• RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no: 12(urdu)
    TEDx Talk topic: **”Sorry, Not Sorry“ — اس جدید جملے کا ارتقا کیسے ہوا؟**

    **”Sorry, Not Sorry“ — اس جدید جملے کا ارتقا کیسے ہوا؟**

    کیا آپ نے کبھی کسی کو یہ کہتے سنا ہے: **”Sorry, Not Sorry“؟** یہ ایک جدید جملہ ہے جو عموماً اعتماد، مزاح یا طنز کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی معذرت کے لیے۔ سوشل میڈیا، میمز اور روزمرہ گفتگو نے اس دلچسپ جملے کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے!

    اس پریزنٹیشن میں ہم اس جملے کے معنی، مقبولیت اور زبان میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں جانیں گے۔ اس کے ساتھ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ سچی معذرت، نرمی اور دوسروں کا احترام ہماری زندگی میں کیوں اہم ہیں۔

    **یاد رکھیں:** اپنی رائے پر اعتماد رکھیں، لیکن ہمیشہ دوسروں کے جذبات کا احترام کریں!

    #SorryNotSorry #جدید_جملے #انگریزی_زبان #زبان_کا_ارتقا #سوشل_میڈیا #گفتگو_کے_آداب #تعلیم #ChatGPT #RehanSchool #علم_کی_طاقت
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no: 12(urdu) TEDx Talk topic: **”Sorry, Not Sorry“ — اس جدید جملے کا ارتقا کیسے ہوا؟** 🎤✨ **”Sorry, Not Sorry“ — اس جدید جملے کا ارتقا کیسے ہوا؟** 💬🌍 کیا آپ نے کبھی کسی کو یہ کہتے سنا ہے: **”Sorry, Not Sorry“؟** 🤔💖 یہ ایک جدید جملہ ہے جو عموماً اعتماد، مزاح یا طنز کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی معذرت کے لیے۔ 📱😂 سوشل میڈیا، میمز اور روزمرہ گفتگو نے اس دلچسپ جملے کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے! 🌟 اس پریزنٹیشن میں ہم اس جملے کے معنی، مقبولیت اور زبان میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں جانیں گے۔ اس کے ساتھ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ سچی معذرت، نرمی اور دوسروں کا احترام ہماری زندگی میں کیوں اہم ہیں۔ ❤️🤝 💡 **یاد رکھیں:** اپنی رائے پر اعتماد رکھیں، لیکن ہمیشہ دوسروں کے جذبات کا احترام کریں! 🌸✨ #SorryNotSorry #جدید_جملے #انگریزی_زبان #زبان_کا_ارتقا #سوشل_میڈیا #گفتگو_کے_آداب #تعلیم #ChatGPT #RehanSchool #علم_کی_طاقت 🎓📚💖🌍
    0 Commenti 0 condivisioni 157 Views 6
  • برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 Commenti 0 condivisioni 1219 Views
  • لیپ ٹاپ جیتنے کے شرائط و ضوابط.
    آپ کی فیس بک پروفائل پر آپ کی اپنی تصویر لگی ہونی چاہیے ۔اگر آپ خاتون ہیں اور حجاب کرتی ہیں تو2. حجاب کے ساتھ تصویرلگائیں

    آپ کے ریحان اللہ والا کے ساتھ 500 باہمی دوست ہونے چاہئیں۔
    facebook.com/rehan33/friends

    آپ کو فیس بک لائیو کا استعمال کرتے ہوئے 10 لوگوں کے انٹرویو کرنے ہیں۔طریقہ کار کے لِیے اس لنک کو وزٹ کریںrehanu.com/fbinterview
    پانچ انٹرویوز اردو زبان میں پاکستان سے کریں اور ہر صوبے سے ایک ایک انٹرویو کریں، ایک بلوچستان سے، ایک سندھ سے، ایک خیبر پختونخواہ سے، ایک پنجاب سے، اور ایک گلگت بلتستان سے۔

    ہر انٹرویو کا دورانیہ 20 منٹ یا اس سے زائد ہونا چاہیے جہاں آپ صرف دو منٹ بات کریں گے بقیہ 18 منٹ مہمان بات کریں گے

    اگر آپ انگریزی زبان میں انٹرویوز نہیں لے سکتے تو 20 انٹرویوز اردو زبان میں کریں

    انٹرویو صرف ریحان اللہ والا کے فیس بک دوستوں کا ہونا چاہیے

    برائے مہربانی جب آپ یہ تمام کام کرچکیں تو جناب عبدالفتاح سومرو سے اس نمبر پر‬ رابطہ کریں وہ تصدیق کرکے آپ کو آپ کا لیپ ٹاپ پہنچا دیں گے
    لیپ ٹاپ جیتنے کے شرائط و ضوابط. آپ کی فیس بک پروفائل پر آپ کی اپنی تصویر لگی ہونی چاہیے ۔اگر آپ خاتون ہیں اور حجاب کرتی ہیں تو2. حجاب کے ساتھ تصویرلگائیں آپ کے ریحان اللہ والا کے ساتھ 500 باہمی دوست ہونے چاہئیں۔ facebook.com/rehan33/friends آپ کو فیس بک لائیو کا استعمال کرتے ہوئے 10 لوگوں کے انٹرویو کرنے ہیں۔طریقہ کار کے لِیے اس لنک کو وزٹ کریںrehanu.com/fbinterview پانچ انٹرویوز اردو زبان میں پاکستان سے کریں اور ہر صوبے سے ایک ایک انٹرویو کریں، ایک بلوچستان سے، ایک سندھ سے، ایک خیبر پختونخواہ سے، ایک پنجاب سے، اور ایک گلگت بلتستان سے۔ ہر انٹرویو کا دورانیہ 20 منٹ یا اس سے زائد ہونا چاہیے جہاں آپ صرف دو منٹ بات کریں گے بقیہ 18 منٹ مہمان بات کریں گے اگر آپ انگریزی زبان میں انٹرویوز نہیں لے سکتے تو 20 انٹرویوز اردو زبان میں کریں انٹرویو صرف ریحان اللہ والا کے فیس بک دوستوں کا ہونا چاہیے برائے مہربانی جب آپ یہ تمام کام کرچکیں تو جناب عبدالفتاح سومرو سے اس نمبر پر‬ رابطہ کریں وہ تصدیق کرکے آپ کو آپ کا لیپ ٹاپ پہنچا دیں گے
    0 Commenti 0 condivisioni 1098 Views
  • میں یہ سیکھاونگا کہ اپ ایک انمول ھو ،خود کو پہچانو ،جس زندگی میں ھو اس سے نکلو ،ماہانہ ایک لاکھ روپے کمانا سیکھیں ،کینوا فائیورر فری لانسنگ اسکلز سیکھیں ، انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں، دنیا سے جڑیں، انگریزی زبان کو بطور اسکل سیکھیں، یوٹیوب گوگل کو اپنا استاد بنائیں ، فن ، تجارت سیکھیں ، کرنا شروع کریں ،
    عبدالشکور مدد والا
    میں یہ سیکھاونگا کہ اپ ایک انمول ھو ،خود کو پہچانو ،جس زندگی میں ھو اس سے نکلو ،ماہانہ ایک لاکھ روپے کمانا سیکھیں ،کینوا فائیورر فری لانسنگ اسکلز سیکھیں ، انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں، دنیا سے جڑیں، انگریزی زبان کو بطور اسکل سیکھیں، یوٹیوب گوگل کو اپنا استاد بنائیں ، فن ، تجارت سیکھیں ، کرنا شروع کریں ، عبدالشکور مدد والا
    0 Commenti 0 condivisioni 317 Views
  • **زبانی رشتے بناتی ہوئیں!**

    کیا آپ جانتے ہیں کہ اردو اور انگریزی زبان میں بعض الفاظ ایک جیسے ہوتے ہیں؟ یہ لسانی مماثلتیں دونوں مختلف زبانوں کے درمیان رومانیتک رشتے کو بہترین طریقہ سے ظاہر کرتی ہیں۔ یہاں کچھ دلچسپ مثالیں ہیں:

    1. **کمپیوٹر** (computer) - **کمپیوٹر** (اردو) - کمپیوٹر
    2. **ٹیبل** (table) - **ٹیبل** (اردو) - میز
    3. **ٹیکسی** (taxi) - **ٹیکسی** (اردو) - ٹیکسی
    4. **ٹرین** (train) - **ٹرین** (اردو) - ٹرین
    5. **ٹیلیفون** (telephone) - **ٹیلیفون** (اردو) - ٹیلیفون
    6. **چاکلیٹ** (chocolate) - **چاکلیٹ** (اردو) - چاکلیٹ
    7. **تاپ** (top) - **تاپ** (اردو) - اوپر
    8. **ڈاکٹر** (doctor) - **ڈاکٹر** (اردو) - ڈاکٹر
    9. **مینو** (menu) - **مینو** (اردو) - مینو
    10. **کار** (car) - **کار** (اردو) - کار

    زبان سرحدوں کو پار کر کے روایاتی تعلقات بناتی ہے، اور دیکھنا دلچسپ ہے کہ یہ مماثل الفاظ اردو اور انگریزی کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ ہم سب مل کر زبانی تنوع کی امیریت کا جشن مناتے ہیں جو ہمیں ایک ساتھ ملاتی ہے!

    #زبانی_رشتے #اردواورانگریزی #ثقافتی_تنوع
    🌐🤝📚 **زبانی رشتے بناتی ہوئیں!** 📚🤝🌐 🇵🇰 کیا آپ جانتے ہیں کہ اردو اور انگریزی زبان میں بعض الفاظ ایک جیسے ہوتے ہیں؟ 🇺🇸 یہ لسانی مماثلتیں دونوں مختلف زبانوں کے درمیان رومانیتک رشتے کو بہترین طریقہ سے ظاہر کرتی ہیں۔ یہاں کچھ دلچسپ مثالیں ہیں: 1. **کمپیوٹر** (computer) - **کمپیوٹر** (اردو) - کمپیوٹر 2. **ٹیبل** (table) - **ٹیبل** (اردو) - میز 3. **ٹیکسی** (taxi) - **ٹیکسی** (اردو) - ٹیکسی 4. **ٹرین** (train) - **ٹرین** (اردو) - ٹرین 5. **ٹیلیفون** (telephone) - **ٹیلیفون** (اردو) - ٹیلیفون 6. **چاکلیٹ** (chocolate) - **چاکلیٹ** (اردو) - چاکلیٹ 7. **تاپ** (top) - **تاپ** (اردو) - اوپر 8. **ڈاکٹر** (doctor) - **ڈاکٹر** (اردو) - ڈاکٹر 9. **مینو** (menu) - **مینو** (اردو) - مینو 10. **کار** (car) - **کار** (اردو) - کار 🌐 زبان سرحدوں کو پار کر کے روایاتی تعلقات بناتی ہے، اور دیکھنا دلچسپ ہے کہ یہ مماثل الفاظ اردو اور انگریزی کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ ہم سب مل کر زبانی تنوع کی امیریت کا جشن مناتے ہیں جو ہمیں ایک ساتھ ملاتی ہے! 🌍🌏🌎 #زبانی_رشتے #اردواورانگریزی #ثقافتی_تنوع
    0 Commenti 0 condivisioni 1688 Views
  • وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته

    محترم محمد طلحہ صاحب،

    الحمدللہ، آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپ قرآن پاک کی تعلیم دینے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بہت اہم اور بابرکت کام ہے، اور آپ کی نیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مزید لوگوں تک اس علم کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ اللہ آپ کے علم اور عمل میں برکت دے۔

    آپ کے طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے چند اہم تجاویز پیشِ خدمت ہیں:

    1. سوشل میڈیا کا استعمال کریں
    • اپنے علم کو عام کرنے کے لیے فیس بک، انسٹاگرام، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر مختصر ویڈیوز یا پوسٹس تیار کریں۔
    • دعاؤں، قرآنی آیات کی تلاوت، یا مختصر قرآنی دروس کی ویڈیوز آپ کی خدمات کے بارے میں شعور پیدا کریں گی۔
    • واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس میں اپنی خدمات کے بارے میں شیئر کریں۔

    2. ویب سائٹ یا پروفیشنل پروفائل بنائیں
    • ایک سادہ ویب سائٹ یا بلاگ بنائیں جہاں آپ اپنی خدمات، اوقات، فیس، اور رابطے کی تفصیلات فراہم کر سکیں۔
    • LinkedIn پر بھی پروفائل بنائیں تاکہ آپ پروفیشنلز تک پہنچ سکیں۔

    3. ریفرل پروگرام شروع کریں
    • اپنے موجودہ طلبہ یا ان کے والدین سے کہیں کہ وہ آپ کی خدمات کو اپنے جاننے والوں کے ساتھ شیئر کریں۔
    • کسی نئے طالب علم کو آپ سے متعارف کروانے پر چھوٹ یا تحفہ دینے کی پیشکش کریں۔

    4. بین الاقوامی طلبہ تک رسائی
    • مختلف آن لائن ٹیچنگ پلیٹ فارمز جیسے Preply، Italki یا Superprof پر اپنی پروفائل بنائیں۔
    • انگریزی زبان میں بھی اپنی خدمات کو پیش کریں تاکہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی آپ سے قرآن سیکھ سکیں۔

    5. مفت تعارفی کلاسز
    • اپنی خدمات کے لیے نئے طلبہ کو راغب کرنے کے لیے 1-2 مفت تعارفی کلاسز کی پیشکش کریں۔
    • یہ لوگوں کو آپ کی تدریس کے انداز کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

    6. ای میل اور WhatsApp مارکیٹنگ
    • ایک فہرست تیار کریں جس میں آپ کے جاننے والے، مساجد، اور اسلامی تنظیموں کے رابطے شامل ہوں۔
    • انہیں اپنی خدمات کے بارے میں معلومات بھیجیں۔

    7. اعتماد بڑھائیں
    • اپنے موجودہ طلبہ سے رائے لیں اور ان کے اچھے تاثرات کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔
    • والدین کے لیے خصوصی ویبنارز یا سیشنز منعقد کریں تاکہ وہ آپ کے کام کو سمجھ سکیں۔

    8. ایپلیکیشنز کا استعمال
    • Zoom، Skype، یا Microsoft Teams جیسی ایپلیکیشنز کا استعمال کریں تاکہ آپ کے طلبہ کا سیکھنے کا تجربہ آسان اور موثر ہو۔
    • قرآنی تدریس کو مزید انٹرایکٹو بنانے کے لیے مختلف ایپس اور ویڈیوز کا استعمال کریں۔

    9. مساجد اور مدارس سے رابطہ کریں
    • مقامی اور بین الاقوامی مساجد یا اسلامی تنظیموں سے رابطہ کریں اور ان کے ذریعے اپنے کورسز کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

    10. اشتہارات (Ads)
    • فیس بک اور گوگل پر معمولی بجٹ کے ساتھ اشتہارات چلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی ہو۔

    اللہ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے اور آپ کے علم سے دنیا کو روشناس کرے۔ اگر مزید رہنمائی کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیں۔

    جزاک اللہ خیراً۔
    رحان اللہ والا
    وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته محترم محمد طلحہ صاحب، الحمدللہ، آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپ قرآن پاک کی تعلیم دینے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بہت اہم اور بابرکت کام ہے، اور آپ کی نیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مزید لوگوں تک اس علم کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ اللہ آپ کے علم اور عمل میں برکت دے۔ آپ کے طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لیے چند اہم تجاویز پیشِ خدمت ہیں: 1. سوشل میڈیا کا استعمال کریں • اپنے علم کو عام کرنے کے لیے فیس بک، انسٹاگرام، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر مختصر ویڈیوز یا پوسٹس تیار کریں۔ • دعاؤں، قرآنی آیات کی تلاوت، یا مختصر قرآنی دروس کی ویڈیوز آپ کی خدمات کے بارے میں شعور پیدا کریں گی۔ • واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس میں اپنی خدمات کے بارے میں شیئر کریں۔ 2. ویب سائٹ یا پروفیشنل پروفائل بنائیں • ایک سادہ ویب سائٹ یا بلاگ بنائیں جہاں آپ اپنی خدمات، اوقات، فیس، اور رابطے کی تفصیلات فراہم کر سکیں۔ • LinkedIn پر بھی پروفائل بنائیں تاکہ آپ پروفیشنلز تک پہنچ سکیں۔ 3. ریفرل پروگرام شروع کریں • اپنے موجودہ طلبہ یا ان کے والدین سے کہیں کہ وہ آپ کی خدمات کو اپنے جاننے والوں کے ساتھ شیئر کریں۔ • کسی نئے طالب علم کو آپ سے متعارف کروانے پر چھوٹ یا تحفہ دینے کی پیشکش کریں۔ 4. بین الاقوامی طلبہ تک رسائی • مختلف آن لائن ٹیچنگ پلیٹ فارمز جیسے Preply، Italki یا Superprof پر اپنی پروفائل بنائیں۔ • انگریزی زبان میں بھی اپنی خدمات کو پیش کریں تاکہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی آپ سے قرآن سیکھ سکیں۔ 5. مفت تعارفی کلاسز • اپنی خدمات کے لیے نئے طلبہ کو راغب کرنے کے لیے 1-2 مفت تعارفی کلاسز کی پیشکش کریں۔ • یہ لوگوں کو آپ کی تدریس کے انداز کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ 6. ای میل اور WhatsApp مارکیٹنگ • ایک فہرست تیار کریں جس میں آپ کے جاننے والے، مساجد، اور اسلامی تنظیموں کے رابطے شامل ہوں۔ • انہیں اپنی خدمات کے بارے میں معلومات بھیجیں۔ 7. اعتماد بڑھائیں • اپنے موجودہ طلبہ سے رائے لیں اور ان کے اچھے تاثرات کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ • والدین کے لیے خصوصی ویبنارز یا سیشنز منعقد کریں تاکہ وہ آپ کے کام کو سمجھ سکیں۔ 8. ایپلیکیشنز کا استعمال • Zoom، Skype، یا Microsoft Teams جیسی ایپلیکیشنز کا استعمال کریں تاکہ آپ کے طلبہ کا سیکھنے کا تجربہ آسان اور موثر ہو۔ • قرآنی تدریس کو مزید انٹرایکٹو بنانے کے لیے مختلف ایپس اور ویڈیوز کا استعمال کریں۔ 9. مساجد اور مدارس سے رابطہ کریں • مقامی اور بین الاقوامی مساجد یا اسلامی تنظیموں سے رابطہ کریں اور ان کے ذریعے اپنے کورسز کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ 10. اشتہارات (Ads) • فیس بک اور گوگل پر معمولی بجٹ کے ساتھ اشتہارات چلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی ہو۔ اللہ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے اور آپ کے علم سے دنیا کو روشناس کرے۔ اگر مزید رہنمائی کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیں۔ جزاک اللہ خیراً۔ رحان اللہ والا
    0 Commenti 0 condivisioni 424 Views
  • میرا تیسرا واٹر فاسٹ: پانچ دن صرف پانی پر گزارنے کے بعد میرا تجربہ

    آج میں نے اپنا پانچواں دن مکمل کرنے کے بعد واٹر فاسٹ کھولا۔ یہ میری زندگی کا تیسرا واٹر فاسٹ تھا۔ اس سے پہلے بھی میں یہ تجربہ کر چکا ہوں، لیکن اس بار میں نے مسلسل پانچ دن صرف پانی پر گزارے۔

    اس دوران مجھے موقع ملا کہ میں نہ صرف اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کروں بلکہ واٹر فاسٹنگ کی تاریخ، اس کے فوائد اور اس کے سائنسی پہلوؤں کے بارے میں بھی مزید جان سکوں۔

    “فاسٹنگ” یا روزہ رکھنے کا تصور ہزاروں سال پرانا ہے۔ انگریزی لفظ Fast قدیم انگریزی زبان کے لفظ Fæstan سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “خود کو روکنا، ثابت قدم رہنا یا کسی چیز سے پرہیز کرنا”۔ دنیا کی تقریباً تمام بڑی تہذیبوں اور مذاہب میں روزہ جسمانی، ذہنی اور روحانی فائدوں کے لیے رکھا جاتا رہا ہے۔

    واٹر فاسٹنگ کیا ہے؟

    واٹر فاسٹنگ سے مراد ایک مخصوص مدت تک تمام کھانے پینے کی اشیاء چھوڑ کر صرف پانی پینا ہے۔ اس دوران جسم اپنی توانائی حاصل کرنے کے لیے پہلے ذخیرہ شدہ شکر اور پھر چربی سے حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔

    واٹر فاسٹنگ کے دوران جسم میں کیا ہوتا ہے؟

    پہلے 24 گھنٹے

    جسم جگر میں محفوظ گلوکوز اور گلائیکوجن استعمال کرتا ہے جبکہ انسولین کی سطح کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    24 سے 48 گھنٹے

    جسم توانائی کے لیے چربی جلانا شروع کر دیتا ہے اور کیٹونز پیدا ہوتے ہیں، جو دماغ اور جسم کے لیے ایک متبادل ایندھن کا کام کرتے ہیں۔

    48 سے 72 گھنٹے

    جسم میں آٹو فیجی (Autophagy) کا عمل زیادہ فعال ہونے لگتا ہے۔ اس عمل میں پرانے اور خراب خلیاتی اجزاء کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

    پانچویں دن تک

    * جسم چربی جلانے میں زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔
    * انسولین کی سطح کم رہتی ہے۔
    * سوزش میں کمی آ سکتی ہے۔
    * نظام ہضم کو مکمل آرام ملتا ہے۔
    * بعض افراد ذہنی سکون اور بہتر توجہ محسوس کرتے ہیں۔

    مجھے محسوس ہونے والے فوائد

    میرے ذاتی تجربے میں:

    * مجھے بھوک پہلے دو دنوں کے بعد کافی کم محسوس ہوئی۔
    * میرا مائیگرین کافی حد تک ختم ہو گیا۔
    * مجھے اپنے کھانے کی عادات پر زیادہ کنٹرول محسوس ہوا۔
    * روحانی طور پر سکون اور خود پر قابو کا احساس بڑھا۔
    * جسمانی طور پر ہلکا پن محسوس ہوا۔
    * مجھے یہ احساس ہوا کہ انسان مسلسل کھانے کے بغیر بھی کئی دن آرام سے گزار سکتا ہے۔

    واٹر فاسٹنگ کے ممکنہ فوائد

    * وزن میں کمی
    * انسولین کی حساسیت میں بہتری
    * خلیوں کی صفائی (آٹو فیجی)
    * سوزش میں کمی
    * ذہنی وضاحت اور توجہ میں بہتری
    * نظام ہضم کو آرام
    * خود پر قابو اور نظم و ضبط میں اضافہ
    * روحانی سکون اور شکرگزاری کے احساس میں اضافہ

    احتیاط

    واٹر فاسٹنگ ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ ذیابیطس، حاملہ خواتین، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد یا مخصوص دوائیں استعمال کرنے والے افراد کو طویل فاسٹنگ سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

    نتیجہ

    آج جب میں نے اپنا پانچ روزہ واٹر فاسٹ مکمل کیا، تو مجھے احساس ہوا کہ انسان کا جسم حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے۔ واٹر فاسٹنگ صرف وزن کم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ خود پر قابو، صبر، روحانی سکون اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے کا ایک قدیم اور طاقتور ذریعہ بھی ہے۔

    یہ میرا تیسرا واٹر فاسٹ تھا، اور اس تجربے نے مجھے ایک بار پھر یہ سکھایا کہ بعض اوقات جسم کو کھانے سے زیادہ آرام، ضبط اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
    میرا تیسرا واٹر فاسٹ: پانچ دن صرف پانی پر گزارنے کے بعد میرا تجربہ آج میں نے اپنا پانچواں دن مکمل کرنے کے بعد واٹر فاسٹ کھولا۔ یہ میری زندگی کا تیسرا واٹر فاسٹ تھا۔ اس سے پہلے بھی میں یہ تجربہ کر چکا ہوں، لیکن اس بار میں نے مسلسل پانچ دن صرف پانی پر گزارے۔ اس دوران مجھے موقع ملا کہ میں نہ صرف اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کروں بلکہ واٹر فاسٹنگ کی تاریخ، اس کے فوائد اور اس کے سائنسی پہلوؤں کے بارے میں بھی مزید جان سکوں۔ “فاسٹنگ” یا روزہ رکھنے کا تصور ہزاروں سال پرانا ہے۔ انگریزی لفظ Fast قدیم انگریزی زبان کے لفظ Fæstan سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “خود کو روکنا، ثابت قدم رہنا یا کسی چیز سے پرہیز کرنا”۔ دنیا کی تقریباً تمام بڑی تہذیبوں اور مذاہب میں روزہ جسمانی، ذہنی اور روحانی فائدوں کے لیے رکھا جاتا رہا ہے۔ واٹر فاسٹنگ کیا ہے؟ واٹر فاسٹنگ سے مراد ایک مخصوص مدت تک تمام کھانے پینے کی اشیاء چھوڑ کر صرف پانی پینا ہے۔ اس دوران جسم اپنی توانائی حاصل کرنے کے لیے پہلے ذخیرہ شدہ شکر اور پھر چربی سے حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ واٹر فاسٹنگ کے دوران جسم میں کیا ہوتا ہے؟ پہلے 24 گھنٹے جسم جگر میں محفوظ گلوکوز اور گلائیکوجن استعمال کرتا ہے جبکہ انسولین کی سطح کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ 24 سے 48 گھنٹے جسم توانائی کے لیے چربی جلانا شروع کر دیتا ہے اور کیٹونز پیدا ہوتے ہیں، جو دماغ اور جسم کے لیے ایک متبادل ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ 48 سے 72 گھنٹے جسم میں آٹو فیجی (Autophagy) کا عمل زیادہ فعال ہونے لگتا ہے۔ اس عمل میں پرانے اور خراب خلیاتی اجزاء کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پانچویں دن تک * جسم چربی جلانے میں زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ * انسولین کی سطح کم رہتی ہے۔ * سوزش میں کمی آ سکتی ہے۔ * نظام ہضم کو مکمل آرام ملتا ہے۔ * بعض افراد ذہنی سکون اور بہتر توجہ محسوس کرتے ہیں۔ مجھے محسوس ہونے والے فوائد میرے ذاتی تجربے میں: * مجھے بھوک پہلے دو دنوں کے بعد کافی کم محسوس ہوئی۔ * میرا مائیگرین کافی حد تک ختم ہو گیا۔ * مجھے اپنے کھانے کی عادات پر زیادہ کنٹرول محسوس ہوا۔ * روحانی طور پر سکون اور خود پر قابو کا احساس بڑھا۔ * جسمانی طور پر ہلکا پن محسوس ہوا۔ * مجھے یہ احساس ہوا کہ انسان مسلسل کھانے کے بغیر بھی کئی دن آرام سے گزار سکتا ہے۔ واٹر فاسٹنگ کے ممکنہ فوائد * وزن میں کمی * انسولین کی حساسیت میں بہتری * خلیوں کی صفائی (آٹو فیجی) * سوزش میں کمی * ذہنی وضاحت اور توجہ میں بہتری * نظام ہضم کو آرام * خود پر قابو اور نظم و ضبط میں اضافہ * روحانی سکون اور شکرگزاری کے احساس میں اضافہ احتیاط واٹر فاسٹنگ ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ ذیابیطس، حاملہ خواتین، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد یا مخصوص دوائیں استعمال کرنے والے افراد کو طویل فاسٹنگ سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ نتیجہ آج جب میں نے اپنا پانچ روزہ واٹر فاسٹ مکمل کیا، تو مجھے احساس ہوا کہ انسان کا جسم حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے۔ واٹر فاسٹنگ صرف وزن کم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ خود پر قابو، صبر، روحانی سکون اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے کا ایک قدیم اور طاقتور ذریعہ بھی ہے۔ یہ میرا تیسرا واٹر فاسٹ تھا، اور اس تجربے نے مجھے ایک بار پھر یہ سکھایا کہ بعض اوقات جسم کو کھانے سے زیادہ آرام، ضبط اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 1048 Views
  • کیا آپ انگریزی زبان سیکھنا چاہتے ہیں؟ آپ کے لیے کسی بھی وقت انگریزی سیکھنے کے لیے یہاں ایک اے آئی ہے۔ https://chatgpt.com/g/g-BbNmHqw0w-rehan-english-teacher
    کیا آپ انگریزی زبان سیکھنا چاہتے ہیں؟ آپ کے لیے کسی بھی وقت انگریزی سیکھنے کے لیے یہاں ایک اے آئی ہے۔ https://chatgpt.com/g/g-BbNmHqw0w-rehan-english-teacher
    0 Commenti 0 condivisioni 297 Views
  • Salam, Kaisay hain aap? main chahta hoon kay aap mujh say Aik Laptop Tohfay main Haasil Karain, Is kay liyay aap ko meri facebook.com/rehan33/friends main say 500 loogon ko add karna hoga, aap meri kitaab www.rehanu.com/addme say seekh saktay hain kay aisay kaisay hoga ! Competetion kay rules rehan.com/comps par likhay hain, aur rehan.com/winners par un logoon kay naam hain, jo muft laptop jeet chukay hain, Aap un Say Madad bhi Maang lay hain ! Good Luck Pakistan Zindabaad

    لیپ ٹاپ جیتنے کے شرائط و ضوابط.
    آپ کی فیس بک پروفائل پر آپ کی اپنی تصویر لگی ہونی چاہیے ۔اگر آپ خاتون ہیں اور حجاب کرتی ہیں تو2. حجاب کے ساتھ تصویرلگائیں

    آپ کے ریحان اللہ والا کے ساتھ 500 باہمی دوست ہونے چاہئیں۔
    facebook.com/rehan33/friends

    آپ کو فیس بک لائیو کا استعمال کرتے ہوئے 10 لوگوں کے انٹرویو کرنے ہیں۔طریقہ کار کے لِیے اس لنک کو وزٹ کریںrehanu.com/fbinterview
    پانچ انٹرویوز اردو زبان میں پاکستان سے کریں اور ہر صوبے سے ایک ایک انٹرویو کریں، ایک بلوچستان سے، ایک سندھ سے، ایک خیبر پختونخواہ سے، ایک پنجاب سے، اور ایک گلگت بلتستان سے۔

    ہر انٹرویو کا دورانیہ 20 منٹ یا اس سے زائد ہونا چاہیے جہاں آپ صرف دو منٹ بات کریں گے بقیہ 18 منٹ مہمان بات کریں گے

    اگر آپ انگریزی زبان میں انٹرویوز نہیں لے سکتے تو 20 انٹرویوز اردو زبان میں کریں

    انٹرویو صرف ریحان اللہ والا کے فیس بک دوستوں کا ہونا چاہیے

    برائے مہربانی جب آپ یہ تمام کام کرچکیں تو جناب عبدالفتاح سومرو سے اس نمبر پر‬ رابطہ کریں وہ تصدیق کرکے آپ کو آپ کا لیپ ٹاپ پہنچا دیں گے
    Salam, Kaisay hain aap? main chahta hoon kay aap mujh say Aik Laptop Tohfay main Haasil Karain, Is kay liyay aap ko meri facebook.com/rehan33/friends main say 500 loogon ko add karna hoga, aap meri kitaab www.rehanu.com/addme say seekh saktay hain kay aisay kaisay hoga ! Competetion kay rules rehan.com/comps par likhay hain, aur rehan.com/winners par un logoon kay naam hain, jo muft laptop jeet chukay hain, Aap un Say Madad bhi Maang lay hain 🙂 ! Good Luck 🙂 Pakistan Zindabaad لیپ ٹاپ جیتنے کے شرائط و ضوابط. آپ کی فیس بک پروفائل پر آپ کی اپنی تصویر لگی ہونی چاہیے ۔اگر آپ خاتون ہیں اور حجاب کرتی ہیں تو2. حجاب کے ساتھ تصویرلگائیں آپ کے ریحان اللہ والا کے ساتھ 500 باہمی دوست ہونے چاہئیں۔ facebook.com/rehan33/friends آپ کو فیس بک لائیو کا استعمال کرتے ہوئے 10 لوگوں کے انٹرویو کرنے ہیں۔طریقہ کار کے لِیے اس لنک کو وزٹ کریںrehanu.com/fbinterview پانچ انٹرویوز اردو زبان میں پاکستان سے کریں اور ہر صوبے سے ایک ایک انٹرویو کریں، ایک بلوچستان سے، ایک سندھ سے، ایک خیبر پختونخواہ سے، ایک پنجاب سے، اور ایک گلگت بلتستان سے۔ ہر انٹرویو کا دورانیہ 20 منٹ یا اس سے زائد ہونا چاہیے جہاں آپ صرف دو منٹ بات کریں گے بقیہ 18 منٹ مہمان بات کریں گے اگر آپ انگریزی زبان میں انٹرویوز نہیں لے سکتے تو 20 انٹرویوز اردو زبان میں کریں انٹرویو صرف ریحان اللہ والا کے فیس بک دوستوں کا ہونا چاہیے برائے مہربانی جب آپ یہ تمام کام کرچکیں تو جناب عبدالفتاح سومرو سے اس نمبر پر‬ رابطہ کریں وہ تصدیق کرکے آپ کو آپ کا لیپ ٹاپ پہنچا دیں گے
    0 Commenti 0 condivisioni 92 Views 0