• RSIF8
    Roll no: 86
    Movie review no: 4
    Movie Review Topic: **Munna Bhai M.B.B.S.**

    اس ٹاسک میں، میں نے **"Munna Bhai M.B.B.S."** فلم دیکھی اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کے بارے میں اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ اس کے بعد اپنی ریویو ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

    یہ فلم نہ صرف تفریحی ہے بلکہ اس میں **انسانیت، ہمدردی، مہربانی، دوستی اور دوسروں کا احترام** کرنے کے بارے میں بہت اہم سبق دیے گئے ہیں۔ فلم سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لیے صرف طبی علم ہی کافی نہیں بلکہ مریضوں کے ساتھ محبت، احترام اور ہمدردی سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔

    اس فلم کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ **تعلیم انسان کے علم کے ساتھ اس کے کردار کو بھی بہتر بناتی ہے۔** فلم میں دکھایا گیا ہے کہ اچھا برتاؤ، اعتماد، ایمانداری اور دوسروں کی مدد کرنا ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

    اس ریویو ویڈیو کو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، انگلش اسپیکنگ اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔

    مجموعی طور پر، **Munna Bhai M.B.B.S.** میرے لیے ایک دلچسپ، معلوماتی اور سبق آموز تجربہ تھا۔ اس فلم نے مجھے یہ سکھایا کہ علم بہت ضروری ہے، لیکن **انسانیت، مہربانی اور ہمدردی ہمیں ایک بہتر انسان بناتی ہیں۔**

    #MunnaBhaiMBBS #MovieReview #Learning #Education #Humanity #Kindness #Empathy #CommunicationSkills #PublicSpeaking #StudentLearning #RSIF8
    RSIF8 Roll no: 86 Movie review no: 4 Movie Review Topic: **Munna Bhai M.B.B.S.** 🎬🩺✨ اس ٹاسک میں، میں نے **"Munna Bhai M.B.B.S."** فلم دیکھی اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کے بارے میں اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ اس کے بعد اپنی ریویو ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ 📱🌍 یہ فلم نہ صرف تفریحی ہے بلکہ اس میں **انسانیت، ہمدردی، مہربانی، دوستی اور دوسروں کا احترام** کرنے کے بارے میں بہت اہم سبق دیے گئے ہیں۔ فلم سے یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لیے صرف طبی علم ہی کافی نہیں بلکہ مریضوں کے ساتھ محبت، احترام اور ہمدردی سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔ ❤️🩺 اس فلم کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ **تعلیم انسان کے علم کے ساتھ اس کے کردار کو بھی بہتر بناتی ہے۔** فلم میں دکھایا گیا ہے کہ اچھا برتاؤ، اعتماد، ایمانداری اور دوسروں کی مدد کرنا ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ 📚💡 اس ریویو ویڈیو کو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، انگلش اسپیکنگ اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔ 🎤✨ مجموعی طور پر، **Munna Bhai M.B.B.S.** میرے لیے ایک دلچسپ، معلوماتی اور سبق آموز تجربہ تھا۔ اس فلم نے مجھے یہ سکھایا کہ علم بہت ضروری ہے، لیکن **انسانیت، مہربانی اور ہمدردی ہمیں ایک بہتر انسان بناتی ہیں۔** 🌟❤️ #MunnaBhaiMBBS #MovieReview #Learning #Education #Humanity #Kindness #Empathy #CommunicationSkills #PublicSpeaking #StudentLearning #RSIF8 🎬🩺📚✨🌟
    0 Commenti 0 condivisioni 197 Views 3
  • ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔

    وہ فوراً اٹھے اور آہستہ سے کمرے سے باہر آئے۔ دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اور سامان تلاش کر رہا تھا۔

    ملا نے چور کو دیکھ کر شور مچانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ پھر بڑے اطمینان سے بولے:

    "بھائی! تم اتنی رات گئے میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟"

    چور گھبرا گیا، مگر فوراً بولا:
    "میں تو بس راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!"

    ملا مسکرائے اور بولے:
    "اچھا! تو پھر تمہیں راستہ دکھانے کے لیے چراغ چاہیے ہوگا۔"

    چور نے حیرت سے پوچھا:
    "چراغ؟"

    ملا نے جواب دیا:
    "ہاں، کیونکہ جو شخص اندھیرے میں دوسروں کے گھر کا راستہ تلاش کرتا ہے، اسے پہلے اپنے ضمیر کا راستہ تلاش کرنا چاہیے!"

    چور شرمندہ ہو گیا۔ ملا نے نرمی سے کہا:
    "دیکھو بھائی، محنت سے حاصل کی ہوئی روٹی میں سکون ہوتا ہے، لیکن چوری کے مال میں ہمیشہ خوف چھپا ہوتا ہے۔ اگر تمہیں ضرورت ہے تو محنت کرنے کا راستہ اختیار کرو۔"

    چور نے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ ملا نے اسے ایک ایماندار روزگار تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

    چور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا، مگر اس رات ملا کی باتیں اس کے دل میں گھر کر گئیں۔

    **سبق:** دوسروں کا حق چھیننے کے بجائے محنت اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نرم لہجے میں دی گئی نصیحت بھی انسان کی سوچ بدل سکتی ہے۔

    Level One — Day 5 Story Post

    ‍ Student: Mujeeb FreelancingWala
    Roll No.: 51

    اگر آپ کو ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پسند آئی تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں!

    #MullaNasruddin #UrduStory #MoralStory #UrduKahani #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #محنت #LevelOne #Day5 #MujeebFreelancingW
    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ وہ فوراً اٹھے اور آہستہ سے کمرے سے باہر آئے۔ دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اور سامان تلاش کر رہا تھا۔ ملا نے چور کو دیکھ کر شور مچانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ پھر بڑے اطمینان سے بولے: "بھائی! تم اتنی رات گئے میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟" چور گھبرا گیا، مگر فوراً بولا: "میں تو بس راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!" ملا مسکرائے اور بولے: "اچھا! تو پھر تمہیں راستہ دکھانے کے لیے چراغ چاہیے ہوگا۔" چور نے حیرت سے پوچھا: "چراغ؟" ملا نے جواب دیا: "ہاں، کیونکہ جو شخص اندھیرے میں دوسروں کے گھر کا راستہ تلاش کرتا ہے، اسے پہلے اپنے ضمیر کا راستہ تلاش کرنا چاہیے!" چور شرمندہ ہو گیا۔ ملا نے نرمی سے کہا: "دیکھو بھائی، محنت سے حاصل کی ہوئی روٹی میں سکون ہوتا ہے، لیکن چوری کے مال میں ہمیشہ خوف چھپا ہوتا ہے۔ اگر تمہیں ضرورت ہے تو محنت کرنے کا راستہ اختیار کرو۔" چور نے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ ملا نے اسے ایک ایماندار روزگار تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ چور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا، مگر اس رات ملا کی باتیں اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ **سبق:** دوسروں کا حق چھیننے کے بجائے محنت اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نرم لہجے میں دی گئی نصیحت بھی انسان کی سوچ بدل سکتی ہے۔ 🎓 Level One — Day 5 Story Post 👨‍🎓 Student: Mujeeb FreelancingWala 🔢 Roll No.: 51 اگر آپ کو ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پسند آئی تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں! #MullaNasruddin #UrduStory #MoralStory #UrduKahani #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #محنت #LevelOne #Day5 #MujeebFreelancingW
    0 Commenti 0 condivisioni 339 Views
  • RSIF8
    Roll No 48
    Story Post No 65
    Story Topic No: Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔
    ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“
    جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔
    ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“
    اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“
    کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔
    بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“
    بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔
    کہانی سے سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔

    #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    RSIF8 Roll No 48 Story Post No 65 Story Topic No: Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ 🌳 اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔ ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“ 🤔 جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! 😲 ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔ 🪙✨ ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“ اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“ 🗣️ کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔ ❤️ بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“ 😊 بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔ 🏡 🌟 کہانی سے سبق ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ 💖🤲 #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    0 Commenti 0 condivisioni 855 Views
  • RSIF8
    Roll no 024
    Story post 71
    Story topic :Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔

    ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“

    جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔

    ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“

    اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“

    کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔

    بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“

    بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔
    کہانی سے سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔
    Hashtags
    #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    RSIF8 Roll no 024 Story post 71 Story topic :Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ 🌳 اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔ ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“ 🤔 جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! 😲 ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔ 🪙✨ ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“ اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“ 🗣️ کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔ ❤️ بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“ 😊 بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔ 🏡 🌟 کہانی سے سبق ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ 💖🤲 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories 📚✨
    0 Commenti 0 condivisioni 1033 Views
  • # ملا نصرالدین اور رات کا چور

    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں صحن میں کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔

    ملا صاحب فوراً جاگ گئے۔ انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ملا صاحب نے شور مچانے کے بجائے ایک دلچسپ ترکیب سوچی۔ وہ خاموشی سے اٹھے، ایک پرانا صندوق نکالا اور اسے کمرے کے درمیان رکھ دیا۔ پھر خود ایک کونے میں چھپ کر انتظار کرنے لگے۔

    چور دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور جب اسے صندوق نظر آیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

    وہ خوشی سے بڑبڑایا، ’’واہ! آج تو قسمت کھل گئی۔ لگتا ہے اس صندوق میں بہت سا خزانہ ہے!‘‘

    چور نے صندوق کھولا، مگر اندر صرف پرانے کپڑے، چند کتابیں اور ایک ٹوٹی ہوئی لالٹین تھی۔

    چور غصے سے بولا، ’’افسوس! یہاں تو کچھ بھی نہیں!‘‘

    اتنے میں ملا صاحب اندھیرے سے باہر آئے اور بولے، ’’بھائی، تمہیں صندوق میں کیا چاہیے تھا؟‘‘

    چور گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بولا، ’’میں... میں تو راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!‘‘

    ملا صاحب نے حیرت سے کہا، ’’اچھا! تو کیا تم رات کے اس وقت لوگوں کے گھروں میں راستہ تلاش کرتے ہو؟‘‘

    چور نے کوئی جواب نہ دیا اور دروازے کی طرف بھاگنے لگا۔ لیکن ملا صاحب نے فوراً آواز دی، ’’ذرا ٹھہرو!‘‘

    چور ڈر کے مارے رک گیا۔

    ملا صاحب مسکرائے اور بولے، ’’تم خالی ہاتھ جا رہے ہو۔ کم از کم یہ ٹوٹی ہوئی لالٹین تو لے جاؤ، شاید تمہیں اپنے گھر کا راستہ دکھا دے!‘‘

    چور شرمندہ ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ ملا صاحب اس کی چوری کی نیت سمجھ چکے ہیں۔ اس نے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ محنت سے روزی کمائے گا۔

    ملا صاحب نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا، ’’یاد رکھو! دوسروں کا مال چرانے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی محنت سے کمائے۔ محنت کی کمائی میں سکون بھی ہے اور عزت بھی۔‘‘

    چور وہاں سے چلا گیا، اور ملا صاحب دوبارہ اپنے بستر پر جا کر سو گئے۔

    صبح پڑوسیوں نے پوچھا، ’’ملا صاحب! رات کو کیا ہوا تھا؟‘‘

    ملا صاحب ہنس کر بولے، ’’ایک مہمان آیا تھا، مگر اسے میرا گھر پسند نہیں آیا۔ وہ تحفہ لیے بغیر ہی واپس چلا گیا!‘‘

    ## کہانی کا سبق

    **چوری کبھی کامیابی کا راستہ نہیں ہوتی۔ ایمانداری، محنت اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہی عزت کی اصل بنیاد ہیں۔**

    **آپ بتائیں:** اگر آپ ملا نصرالدین کی جگہ ہوتے تو چور کو کیسے سمجھاتے؟

    #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #Level1 #Day4 #StoryPost #Honesty #Wisdom #FunnyStories #LifeLessons #Pakistan
    # 😂 ملا نصرالدین اور رات کا چور ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں صحن میں کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ ملا صاحب فوراً جاگ گئے۔ انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ملا صاحب نے شور مچانے کے بجائے ایک دلچسپ ترکیب سوچی۔ وہ خاموشی سے اٹھے، ایک پرانا صندوق نکالا اور اسے کمرے کے درمیان رکھ دیا۔ پھر خود ایک کونے میں چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ چور دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور جب اسے صندوق نظر آیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ خوشی سے بڑبڑایا، ’’واہ! آج تو قسمت کھل گئی۔ لگتا ہے اس صندوق میں بہت سا خزانہ ہے!‘‘ چور نے صندوق کھولا، مگر اندر صرف پرانے کپڑے، چند کتابیں اور ایک ٹوٹی ہوئی لالٹین تھی۔ چور غصے سے بولا، ’’افسوس! یہاں تو کچھ بھی نہیں!‘‘ اتنے میں ملا صاحب اندھیرے سے باہر آئے اور بولے، ’’بھائی، تمہیں صندوق میں کیا چاہیے تھا؟‘‘ چور گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بولا، ’’میں... میں تو راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!‘‘ ملا صاحب نے حیرت سے کہا، ’’اچھا! تو کیا تم رات کے اس وقت لوگوں کے گھروں میں راستہ تلاش کرتے ہو؟‘‘ چور نے کوئی جواب نہ دیا اور دروازے کی طرف بھاگنے لگا۔ لیکن ملا صاحب نے فوراً آواز دی، ’’ذرا ٹھہرو!‘‘ چور ڈر کے مارے رک گیا۔ ملا صاحب مسکرائے اور بولے، ’’تم خالی ہاتھ جا رہے ہو۔ کم از کم یہ ٹوٹی ہوئی لالٹین تو لے جاؤ، شاید تمہیں اپنے گھر کا راستہ دکھا دے!‘‘ 😄 چور شرمندہ ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ ملا صاحب اس کی چوری کی نیت سمجھ چکے ہیں۔ اس نے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ محنت سے روزی کمائے گا۔ ملا صاحب نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا، ’’یاد رکھو! دوسروں کا مال چرانے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی محنت سے کمائے۔ محنت کی کمائی میں سکون بھی ہے اور عزت بھی۔‘‘ چور وہاں سے چلا گیا، اور ملا صاحب دوبارہ اپنے بستر پر جا کر سو گئے۔ صبح پڑوسیوں نے پوچھا، ’’ملا صاحب! رات کو کیا ہوا تھا؟‘‘ ملا صاحب ہنس کر بولے، ’’ایک مہمان آیا تھا، مگر اسے میرا گھر پسند نہیں آیا۔ وہ تحفہ لیے بغیر ہی واپس چلا گیا!‘‘ 😂 ## 🌟 کہانی کا سبق **چوری کبھی کامیابی کا راستہ نہیں ہوتی۔ ایمانداری، محنت اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہی عزت کی اصل بنیاد ہیں۔** 💬 **آپ بتائیں:** اگر آپ ملا نصرالدین کی جگہ ہوتے تو چور کو کیسے سمجھاتے؟ #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #Level1 #Day4 #StoryPost #Honesty #Wisdom #FunnyStories #LifeLessons #Pakistan
    0 Commenti 0 condivisioni 792 Views
  • RSIF8
    Roll no: 86
    Movie Review no: 2
    Movie Review Topic: **Gandhi**

    اس ٹاسک میں، میں نے **گاندھی** کی زندگی پر مبنی ویڈیو دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ بعد میں میں نے یہ ویڈیوز **Facebook، Instagram، اور TikTok** پر شیئر کیں۔

    اس ویڈیو سے میں نے سیکھا کہ **امن، سچائی، صبر، اور عدم تشدد** انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ گاندھی جی نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ محبت، برداشت، اور اچھے اخلاق کے ذریعے بھی بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    میں نے یہ بھی سیکھا کہ ایک مضبوط کردار، ایمانداری، اور دوسروں کا احترام انسان کو کامیاب بناتا ہے۔ اگر ہم خود پر یقین رکھیں اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں تو ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    یہ ریویو ویڈیو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔

    مجموعی طور پر، یہ ایک نہایت معلوماتی اور متاثر کن تجربہ تھا جس نے مجھے امن، برداشت، اور اچھے کردار کی اہمیت سمجھائی اور ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دی۔

    #Gandhi #Peace #Truth #NonViolence #Leadership #Education #Learning #StudentLearning #Motivation #RSIF8
    12w
    RSIF8 Roll no: 86 Movie Review no: 2 Movie Review Topic: **Gandhi** 🎥🕊️ اس ٹاسک میں، میں نے **گاندھی** کی زندگی پر مبنی ویڈیو دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ بعد میں میں نے یہ ویڈیوز **Facebook، Instagram، اور TikTok** پر شیئر کیں۔ 📱✨ اس ویڈیو سے میں نے سیکھا کہ **امن، سچائی، صبر، اور عدم تشدد** انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ گاندھی جی نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ محبت، برداشت، اور اچھے اخلاق کے ذریعے بھی بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ 🕊️🤝 میں نے یہ بھی سیکھا کہ ایک مضبوط کردار، ایمانداری، اور دوسروں کا احترام انسان کو کامیاب بناتا ہے۔ اگر ہم خود پر یقین رکھیں اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں تو ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ 🌟📚 یہ ریویو ویڈیو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔ 🎤💡 مجموعی طور پر، یہ ایک نہایت معلوماتی اور متاثر کن تجربہ تھا جس نے مجھے امن، برداشت، اور اچھے کردار کی اہمیت سمجھائی اور ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دی۔ 🌍✨ #Gandhi #Peace #Truth #NonViolence #Leadership #Education #Learning #StudentLearning #Motivation #RSIF8 🕊️📚🌟✨ 12w
    0 Commenti 0 condivisioni 1340 Views 26
  • rehan school urdu bazar
    roll no 11
    foundation level
    # 🫏 ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت
    ## Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price

    ### اردو کہانی

    **پیراگراف 1:**

    ایک دن ملا نصرالدین اپنے گدھے کے ساتھ ایک مصروف بازار سے گزر رہے تھے۔ وہ تھک چکے تھے اور انہوں نے سوچا کہ اب گدھے کو بیچ دینا چاہیے۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا، ’’آپ اپنے گدھے کی کتنی قیمت چاہتے ہیں؟‘‘

    **پیراگراف 2:**

    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، ’’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ تم کتنے پیسے دینے کے لیے تیار ہو۔‘‘ آدمی نے کچھ دیر سوچا اور کہا، ’’میرے خیال میں بیس سونے کے سکے اس کی مناسب قیمت ہے۔‘‘

    **پیراگراف 3:**

    ملا نصرالدین نے سر ہلایا اور کہا، ’’بیس سونے کے سکے بہت کم ہیں! میرا گدھا کم از کم پچاس سونے کے سکوں کا ہے۔‘‘ آدمی حیران ہو کر بولا، ’’پچاس سونے کے سکے؟ یہ تو بہت زیادہ قیمت ہے!‘‘

    **پیراگراف 4:**

    ملا نصرالدین ہنس کر بولے، ’’تم کہتے ہو کہ بیس سکے بہت کم ہیں اور پچاس سکے بہت زیادہ ہیں۔ لگتا ہے کہ تم حقیقت میں میرا گدھا خریدنا ہی نہیں چاہتے!‘‘ آدمی شرمندہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ ملا نصرالدین مسکراتے ہوئے اپنے سفر پر آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ کچھ لوگ اچھا سودا کرنے کے بجائے صرف قیمت پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں۔

    ### سبق:
    **ہمیشہ سمجھ داری اور ایمانداری سے سودا کرنا چاہیے۔**# Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price

    **Paragraph 1:**

    One day, Mulla Nasrudin was walking through a busy market with his donkey. He was tired and decided to sell it. Soon, a man came up to him and asked, “How much do you want for your donkey?”

    **Paragraph 2:**

    Mulla Nasrudin smiled and replied, “It depends on how much you are willing to pay.” The man thought for a moment and said, “I think twenty gold coins is a fair price.”

    **Paragraph 3:**

    Mulla Nasrudin shook his head and said, “Twenty gold coins are too little! My donkey is worth at least fifty gold coins.” The man was surprised and exclaimed, “Fifty gold coins? That is far too expensive!”

    **Paragraph 4:**

    Mulla Nasrudin laughed and said, “You say twenty is too little, and fifty is too much. Perhaps you are not really interested in buying my donkey!” The man felt embarrassed and walked away. Mulla Nasrudin continued his journey with a smile. He learned that some people enjoy arguing more than making a fair deal.

    **Moral:** Be reasonable and honest when making a deal.
    rehan school urdu bazar roll no 11 foundation level # 🫏 ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت ## Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price ### 📗 اردو کہانی **پیراگراف 1:** ایک دن ملا نصرالدین اپنے گدھے کے ساتھ ایک مصروف بازار سے گزر رہے تھے۔ وہ تھک چکے تھے اور انہوں نے سوچا کہ اب گدھے کو بیچ دینا چاہیے۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا، ’’آپ اپنے گدھے کی کتنی قیمت چاہتے ہیں؟‘‘ **پیراگراف 2:** ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، ’’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ تم کتنے پیسے دینے کے لیے تیار ہو۔‘‘ آدمی نے کچھ دیر سوچا اور کہا، ’’میرے خیال میں بیس سونے کے سکے اس کی مناسب قیمت ہے۔‘‘ **پیراگراف 3:** ملا نصرالدین نے سر ہلایا اور کہا، ’’بیس سونے کے سکے بہت کم ہیں! میرا گدھا کم از کم پچاس سونے کے سکوں کا ہے۔‘‘ آدمی حیران ہو کر بولا، ’’پچاس سونے کے سکے؟ یہ تو بہت زیادہ قیمت ہے!‘‘ **پیراگراف 4:** ملا نصرالدین ہنس کر بولے، ’’تم کہتے ہو کہ بیس سکے بہت کم ہیں اور پچاس سکے بہت زیادہ ہیں۔ لگتا ہے کہ تم حقیقت میں میرا گدھا خریدنا ہی نہیں چاہتے!‘‘ آدمی شرمندہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ ملا نصرالدین مسکراتے ہوئے اپنے سفر پر آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ کچھ لوگ اچھا سودا کرنے کے بجائے صرف قیمت پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں۔ ### 🌟 سبق: **ہمیشہ سمجھ داری اور ایمانداری سے سودا کرنا چاہیے۔**# Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price **Paragraph 1:** One day, Mulla Nasrudin was walking through a busy market with his donkey. He was tired and decided to sell it. Soon, a man came up to him and asked, “How much do you want for your donkey?” **Paragraph 2:** Mulla Nasrudin smiled and replied, “It depends on how much you are willing to pay.” The man thought for a moment and said, “I think twenty gold coins is a fair price.” **Paragraph 3:** Mulla Nasrudin shook his head and said, “Twenty gold coins are too little! My donkey is worth at least fifty gold coins.” The man was surprised and exclaimed, “Fifty gold coins? That is far too expensive!” **Paragraph 4:** Mulla Nasrudin laughed and said, “You say twenty is too little, and fifty is too much. Perhaps you are not really interested in buying my donkey!” The man felt embarrassed and walked away. Mulla Nasrudin continued his journey with a smile. He learned that some people enjoy arguing more than making a fair deal. **Moral:** Be reasonable and honest when making a deal.
    0 Commenti 0 condivisioni 730 Views
  • RSIF8
    Roll no: 86
    Movie Review no: 1
    Movie Review Topic: "Jinnah" – Review Video

    اس ٹاسک میں، میں نے "جناح" فلم دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ اس کے بعد میں نے دونوں ویڈیوز Facebook، Instagram، TikTok، YouTube، اور LinkedIn پر شیئر کیں۔

    یہ فلم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی، ان کی جدوجہد، قیادت، اور پاکستان کے قیام کے لیے کی گئی بے مثال قربانیوں کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس فلم سے مجھے معلوم ہوا کہ مضبوط عزم، ایمانداری، اور مسلسل محنت سے بڑے سے بڑا مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    میں نے اس فلم سے اتحاد، ایمان، اور نظم و ضبط کی اہمیت سیکھی۔ قائدِ اعظم نے ہمیشہ تعلیم، دیانت داری، اور قومی یکجہتی پر زور دیا، جو آج بھی ہماری کامیابی کے لیے نہایت ضروری اصول ہیں۔

    اس ریویو ویڈیو کو بنانے سے میری پاکستان کی تاریخ کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا، میری پریزنٹیشن اور کمیونیکیشن اسکلز بہتر ہوئیں، اور مجھے اپنے ملک سے محبت اور ذمہ داری کا مزید احساس ہوا۔

    مجموعی طور پر، یہ فلم نہایت متاثر کن، معلوماتی، اور سبق آموز ہے۔ اس نے مجھے محنت، قیادت، حب الوطنی، اور مثبت کردار کی اہمیت سمجھائی، اور مجھے اپنی زندگی میں ان اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔

    #Jinnah #QuaidEAzam #Pakistan #Leadership #History #Education #Learning #StudentLearning #Motivation #RSIF8
    RSIF8 Roll no: 86 Movie Review no: 1 Movie Review Topic: "Jinnah" – Review Video 🎥🇵🇰 اس ٹاسک میں، میں نے "جناح" فلم دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ اس کے بعد میں نے دونوں ویڈیوز Facebook، Instagram، TikTok، YouTube، اور LinkedIn پر شیئر کیں۔ 📱🌟 یہ فلم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی، ان کی جدوجہد، قیادت، اور پاکستان کے قیام کے لیے کی گئی بے مثال قربانیوں کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس فلم سے مجھے معلوم ہوا کہ مضبوط عزم، ایمانداری، اور مسلسل محنت سے بڑے سے بڑا مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 🇵🇰✨ میں نے اس فلم سے اتحاد، ایمان، اور نظم و ضبط کی اہمیت سیکھی۔ قائدِ اعظم نے ہمیشہ تعلیم، دیانت داری، اور قومی یکجہتی پر زور دیا، جو آج بھی ہماری کامیابی کے لیے نہایت ضروری اصول ہیں۔ 📚💡 اس ریویو ویڈیو کو بنانے سے میری پاکستان کی تاریخ کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا، میری پریزنٹیشن اور کمیونیکیشن اسکلز بہتر ہوئیں، اور مجھے اپنے ملک سے محبت اور ذمہ داری کا مزید احساس ہوا۔ 🌍❤️ مجموعی طور پر، یہ فلم نہایت متاثر کن، معلوماتی، اور سبق آموز ہے۔ اس نے مجھے محنت، قیادت، حب الوطنی، اور مثبت کردار کی اہمیت سمجھائی، اور مجھے اپنی زندگی میں ان اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ 🌟🚀 #Jinnah #QuaidEAzam #Pakistan #Leadership #History #Education #Learning #StudentLearning #Motivation #RSIF8 🇵🇰🎥📚🌟
    0 Commenti 0 condivisioni 2696 Views 3
  • rahan school campus urdu baar
    Roll No 16
    foundation leval student
    # Day 13 Mulla Nasrudin’s Missing Ring

    **Once Upon a Time...**

    One day, Mulla Nasrudin visited the house of a rich man in his village. The rich man was very proud of his beautiful and expensive ring. He took it out of a small jewelry box and showed it to Mulla Nasrudin. “Look at this wonderful ring,” he said proudly. “It is very precious to me, so please be careful whenever you handle it.”

    Mulla Nasrudin smiled politely and replied, “Of course! I understand how valuable it is, and I will be very careful.” He spent some time talking with the man and enjoying his visit. After a while, Mulla thanked his host and left the house. Everything seemed perfectly normal, and nobody suspected that anything was wrong.

    A little later, the rich man opened his jewelry box and suddenly discovered that his precious ring was missing! He searched the box again and again, checked the table, and looked around the entire room. But the ring was nowhere to be found. He became worried and angry. Then he remembered that Mulla Nasrudin had been the last visitor in his house. Without thinking carefully, he began to suspect Mulla.

    The rich man hurried outside and found Mulla Nasrudin nearby. “Mulla!” he shouted. “My precious ring is missing. You were the last person who visited my house. Do you know anything about it?” Mulla remained calm and answered, “I do not know where your ring is, but I will help you look for it. Let us search carefully before making any accusations.”

    Together, they returned to the house and searched every corner. They checked the room, the furniture, and the places where the ring might have fallen. They looked carefully, but the ring was still missing. Finally, Mulla Nasrudin turned to the rich man and said, “My friend, we have searched everywhere, but we have not found your ring. Remember one important thing: when something goes missing, do not blame someone without evidence. First, look for the truth.”

    The rich man felt ashamed of his suspicion. He realized that he had accused Mulla without having any proof. He apologized and thanked Mulla for his patience and wisdom. Mulla smiled and replied, “Everyone makes mistakes, but a wise person admits them and learns from them.” The rich man never forgot that lesson.

    ## Moral of the Story

    **Never accuse anyone without proof. Stay calm, search for the truth, and treat others with honesty and respect. A wise person thinks before making a judgment.**
    # دن 13 ملا نصرالدین کی گم شدہ انگوٹھی

    **ایک دفعہ کا ذکر ہے...**

    ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے ایک امیر آدمی کے گھر گئے۔ وہ امیر آدمی اپنی خوبصورت اور قیمتی انگوٹھی پر بہت فخر کرتا تھا۔ اس نے ایک چھوٹے سے زیورات کے ڈبے سے انگوٹھی نکالی اور ملا نصرالدین کو دکھاتے ہوئے کہا، ”دیکھیے، یہ کتنی خوبصورت انگوٹھی ہے! یہ میرے لیے بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کیجیے گا۔“

    ملا نصرالدین مسکرائے اور ادب سے جواب دیا، ”بالکل! میں سمجھتا ہوں کہ یہ انگوٹھی آپ کے لیے کتنی قیمتی ہے، اور میں پوری احتیاط کروں گا۔“ کچھ دیر تک دونوں باتیں کرتے رہے اور ملاقات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پھر ملا نصرالدین نے اپنے میزبان کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔

    کچھ دیر بعد امیر آدمی نے اپنے زیورات کا ڈبہ کھولا تو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کی قیمتی انگوٹھی غائب ہے! اس نے بار بار ڈبہ دیکھا، میز پر تلاش کیا اور پورے کمرے کا جائزہ لیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔ وہ بہت پریشان اور غصے میں آ گیا۔ پھر اسے یاد آیا کہ ملا نصرالدین اس کے گھر آنے والے آخری مہمان تھے۔ بغیر سوچے سمجھے اس نے ملا پر شک کرنا شروع کر دیا۔

    امیر آدمی جلدی سے باہر گیا اور ملا نصرالدین کو قریب ہی پا لیا۔ وہ غصے سے بولا، ”ملا صاحب! میری قیمتی انگوٹھی غائب ہو گئی ہے۔ آپ میرے گھر آنے والے آخری شخص تھے۔ کیا آپ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟“ ملا نصرالدین پرسکون رہے اور بولے، ”مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی انگوٹھی کہاں ہے، لیکن میں اسے تلاش کرنے میں آپ کی مدد کروں گا۔ کسی پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں اچھی طرح تلاش کرنا چاہیے۔“

    دونوں واپس گھر گئے اور ہر کونے میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے کمرے، فرنیچر اور ان تمام جگہوں کو دیکھا جہاں انگوٹھی گر سکتی تھی۔ انہوں نے بہت کوشش کی، لیکن انگوٹھی نہ ملی۔ آخرکار ملا نصرالدین نے امیر آدمی سے کہا، ”میرے دوست! ہم نے ہر جگہ تلاش کیا ہے، لیکن انگوٹھی نہیں ملی۔ ایک اہم بات یاد رکھیں: جب کوئی چیز گم ہو جائے تو بغیر ثبوت کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ سب سے پہلے سچائی تلاش کرنی چاہیے۔“

    امیر آدمی کو اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے بغیر کسی ثبوت کے ملا نصرالدین پر شک کیا تھا۔ اس نے معافی مانگی اور ملا کی سمجھ داری اور صبر کا شکریہ ادا کیا۔ ملا مسکرائے اور بولے، ”ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن سمجھ دار انسان اپنی غلطی مانتا ہے اور اس سے سبق سیکھتا ہے۔“ امیر آدمی نے یہ سبق ہمیشہ یاد رکھا۔

    ## کہانی کا سبق

    **بغیر ثبوت کسی پر الزام نہ لگائیں۔ پرسکون رہیں، سچائی تلاش کریں اور دوسروں کے ساتھ ایمانداری اور عزت سے پیش آئیں۔ سمجھ دار انسان فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچتا ہے۔**
    rahan school campus urdu baar Roll No 16 foundation leval student # Day 13 📖 Mulla Nasrudin’s Missing Ring **Once Upon a Time...** One day, Mulla Nasrudin visited the house of a rich man in his village. The rich man was very proud of his beautiful and expensive ring. He took it out of a small jewelry box and showed it to Mulla Nasrudin. “Look at this wonderful ring,” he said proudly. “It is very precious to me, so please be careful whenever you handle it.” Mulla Nasrudin smiled politely and replied, “Of course! I understand how valuable it is, and I will be very careful.” He spent some time talking with the man and enjoying his visit. After a while, Mulla thanked his host and left the house. Everything seemed perfectly normal, and nobody suspected that anything was wrong. A little later, the rich man opened his jewelry box and suddenly discovered that his precious ring was missing! He searched the box again and again, checked the table, and looked around the entire room. But the ring was nowhere to be found. He became worried and angry. Then he remembered that Mulla Nasrudin had been the last visitor in his house. Without thinking carefully, he began to suspect Mulla. The rich man hurried outside and found Mulla Nasrudin nearby. “Mulla!” he shouted. “My precious ring is missing. You were the last person who visited my house. Do you know anything about it?” Mulla remained calm and answered, “I do not know where your ring is, but I will help you look for it. Let us search carefully before making any accusations.” Together, they returned to the house and searched every corner. They checked the room, the furniture, and the places where the ring might have fallen. They looked carefully, but the ring was still missing. Finally, Mulla Nasrudin turned to the rich man and said, “My friend, we have searched everywhere, but we have not found your ring. Remember one important thing: when something goes missing, do not blame someone without evidence. First, look for the truth.” The rich man felt ashamed of his suspicion. He realized that he had accused Mulla without having any proof. He apologized and thanked Mulla for his patience and wisdom. Mulla smiled and replied, “Everyone makes mistakes, but a wise person admits them and learns from them.” The rich man never forgot that lesson. ## 🌟 Moral of the Story **Never accuse anyone without proof. Stay calm, search for the truth, and treat others with honesty and respect. A wise person thinks before making a judgment.** # دن 13 📖 ملا نصرالدین کی گم شدہ انگوٹھی **ایک دفعہ کا ذکر ہے...** ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے ایک امیر آدمی کے گھر گئے۔ وہ امیر آدمی اپنی خوبصورت اور قیمتی انگوٹھی پر بہت فخر کرتا تھا۔ اس نے ایک چھوٹے سے زیورات کے ڈبے سے انگوٹھی نکالی اور ملا نصرالدین کو دکھاتے ہوئے کہا، ”دیکھیے، یہ کتنی خوبصورت انگوٹھی ہے! یہ میرے لیے بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کیجیے گا۔“ ملا نصرالدین مسکرائے اور ادب سے جواب دیا، ”بالکل! میں سمجھتا ہوں کہ یہ انگوٹھی آپ کے لیے کتنی قیمتی ہے، اور میں پوری احتیاط کروں گا۔“ کچھ دیر تک دونوں باتیں کرتے رہے اور ملاقات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پھر ملا نصرالدین نے اپنے میزبان کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ کچھ دیر بعد امیر آدمی نے اپنے زیورات کا ڈبہ کھولا تو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کی قیمتی انگوٹھی غائب ہے! اس نے بار بار ڈبہ دیکھا، میز پر تلاش کیا اور پورے کمرے کا جائزہ لیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔ وہ بہت پریشان اور غصے میں آ گیا۔ پھر اسے یاد آیا کہ ملا نصرالدین اس کے گھر آنے والے آخری مہمان تھے۔ بغیر سوچے سمجھے اس نے ملا پر شک کرنا شروع کر دیا۔ امیر آدمی جلدی سے باہر گیا اور ملا نصرالدین کو قریب ہی پا لیا۔ وہ غصے سے بولا، ”ملا صاحب! میری قیمتی انگوٹھی غائب ہو گئی ہے۔ آپ میرے گھر آنے والے آخری شخص تھے۔ کیا آپ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟“ ملا نصرالدین پرسکون رہے اور بولے، ”مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی انگوٹھی کہاں ہے، لیکن میں اسے تلاش کرنے میں آپ کی مدد کروں گا۔ کسی پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں اچھی طرح تلاش کرنا چاہیے۔“ دونوں واپس گھر گئے اور ہر کونے میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے کمرے، فرنیچر اور ان تمام جگہوں کو دیکھا جہاں انگوٹھی گر سکتی تھی۔ انہوں نے بہت کوشش کی، لیکن انگوٹھی نہ ملی۔ آخرکار ملا نصرالدین نے امیر آدمی سے کہا، ”میرے دوست! ہم نے ہر جگہ تلاش کیا ہے، لیکن انگوٹھی نہیں ملی۔ ایک اہم بات یاد رکھیں: جب کوئی چیز گم ہو جائے تو بغیر ثبوت کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ سب سے پہلے سچائی تلاش کرنی چاہیے۔“ امیر آدمی کو اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے بغیر کسی ثبوت کے ملا نصرالدین پر شک کیا تھا۔ اس نے معافی مانگی اور ملا کی سمجھ داری اور صبر کا شکریہ ادا کیا۔ ملا مسکرائے اور بولے، ”ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن سمجھ دار انسان اپنی غلطی مانتا ہے اور اس سے سبق سیکھتا ہے۔“ امیر آدمی نے یہ سبق ہمیشہ یاد رکھا۔ ## 🌟 کہانی کا سبق **بغیر ثبوت کسی پر الزام نہ لگائیں۔ پرسکون رہیں، سچائی تلاش کریں اور دوسروں کے ساتھ ایمانداری اور عزت سے پیش آئیں۔ سمجھ دار انسان فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچتا ہے۔**
    0 Commenti 0 condivisioni 1187 Views
  • rahan school campus urdu bazar
    Roll No 16
    foundation level studant
    # Day 12 The Clever Plan of Mulla Nasrudin

    **Once Upon a Time...**

    One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more
    # دن 12 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ

    **ایک دفعہ کا ذکر ہے...**

    ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔

    ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“

    ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔

    کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“

    ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“

    ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“

    ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔

    ## کہانی کا سبق

    **سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
    rahan school campus urdu bazar Roll No 16 foundation level studant # Day 12 📖 The Clever Plan of Mulla Nasrudin **Once Upon a Time...** One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more # دن 12 📖 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ **ایک دفعہ کا ذکر ہے...** ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔ ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“ ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔ کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“ ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“ ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“ ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔ ## 🌟 کہانی کا سبق **سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
    0 Commenti 0 condivisioni 996 Views
Pagine in Evidenza