali Saima Empowerment Wali
    1
    0 Commentaires 0 Parts 3411 Vue
  • Can someone share the law with me about this ?

    *ISB-MPR/NEWS*
    *(ISLAMABAD)*

    وزارت داخلہ پاکستان کے نئے قوانین کےمطابق نئے مواصلاتی قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے، جن کے مطابق صارفین کی تمام کالز ریکارڈ کی جائیں گی۔ ان میں سیلولر فون کالز، وٹس ایپ کالز، ٹویٹر کالز، فیس بک کالز اور دیگر تمام سوشل میڈیا پر کی جانے والی کالز شامل ہیں۔ تمام تر میسجز اور کالز وزارت داخلہ کے سسٹم سے منسلک کی جا رہی ہیں۔ لہذا غیر ضروری میسجز سے اجتناب کیا جائے۔
    اپنے عزیز و اقارب رشتہ داروں اور دوستوں کو احتیاط کرنے کی تنبیہہ کریں۔ کوئی بھی انتشار پسندی، انتہا پسندی پر مبنی مزہبی، سیاسی، پوسٹس اور موجودہ حکومتی یا پرائم منسٹری ایشوز سے متعلقہ پوسٹس فارورڈ نہ کریں۔ پولیس کی جانب سے سائبر کرائم نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہےجس کے مطابق سیاسی اور مزہبی بحث پر مبنی انتشار پسندی فرقہ واریت والے میسجز کرنا جرم ہے۔

    *اس پیغام کو اپنے تمام گروپس میں اور انفرادی طور پر بھی فارورڈ کریں.*

    _*کیونکہ سائبرکرائم قانون کی مد میں گروپ ایڈمنز بھی اپنےگروپ میں پوسٹ ہونے والی غیرقانونی ممنوعہ پوسٹس کےباعث مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں*_۔

    یہ نہایت سنجیدہ ایشو ہے اس پر خود بھی غور کریں اور *عزیز و اقارب* کو بھی عمل پیرا ہونے کی تلقین کر ...
    Can someone share the law with me about this ? *ISB-MPR/NEWS* *(ISLAMABAD)* وزارت داخلہ پاکستان کے نئے قوانین کےمطابق نئے مواصلاتی قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے، جن کے مطابق صارفین کی تمام کالز ریکارڈ کی جائیں گی۔ ان میں سیلولر فون کالز، وٹس ایپ کالز، ٹویٹر کالز، فیس بک کالز اور دیگر تمام سوشل میڈیا پر کی جانے والی کالز شامل ہیں۔ تمام تر میسجز اور کالز وزارت داخلہ کے سسٹم سے منسلک کی جا رہی ہیں۔ لہذا غیر ضروری میسجز سے اجتناب کیا جائے۔ اپنے عزیز و اقارب رشتہ داروں اور دوستوں کو احتیاط کرنے کی تنبیہہ کریں۔ کوئی بھی انتشار پسندی، انتہا پسندی پر مبنی مزہبی، سیاسی، پوسٹس اور موجودہ حکومتی یا پرائم منسٹری ایشوز سے متعلقہ پوسٹس فارورڈ نہ کریں۔ پولیس کی جانب سے سائبر کرائم نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہےجس کے مطابق سیاسی اور مزہبی بحث پر مبنی انتشار پسندی فرقہ واریت والے میسجز کرنا جرم ہے۔ *اس پیغام کو اپنے تمام گروپس میں اور انفرادی طور پر بھی فارورڈ کریں.* _*کیونکہ سائبرکرائم قانون کی مد میں گروپ ایڈمنز بھی اپنےگروپ میں پوسٹ ہونے والی غیرقانونی ممنوعہ پوسٹس کےباعث مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں*_۔ یہ نہایت سنجیدہ ایشو ہے اس پر خود بھی غور کریں اور *عزیز و اقارب* کو بھی عمل پیرا ہونے کی تلقین کر ...
    0 Commentaires 0 Parts 349 Vue
  • Nice share via Liaqat Jawaid

    مشرقی بیوی کی اوسطا" عمر با حیثیت بیوی دس سے پندرہ سال ہوتی ہے اس کے بعد بچے بڑے ہوتے ہی مرد تقریبا" پھر سے کنوارا رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرد تقریبا " چالیس سے پیتالیس سال کی عمر کا ہوجاتا ہے کسی حد تک اسٹیبلشڈ ہو چکا ہوتا ہے کچھ فراغت میسر آچکی ہوتی لہذا اس عمر میں اسے زیادہ ہری ہری سوجھتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر چلانے کے اخراجات کی ذمہ داری بچوں کے اخراجات بیوی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جبکہ بیوی، بچوں اور اپنے سماجی معاملات اور اپنی رہی سہی خواہشات پوری کرنے میں زیادہ مگن ہوجاتی ہے اور بھلا ہو اس موبائل فون اور ٹی وی کا آدھا وقت وہ لے جاتے ہیں لہذا مرد کے لئے اس کے پاس سوائے کھانا اور ناشتہ پوچھنے کے کوئی وقت نہیں رہتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری شادی کا آپشن سماجی ذلالت بچوں اور بیوی کے سامنے ذلالت اور رسوائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے لہذا مرد بے چارہ ہر وقت شکار کی تلاش میں مارا مرا پھرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عموما" پانچ سے دس سال اسی خواری میں گذر جاتے ہیں، اب پچاس پچپن سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، میچورٹی زیادہ آجاتی ہے زیادہ بولڈ ہوجاتا ہےکچھ معاشرے کا خوف ختم ہوجاتا ہے، یہی وہ عمر ہوتی ہے جب کچھ مرد جھک مارتے ہیں اور کسی کی زلفوں کے اسیر ہوکر دوسری شادی کرلیتے ہیں، بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں باب کی بے وقت کی شادی کو اپنے لئے بے عزتی سمجھتے ہیں ماں اور بچوں کا گروپ بن جاتا ہے معاشرہ ماں اور بچوں کا ساتھ دیتا ہے لہذا تیس سال کی محنت اور کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باقی بچتی ہے نئی بیگم ،،،،، مرد چونکہ تقریبا" تنہا رہ جاتا ہے اور وہ واحد سہارا ہوتی ہے۔ ۔لہذا وہ اس پوزیشن کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جائز اور ناجائز خواہشات منواتی ہے اور خوب بلیک میل کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جو مرد دوسری شادی نہیں کرتے اور قدرے ڈرپوک یا احتیاط پسند ہوتے ہیں وہ جنت کی حوروں کو ہی اپنے مستقبل کا سہارا سمجھتے ہوئے تسبیع پکڑ لیتے ہیں اور اکثر مسجد کے اندر اور باہر اپنے ہم عمر اور خود سے پندرہ بیس سال بڑے عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ مذہبی اور سیاسی نقاط پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہوئے باقی ماندہ زندگی گذار دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آے مرد تیری یہ اوقات
    Nice share via Liaqat Jawaid مشرقی بیوی کی اوسطا" عمر با حیثیت بیوی دس سے پندرہ سال ہوتی ہے اس کے بعد بچے بڑے ہوتے ہی مرد تقریبا" پھر سے کنوارا رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرد تقریبا " چالیس سے پیتالیس سال کی عمر کا ہوجاتا ہے کسی حد تک اسٹیبلشڈ ہو چکا ہوتا ہے کچھ فراغت میسر آچکی ہوتی لہذا اس عمر میں اسے زیادہ ہری ہری سوجھتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر چلانے کے اخراجات کی ذمہ داری بچوں کے اخراجات بیوی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ بیوی، بچوں اور اپنے سماجی معاملات اور اپنی رہی سہی خواہشات پوری کرنے میں زیادہ مگن ہوجاتی ہے اور بھلا ہو اس موبائل فون اور ٹی وی کا آدھا وقت وہ لے جاتے ہیں لہذا مرد کے لئے اس کے پاس سوائے کھانا اور ناشتہ پوچھنے کے کوئی وقت نہیں رہتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری شادی کا آپشن سماجی ذلالت بچوں اور بیوی کے سامنے ذلالت اور رسوائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے لہذا مرد بے چارہ ہر وقت شکار کی تلاش میں مارا مرا پھرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عموما" پانچ سے دس سال اسی خواری میں گذر جاتے ہیں، اب پچاس پچپن سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، میچورٹی زیادہ آجاتی ہے زیادہ بولڈ ہوجاتا ہےکچھ معاشرے کا خوف ختم ہوجاتا ہے، یہی وہ عمر ہوتی ہے جب کچھ مرد جھک مارتے ہیں اور کسی کی زلفوں کے اسیر ہوکر دوسری شادی کرلیتے ہیں، بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں باب کی بے وقت کی شادی کو اپنے لئے بے عزتی سمجھتے ہیں ماں اور بچوں کا گروپ بن جاتا ہے معاشرہ ماں اور بچوں کا ساتھ دیتا ہے لہذا تیس سال کی محنت اور کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی بچتی ہے نئی بیگم ،،،،، مرد چونکہ تقریبا" تنہا رہ جاتا ہے اور وہ واحد سہارا ہوتی ہے۔ ۔لہذا وہ اس پوزیشن کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جائز اور ناجائز خواہشات منواتی ہے اور خوب بلیک میل کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جو مرد دوسری شادی نہیں کرتے اور قدرے ڈرپوک یا احتیاط پسند ہوتے ہیں وہ جنت کی حوروں کو ہی اپنے مستقبل کا سہارا سمجھتے ہوئے تسبیع پکڑ لیتے ہیں اور اکثر مسجد کے اندر اور باہر اپنے ہم عمر اور خود سے پندرہ بیس سال بڑے عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ مذہبی اور سیاسی نقاط پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہوئے باقی ماندہ زندگی گذار دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آے مرد تیری یہ اوقات
    0 Commentaires 0 Parts 644 Vue
  • محترم علماء کرام، مفتیان کرام اور محترم ذمہ دارانِ مدرسہ جات کراچی، میں کراچی میں خطبۂ جمعہ کی تیاری اور اسلامی تحقیق کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال اس کی اچھائیاں اور برائیاں، قابلِ اخذ اور قابل رد مواد، اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال میں احتیاطوں کی ضرورت پر مشتمل جدید دور کا ایک اہم لیکچر دینے کے لیے پشاور سے کراچی آرہا ہوں۔ اور آپ کی شرکت کا متمنی ہوں۔
    آپ حضرات اس مجلس میں شرکت کرکے اس کو خوب سے خوب تر بناسکتے ہیں۔
    لیکچر مئی کے پہلے ہفتے میں کسی بھی دن متوقع ہے۔
    لہذٓا جو حضرات شریک ہونا چاہیں وہ رابطہ فرمائیں۔
    اس پروگرام کی کوئی فیس نہیں نہ ہی رجسٹریشن فیس ہے۔
    لہذا اس مفید اور قیمتی معلومات سے فائدہ اُٹھائیں۔
    مقام:
    Social Media Incubator
    Digital earning center - Shaheed e millat road Karachi

    Via Abrar Khan Yousufzai
    محترم علماء کرام، مفتیان کرام اور محترم ذمہ دارانِ مدرسہ جات کراچی، میں کراچی میں خطبۂ جمعہ کی تیاری اور اسلامی تحقیق کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال اس کی اچھائیاں اور برائیاں، قابلِ اخذ اور قابل رد مواد، اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال میں احتیاطوں کی ضرورت پر مشتمل جدید دور کا ایک اہم لیکچر دینے کے لیے پشاور سے کراچی آرہا ہوں۔ اور آپ کی شرکت کا متمنی ہوں۔ آپ حضرات اس مجلس میں شرکت کرکے اس کو خوب سے خوب تر بناسکتے ہیں۔ لیکچر مئی کے پہلے ہفتے میں کسی بھی دن متوقع ہے۔ لہذٓا جو حضرات شریک ہونا چاہیں وہ رابطہ فرمائیں۔ اس پروگرام کی کوئی فیس نہیں نہ ہی رجسٹریشن فیس ہے۔ لہذا اس مفید اور قیمتی معلومات سے فائدہ اُٹھائیں۔ مقام: Social Media Incubator Digital earning center - Shaheed e millat road Karachi Via Abrar Khan Yousufzai
    0 Commentaires 0 Parts 331 Vue
  • . حاصل زیست

    کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے.

    ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected maam کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا.

    اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا..

    اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے.

    تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے.

    اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے.

    دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے.

    آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے..

    آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں.

    ( ابن فاضل)
    #ابن_فاضل

    #Ibn_e_fazil
    #ibnefazil

    Ibn e Fazil
    . حاصل زیست کوئی پندرہ سال لگے ہوں گے اس سلجھن کو پانے میں…. الجھن یہ تھی کہ وطن عزیز کے لوگ باقی دنیا کے لوگوں کی طرح قابل، انتہائی ہنرمند اور مبدی. (creative) کیوں نہیں…. ہم جب بھی دنیا کے دیگر ممالک کی صنعتوں میں لوگوں کو تندہی، جانفشانی اور کسی قدر اطمینان سے کام کرتے ہوئے دیکھتے تو قدرتی طور پر دل گرفتہ تو ہوتے ہی مگر ساتھ ہی جواب کی تلاش میں لگ جاتے کہ آخر ایسا کیوں ہے. اور پندرہ سال بعد آخر جواب مل ہی گیا..اور وہ بھی ایک واٹس ایپ گروپ سے. ہوا یوں کہ کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا. گروپ کیا ہے بہت سے مشہور اور قابل دوستوں کی کہکشاں ہے. گو پہلے سے ایسے کئی گروپس کا حصہ رہے ہیں، مگر اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مکالمہ انتہائی احترام سے کیا جاتا ہے. کسی بھی گروپ ممبر کو Respected sir یا Respected ma'am کے سوا مخاطب نہیں کیا جاسکتا. اختلاف رائے کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ کسی کے لیے کوئی خلاف شان یا باعث تکلیف بات نہ کہی جائے. گروپ میں سیاست، مذہب، تعلیم، عالمی معاملات غرض ہر موضوع پر بات ہوتی ہے.. مگر ہر مکالمہ کے بعد ایک عجیب سی طمانیت اور مسرت کا احساس ہوتا ہے. آپ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں. جی کرتا ہے گروپ کے باہر کے لوگ بھی ہم سے ایسا ہی برتاو کریں اور ہم لوگوں سے.. لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا.. اس احترام سے ملی سرشاری پر غور کرتے ہوئے ہی یہ عقدہ کھلا کہ انسان جو شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہے، کی ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک اجاگر اور کارگر نہیں ہوتیں جب تک اس کی عزت نفس مکمل طور پر بحال نہ ہو. اس دریافت کے بعد ہم نے اپنے ارد گرد کام کرنے والے لوگوں پر کچھ تجربات بھی کیے. کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنا شروع کیا، ایک دو استثنائی صورتوں exceptions کے سوا حیرت انگیز نتائج ملے. تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ گوروں نے دو صدیاں قبل جب افریقی انسانوں کو غلام بناکر کام لینا شروع کیا تو اس قدر جلد کیوں اس غلامی کو ختم کرکے کارپوریٹ ورلڈ کا ماڈل تشکیل دیدیا . کیونکہ غور و فکر کی عادت نے انہیں اس حقیقت سے جلد روشناس کرا دیا ہوگا کہ تمام تر سہولتوں، انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کے ساتھ انسانوں سے غلامی کی نسبت کہیں زیادہ بہتر کام لیا جاسکتا ہے. دوسری طرف بدقسمتی سے صدیاں گذرنے کے باوجود ہم اس بات کو نہیں جان پائے.. ہم نے آج بھی کام کرنے والوں کو کاما، مزارع، نائی اور موچی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے. اگر ہمیں بھی غوروفکر کی عادت ہوتی تو شاید ہم بھی جان پاتے کہ شرف معراج انسانیت سے ہمکنار ہونے کے بعد ہی انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استعداد کے ساتھ کام کرسکتا ہے. اور اگر ہم بھی کہیں ایسا کرپاتے تو ہمارے کامے.. مزارع.. نائی.. موچی وغیرہ بھی، نیبرلی، کارگل، گریٹ کلپس اور باٹا جیسے ادارے بناکر بیٹھے ہوتے. دیکھیں انسان کی اہمیت اور احترام تو خالق کی نظر میں بھی بہت ہی زیادہ ہے. خالق اپنی کتاب میں انسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کبھی تکریم کی کمی نہیں کرتے. لیکن اس کے برعکس وطن عزیز کے نظام میں بچپن میں گھر، سکول، کالج سے لیکر بڑے ہوتے تک ہسپتالوں، سرکاری اداروں، تھانوں، کچہریوں، پولیس کے ناکوں، غرض ہر جگہ پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم بس غیر اہم سی اکائی ہو. اور ایسا سلوک تو شہری آبادی کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، دیہات اور دور دراز تو صورت حال اور بھی مخدوش ہے. آپ ناراض مت ہوئیے گا… حقیقت یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا کیسا ہے. انسان کی اہمیت اور قدر کیا ہے اور اس سے کس طرح پیش آنا چاہیے یا آیا جاتا ہے. ہم اکثر کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر کے ممالک کا سفر کرتے ہیں یا وہاں رہ کر آتے ان کو ہی اندازہ ہوتا ہے. اس میں شک نہیں کہ بہت سی باتیں ہمارے اختیار میں نہیں مگر جہاں تک ہمارے بس میں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ازحد احترام سے پیش آنا چاہئے. گھر والوں سے، اعزا و اقربا سے خاص طور پر ماتحتوں اور مالی طور پر کمزور لوگوں سے.. آئیں آج سے عہد کریں کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کواشرف المخلوقات کا مرتبہ دیں ان کی توقیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بھی پوری طرح اجاگر ہوں… ہم پاکستانی بھی افق اقوام عالم پر پوری آب وتاب سے چمکیں. ہم بھی خوشحال ہوں. ( ابن فاضل) #ابن_فاضل #Ibn_e_fazil #ibnefazil Ibn e Fazil
    0 Commentaires 0 Parts 2051 Vue
  • **ویب Server کا جادو**

    انٹرنیٹ کی دنیا میں، بہت دور،
    رہتا ہے ایک مددگار، بڑی چالاکی سے بھرپور۔
    اسے web server کہتے ہیں، جادوئی دوست،
    جو ہمیں web pages بھیجتا ہے، ہر سمت اور ہر روز۔

    جب آپ کلک کرتے ہیں لنک پر، یا ٹائپ کرتے ہیں کوئی سائٹ،
    web server ہو جاتا ہے مصروف، دن ہو یا رات۔
    یہ سنتا ہے آپ کے کمپیوٹر کی درخواست، بڑی دل جمعی سے،
    صفحے لاتا ہے، جیسے آپ نے دیکھا ہو، محبت بھری نظروں سے۔

    جیسے کوئی لائبریرین، جانتا ہو کہاں دیکھنا ہے،
    ہر صفحے کو ڈھونڈتا ہے، جیسے پسندیدہ کتاب ہو۔
    تصویریں ہوں، ویڈیوز ہوں، یا ٹیکسٹ اور بھی بہت کچھ،
    web server سب کچھ لاتا ہے، جیسے آپ کے دروازے پر پہنچا دے۔

    یہ اکیلا نہیں، بلکہ ہے ایک ٹیم کی صورت میں،
    سب مل کر کام کرتے ہیں، وقت کیسے گزرتا ہے دیکھو۔
    یہ بات کرتے ہیں ڈیٹابیس سے، اور ایپس جو ہم دیکھتے ہیں،
    یقین دہانی کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک سے چل رہا ہے۔

    احتیاط سے اور حفاظت کے ساتھ، ہر گیٹ کی نگرانی کرتا ہے،
    آپ کی معلومات کو محفوظ رکھتا ہے، یہ جانکاری کرتا ہے۔
    تو یاد رکھیں، جب بھی آپ انٹرنیٹ پر سرف کریں،
    web server کا شکریہ ادا کریں، آپ کا ڈیجیٹل دوست ہے!

    ایک گڑگڑاہٹ اور کلک کے ساتھ، اور تھوڑی سی چمک کے ساتھ،
    web server کا جادو ہر جگہ ہے۔
    تو بچوں، مزے کریں اور انٹرنیٹ پر خوب تفریح کریں،
    web server آپ کے ساتھ ہے، سب کام ہو رہے ہیں!
    **ویب Server کا جادو** انٹرنیٹ کی دنیا میں، بہت دور، رہتا ہے ایک مددگار، بڑی چالاکی سے بھرپور۔ اسے web server کہتے ہیں، جادوئی دوست، جو ہمیں web pages بھیجتا ہے، ہر سمت اور ہر روز۔ جب آپ کلک کرتے ہیں لنک پر، یا ٹائپ کرتے ہیں کوئی سائٹ، web server ہو جاتا ہے مصروف، دن ہو یا رات۔ یہ سنتا ہے آپ کے کمپیوٹر کی درخواست، بڑی دل جمعی سے، صفحے لاتا ہے، جیسے آپ نے دیکھا ہو، محبت بھری نظروں سے۔ جیسے کوئی لائبریرین، جانتا ہو کہاں دیکھنا ہے، ہر صفحے کو ڈھونڈتا ہے، جیسے پسندیدہ کتاب ہو۔ تصویریں ہوں، ویڈیوز ہوں، یا ٹیکسٹ اور بھی بہت کچھ، web server سب کچھ لاتا ہے، جیسے آپ کے دروازے پر پہنچا دے۔ یہ اکیلا نہیں، بلکہ ہے ایک ٹیم کی صورت میں، سب مل کر کام کرتے ہیں، وقت کیسے گزرتا ہے دیکھو۔ یہ بات کرتے ہیں ڈیٹابیس سے، اور ایپس جو ہم دیکھتے ہیں، یقین دہانی کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک سے چل رہا ہے۔ احتیاط سے اور حفاظت کے ساتھ، ہر گیٹ کی نگرانی کرتا ہے، آپ کی معلومات کو محفوظ رکھتا ہے، یہ جانکاری کرتا ہے۔ تو یاد رکھیں، جب بھی آپ انٹرنیٹ پر سرف کریں، web server کا شکریہ ادا کریں، آپ کا ڈیجیٹل دوست ہے! ایک گڑگڑاہٹ اور کلک کے ساتھ، اور تھوڑی سی چمک کے ساتھ، web server کا جادو ہر جگہ ہے۔ تو بچوں، مزے کریں اور انٹرنیٹ پر خوب تفریح کریں، web server آپ کے ساتھ ہے، سب کام ہو رہے ہیں!
    0 Commentaires 0 Parts 217 Vue
  • آپ کی فریکوئنسی بڑھانے کے 10 قوانین

    1. سب سے زیادہ ہنگامہ خیز لمحوں میں خاموش رہنا سیکھیں: ذہنی سکون اور صبر آپ کے بہترین ساتھی ہیں بحرانوں کے دوران۔ ان خصوصیات پر قابو پانا آپ کی روحانی ترقی کا حصہ ہے۔
    2. دوسروں پر فیصلہ دینے سے گریز کریں: آپ کی دنیا کے بارے میں سوچنے کا انداز آپ کی اندرونی دنیا کا عکاس ہوتا ہے۔ جب آپ دوسروں کے بارے میں برا بولتے ہیں، تو آپ خود اپنے بارے میں برا بول رہے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور خود کو بھی۔ لہذا، ان سے محبت کریں اور خود سے محبت کریں۔
    3. اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کریں جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہیں: جس چیز کی آپ مزاحمت کریں گے، وہ مزید بڑھے گی۔ اگر آپ منفی پر توجہ دیں گے، تو آپ اسے مزید بڑھا دیں گے۔ اگر آپ مثبت پر توجہ دیں گے، تو وہ بھی بڑھے گی۔ تو آپ کیا انتخاب کریں گے؟
    4. خاموش رہیں، یہ نہیں کہ لڑنا برا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ یہ صرف ایک امتحان ہے: آپ پچھلے اعمال کی پرانی ادائیگی کر رہے ہیں۔ اس لیے اسے قبول کریں اور بہنے دیں۔ جتنا زیادہ آپ کھڑے رہیں گے، پرسکون اور قبول کریں گے، اتنا ہی زیادہ آپ اپنے کرما کو صاف کر لیں گے۔
    5. امید رکھیں، جو حقیقی لگتا ہے وہ صرف آپ کے تخیل کا ایک برا خیال ہے۔ اسے بدلیں!: خیالات چیزیں ہیں۔ حقیقت آپ کے خیالات اور اجتماعی خیالات سے بنتی ہے۔ اپنا ذہن بدلیں اور آپ اپنی حقیقت بدل دیں گے۔
    6. معاف کریں، چھوڑ دیں، اور آزاد کریں: یہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے۔ یہ منفی جذبات وہ ہیں جو کرما کے چکر کو برقرار رکھتے ہیں۔ کسی کو اسے توڑنا ہے، خود سے شروع کریں!
    7. ہمیشہ مثبت بات کریں: الفاظ بھی حقیقت بناتے ہیں، آپ کی اور دوسروں کی بھی۔ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کا خیال رکھیں، مثبت اور حوصلہ افزا رہیں اور ہر لفظ کا احتیاط سے انتخاب کریں۔
    8. دن میں کم از کم دو بار مراقبہ کریں (5 منٹ ایک بہت اچھی شروعات ہوگی): یہ دماغ کو پرسکون کرنے اور اپنے روحانی وجود سے رابطہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
    9. اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے خوشگوار حالات کا تصور کریں: جو آپ کے ذہن میں ہے، وہ آپ کی حقیقت میں ظاہر ہوگا۔ اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے اس حقیقت کو تخلیق کریں، آپ خوشی پیدا کریں گے اور دھرم میں اضافہ کریں گے۔
    10. محبت دیں چاہے آپ کو کچھ بھی ملے: محبت تعمیر کرتی ہے۔ محبت شفا دیتی ہے۔ محبت بحال کرتی ہے۔ محبت ایک انتخاب ہے، ردعمل نہیں۔ محبت دیں، آپ اسے کرتے ہوئے زیادہ خوش ہوں گے اور دھرم میں اضافہ کریں گے۔

    مصنف -نامعلوم
    نامعلوم آرٹسٹ کا شکریہ
    آپ کی فریکوئنسی بڑھانے کے 10 قوانین 1. سب سے زیادہ ہنگامہ خیز لمحوں میں خاموش رہنا سیکھیں: ذہنی سکون اور صبر آپ کے بہترین ساتھی ہیں بحرانوں کے دوران۔ ان خصوصیات پر قابو پانا آپ کی روحانی ترقی کا حصہ ہے۔ 2. دوسروں پر فیصلہ دینے سے گریز کریں: آپ کی دنیا کے بارے میں سوچنے کا انداز آپ کی اندرونی دنیا کا عکاس ہوتا ہے۔ جب آپ دوسروں کے بارے میں برا بولتے ہیں، تو آپ خود اپنے بارے میں برا بول رہے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور خود کو بھی۔ لہذا، ان سے محبت کریں اور خود سے محبت کریں۔ 3. اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کریں جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہیں: جس چیز کی آپ مزاحمت کریں گے، وہ مزید بڑھے گی۔ اگر آپ منفی پر توجہ دیں گے، تو آپ اسے مزید بڑھا دیں گے۔ اگر آپ مثبت پر توجہ دیں گے، تو وہ بھی بڑھے گی۔ تو آپ کیا انتخاب کریں گے؟ 4. خاموش رہیں، یہ نہیں کہ لڑنا برا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ یہ صرف ایک امتحان ہے: آپ پچھلے اعمال کی پرانی ادائیگی کر رہے ہیں۔ اس لیے اسے قبول کریں اور بہنے دیں۔ جتنا زیادہ آپ کھڑے رہیں گے، پرسکون اور قبول کریں گے، اتنا ہی زیادہ آپ اپنے کرما کو صاف کر لیں گے۔ 5. امید رکھیں، جو حقیقی لگتا ہے وہ صرف آپ کے تخیل کا ایک برا خیال ہے۔ اسے بدلیں!: خیالات چیزیں ہیں۔ حقیقت آپ کے خیالات اور اجتماعی خیالات سے بنتی ہے۔ اپنا ذہن بدلیں اور آپ اپنی حقیقت بدل دیں گے۔ 6. معاف کریں، چھوڑ دیں، اور آزاد کریں: یہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے۔ یہ منفی جذبات وہ ہیں جو کرما کے چکر کو برقرار رکھتے ہیں۔ کسی کو اسے توڑنا ہے، خود سے شروع کریں! 7. ہمیشہ مثبت بات کریں: الفاظ بھی حقیقت بناتے ہیں، آپ کی اور دوسروں کی بھی۔ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کا خیال رکھیں، مثبت اور حوصلہ افزا رہیں اور ہر لفظ کا احتیاط سے انتخاب کریں۔ 8. دن میں کم از کم دو بار مراقبہ کریں (5 منٹ ایک بہت اچھی شروعات ہوگی): یہ دماغ کو پرسکون کرنے اور اپنے روحانی وجود سے رابطہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ 9. اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے خوشگوار حالات کا تصور کریں: جو آپ کے ذہن میں ہے، وہ آپ کی حقیقت میں ظاہر ہوگا۔ اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے اس حقیقت کو تخلیق کریں، آپ خوشی پیدا کریں گے اور دھرم میں اضافہ کریں گے۔ 10. محبت دیں چاہے آپ کو کچھ بھی ملے: محبت تعمیر کرتی ہے۔ محبت شفا دیتی ہے۔ محبت بحال کرتی ہے۔ محبت ایک انتخاب ہے، ردعمل نہیں۔ محبت دیں، آپ اسے کرتے ہوئے زیادہ خوش ہوں گے اور دھرم میں اضافہ کریں گے۔ مصنف -نامعلوم 🎨نامعلوم آرٹسٹ کا شکریہ
    0 Commentaires 0 Parts 410 Vue
  • *ڈاکٹر واڈا، جن کی عمر 61 سال ہے، بزرگ افراد میں ذہنی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔*
    انہوں نے *80 سال کے بزرگوں* کی *"خوش نصیب زندگی"* کے راز *44* جملوں میں سمیٹے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

    *1.* چلتے رہو
    *2.* جب غصہ آئے تو گہری سانس لو
    *3.* اتنی ورزش کرو کہ جسم اکڑا نہ رہے
    *4.* گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر استعمال کرتے وقت زیادہ پانی پیو
    *5.* "ڈائپرز" نقل و حرکت بڑھانے میں مددگار ہیں-
    *6.* جتنا زیادہ چباؤ گے، دماغ اور جسم اتنے ہی متحرک ہوں گے-
    *7.* یادداشت کی کمی عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغ کے استعمال نہ کرنے سے ہوتی ہے-
    *8.* بہت زیادہ دوا لینے کی ضرورت نہیں
    *9.* بلڈ پریشر اور شوگر کو غیر ضروری طور پر کم کرنے کی ضرورت نہیں
    *10.* اکیلے رہنا تنہائی نہیں بلکہ سکون سے وقت گزارنے کا نام ہے-
    *11.* سستی کوئی شرمندگی کی بات نہیں-
    *12.* ڈرائیونگ لائسنس پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں (جاپان میں بزرگوں سے لائسنس واپس لینے کی مہم جاری ہے)
    *13.* وہی کرو جو پسند ہو، ناپسندیدہ کام مت کرو-
    *14.* عمر بڑھنے پر بھی قدرتی خواہشات باقی رہتی ہیں-
    *15.* کسی بھی حال میں ہر وقت گھر پر نہ بیٹھے رہو
    *16.* جو دل چاہے کھاؤ، ہلکا سا موٹاپا بہتر ہے-
    *17.* ہر کام احتیاط سے کرو-
    *18.* ناپسندیدہ لوگوں سے تعلق مت رکھو-
    *19.* ہر وقت ٹی وی مت دیکھو-
    *20.* بیماری سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھو-
    *21.* "گاڑی پہاڑ پر پہنچ جائے تو راستہ نکل آتا ہے" — یہ بزرگوں کے لیے خوشی کی جادوئی بات ہے-
    *22.* تازہ پھل اور سلاد کھاؤ
    *23.* نہانے کا وقت 10 منٹ سے زیادہ نہ ہو-
    *24.* نیند نہ آئے تو خود پر زور مت ڈالو-
    *25.* خوشی دینے والے کام دماغی سرگرمی بڑھاتے ہیں-
    *26.* جو دل چاہے کہہ دو، زیادہ نہ سوچو-
    *27.* جلد از جلد ایک "خاندانی ڈاکٹر" تلاش کرو-
    *28.* زیادہ صبر یا زبردستی مت کرو، *"بے باک بزرگ"* ہونا بھی کوئی برائی نہیں-
    *29.* کبھی کبھی اپنی بات بدل لینا بھی ٹھیک ہے-
    *30.* زندگی کے آخری مرحلے میں *ڈیمنشیا* خدا کا تحفہ ہے-
    *31.* سیکھنا چھوڑ دو گے تو بوڑھے ہو جاؤ گے-
    *32.* شہرت کی لالچ مت کرو، جو کچھ ہے وہ کافی ہے-
    *33.* معصومیت بزرگوں کے لئے ہے-
    *34.* جتنی مشکل بات ہو، اتنی ہی دلچسپ ہوتی ہے-
    *35.* دھوپ سینکنا خوشی دیتا ہے-
    *36.* دوسروں کے فائدے کے کام کرو-
    *37.* آج کو آرام سے گزارو-
    *38.* خواہش لمبی عمر کی کنجی ہے-
    *39.* خوش مزاجی سے جیو-
    *40.* آسانی سے سانس لو-
    *41.* زندگی کے اصول تمہارے اپنے ہاتھ میں ہیں_
    *42.* ہر چیز کو سکون سے قبول کرو-
    *43.* خوش مزاج لوگ ہر دلعزیز ہوتے ہیں-
    *44.* مسکراہٹ خوش نصیبی لاتی ہے-

    برائے مہربانی اس کو تمام سینئر نوجوانوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
    *جزاک اللہ*
    *anjum@nation*

    Via Bhawani Shankar Chowdhry
    *ڈاکٹر واڈا، جن کی عمر 61 سال ہے، بزرگ افراد میں ذہنی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔* انہوں نے *80 سال کے بزرگوں* کی *"خوش نصیب زندگی"* کے راز *44* جملوں میں سمیٹے ہیں، جو درج ذیل ہیں: *1.* چلتے رہو *2.* جب غصہ آئے تو گہری سانس لو *3.* اتنی ورزش کرو کہ جسم اکڑا نہ رہے *4.* گرمیوں میں ایئر کنڈیشنر استعمال کرتے وقت زیادہ پانی پیو *5.* "ڈائپرز" نقل و حرکت بڑھانے میں مددگار ہیں- *6.* جتنا زیادہ چباؤ گے، دماغ اور جسم اتنے ہی متحرک ہوں گے- *7.* یادداشت کی کمی عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغ کے استعمال نہ کرنے سے ہوتی ہے- *8.* بہت زیادہ دوا لینے کی ضرورت نہیں *9.* بلڈ پریشر اور شوگر کو غیر ضروری طور پر کم کرنے کی ضرورت نہیں *10.* اکیلے رہنا تنہائی نہیں بلکہ سکون سے وقت گزارنے کا نام ہے- *11.* سستی کوئی شرمندگی کی بات نہیں- *12.* ڈرائیونگ لائسنس پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں (جاپان میں بزرگوں سے لائسنس واپس لینے کی مہم جاری ہے) *13.* وہی کرو جو پسند ہو، ناپسندیدہ کام مت کرو- *14.* عمر بڑھنے پر بھی قدرتی خواہشات باقی رہتی ہیں- *15.* کسی بھی حال میں ہر وقت گھر پر نہ بیٹھے رہو *16.* جو دل چاہے کھاؤ، ہلکا سا موٹاپا بہتر ہے- *17.* ہر کام احتیاط سے کرو- *18.* ناپسندیدہ لوگوں سے تعلق مت رکھو- *19.* ہر وقت ٹی وی مت دیکھو- *20.* بیماری سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھو- *21.* "گاڑی پہاڑ پر پہنچ جائے تو راستہ نکل آتا ہے" — یہ بزرگوں کے لیے خوشی کی جادوئی بات ہے- *22.* تازہ پھل اور سلاد کھاؤ *23.* نہانے کا وقت 10 منٹ سے زیادہ نہ ہو- *24.* نیند نہ آئے تو خود پر زور مت ڈالو- *25.* خوشی دینے والے کام دماغی سرگرمی بڑھاتے ہیں- *26.* جو دل چاہے کہہ دو، زیادہ نہ سوچو- *27.* جلد از جلد ایک "خاندانی ڈاکٹر" تلاش کرو- *28.* زیادہ صبر یا زبردستی مت کرو، *"بے باک بزرگ"* ہونا بھی کوئی برائی نہیں- *29.* کبھی کبھی اپنی بات بدل لینا بھی ٹھیک ہے- *30.* زندگی کے آخری مرحلے میں *ڈیمنشیا* خدا کا تحفہ ہے- *31.* سیکھنا چھوڑ دو گے تو بوڑھے ہو جاؤ گے- *32.* شہرت کی لالچ مت کرو، جو کچھ ہے وہ کافی ہے- *33.* معصومیت بزرگوں کے لئے ہے- *34.* جتنی مشکل بات ہو، اتنی ہی دلچسپ ہوتی ہے- *35.* دھوپ سینکنا خوشی دیتا ہے- *36.* دوسروں کے فائدے کے کام کرو- *37.* آج کو آرام سے گزارو- *38.* خواہش لمبی عمر کی کنجی ہے- *39.* خوش مزاجی سے جیو- *40.* آسانی سے سانس لو- *41.* زندگی کے اصول تمہارے اپنے ہاتھ میں ہیں_ *42.* ہر چیز کو سکون سے قبول کرو- *43.* خوش مزاج لوگ ہر دلعزیز ہوتے ہیں- *44.* مسکراہٹ خوش نصیبی لاتی ہے- 🤝 برائے مہربانی اس کو تمام سینئر نوجوانوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ *جزاک اللہ* *anjum@nation* Via Bhawani Shankar Chowdhry
    0 Commentaires 0 Parts 289 Vue
  • آم کے پتوں کے سائنسی فوائد

    آم کے درخت (Mangifera indica) کے پتے صرف خوبصورت اور خوشبودار نہیں بلکہ قدرتی دواؤں کا خزانہ ہیں۔
    صدیوں سے ان پتوں کو آیوروید، یونانی، اور چینی طب میں علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
    اب جدید سائنس نے بھی ان کے اندر پائے جانے والے اجزاء اور فوائد کی تصدیق کر دی ہے۔

    ⸻

    1. خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار

    آم کے پتے اپنے اینٹی ڈائبٹک (Anti-diabetic) اثرات کے لیے مشہور ہیں۔
    ان میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جسے مینگیفرین (Mangiferin) کہا جاتا ہے،
    جو انسولین کی کارکردگی بہتر کرتا ہے اور شوگر کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔

    یہ پتے α-amylase اور α-glucosidase جیسے انزائمز کو سست کرتے ہیں جو خوراک کو گلوکوز میں تبدیل کرتے ہیں،
    جس سے کھانے کے بعد بلڈ شوگر کم رہتی ہے۔

    تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ آم کے پتوں کا عرق فاسٹنگ اور پوسٹ میل شوگر دونوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے،
    اگرچہ بڑے پیمانے پر مزید انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔

    ⸻

    2. طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ (Antioxidant) خصوصیات

    آم کے پتے وٹامن سی، مینگیفرین، کوئرسیٹن، کیٹیچنز، اور بیٹا کیروٹین جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس رکھتے ہیں۔
    یہ جسم میں موجود فری ریڈیکلز (Free Radicals) کو ختم کرتے ہیں جو بڑھاپے، کمزوری، اور بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں۔
    اسی لیے آم کے پتوں کا قہوہ خلیوں کی حفاظت کرتا ہے، جلد بڑھاپے کو روکتا ہے اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے۔

    ⸻

    3. دل کی صحت کے لیے مفید

    ان پتوں میں موجود پولی فینولز اور مینگیفرین دل کے لیے فائدہ مند ہیں۔
    یہ خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم اور اچھا کولیسٹرول (HDL) بڑھاتے ہیں۔
    ساتھ ہی خون کی نالیوں کو لچکدار رکھتے ہیں،
    جس سے بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ آم کے پتوں کا عرق ٹریگلسرائیڈز کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے۔

    ⸻

    4. سوزش کم کرتا ہے (Anti-inflammatory)

    آم کے پتے قدرتی ضدِ سوزش (Anti-inflammatory) اثر رکھتے ہیں۔
    یہ جسم میں ہونے والی اندرونی سوجن، جوڑوں کے درد، یا میٹابولک بیماریوں سے پیدا ہونے والے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔
    مینگیفرین کو خاص طور پر سوزش کم کرنے والا جزو مانا جاتا ہے۔

    ⸻

    5. ہاضمے میں بہتری

    روایتی طور پر آم کے پتے پیٹ کی گیس، تیزابیت، اور اسہال کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔
    سائنس کے مطابق ان میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی اسپاسموڈک خصوصیات ہوتی ہیں
    جو نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں اور پیٹ کے پٹھوں کو آرام دیتی ہیں۔
    کھانے کے بعد آم کے پتوں کا قہوہ پینا ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔

    ⸻

    6. مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے

    چونکہ آم کے پتے وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہیں،
    یہ جسم کے امیون سسٹم کو مضبوط بناتے ہیں،
    جس سے جسم بیماریوں سے بہتر انداز میں لڑتا ہے اور صحت مند رہتا ہے۔

    ⸻

    7. جلد اور بالوں کے لیے مفید

    ان پتوں میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس جلد کو سورج کی شعاعوں اور فضائی آلودگی کے نقصان سے بچاتے ہیں۔
    یہ مہاسوں کو کم کرتے ہیں اور جھریوں کے بننے کو سست کرتے ہیں۔
    بالوں کے لیے ان کا عرق استعمال کرنے سے سر کی جلد صاف ہوتی ہے اور خشکی میں کمی آتی ہے۔

    ⸻

    8. زخم بھرنے اور جراثیم کش خصوصیات

    تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آم کے پتوں میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
    یہ چھوٹے زخموں، جلن، اور کیڑوں کے کاٹے میں لگانے سے فائدہ دیتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ دیہات میں لوگ انہیں قدرتی مرہم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    ⸻

    9. ممکنہ طور پر کینسر سے بچاؤ

    مینگیفرین اور دوسرے قدرتی مرکبات پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ
    یہ اینٹی ٹیومر اور اینٹی میوٹاجینک اثر رکھتے ہیں — یعنی یہ خلیوں میں ہونے والی خرابی اور رسولیوں کے بڑھنے کو روک سکتے ہیں۔
    تاہم، انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔

    ⸻

    آم کے پتوں کا قہوہ بنانے کا طریقہ

    اجزاء:
    • 8 سے 10 تازہ نرم آم کے پتے
    • 2 کپ پانی

    طریقہ:
    1. پتوں کو 10–15 منٹ تک پانی میں ابالیں۔
    2. ٹھنڈا کر کے چھان لیں۔
    3. روزانہ صبح یا شام ایک کپ پی سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ مارکیٹ میں آم کے پتوں کے کپسول یا پاؤڈر بھی دستیاب ہیں جو سپلیمنٹ کے طور پر لیے جا سکتے ہیں۔

    ⸻

    احتیاطی تدابیر
    • زیادہ مقدار میں استعمال سے شوگر بہت کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر کوئی پہلے سے شوگر کی دوا لے رہا ہو۔
    • حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہ کریں۔
    • ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں اگر کسی کو شوگر، بلڈ پریشر یا دل کی بیماری ہے۔

    ⸻

    نتیجہ

    آم کے پتے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔
    ان میں موجود قدرتی اجزاء شوگر کنٹرول، دل کی حفاظت، سوزش میں کمی، ہاضمے کی بہتری، اور قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔
    اگرچہ زیادہ تر تحقیقات جانوروں پر کی گئی ہیں،
    تاہم نتائج بتاتے ہیں کہ انسانوں میں بھی یہ قدرتی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    مناسب مقدار میں آم کے پتوں کا قہوہ یا عرق پینا
    ایک سادہ، محفوظ، اور کم خرچ طریقہ ہے جسم کو بہتر، متوازن، اور صحت مند رکھنے کا۔

    ⸻
    🌿 آم کے پتوں کے سائنسی فوائد آم کے درخت (Mangifera indica) کے پتے صرف خوبصورت اور خوشبودار نہیں بلکہ قدرتی دواؤں کا خزانہ ہیں۔ صدیوں سے ان پتوں کو آیوروید، یونانی، اور چینی طب میں علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب جدید سائنس نے بھی ان کے اندر پائے جانے والے اجزاء اور فوائد کی تصدیق کر دی ہے۔ ⸻ 1. خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار آم کے پتے اپنے اینٹی ڈائبٹک (Anti-diabetic) اثرات کے لیے مشہور ہیں۔ ان میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جسے مینگیفرین (Mangiferin) کہا جاتا ہے، جو انسولین کی کارکردگی بہتر کرتا ہے اور شوگر کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ یہ پتے α-amylase اور α-glucosidase جیسے انزائمز کو سست کرتے ہیں جو خوراک کو گلوکوز میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے کھانے کے بعد بلڈ شوگر کم رہتی ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ آم کے پتوں کا عرق فاسٹنگ اور پوسٹ میل شوگر دونوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگرچہ بڑے پیمانے پر مزید انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔ ⸻ 2. طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ (Antioxidant) خصوصیات آم کے پتے وٹامن سی، مینگیفرین، کوئرسیٹن، کیٹیچنز، اور بیٹا کیروٹین جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس رکھتے ہیں۔ یہ جسم میں موجود فری ریڈیکلز (Free Radicals) کو ختم کرتے ہیں جو بڑھاپے، کمزوری، اور بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں۔ اسی لیے آم کے پتوں کا قہوہ خلیوں کی حفاظت کرتا ہے، جلد بڑھاپے کو روکتا ہے اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے۔ ⸻ 3. دل کی صحت کے لیے مفید ان پتوں میں موجود پولی فینولز اور مینگیفرین دل کے لیے فائدہ مند ہیں۔ یہ خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم اور اچھا کولیسٹرول (HDL) بڑھاتے ہیں۔ ساتھ ہی خون کی نالیوں کو لچکدار رکھتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ آم کے پتوں کا عرق ٹریگلسرائیڈز کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے۔ ⸻ 4. سوزش کم کرتا ہے (Anti-inflammatory) آم کے پتے قدرتی ضدِ سوزش (Anti-inflammatory) اثر رکھتے ہیں۔ یہ جسم میں ہونے والی اندرونی سوجن، جوڑوں کے درد، یا میٹابولک بیماریوں سے پیدا ہونے والے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ مینگیفرین کو خاص طور پر سوزش کم کرنے والا جزو مانا جاتا ہے۔ ⸻ 5. ہاضمے میں بہتری روایتی طور پر آم کے پتے پیٹ کی گیس، تیزابیت، اور اسہال کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ سائنس کے مطابق ان میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی اسپاسموڈک خصوصیات ہوتی ہیں جو نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں اور پیٹ کے پٹھوں کو آرام دیتی ہیں۔ کھانے کے بعد آم کے پتوں کا قہوہ پینا ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔ ⸻ 6. مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے چونکہ آم کے پتے وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہیں، یہ جسم کے امیون سسٹم کو مضبوط بناتے ہیں، جس سے جسم بیماریوں سے بہتر انداز میں لڑتا ہے اور صحت مند رہتا ہے۔ ⸻ 7. جلد اور بالوں کے لیے مفید ان پتوں میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس جلد کو سورج کی شعاعوں اور فضائی آلودگی کے نقصان سے بچاتے ہیں۔ یہ مہاسوں کو کم کرتے ہیں اور جھریوں کے بننے کو سست کرتے ہیں۔ بالوں کے لیے ان کا عرق استعمال کرنے سے سر کی جلد صاف ہوتی ہے اور خشکی میں کمی آتی ہے۔ ⸻ 8. زخم بھرنے اور جراثیم کش خصوصیات تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آم کے پتوں میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ چھوٹے زخموں، جلن، اور کیڑوں کے کاٹے میں لگانے سے فائدہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات میں لوگ انہیں قدرتی مرہم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ⸻ 9. ممکنہ طور پر کینسر سے بچاؤ مینگیفرین اور دوسرے قدرتی مرکبات پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ اینٹی ٹیومر اور اینٹی میوٹاجینک اثر رکھتے ہیں — یعنی یہ خلیوں میں ہونے والی خرابی اور رسولیوں کے بڑھنے کو روک سکتے ہیں۔ تاہم، انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔ ⸻ ☕ آم کے پتوں کا قہوہ بنانے کا طریقہ اجزاء: • 8 سے 10 تازہ نرم آم کے پتے • 2 کپ پانی طریقہ: 1. پتوں کو 10–15 منٹ تک پانی میں ابالیں۔ 2. ٹھنڈا کر کے چھان لیں۔ 3. روزانہ صبح یا شام ایک کپ پی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں آم کے پتوں کے کپسول یا پاؤڈر بھی دستیاب ہیں جو سپلیمنٹ کے طور پر لیے جا سکتے ہیں۔ ⸻ ⚠️ احتیاطی تدابیر • زیادہ مقدار میں استعمال سے شوگر بہت کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر کوئی پہلے سے شوگر کی دوا لے رہا ہو۔ • حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہ کریں۔ • ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں اگر کسی کو شوگر، بلڈ پریشر یا دل کی بیماری ہے۔ ⸻ ✅ نتیجہ آم کے پتے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔ ان میں موجود قدرتی اجزاء شوگر کنٹرول، دل کی حفاظت، سوزش میں کمی، ہاضمے کی بہتری، اور قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر تحقیقات جانوروں پر کی گئی ہیں، تاہم نتائج بتاتے ہیں کہ انسانوں میں بھی یہ قدرتی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مناسب مقدار میں آم کے پتوں کا قہوہ یا عرق پینا ایک سادہ، محفوظ، اور کم خرچ طریقہ ہے جسم کو بہتر، متوازن، اور صحت مند رکھنے کا۔ 🌿 ⸻
    0 Commentaires 0 Parts 386 Vue
Plus de résultats