• Level 1
    Book 1
    Day 7
    Task story post 2
    مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
    ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔"
    وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
    ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔"
    سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔
    Summary
    ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔
    Moral
    ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
    Hashtags
    #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking
    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Shazia Javed
    Waryam Tharparkar Wala
    Level 1 Book 1 Day 7 Task story post 2 مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی 🪙 ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔ ✨ ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔" وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔ 😊 ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔" ❤️ سبق 🌟 ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔ 📖 Summary ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔ 🌟 Moral ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Shazia Javed Waryam Tharparkar Wala
    0 Kommentare 0 Anteile 168 Ansichten
  • " صفائی نصف ایمان ہے"
    آج ہمارے طلبہ نے صفائی کی سرگرمی میں حصہ لیا اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے کا عملی پیغام دیا۔
    ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صرف کتابوں سے نہیں بلکہ **اپنے عمل سے بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔**
    آئیں! ہم سب مل کر اپنے اسکول، گلی، محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔
    **Cleanliness is half of faith.**
    Today, our students took part in a cleanliness activity and worked together to keep their surroundings clean.
    We believe education is not only about books—it is also about **building responsible citizens who create positive change through their actions.**
    Let’s work together to keep our schools, streets, neighborhoods, and cities clean.
    #SafaiNisfImanHai #Cleanliness #StudentActivity #RehanSchool Rehan Allahwala Irfan Ahmed Allahwala Na-237 Rehan School Korangi Campus Rehan School Munawwar Campus Rehan School Islamabad Campus Rehan School Online Academy Muhammad Bin Riaz SafaiWala Rubab EducationWali Rehan School Mohsin Rathore Seo Wala Rehan Allahwala Buzdar EducationWala #PositiveChange #ResponsibleCitizens
    Manahil Ibrahim Remotejobwali Rehan Allahwala
    🧹" صفائی نصف ایمان ہے" 🌿 آج ہمارے طلبہ نے صفائی کی سرگرمی میں حصہ لیا اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے کا عملی پیغام دیا۔ ❤️ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صرف کتابوں سے نہیں بلکہ **اپنے عمل سے بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔** آئیں! ہم سب مل کر اپنے اسکول، گلی، محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔ 🌍✨ **Cleanliness is half of faith.** 🧹 Today, our students took part in a cleanliness activity and worked together to keep their surroundings clean. 🌿 We believe education is not only about books—it is also about **building responsible citizens who create positive change through their actions.** Let’s work together to keep our schools, streets, neighborhoods, and cities clean. 💚 #SafaiNisfImanHai #Cleanliness #StudentActivity #RehanSchool Rehan Allahwala Irfan Ahmed Allahwala Na-237 Rehan School Korangi Campus Rehan School Munawwar Campus Rehan School Islamabad Campus Rehan School Online Academy Muhammad Bin Riaz SafaiWala Rubab EducationWali Rehan School Mohsin Rathore Seo Wala Rehan Allahwala Buzdar EducationWala #PositiveChange #ResponsibleCitizens [manahilibrahim] [rehan]
    1
    0 Kommentare 0 Anteile 1584 Ansichten 8
  • یہ دعا بہت پیاری ہے ، اسکو سکون سے پڑھو اور دل میں آمین کہو اور اس میسج کو آگے فارورڈ کرو، ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ہو جائے. (آمین)

    — اے الله رب العزت

    — اے ساری کائنات کے شہنشاہ

    — اے ساری مخلوق کے پالنے والے

    — اے زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے

    — اے آسمانوں اور زمین کے مالک

    — اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک

    — اے انسان اور جنات کے معبود

    — اے عرش عظیم کے مالک

    — اے فرشتوں کے معبود

    — اے عزت اور ذلت کے مالک

    — اے بیماروں کو شفا دینے والے

    — اے بادشاھوں کے بادشاہ

    — اے الله ہم تیرے گنہگار بندے ہیں

    — تیرے خطاکار بندے ہیں

    — ہمارے گناہوں کو معاف فرما

    — ہماری خطاؤں کو معاف فرما

    — اے الله ہم اپنے اگلے پچھلے ، صغیرہ کبیرہ ، چھوٹے بڑے سبھی گناہوں اور خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں

    — اے الله رب عزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول کرلے ...

    — اے الله ہم گنہگار ہیں ، سیاہکار ہیں ، بدکار ہیں، تیرے حکم کے نافرمان ہیں، ناشکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں تیری توحید کی گواھی دیتے ہیں.

    — تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے.

    — تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے.

    — تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہیں .

    — ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں.

    — تو اپنی رحمت سے ہمیں معاف کردے.

    — اے الله پاک آپ ہمیں گمراھی کے راستے سے ہٹا کر صراط مستقیم کے راستے پہ چلنے والہ بنا دے.

    — اے الله ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے.

    — زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے.

    — ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے.

    — ایمان پر زندہ رکھ اور ایمان پر ہی موت عطا کر...

    — اے الله ہمیں تیرے حکموں کی فرمانبرداری کرنے والا بنا...

    — اور تیرے پیارے حبیب جناب محمد رسول الله کے نیک اور پاکیزہ طریقوں کو اپنی زندگی میں لانے والا بنا.

    — اے الله ہماری پریشانیوں کو دور کردے.

    — اے الله جو بیمار ہیں انہیں شفا عطا فرما.

    — اے الله جو قرض کے بوجھ سے دبے ہوے ہیں انکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے.

    — اے الله شیطان سے ہماری حفاظت فرما.

    — اے الله اسلام کے دشمنوں کا منه کالا کر.

    — اے الله حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما.

    — اے پروردگار عالم ہمیں مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ہر چیز پہ قادر ہے.

    — اے الله جو مانگا وہ بھی عطا فرما جو مانگنے سے رہ گیا وہ بھی عطا عنایت فرما.

    — ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور آگے بڑھا رہا ہے اسکی ساری پریشانیوں تکلیفوں بیماریوں کو دور فرما اور صحت کاملہ عطا کر.



    آمین ... آمین ... آمین

    Courtesy Sultan Arfeen
    یہ دعا بہت پیاری ہے ، اسکو سکون سے پڑھو اور دل میں آمین کہو اور اس میسج کو آگے فارورڈ کرو، ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ہو جائے. (آمین) — اے الله رب العزت — اے ساری کائنات کے شہنشاہ — اے ساری مخلوق کے پالنے والے — اے زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے — اے آسمانوں اور زمین کے مالک — اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک — اے انسان اور جنات کے معبود — اے عرش عظیم کے مالک — اے فرشتوں کے معبود — اے عزت اور ذلت کے مالک — اے بیماروں کو شفا دینے والے — اے بادشاھوں کے بادشاہ — اے الله ہم تیرے گنہگار بندے ہیں — تیرے خطاکار بندے ہیں — ہمارے گناہوں کو معاف فرما — ہماری خطاؤں کو معاف فرما — اے الله ہم اپنے اگلے پچھلے ، صغیرہ کبیرہ ، چھوٹے بڑے سبھی گناہوں اور خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں — اے الله رب عزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول کرلے ... — اے الله ہم گنہگار ہیں ، سیاہکار ہیں ، بدکار ہیں، تیرے حکم کے نافرمان ہیں، ناشکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں تیری توحید کی گواھی دیتے ہیں. — تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے. — تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے. — تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہیں . — ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں. — تو اپنی رحمت سے ہمیں معاف کردے. — اے الله پاک آپ ہمیں گمراھی کے راستے سے ہٹا کر صراط مستقیم کے راستے پہ چلنے والہ بنا دے. — اے الله ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے. — زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے. — ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے. — ایمان پر زندہ رکھ اور ایمان پر ہی موت عطا کر... — اے الله ہمیں تیرے حکموں کی فرمانبرداری کرنے والا بنا... — اور تیرے پیارے حبیب جناب محمد رسول الله کے نیک اور پاکیزہ طریقوں کو اپنی زندگی میں لانے والا بنا. — اے الله ہماری پریشانیوں کو دور کردے. — اے الله جو بیمار ہیں انہیں شفا عطا فرما. — اے الله جو قرض کے بوجھ سے دبے ہوے ہیں انکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے. — اے الله شیطان سے ہماری حفاظت فرما. — اے الله اسلام کے دشمنوں کا منه کالا کر. — اے الله حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما. — اے پروردگار عالم ہمیں مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ہر چیز پہ قادر ہے. — اے الله جو مانگا وہ بھی عطا فرما جو مانگنے سے رہ گیا وہ بھی عطا عنایت فرما. — ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور آگے بڑھا رہا ہے اسکی ساری پریشانیوں تکلیفوں بیماریوں کو دور فرما اور صحت کاملہ عطا کر. آمین ... آمین ... آمین Courtesy Sultan Arfeen
    0 Kommentare 0 Anteile 1092 Ansichten
  • اللہ آپکی جان ، مال ، ایمان ، آبرو، روزی ، رزق ، علم ، عمل ، گھر، کاروبار ، دسترخوان ، اولاد، زندگی ، خوشیوں، عبادات ، تقوی ا ،اخلاص ، اخلاق ، سادگی ، عاجزی، انکساری اور عمر میں برکتیں، رحمتیں ، وسعتیں، رفعتیں، اورعروج و بلندیاں عطاء فرماۓ. آمین

    A beautiful dua by Rabia Khalid
    اللہ آپکی جان ، مال ، ایمان ، آبرو، روزی ، رزق ، علم ، عمل ، گھر، کاروبار ، دسترخوان ، اولاد، زندگی ، خوشیوں، عبادات ، تقوی ا ،اخلاص ، اخلاق ، سادگی ، عاجزی، انکساری اور عمر میں برکتیں، رحمتیں ، وسعتیں، رفعتیں، اورعروج و بلندیاں عطاء فرماۓ. آمین A beautiful dua by Rabia Khalid
    0 Kommentare 0 Anteile 902 Ansichten
  • ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ)
    [Sura 2:85)کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو

    Shared via Sultan Arfeen
    ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ) [Sura 2:85)کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو Shared via Sultan Arfeen
    0 Kommentare 0 Anteile 509 Ansichten
  • تمام اھل ایمان کو نیا اسلامی سال 1437 ہجری بھت بھت مبارک ہو۔
    تمام اھل ایمان کو نیا اسلامی سال 1437 ہجری بھت بھت مبارک ہو۔
    0 Kommentare 0 Anteile 783 Ansichten
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Kommentare 0 Anteile 3342 Ansichten
  • و ما أصابك من مصيبة إلا باذن الله. و من يومن بالله. يهد قلبه والله بكل شيء عليم.
    بندے پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہی آتی ہے. جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہدایت پر ہیں. بیشک اللہ کو ہر شے کا علم ہے.
    و ما أصابك من مصيبة إلا باذن الله. و من يومن بالله. يهد قلبه والله بكل شيء عليم. بندے پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہی آتی ہے. جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہدایت پر ہیں. بیشک اللہ کو ہر شے کا علم ہے.
    0 Kommentare 0 Anteile 587 Ansichten
  • سلام
    جب خشوع و خضوع,آنہوں , آنسوں اور سسکیوں کے اس مرحلے میں پہنچیں کہ دل پر سکینت طاری ہوجائے تو وہ اپنے رب سے منوانے کا وقت ہوتا ہے.
    درخواست ہے اس وقت مجھے اور میرے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئےگا. دعا کیجئے گا کہ اللہ ہم سب کو ایمان,صحت اور خوشی کی بہترین حالت میں رکھے.
    آمین یا رب العالمین
    میجر عبدالواحد غوری (ریٹائرڈ)
    سلام جب خشوع و خضوع,آنہوں , آنسوں اور سسکیوں کے اس مرحلے میں پہنچیں کہ دل پر سکینت طاری ہوجائے تو وہ اپنے رب سے منوانے کا وقت ہوتا ہے. درخواست ہے اس وقت مجھے اور میرے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئےگا. دعا کیجئے گا کہ اللہ ہم سب کو ایمان,صحت اور خوشی کی بہترین حالت میں رکھے. آمین یا رب العالمین میجر عبدالواحد غوری (ریٹائرڈ)
    0 Kommentare 0 Anteile 532 Ansichten
  • آج کاپرخلوص سلام اس دعاکےساتھ قبول ھوکہ اللہ تعالی آپکو زندگی کےهر موڑ پر اچھی صحت ، ایمان کی سلامتی خوشیاں، پاکیزہ رزق اورکامیابی عطا کرے اورکبھی کسی کا محتاج نہ کرے. آمین السلام علیکم صبح بخیر
    آج کاپرخلوص سلام اس دعاکےساتھ قبول ھوکہ اللہ تعالی آپکو زندگی کےهر موڑ پر اچھی صحت ، ایمان کی سلامتی خوشیاں، پاکیزہ رزق اورکامیابی عطا کرے اورکبھی کسی کا محتاج نہ کرے. آمین السلام علیکم صبح بخیر
    0 Kommentare 0 Anteile 452 Ansichten
Suchergebnis