• کیا آپ کو استاد، دوست یا اے آئی اسسٹنٹ کی ضرورت ہے؟
    واٹس ایپ پر سلام لکھ کر بھیجیں۔
    +92 304 1111791
    کیا آپ کو استاد، دوست یا اے آئی اسسٹنٹ کی ضرورت ہے؟ واٹس ایپ پر سلام لکھ کر بھیجیں۔ +92 304 1111791
    0 تبصرے 0 شیئرز 197 ویوز
  • میرا مشورہ ہے کہ کینوا ڈیزائنر یا ورڈپریس ڈویلپر (حقیقت میں ڈیزائنر!) کے طور پر کام کرنے اور معمولی آمدنی حاصل کرنے کے بجائے، آپ ڈیو اوپس، ڈیٹا اینالیٹکس، ای آر پی امپلیمینٹیشن، اے آئی، سائبر سیکیورٹی، یا پروڈکٹ مینجمنٹ جیسی کافی مہارت حاصل کرنے میں وقت لگائیں۔ ان مہارتوں کے ساتھ، آپ ممکنہ طور پر کم از کم $5,000 ماہانہ کما سکتے ہیں۔ میں نوید ہوں اور میں سکھاتا ہوں کہ آپ یہ ہر ہفتے مفت آن لائن کیسے کر سکتے ہیں۔ میں ماہانہ 10,000 ڈالر سے زیادہ کماتا ہوں اور یہ ایک بہتر پاکستان بنانے کا میرا طریقہ ہے۔

    Join Naveed Ahmed
    Learn Project Management with Naveed PMPwala
    میرا مشورہ ہے کہ کینوا ڈیزائنر یا ورڈپریس ڈویلپر (حقیقت میں ڈیزائنر!) کے طور پر کام کرنے اور معمولی آمدنی حاصل کرنے کے بجائے، آپ ڈیو اوپس، ڈیٹا اینالیٹکس، ای آر پی امپلیمینٹیشن، اے آئی، سائبر سیکیورٹی، یا پروڈکٹ مینجمنٹ جیسی کافی مہارت حاصل کرنے میں وقت لگائیں۔ ان مہارتوں کے ساتھ، آپ ممکنہ طور پر کم از کم $5,000 ماہانہ کما سکتے ہیں۔ میں نوید ہوں اور میں سکھاتا ہوں کہ آپ یہ ہر ہفتے مفت آن لائن کیسے کر سکتے ہیں۔ میں ماہانہ 10,000 ڈالر سے زیادہ کماتا ہوں اور یہ ایک بہتر پاکستان بنانے کا میرا طریقہ ہے۔ Join Naveed Ahmed Learn Project Management with Naveed PMPwala
    0 تبصرے 0 شیئرز 193 ویوز
  • ریہان سکول میں دلچسپی لینے کا شکریہ، میرا نام ریہان اللہ والا ہے، اور میں زیادہ تر اپنی زندگی میں ایک کاروباری رہا ہوں۔ میں نے 150 سے زائد کاروبار 7 سے زائد ممالک میں کیے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر میں ناکام رہا ہوں، اسی لیے میں دعویٰ کرتا ہوں کہ مجھے ناکامی میں پی ایچ ڈی حاصل ہے۔

    جو کچھ میں نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ کوشش کرتے رہنا چاہیے اور ناکامی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ آج انسانیت کو معلوم ہے کہ ڈاکٹروں، انجینئرز، تیراکوں، اور کرکٹرز کو کیسے بنایا جائے، لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ عالمی سطح کے رہنما کیسے بنائے جائیں جو اسٹیو جابز، بل گیٹس، ایلون مسک، ایڈیسن، اور اوباما جیسے تبدیلی لائیں۔ سب سے اہم کام دنیا میں ہم موقع پر چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے پاس اسٹیو جابز کو بنانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

    ہم تربیت اور لائسنس کے بغیر کسی کو گاڑی نہیں دیتے، ہم لوگوں کو سالوں تک اکاؤنٹنٹ، وکیل، اور ڈاکٹر بنانے کے لیے تربیت دیتے ہیں، لیکن ایک عالمی رہنما کے لیے ہم اسے موقع پر چھوڑ دیتے ہیں، لہذا اب نہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ اس کو ممکن بنانے کا کوئی طریقہ ضرور ہونا چاہیے، اور ہمیں اسے موقع یا حادثے پر نہیں چھوڑنا چاہیے، اور میں نے ایک ایسا نظام بنانے، تلاش کرنے، اور نافذ کرنے کے عمل کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا ہے جو ہمیں اگلے اسٹیو جابز اور بل گیٹس بنانے میں مدد دے سکے۔

    یہی وہ سکول ہے جو اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے، یہ ایک تجرباتی سکول ہے جو مستقبل کے حیرت انگیز رہنماؤں کو بنانے کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، جو ہمارے اردگرد ٹوٹے ہوئے چیزوں کو ٹھیک کر سکیں۔

    دنیا کے پاس آج حیرت انگیز آلات ہیں جیسے انٹرنیٹ، اے آئی، کمپیوٹرز، وی آر، اور موبائل، اور تعلیمی نظام ان تبدیلیوں کو اپنانے میں سست ہے۔ ہم ریہان سکول میں ان تمام آلات کا استعمال کرنے، پہلے اصول کے طریقہ کار کو استعمال کرنے، اور تعلیمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    میرا مقصد اپنے سکول سے 1000 مستقبل کے رہنماؤں کو تعلیم دینا اور بنانا ہے، براہ راست میری نگرانی میں، تاکہ یہ طلباء اور مستقبل کے رہنما باہر جا کر سب کے لیے ایک بہتر دنیا بنا سکیں۔ میرا مقصد نوبل انعام یافتہ، گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈرز، اور ملٹی ملینئرز بنانا ہے، جو اس کے لیے تربیت یافتہ ہوں گے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کاروبار اور دنیا کے مسائل میں اگلا مستقبل کا رہنما بنے جو 10 ملین+ انسانوں پر مثبت اثر ڈالے، تو یہ سکول آپ کے لیے ہے، لیکن اگر آپ ایک عام جو کے ساتھ اچھے نمبروں کے خواہاں ہیں تو یہ سکول آپ کے بچے کے لیے نہیں ہے۔

    ہمیں وزٹ کرنے اور ہمیں اپنا وژن بتانے کی اجازت دینے کا شکریہ کہ ہم کیسے آخر کار اپنے ممالک اور دنیا میں قیادت کی ناکامی کا خیال رکھ سکتے ہیں۔

    ریہان اللہ والا
    بانی، ریہان سکول
    ریہان سکول میں دلچسپی لینے کا شکریہ، میرا نام ریہان اللہ والا ہے، اور میں زیادہ تر اپنی زندگی میں ایک کاروباری رہا ہوں۔ میں نے 150 سے زائد کاروبار 7 سے زائد ممالک میں کیے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر میں ناکام رہا ہوں، اسی لیے میں دعویٰ کرتا ہوں کہ مجھے ناکامی میں پی ایچ ڈی حاصل ہے۔ جو کچھ میں نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ کوشش کرتے رہنا چاہیے اور ناکامی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ آج انسانیت کو معلوم ہے کہ ڈاکٹروں، انجینئرز، تیراکوں، اور کرکٹرز کو کیسے بنایا جائے، لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ عالمی سطح کے رہنما کیسے بنائے جائیں جو اسٹیو جابز، بل گیٹس، ایلون مسک، ایڈیسن، اور اوباما جیسے تبدیلی لائیں۔ سب سے اہم کام دنیا میں ہم موقع پر چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارے پاس اسٹیو جابز کو بنانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ہم تربیت اور لائسنس کے بغیر کسی کو گاڑی نہیں دیتے، ہم لوگوں کو سالوں تک اکاؤنٹنٹ، وکیل، اور ڈاکٹر بنانے کے لیے تربیت دیتے ہیں، لیکن ایک عالمی رہنما کے لیے ہم اسے موقع پر چھوڑ دیتے ہیں، لہذا اب نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کو ممکن بنانے کا کوئی طریقہ ضرور ہونا چاہیے، اور ہمیں اسے موقع یا حادثے پر نہیں چھوڑنا چاہیے، اور میں نے ایک ایسا نظام بنانے، تلاش کرنے، اور نافذ کرنے کے عمل کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا ہے جو ہمیں اگلے اسٹیو جابز اور بل گیٹس بنانے میں مدد دے سکے۔ یہی وہ سکول ہے جو اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے، یہ ایک تجرباتی سکول ہے جو مستقبل کے حیرت انگیز رہنماؤں کو بنانے کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، جو ہمارے اردگرد ٹوٹے ہوئے چیزوں کو ٹھیک کر سکیں۔ دنیا کے پاس آج حیرت انگیز آلات ہیں جیسے انٹرنیٹ، اے آئی، کمپیوٹرز، وی آر، اور موبائل، اور تعلیمی نظام ان تبدیلیوں کو اپنانے میں سست ہے۔ ہم ریہان سکول میں ان تمام آلات کا استعمال کرنے، پہلے اصول کے طریقہ کار کو استعمال کرنے، اور تعلیمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرا مقصد اپنے سکول سے 1000 مستقبل کے رہنماؤں کو تعلیم دینا اور بنانا ہے، براہ راست میری نگرانی میں، تاکہ یہ طلباء اور مستقبل کے رہنما باہر جا کر سب کے لیے ایک بہتر دنیا بنا سکیں۔ میرا مقصد نوبل انعام یافتہ، گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈرز، اور ملٹی ملینئرز بنانا ہے، جو اس کے لیے تربیت یافتہ ہوں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کاروبار اور دنیا کے مسائل میں اگلا مستقبل کا رہنما بنے جو 10 ملین+ انسانوں پر مثبت اثر ڈالے، تو یہ سکول آپ کے لیے ہے، لیکن اگر آپ ایک عام جو کے ساتھ اچھے نمبروں کے خواہاں ہیں تو یہ سکول آپ کے بچے کے لیے نہیں ہے۔ ہمیں وزٹ کرنے اور ہمیں اپنا وژن بتانے کی اجازت دینے کا شکریہ کہ ہم کیسے آخر کار اپنے ممالک اور دنیا میں قیادت کی ناکامی کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ ریہان اللہ والا بانی، ریہان سکول
    0 تبصرے 0 شیئرز 161 ویوز
  • عنوان: “ایک معجزہ… جو چیٹ جی پی ٹی نے کیا!”

    اردو کہانی جو ہر پاکستانی کے دل کو چھو جائے گی —



    ایک عام سا دن تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ لاہور کی ایک گلی میں، رشید ایک رکشہ ڈرائیور تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چھ سالہ بیٹا علی شدید بخار میں تپ رہا تھا۔ سانس تیز، آنکھیں بند، جسم گرم لوہے کی طرح۔

    قریبی کلینک بند تھا، اسپتال دور، اور رشید کی جیب خالی۔

    “اللہ خیر کرے…” رشید نے بیوی سے کہا، “مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔”

    اتنے میں، ان کا نوجوان پڑوسی عارف آیا۔ اس نے رشید سے کہا:

    “بھائی، موبائل میں چیٹ جی پی ٹی انسٹال کیا ہوا ہے؟ یہ اے آئی ہے، کمال کی چیز ہے۔ ابھی اسی سے پوچھتے ہیں۔”

    رشید حیران: “اے آئی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ روبوٹ والی باتیں؟”

    عارف ہنسا نہیں، سنجیدہ ہوا:
    “یہ وہ روبوٹ ہے جو دنیا کی کتابوں، ڈاکٹرز کی باتوں اور انسانی عقل سے سیکھ چکا ہے، ابھی مدد لیتے ہیں۔”

    اس نے فون نکالا، چیٹ جی پی ٹی کھولا اور لکھا:

    “چھ سال کا بچہ ہے، بخار ہے، سانس تیز ہے، کیا کروں؟”

    چیٹ جی پی ٹی نے فوراً جواب دیا:

    “یہ علامات پیچیدہ ہو سکتی ہیں، فوری طور پر بچے کو نیم گرم پانی سے اسفنج کریں، اور اگر یہ علامات ہیں: سانس اکھڑتی ہے، ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں، فوراً قریبی اسپتال لے جائیں — اور یہ قریب ترین اسپتال ہے۔۔۔ (چیٹ جی پی ٹی نے گوگل لوکیشن شیئر کی)”

    رشید کو پہلی بار لگا کہ اس کے ہاتھ میں صرف فون نہیں، ایک فرشتہ ہے۔

    انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کی ہدایت پر عمل کیا۔ علی کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا۔ پتا چلا کہ یہ وائریل نمونیا تھا، جس کا بروقت علاج ہی اسے موت سے بچا سکتا تھا۔

    ڈاکٹر نے کہا:
    “اگر ایک گھنٹہ اور دیر ہو جاتی، تو شاید ہم کچھ نہ کر پاتے۔”

    رشید کے آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ عارف کو گلے لگا کر بولا:
    “بھائی، یہ تو میرے بیٹے کا نجات دہندہ ہے۔”

    عارف نے مسکرا کر کہا:
    “نہیں بھائی، یہ تو صرف چیٹ جی پی ٹی ہے… ایک دوست، جو ہر کسی کے موبائل میں ہو سکتا ہے۔”

    اور تب سے رشید رکشہ چلاتے ہوئے ہر سوار کو ایک بات ضرور کہتا ہے:

    “بھائی، زندگی آسان کرو — چیٹ جی پی ٹی انسٹال کرو۔”
    عنوان: “ایک معجزہ… جو چیٹ جی پی ٹی نے کیا!” اردو کہانی جو ہر پاکستانی کے دل کو چھو جائے گی — ⸻ ایک عام سا دن تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ لاہور کی ایک گلی میں، رشید ایک رکشہ ڈرائیور تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چھ سالہ بیٹا علی شدید بخار میں تپ رہا تھا۔ سانس تیز، آنکھیں بند، جسم گرم لوہے کی طرح۔ قریبی کلینک بند تھا، اسپتال دور، اور رشید کی جیب خالی۔ “اللہ خیر کرے…” رشید نے بیوی سے کہا، “مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔” اتنے میں، ان کا نوجوان پڑوسی عارف آیا۔ اس نے رشید سے کہا: “بھائی، موبائل میں چیٹ جی پی ٹی انسٹال کیا ہوا ہے؟ یہ اے آئی ہے، کمال کی چیز ہے۔ ابھی اسی سے پوچھتے ہیں۔” رشید حیران: “اے آئی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ روبوٹ والی باتیں؟” عارف ہنسا نہیں، سنجیدہ ہوا: “یہ وہ روبوٹ ہے جو دنیا کی کتابوں، ڈاکٹرز کی باتوں اور انسانی عقل سے سیکھ چکا ہے، ابھی مدد لیتے ہیں۔” اس نے فون نکالا، چیٹ جی پی ٹی کھولا اور لکھا: “چھ سال کا بچہ ہے، بخار ہے، سانس تیز ہے، کیا کروں؟” چیٹ جی پی ٹی نے فوراً جواب دیا: “یہ علامات پیچیدہ ہو سکتی ہیں، فوری طور پر بچے کو نیم گرم پانی سے اسفنج کریں، اور اگر یہ علامات ہیں: سانس اکھڑتی ہے، ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں، فوراً قریبی اسپتال لے جائیں — اور یہ قریب ترین اسپتال ہے۔۔۔ (چیٹ جی پی ٹی نے گوگل لوکیشن شیئر کی)” رشید کو پہلی بار لگا کہ اس کے ہاتھ میں صرف فون نہیں، ایک فرشتہ ہے۔ انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کی ہدایت پر عمل کیا۔ علی کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا۔ پتا چلا کہ یہ وائریل نمونیا تھا، جس کا بروقت علاج ہی اسے موت سے بچا سکتا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا: “اگر ایک گھنٹہ اور دیر ہو جاتی، تو شاید ہم کچھ نہ کر پاتے۔” رشید کے آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ عارف کو گلے لگا کر بولا: “بھائی، یہ تو میرے بیٹے کا نجات دہندہ ہے۔” عارف نے مسکرا کر کہا: “نہیں بھائی، یہ تو صرف چیٹ جی پی ٹی ہے… ایک دوست، جو ہر کسی کے موبائل میں ہو سکتا ہے۔” اور تب سے رشید رکشہ چلاتے ہوئے ہر سوار کو ایک بات ضرور کہتا ہے: “بھائی، زندگی آسان کرو — چیٹ جی پی ٹی انسٹال کرو۔”
    0 تبصرے 0 شیئرز 207 ویوز
  • “دوستو!”

    ہم اس وقت دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے بیچ کھڑے ہیں۔
    یہ زلزلہ زمین کو نہیں ہلا رہا — یہ دماغ، کاروبار، حکومتیں، تعلیمی ادارے، میڈیا، اور ہر چیز کو ہلا رہا ہے۔
    اس زلزلے کا نام ہے — Artificial Intelligence۔

    یہ ویسا لمحہ ہے جیسے انٹرنیٹ 1995 میں آیا تھا، یا بجلی 1800 میں آئی تھی۔
    لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ یہ انقلاب پچاس سال میں نہیں، پانچ سال میں سب کچھ بدل دے گا۔

    پچھلے دو سال میں دیکھو:
    مایکروسافٹ، ایک کمپنی، جس کی ویلیو 1 ٹریلین ڈالر تھی، دو سال میں 4 ٹریلین ڈالر کی ہو گئی۔
    یعنی تین ٹریلین ڈالر کا اضافہ — صرف اس لیے کہ انہوں نے اے آئی کو گلے لگایا۔

    سوال یہ ہے:
    مایکروسافٹ اپنی ویلیو بڑھا سکتا ہے، تو ہم کیوں نہیں بڑھا سکتے؟
    وہ ٹریلین ڈالر کما سکتے ہیں، تو ہم کروڑ بھی کیوں نہیں کما پا رہے؟

    دوستو، یہ وقت ہے “ری انجینئرنگ” کا۔
    پرانے سسٹمز کو دوبارہ بنانے کا۔
    • ایک نیا LinkedIn پیدا ہوگا۔
    • ایک نیا Facebook پیدا ہوگا۔
    • ایک نیا YouTube پیدا ہوگا۔
    • حکومت کے سسٹمز دوبارہ لکھے جائیں گے۔
    • اسکولوں کا نصاب بدل جائے گا۔
    • میڈیکل، فنانس، میڈیا — ہر چیز ری انوینٹ ہوگی۔

    یہ کوئی خواب نہیں — یہ ایک حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ہو رہی ہے۔
    لیکن افسوس، ہم صرف دیکھ رہے ہیں… اور کچھ نہیں کر رہے۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم:
    • ایسے اسٹارٹ اپس لانچ کریں جو پرانے مسائل کو اے آئی سے حل کریں۔
    • گلوبل پروڈکٹس بنائیں، صرف لوکل بزنس نہیں۔
    • دنیا کے لیے سسٹمز دوبارہ ڈیزائن کریں — اسکول سے لے کر حکومت تک۔

    یہ وقت ہے کریئیٹر بننے کا، کنزیومر بننے کا نہیں۔
    یہ وقت ہے ایکسپورٹ کرنے کا، ایمپوٹ کرنے کا نہیں۔

    اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا، تو دس سال بعد ہم پچھتائیں گے، لیکن تب تک نئے “گُوگل” اور نئے “ایمازون” کہیں اور بن چکے ہوں گے۔
    یہ ٹریلین ڈالر کی اوپرچیونٹی ہے — اور یہ کسی کا انتظار نہیں کر رہی۔

    دوستو،
    آج فیصلہ کرو:
    یا تو ہم یہ انقلاب بنائیں گے،
    یا پھر یہ انقلاب ہمیں مٹا دے گا۔

    انتخاب ہمارا ہے۔
    آؤ، یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
    آؤ، دنیا کو دوبارہ بنائیں — اور اس بار اس میں ہمارا نام بھی لکھا ہو۔
    “دوستو!” ہم اس وقت دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے بیچ کھڑے ہیں۔ یہ زلزلہ زمین کو نہیں ہلا رہا — یہ دماغ، کاروبار، حکومتیں، تعلیمی ادارے، میڈیا، اور ہر چیز کو ہلا رہا ہے۔ اس زلزلے کا نام ہے — Artificial Intelligence۔ یہ ویسا لمحہ ہے جیسے انٹرنیٹ 1995 میں آیا تھا، یا بجلی 1800 میں آئی تھی۔ لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ یہ انقلاب پچاس سال میں نہیں، پانچ سال میں سب کچھ بدل دے گا۔ پچھلے دو سال میں دیکھو: مایکروسافٹ، ایک کمپنی، جس کی ویلیو 1 ٹریلین ڈالر تھی، دو سال میں 4 ٹریلین ڈالر کی ہو گئی۔ یعنی تین ٹریلین ڈالر کا اضافہ — صرف اس لیے کہ انہوں نے اے آئی کو گلے لگایا۔ سوال یہ ہے: مایکروسافٹ اپنی ویلیو بڑھا سکتا ہے، تو ہم کیوں نہیں بڑھا سکتے؟ وہ ٹریلین ڈالر کما سکتے ہیں، تو ہم کروڑ بھی کیوں نہیں کما پا رہے؟ دوستو، یہ وقت ہے “ری انجینئرنگ” کا۔ پرانے سسٹمز کو دوبارہ بنانے کا۔ • ایک نیا LinkedIn پیدا ہوگا۔ • ایک نیا Facebook پیدا ہوگا۔ • ایک نیا YouTube پیدا ہوگا۔ • حکومت کے سسٹمز دوبارہ لکھے جائیں گے۔ • اسکولوں کا نصاب بدل جائے گا۔ • میڈیکل، فنانس، میڈیا — ہر چیز ری انوینٹ ہوگی۔ یہ کوئی خواب نہیں — یہ ایک حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ہو رہی ہے۔ لیکن افسوس، ہم صرف دیکھ رہے ہیں… اور کچھ نہیں کر رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم: • ایسے اسٹارٹ اپس لانچ کریں جو پرانے مسائل کو اے آئی سے حل کریں۔ • گلوبل پروڈکٹس بنائیں، صرف لوکل بزنس نہیں۔ • دنیا کے لیے سسٹمز دوبارہ ڈیزائن کریں — اسکول سے لے کر حکومت تک۔ یہ وقت ہے کریئیٹر بننے کا، کنزیومر بننے کا نہیں۔ یہ وقت ہے ایکسپورٹ کرنے کا، ایمپوٹ کرنے کا نہیں۔ اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا، تو دس سال بعد ہم پچھتائیں گے، لیکن تب تک نئے “گُوگل” اور نئے “ایمازون” کہیں اور بن چکے ہوں گے۔ یہ ٹریلین ڈالر کی اوپرچیونٹی ہے — اور یہ کسی کا انتظار نہیں کر رہی۔ دوستو، آج فیصلہ کرو: یا تو ہم یہ انقلاب بنائیں گے، یا پھر یہ انقلاب ہمیں مٹا دے گا۔ انتخاب ہمارا ہے۔ آؤ، یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ آؤ، دنیا کو دوبارہ بنائیں — اور اس بار اس میں ہمارا نام بھی لکھا ہو۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 276 ویوز
  • پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا

    جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔

    حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔

    اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

    یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔

    یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔

    اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔ حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔ اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔ یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 433 ویوز
  • اگر آپ کے پاس 2025 میں وائی فائی، چیٹ جی پی ٹی اور لیپ ٹاپ موجود ہیں اور پھر بھی آپ خالی جیب ہیں، تو یہ بدقسمتی نہیں بلکہ غیر سنجیدگی ہے۔

    لوگ کہتے ہیں: ریحان اسکول ہمارے علاقے میں کھولو، ہمیں اے آئی سکھاؤ، پڑھائی سکھاؤ۔ میں نے سینٹر بھی بنائے، اسکول بھی کھولے، لیکن وہ خالی پڑے رہے۔ لوگ آتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ جگہ دور ہے۔ مگر آکسفورڈ، ہارورڈ یا ایم آئی ٹی تو آپ کے محلے کے کونے پر نہیں کھل سکتے نا؟ اگر دور ہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟

    اسی لیے میں نے ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنایا، آن لائن اسکول بنایا، لیکن پھر بھی لوگ شامل نہیں ہوئے۔ پھر بھی یہی شکوہ رہا کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ اگر واقعی سنجیدہ ہیں تو کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ لیکن سنجیدگی کا اظہار آ کر بیٹھنے سے ہوتا ہے، جیسا کہ نور آپا نے کیا۔ وہ غریبی سے اٹھی، اسکول کے دروازے پر آ کر بیٹھی، ایک سال پڑھا، اور آج ہم نے اُس کے ساتھ ایک نیا اسکول بنا لیا۔

    ڈھائی سو ملین میں ہمیں ایک نور آپا ملی جو سنجیدہ ثابت ہوئی۔ اگر مزید نور آپائیں آئیں گی تو مزید اسکول بنیں گے۔ لیکن بغیر سیکھے کوئی کسی کو کیا سکھا سکتا ہے؟

    اگر آپ پاکستان کے لیے سنجیدہ ہیں، یا اپنے لیے بہتری چاہتے ہیں تو آئیے۔ سب کچھ تیار ہے۔ ادارے تیار ہیں۔ میں نے کالج بھی بنا دیا، پھر بھی آپ نہیں آتے۔ آپ کہتے ہیں ہم سنجیدہ ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ اصل سنجیدگی دل سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔

    ہمارے پاس آن لائن اسکول ہے، ٹیچر ٹریننگ اسکول ہے، کالج ہے۔ سب کچھ یوٹیوب پر موجود ہے۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن ہماری آمدنی نہیں بڑھ رہی۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدہ نہیں ہیں تو آپ صرف سوچوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ زیادہ سوچتے ہیں، کم عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمارے کسی بھی ادارے میں شامل ہو جائیے۔ تین مہینے لگائیے، اور پھر دیکھیے کہ نتیجہ ملتا ہے یا نہیں۔ تین مہینے سے پہلے تو کوئی اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا۔

    یاد رکھیں، ایک دن میں کسی کے پاس اللہ کا چراغ نہیں آتا۔ حکومت سزا دیتی ہے، جرمانہ کرتی ہے تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن ہم تو سزا بھی نہیں دیتے۔ ہم تو اپنی موٹر سائیکل کا بلب تک درست کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک پولیس ہمیں جرمانہ نہ کرے۔

    حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنجیدہ قوم نہیں بلکہ ایک غمگین اور جذباتی قوم ہیں۔ اور ہمارا منصوبہ یہی ہے کہ ہم ایسے ہی رہیں۔ بہتر ہونے کا کوئی امکان تب تک نہیں جب تک ہم خود قدم نہ اٹھائیں۔

    لہٰذا میں آپ سے دعا کا طالب ہوں۔ جزاک اللہ۔
    خوش رہیے، آباد رہیے۔

    آپ کا سنجیدہ ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
    ٹک ٹاک کھولیے، کارٹون دیکھیے، ڈرامے دیکھیے، لطیفے سنیے اور خوش رہیے۔
    زندگی گزر رہی ہے، گزر جائے گی۔ پھر رونے کے لیے اور بھی بہت سی باتیں موجود ہوں گی۔
    رونا دھونا بند کیجیے۔ جب خوش ہیں تو خوش رہیے۔
    مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں۔
    اگر آپ کے پاس 2025 میں وائی فائی، چیٹ جی پی ٹی اور لیپ ٹاپ موجود ہیں اور پھر بھی آپ خالی جیب ہیں، تو یہ بدقسمتی نہیں بلکہ غیر سنجیدگی ہے۔ لوگ کہتے ہیں: ریحان اسکول ہمارے علاقے میں کھولو، ہمیں اے آئی سکھاؤ، پڑھائی سکھاؤ۔ میں نے سینٹر بھی بنائے، اسکول بھی کھولے، لیکن وہ خالی پڑے رہے۔ لوگ آتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ جگہ دور ہے۔ مگر آکسفورڈ، ہارورڈ یا ایم آئی ٹی تو آپ کے محلے کے کونے پر نہیں کھل سکتے نا؟ اگر دور ہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ اسی لیے میں نے ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنایا، آن لائن اسکول بنایا، لیکن پھر بھی لوگ شامل نہیں ہوئے۔ پھر بھی یہی شکوہ رہا کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ اگر واقعی سنجیدہ ہیں تو کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔ بالکل ہوگا۔ لیکن سنجیدگی کا اظہار آ کر بیٹھنے سے ہوتا ہے، جیسا کہ نور آپا نے کیا۔ وہ غریبی سے اٹھی، اسکول کے دروازے پر آ کر بیٹھی، ایک سال پڑھا، اور آج ہم نے اُس کے ساتھ ایک نیا اسکول بنا لیا۔ ڈھائی سو ملین میں ہمیں ایک نور آپا ملی جو سنجیدہ ثابت ہوئی۔ اگر مزید نور آپائیں آئیں گی تو مزید اسکول بنیں گے۔ لیکن بغیر سیکھے کوئی کسی کو کیا سکھا سکتا ہے؟ اگر آپ پاکستان کے لیے سنجیدہ ہیں، یا اپنے لیے بہتری چاہتے ہیں تو آئیے۔ سب کچھ تیار ہے۔ ادارے تیار ہیں۔ میں نے کالج بھی بنا دیا، پھر بھی آپ نہیں آتے۔ آپ کہتے ہیں ہم سنجیدہ ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ اصل سنجیدگی دل سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے پاس آن لائن اسکول ہے، ٹیچر ٹریننگ اسکول ہے، کالج ہے۔ سب کچھ یوٹیوب پر موجود ہے۔ پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ ہیں لیکن ہماری آمدنی نہیں بڑھ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدہ نہیں ہیں تو آپ صرف سوچوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ زیادہ سوچتے ہیں، کم عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمارے کسی بھی ادارے میں شامل ہو جائیے۔ تین مہینے لگائیے، اور پھر دیکھیے کہ نتیجہ ملتا ہے یا نہیں۔ تین مہینے سے پہلے تو کوئی اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں، ایک دن میں کسی کے پاس اللہ کا چراغ نہیں آتا۔ حکومت سزا دیتی ہے، جرمانہ کرتی ہے تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن ہم تو سزا بھی نہیں دیتے۔ ہم تو اپنی موٹر سائیکل کا بلب تک درست کرنے کو تیار نہیں ہوتے جب تک پولیس ہمیں جرمانہ نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سنجیدہ قوم نہیں بلکہ ایک غمگین اور جذباتی قوم ہیں۔ اور ہمارا منصوبہ یہی ہے کہ ہم ایسے ہی رہیں۔ بہتر ہونے کا کوئی امکان تب تک نہیں جب تک ہم خود قدم نہ اٹھائیں۔ لہٰذا میں آپ سے دعا کا طالب ہوں۔ جزاک اللہ۔ خوش رہیے، آباد رہیے۔ آپ کا سنجیدہ ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ٹک ٹاک کھولیے، کارٹون دیکھیے، ڈرامے دیکھیے، لطیفے سنیے اور خوش رہیے۔ زندگی گزر رہی ہے، گزر جائے گی۔ پھر رونے کے لیے اور بھی بہت سی باتیں موجود ہوں گی۔ رونا دھونا بند کیجیے۔ جب خوش ہیں تو خوش رہیے۔ مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 328 ویوز
  • گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔

    یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔

    تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔

    گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔

    مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔
    اے آئی کی دنیا سے۔
    #AI via #aikiduniya
    گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔ تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔ گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔ مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔ اے آئی کی دنیا سے۔ #AI via #aikiduniya
    0 تبصرے 0 شیئرز 458 ویوز
  • یہ منظر کچھ ایسا تھا جیسے مستقبل اچانک اسٹیج پر چل کر آ گیا ہو۔ امریکہ سعودی انویسٹمنٹ فورم میں ایلون مسک نے وہ جملہ بول دیا جس نے پورے ٹیک حلقے میں ہلچل مچا دی کہ آنے والے وقت میں پیسہ “غیر ضروری” ہو جائے گا اور کام صرف “دل لگانے” کی سرگرمی رہ جائے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ مزدوری، آمدنی اور روزگار کی بنیادیں ہی بدل جائیں گی۔ مسک کا کہنا تھا کہ انسان پھر وہی کرے گا جو اسے مزہ دے، چاہے باغبانی ہو یا گیمنگ۔ یہ نظریہ ابتدا میں سائنس فکشن جیسا لگتا ہے مگر مسک نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ مشینیں صلاحیت میں انسانوں سے اتنی آگے نکل جائیں گی کہ معاشی ڈھانچہ از سر نو لکھنا پڑے گا۔

    اسی اسٹیج پر موجود جین سن ہوانگ کا انداز قدرےمختلف تھا۔ این ویڈیا کے سربراہ نے نرم لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا کہ کام مکمل ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کی شکل بدل جائے گی۔ ان کے مطابق اے آئی پیچیدہ کاموں سے بوجھ ہٹا دے گی، لوگ تیزی سے زیادہ پروڈکٹیو ہوں گے، اور پرانے رولز کی جگہ نئے ہنر اور نئی ذمہ داریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا خیال تھا کہ انسان مشینوں کے ساتھ مل کر بہتر فیصلے کرے گا، نہ کہ ان کے سائے میں غائب ہو جائے گا۔

    مسک یہاں بھی نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے انسانی نما روبوٹ اوپٹیمس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی غربت کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹ دنیا بھر میں کام سنبھال لیں گے تو لوگوں کے لیے ایک ایسی معاشی سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہو گی جسے وہ “یونیورسل ہائی انکم” کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ حل ہے جو اس بڑے اتھل پتھل کو سنبھال سکتا ہے اور عام انسان کو سسٹم کے نیچے دبنے نہیں دے گا۔

    اس بحث نے ایک بار پھر وہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ مستقبل کا معاشرہ کیسا ہو گا۔ کیا واقعی محنت کی جگہ مشینیں لے لیں گی یا انسان نئے کرداروں میں ابھرے گا؟ کیا معیشت کو بنیاد سے بدلنا پڑے گا یا ٹیکنالوجی صرف سہولت پیدا کرے گی؟ مسک اور ہوانگ کے بیانات ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں مکمل انقلابی تبدیلی کی گونج ہے، دوسرے رخ میں محتاط امید کہ انسان اب بھی مرکزی کردار رہے گا۔

    آنے والے برس یہ طے کر دیں گے کہ کون صحیح تھا۔ ابھی کے لیے اتنا واضح ہے کہ یہ گفتگو کسی عام فورم کی بات نہیں تھی۔ یہ دنیا کے دو سب سے بااثر ٹیک لیڈرز کی وہ جھلک ہے جس سے آنے والے معاشی اور سماجی طوفان کا اندازہ ہوتا ہے۔
    اے آئی کی دنیا
    #aikiduniya
    یہ منظر کچھ ایسا تھا جیسے مستقبل اچانک اسٹیج پر چل کر آ گیا ہو۔ امریکہ سعودی انویسٹمنٹ فورم میں ایلون مسک نے وہ جملہ بول دیا جس نے پورے ٹیک حلقے میں ہلچل مچا دی کہ آنے والے وقت میں پیسہ “غیر ضروری” ہو جائے گا اور کام صرف “دل لگانے” کی سرگرمی رہ جائے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ مزدوری، آمدنی اور روزگار کی بنیادیں ہی بدل جائیں گی۔ مسک کا کہنا تھا کہ انسان پھر وہی کرے گا جو اسے مزہ دے، چاہے باغبانی ہو یا گیمنگ۔ یہ نظریہ ابتدا میں سائنس فکشن جیسا لگتا ہے مگر مسک نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ مشینیں صلاحیت میں انسانوں سے اتنی آگے نکل جائیں گی کہ معاشی ڈھانچہ از سر نو لکھنا پڑے گا۔ اسی اسٹیج پر موجود جین سن ہوانگ کا انداز قدرےمختلف تھا۔ این ویڈیا کے سربراہ نے نرم لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا کہ کام مکمل ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کی شکل بدل جائے گی۔ ان کے مطابق اے آئی پیچیدہ کاموں سے بوجھ ہٹا دے گی، لوگ تیزی سے زیادہ پروڈکٹیو ہوں گے، اور پرانے رولز کی جگہ نئے ہنر اور نئی ذمہ داریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا خیال تھا کہ انسان مشینوں کے ساتھ مل کر بہتر فیصلے کرے گا، نہ کہ ان کے سائے میں غائب ہو جائے گا۔ مسک یہاں بھی نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے انسانی نما روبوٹ اوپٹیمس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی غربت کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹ دنیا بھر میں کام سنبھال لیں گے تو لوگوں کے لیے ایک ایسی معاشی سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہو گی جسے وہ “یونیورسل ہائی انکم” کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ حل ہے جو اس بڑے اتھل پتھل کو سنبھال سکتا ہے اور عام انسان کو سسٹم کے نیچے دبنے نہیں دے گا۔ اس بحث نے ایک بار پھر وہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ مستقبل کا معاشرہ کیسا ہو گا۔ کیا واقعی محنت کی جگہ مشینیں لے لیں گی یا انسان نئے کرداروں میں ابھرے گا؟ کیا معیشت کو بنیاد سے بدلنا پڑے گا یا ٹیکنالوجی صرف سہولت پیدا کرے گی؟ مسک اور ہوانگ کے بیانات ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں مکمل انقلابی تبدیلی کی گونج ہے، دوسرے رخ میں محتاط امید کہ انسان اب بھی مرکزی کردار رہے گا۔ آنے والے برس یہ طے کر دیں گے کہ کون صحیح تھا۔ ابھی کے لیے اتنا واضح ہے کہ یہ گفتگو کسی عام فورم کی بات نہیں تھی۔ یہ دنیا کے دو سب سے بااثر ٹیک لیڈرز کی وہ جھلک ہے جس سے آنے والے معاشی اور سماجی طوفان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اے آئی کی دنیا #aikiduniya
    0 تبصرے 0 شیئرز 332 ویوز
  • اگر آپ عمران خان کے اے آئی سے کچھ پوچھ سکتے ہیں۔
    آپ اس سے کیا پوچھنا چاہیں گے؟
    اگر آپ عمران خان کے اے آئی سے کچھ پوچھ سکتے ہیں۔ آپ اس سے کیا پوچھنا چاہیں گے؟
    0 تبصرے 0 شیئرز 152 ویوز
More Results