• RSIF8
    Roll no 03
    Tedx talk no 56
    Tedx talk topic "The Power of Empathy" by Helen Riess
    اس ویڈیو میں ہم ہیلن ریس کی TED Talk “The Power of Empathy” کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ اس گفتگو سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ دوسروں کے جذبات کو سمجھنا، ان کی بات توجہ سے سننا اور ان کے احساسات کی قدر کرنا کتنا ضروری ہے۔

    ہمدردی ایک ایسی خوبی ہے جو ہمارے رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں۔

    آئیے! ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کریں جہاں محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کے احساسات کی قدر کی جائے۔

    ویڈیو دیکھیں، اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں اور اس پیغام کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔

    #TEDTalk #HelenRiess #ThePowerOfEmpathy #Empathy #ہمدردی #احساسات #انسانیت #محبت #مثبت_سوچ #Learning #Education #UrduReview #TEDx #RehanSchool

    New to streaming or looking to level up? Check out StreamYard and get $10 discount! https://lnkd.in/dDbHNbts
    RSIF8 Roll no 03 Tedx talk no 56 Tedx talk topic "The Power of Empathy" by Helen Riess اس ویڈیو میں ہم ہیلن ریس کی TED Talk “The Power of Empathy” کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔ اس گفتگو سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ دوسروں کے جذبات کو سمجھنا، ان کی بات توجہ سے سننا اور ان کے احساسات کی قدر کرنا کتنا ضروری ہے۔ ❤️ ہمدردی ایک ایسی خوبی ہے جو ہمارے رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں۔ 🤝🌸 آئیے! ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کریں جہاں محبت، ہمدردی اور ایک دوسرے کے احساسات کی قدر کی جائے۔ 🥰🌎 ویڈیو دیکھیں، اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں اور اس پیغام کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔ 💫 #TEDTalk #HelenRiess #ThePowerOfEmpathy #Empathy #ہمدردی #احساسات #انسانیت #محبت #مثبت_سوچ #Learning #Education #UrduReview #TEDx #RehanSchool 💖✨🌍 🎙️ New to streaming or looking to level up? Check out StreamYard and get $10 discount! 😍 https://lnkd.in/dDbHNbts
    0 Reacties 0 aandelen 102 Views 1
  • خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی
    نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی

    تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔
    بعد ازاں!
    لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102)
    ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1)
    ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80)
    اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔
    یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔
    اے امت اسلامیہ!
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30)
    اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165)
    اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25)
    پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45)
    آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56)
    اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25)
    دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔
    سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔
    اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر
    آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3)
    نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔
    یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘
    اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔
    اے مسلمانو!
    اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔
    اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
    اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔
    اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71)
    تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13)
    پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23)
    اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22)
    اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘
    اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32)
    اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔
    اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ
    آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔
    مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔
    اے امت اسلامیہ!
    عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25)
    اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔
    اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110)
    مسلمانو!
    تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔
    اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107)
    اے مسلمان نوجوانو!
    آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔
    امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔
    معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔
    تو مسلمان نوجوانو!
    آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔
    یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔
    امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔
    اے تربیت دینے والو!
    بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2)
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4)
    اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7)
    اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘
    مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔
    اے اسلام کے علما!
    آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143)
    لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔
    اے اللہ کی طرف بلانے والو!
    اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘
    اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46)
    اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو!
    میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘
    یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔
    اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔
    اللہ کے گھر کے حاجیو!
    دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30)
    عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25)
    حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔
    حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اجمل بھٹی صاحب
    اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
    اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔
    ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔
    یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
    اے حجاج کرام!
    تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
    اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘
    لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے:
    لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر
    ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
    لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘
    پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘
    جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    اللہ کے بندو!
    تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
    اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔
    اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔
    ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔
    بندگانِ الٰہی! ﵃
    ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘
    اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔
    ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10)
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201)
    ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127)
    اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔
    سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ بعد ازاں! لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102) ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1) ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80) اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔ یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ اے امت اسلامیہ! اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30) اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165) اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25) پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45) آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56) اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25) دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔ سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔ اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘ اے بیت اللہ کے حاجیو! وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3) نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔ یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘ اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔ اے مسلمانو! اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔ اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71) تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13) پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23) اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22) اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘ اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32) اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔ اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔ مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ اے امت اسلامیہ! عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25) اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔ اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110) مسلمانو! تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔ اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107) اے مسلمان نوجوانو! آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔ امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔ معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔ تو مسلمان نوجوانو! آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔ یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔ امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔ اے تربیت دینے والو! بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4) اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7) اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘ مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔ اے اسلام کے علما! آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143) لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔ اے اللہ کی طرف بلانے والو! اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘ اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46) اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو! میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔ اے بیت اللہ کے حاجیو! آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔ اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔ اللہ کے گھر کے حاجیو! دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30) عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25) حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔ حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمل بھٹی صاحب اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔ یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ اے حجاج کرام! تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘ لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘ پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘ جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ کے بندو! تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔ بندگانِ الٰہی! ﵃ ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔ ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201) ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127) اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    0 Reacties 0 aandelen 8039 Views
  • خوشی اور اطمینان دو جذباتی حالات ہیں جو اکثر اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہوتے ہیں، لیکن ان کی ظرفیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔

    خوشی عموماً ایک تجربے کے ساتھ فوری اور مثبت جذباتی ردعمل سے منسلک ہوتی ہے۔ یہ عموماً عارضی ہوتی ہے اور ہم جو حالات میں ہوتے ہیں، اس کے تحت کافی متغیر ہو سکتی ہے۔ مثلاً، ایک ہدف حاصل کرنے سے، اچھے کھانے کا لطف اٹھانے سے یا پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے سے خوشی کی احساسات پیدا ہوتی ہیں۔

    دوسری طرف، اطمینان ایک طویل میعادی حالت ہوتی ہے جس میں ایک شخص کو اپنی زندگی سے مطمئنی اور پوری کامیابی محسوس ہوتی ہے۔ یہ لمحہ بہ لمحہ حالات کی تبدیلیوں سے اتنی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ اطمینان عموماً خود کو، اپنی زندگی کی صورتحال اور دنیا کو پوری طرح سے قبول کرنے سے آتا ہے۔ یہ یہ ہوتا ہے کہ آپ جو ہے اس سے اطمینان ہوں، بجاے اس کے کہ ہمیشہ وہ تلاش کرتے رہیں جو ہو سکتا ہے۔

    خلاصہ کرتے ہوئے، خوشی کو خوشی یا خوشی کی چوٹی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ اطمینان ایک مستقل حس ہوتا ہے جس میں امن اور قبولیت ہوتی ہے۔ یہ دونوں ہماری کل جذباتی بہتری کے اہم پہلو ہیں۔

    Happiness and contentment are two emotional states that often overlap, but they have distinct nuances.

    Happiness tends to be associated with an immediate, positive emotional reaction to an experience. It is often ephemeral and can fluctuate significantly based on the circumstances we find ourselves in. For example, achieving a goal, enjoying a good meal, or spending time with loved ones can bring feelings of happiness.

    Contentment, on the other hand, is a longer-term state of satisfaction and fulfillment. It is not as susceptible to moment-to-moment changes in circumstances. Contentment often comes from a deep acceptance of oneself, ones life situation, and the world. Its about being at peace with what is, rather than constantly chasing what could be.

    In summary, while happiness can be thought of as a peak of joy or pleasure, contentment is more about a sustained sense of peace and acceptance. Both are important facets of our overall emotional wellbeing.
    خوشی اور اطمینان دو جذباتی حالات ہیں جو اکثر اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہوتے ہیں، لیکن ان کی ظرفیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ خوشی عموماً ایک تجربے کے ساتھ فوری اور مثبت جذباتی ردعمل سے منسلک ہوتی ہے۔ یہ عموماً عارضی ہوتی ہے اور ہم جو حالات میں ہوتے ہیں، اس کے تحت کافی متغیر ہو سکتی ہے۔ مثلاً، ایک ہدف حاصل کرنے سے، اچھے کھانے کا لطف اٹھانے سے یا پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے سے خوشی کی احساسات پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری طرف، اطمینان ایک طویل میعادی حالت ہوتی ہے جس میں ایک شخص کو اپنی زندگی سے مطمئنی اور پوری کامیابی محسوس ہوتی ہے۔ یہ لمحہ بہ لمحہ حالات کی تبدیلیوں سے اتنی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ اطمینان عموماً خود کو، اپنی زندگی کی صورتحال اور دنیا کو پوری طرح سے قبول کرنے سے آتا ہے۔ یہ یہ ہوتا ہے کہ آپ جو ہے اس سے اطمینان ہوں، بجاے اس کے کہ ہمیشہ وہ تلاش کرتے رہیں جو ہو سکتا ہے۔ خلاصہ کرتے ہوئے، خوشی کو خوشی یا خوشی کی چوٹی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ اطمینان ایک مستقل حس ہوتا ہے جس میں امن اور قبولیت ہوتی ہے۔ یہ دونوں ہماری کل جذباتی بہتری کے اہم پہلو ہیں۔ Happiness and contentment are two emotional states that often overlap, but they have distinct nuances. Happiness tends to be associated with an immediate, positive emotional reaction to an experience. It is often ephemeral and can fluctuate significantly based on the circumstances we find ourselves in. For example, achieving a goal, enjoying a good meal, or spending time with loved ones can bring feelings of happiness. Contentment, on the other hand, is a longer-term state of satisfaction and fulfillment. It is not as susceptible to moment-to-moment changes in circumstances. Contentment often comes from a deep acceptance of oneself, one's life situation, and the world. It's about being at peace with what is, rather than constantly chasing what could be. In summary, while happiness can be thought of as a peak of joy or pleasure, contentment is more about a sustained sense of peace and acceptance. Both are important facets of our overall emotional wellbeing.
    0 Reacties 0 aandelen 1041 Views
  • ### محبت اور خواہش کو سائنسی طور پر سمجھنا

    محبت اور خواہش انسانی تجربات کے دو پیچیدہ اور اہم پہلو ہیں، جنہیں سائنسی لحاظ سے مختلف عوامل کے مجموعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان عوامل میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عناصر شامل ہوتے ہیں۔

    ### محبت (Love)

    محبت ایک پیچیدہ جذباتی حالت ہے جو مختلف اقسام میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے کہ رومانوی محبت، والدین کی محبت، اور دوستانہ محبت۔ سائنسی طور پر محبت کو سمجھنے کے لیے مختلف عوامل پر غور کیا جاتا ہے:

    1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**:
    - **آکسیٹوسن (Oxytocin)**: آکسیٹوسن کو "محبت کا ہارمون" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی تعلقات، گلے ملنے، اور ماں کے بچے سے تعلقات کے دوران خارج ہوتا ہے اور اعتماد، پیار، اور بندھن کو بڑھاتا ہے۔
    - **ڈوپامین (Dopamine)**: یہ خوشی اور انعام سے وابستہ ہارمون ہے۔ محبت کے ابتدائی مراحل میں ڈوپامین کی سطح بلند ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خوشی اور جوش کا احساس ہوتا ہے۔
    - **سیروٹونن (Serotonin)**: محبت کے دوران سیروٹونن کی سطح میں کمی آ سکتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ محبت کے بارے میں فکر مند یا مشتاق محسوس کر سکتے ہیں۔

    2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**:
    - **وی ٹی اے (Ventral Tegmental Area)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو محبت اور انعام کے تجربات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈوپامین کو خارج کرتا ہے، جس سے خوشی اور محبت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔
    - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ دماغی حصہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور محبت کے دوران اس کی فعالیت کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خطرات کے احساس میں کمی آ سکتی ہے۔

    ### خواہش (Desire)

    خواہش یا جنسی تحریک بھی حیاتیاتی، کیمیائی، اور نفسیاتی عوامل کے مرکب سے پیدا ہوتی ہے:

    1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**:
    - **ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone)**: یہ ہارمون مردوں اور عورتوں دونوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے۔ مردوں میں اس کی سطح زیادہ ہوتی ہے، لیکن عورتوں میں بھی یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    - **ایسٹروجن (Estrogen)**: یہ ہارمون عورتوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے اور جنسی تعلقات کے دوران خوشی کے احساسات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**:
    - **ہائپوتھیلمس (Hypothalamus)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو جنسی تحریک اور خواہش کو منظم کرتا ہے۔
    - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور جنسی تحریک کے دوران اس کی فعالیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ### نفسیاتی عوامل (Psychological Factors)

    محبت اور خواہش میں نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ:

    - **وابستگی (Attachment)**: بچپن کے تجربات اور والدین کے ساتھ تعلقات محبت اور خواہش کے احساسات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
    - **تجربات اور یادیں (Experiences and Memories)**: ماضی کے تجربات اور یادیں محبت اور خواہش کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    - **ثقافتی اور سماجی اثرات (Cultural and Social Influences)**: معاشرتی معیار، ثقافتی روایات، اور سماجی عوامل محبت اور خواہش کی نوعیت اور شدت کو متاثر کرتے ہیں۔

    ### خلاصہ

    محبت اور خواہش کے سائنسی مطالعے میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عوامل کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔ یہ تجربات انسانی بقا اور سماجی تعلقات کے لیے اہم ہیں، اور ان کی پیچیدگی کو مختلف سائنسی شعبوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔
    ### محبت اور خواہش کو سائنسی طور پر سمجھنا محبت اور خواہش انسانی تجربات کے دو پیچیدہ اور اہم پہلو ہیں، جنہیں سائنسی لحاظ سے مختلف عوامل کے مجموعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان عوامل میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عناصر شامل ہوتے ہیں۔ ### محبت (Love) محبت ایک پیچیدہ جذباتی حالت ہے جو مختلف اقسام میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے کہ رومانوی محبت، والدین کی محبت، اور دوستانہ محبت۔ سائنسی طور پر محبت کو سمجھنے کے لیے مختلف عوامل پر غور کیا جاتا ہے: 1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**: - **آکسیٹوسن (Oxytocin)**: آکسیٹوسن کو "محبت کا ہارمون" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی تعلقات، گلے ملنے، اور ماں کے بچے سے تعلقات کے دوران خارج ہوتا ہے اور اعتماد، پیار، اور بندھن کو بڑھاتا ہے۔ - **ڈوپامین (Dopamine)**: یہ خوشی اور انعام سے وابستہ ہارمون ہے۔ محبت کے ابتدائی مراحل میں ڈوپامین کی سطح بلند ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خوشی اور جوش کا احساس ہوتا ہے۔ - **سیروٹونن (Serotonin)**: محبت کے دوران سیروٹونن کی سطح میں کمی آ سکتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ محبت کے بارے میں فکر مند یا مشتاق محسوس کر سکتے ہیں۔ 2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**: - **وی ٹی اے (Ventral Tegmental Area)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو محبت اور انعام کے تجربات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈوپامین کو خارج کرتا ہے، جس سے خوشی اور محبت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ دماغی حصہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور محبت کے دوران اس کی فعالیت کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خطرات کے احساس میں کمی آ سکتی ہے۔ ### خواہش (Desire) خواہش یا جنسی تحریک بھی حیاتیاتی، کیمیائی، اور نفسیاتی عوامل کے مرکب سے پیدا ہوتی ہے: 1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**: - **ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone)**: یہ ہارمون مردوں اور عورتوں دونوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے۔ مردوں میں اس کی سطح زیادہ ہوتی ہے، لیکن عورتوں میں بھی یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ - **ایسٹروجن (Estrogen)**: یہ ہارمون عورتوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے اور جنسی تعلقات کے دوران خوشی کے احساسات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ 2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**: - **ہائپوتھیلمس (Hypothalamus)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو جنسی تحریک اور خواہش کو منظم کرتا ہے۔ - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور جنسی تحریک کے دوران اس کی فعالیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ### نفسیاتی عوامل (Psychological Factors) محبت اور خواہش میں نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ: - **وابستگی (Attachment)**: بچپن کے تجربات اور والدین کے ساتھ تعلقات محبت اور خواہش کے احساسات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ - **تجربات اور یادیں (Experiences and Memories)**: ماضی کے تجربات اور یادیں محبت اور خواہش کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ - **ثقافتی اور سماجی اثرات (Cultural and Social Influences)**: معاشرتی معیار، ثقافتی روایات، اور سماجی عوامل محبت اور خواہش کی نوعیت اور شدت کو متاثر کرتے ہیں۔ ### خلاصہ محبت اور خواہش کے سائنسی مطالعے میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عوامل کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔ یہ تجربات انسانی بقا اور سماجی تعلقات کے لیے اہم ہیں، اور ان کی پیچیدگی کو مختلف سائنسی شعبوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔
    0 Reacties 0 aandelen 822 Views
  • سونی کی کہانی — ایک تباہ شہر سے دنیا بدلنے تک

    1945 کا سال تھا۔
    جنگ ختم ہو چکی تھی۔
    جاپان ہار گیا تھا۔
    ٹوکیو جل چکا تھا، فیکٹریاں تباہ تھیں، لوگ ٹوٹے ہوئے تھے۔

    لیکن انہی کھنڈرات کے بیچ، دو آدمیوں نے خواب دیکھا —
    کہ جاپان کو دوبارہ بنایا جائے،
    اس بار ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایجاد سے۔

    ان کے نام تھے مسارو ایبوکا اور اکیو موریٹا۔

    ⸻

    خواب کی شروعات

    مسارو ایبوکا ایک انجینئر تھے۔
    انہوں نے ایک چھوٹی سی ورکشاپ بنائی، جہاں وہ خراب ریڈیو ٹھیک کرتے تھے۔
    انہیں یقین تھا کہ ٹیکنالوجی جاپان کے زخم بھر سکتی ہے۔

    اکیو موریٹا ایک نوجوان فزکس کے ماہر تھے،
    جو ایک امیر خاندان سے تھے، مگر ان کے دل میں بھی وہی خواب تھا —
    کچھ نیا بنانا، کچھ ایسا جو انسانوں کو جوڑے۔

    دونوں نے مل کر مئی 1946 میں ایک چھوٹی کمپنی بنائی۔
    سرمایہ صرف 190,000 ین (آج کے حساب سے تقریباً 500 ڈالر)
    اور صرف 20 ملازمین۔

    نام رکھا ٹوکیو تسوشن کوگیو
    (Tokyo Telecommunications Engineering Company)

    ⸻

    پہلی کوششیں

    ان کا پہلا ایجاد — رائس کوکر۔
    لیکن وہ ناکام ہوا۔ چاول جل جاتے تھے!
    مگر وہ ہارے نہیں۔

    پھر انہوں نے ٹیپ ریکارڈر بنایا — جاپان کی تاریخ میں پہلا۔
    اس کے لیے انہوں نے مقناطیسی ٹیپ خود ایجاد کی۔
    یہ ایک نیا آغاز تھا۔

    ⸻

    انقلاب کی شروعات

    1950 میں انہوں نے ٹائپ G نامی جاپان کا پہلا ٹیپ ریکارڈر بنایا۔
    پھر انہوں نے امریکہ کی ایک نئی ایجاد کے بارے میں سنا —
    ٹرانزسٹر۔

    زیادہ تر کمپنیوں نے اسے فوجی استعمال کے لیے سمجھا،
    لیکن ایبوکا اور موریٹا نے سوچا:
    “اگر ہم اس سے ایک چھوٹا ریڈیو بنا دیں جو جیب میں آجائے؟”

    1955 میں انہوں نے بنایا ٹرانزسٹر ریڈیو TR-55
    اور پھر TR-63 — دنیا کا پہلا جیب والا ریڈیو۔

    یہ امریکہ میں دھوم مچا گیا!
    نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے سونی ریڈیو پر راک اینڈ رول سنتے تھے۔
    اور جاپان دنیا کے نقشے پر واپس آگیا۔

    ⸻

    نیا نام، نیا دور

    ان کی کمپنی کا پرانا نام بہت لمبا تھا۔
    انہوں نے ایک چھوٹا اور دلکش نام رکھا:
    “SONY”
    جو “Sonus” (لاطینی لفظ، مطلب آواز) اور “Sonny” (نوجوان لڑکا) سے ملا کر بنایا گیا۔

    1958 میں Sony پیدا ہوا۔

    ⸻

    ایجاد پر ایجاد

    پھر شروع ہوا سونی کا جادو:
    • ٹرانٹرون ٹی وی (1968) — دنیا کا بہترین رنگین ٹی وی۔
    • واک مین (1979) — پہلا ذاتی میوزک پلیئر۔
    • کمپیکٹ ڈسک (1982) — Philips کے ساتھ مل کر۔
    • پلے اسٹیشن (1994) — جس نے گیمز کی دنیا بدل دی۔

    سونی نے صرف چیزیں نہیں بنائیں،
    بلکہ احساسات پیدا کیے۔
    اس نے لوگوں کی زندگیوں میں آواز، رنگ اور خوشی بھر دی۔

    ⸻

    سونی کا نظریہ

    اکیو موریٹا کہا کرتے تھے:

    “ہم مارکیٹ کی خدمت نہیں کرتے، ہم مارکیٹ بناتے ہیں۔”

    انہوں نے ثابت کر دکھایا۔
    ناکامی کو سبق بنایا،
    غربت کو جذبہ،
    اور ٹیکنالوجی کو فن۔

    ان کی کہانی مشینوں کی نہیں، ایمان کی کہانی ہے —
    کہ اگر دنیا ٹوٹ بھی جائے، تو تخلیق سے دوبارہ بنائی جا سکتی ہے۔

    ⸻

    آج کا سبق

    ایک تباہ شہر سے اٹھنے والی یہ کمپنی
    آج دنیا بھر میں نئی سوچ، معیار اور ہمت کی علامت ہے۔

    یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر بڑی کامیابی کی جڑ میں
    بس دو چیزیں ہوتی ہیں —
    دو لوگ اور ایک خواب۔

    ⸻

    تحریر: ریحان اللہ والا — ChatGPT کے ساتھ
    (ریحان اسکول کے سیریز “وہ لیڈر جنہوں نے دنیا بدل دی” کے لیے)

    ⸻
    🎬 سونی کی کہانی — ایک تباہ شہر سے دنیا بدلنے تک 1945 کا سال تھا۔ جنگ ختم ہو چکی تھی۔ جاپان ہار گیا تھا۔ ٹوکیو جل چکا تھا، فیکٹریاں تباہ تھیں، لوگ ٹوٹے ہوئے تھے۔ لیکن انہی کھنڈرات کے بیچ، دو آدمیوں نے خواب دیکھا — کہ جاپان کو دوبارہ بنایا جائے، اس بار ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایجاد سے۔ ان کے نام تھے مسارو ایبوکا اور اکیو موریٹا۔ ⸻ 🧠 خواب کی شروعات مسارو ایبوکا ایک انجینئر تھے۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی ورکشاپ بنائی، جہاں وہ خراب ریڈیو ٹھیک کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ٹیکنالوجی جاپان کے زخم بھر سکتی ہے۔ اکیو موریٹا ایک نوجوان فزکس کے ماہر تھے، جو ایک امیر خاندان سے تھے، مگر ان کے دل میں بھی وہی خواب تھا — کچھ نیا بنانا، کچھ ایسا جو انسانوں کو جوڑے۔ دونوں نے مل کر مئی 1946 میں ایک چھوٹی کمپنی بنائی۔ سرمایہ صرف 190,000 ین (آج کے حساب سے تقریباً 500 ڈالر) اور صرف 20 ملازمین۔ نام رکھا ٹوکیو تسوشن کوگیو (Tokyo Telecommunications Engineering Company) ⸻ ⚡ پہلی کوششیں ان کا پہلا ایجاد — رائس کوکر۔ لیکن وہ ناکام ہوا۔ چاول جل جاتے تھے! مگر وہ ہارے نہیں۔ پھر انہوں نے ٹیپ ریکارڈر بنایا — جاپان کی تاریخ میں پہلا۔ اس کے لیے انہوں نے مقناطیسی ٹیپ خود ایجاد کی۔ یہ ایک نیا آغاز تھا۔ ⸻ 📻 انقلاب کی شروعات 1950 میں انہوں نے ٹائپ G نامی جاپان کا پہلا ٹیپ ریکارڈر بنایا۔ پھر انہوں نے امریکہ کی ایک نئی ایجاد کے بارے میں سنا — ٹرانزسٹر۔ زیادہ تر کمپنیوں نے اسے فوجی استعمال کے لیے سمجھا، لیکن ایبوکا اور موریٹا نے سوچا: “اگر ہم اس سے ایک چھوٹا ریڈیو بنا دیں جو جیب میں آجائے؟” 1955 میں انہوں نے بنایا ٹرانزسٹر ریڈیو TR-55 اور پھر TR-63 — دنیا کا پہلا جیب والا ریڈیو۔ یہ امریکہ میں دھوم مچا گیا! نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے سونی ریڈیو پر راک اینڈ رول سنتے تھے۔ اور جاپان دنیا کے نقشے پر واپس آگیا۔ ⸻ 🌍 نیا نام، نیا دور ان کی کمپنی کا پرانا نام بہت لمبا تھا۔ انہوں نے ایک چھوٹا اور دلکش نام رکھا: “SONY” جو “Sonus” (لاطینی لفظ، مطلب آواز) اور “Sonny” (نوجوان لڑکا) سے ملا کر بنایا گیا۔ 1958 میں Sony پیدا ہوا۔ ⸻ 🎧 ایجاد پر ایجاد پھر شروع ہوا سونی کا جادو: • ٹرانٹرون ٹی وی (1968) — دنیا کا بہترین رنگین ٹی وی۔ • واک مین (1979) — پہلا ذاتی میوزک پلیئر۔ • کمپیکٹ ڈسک (1982) — Philips کے ساتھ مل کر۔ • پلے اسٹیشن (1994) — جس نے گیمز کی دنیا بدل دی۔ سونی نے صرف چیزیں نہیں بنائیں، بلکہ احساسات پیدا کیے۔ اس نے لوگوں کی زندگیوں میں آواز، رنگ اور خوشی بھر دی۔ ⸻ 💡 سونی کا نظریہ اکیو موریٹا کہا کرتے تھے: “ہم مارکیٹ کی خدمت نہیں کرتے، ہم مارکیٹ بناتے ہیں۔” انہوں نے ثابت کر دکھایا۔ ناکامی کو سبق بنایا، غربت کو جذبہ، اور ٹیکنالوجی کو فن۔ ان کی کہانی مشینوں کی نہیں، ایمان کی کہانی ہے — کہ اگر دنیا ٹوٹ بھی جائے، تو تخلیق سے دوبارہ بنائی جا سکتی ہے۔ ⸻ 🌈 آج کا سبق ایک تباہ شہر سے اٹھنے والی یہ کمپنی آج دنیا بھر میں نئی سوچ، معیار اور ہمت کی علامت ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر بڑی کامیابی کی جڑ میں بس دو چیزیں ہوتی ہیں — دو لوگ اور ایک خواب۔ ⸻ تحریر: ریحان اللہ والا — ChatGPT کے ساتھ (ریحان اسکول کے سیریز “وہ لیڈر جنہوں نے دنیا بدل دی” کے لیے) ⸻
    0 Reacties 0 aandelen 510 Views
  • ایک وقت کی بات ہے ریحان اسکول میں ایک استاد تھے — علی۔
    علی نے بڑے جذبے کے ساتھ اسکول جوائن کیا تھا۔
    وہ بچوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا خواب دیکھتا تھا۔
    شروع کے دنوں میں وہ سب سے پہلے آتا، سب سے آخر میں جاتا، اور سب کو مسکراتا ہوا ملتا۔

    لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بدلنے لگا۔
    علی کو محسوس ہوا کہ اس کی محنت کو کوئی نہیں دیکھتا۔
    جب دوسروں کو شاباش ملتی، وہ دل ہی دل میں جلتا۔
    جب نئے استاد آئے، اس نے کہنا شروع کیا:

    “یہاں تو صرف سفارش چلتی ہے۔”

    آہستہ آہستہ اس کی خاموشی میں غصہ بھر گیا۔
    وہ اب بھی کام کرتا تھا، مگر دل سے نہیں۔
    یوں وہ ایک ناراض ملازم بن گیا۔

    ⸻

    خاموش طوفان

    شروع میں کسی نے نوٹ نہیں کیا۔
    وہ اب بھی بچوں کو پڑھاتا، مگر جوش ختم ہو گیا تھا۔
    اس کی منفی باتیں دوسرے اساتذہ کے دلوں میں بھی جگہ بنانے لگیں۔
    اور جیسے ایک بیمار پودا پورے باغ کو خراب کرتا ہے،
    ویسے ہی ایک ناراض ملازم پورے ماحول کو زہریلا کر سکتا ہے۔

    ⸻

    سمجھدار منیجر کی نظر

    ایک دن کیمپس منیجر فاطمہ ایجوکیشن والی نے علی کی آنکھوں میں وہ اداسی دیکھی۔
    ڈانٹنے کے بجائے، اس نے اسے بیٹھنے کو کہا۔
    لائبریری میں دونوں بیٹھے۔

    فاطمہ نے نرمی سے پوچھا:

    “علی، تم تو یہاں کی روشنی تھے۔ کیا ہوا تمہیں؟”

    علی پہلے خاموش رہا، پھر پھٹ پڑا — شکایات، غصہ، درد۔
    وہ بولا کہ اس کی محنت کو کوئی نہیں مانتا، اس سے زیادہ کام لیا جاتا ہے،
    اور نئے لوگوں کو زیادہ عزت ملتی ہے۔

    فاطمہ پورے وقت خاموش رہی۔
    بس سنتی رہی۔

    جب علی رکا، فاطمہ نے آہستہ کہا:

    “تو تمہیں لگتا ہے تمہاری محنت کو نہیں سراہا جا رہا۔ میں نے صحیح سمجھا؟”

    علی نے حیران ہو کر سر ہلایا۔
    یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کے احساسات کو سنجیدگی سے سنا تھا۔

    ⸻

    سننے کی طاقت

    اس دن کوئی بڑا انعام نہیں ملا،
    کوئی ترقی نہیں ہوئی،
    لیکن علی کا دل ہلکا ہو گیا۔

    اگلے دن فاطمہ نے اسے ایک چھوٹا سا نوٹ دیا:

    “علی، تم ان بچوں کو بہت صبر سے پڑھاتے ہو جنہیں کوئی نہیں سمجھتا۔ تمہارا شکریہ۔”

    یہ چند الفاظ تنخواہ سے زیادہ قیمتی تھے۔
    علی کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی۔
    اس کے بچے پھر ہنسی سے بھر گئے۔

    ⸻

    منیجرز کے لیے سبق

    اس کہانی کا سبق سادہ مگر گہرا ہے:

    ناراضگی تب شروع ہوتی ہے جب تعریف ختم ہو جاتی ہے۔

    کوئی بھی شخص خود سے منفی نہیں بنتا۔
    یہ تب ہوتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اسے سنا نہیں جا رہا، دیکھا نہیں جا رہا، یا عزت نہیں دی جا رہی۔

    منیجر اور COO کا اصل کام صرف ہدایات دینا نہیں،
    بلکہ ماحول کی حفاظت کرنا ہے۔

    یہ مطلب رکھتا ہے:
    • سننا، بحث نہیں کرنا۔
    • تعریف پہلے، تنقید بعد میں۔
    • حد مقرر کرنا، مگر عزت کے ساتھ۔

    ⸻

    جب بات نہ بنے

    کبھی کبھی تمام کوششوں کے باوجود کوئی ملازم ٹھیک نہیں ہوتا۔
    ایسے لوگ منفی رہنے میں سکون پاتے ہیں۔
    وہ افواہیں پھیلاتے ہیں، تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں،
    اور دوسروں کو بھی بگاڑتے ہیں۔

    ایسے وقت میں قائد کو نرم نہیں بلکہ مضبوط ہونا پڑتا ہے۔
    منیجر کو کہنا چاہیے:

    “ہم تمہاری خدمات کے شکر گزار ہیں، لیکن اگر تم ہمارے مشن سے مطمئن نہیں، تو ہم تمہیں عزت سے آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔”

    کبھی کبھی جدا ہونا ظلم نہیں — دانائی ہے۔
    کیچڑ بھرا گلاس صاف پانی کے لائق نہیں ہوتا،
    پہلے کیچڑ نکالنا ضروری ہوتا ہے۔

    ⸻

    آئندہ کے لیے احتیاط

    تاکہ ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں،
    ہر منیجر کو چاہیے کہ:
    1. ہر ماہ پانچ منٹ کا ذاتی مکالمہ ہر ملازم سے کرے۔
    2. پبلک میں تعریف کرے، پرائیویٹ میں اصلاح۔
    3. اہداف واضح کرے، کیونکہ ابہام مایوسی پیدا کرتا ہے۔
    4. ترقی کا راستہ دکھائے، تاکہ لوگ مستقبل دیکھ سکیں۔
    5. منفی گفتگو پر فوراً کارروائی کرے۔

    ⸻

    بانی کا فلسفہ

    ریحان اللہ والا ہمیشہ کہتے ہیں:

    “ہم سب کو خوش نہیں کر سکتے، مگر سب کو عزت دے سکتے ہیں۔”

    یہی ریحان اسکول کی روح ہے۔
    ہم درجنوں اساتذہ، انٹرنز اور منیجرز رکھتے ہیں،
    لیکن ایک منفی رویہ پورے نظام کو ہلا سکتا ہے۔

    لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ علامات پہچانے:
    • خاموشی جو پہلے نہیں تھی۔
    • بار بار شکایت۔
    • توانائی جو ماحول کو نیچا کر دے۔

    ایسے وقت پر تاخیر نہ کریں — بات کریں، سنیں، شفا دیں،
    یا عزت سے جدا کریں۔

    ⸻

    نتیجہ

    ہر ادارے میں کچھ “علی” ضرور ہوتے ہیں۔
    وہ جذبے سے آتے ہیں، مگر وقتی زخم سے تلخ ہو جاتے ہیں۔
    ہمارا کام ہے ان کے دل کو سننا، ان کی توانائی کو دوبارہ جگانا،
    یا اگر وہ نہیں بدلتے، تو ان کے لیے دروازہ احترام سے کھول دینا۔

    کیونکہ ریحان اسکول کا مشن —
    1000 لیڈرز بنانا جو ایک ملین زندگیاں بدلیں —
    ایک ناراض دل کی وجہ سے رک نہیں سکتا۔

    ایک عظیم لیڈر سب کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
    وہ سب کو سمجھتا، سنبھالتا، اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔

    یہی قیادت کی اصل روح ہے۔
    اسی سے ریحان اسکول کی روشنی قائم رہے گی —
    بحث سے نہیں، بلکہ محبت، وضاحت اور دانائی سے۔

    ⸻
    ایک وقت کی بات ہے ریحان اسکول میں ایک استاد تھے — علی۔ علی نے بڑے جذبے کے ساتھ اسکول جوائن کیا تھا۔ وہ بچوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا خواب دیکھتا تھا۔ شروع کے دنوں میں وہ سب سے پہلے آتا، سب سے آخر میں جاتا، اور سب کو مسکراتا ہوا ملتا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بدلنے لگا۔ علی کو محسوس ہوا کہ اس کی محنت کو کوئی نہیں دیکھتا۔ جب دوسروں کو شاباش ملتی، وہ دل ہی دل میں جلتا۔ جب نئے استاد آئے، اس نے کہنا شروع کیا: “یہاں تو صرف سفارش چلتی ہے۔” آہستہ آہستہ اس کی خاموشی میں غصہ بھر گیا۔ وہ اب بھی کام کرتا تھا، مگر دل سے نہیں۔ یوں وہ ایک ناراض ملازم بن گیا۔ ⸻ 🌧️ خاموش طوفان شروع میں کسی نے نوٹ نہیں کیا۔ وہ اب بھی بچوں کو پڑھاتا، مگر جوش ختم ہو گیا تھا۔ اس کی منفی باتیں دوسرے اساتذہ کے دلوں میں بھی جگہ بنانے لگیں۔ اور جیسے ایک بیمار پودا پورے باغ کو خراب کرتا ہے، ویسے ہی ایک ناراض ملازم پورے ماحول کو زہریلا کر سکتا ہے۔ ⸻ 🔍 سمجھدار منیجر کی نظر ایک دن کیمپس منیجر فاطمہ ایجوکیشن والی نے علی کی آنکھوں میں وہ اداسی دیکھی۔ ڈانٹنے کے بجائے، اس نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ لائبریری میں دونوں بیٹھے۔ فاطمہ نے نرمی سے پوچھا: “علی، تم تو یہاں کی روشنی تھے۔ کیا ہوا تمہیں؟” علی پہلے خاموش رہا، پھر پھٹ پڑا — شکایات، غصہ، درد۔ وہ بولا کہ اس کی محنت کو کوئی نہیں مانتا، اس سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، اور نئے لوگوں کو زیادہ عزت ملتی ہے۔ فاطمہ پورے وقت خاموش رہی۔ بس سنتی رہی۔ جب علی رکا، فاطمہ نے آہستہ کہا: “تو تمہیں لگتا ہے تمہاری محنت کو نہیں سراہا جا رہا۔ میں نے صحیح سمجھا؟” علی نے حیران ہو کر سر ہلایا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کے احساسات کو سنجیدگی سے سنا تھا۔ ⸻ ☀️ سننے کی طاقت اس دن کوئی بڑا انعام نہیں ملا، کوئی ترقی نہیں ہوئی، لیکن علی کا دل ہلکا ہو گیا۔ اگلے دن فاطمہ نے اسے ایک چھوٹا سا نوٹ دیا: “علی، تم ان بچوں کو بہت صبر سے پڑھاتے ہو جنہیں کوئی نہیں سمجھتا۔ تمہارا شکریہ۔” یہ چند الفاظ تنخواہ سے زیادہ قیمتی تھے۔ علی کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی۔ اس کے بچے پھر ہنسی سے بھر گئے۔ ⸻ 🧠 منیجرز کے لیے سبق اس کہانی کا سبق سادہ مگر گہرا ہے: ناراضگی تب شروع ہوتی ہے جب تعریف ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص خود سے منفی نہیں بنتا۔ یہ تب ہوتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اسے سنا نہیں جا رہا، دیکھا نہیں جا رہا، یا عزت نہیں دی جا رہی۔ منیجر اور COO کا اصل کام صرف ہدایات دینا نہیں، بلکہ ماحول کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ مطلب رکھتا ہے: • سننا، بحث نہیں کرنا۔ • تعریف پہلے، تنقید بعد میں۔ • حد مقرر کرنا، مگر عزت کے ساتھ۔ ⸻ 🔥 جب بات نہ بنے کبھی کبھی تمام کوششوں کے باوجود کوئی ملازم ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ منفی رہنے میں سکون پاتے ہیں۔ وہ افواہیں پھیلاتے ہیں، تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں، اور دوسروں کو بھی بگاڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں قائد کو نرم نہیں بلکہ مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ منیجر کو کہنا چاہیے: “ہم تمہاری خدمات کے شکر گزار ہیں، لیکن اگر تم ہمارے مشن سے مطمئن نہیں، تو ہم تمہیں عزت سے آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔” کبھی کبھی جدا ہونا ظلم نہیں — دانائی ہے۔ کیچڑ بھرا گلاس صاف پانی کے لائق نہیں ہوتا، پہلے کیچڑ نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ ⸻ 🌱 آئندہ کے لیے احتیاط تاکہ ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں، ہر منیجر کو چاہیے کہ: 1. ہر ماہ پانچ منٹ کا ذاتی مکالمہ ہر ملازم سے کرے۔ 2. پبلک میں تعریف کرے، پرائیویٹ میں اصلاح۔ 3. اہداف واضح کرے، کیونکہ ابہام مایوسی پیدا کرتا ہے۔ 4. ترقی کا راستہ دکھائے، تاکہ لوگ مستقبل دیکھ سکیں۔ 5. منفی گفتگو پر فوراً کارروائی کرے۔ ⸻ 💡 بانی کا فلسفہ ریحان اللہ والا ہمیشہ کہتے ہیں: “ہم سب کو خوش نہیں کر سکتے، مگر سب کو عزت دے سکتے ہیں۔” یہی ریحان اسکول کی روح ہے۔ ہم درجنوں اساتذہ، انٹرنز اور منیجرز رکھتے ہیں، لیکن ایک منفی رویہ پورے نظام کو ہلا سکتا ہے۔ لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ علامات پہچانے: • خاموشی جو پہلے نہیں تھی۔ • بار بار شکایت۔ • توانائی جو ماحول کو نیچا کر دے۔ ایسے وقت پر تاخیر نہ کریں — بات کریں، سنیں، شفا دیں، یا عزت سے جدا کریں۔ ⸻ 🌻 نتیجہ ہر ادارے میں کچھ “علی” ضرور ہوتے ہیں۔ وہ جذبے سے آتے ہیں، مگر وقتی زخم سے تلخ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا کام ہے ان کے دل کو سننا، ان کی توانائی کو دوبارہ جگانا، یا اگر وہ نہیں بدلتے، تو ان کے لیے دروازہ احترام سے کھول دینا۔ کیونکہ ریحان اسکول کا مشن — 1000 لیڈرز بنانا جو ایک ملین زندگیاں بدلیں — ایک ناراض دل کی وجہ سے رک نہیں سکتا۔ ایک عظیم لیڈر سب کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ سب کو سمجھتا، سنبھالتا، اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔ یہی قیادت کی اصل روح ہے۔ اسی سے ریحان اسکول کی روشنی قائم رہے گی — بحث سے نہیں، بلکہ محبت، وضاحت اور دانائی سے۔ ⸻
    0 Reacties 0 aandelen 419 Views
  • تھیوری آف مائنڈ (Theory of Mind) — آسان اردو میں

    تھیوری آف مائنڈ کا مطلب ہے یہ سمجھنے کی صلاحیت کہ
    ہر انسان کا اپنا الگ دماغ ہوتا ہے،
    اپنی سوچ، احساسات، نیتیں اور معلومات ہوتی ہیں،
    اور ضروری نہیں کہ وہ وہی سوچے جو ہم سوچ رہے ہیں۔

    سادہ جملہ:

    میں جانتا ہوں کہ دوسرا بھی سوچتا ہے، اور اس کی سوچ مجھ سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    ⸻

    روزمرہ کی آسان مثالیں

    مثال 1: چھپی ہوئی چیز

    فرض کریں آپ نے موبائل میز پر رکھا۔
    آپ کمرے سے باہر گئے۔
    کسی نے موبائل دراز میں رکھ دیا۔

    اب:
    • آپ سمجھ رہے ہیں موبائل میز پر ہے
    • دوسرا جانتا ہے کہ موبائل دراز میں ہے

    یہ فرق سمجھنا = تھیوری آف مائنڈ

    ⸻

    مثال 2: احساسات

    کوئی شخص ہنس رہا ہے، لیکن اندر سے پریشان ہے۔

    بغیر تھیوری آف مائنڈ:
    • “ہنس رہا ہے، مطلب خوش ہے”

    تھیوری آف مائنڈ کے ساتھ:
    • “ہنس رہا ہے، مگر دل سے شاید اداس ہو”

    ⸻

    مثال 3: بات چیت

    اگر کوئی بات آپ کو سمجھ آ گئی:
    • اس کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والے کو بھی سمجھ آ گئی

    یہ سمجھنا بھی تھیوری آف مائنڈ ہے۔

    ⸻

    بچے اور تھیوری آف مائنڈ

    چھوٹے بچے اکثر سوچتے ہیں:

    “جو مجھے پتہ ہے، وہ سب کو پتہ ہے”

    ۳ سے ۵ سال کی عمر میں بچہ آہستہ آہستہ سیکھتا ہے کہ:

    “دوسرے لوگ الگ سوچتے ہیں”

    ⸻

    یہ کیوں بہت ضروری ہے؟

    تھیوری آف مائنڈ کے بغیر:
    • غلط فہمیاں بڑھتی ہیں
    • جھگڑے ہوتے ہیں
    • بات سمجھانے میں مسئلہ ہوتا ہے
    • لیڈر شپ کمزور ہو جاتی ہے

    تھیوری آف مائنڈ کے ساتھ:
    • بات بہتر سمجھ آتی ہے
    • ہمدردی پیدا ہوتی ہے
    • اچھے استاد، والدین اور لیڈر بنتے ہیں

    ⸻

    ایک اہم بات

    زیادہ پڑھا لکھا ہونا ≠ لوگوں کو سمجھنا

    بہت ذہین لوگ بھی کبھی کبھی دوسروں کی سوچ نہیں سمجھ پاتے۔

    ⸻

    پہچاننے کا آسان طریقہ

    جس شخص میں تھیوری آف مائنڈ مضبوط ہوتی ہے، وہ کہتا ہے:
    • “اس کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو…”
    • “شاید وہ ایسا محسوس کر رہا ہو…”
    • “اسے ابھی یہ بات معلوم نہیں ہوگی”
    تھیوری آف مائنڈ (Theory of Mind) — آسان اردو میں تھیوری آف مائنڈ کا مطلب ہے یہ سمجھنے کی صلاحیت کہ ہر انسان کا اپنا الگ دماغ ہوتا ہے، اپنی سوچ، احساسات، نیتیں اور معلومات ہوتی ہیں، اور ضروری نہیں کہ وہ وہی سوچے جو ہم سوچ رہے ہیں۔ سادہ جملہ: میں جانتا ہوں کہ دوسرا بھی سوچتا ہے، اور اس کی سوچ مجھ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ ⸻ روزمرہ کی آسان مثالیں مثال 1: چھپی ہوئی چیز فرض کریں آپ نے موبائل میز پر رکھا۔ آپ کمرے سے باہر گئے۔ کسی نے موبائل دراز میں رکھ دیا۔ اب: • آپ سمجھ رہے ہیں موبائل میز پر ہے • دوسرا جانتا ہے کہ موبائل دراز میں ہے یہ فرق سمجھنا = تھیوری آف مائنڈ ⸻ مثال 2: احساسات کوئی شخص ہنس رہا ہے، لیکن اندر سے پریشان ہے۔ بغیر تھیوری آف مائنڈ: • “ہنس رہا ہے، مطلب خوش ہے” تھیوری آف مائنڈ کے ساتھ: • “ہنس رہا ہے، مگر دل سے شاید اداس ہو” ⸻ مثال 3: بات چیت اگر کوئی بات آپ کو سمجھ آ گئی: • اس کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والے کو بھی سمجھ آ گئی یہ سمجھنا بھی تھیوری آف مائنڈ ہے۔ ⸻ بچے اور تھیوری آف مائنڈ چھوٹے بچے اکثر سوچتے ہیں: “جو مجھے پتہ ہے، وہ سب کو پتہ ہے” ۳ سے ۵ سال کی عمر میں بچہ آہستہ آہستہ سیکھتا ہے کہ: “دوسرے لوگ الگ سوچتے ہیں” ⸻ یہ کیوں بہت ضروری ہے؟ تھیوری آف مائنڈ کے بغیر: • غلط فہمیاں بڑھتی ہیں • جھگڑے ہوتے ہیں • بات سمجھانے میں مسئلہ ہوتا ہے • لیڈر شپ کمزور ہو جاتی ہے تھیوری آف مائنڈ کے ساتھ: • بات بہتر سمجھ آتی ہے • ہمدردی پیدا ہوتی ہے • اچھے استاد، والدین اور لیڈر بنتے ہیں ⸻ ایک اہم بات زیادہ پڑھا لکھا ہونا ≠ لوگوں کو سمجھنا بہت ذہین لوگ بھی کبھی کبھی دوسروں کی سوچ نہیں سمجھ پاتے۔ ⸻ پہچاننے کا آسان طریقہ جس شخص میں تھیوری آف مائنڈ مضبوط ہوتی ہے، وہ کہتا ہے: • “اس کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو…” • “شاید وہ ایسا محسوس کر رہا ہو…” • “اسے ابھی یہ بات معلوم نہیں ہوگی”
    0 Reacties 0 aandelen 88 Views
  • والڈورف تعلیمی نظام: مکمل انسان کی تعلیم

    دنیا میں جہاں تعلیم کو اکثر صرف امتحانات، نمبروں اور مقابلے تک محدود کر دیا گیا ہے، وہاں والڈورف تعلیمی نظام ایک خاموش مگر طاقتور متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف پڑھانے کا طریقہ نہیں بلکہ انسان کو سمجھنے اور سنوارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ اس نظام کی بنیاد 1919 میں Rudolf Steiner نے رکھی، جب دنیا صنعتی انقلاب کے اثرات سے گزر رہی تھی اور تعلیم کا مقصد زیادہ تر فیکٹریوں کے لیے کارکن تیار کرنا بن چکا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نظام کا مقصد ایسے انسان تیار کرنا تھا جو سوچ سکیں، محسوس کر سکیں اور تخلیق کر سکیں۔

    اس نظام کی ابتدا ایک دلچسپ واقعے سے ہوئی۔ ایک جرمن صنعتکار Emil Molt نے اپنے فیکٹری کے مزدوروں کے بچوں کے لیے ایک مختلف قسم کا اسکول بنانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اسٹائنر کو دعوت دی۔ یہ اسکول جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں قائم ہوا اور اسی فیکٹری کے نام پر “والڈورف اسکول” کہلایا۔ اس نظام کی بنیاد Anthroposophy پر رکھی گئی، جس کے مطابق انسان صرف جسم نہیں بلکہ روح اور احساسات کا بھی مجموعہ ہے، اور اس کی نشوونما مختلف مراحل میں ہوتی ہے۔

    والڈورف تعلیم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تعلیم بچے کی قدرتی نشوونما کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچپن کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    پہلا مرحلہ پیدائش سے سات سال تک ہوتا ہے، جس میں بچے تقلید اور کھیل کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ اس مرحلے میں بچوں پر کوئی تعلیمی دباؤ نہیں ڈالا جاتا بلکہ کہانیوں، کھیل اور فطرت کے ذریعے سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

    دوسرا مرحلہ سات سے چودہ سال تک ہوتا ہے، جہاں تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں پر زور دیا جاتا ہے۔ اس دوران ریاضی اور سائنس جیسے مضامین بھی کہانیوں، مصوری، موسیقی اور ڈرامہ کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ طلبہ اپنی کتابیں خود تیار کرتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل ذاتی اور دلچسپ بن جاتا ہے۔

    تیسرا مرحلہ چودہ سے اکیس سال تک ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو تنقیدی سوچ، منطق اور خودمختاری کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں انہیں دنیا کو سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

    والڈورف نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تعلیم کے برعکس ہے۔ ابتدائی سالوں میں نہ امتحانات ہوتے ہیں، نہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال، اور نہ ہی نصابی کتابوں پر مکمل انحصار۔ اس کے بجائے بچوں کو ہنر سکھائے جاتے ہیں جیسے باغبانی، سلائی، لکڑی کا کام اور جسمانی حرکات (یوریتھمی)۔ اس کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ ایک متوازن انسان بنانا ہے۔

    آج دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد والڈورف اسکولز موجود ہیں اور یہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس نظام کو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ جدید دنیا کے مقابلے کے لیے بچوں کو جلد تیار نہیں کرتا اور ٹیکنالوجی پر کم زور دیتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ نظام بچوں میں تخلیقی صلاحیت، خوداعتمادی اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے میں کامیاب سمجھا جاتا ہے۔

    اصل میں والڈورف تعلیم ایک ایسے دور کا جواب تھی جہاں انسان کو مشین کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، تو یہ سوال دوبارہ اہم ہو گیا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ کیا ہم صرف نوکری کرنے والے افراد تیار کر رہے ہیں یا ایسے انسان جو دنیا کو بہتر بنا سکیں؟

    والڈورف تعلیمی نظام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی مکمل تربیت کا عمل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے خالی برتن نہیں بلکہ ایسے بیج ہیں جنہیں صحیح ماحول ملے تو وہ ایک مکمل اور با معنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    🌿 والڈورف تعلیمی نظام: مکمل انسان کی تعلیم دنیا میں جہاں تعلیم کو اکثر صرف امتحانات، نمبروں اور مقابلے تک محدود کر دیا گیا ہے، وہاں والڈورف تعلیمی نظام ایک خاموش مگر طاقتور متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف پڑھانے کا طریقہ نہیں بلکہ انسان کو سمجھنے اور سنوارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ اس نظام کی بنیاد 1919 میں Rudolf Steiner نے رکھی، جب دنیا صنعتی انقلاب کے اثرات سے گزر رہی تھی اور تعلیم کا مقصد زیادہ تر فیکٹریوں کے لیے کارکن تیار کرنا بن چکا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نظام کا مقصد ایسے انسان تیار کرنا تھا جو سوچ سکیں، محسوس کر سکیں اور تخلیق کر سکیں۔ اس نظام کی ابتدا ایک دلچسپ واقعے سے ہوئی۔ ایک جرمن صنعتکار Emil Molt نے اپنے فیکٹری کے مزدوروں کے بچوں کے لیے ایک مختلف قسم کا اسکول بنانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اسٹائنر کو دعوت دی۔ یہ اسکول جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں قائم ہوا اور اسی فیکٹری کے نام پر “والڈورف اسکول” کہلایا۔ اس نظام کی بنیاد Anthroposophy پر رکھی گئی، جس کے مطابق انسان صرف جسم نہیں بلکہ روح اور احساسات کا بھی مجموعہ ہے، اور اس کی نشوونما مختلف مراحل میں ہوتی ہے۔ والڈورف تعلیم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تعلیم بچے کی قدرتی نشوونما کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچپن کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ پیدائش سے سات سال تک ہوتا ہے، جس میں بچے تقلید اور کھیل کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ اس مرحلے میں بچوں پر کوئی تعلیمی دباؤ نہیں ڈالا جاتا بلکہ کہانیوں، کھیل اور فطرت کے ذریعے سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسرا مرحلہ سات سے چودہ سال تک ہوتا ہے، جہاں تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں پر زور دیا جاتا ہے۔ اس دوران ریاضی اور سائنس جیسے مضامین بھی کہانیوں، مصوری، موسیقی اور ڈرامہ کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ طلبہ اپنی کتابیں خود تیار کرتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل ذاتی اور دلچسپ بن جاتا ہے۔ تیسرا مرحلہ چودہ سے اکیس سال تک ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو تنقیدی سوچ، منطق اور خودمختاری کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں انہیں دنیا کو سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ والڈورف نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تعلیم کے برعکس ہے۔ ابتدائی سالوں میں نہ امتحانات ہوتے ہیں، نہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال، اور نہ ہی نصابی کتابوں پر مکمل انحصار۔ اس کے بجائے بچوں کو ہنر سکھائے جاتے ہیں جیسے باغبانی، سلائی، لکڑی کا کام اور جسمانی حرکات (یوریتھمی)۔ اس کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ ایک متوازن انسان بنانا ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد والڈورف اسکولز موجود ہیں اور یہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس نظام کو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ جدید دنیا کے مقابلے کے لیے بچوں کو جلد تیار نہیں کرتا اور ٹیکنالوجی پر کم زور دیتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ نظام بچوں میں تخلیقی صلاحیت، خوداعتمادی اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے میں کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اصل میں والڈورف تعلیم ایک ایسے دور کا جواب تھی جہاں انسان کو مشین کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، تو یہ سوال دوبارہ اہم ہو گیا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ کیا ہم صرف نوکری کرنے والے افراد تیار کر رہے ہیں یا ایسے انسان جو دنیا کو بہتر بنا سکیں؟ والڈورف تعلیمی نظام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی مکمل تربیت کا عمل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے خالی برتن نہیں بلکہ ایسے بیج ہیں جنہیں صحیح ماحول ملے تو وہ ایک مکمل اور با معنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    0 Reacties 0 aandelen 993 Views
  • ڈپریشن کی 4 پوشیدہ علامات اور ان کے حل:

    1. علامت: دوسروں کی خوشی میں شامل ہو کر وہ خوشی نہ محسوس کر پانا جو آپ کو پہلے محسوس ہوتی تھی۔
    حل: اپنی خوشیوں اور دلچسپیوں کی دوبارہ تلاش کریں، چاہے وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی کیوں نہ ہوں۔ کسی تھراپسٹ یا دوست سے بات کریں۔
    2. علامت: لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کے بجائے خود کو الگ تھلگ اور بے چین محسوس کرنا۔
    حل: روزانہ کی بنیاد پر خود کو تھوڑا تھوڑا لوگوں سے ملنے کی عادت ڈالیں۔ ایک سپورٹ گروپ یا کمیونٹی میں شامل ہوں جہاں آپ کو سمجھا جائے۔
    3. علامت: دن بھر اپنے کام اور ذمہ داریاں نبھانا لیکن دل میں اداسی اور خالی پن محسوس کرنا۔
    حل: اپنے روزمرہ کے معمولات میں کچھ وقت اپنے لیے نکالیں۔ میڈیٹیشن، ورزش، یا کوئی تخلیقی سرگرمی جیسے لکھنا یا پینٹنگ کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
    4. علامت: لوگوں میں آپ کا خوش نظر آنا مگر اندر سے تنہا اور خالی محسوس کرنا۔
    حل: اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے ان کا سامنا کریں۔ کسی قابل اعتماد شخص سے بات کریں اور اپنے اندر کے احساسات کا اظہار کریں۔

    اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا ان علامات کا سامنا کر رہا ہے تو براہ کرم مدد حاصل کریں۔ آپ کی ذہنی صحت اہم ہے، اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔

    #ڈپریشن #ذہنی_صحت #مددحاصلکریں #زندگی_قیمتی_ہے

    This post not only raises awareness about the signs of depression but also provides practical steps people can take to improve their mental health.
    ڈپریشن کی 4 پوشیدہ علامات اور ان کے حل: 1. علامت: دوسروں کی خوشی میں شامل ہو کر وہ خوشی نہ محسوس کر پانا جو آپ کو پہلے محسوس ہوتی تھی۔ حل: اپنی خوشیوں اور دلچسپیوں کی دوبارہ تلاش کریں، چاہے وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی کیوں نہ ہوں۔ کسی تھراپسٹ یا دوست سے بات کریں۔ 2. علامت: لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کے بجائے خود کو الگ تھلگ اور بے چین محسوس کرنا۔ حل: روزانہ کی بنیاد پر خود کو تھوڑا تھوڑا لوگوں سے ملنے کی عادت ڈالیں۔ ایک سپورٹ گروپ یا کمیونٹی میں شامل ہوں جہاں آپ کو سمجھا جائے۔ 3. علامت: دن بھر اپنے کام اور ذمہ داریاں نبھانا لیکن دل میں اداسی اور خالی پن محسوس کرنا۔ حل: اپنے روزمرہ کے معمولات میں کچھ وقت اپنے لیے نکالیں۔ میڈیٹیشن، ورزش، یا کوئی تخلیقی سرگرمی جیسے لکھنا یا پینٹنگ کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ 4. علامت: لوگوں میں آپ کا خوش نظر آنا مگر اندر سے تنہا اور خالی محسوس کرنا۔ حل: اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے ان کا سامنا کریں۔ کسی قابل اعتماد شخص سے بات کریں اور اپنے اندر کے احساسات کا اظہار کریں۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا ان علامات کا سامنا کر رہا ہے تو براہ کرم مدد حاصل کریں۔ آپ کی ذہنی صحت اہم ہے، اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔ #ڈپریشن #ذہنی_صحت #مددحاصلکریں #زندگی_قیمتی_ہے This post not only raises awareness about the signs of depression but also provides practical steps people can take to improve their mental health.
    0 Reacties 0 aandelen 247 Views
  • ایک آواز جو سرحدوں سے ماورا ہے — میاں فَرخ خ شمسی کی زندگی

    تحریر: ریحان اللہ والا —

    اس دَور میں، جہاں آوازیں براعظموں کو جوڑتی ہیں اور لہجے فاصلے مٹا دیتے ہیں، ایک ایسی شخصیت موجود ہے جس کی آواز لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہے — میاں فَرخ خ شمسی۔
    وہ ایک مشہور اینکر پرسن، ریڈیو براڈکاسٹر اور ڈیجیٹل کری ایٹر ہیں، جو لندن میں مقیم ہیں مگر ان کی باتیں پوری دنیا میں سنی جاتی ہیں۔

    ⸻

    آغاز — شوق سے مشن تک

    بچپن ہی سے انہیں بات کرنے، سمجھانے اور جوڑنے کا ہنر حاصل تھا۔
    ریڈیو کے دور میں، جب نہ سوشل میڈیا تھا نہ یوٹیوب، میاں فَرخ خ شمسی نے مائیکروفون کو اپنی پہچان بنایا۔
    ان کی آواز میں سکون بھی تھا، اعتماد بھی، اور دردِ دل بھی۔
    انہوں نے اپنے ریڈیو پروگرامز کے ذریعے لوگوں کے مسائل، احساسات اور خوابوں کو دنیا کے سامنے رکھا۔

    ⸻

    لندن سے دُنیا تک

    اگرچہ وہ لندن میں رہتے ہیں، مگر ان کے لہجے میں مشرق کی خوشبو اور تہذیب کی گرمی اب بھی موجود ہے۔
    وہ اپنی گفتگو میں انسانیت، اخلاق، اور باہمی احترام کو اجاگر کرتے ہیں۔
    ان کے پروگرام صرف خبریں نہیں دیتے — بلکہ لوگوں کے دلوں کو جوڑتے ہیں۔

    ⸻

    راستہِ مستقیم — اُن کی زندگی کا فلسفہ

    ان کے فیس بک پروفائل پر درج الفاظ ہیں:
    “اِهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ”
    یعنی “ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔”
    یہ الفاظ اُن کے کردار کی جھلک ہیں — سچائی، راست بازی، اور مقصدیت۔
    وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتے، بلکہ روشنی پھیلانے کے خواہاں ہیں۔

    ⸻

    نئی دُنیا، نئی لہریں

    وقت کے ساتھ ساتھ، میاں فَرخ خ شمسی نے خود کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھال لیا۔
    اب وہ نہ صرف ریڈیو پر بلکہ سوشل میڈیا، ویڈیوز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اپنی بات پہنچاتے ہیں۔
    ان کے لیے مائیک صرف ایک آلہ نہیں — بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
    وہ بولتے بھی ہیں، اور سنتے بھی — یہی اُن کی کامیابی کا راز ہے۔

    ⸻

    وراثت اور اثر

    نئی نسل کے لیے میاں فَرخ خ شمسی ایک مثال ہیں۔
    وہ یہ سکھاتے ہیں کہ میڈیا میں کامیابی صرف شہرت سے نہیں بلکہ سچائی اور خلوص سے ملتی ہے۔
    ان کی آواز آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ
    “اگر آپ کی نیت نیک ہے تو آپ کی آواز کبھی خاموش نہیں ہوگی۔”

    Connect with Mian Farrukh Shamsi
    🎙️ ایک آواز جو سرحدوں سے ماورا ہے — میاں فَرخ خ شمسی کی زندگی تحریر: ریحان اللہ والا — اس دَور میں، جہاں آوازیں براعظموں کو جوڑتی ہیں اور لہجے فاصلے مٹا دیتے ہیں، ایک ایسی شخصیت موجود ہے جس کی آواز لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہے — میاں فَرخ خ شمسی۔ وہ ایک مشہور اینکر پرسن، ریڈیو براڈکاسٹر اور ڈیجیٹل کری ایٹر ہیں، جو لندن میں مقیم ہیں مگر ان کی باتیں پوری دنیا میں سنی جاتی ہیں۔ ⸻ 🌟 آغاز — شوق سے مشن تک بچپن ہی سے انہیں بات کرنے، سمجھانے اور جوڑنے کا ہنر حاصل تھا۔ ریڈیو کے دور میں، جب نہ سوشل میڈیا تھا نہ یوٹیوب، میاں فَرخ خ شمسی نے مائیکروفون کو اپنی پہچان بنایا۔ ان کی آواز میں سکون بھی تھا، اعتماد بھی، اور دردِ دل بھی۔ انہوں نے اپنے ریڈیو پروگرامز کے ذریعے لوگوں کے مسائل، احساسات اور خوابوں کو دنیا کے سامنے رکھا۔ ⸻ 🌍 لندن سے دُنیا تک اگرچہ وہ لندن میں رہتے ہیں، مگر ان کے لہجے میں مشرق کی خوشبو اور تہذیب کی گرمی اب بھی موجود ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں انسانیت، اخلاق، اور باہمی احترام کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے پروگرام صرف خبریں نہیں دیتے — بلکہ لوگوں کے دلوں کو جوڑتے ہیں۔ ⸻ 💫 راستہِ مستقیم — اُن کی زندگی کا فلسفہ ان کے فیس بک پروفائل پر درج الفاظ ہیں: “اِهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ” یعنی “ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔” یہ الفاظ اُن کے کردار کی جھلک ہیں — سچائی، راست بازی، اور مقصدیت۔ وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتے، بلکہ روشنی پھیلانے کے خواہاں ہیں۔ ⸻ 📻 نئی دُنیا، نئی لہریں وقت کے ساتھ ساتھ، میاں فَرخ خ شمسی نے خود کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھال لیا۔ اب وہ نہ صرف ریڈیو پر بلکہ سوشل میڈیا، ویڈیوز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی اپنی بات پہنچاتے ہیں۔ ان کے لیے مائیک صرف ایک آلہ نہیں — بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ وہ بولتے بھی ہیں، اور سنتے بھی — یہی اُن کی کامیابی کا راز ہے۔ ⸻ 🌹 وراثت اور اثر نئی نسل کے لیے میاں فَرخ خ شمسی ایک مثال ہیں۔ وہ یہ سکھاتے ہیں کہ میڈیا میں کامیابی صرف شہرت سے نہیں بلکہ سچائی اور خلوص سے ملتی ہے۔ ان کی آواز آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ “اگر آپ کی نیت نیک ہے تو آپ کی آواز کبھی خاموش نہیں ہوگی۔” Connect with Mian Farrukh Shamsi
    0 Reacties 0 aandelen 95 Views
Zoekresultaten