• مجھتا ہے حوادث ہیں سنانے کیلئے​
    یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کیلئے​

    تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب​
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے​

    کامیابی تو ہوا کرتی ہے ناکامیِ دلیل​
    رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کیلئے​

    نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر​
    ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کو بچانے کیلئے​

    استقامت سے اٹھا وہ نالۂ آہ و فغاں​
    جو کہ کافی ہو درِ لندن ہلانے کیلئے​

    آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کچھ پروا نہیں​
    وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کیلئے​

    (صادق حسین ایڈووکیٹ)​
    (کتاب "تنقیدی افق" از ذوالفقاراحسن سے نقل کیا گیا )
    مجھتا ہے حوادث ہیں سنانے کیلئے​ یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کیلئے​ ​ تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب​ یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے​ ​ کامیابی تو ہوا کرتی ہے ناکامیِ دلیل​ رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کیلئے​ ​ نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر​ ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کو بچانے کیلئے​ ​ استقامت سے اٹھا وہ نالۂ آہ و فغاں​ جو کہ کافی ہو درِ لندن ہلانے کیلئے​ ​ آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کچھ پروا نہیں​ وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کیلئے​ ​ (صادق حسین ایڈووکیٹ)​ (کتاب "تنقیدی افق" از ذوالفقاراحسن سے نقل کیا گیا )
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 98 Views
  • اللہ پاک! ہمیں بڑے اور عظیم مقاصد کے لئے ہمت اور استقامت عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنی کامیابیوں کی طرف جذب کر، اور ہمیں مشکلات کا سامنا کرتے وقت صبر اور ثابت قدمی کی روشنی بخش۔ اے اللہ! ہمیں اپنے اہداف کے حصول کے لئے بے تکلف محنت کرنے کی قوت دے، اور ہماری کوششوں کو قبول کرتے ہوئے ہمیں کامیابی کے دروازے کھول۔ آمین
    اللہ پاک! ہمیں بڑے اور عظیم مقاصد کے لئے ہمت اور استقامت عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنی کامیابیوں کی طرف جذب کر، اور ہمیں مشکلات کا سامنا کرتے وقت صبر اور ثابت قدمی کی روشنی بخش۔ اے اللہ! ہمیں اپنے اہداف کے حصول کے لئے بے تکلف محنت کرنے کی قوت دے، اور ہماری کوششوں کو قبول کرتے ہوئے ہمیں کامیابی کے دروازے کھول۔ آمین
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 180 Views
  • اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں

    ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔
    گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔
    اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔
    روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان
    کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔

    مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
    ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔
    یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔ گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔ اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔ روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔ مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔ یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 445 Views
  • ہماری زندگی کے سفر میں، صبر اور استقامت ایسی خصوصیات ہیں جو ہمیں سب سے مشکل وقتوں سے گزرنے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن میں سورہ البقرہ (2:153) میں یہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنی چاہئے۔ صبر کا مطلب صرف انتظار نہیں ہوتا، بلکہ انتظار کرتے ہوئے مثبت رویہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلووں میں اس اصول کو اپنانا ہوگا، اپنے الفاظ، اعمال، اور نیتوں کے ذریعے۔

    قانون اور نظم و ضبط کی احترام گہری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اس اصول کی تائید قرآن کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے (سورہ البقرہ، 2:11)۔ یہ کہنے کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے کمیونٹی کے قوانین کا احترام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اور ہمیشہ آرام اور امن کی طرف کوشش کرنی ہوگی۔

    جب ہم بحث میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے عقائد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، تو
    ہمیں یہ کام صبر، سمجھ بوجھ اور اپنے کمیونٹی کے آمن و سکون کے لئے احترام کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہمیں امن اور اتحاد کے مسئول بننا چاہئے، ہر روز اپنی دنیا کو تھوڑا بہتر بنانے کے لئے۔

    آئیے ہم سب مل کر یہی سیکھیں اور اپنائیں۔

    #صبر #احترام #آرام #قرآنی_تعلیمات
    🌟 ہماری زندگی کے سفر میں، صبر اور استقامت ایسی خصوصیات ہیں جو ہمیں سب سے مشکل وقتوں سے گزرنے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن میں سورہ البقرہ (2:153) میں یہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنی چاہئے۔ صبر کا مطلب صرف انتظار نہیں ہوتا، بلکہ انتظار کرتے ہوئے مثبت رویہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام پہلووں میں اس اصول کو اپنانا ہوگا، اپنے الفاظ، اعمال، اور نیتوں کے ذریعے۔ 🌍 قانون اور نظم و ضبط کی احترام گہری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اس اصول کی تائید قرآن کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتا ہے (سورہ البقرہ، 2:11)۔ یہ کہنے کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے کمیونٹی کے قوانین کا احترام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اور ہمیشہ آرام اور امن کی طرف کوشش کرنی ہوگی۔ 🕊️ جب ہم بحث میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے عقائد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، تو ہمیں یہ کام صبر، سمجھ بوجھ اور اپنے کمیونٹی کے آمن و سکون کے لئے احترام کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہمیں امن اور اتحاد کے مسئول بننا چاہئے، ہر روز اپنی دنیا کو تھوڑا بہتر بنانے کے لئے۔ آئیے ہم سب مل کر یہی سیکھیں اور اپنائیں۔ 🙏🌍💖 #صبر #احترام #آرام #قرآنی_تعلیمات
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 388 Views
  • توفیق ہے ہر کام کی کیا تم جب کچھ بھی کام نہ کرے، تو ہر ممکن کوشش کریں۔

    ہر راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں اور زندگی میں مشکلات آ سکتی ہیں، مگر جب کچھ بھی کام کرنا ممکن نہ لگے تو یہ کسی بھی مقام میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو بھی مشکلات ہیں، ہمیں اپنی محنت، حکومت اور معاشرتی اجتماعی ہم آہنگی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔

    یاد ہے وہ قصہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آتش زبانی کی سزا دینے کا حکم دیا؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں اپنی قربانی دی، اور جب وہ آتش میں گرایا گیا، اللہ نے آتش کو سرد و صاف بنا دیا۔ اس معجزانہ واقعے میں ایک چھوٹی سی پرندہ (ہوپوئے) نے اپنے چنگل سے پانی اٹھا کر آگ کو بجھانے میں مدد کی۔

    اس قصے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب تم مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہو، تو تمہیں بھی اپنی کوششوں میں یقین رکھنا چاہیے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کوشش میں برکت ہوتی ہے۔

    اللہ ہمیں حکمت اور استقامت دے تاکہ ہم مشکلات کا سامنا کریں اور ملک کو ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں۔

    #محنت #استقامت #پاکستان_زندہ_باد
    🌟 توفیق ہے ہر کام کی کیا تم جب کچھ بھی کام نہ کرے، تو ہر ممکن کوشش کریں۔ 🌟 ہر راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں اور زندگی میں مشکلات آ سکتی ہیں، مگر جب کچھ بھی کام کرنا ممکن نہ لگے تو یہ کسی بھی مقام میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو بھی مشکلات ہیں، ہمیں اپنی محنت، حکومت اور معاشرتی اجتماعی ہم آہنگی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ یاد ہے وہ قصہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آتش زبانی کی سزا دینے کا حکم دیا؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں اپنی قربانی دی، اور جب وہ آتش میں گرایا گیا، اللہ نے آتش کو سرد و صاف بنا دیا۔ اس معجزانہ واقعے میں ایک چھوٹی سی پرندہ (ہوپوئے) نے اپنے چنگل سے پانی اٹھا کر آگ کو بجھانے میں مدد کی۔ اس قصے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب تم مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہو، تو تمہیں بھی اپنی کوششوں میں یقین رکھنا چاہیے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کوشش میں برکت ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں حکمت اور استقامت دے تاکہ ہم مشکلات کا سامنا کریں اور ملک کو ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں۔ #محنت #استقامت #پاکستان_زندہ_باد 🇵🇰❤️
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 384 Views
  • اے اللہ!
    میری دعاؤں کو قبول فرما اور میرے جذبات کو میرے قابو میں رکھ۔ مجھے ایسا حوصلہ اور سمجھ عطا کر کہ میں اپنی زندگی میں توازن قائم رکھ سکوں اور ہمیشہ سیدھے راستے پر چل سکوں۔ میرے دل و دماغ کو سکون اور استقامت سے بھر دے تاکہ میں ہر حالت میں تیرے احکام کے مطابق زندگی گزار سکوں۔ آمین۔
    اے اللہ! میری دعاؤں کو قبول فرما اور میرے جذبات کو میرے قابو میں رکھ۔ مجھے ایسا حوصلہ اور سمجھ عطا کر کہ میں اپنی زندگی میں توازن قائم رکھ سکوں اور ہمیشہ سیدھے راستے پر چل سکوں۔ میرے دل و دماغ کو سکون اور استقامت سے بھر دے تاکہ میں ہر حالت میں تیرے احکام کے مطابق زندگی گزار سکوں۔ آمین۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 116 Views
  • “جب اوکھلی میں سر دیا تو مسلوں سے کیا ڈرنا!”

    یہ پرانی مگر حکمت بھری کہاوت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم کسی بڑے کام میں قدم رکھ چکے ہوں، تو اس کی مشکلات اور چیلنجز سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا بہادری سے کرنا چاہیے۔

    اوکھلی ایک روایتی برتن ہے جس میں اناج یا مصالحے کو کوٹا جاتا ہے، اور مسل وہ بھاری ڈنڈا ہوتا ہے جو اسے پیسنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی مرضی سے اوکھلی میں سر دے چکا ہو، تو مسلوں کی مار سے گھبرانے کا فائدہ نہیں – اب راستہ بس حوصلے، ہمت اور استقامت کا ہے!

    زندگی میں جب آپ کسی بڑے فیصلے کی دہلیز پر ہوں، تو مشکلات ضرور آئیں گی، لیکن وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پس، اگر کسی کام کی شروعات کر چکے ہو، تو پھر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا – آگے بڑھو، سیکھو، اور کامیابی حاصل کرو!

    آپ کے خیال میں اس کہاوت کی سب سے بہترین مثال کیا ہو سکتی ہے؟ تبصرے میں اپنی رائے دیں!
    “جب اوکھلی میں سر دیا تو مسلوں سے کیا ڈرنا!” یہ پرانی مگر حکمت بھری کہاوت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم کسی بڑے کام میں قدم رکھ چکے ہوں، تو اس کی مشکلات اور چیلنجز سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا بہادری سے کرنا چاہیے۔ اوکھلی ایک روایتی برتن ہے جس میں اناج یا مصالحے کو کوٹا جاتا ہے، اور مسل وہ بھاری ڈنڈا ہوتا ہے جو اسے پیسنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی مرضی سے اوکھلی میں سر دے چکا ہو، تو مسلوں کی مار سے گھبرانے کا فائدہ نہیں – اب راستہ بس حوصلے، ہمت اور استقامت کا ہے! زندگی میں جب آپ کسی بڑے فیصلے کی دہلیز پر ہوں، تو مشکلات ضرور آئیں گی، لیکن وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پس، اگر کسی کام کی شروعات کر چکے ہو، تو پھر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا – آگے بڑھو، سیکھو، اور کامیابی حاصل کرو! آپ کے خیال میں اس کہاوت کی سب سے بہترین مثال کیا ہو سکتی ہے؟ تبصرے میں اپنی رائے دیں! ⬇️
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 104 Views
  • 2 ارب سے زائد مسلمان: اتحاد اور ترقی کی عالمی قوت!

    کیا آپ جانتے ہیں؟ دنیا میں 2 ارب سے زائد مسلمان ہیں، جو عالمی آبادی کا 25% سے زیادہ بنتے ہیں! ان میں سے تقریباً 236 ملین (23 کروڑ 60 لاکھ) مسلمان انگریزی بولتے ہیں—یہ تعداد جرمنی (83M)، فرانس (68M)، برطانیہ (67M)، اور کینیڈا (40M) کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے!

    چاہے جکارتہ کی مصروف گلیاں ہوں یا سلیکن ویلی کے جدید تحقیقی مراکز، مسلمان رحمدلی، ذہانت، اور استقامت کے ساتھ دنیا کو سنوار رہے ہیں۔ ان کی آوازیں دنیا بھر میں مکالمے، ہم آہنگی، اور روشن مستقبل کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے گونج رہی ہیں۔

    آئیں، اس عظیم عالمی برادری کا جشن منائیں جو امن، اتحاد اور ترقی کی علامت ہے!
    دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے جُڑیں، سیکھیں، ترقی کریں اور ایک امت بنیں! سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مسلمانوں سے رابطہ کریں، اپنے تجربات شیئر کریں اور ایک دوسرے سے علم حاصل کریں تاکہ ہم سب ایک مضبوط اور متحد امت بن سکیں۔

    #مسلمان_دنیا #تنوع #اتحاد #عالمی_اثرات #ترقی #امت_واحدہ
    🌍 2 ارب سے زائد مسلمان: اتحاد اور ترقی کی عالمی قوت! 🌟 کیا آپ جانتے ہیں؟ دنیا میں 2 ارب سے زائد مسلمان ہیں، جو عالمی آبادی کا 25% سے زیادہ بنتے ہیں! 🌏✨ ان میں سے تقریباً 236 ملین (23 کروڑ 60 لاکھ) مسلمان انگریزی بولتے ہیں—یہ تعداد جرمنی (83M)، فرانس (68M)، برطانیہ (67M)، اور کینیڈا (40M) کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے! 🇩🇪🇫🇷🇬🇧🇨🇦 چاہے جکارتہ کی مصروف گلیاں ہوں یا سلیکن ویلی کے جدید تحقیقی مراکز، مسلمان رحمدلی، ذہانت، اور استقامت کے ساتھ دنیا کو سنوار رہے ہیں۔ 🏆💡 ان کی آوازیں دنیا بھر میں مکالمے، ہم آہنگی، اور روشن مستقبل کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے گونج رہی ہیں۔ آئیں، اس عظیم عالمی برادری کا جشن منائیں جو امن، اتحاد اور ترقی کی علامت ہے! 🤝💙 🌍 دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے جُڑیں، سیکھیں، ترقی کریں اور ایک امت بنیں! 🤲✨ سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مسلمانوں سے رابطہ کریں، اپنے تجربات شیئر کریں اور ایک دوسرے سے علم حاصل کریں تاکہ ہم سب ایک مضبوط اور متحد امت بن سکیں۔ #مسلمان_دنیا #تنوع #اتحاد #عالمی_اثرات #ترقی #امت_واحدہ
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 432 Views
  • **استقامت (Endurance)**

    دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم چیز اگر کوئی ہے تو وہ **استقامت** ہے۔
    استقامت کا مطلب ہے مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہارنا، صبر کرنا، اور اپنا سفر جاری رکھنا۔

    جب انسان کوئی بڑا مقصد طے کرتا ہے، تو راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں۔ کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، کبھی لوگ حوصلہ توڑ دیتے ہیں، کبھی خود سے بھی امید ختم ہونے لگتی ہے۔ مگر جو شخص استقامت دکھاتا ہے، وہ سب کچھ برداشت کر کے آگے بڑھتا ہے۔ یہی برداشت اور تسلسل ایک عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔

    مثلاً ایک طالب علم اگر روز تھوڑا تھوڑا پڑھتا رہے، چاہے کتنا ہی مشکل نصاب ہو، آخرکار وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک مزدور اگر روز تھوڑا تھوڑا کام کرے تو آخرکار وہ اپنا گھر بنا لیتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان اگر روز اپنے خواب کے لیے کام کرے تو ایک دن وہ خواب حقیقت بن جاتا ہے۔

    استقامت صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طاقت بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ وقتی ناکامی کوئی ہار نہیں بلکہ ایک سبق ہے۔
    دنیا کے تمام بڑے لوگ، چاہے وہ سائنسدان ہوں، استاد ہوں یا کاروباری شخصیت، سب میں ایک چیز مشترک تھی — **استقامت**۔

    **ریحان اسکول کے 1000 لیڈرز کے لیے یہ صفت سب سے ضروری ہے۔**
    جو لوگ صرف ایک سال میں ہار مان کر چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنے تین بڑے مقاصد —
    ایک ملین ڈالر کا اسٹارٹ اپ،
    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام،
    اور ایک ملین لوگوں پر مثبت اثر —
    کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔

    کیونکہ یہ تینوں خواب صرف انہی کے لیے ہیں جو **چار سال تک استقامت سے** اپنے مقصد پر قائم رہیں۔
    جو روز سیکھتے رہیں، روز گرتے اٹھتے رہیں، اور کبھی رکیں نہیں۔

    آخر میں یاد رکھیں:
    **جو انسان تھک کر رک گیا، وہ منزل سے پہلے ہار گیا۔
    جو انسان تھک کر بھی چلتا رہا، وہی جیت گیا۔**

    استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے،
    اور **ریحان اسکول کے لیڈرز** کے لیے یہی کنجی ان کے خوابوں، ان کی دولت، اور ان کے اثر کی بنیاد ہے۔
    **استقامت (Endurance)** دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم چیز اگر کوئی ہے تو وہ **استقامت** ہے۔ استقامت کا مطلب ہے مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہارنا، صبر کرنا، اور اپنا سفر جاری رکھنا۔ جب انسان کوئی بڑا مقصد طے کرتا ہے، تو راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں۔ کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، کبھی لوگ حوصلہ توڑ دیتے ہیں، کبھی خود سے بھی امید ختم ہونے لگتی ہے۔ مگر جو شخص استقامت دکھاتا ہے، وہ سب کچھ برداشت کر کے آگے بڑھتا ہے۔ یہی برداشت اور تسلسل ایک عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ مثلاً ایک طالب علم اگر روز تھوڑا تھوڑا پڑھتا رہے، چاہے کتنا ہی مشکل نصاب ہو، آخرکار وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک مزدور اگر روز تھوڑا تھوڑا کام کرے تو آخرکار وہ اپنا گھر بنا لیتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان اگر روز اپنے خواب کے لیے کام کرے تو ایک دن وہ خواب حقیقت بن جاتا ہے۔ استقامت صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طاقت بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ وقتی ناکامی کوئی ہار نہیں بلکہ ایک سبق ہے۔ دنیا کے تمام بڑے لوگ، چاہے وہ سائنسدان ہوں، استاد ہوں یا کاروباری شخصیت، سب میں ایک چیز مشترک تھی — **استقامت**۔ **ریحان اسکول کے 1000 لیڈرز کے لیے یہ صفت سب سے ضروری ہے۔** جو لوگ صرف ایک سال میں ہار مان کر چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنے تین بڑے مقاصد — 1️⃣ ایک ملین ڈالر کا اسٹارٹ اپ، 2️⃣ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام، 3️⃣ اور ایک ملین لوگوں پر مثبت اثر — کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ تینوں خواب صرف انہی کے لیے ہیں جو **چار سال تک استقامت سے** اپنے مقصد پر قائم رہیں۔ جو روز سیکھتے رہیں، روز گرتے اٹھتے رہیں، اور کبھی رکیں نہیں۔ آخر میں یاد رکھیں: **جو انسان تھک کر رک گیا، وہ منزل سے پہلے ہار گیا۔ جو انسان تھک کر بھی چلتا رہا، وہی جیت گیا۔** استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے، اور **ریحان اسکول کے لیڈرز** کے لیے یہی کنجی ان کے خوابوں، ان کی دولت، اور ان کے اثر کی بنیاد ہے۔ 🌟
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 183 Views
  • ،،،،،، ایک باپ کی گواہی ،،،،،،
    ایک روشن مستقبل کی امید
    کافی عرصے سے میں ریحان اللہ والا صاحب کی ویڈیوز وقتاً فوقتاً دیکھتا رہا۔
    دیکھتا نہیں تھا، بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔
    سوچتا تھا کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا؟
    ہمارے بچوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟
    اور کیا ہماری روایتی تعلیم واقعی آنے والے ڈیجیٹل اور AI کے دور کے لیے کافی ہے؟
    پھر ایک دن دل نے کہا:
    صرف سننے سے کچھ نہیں بدلے گا،
    اب قدم اٹھانے کا وقت ہے۔
    الحمدللہ!
    میں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو مریم اسماعیل مدرسہ اینڈ اکیڈمی (ریحان اللہ والا اسکول سسٹم) میں داخل کروا دیا۔
    آج الحمدللہ دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں ، اور یہ دو ہفتے میرے لیے ایک باپ کی حیثیت سے بے حد اطمینان لے کر آئے ہیں۔
    میرے بچے خوش ہیں…
    واقعی خوش ہیں۔
    روز صبح ساڑھے آٹھ بجے شوق سے اسکول جاتی ہیں،
    اور شام پانچ بجے میں خود لینے جاتا ہوں۔
    راستے میں ابھی چند قدم ہی چلتے ہیں کہ تینوں ایک ساتھ بول پڑتی ہیں:

    “ابو آج ہم نے یہ سیکھا!”
    “نہیں ابو پہلے میں بتاؤں گی!”
    “نہیں پہلے میں!”

    تینوں کی آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں،
    اور میں مسکرا کر کہتا ہوں:
    “اچھا ٹھہرو… باری باری بتانا”
    اس لمحے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ:
    تعلیم بوجھ نہیں رہی
    سیکھنا خوشی بن گیا ہے
    علم اب شوق سے حاصل ہو رہا ہے
    یہ وہ نظامِ تعلیم ہے جہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں، پُراعتماد ہیں
    جہاں سوال کرنا جرم نہیں
    جہاں آنے والے کل کے لیے سوچنے والے ذہن تیار کیے جا رہے ہیں۔
    میں دل کی گہرائی سے
    اہلِ علاقہ، اہلِ کراچی اور اہلِ پاکستان سے گزارش کرتا ہوں:
    اگر آپ واقعی اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں،
    تو اس نظامِ تعلیم کو ضرور دیکھیں، ضرور سمجھیں۔
    ان شاء اللہ، ان شاء اللہ
    چھ مہینے کے اندر آپ خود اپنے بچوں کے رویّے، سوچ اور سیکھنے میں واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔
    آخر میں دل سے دعا ہے ،،،

    اللہ تعالیٰ ریحان اللہ والا صاحب کو صحت، ہمت اور استقامت عطا فرمائے،
    ان کی اس تعلیمی جدوجہد کو قبول فرمائے،
    اور ان کے ذریعے پاکستان کے بچوں کو ایسا مستقبل دے
    جس میں علم بھی ہو، کردار بھی، اور خودداری بھی۔
    آمین یا رب العالمین
    ، ایک شکر گزار باپ

    Abdul Malik Amb
    ،،،،،، ایک باپ کی گواہی ،،،،،، ایک روشن مستقبل کی امید کافی عرصے سے میں ریحان اللہ والا صاحب کی ویڈیوز وقتاً فوقتاً دیکھتا رہا۔ دیکھتا نہیں تھا، بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ سوچتا تھا کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا؟ ہمارے بچوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟ اور کیا ہماری روایتی تعلیم واقعی آنے والے ڈیجیٹل اور AI کے دور کے لیے کافی ہے؟ پھر ایک دن دل نے کہا: صرف سننے سے کچھ نہیں بدلے گا، اب قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ الحمدللہ! میں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو مریم اسماعیل مدرسہ اینڈ اکیڈمی (ریحان اللہ والا اسکول سسٹم) میں داخل کروا دیا۔ آج الحمدللہ دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں ، اور یہ دو ہفتے میرے لیے ایک باپ کی حیثیت سے بے حد اطمینان لے کر آئے ہیں۔ میرے بچے خوش ہیں… واقعی خوش ہیں۔ روز صبح ساڑھے آٹھ بجے شوق سے اسکول جاتی ہیں، اور شام پانچ بجے میں خود لینے جاتا ہوں۔ راستے میں ابھی چند قدم ہی چلتے ہیں کہ تینوں ایک ساتھ بول پڑتی ہیں: “ابو آج ہم نے یہ سیکھا!” “نہیں ابو پہلے میں بتاؤں گی!” “نہیں پہلے میں!” تینوں کی آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں، اور میں مسکرا کر کہتا ہوں: “اچھا ٹھہرو… باری باری بتانا” اس لمحے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ: 📌 تعلیم بوجھ نہیں رہی 📌 سیکھنا خوشی بن گیا ہے 📌 علم اب شوق سے حاصل ہو رہا ہے یہ وہ نظامِ تعلیم ہے جہاں بچے ڈرے ہوئے نہیں، پُراعتماد ہیں جہاں سوال کرنا جرم نہیں جہاں آنے والے کل کے لیے سوچنے والے ذہن تیار کیے جا رہے ہیں۔ میں دل کی گہرائی سے اہلِ علاقہ، اہلِ کراچی اور اہلِ پاکستان سے گزارش کرتا ہوں: اگر آپ واقعی اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں، تو اس نظامِ تعلیم کو ضرور دیکھیں، ضرور سمجھیں۔ ان شاء اللہ، ان شاء اللہ چھ مہینے کے اندر آپ خود اپنے بچوں کے رویّے، سوچ اور سیکھنے میں واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔ آخر میں دل سے دعا ہے ،،، اللہ تعالیٰ ریحان اللہ والا صاحب کو صحت، ہمت اور استقامت عطا فرمائے، ان کی اس تعلیمی جدوجہد کو قبول فرمائے، اور ان کے ذریعے پاکستان کے بچوں کو ایسا مستقبل دے جس میں علم بھی ہو، کردار بھی، اور خودداری بھی۔ آمین یا رب العالمین ، ایک شکر گزار باپ Abdul Malik Amb
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 135 Views
Αναζήτηση αποτελεσμάτων