• سر آپ اتنا کچھ کرتے ہیں لوگوں کے لیے، میں ایک گزارش کرتی ہوں اسلام آباد میں ایک ایسا ادارہ تشکیل دیں جہاں پر کمپیوٹر کورسز کروائے جائیں صرف پرسن ود ڈس ایبلیٹیز کے لیے. جہاں پر ریمپس بنے ہوں تا کہ وھیل چیئر گزر سکے، میں چار سال سے دھکے کھا رہی ہوں، کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو ہمارے لئے ہو، تیسری چوتھی منزل پر ایک وھیل چیئر یوزر کیسے جائے؟ میں یہاں پر پاگل ہو جاؤں گی.. تعلیم کا حق تو سب کے لیے ہے، سہولیات کیوں نہیں فراہم کی جاتی معذور افراد کو.. میں نے گریجویشن بھی بہت مشکل سے کیا، کئی چوٹیں کھائیں، میرے کالج میں ریمپس بنے ہوئے تھے لیکن وہ بہت تنگ تھے بلکہ ابھی بھی ہیں.
    میرا قدم قدم پر میری بہن عالین نے ساتھ دیا، کالج لے کر جانا بلکہ اس کے اندر بھی. وہ تو شکر ہے کہ ہم دونوں نے ایک ساتھ ہی کالج سے گریجویشن کیا. اور ان ریمپس میں وھیل چیئر کا گزرنا ایک اور امتحان کو عبور کرنے کے مترادف تھا..

    Maheen Khadija
    سر آپ اتنا کچھ کرتے ہیں لوگوں کے لیے، میں ایک گزارش کرتی ہوں اسلام آباد میں ایک ایسا ادارہ تشکیل دیں جہاں پر کمپیوٹر کورسز کروائے جائیں صرف پرسن ود ڈس ایبلیٹیز کے لیے. جہاں پر ریمپس بنے ہوں تا کہ وھیل چیئر گزر سکے، میں چار سال سے دھکے کھا رہی ہوں، کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو ہمارے لئے ہو، تیسری چوتھی منزل پر ایک وھیل چیئر یوزر کیسے جائے؟ میں یہاں پر پاگل ہو جاؤں گی.. تعلیم کا حق تو سب کے لیے ہے، سہولیات کیوں نہیں فراہم کی جاتی معذور افراد کو.. میں نے گریجویشن بھی بہت مشکل سے کیا، کئی چوٹیں کھائیں، میرے کالج میں ریمپس بنے ہوئے تھے لیکن وہ بہت تنگ تھے بلکہ ابھی بھی ہیں. میرا قدم قدم پر میری بہن عالین نے ساتھ دیا، کالج لے کر جانا بلکہ اس کے اندر بھی. وہ تو شکر ہے کہ ہم دونوں نے ایک ساتھ ہی کالج سے گریجویشن کیا. اور ان ریمپس میں وھیل چیئر کا گزرنا ایک اور امتحان کو عبور کرنے کے مترادف تھا.. Maheen Khadija
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 200 Views
  • نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے®

    آج کھلے عام میں اعلان کرتا ہوں

    کوئی بھی کسی کی بھی طرف سے سوشل میڈیا پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کوئی غلط پوسٹ نظر آیا یا کہیں غلط کمنٹس وغیرہ وغیرہ نظر آیا

    تو میں اس بندے کا مکمل ڈیٹا یعنی مکمل انفارمیشن آئی ایس پی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد
    یا جس علاقے سے وہ نیٹ یوز کر ریے ہیں اسی علاقے کے برانچ آفس میں اطلاع دیا جائے گا
    یا آئی ایس پی آر کے جی میل ایڈریس پر ارسال کر دیا جائے گا بعد میں واویلا مت کرنا یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ میرے ساتھ ظلم ہوا وغیرہ وغیرہ
    آئی ایس آئی آپ کے آس بھی ہے پاس بھی ہے قریب بھی ہے قریب تر بھی ہے ہمسایہ بھی ہے محلے کا بھی ہے دھوبی بھی ہے درزی بھی نائی بھی ہے ریڑھی والے بھی چائے والے بھی ہے دودھ اور چھولے والے بھی موچی بھی پاگل بھی ہے مجنون بھی بیکاری بھی ہے قلم دان بھی ہے اینکر بھی روپوٹرز بھی ہے اسکول کے چوکیدار بھی ہے کالج کے پرنسپل بھی بلدیہ میں خاکروب بھی ہے کسی امیر ذادے کے گھر پر خانسامان و چوکیدار بھی چوک پر بوٹ پالش والے بھی ہے بلتی چورنگ کھاٹی بھیجنے والے بھی ہے خلمنی فاٹین بھیجنے والے بھی ہے گھر بنانے والے مستری و لیبر بھی ہے

    بچ کر رہنا ورنہ سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھو گے
    ابھی تو سیریل باقی ہے

    بس دھیان رکھنا سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت ایک پاک فوج دوسرا آئی ایس آئی ان پر کبھی بھی غلط پروپیگنڈا من کھڑت الزامات لگانے سے پہلے سو بار سوچ لینا
    Copy
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے® آج کھلے عام میں اعلان کرتا ہوں کوئی بھی کسی کی بھی طرف سے سوشل میڈیا پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کوئی غلط پوسٹ نظر آیا یا کہیں غلط کمنٹس وغیرہ وغیرہ نظر آیا تو میں اس بندے کا مکمل ڈیٹا یعنی مکمل انفارمیشن آئی ایس پی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد یا جس علاقے سے وہ نیٹ یوز کر ریے ہیں اسی علاقے کے برانچ آفس میں اطلاع دیا جائے گا یا آئی ایس پی آر کے جی میل ایڈریس پر ارسال کر دیا جائے گا بعد میں واویلا مت کرنا یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ میرے ساتھ ظلم ہوا وغیرہ وغیرہ آئی ایس آئی آپ کے آس بھی ہے پاس بھی ہے قریب بھی ہے قریب تر بھی ہے ہمسایہ بھی ہے محلے کا بھی ہے دھوبی بھی ہے درزی بھی نائی بھی ہے ریڑھی والے بھی چائے والے بھی ہے دودھ اور چھولے والے بھی موچی بھی پاگل بھی ہے مجنون بھی بیکاری بھی ہے قلم دان بھی ہے اینکر بھی روپوٹرز بھی ہے اسکول کے چوکیدار بھی ہے کالج کے پرنسپل بھی بلدیہ میں خاکروب بھی ہے کسی امیر ذادے کے گھر پر خانسامان و چوکیدار بھی چوک پر بوٹ پالش والے بھی ہے بلتی چورنگ کھاٹی بھیجنے والے بھی ہے خلمنی فاٹین بھیجنے والے بھی ہے گھر بنانے والے مستری و لیبر بھی ہے بچ کر رہنا ورنہ سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ابھی تو سیریل باقی ہے بس دھیان رکھنا سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت ایک پاک فوج دوسرا آئی ایس آئی ان پر کبھی بھی غلط پروپیگنڈا من کھڑت الزامات لگانے سے پہلے سو بار سوچ لینا Copy
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 281 Views
  • Article by Ved Pratap Vaidik

    عمران پاک کی زیادہ بہتری کیلئے سوچیں
    18/03/2021
    ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک
    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو آسان بنانے کے لئے پہل کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیکیورٹی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتا ہے تو وسط ایشیاءکی پانچ ممالک تک پہنچنے کے لئے اسے بڑی سہولت ملے گی ، لیکن یہ تب ہوگا جب بھارت کشمیر میں رائے شماری کے لئے تیار ہوگا .... عمران خان کو شاید یہ یاد نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود اقوام متحدہ کے ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکاہے۔ پاکستان نے خود اس کے لئے کبھی تیاری نہیں کی۔ اس تجویز کے آغاز میں ، یہ کہا گیا ہے کہ پاک فوج اور اہلکاروں کو مقبوضہ کشمیر سے مکمل طور پر نکل جانا چاہئے۔ کیا گزشتہ 70 سالوں میں پاکستانی حکومت نے کبھی بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کی ہے؟
    اسلام آباد میں ، جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مجھ سے رائے شماری کے بارے میں بات کی تھی تو میں نے ان سے یہی سوال کیاتھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔ میں وزیر اعظم نواز شریف ، جنرل مشرف اور بہت سے دوسرے صدور اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے پوچھتا تھا کہ کیا آپ کشمیریوں کو تیسرا آپشن یعنی آزادی دینے پر راضی ہیں ، تووہ کہتے تھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو اس کا الحاق پاکستان میں ہوگا یا ہندوستان میں! کیا عمران خان تیسرے آپشن کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ریفرنڈم کا معاملہ بے معنی ہے۔
    کشمیر یقینی طور پر ایک مسئلہ ہے۔ اس کو مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اٹل جی ، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور جنرل مشرف نے چار نکاتی راستہ نکالاتھا۔ عمران کیوں اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے؟ جہاں تک وسط ایشیاءکی اقوام سے ہندوستان کو فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے تو ، عمران بالکل ٹھیک ہیں۔ اگر پاک بھارت تعلقات ہموار ہوجائیں تو ہندوستان کو پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کی یہ پانچ ممالک - ازبیکستان ، قازقستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور کرغزستان - معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ تیل ، گیس ، لوہا ، تانبا ، ایلومینیم اور قیمتی پتھروں کے ان گنت ذخائر ابھی تک دسترس سے دور ہیں۔
    میں پچھلے 50 سالوں سے ان ممالک کا دورہ کرتا رہا ہوں۔ میں کئی بار 1200 کلومیٹر آمو دریا (وکشو سریتا) کے کنارے بھی جا چکا ہوں۔ اگر ہم اس خطے کی معدنی دولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان اگلے پانچ سالوں میں یورپ سے زیادہ مالدار بن سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ وہ راستہ تلاش کرے۔ اگر وہ پاکستان اور افغانستان سے نہیں جاپا رہا ہے تو ، ایران کے راستے جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، پاکستان کنارے لگ جائے گا۔ ایسانہیں ہو،اس کے لئے لازمی ہے کہ عمران خان دہشت گردی کے خلاف بہت سخت ہوں اور کشمیر پر بات چیت کا آغاز کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، یہ پاکستان کے لئے بھارت سے زیادہ بہتر ہوگا۔
    (مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔)

    You can whatspp him on +91 98917 11947
    Article by Ved Pratap Vaidik عمران پاک کی زیادہ بہتری کیلئے سوچیں 18/03/2021 ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو آسان بنانے کے لئے پہل کی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیکیورٹی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتا ہے تو وسط ایشیاءکی پانچ ممالک تک پہنچنے کے لئے اسے بڑی سہولت ملے گی ، لیکن یہ تب ہوگا جب بھارت کشمیر میں رائے شماری کے لئے تیار ہوگا .... عمران خان کو شاید یہ یاد نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود اقوام متحدہ کے ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکاہے۔ پاکستان نے خود اس کے لئے کبھی تیاری نہیں کی۔ اس تجویز کے آغاز میں ، یہ کہا گیا ہے کہ پاک فوج اور اہلکاروں کو مقبوضہ کشمیر سے مکمل طور پر نکل جانا چاہئے۔ کیا گزشتہ 70 سالوں میں پاکستانی حکومت نے کبھی بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کی ہے؟ اسلام آباد میں ، جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مجھ سے رائے شماری کے بارے میں بات کی تھی تو میں نے ان سے یہی سوال کیاتھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔ میں وزیر اعظم نواز شریف ، جنرل مشرف اور بہت سے دوسرے صدور اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے پوچھتا تھا کہ کیا آپ کشمیریوں کو تیسرا آپشن یعنی آزادی دینے پر راضی ہیں ، تووہ کہتے تھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو اس کا الحاق پاکستان میں ہوگا یا ہندوستان میں! کیا عمران خان تیسرے آپشن کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ریفرنڈم کا معاملہ بے معنی ہے۔ کشمیر یقینی طور پر ایک مسئلہ ہے۔ اس کو مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اٹل جی ، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور جنرل مشرف نے چار نکاتی راستہ نکالاتھا۔ عمران کیوں اس کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے؟ جہاں تک وسط ایشیاءکی اقوام سے ہندوستان کو فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے تو ، عمران بالکل ٹھیک ہیں۔ اگر پاک بھارت تعلقات ہموار ہوجائیں تو ہندوستان کو پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ وسطی ایشیا کی یہ پانچ ممالک - ازبیکستان ، قازقستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور کرغزستان - معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ تیل ، گیس ، لوہا ، تانبا ، ایلومینیم اور قیمتی پتھروں کے ان گنت ذخائر ابھی تک دسترس سے دور ہیں۔ میں پچھلے 50 سالوں سے ان ممالک کا دورہ کرتا رہا ہوں۔ میں کئی بار 1200 کلومیٹر آمو دریا (وکشو سریتا) کے کنارے بھی جا چکا ہوں۔ اگر ہم اس خطے کی معدنی دولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان اگلے پانچ سالوں میں یورپ سے زیادہ مالدار بن سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ وہ راستہ تلاش کرے۔ اگر وہ پاکستان اور افغانستان سے نہیں جاپا رہا ہے تو ، ایران کے راستے جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، پاکستان کنارے لگ جائے گا۔ ایسانہیں ہو،اس کے لئے لازمی ہے کہ عمران خان دہشت گردی کے خلاف بہت سخت ہوں اور کشمیر پر بات چیت کا آغاز کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، یہ پاکستان کے لئے بھارت سے زیادہ بہتر ہوگا۔ (مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔) You can whatspp him on +91 98917 11947
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 232 Views
  • ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟

    قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔

    لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔

    کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔

    اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔

    ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔

    ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔

    شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔

    ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔

    سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

    اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی.

    آصف فاروقی
    بی بی سی اردو
    ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟ قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔ سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔ لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔ اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔ شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔ بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی. آصف فاروقی بی بی سی اردو
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 529 Views
  • *میری زندگی کا ایک خوب صورت یادگار انٹرویو*

    مظفر آباد سے ایک پیاری بیٹی سلوى نے مسجد رحمت للعالمین اسلام آباد کے حوالے اور اس کی نسبت سے مجھے لائیو انٹرویو کی دعوت دی۔ صحافیوں اور چینلز کو انٹرویو تو بہت سے دیے ہیں لیکن یہ ایک منفرد انٹرویو تھا۔

    ایسی پیاری اور بہادر بیٹیوں سے مل کر اور بات کر کے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس بیٹی کے معصومانہ سوالات کے ساتھ ساتھ اس کی سوچ کی پختگی واقعی متاثر کن تھی۔

    اللہ تعالی اس بیٹی اور اس کے والدین اور اساتذہ کی زندگی اور دنیا اور اخرت میں برکت عطا فرمائے ۔ یہ بیٹی بذات خود ایک قیمتی ہیرا ہے جو اگے چل کر نور کی بہت سی کرنیں بکھیرے گا۔ ان شاء الله

    https://www.facebook.com/share/r/wp63PNb1P5XGjNsS/?mibextid=oFDknk

    .
    *میری زندگی کا ایک خوب صورت یادگار انٹرویو* مظفر آباد سے ایک پیاری بیٹی سلوى نے مسجد رحمت للعالمین اسلام آباد کے حوالے اور اس کی نسبت سے مجھے لائیو انٹرویو کی دعوت دی۔ صحافیوں اور چینلز کو انٹرویو تو بہت سے دیے ہیں لیکن یہ ایک منفرد انٹرویو تھا۔ ایسی پیاری اور بہادر بیٹیوں سے مل کر اور بات کر کے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس بیٹی کے معصومانہ سوالات کے ساتھ ساتھ اس کی سوچ کی پختگی واقعی متاثر کن تھی۔ اللہ تعالی اس بیٹی اور اس کے والدین اور اساتذہ کی زندگی اور دنیا اور اخرت میں برکت عطا فرمائے ۔ یہ بیٹی بذات خود ایک قیمتی ہیرا ہے جو اگے چل کر نور کی بہت سی کرنیں بکھیرے گا۔ ان شاء الله https://www.facebook.com/share/r/wp63PNb1P5XGjNsS/?mibextid=oFDknk .
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 219 Views
  • ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس)
    آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔
    گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔
    جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں
    جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔
    پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟
    دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔
    سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔
    اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔

    Via Ayaz Morris
    ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس) آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔ جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟ دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔ سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔ Via Ayaz Morris
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 693 Views
  • اب آپ اسپین میں فری لانسر ویزے پر رہ سکتے ہیں!

    کیا آپ نے کبھی یورپ میں رہنے کا خواب دیکھا ہے؟ روز صبح اسپین کی دھوپ میں آنکھ کھلے، کیفے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کام کریں، اور ساتھ ساتھ ایک خوبصورت زندگی گزاریں؟ اب یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے — اور وہ بھی بہت آسانی سے!

    اسپین نے ایک نیا ویزا متعارف کرایا ہے جسے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا یا فری لانسر ویزا کہتے ہیں۔ اور پاکستانی بھی اس کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔

    آئیے، آسان زبان میں سمجھتے ہیں کہ کیسے آپ اسپین جا سکتے ہیں صرف آن لائن کام کی بنیاد پر۔



    ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کیا ہے؟

    یہ ویزا اُن لوگوں کے لیے ہے جو آن لائن کام کرتے ہیں۔ اگر آپ فری لانسر ہیں، ریموٹ جاب کرتے ہیں، یا آپ کا آن لائن بزنس ہے، تو آپ اب اسپین میں رہ سکتے ہیں — صرف اس شرط پر کہ آپ کا کام اسپین سے باہر کے کلائنٹس یا کمپنیوں کے لیے ہو۔

    اسپین نے یہ ویزا ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بنایا ہے جو اپنا روزگار دوسرے ملکوں سے کماتے ہیں، لیکن رہنا چاہتے ہیں اسپین جیسے خوبصورت ملک میں۔



    کون کون اپلائی کر سکتا ہے؟

    آپ اپلائی کر سکتے ہیں اگر:
    1. آپ یورپ کے باہر سے ہیں (جیسے کہ پاکستان سے)
    2. آپ کا کام مکمل آن لائن ہے
    3. آپ کو اپنے کلائنٹ یا کمپنی کے ساتھ کم از کم 3 ماہ کا تجربہ ہو
    4. آپ کی کمپنی کم از کم 1 سال سے چل رہی ہو
    5. آپ کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری ہو یا 3 سال کا تجربہ
    6. آپ کی آمدنی کم از کم €2,760 ماہانہ (تقریباً PKR 8,40,000) ہو
    7. آپ کے پاس ہیلتھ انشورنس ہو جو اسپین میں بھی کام کرے
    8. آپ پچھلے 5 سال سے جرائم سے پاک ہوں

    اگر آپ اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں تو بھی لے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے تھوڑی زیادہ آمدنی دکھانی ہوگی۔



    کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی؟
    • پاسپورٹ
    • ویزا اپلیکیشن فارم
    • 2 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر
    • کام کا معاہدہ یا کلائنٹ ایگریمنٹ
    • بینک اسٹیٹمنٹ (آمدنی کا ثبوت)
    • کمپنی کا لیٹر جو اجازت دے کہ آپ اسپین سے کام کر سکتے ہیں
    • ڈگری یا تجربے کا ثبوت
    • پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ
    • ہیلتھ انشورنس
    • کمپنی کے 1 سالہ وجود کا ثبوت

    نوٹ: زیادہ تر دستاویزات کا اسپینش ترجمہ ضروری ہوگا، اور کچھ کو نوٹرائز یا اَپوسٹیل کروانا پڑے گا۔



    اخراجات کتنے ہیں؟
    • ویزا فیس: €80–90 (تقریباً PKR 26,000–30,000)
    • ترجمہ، تصدیق، انشورنس وغیرہ کے الگ اخراجات
    • اسپین میں رہائش کا خرچ: ہر شہر میں مختلف ہے، لیکن عام طور پر €1,000–1,500 ماہانہ میں اچھی زندگی گزر سکتی ہے

    اگر آپ آن لائن پیسے کما رہے ہیں اور اچھی آمدنی ہے، تو یہ زندگی بدل دینے والا موقع ہے۔



    اسپین میں کتنی دیر رہ سکتے ہیں؟
    • پہلا ویزا 1 سال کے لیے ہوگا
    • بعد میں 5 سال تک ری نیو کیا جا سکتا ہے
    • 5 سال بعد آپ مستقل رہائش کے اہل ہو جائیں گے
    • 10 سال بعد آپ شہریت کے لیے بھی اپلائی کر سکتے ہیں (نوٹ: پاکستان اور اسپین کے درمیان ڈوئل نیشنلٹی کا معاہدہ نہیں)



    ٹیکس میں چھوٹ

    اسپین میں ڈیجیٹل نومیڈز کو ٹیکس میں خاص رعایت ملتی ہے:
    • پہلے 4 سال تک صرف 15% انکم ٹیکس
    • عام طور پر اسپین میں 24–47% ٹیکس ہوتا ہے
    • اس کا مطلب ہے: زیادہ بچت، کم خرچ، بہترین لائف اسٹائل!



    پاکستان سے کیسے اپلائی کریں؟
    1. تمام دستاویزات تیار کریں
    2. اسلام آباد میں اسپین کے سفارت خانے میں اپوائنٹمنٹ بک کریں
    3. خود جا کر یا نمائندے کے ذریعے اپلیکیشن جمع کروائیں
    4. 2–4 ہفتے انتظار کریں
    5. ویزا منظور ہو جائے تو سپین روانہ ہو جائیں!



    میری مدد کس نے کی؟ — ChatGPT اور Perplexity!

    یہ مضمون میں نے ChatGPT کی مدد سے لکھا ہے — یہ ایک زبردست AI ٹول ہے جو آپ کے سوالات کا جواب دیتا ہے، معلومات فراہم کرتا ہے، اور ویزا گائیڈ بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ:
    • مزید معلومات لیں
    • اپنی دستاویزات چیک کریں
    • ویزا چیک لسٹ بنائیں
    • یا کچھ بھی سمجھنا چاہتے ہیں

    تو ChatGPT یا Perplexity.ai پر جائیں — یہ آپ کے مفت یا سستے آن لائن ویزا کنسلٹنٹ ہیں، اور 24/7 دستیاب!



    پاکستانیوں کے لیے سنہری موقع!

    یہ پہلا موقع ہے جب یورپ کا کوئی ملک پاکستانی فری لانسرز کو قانونی رہائش کی اجازت دے رہا ہے — صرف آن لائن کام کی بنیاد پر۔

    آپ کو یہ نہیں کرنا پڑے گا:

    اسپین میں نوکری تلاش کرنا
    شادی کرنا
    لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا

    بس چاہیے:

    ایک لیپ ٹاپ
    کچھ کلائنٹس
    آمدنی کا ثبوت
    اور ایک خواب!



    آخری پیغام

    اسپین کا فری لانسر ویزا زندگی بدلنے والا موقع ہے۔ اگر آپ پہلے سے آن لائن کماتے ہیں — فری لانسنگ، یوٹیوب، ڈیجیٹل بزنس یا ریموٹ جاب سے — تو ابھی اپلائی کریں!

    یورپ میں قانونی رہائش
    بہترین ٹیکس رعایت
    فیملی کے لیے بہتر مستقبل
    خوبصورت زندگی کا آغاز

    اور یاد رکھیں: ChatGPT اور Perplexity جیسے AI ٹولز آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر ہیں — مفت، تیز اور قابلِ اعتماد!
    اب آپ اسپین میں فری لانسر ویزے پر رہ سکتے ہیں! 🇪🇸 کیا آپ نے کبھی یورپ میں رہنے کا خواب دیکھا ہے؟ روز صبح اسپین کی دھوپ میں آنکھ کھلے، کیفے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کام کریں، اور ساتھ ساتھ ایک خوبصورت زندگی گزاریں؟ اب یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے — اور وہ بھی بہت آسانی سے! اسپین نے ایک نیا ویزا متعارف کرایا ہے جسے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا یا فری لانسر ویزا کہتے ہیں۔ اور پاکستانی بھی اس کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ آئیے، آسان زبان میں سمجھتے ہیں کہ کیسے آپ اسپین جا سکتے ہیں صرف آن لائن کام کی بنیاد پر۔ ⸻ 🌍 ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کیا ہے؟ یہ ویزا اُن لوگوں کے لیے ہے جو آن لائن کام کرتے ہیں۔ اگر آپ فری لانسر ہیں، ریموٹ جاب کرتے ہیں، یا آپ کا آن لائن بزنس ہے، تو آپ اب اسپین میں رہ سکتے ہیں — صرف اس شرط پر کہ آپ کا کام اسپین سے باہر کے کلائنٹس یا کمپنیوں کے لیے ہو۔ اسپین نے یہ ویزا ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بنایا ہے جو اپنا روزگار دوسرے ملکوں سے کماتے ہیں، لیکن رہنا چاہتے ہیں اسپین جیسے خوبصورت ملک میں۔ ⸻ ✅ کون کون اپلائی کر سکتا ہے؟ آپ اپلائی کر سکتے ہیں اگر: 1. آپ یورپ کے باہر سے ہیں (جیسے کہ پاکستان سے) 2. آپ کا کام مکمل آن لائن ہے 3. آپ کو اپنے کلائنٹ یا کمپنی کے ساتھ کم از کم 3 ماہ کا تجربہ ہو 4. آپ کی کمپنی کم از کم 1 سال سے چل رہی ہو 5. آپ کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری ہو یا 3 سال کا تجربہ 6. آپ کی آمدنی کم از کم €2,760 ماہانہ (تقریباً PKR 8,40,000) ہو 7. آپ کے پاس ہیلتھ انشورنس ہو جو اسپین میں بھی کام کرے 8. آپ پچھلے 5 سال سے جرائم سے پاک ہوں اگر آپ اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں تو بھی لے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے تھوڑی زیادہ آمدنی دکھانی ہوگی۔ ⸻ 📋 کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی؟ • پاسپورٹ • ویزا اپلیکیشن فارم • 2 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر • کام کا معاہدہ یا کلائنٹ ایگریمنٹ • بینک اسٹیٹمنٹ (آمدنی کا ثبوت) • کمپنی کا لیٹر جو اجازت دے کہ آپ اسپین سے کام کر سکتے ہیں • ڈگری یا تجربے کا ثبوت • پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ • ہیلتھ انشورنس • کمپنی کے 1 سالہ وجود کا ثبوت 📌 نوٹ: زیادہ تر دستاویزات کا اسپینش ترجمہ ضروری ہوگا، اور کچھ کو نوٹرائز یا اَپوسٹیل کروانا پڑے گا۔ ⸻ 💰 اخراجات کتنے ہیں؟ • ویزا فیس: €80–90 (تقریباً PKR 26,000–30,000) • ترجمہ، تصدیق، انشورنس وغیرہ کے الگ اخراجات • اسپین میں رہائش کا خرچ: ہر شہر میں مختلف ہے، لیکن عام طور پر €1,000–1,500 ماہانہ میں اچھی زندگی گزر سکتی ہے اگر آپ آن لائن پیسے کما رہے ہیں اور اچھی آمدنی ہے، تو یہ زندگی بدل دینے والا موقع ہے۔ ⸻ 📆 اسپین میں کتنی دیر رہ سکتے ہیں؟ • پہلا ویزا 1 سال کے لیے ہوگا • بعد میں 5 سال تک ری نیو کیا جا سکتا ہے • 5 سال بعد آپ مستقل رہائش کے اہل ہو جائیں گے • 10 سال بعد آپ شہریت کے لیے بھی اپلائی کر سکتے ہیں (نوٹ: پاکستان اور اسپین کے درمیان ڈوئل نیشنلٹی کا معاہدہ نہیں) ⸻ 💸 ٹیکس میں چھوٹ اسپین میں ڈیجیٹل نومیڈز کو ٹیکس میں خاص رعایت ملتی ہے: • پہلے 4 سال تک صرف 15% انکم ٹیکس • عام طور پر اسپین میں 24–47% ٹیکس ہوتا ہے • اس کا مطلب ہے: زیادہ بچت، کم خرچ، بہترین لائف اسٹائل! ⸻ 🛫 پاکستان سے کیسے اپلائی کریں؟ 1. تمام دستاویزات تیار کریں 2. اسلام آباد میں اسپین کے سفارت خانے میں اپوائنٹمنٹ بک کریں 3. خود جا کر یا نمائندے کے ذریعے اپلیکیشن جمع کروائیں 4. 2–4 ہفتے انتظار کریں 5. ویزا منظور ہو جائے تو سپین روانہ ہو جائیں! ⸻ 🤖 میری مدد کس نے کی؟ — ChatGPT اور Perplexity! یہ مضمون میں نے ChatGPT کی مدد سے لکھا ہے — یہ ایک زبردست AI ٹول ہے جو آپ کے سوالات کا جواب دیتا ہے، معلومات فراہم کرتا ہے، اور ویزا گائیڈ بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ: • مزید معلومات لیں • اپنی دستاویزات چیک کریں • ویزا چیک لسٹ بنائیں • یا کچھ بھی سمجھنا چاہتے ہیں تو ChatGPT یا Perplexity.ai پر جائیں — یہ آپ کے مفت یا سستے آن لائن ویزا کنسلٹنٹ ہیں، اور 24/7 دستیاب! ⸻ 💡 پاکستانیوں کے لیے سنہری موقع! یہ پہلا موقع ہے جب یورپ کا کوئی ملک پاکستانی فری لانسرز کو قانونی رہائش کی اجازت دے رہا ہے — صرف آن لائن کام کی بنیاد پر۔ آپ کو یہ نہیں کرنا پڑے گا: ❌ اسپین میں نوکری تلاش کرنا ❌ شادی کرنا ❌ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا بس چاہیے: ✅ ایک لیپ ٹاپ ✅ کچھ کلائنٹس ✅ آمدنی کا ثبوت ✅ اور ایک خواب! ⸻ 🏁 آخری پیغام اسپین کا فری لانسر ویزا زندگی بدلنے والا موقع ہے۔ اگر آپ پہلے سے آن لائن کماتے ہیں — فری لانسنگ، یوٹیوب، ڈیجیٹل بزنس یا ریموٹ جاب سے — تو ابھی اپلائی کریں! ✅ یورپ میں قانونی رہائش ✅ بہترین ٹیکس رعایت ✅ فیملی کے لیے بہتر مستقبل ✅ خوبصورت زندگی کا آغاز اور یاد رکھیں: ChatGPT اور Perplexity جیسے AI ٹولز آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر ہیں — مفت، تیز اور قابلِ اعتماد!
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 426 Views
  • کیا آپ AI سے سستا ٹکٹ ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟
    یہ پوسٹ Save کریں اور آگے Share کریں تاکہ دوسرے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

    حج و عمرہ کے ٹکٹ اب Google Flights یا Skyscanner سے بھی سستے!
    $1,000 ✖
    میں نے دیا صرف 88 ڈالر ✔

    نہ پوائنٹس، نہ ٹرکس — بس سمارٹ ChatGPT پرامپٹس۔

    یہ ہیں وہ 7 پرامپٹس جو آپ بھی استعمال کر سکتے ہیں ⬇

    “کراچی سے جدہ اگلے مہینے کا سب سے سستا راستہ بتاؤ، قریبی ایئرپورٹس اور ہِڈن روٹس بھی شامل کرو۔”

    “کون سے لو-کاسٹ ایئرلائنز لاہور سے مدینہ جاتی ہیں جو Google Flights یا Skyscanner پر نہیں آتیں؟”

    “اسلام آباد سے جدہ جانے کا کرایہ کم کرنے کے لیے کون سے شہروں میں لی اوور رکھوں؟ چاہے الگ ٹکٹس خریدنی پڑیں۔”

    “اس ماہ کراچی ایئرپورٹ سے کوئی mistake fare یا flash sale حج/عمرہ فلائٹس پر ہے؟”

    “یہ فلائٹ ہر ویب سائٹ پر چیک کرو، ابھی سب سے سستی کہاں ہے؟”

    “لاہور سے مدینہ فلائٹ پر اگلے 3 دن نظر رکھو، جیسے ہی 90 ڈالر سے کم ہو مجھے بتاؤ۔”

    “ریاض کے لیے دو ون وے ٹکٹس لینا سستا ہے یا راؤنڈ ٹرپ؟ دونوں چیک کرو۔”

    وفاداری پروگرامز اور اندازے بھول جائیں۔
    اب ChatGPT آپ کا 24/7 ٹریول ایجنٹ ہے۔

    Save this. Share this. حج و عمرہ آسان بناو۔
    🤖✈️ کیا آپ AI سے سستا ٹکٹ ڈھونڈنا چاہتے ہیں؟ یہ پوسٹ Save کریں اور آگے Share کریں تاکہ دوسرے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ 🕋 حج و عمرہ کے ٹکٹ اب Google Flights یا Skyscanner سے بھی سستے! $1,000 ✖ میں نے دیا صرف 88 ڈالر ✔ نہ پوائنٹس، نہ ٹرکس — بس سمارٹ ChatGPT پرامپٹس۔ یہ ہیں وہ 7 پرامپٹس جو آپ بھی استعمال کر سکتے ہیں ⬇ 1️⃣ “کراچی سے جدہ اگلے مہینے کا سب سے سستا راستہ بتاؤ، قریبی ایئرپورٹس اور ہِڈن روٹس بھی شامل کرو۔” 2️⃣ “کون سے لو-کاسٹ ایئرلائنز لاہور سے مدینہ جاتی ہیں جو Google Flights یا Skyscanner پر نہیں آتیں؟” 3️⃣ “اسلام آباد سے جدہ جانے کا کرایہ کم کرنے کے لیے کون سے شہروں میں لی اوور رکھوں؟ چاہے الگ ٹکٹس خریدنی پڑیں۔” 4️⃣ “اس ماہ کراچی ایئرپورٹ سے کوئی mistake fare یا flash sale حج/عمرہ فلائٹس پر ہے؟” 5️⃣ “یہ فلائٹ ہر ویب سائٹ پر چیک کرو، ابھی سب سے سستی کہاں ہے؟” 6️⃣ “لاہور سے مدینہ فلائٹ پر اگلے 3 دن نظر رکھو، جیسے ہی 90 ڈالر سے کم ہو مجھے بتاؤ۔” 7️⃣ “ریاض کے لیے دو ون وے ٹکٹس لینا سستا ہے یا راؤنڈ ٹرپ؟ دونوں چیک کرو۔” 🚀 وفاداری پروگرامز اور اندازے بھول جائیں۔ اب ChatGPT آپ کا 24/7 ٹریول ایجنٹ ہے۔ Save this. Share this. حج و عمرہ آسان بناو۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 190 Views
  • پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا

    جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔

    حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔

    اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

    یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔

    یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔

    اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔ حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔ اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔ یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 633 Views
  • مضمون: آج کے پاکستان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے بزرگ اور رُشی

    جب ہم ہندوستان کے بزرگوں اور رُشیوں کی تاریخ کی بات کرتے ہیں تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قدیم زمانے میں نہ بھارت تھا اور نہ پاکستان جیسا آج ہے۔ یہ ساری سرزمین ایک ہی تہذیبی خطہ تھی۔ اس زمین پر بہت سے بڑے بزرگ، استاد اور فلسفی رہتے تھے، اور ان میں سے کئی آج کے پاکستان کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

    حکمت کی سرزمین

    موجودہ پاکستان کی زمین پر دنیا کی سب سے پرانی تہذیب وادیٔ سندھ کی تہذیب (ہڑپہ، موہنجو دڑو) آباد تھی۔ بعد میں یہی علاقے ہندو، بدھ اور جین فلسفے کے بڑے مراکز بنے۔ دریائے سندھ، راوی اور چناب نے اس زمین کو زرخیز بنایا، اور پہاڑوں اور جنگلوں نے سکون دیا۔ اسی لیے بہت سے بزرگوں نے یہ سرزمین اختیار کی۔

    مشہور بزرگ جو اس زمین سے جُڑے ہوئے ہیں
    1. رِشی والمیکی (ٹیکسلا کے علاقے):
    رامائن کے مصنف مانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے ٹیکسلا کے قریب رہتے اور تعلیم دیتے تھے۔
    2. ٹکششیلا کے بزرگ:
    ٹکششیلا (اسلام آباد کے قریب) دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک تھی۔ یہاں بڑے استاد جیسے چانکیہ (کوٹیلیہ) پڑھاتے تھے، جو ارتھ شاستر کے مصنف تھے۔ طب، فلکیات اور فلسفہ کے بڑے علما بھی یہیں سے نکلے۔
    3. گرو نانک (ننکانہ صاحب، پنجاب):
    سِکھ مت کے بانی گرو نانک جی آج کے پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے محبت، برابری اور خدمتِ انسانیت کا پیغام دیا۔
    4. بدھ مت کے بزرگ (گندھارا کا علاقہ):
    اگرچہ بدھ نیپال میں پیدا ہوئے، لیکن پشاور، سوات اور ٹیکسلا کے گندھارا علاقے بدھ مت کے سب سے بڑے مراکز بنے۔ یہاں سے بدھ مت کی تعلیم دنیا میں پھیلی۔
    5. صوفی بزرگ (قرونِ وسطیٰ میں):
    بعد میں اسلام کے بڑے صوفی بزرگ بھی پاکستان آئے، جیسے داتا گنج بخش (لاہور)، بابا فرید (پاکپتن) اور لال شہباز قلندر (سہون)۔ انہوں نے محبت اور روحانیت کی روایت کو جاری رکھا۔

    اہمیت

    یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے علم و روحانیت کی گہوارہ رہی ہے۔ ہندو رِشی ہوں، بدھ بھکشو، سِکھ گرو یا مسلمان صوفی—سب نے اس خطے سے دنیا کو امن، محبت اور سچائی کا پیغام دیا۔



    نتیجہ

    ہندوستان کے بہت سے رُشی اور بزرگ دراصل آج کے پاکستان کی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حکمت اور روحانیت کی کوئی سرحد نہیں۔ پاکستان کی مٹی ہمیشہ سے ایسے علما، صوفی اور استاد پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے دنیا کو امن اور علم کی روشنی دی۔
    مضمون: آج کے پاکستان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے بزرگ اور رُشی جب ہم ہندوستان کے بزرگوں اور رُشیوں کی تاریخ کی بات کرتے ہیں تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قدیم زمانے میں نہ بھارت تھا اور نہ پاکستان جیسا آج ہے۔ یہ ساری سرزمین ایک ہی تہذیبی خطہ تھی۔ اس زمین پر بہت سے بڑے بزرگ، استاد اور فلسفی رہتے تھے، اور ان میں سے کئی آج کے پاکستان کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ حکمت کی سرزمین موجودہ پاکستان کی زمین پر دنیا کی سب سے پرانی تہذیب وادیٔ سندھ کی تہذیب (ہڑپہ، موہنجو دڑو) آباد تھی۔ بعد میں یہی علاقے ہندو، بدھ اور جین فلسفے کے بڑے مراکز بنے۔ دریائے سندھ، راوی اور چناب نے اس زمین کو زرخیز بنایا، اور پہاڑوں اور جنگلوں نے سکون دیا۔ اسی لیے بہت سے بزرگوں نے یہ سرزمین اختیار کی۔ مشہور بزرگ جو اس زمین سے جُڑے ہوئے ہیں 1. رِشی والمیکی (ٹیکسلا کے علاقے): رامائن کے مصنف مانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے ٹیکسلا کے قریب رہتے اور تعلیم دیتے تھے۔ 2. ٹکششیلا کے بزرگ: ٹکششیلا (اسلام آباد کے قریب) دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک تھی۔ یہاں بڑے استاد جیسے چانکیہ (کوٹیلیہ) پڑھاتے تھے، جو ارتھ شاستر کے مصنف تھے۔ طب، فلکیات اور فلسفہ کے بڑے علما بھی یہیں سے نکلے۔ 3. گرو نانک (ننکانہ صاحب، پنجاب): سِکھ مت کے بانی گرو نانک جی آج کے پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے محبت، برابری اور خدمتِ انسانیت کا پیغام دیا۔ 4. بدھ مت کے بزرگ (گندھارا کا علاقہ): اگرچہ بدھ نیپال میں پیدا ہوئے، لیکن پشاور، سوات اور ٹیکسلا کے گندھارا علاقے بدھ مت کے سب سے بڑے مراکز بنے۔ یہاں سے بدھ مت کی تعلیم دنیا میں پھیلی۔ 5. صوفی بزرگ (قرونِ وسطیٰ میں): بعد میں اسلام کے بڑے صوفی بزرگ بھی پاکستان آئے، جیسے داتا گنج بخش (لاہور)، بابا فرید (پاکپتن) اور لال شہباز قلندر (سہون)۔ انہوں نے محبت اور روحانیت کی روایت کو جاری رکھا۔ اہمیت یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے علم و روحانیت کی گہوارہ رہی ہے۔ ہندو رِشی ہوں، بدھ بھکشو، سِکھ گرو یا مسلمان صوفی—سب نے اس خطے سے دنیا کو امن، محبت اور سچائی کا پیغام دیا۔ ⸻ نتیجہ ہندوستان کے بہت سے رُشی اور بزرگ دراصل آج کے پاکستان کی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حکمت اور روحانیت کی کوئی سرحد نہیں۔ پاکستان کی مٹی ہمیشہ سے ایسے علما، صوفی اور استاد پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے دنیا کو امن اور علم کی روشنی دی۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 372 Views
Arama Sonuçları