• راگھو چڈھا – بھارت کا دور اندیش لیڈر

    راجیہ سبھا کے کم عمر اور باصلاحیت رکن، راگھو چڈھا نے پارلیمنٹ میں نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ:

    ہر بھارتی کو ChatGPT اور AI کے استعمال کی آگاہی دی جائے بڑے پیمانے پر میڈیا اور ٹی وی مہم کے ذریعے۔
    تمام سرکاری عملے اور اساتذہ کو ایڈوانس سبسکرپشن دی جائے۔

    یہ وژن بھارت کی پیداواریت کو 1000 گنا بڑھا سکتا ہے ۔

    سلام ہے راگھو چڈھا کو، جو ٹیکنالوجی کو ہر بھارتی کی طاقت بنانے کی بات کر رہے ہیں۔
    🌟 راگھو چڈھا – بھارت کا دور اندیش لیڈر 🌟 راجیہ سبھا کے کم عمر اور باصلاحیت رکن، راگھو چڈھا نے پارلیمنٹ میں نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ: ✅ ہر بھارتی کو ChatGPT اور AI کے استعمال کی آگاہی دی جائے بڑے پیمانے پر میڈیا اور ٹی وی مہم کے ذریعے۔ ✅ تمام سرکاری عملے اور اساتذہ کو ایڈوانس سبسکرپشن دی جائے۔ یہ وژن بھارت کی پیداواریت کو 1000 گنا بڑھا سکتا ہے 🚀۔ 👏 سلام ہے راگھو چڈھا کو، جو ٹیکنالوجی کو ہر بھارتی کی طاقت بنانے کی بات کر رہے ہیں۔
    0 Reacties 0 aandelen 487 Views 7
  • ریحان اسکول — صرف ایک اسکول نہیں، بلکہ مستقبل کی تیاری!

    ریحان اسکول میں طلبہ کو صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ Artificial Intelligence (AI)، Coding، Communication، Freelancing، Entrepreneurship اور دیگر جدید مہارتیں بھی سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ آنے والے دور کے لیے تیار ہوں۔ یہاں عملی سیکھنے، بہترین اساتذہ، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو خوداعتماد اور کامیاب بنایا جاتا ہے۔

    آج ہی ریحان اسکول کا حصہ بنیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں!

    #RehanSchool #FutureSkills #AI #Coding #DigitalLearning #Education #Pakistan Rehan Allahwala
    🏫 ریحان اسکول — صرف ایک اسکول نہیں، بلکہ مستقبل کی تیاری! 🚀 ریحان اسکول میں طلبہ کو صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ Artificial Intelligence (AI)، Coding، Communication، Freelancing، Entrepreneurship اور دیگر جدید مہارتیں بھی سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ آنے والے دور کے لیے تیار ہوں۔ یہاں عملی سیکھنے، بہترین اساتذہ، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو خوداعتماد اور کامیاب بنایا جاتا ہے۔ ✨ آج ہی ریحان اسکول کا حصہ بنیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں! #RehanSchool #FutureSkills #AI #Coding #DigitalLearning #Education #Pakistan Rehan Allahwala
    0 Reacties 0 aandelen 1159 Views
  • وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 Reacties 0 aandelen 1676 Views
  • گر مجھے وزیر اعظم بنا دیا جاتا میں کم از کم پہلے دس کام کیا کرتا !!!
    سب سے پہلے تو میں ایک قانون بنا کر وزیر اعظم کا عہدہ صدر بنتا اور ایک آرڈیننس جاری کرتا جسکے تحت ہر چار سال بعد عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے باقی پارلیمانی نمائندے ویسے ہی منتخب ہوتے جیسے اب ہوتے ہیں
    ٢. ایک سالہ کریش پروگرام بناتا جس میں صبح ناشتے سے پہلے دو جج ، دوپہر کھانے کے بعد دو صحافی، شام کی چاے پر دو افسر شاہی اور رات کھانے سے پہلے دو سیاستدان پھانسی پر چڑھاتا
    ٣.ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں پولیس کی نفری میں اضافہ ، انکی مراعات اور تنخواہ میں اضافہ جدید مواصلاتی نظام اور دیگر جدید اسلحہ اور انفرا سٹرکچر مہیا کرتا جس میں ٹریفک کا انتظام بھی انکے ہاتھ میں ہوتا اور ٹریفک پولیس کا خاتمہ
    ٤ . پورے ملک میں سی سی تی وی کمرے نصب کرواتا
    ٥. تعلیمی بجٹ کم از کم ٥ گنا یا اس سے بھی زیادہ کرتا قرانی تعلیم تمام سکولوں میں لازمی قرار دی جاتی اور کسی بھی مسلمان طالب علم کو ختم القران کے بغیر نویں جماعت میں داخلے کی اجازت نہ ہوتی تمام مدرسوں کو بند اور مدرسے کے دینی اساتذہ کو سکولوں میں ملازمتیں دی جاتیں ، مزید یہ کہ نرسری سے پانچوں جماعت تک ایک نۓ مضمون اخلاقیات کی تعلیم لازمی قرار دی جاتی جس میں بچوں کو سلام کرنا ، شکریہ ادا کرنا ،، وہ دیگر اخلاقی باتیں سکھائی جاتیں جو مہذب معاشروں کا حصّہ ہیں اسمیں اپنی اسلامی اور علاقائی اقدار کو ملحوظ رکھا جاتا
    ٦. ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک بڑی لائبریری جس میں دنیا جہاں کی زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروا کر رکھواتا
    ٧.تمام تفریح پروگرام ،، فلم ڈرامہ تھیٹر میں لازم ہوتا کہ کہانی یا پیغام کچھ بھی ہو اس میں پاکستانی ، اسلامی تهذیب کا عکس مثال کے طور پر اذان ، مسجد ، کسی کو نماز پڑھتے ہوے ،، کسی کو سلام کرتے ہوے ،، کسی کو شکریہ کہتے ہوے دکھایا جانا لازمی ہوتا
    ٨. رشوت لینے اور دینے والوں کو پکڑنے کے لئے خصو صی ٹاسک فورس تشکیل دیتا جو عام آدمی کی شکل میں مختلف محکموں میں اپنے کام کے لئے جاتے ہیں اسی طرح اسی ٹاسک فورس کے لوگ افسران کی شکل میں بھی ہوتے تو رشوت دینے اور لینے والے دونوں گھبراتے کہ کہیں یہ حکومت کے ٹاسک فورس کے لوگ ہی نہ ہوں رشوت لینے اور دینے والے کو کڑی سزا اور لازمی جیل بھگتنا ہوتی ،، دس روپے کی رشوت پر بھی کم از کم ایک دن کی جیل
    ٩. ججز اور فوج کی کرپشن کا مقدمہ پارلیمنٹ میں چلایا جاتا اور اسکے لئے اپوزیشن اور حکومت سے لوگ لئے جاتے جبکے کمیٹی کے ٢٠ فیصد فوج اور جرنلسٹ میں سے ہوتا -
    ١٠. اور سب آخری کام یہ کرتا کہ بیدار ہو جاتا ،،، نہاتا دھوتا ،، ناشتہ کرتا اور پھر سے نوکری پر چلا جاتا ،،، کیونکہ بچپن میں پڑھا تھا "اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے" ورنہ عجیب عجیب خواب آتے ہیں -
    گر مجھے وزیر اعظم بنا دیا جاتا میں کم از کم پہلے دس کام کیا کرتا !!! سب سے پہلے تو میں ایک قانون بنا کر وزیر اعظم کا عہدہ صدر بنتا اور ایک آرڈیننس جاری کرتا جسکے تحت ہر چار سال بعد عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے باقی پارلیمانی نمائندے ویسے ہی منتخب ہوتے جیسے اب ہوتے ہیں ٢. ایک سالہ کریش پروگرام بناتا جس میں صبح ناشتے سے پہلے دو جج ، دوپہر کھانے کے بعد دو صحافی، شام کی چاے پر دو افسر شاہی اور رات کھانے سے پہلے دو سیاستدان پھانسی پر چڑھاتا ٣.ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں پولیس کی نفری میں اضافہ ، انکی مراعات اور تنخواہ میں اضافہ جدید مواصلاتی نظام اور دیگر جدید اسلحہ اور انفرا سٹرکچر مہیا کرتا جس میں ٹریفک کا انتظام بھی انکے ہاتھ میں ہوتا اور ٹریفک پولیس کا خاتمہ ٤ . پورے ملک میں سی سی تی وی کمرے نصب کرواتا ٥. تعلیمی بجٹ کم از کم ٥ گنا یا اس سے بھی زیادہ کرتا قرانی تعلیم تمام سکولوں میں لازمی قرار دی جاتی اور کسی بھی مسلمان طالب علم کو ختم القران کے بغیر نویں جماعت میں داخلے کی اجازت نہ ہوتی تمام مدرسوں کو بند اور مدرسے کے دینی اساتذہ کو سکولوں میں ملازمتیں دی جاتیں ، مزید یہ کہ نرسری سے پانچوں جماعت تک ایک نۓ مضمون اخلاقیات کی تعلیم لازمی قرار دی جاتی جس میں بچوں کو سلام کرنا ، شکریہ ادا کرنا ،، وہ دیگر اخلاقی باتیں سکھائی جاتیں جو مہذب معاشروں کا حصّہ ہیں اسمیں اپنی اسلامی اور علاقائی اقدار کو ملحوظ رکھا جاتا ٦. ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک بڑی لائبریری جس میں دنیا جہاں کی زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروا کر رکھواتا ٧.تمام تفریح پروگرام ،، فلم ڈرامہ تھیٹر میں لازم ہوتا کہ کہانی یا پیغام کچھ بھی ہو اس میں پاکستانی ، اسلامی تهذیب کا عکس مثال کے طور پر اذان ، مسجد ، کسی کو نماز پڑھتے ہوے ،، کسی کو سلام کرتے ہوے ،، کسی کو شکریہ کہتے ہوے دکھایا جانا لازمی ہوتا ٨. رشوت لینے اور دینے والوں کو پکڑنے کے لئے خصو صی ٹاسک فورس تشکیل دیتا جو عام آدمی کی شکل میں مختلف محکموں میں اپنے کام کے لئے جاتے ہیں اسی طرح اسی ٹاسک فورس کے لوگ افسران کی شکل میں بھی ہوتے تو رشوت دینے اور لینے والے دونوں گھبراتے کہ کہیں یہ حکومت کے ٹاسک فورس کے لوگ ہی نہ ہوں رشوت لینے اور دینے والے کو کڑی سزا اور لازمی جیل بھگتنا ہوتی ،، دس روپے کی رشوت پر بھی کم از کم ایک دن کی جیل ٩. ججز اور فوج کی کرپشن کا مقدمہ پارلیمنٹ میں چلایا جاتا اور اسکے لئے اپوزیشن اور حکومت سے لوگ لئے جاتے جبکے کمیٹی کے ٢٠ فیصد فوج اور جرنلسٹ میں سے ہوتا - ١٠. اور سب آخری کام یہ کرتا کہ بیدار ہو جاتا ،،، نہاتا دھوتا ،، ناشتہ کرتا اور پھر سے نوکری پر چلا جاتا ،،، کیونکہ بچپن میں پڑھا تھا "اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے" ورنہ عجیب عجیب خواب آتے ہیں -
    0 Reacties 0 aandelen 1341 Views
  • ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔

    نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔

    ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

    Via Haider Hassan
    ہمارے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم نے ان تلخ حقائق سے کیا سبق حاصل کیا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، کبھی حوصلہ افزائی نہیں دیکھی، کبھی شاباش نہیں سنی لیکن اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب بچّے اسکول جانے کے قابل ہوۓ تو ان ہی کے اساتذہ سے خود سیکھ کر بچّوں کو جیسا تیسا خود ہی پڑھایا کیوں کہ نہ معاشی حالات ٹیوشن کے متحمّل ہو سکتے تھے نہ ہی اُن دنوں ٹیوشن پڑھنا کوئی قابل ذکر خوبی تھی۔ جب بچّے بڑے ہوئے تو اُن کے بچّوں کو اپنی والدہ کی زبان سے اکثر انگریزی کے عمدہ الفاظ سننے کو ملتے۔ نتیجتاً اُن کے بچّوں میں وہ خلل یا خلا نہیں آ پایا جو کہ ان حالات میں ایک غریب چڑچڑے باپ اور نفسیاتی طور پر ٹوٹی پھوٹی کمزور ماں کے بچّوں میں آ سکتا تھا۔ ہر طرح کا وقت گزر جاتا ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی کھڑے ہوں، ہمارا سیلف امیج بہت مضبوط اور خوبصورت ہونا چاہئے، یہ ہمارے آنے والے کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ Via Haider Hassan
    0 Reacties 0 aandelen 400 Views
  • انٹرنیٹ پر آپ کے پسندیدہ اساتذہ کون ہیں جن کو ہم سب کو فالو کرنا چاہیے؟
    انٹرنیٹ پر آپ کے پسندیدہ اساتذہ کون ہیں جن کو ہم سب کو فالو کرنا چاہیے؟
    0 Reacties 0 aandelen 107 Views
  • دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔

    سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔

    آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔

    ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

    جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

    #education

    Via Tahir Mehmood
    دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔ آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔ جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔ #education Via Tahir Mehmood
    0 Reacties 0 aandelen 86 Views
  • All Madrsa and ngo should do this model !

    یہ موقع ہے قسمت والوں کا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ،

    تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے

    کورس نمبر ایک
    ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس)
    اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ،

    کورس نمبر دو
    وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس
    اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں

    کورس نمبر تین
    بیسک کمپیوٹر کورس
    یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے

    مکمل پیکج
    • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے
    • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے
    • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی
    • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر
    • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی
    • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن
    • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد
    ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں

    ایڈمیشن کی شرائط
    عمر کم از کم اٹھارہ سال
    تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک )
    شناختی کارڈ بنا ہوا ہو
    سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں
    00923013350636
    یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں
    جامعۃ الفنون
    پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی
    سکندر حیات بابا

    Via Sikandar Hayat Baba
    All Madrsa and ngo should do this model ! یہ موقع ہے قسمت والوں کا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ، تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے کورس نمبر ایک ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس) اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ، کورس نمبر دو وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں کورس نمبر تین بیسک کمپیوٹر کورس یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے مکمل پیکج • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں ایڈمیشن کی شرائط عمر کم از کم اٹھارہ سال تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک ) شناختی کارڈ بنا ہوا ہو سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں 00923013350636 یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں جامعۃ الفنون پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی سکندر حیات بابا Via Sikandar Hayat Baba
    0 Reacties 0 aandelen 217 Views
  • یہ موقع ہے قسمت والوں کا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ،

    تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے

    کورس نمبر ایک
    ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس)
    اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ،

    کورس نمبر دو
    وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس
    اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں

    کورس نمبر تین
    بیسک کمپیوٹر کورس
    یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے

    مکمل پیکج
    • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے
    • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے
    • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی
    • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر
    • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی
    • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن
    • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد
    ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں

    ایڈمیشن کی شرائط
    عمر کم از کم اٹھارہ سال
    تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک )
    شناختی کارڈ بنا ہوا ہو
    سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں
    00923013350636
    یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں
    جامعۃ الفنون
    پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی
    سکندر حیات بابا

    Via Sikandar Hayat Baba
    یہ موقع ہے قسمت والوں کا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ، تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے کورس نمبر ایک ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس) اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ، کورس نمبر دو وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں کورس نمبر تین بیسک کمپیوٹر کورس یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے مکمل پیکج • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں ایڈمیشن کی شرائط عمر کم از کم اٹھارہ سال تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک ) شناختی کارڈ بنا ہوا ہو سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں 00923013350636 یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں جامعۃ الفنون پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی سکندر حیات بابا Via Sikandar Hayat Baba
    0 Reacties 0 aandelen 222 Views
  • یہ موقع ہے قسمت والوں کا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ،

    تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا

    یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے

    کورس نمبر ایک
    ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس)
    اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ،

    کورس نمبر دو
    وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس
    اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں

    کورس نمبر تین
    بیسک کمپیوٹر کورس
    یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے

    مکمل پیکج
    • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے
    • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے
    • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی
    • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر
    • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی
    • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن
    • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد
    ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں

    ایڈمیشن کی شرائط
    عمر کم از کم اٹھارہ سال
    تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک )
    شناختی کارڈ بنا ہوا ہو
    سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں
    00923013350636
    یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں
    جامعۃ الفنون
    پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی
    سکندر حیات بابا

    Via Sikandar Hayat Baba
    یہ موقع ہے قسمت والوں کا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تیس دسمبر دوہزار تئیس تک تین ماہ کے لئے آپ میرے ہاں کراچی آکر پڑھ سکتے ہیں ، تین ماہ کے تیس ہزار روپے ادا کیجئے اور آپ کی رہائش ،کھانا پینا ، سیکھنے اور پریکٹس کے لئے کمپیوٹر، ان لمیٹڈ انٹرنیٹ ، حتی کے آپ کے کپڑے بھی دھلے دھلائے دینا سب اکیڈمی کی جانب سے آپ کا کورس ختم ہونے تک مکمل فری ہوگا یکم اکتوبر دوہزار تیئس سے تین کورسز کا آغاز ہوگا ،آپ ان میں سے کسی بھی ایک کورس میں ایڈمیشن لے سکتے ہیں ،اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کورس میں ایڈمیشن لیا جاسکتا ہے. ہر ایک کورس بیسک سے ایڈوانس لیول تک کے آپ واقعی کمانے کے قابل ہوجائیں تین ماہ پر مشتمل ہے کورس نمبر ایک ویب ڈیولپمنٹ (ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، ورڈ پریس) اس کورس میں آپ ہر طرح کی ویب سائٹ بنانا سیکھنگے اور اس کورس کیلئے آپ کو کمپیوٹر کی تھوڑی بہت سمجھ ہونی چاہئے ، کورس نمبر دو وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس کورس اس کورس میں آپ بہت ہی ہائی لیول کے گیجٹس ، کیمروں اور لینسز کا استعمال کرتے ہوئے وڈیو گرافی سکھنگے اور وڈیو ایڈیٹنگ ایڈوانس لیول بھی ،اس کورس کو کرنے کے بعد آپ ہر طرح کی وڈیوز بناسکتے ہیں اور انہیں بخوبی ایڈٹ کرسکتے ہیں کورس نمبر تین بیسک کمپیوٹر کورس یہ کورس ان طلباء کے لئے ہے جنھیں کمپیوٹر کے استعمال کا زیادہ تجربہ نہیں اور وہ اب اسے سیکھنے و سمجھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ،اس کورس میں آپ ایم ایس ورڈ ،ایم ایس آفس اور پاور پوائنٹ جیسے ٹولز کو سمجھنگے ، اس کورس کو کرنے کے بعد آپ پر اعتماد طریقے سے کمپیوٹر کی فیلڈ میں اپنے متعلق بہتر فیصلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیںگے مکمل پیکج • تین ماہ کی ریہائش : اکیڈمی کی جانب سے • صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا : اکیڈمی کی جانب سے • چوبیس گھنٹے پڑھنے پڑھانے کا ماحول اور اساتذہ کی دستیابی • پڑھنے اور پریکٹس کے لئے اکیڈمی کی جانب سے آئی سیون سکس جنریشن کمپیوٹر • چوبیس گھنٹے بجلی کی یقینی فراہمی • اکیڈمی کی ہی جانب سے چوبیس گھنٹے پچاس ایم بی سپیڈ کے ساتھ ان لمیٹیڈ ڈاؤنلوڈ انٹرنیٹ کنکشن • پورا مہینہ دھلے دھلائے استری کئے ہوئے کپڑوں کی فراہمی یعنی آپ اس فکر سے آزاد ویسے اس کورس کی فیس ان تمام تر سہولیات کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن جامعتہ الفنون اکیڈمی کا مقصد تعلیم کا کاروبار کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد تک جدید علوم کی ترویج ہے لہٰذا آپ کی جانب سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے اکیڈمی ادا کرے گی اور آپ صرف تیس ہزار روپے فیس ادا کرکے ان ناقابل یقین خدمات اور فوائد کے ساتھ اپنے مطلوبہ کورس میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں ایڈمیشن کی شرائط عمر کم از کم اٹھارہ سال تعلیم کم از کم مڈل (آٹھویں تک ) شناختی کارڈ بنا ہوا ہو سیٹیں محدود ہیں لہٰذا ایڈمیشن پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہونگے ، ایڈمیشن کے لئے آپ مجھے درج ذیل نمبر پر وٹس اپ کرسکتے ہیں 00923013350636 یا مجھے وٹس اپ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کو بس کلک کردیں جامعۃ الفنون پلاٹ ایل دو سو پچاسی سیکٹر سکس اے مشرف کالونی ہاکس بے کراچی سکندر حیات بابا Via Sikandar Hayat Baba
    0 Reacties 0 aandelen 208 Views
Zoekresultaten