• RSIF8
    Roll no 94
    TEDx Talk no 18
    TED Talk topic
    آج میں نے TEDx Talk "What Makes an Idea?" از نبیل قادر دیکھی۔ اس گفتگو سے یہ سیکھنے کو ملا کہ بڑے خیالات اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ تجسس، مشاہدے، تخلیقی سوچ اور مسلسل محنت سے پروان چڑھتے ہیں۔ ہر کامیاب ایجاد اور تبدیلی ایک چھوٹے سے خیال سے شروع ہوتی ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ہمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص کے پاس ایک منفرد خیال ہو سکتا ہے، مگر کامیابی اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے خیالات پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

    آپ کے خیال میں ایک اچھے آئیڈیا کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

    #TEDx #نبیل_قادر #WhatMakesAnIdea #خیال #تخلیقی_صلاحیت #جدت #حوصلہ #کامیابی #ترقی #سیکھنا #تحریک #Motivation
    RSIF8 Roll no 94 TEDx Talk no 18 TED Talk topic 🎥💡 آج میں نے TEDx Talk "What Makes an Idea?" از نبیل قادر دیکھی۔ اس گفتگو سے یہ سیکھنے کو ملا کہ بڑے خیالات اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ تجسس، مشاہدے، تخلیقی سوچ اور مسلسل محنت سے پروان چڑھتے ہیں۔ ہر کامیاب ایجاد اور تبدیلی ایک چھوٹے سے خیال سے شروع ہوتی ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ہمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص کے پاس ایک منفرد خیال ہو سکتا ہے، مگر کامیابی اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے خیالات پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ 🌟🚀 آپ کے خیال میں ایک اچھے آئیڈیا کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ 👇 #TEDx #نبیل_قادر #WhatMakesAnIdea #خیال #تخلیقی_صلاحیت #جدت #حوصلہ #کامیابی #ترقی #سیکھنا #تحریک #Motivation 💡🚀✨📚🌍
    0 Comments 0 Shares 391 Views 1
  • RSIF8
    Roll no 94
    TEDx talk no 1
    TEDx talk topic
    TEDx Talk: "The Power of Dreams and Curiosity" – Adeel Hashmi
    خواب انسان کو منزل دکھاتے ہیں اور تجسس اسے وہاں تک پہنچنے کا راستہ سکھاتا ہے۔ اس متاثر کن TEDx گفتگو میں، Adeel Hashmi نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، سوال پوچھنے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی صرف ہنر سے نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے، جستجو اور عزم سے حاصل ہوتی ہے۔
    اگر آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی، نئی سوچ اور آگے بڑھنے کی تحریک چاہتے ہیں، تو یہ TEDx Talk ضرور دیکھیں۔
    #TEDxTalk #AdeelHashmi #DreamBig #StayCurious #Motivation #Inspiration #PersonalGrowth #SuccessMindset #YouthEmpowerment #Learning #Curiosity #Dreams #Pakistan #SelfDevelopment
    RSIF8 Roll no 94 TEDx talk no 1 TEDx talk topic 🌟💭 TEDx Talk: "The Power of Dreams and Curiosity" – Adeel Hashmi 🎤✨ خواب انسان کو منزل دکھاتے ہیں اور تجسس اسے وہاں تک پہنچنے کا راستہ سکھاتا ہے۔ 🌈🚀 اس متاثر کن TEDx گفتگو میں، Adeel Hashmi نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، سوال پوچھنے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ ٹاک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی صرف ہنر سے نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے، جستجو اور عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ 🌟📚 اگر آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی، نئی سوچ اور آگے بڑھنے کی تحریک چاہتے ہیں، تو یہ TEDx Talk ضرور دیکھیں۔ 💡🔥 #TEDxTalk #AdeelHashmi #DreamBig #StayCurious #Motivation #Inspiration #PersonalGrowth #SuccessMindset #YouthEmpowerment #Learning #Curiosity #Dreams #Pakistan #SelfDevelopment 🌍✨💭🚀📖🌟
    0 Comments 0 Shares 685 Views 2
  • پاکستان کے پہلے AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم کی تعمیر کا سفر

    ہر عظیم کامیابی کی ابتدا ایک چھوٹے سے خیال سے ہوتی ہے، اور ہر خواب حقیقت بننے سے پہلے صرف ایک تصور ہوتا ہے۔

    Phoneopia کی کہانی بھی کسی بڑی سرمایہ کاری یا وسیع وسائل سے نہیں، بلکہ ایک سادہ مگر طاقتور سوال سے شروع ہوئی:

    "کیا کمیونیکیشن صرف پیغامات بھیجنے تک محدود رہنی چاہیے؟"

    آج کی تیز رفتار دنیا میں لوگ روزانہ گھنٹوں پیغامات کے جواب دینے، لمبی وائس نوٹس سننے، مختلف زبانوں کی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور فراڈ یا اسپیم سے بچنے میں صرف کر دیتے ہیں۔

    ہم نے محسوس کیا کہ جب مصنوعی ذہانت (AI) ہر شعبے میں انقلاب لا رہی ہے، تو کمیونیکیشن کا تجربہ بھی زیادہ ذہین، تیز اور محفوظ ہونا چاہیے۔

    اسی سوچ نے Phoneopia کو جنم دیا۔

    Phoneopia صرف ایک میسجنگ ایپ نہیں، بلکہ ایک AI سے چلنے والا جدید کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد لوگوں کا وقت بچانا، ان کی پیداواری صلاحیت (Productivity) میں اضافہ کرنا اور رابطوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

    Phoneopia کی نمایاں خصوصیات:
    AI Auto Reply
    Voice Transcription
    Live Translation
    Scam & Fraud Detection
    AI-Powered Communication
    محفوظ اور اسمارٹ کمیونیکیشن

    لیکن ہمارا مقصد صرف جدید فیچرز متعارف کروانا نہیں۔

    ہمارا وژن ایک ایسی دنیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی گفتگو کو آسان، مؤثر اور محفوظ بنائے، تاکہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگتا رہے۔

    یہ سفر کبھی بھی آسان نہیں تھا۔

    بے شمار راتوں کی محنت...
    لاتعداد Bugs...
    نئے خیالات...
    مسلسل بہتری...
    اور صارفین کے اعتماد نے ہمیں ہر دن مزید مضبوط بنایا۔

    ہر مشکل نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر مقصد بڑا ہو تو راستے کی رکاوٹیں صرف سیکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

    آج Phoneopia گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے، لیکن ہمارے لیے یہ اختتام نہیں...

    بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کی شروعات ہے۔

    ہمارا خواب ہے کہ پاکستان سے ایک ایسا AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم بنایا جائے جو پوری دنیا میں لوگوں کے رابطے اور گفتگو کے انداز کو بدل دے۔

    یہ صرف ایک Startup نہیں...
    یہ ایک خواب ہے۔
    یہ ایک وژن ہے۔
    یہ ایک مشن ہے۔
    اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان سے شروع ہو کر دنیا تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اگر آپ جدت، مصنوعی ذہانت اور پاکستانی ٹیلنٹ پر یقین رکھتے ہیں، تو اس سفر کا حصہ بنیے۔

    آج ہی Phoneopia ڈاؤن لوڈ کریں اور AI کمیونیکیشن کے مستقبل کا تجربہ حاصل کریں۔

    **"پاکستان سے دنیا تک... ایک بہتر، ذہین اور محفوظ کمیونیکیشن کے سفر پر۔"**

    #Phoneopia #Pakistan #AI #Startup #Innovation #MadeInPakistan #Tech #GooglePlay #FutureOfCommunication #PakistanToTheWorld
    🚀🇵🇰 پاکستان کے پہلے AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم کی تعمیر کا سفر ہر عظیم کامیابی کی ابتدا ایک چھوٹے سے خیال سے ہوتی ہے، اور ہر خواب حقیقت بننے سے پہلے صرف ایک تصور ہوتا ہے۔ Phoneopia کی کہانی بھی کسی بڑی سرمایہ کاری یا وسیع وسائل سے نہیں، بلکہ ایک سادہ مگر طاقتور سوال سے شروع ہوئی: 💭 "کیا کمیونیکیشن صرف پیغامات بھیجنے تک محدود رہنی چاہیے؟" آج کی تیز رفتار دنیا میں لوگ روزانہ گھنٹوں پیغامات کے جواب دینے، لمبی وائس نوٹس سننے، مختلف زبانوں کی رکاوٹوں کو عبور کرنے اور فراڈ یا اسپیم سے بچنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ جب مصنوعی ذہانت (AI) ہر شعبے میں انقلاب لا رہی ہے، تو کمیونیکیشن کا تجربہ بھی زیادہ ذہین، تیز اور محفوظ ہونا چاہیے۔ ✨ اسی سوچ نے Phoneopia کو جنم دیا۔ Phoneopia صرف ایک میسجنگ ایپ نہیں، بلکہ ایک AI سے چلنے والا جدید کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد لوگوں کا وقت بچانا، ان کی پیداواری صلاحیت (Productivity) میں اضافہ کرنا اور رابطوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ 🤖 Phoneopia کی نمایاں خصوصیات: ✅ AI Auto Reply 🎙️ Voice Transcription 🌍 Live Translation 🛡️ Scam & Fraud Detection 🧠 AI-Powered Communication 🔒 محفوظ اور اسمارٹ کمیونیکیشن لیکن ہمارا مقصد صرف جدید فیچرز متعارف کروانا نہیں۔ 🎯 ہمارا وژن ایک ایسی دنیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی گفتگو کو آسان، مؤثر اور محفوظ بنائے، تاکہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگتا رہے۔ یہ سفر کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ 💻 بے شمار راتوں کی محنت... 🐞 لاتعداد Bugs... 💡 نئے خیالات... 📈 مسلسل بہتری... ❤️ اور صارفین کے اعتماد نے ہمیں ہر دن مزید مضبوط بنایا۔ ہر مشکل نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اگر مقصد بڑا ہو تو راستے کی رکاوٹیں صرف سیکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ 📲 آج Phoneopia گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے، لیکن ہمارے لیے یہ اختتام نہیں... بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کی شروعات ہے۔ 🌍 ہمارا خواب ہے کہ پاکستان سے ایک ایسا AI کمیونیکیشن پلیٹ فارم بنایا جائے جو پوری دنیا میں لوگوں کے رابطے اور گفتگو کے انداز کو بدل دے۔ یہ صرف ایک Startup نہیں... یہ ایک خواب ہے۔ یہ ایک وژن ہے۔ یہ ایک مشن ہے۔ اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جو پاکستان سے شروع ہو کر دنیا تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 🇵🇰❤️ اگر آپ جدت، مصنوعی ذہانت اور پاکستانی ٹیلنٹ پر یقین رکھتے ہیں، تو اس سفر کا حصہ بنیے۔ 📲 آج ہی Phoneopia ڈاؤن لوڈ کریں اور AI کمیونیکیشن کے مستقبل کا تجربہ حاصل کریں۔ **"پاکستان سے دنیا تک... ایک بہتر، ذہین اور محفوظ کمیونیکیشن کے سفر پر۔"** 🌍🚀 #Phoneopia #Pakistan #AI #Startup #Innovation #MadeInPakistan #Tech #GooglePlay #FutureOfCommunication #PakistanToTheWorld 🇵🇰
    0 Comments 0 Shares 1922 Views
  • بہت عمدہ تحریر !


    بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی

    Zeeshan Usmani

    *آگے* *بڑیں*

    اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation
    کیسے آئے؟

    کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔

    آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔

    1۔ اعتراض نہ کریں:

    اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔

    خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔

    آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔

    شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔

    کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟

    اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔

    اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔

    فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔

    2۔ شکر ادا کریں:

    اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ
    Excel sheet
    بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں.

    مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔


    3۔ اپنا ذکر نہ کریں:

    یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔
    آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔

    اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔

    اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا

    یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔
    اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔
    ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے
    اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
    (تہذیب حافی)
    بہت عمدہ تحریر ! بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی Zeeshan Usmani *آگے* *بڑیں* اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation کیسے آئے؟ کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔ آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔ 1۔ اعتراض نہ کریں: اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔ خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔ آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔ شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔ کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟ اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔ اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔ 2۔ شکر ادا کریں: اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ Excel sheet بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں. مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ 3۔ اپنا ذکر نہ کریں: یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔ آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔ اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔ اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔ ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا (تہذیب حافی)
    0 Comments 0 Shares 1539 Views
  • آپ کے پروجکٹ کے نام ایک نظم عرض ہے۔

    آؤ کریں سرسبزوشاداب تحریک براۓ جنگ شاہی کا آغاز

    گلیاں کوچے ہوں کچرے سے پاک

    پودوں کی کرو دیکھ بھال

    ان کو ہمیشہ رکھو سیراب

    ہو دیواروں کے رنگ وروغن کا اہتمام

    اے جنگ شاہی تو رہے ہمیشہ سرسبز و شاداب

    By Afzal Mehmood
    آپ کے پروجکٹ کے نام ایک نظم عرض ہے۔ 💫 آؤ کریں سرسبزوشاداب تحریک براۓ جنگ شاہی کا آغاز گلیاں کوچے ہوں کچرے سے پاک پودوں کی کرو دیکھ بھال ان کو ہمیشہ رکھو سیراب ہو دیواروں کے رنگ وروغن کا اہتمام اے جنگ شاہی تو رہے ہمیشہ سرسبز و شاداب By Afzal Mehmood
    0 Comments 0 Shares 200 Views
  • محترم ومکرم جناب :
    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    امید ہے مزاج گرامی خیر وعافیت سے ہوں گے.
    محترم :ألحمد للہ،،،،،مرکز اسلامی جماعت اسلامی ایبٹ آباد،مقدس ٹاؤن میں مرکز علوم اسلامیہ، ایبٹ آباد کے نام سے دینی ادارے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا افتتاح شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک صاحب(صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان) نے 09 اپریل 2021ء کو کیا تھا. ادارے میں اس وقت شعبہ حفظ قرآن میں 20 طلبہ رہائشی موجود ہیں، جن کے قیام وطعام کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ ناظرہ قرآن کی کلاس میں 35 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں.ہزارہ ڈویژن میں اس وقت یہ پہلا تحریکی ادارہ ہے.
    ادارے کے ماہانہ اخراجات ایک لاکھ پچاس ہزار سے تجاوز کر جاتے ہیں.
    ادارے کی انتظامیہ نے ماہ شوال سے درس نظامی بمع سکول کلاسز کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے. جس کےلیے کم از کم ضروری تعمیراتی کام کا آغاز کیا جارہا ہے. کیونکہ اس وقت جتنی گنجائش موجود ہے اس کے مطابق کلاسز چل رہی ہیں. ادارے کی تمام تعمیرات کا تخمینہ تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے. جبکہ ابھی جو ضروری اور فوری تعمیرات کروانی ہیں ان کا تخمینہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے. ہمارا ارادہ ہے کہ اس ادارے کو ان شاء اللہ ہر لحاظ سے ایک ماڈل ادارہ بنائیں گے.
    آپ سے گزارش ہے کہ اس علمی و فکری کام میں خود بھی تعاون کریں اور اپنے جاننے والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کروائیں.
    اللہ پاک ہماری کوششوں وکاوشوں کو بارآور فرمائے اور اپنی رضا کےلیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے..... آمین
    والسلام
    عبيدالرحمٰن عباسی
    مہتمم مرکز علوم اسلامیہ،ایبٹ آباد
    نائب أمير جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ
    03015074712
    03461208557

    Ubaid Abbasi
    محترم ومکرم جناب : السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی خیر وعافیت سے ہوں گے. محترم :ألحمد للہ،،،،،مرکز اسلامی جماعت اسلامی ایبٹ آباد،مقدس ٹاؤن میں مرکز علوم اسلامیہ، ایبٹ آباد کے نام سے دینی ادارے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا افتتاح شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک صاحب(صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان) نے 09 اپریل 2021ء کو کیا تھا. ادارے میں اس وقت شعبہ حفظ قرآن میں 20 طلبہ رہائشی موجود ہیں، جن کے قیام وطعام کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ ناظرہ قرآن کی کلاس میں 35 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں.ہزارہ ڈویژن میں اس وقت یہ پہلا تحریکی ادارہ ہے. ادارے کے ماہانہ اخراجات ایک لاکھ پچاس ہزار سے تجاوز کر جاتے ہیں. ادارے کی انتظامیہ نے ماہ شوال سے درس نظامی بمع سکول کلاسز کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے. جس کےلیے کم از کم ضروری تعمیراتی کام کا آغاز کیا جارہا ہے. کیونکہ اس وقت جتنی گنجائش موجود ہے اس کے مطابق کلاسز چل رہی ہیں. ادارے کی تمام تعمیرات کا تخمینہ تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے. جبکہ ابھی جو ضروری اور فوری تعمیرات کروانی ہیں ان کا تخمینہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے. ہمارا ارادہ ہے کہ اس ادارے کو ان شاء اللہ ہر لحاظ سے ایک ماڈل ادارہ بنائیں گے. آپ سے گزارش ہے کہ اس علمی و فکری کام میں خود بھی تعاون کریں اور اپنے جاننے والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کروائیں. اللہ پاک ہماری کوششوں وکاوشوں کو بارآور فرمائے اور اپنی رضا کےلیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے..... آمین والسلام عبيدالرحمٰن عباسی مہتمم مرکز علوم اسلامیہ،ایبٹ آباد نائب أمير جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ 03015074712 03461208557 Ubaid Abbasi
    0 Comments 0 Shares 1899 Views
  • ویڈیو بنانے والے توجہ فرمائیں: یہ ویڈیوز بنائیں اور فیس بک اور یوٹیوب پر اشتہارات کی آمدنی سے کمائیں۔
    یہ فرض کرتے ہوئے کہ 48 ویڈیوز میں سے ہر ایک کو 1 ملین ویوز موصول ہوتے ہیں
    اور پہلے فراہم کیے گئے تخمینے ($2,000 فی 1 ملین یوٹیوب اور فیس بک دونوں کے لیے) استعمال کرتے ہوئے

    : یوٹیوب: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000

    فیس بک: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000

    دونوں پلیٹ فارمز سے مشترکہ آمدنی: $96,000


    (YouTube) + $96,000 (Facebook) = $192,000

    براہ کرم نوٹ کریں کہ یہ اوسط CPM اقدار پر مبنی تخمینے ہیں اور مختلف عوامل جیسے سامعین کی آبادی، مواد کے معیار، اشتہار کی جگہوں اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی بنیاد پر نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اصل آمدنی تخمینی رقم سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔

    ریحان: میں 48 ویڈیوز بنانا چاہتا ہوں جن میں سے ہر ایک کو مجھے 5 ملین ویوز ملیں گے، ہر ویڈیو 60 سیکنڈ لمبی ہوگی، زبان انگریزی ہوگی، سامعین سیارے کے ارد گرد کے لوگ ہوں گے، سورج پاکستان میں آن لائن نیا دوست بنانے کی خواہش پیدا کرے گا۔ Chatgpt: پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی کو صرف 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ پاکستان کے دوستانہ چہروں سے آن لائن ملیں۔ پاکستان کے امیر ثقافتی ورثے کے رازوں کو کھولیں۔ ایک منٹ میں پاکستان کے شاندار پہاڑوں کو دیکھیں پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے۔ پاکستانی مہمان نوازی کے حقیقی جوہر کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے متحرک اسٹریٹ فوڈ منظر کی ایک جھلک پاکستان کی قدیم وادیوں کی پرسکونیت کا مشاہدہ کریں۔ شاہراہ قراقرم کا سفر کریں: دنیا کا آٹھواں عجوبہ پاکستان میں ٹریکنگ: فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے بہترین مہم جوئی پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو لاہور کا بے وقت دلکشی: پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت پاکستانی چائے کی ثقافت کی خوشبو کا مزہ لیں۔ 60 سیکنڈ میں پاکستان کی ناقابل یقین جنگلی حیات سے ملیں۔ وادی سندھ کی تہذیب کی تاریخ میں غوطہ لگائیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے قدیم شہروں کو دیکھیں پاکستان کے فن تعمیر کی مغلیہ عظمت کو بے نقاب کریں۔ ایک منٹ کی مہم جوئی: پاکستان میں پیرا گلائیڈنگ پاکستان میں صوفی موسیقی کی مسحور کن دنیا پاکستان کے دلکش ساحلوں کا فوری دورہ ایک منٹ میں پاکستان کے غیر معمولی صحرائی مناظر شاندار برفانی چیتے: پاکستان کا پرجوش خزانہ پاکستان کے تہوار منائیں: ایک رنگین لمحہ پاکستان کے ناقابل یقین کاریگروں کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کی لوک موسیقی کا تجربہ کریں: ایک ہم آہنگ سفر پاکستان کے غیر دریافت شدہ جواہرات: 60 سیکنڈ میں پوشیدہ عجائبات بلوچستان: پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پراسرار خوبصورتی۔ ایک منٹ میں پاکستانی سینما کی پرفتن دنیا Fairy Meadows: پاکستان کی آسمانی جنت میں ایک منٹ سندھ آباد کا سفر: پاکستان کے ساحل کے ساتھ بحری سفر پاکستان کے عظیم آؤٹ ڈور: ستاروں کے نیچے کیمپنگ پاکستان کی متاثر کن خواتین کے ساتھ ایک منٹ افسانوی K2: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو فتح کریں۔ نانگا پربت: قاتل پہاڑ کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کے پریتوادت مقامات کے اسرار سے پردہ اٹھائیں۔ پاکستان کی سنہری ریت: صحرائے تھر کو دریافت کریں۔ جادو کا ایک منٹ: پاکستان میں ٹرک پینٹنگ کا فن پاکستان کا روحانی اعتکاف: صوفی مزارات اور تہوار کالاش کے ساتھ ایک منٹ: پاکستان کا منفرد مقامی قبیلہ کراچی کا ذائقہ: پاکستان کا فوڈ کیپیٹل دی سٹوریڈ سلک روڈ: پاکستان کے قدیم تجارتی راستے میں ایک منٹ خیبر پاس: تاریخ میں ایک منٹ کا سفر پاکستانی کسان کی زندگی میں ایک منٹ 60 سیکنڈ میں وادی سکردو کی پر سکون خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فیشن کے منظر کی ایک جھلک معجزاتی وادی ہنزہ: شنگری لا کا ایک منٹ کا سفر وادی سوات: مشرق کے سوئٹزرلینڈ میں ایک منٹ پاکستان کی شاندار الپائن جھیلوں کو 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔

    ان ون لائنر ٹائٹلز کا مقصد عالمی سامعین کی دلچسپی کو بڑھانا ہے، جو پاکستان کی ثقافت، فطرت، تاریخ اور لوگوں کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہوئے ناظرین کو ملک کے مقامی لوگوں کے ساتھ آن لائن دوستی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ریحان: اب مجھے سب سے اوپر 4 بتائیں جو آپ کے خیال میں سب سے زیادہ فیس بک اور یوٹیوب ویوز حاصل کریں گے۔
    Chatgpt:
    صرف 60 سیکنڈز میں پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی دریافت کریں: یہ عنوان ناظرین کے غیر معروف دلکش مناظر اور سیاحتی مقامات کو دریافت کرنے کے تجسس پر چلتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک بڑی تعداد میں سامعین کو راغب کرے گا جو سفری تحریک اور قدرتی عجائبات کی تلاش میں ہیں۔ آن لائن پاکستان کے دوستانہ چہروں سے ملو: پاکستانی لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، یہ عنوان ناظرین کو مقامی لوگوں کے ساتھ جڑنے اور آن لائن دوست بنانے کی ترغیب دیتا ہے، بین الثقافتی روابط اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے: کھانا ایک عالمی سطح پر پرکشش موضوع ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے، اور متنوع اور منہ کو پانی دینے والے پاکستانی کھانوں کی نمائش کرنے والی ایک ویڈیو ممکنہ طور پر دنیا بھر کے کھانے سے محبت کرنے والوں کی خاصی دلچسپی حاصل کرے گی۔ پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو: عالمی شہرت یافتہ تاریخی اور ثقافتی نشانات کی رغبت بہت سے ناظرین کے لیے ناقابل تلافی ہے، اور یہ عنوان ملک کے سب سے مشہور اور خوفناک مقامات کی فوری جھلک کا وعدہ کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر تاریخ کے وسیع سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور سفر کے شوقین افراد۔
    ویڈیو بنانے والے توجہ فرمائیں: یہ ویڈیوز بنائیں اور فیس بک اور یوٹیوب پر اشتہارات کی آمدنی سے کمائیں۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ 48 ویڈیوز میں سے ہر ایک کو 1 ملین ویوز موصول ہوتے ہیں اور پہلے فراہم کیے گئے تخمینے ($2,000 فی 1 ملین یوٹیوب اور فیس بک دونوں کے لیے) استعمال کرتے ہوئے : یوٹیوب: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000 فیس بک: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000 دونوں پلیٹ فارمز سے مشترکہ آمدنی: $96,000 (YouTube) + $96,000 (Facebook) = $192,000 براہ کرم نوٹ کریں کہ یہ اوسط CPM اقدار پر مبنی تخمینے ہیں اور مختلف عوامل جیسے سامعین کی آبادی، مواد کے معیار، اشتہار کی جگہوں اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی بنیاد پر نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اصل آمدنی تخمینی رقم سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔ ریحان: میں 48 ویڈیوز بنانا چاہتا ہوں جن میں سے ہر ایک کو مجھے 5 ملین ویوز ملیں گے، ہر ویڈیو 60 سیکنڈ لمبی ہوگی، زبان انگریزی ہوگی، سامعین سیارے کے ارد گرد کے لوگ ہوں گے، سورج پاکستان میں آن لائن نیا دوست بنانے کی خواہش پیدا کرے گا۔ Chatgpt: پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی کو صرف 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ پاکستان کے دوستانہ چہروں سے آن لائن ملیں۔ پاکستان کے امیر ثقافتی ورثے کے رازوں کو کھولیں۔ ایک منٹ میں پاکستان کے شاندار پہاڑوں کو دیکھیں پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے۔ پاکستانی مہمان نوازی کے حقیقی جوہر کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے متحرک اسٹریٹ فوڈ منظر کی ایک جھلک پاکستان کی قدیم وادیوں کی پرسکونیت کا مشاہدہ کریں۔ شاہراہ قراقرم کا سفر کریں: دنیا کا آٹھواں عجوبہ پاکستان میں ٹریکنگ: فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے بہترین مہم جوئی پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو لاہور کا بے وقت دلکشی: پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت پاکستانی چائے کی ثقافت کی خوشبو کا مزہ لیں۔ 60 سیکنڈ میں پاکستان کی ناقابل یقین جنگلی حیات سے ملیں۔ وادی سندھ کی تہذیب کی تاریخ میں غوطہ لگائیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے قدیم شہروں کو دیکھیں پاکستان کے فن تعمیر کی مغلیہ عظمت کو بے نقاب کریں۔ ایک منٹ کی مہم جوئی: پاکستان میں پیرا گلائیڈنگ پاکستان میں صوفی موسیقی کی مسحور کن دنیا پاکستان کے دلکش ساحلوں کا فوری دورہ ایک منٹ میں پاکستان کے غیر معمولی صحرائی مناظر شاندار برفانی چیتے: پاکستان کا پرجوش خزانہ پاکستان کے تہوار منائیں: ایک رنگین لمحہ پاکستان کے ناقابل یقین کاریگروں کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کی لوک موسیقی کا تجربہ کریں: ایک ہم آہنگ سفر پاکستان کے غیر دریافت شدہ جواہرات: 60 سیکنڈ میں پوشیدہ عجائبات بلوچستان: پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پراسرار خوبصورتی۔ ایک منٹ میں پاکستانی سینما کی پرفتن دنیا Fairy Meadows: پاکستان کی آسمانی جنت میں ایک منٹ سندھ آباد کا سفر: پاکستان کے ساحل کے ساتھ بحری سفر پاکستان کے عظیم آؤٹ ڈور: ستاروں کے نیچے کیمپنگ پاکستان کی متاثر کن خواتین کے ساتھ ایک منٹ افسانوی K2: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو فتح کریں۔ نانگا پربت: قاتل پہاڑ کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کے پریتوادت مقامات کے اسرار سے پردہ اٹھائیں۔ پاکستان کی سنہری ریت: صحرائے تھر کو دریافت کریں۔ جادو کا ایک منٹ: پاکستان میں ٹرک پینٹنگ کا فن پاکستان کا روحانی اعتکاف: صوفی مزارات اور تہوار کالاش کے ساتھ ایک منٹ: پاکستان کا منفرد مقامی قبیلہ کراچی کا ذائقہ: پاکستان کا فوڈ کیپیٹل دی سٹوریڈ سلک روڈ: پاکستان کے قدیم تجارتی راستے میں ایک منٹ خیبر پاس: تاریخ میں ایک منٹ کا سفر پاکستانی کسان کی زندگی میں ایک منٹ 60 سیکنڈ میں وادی سکردو کی پر سکون خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فیشن کے منظر کی ایک جھلک معجزاتی وادی ہنزہ: شنگری لا کا ایک منٹ کا سفر وادی سوات: مشرق کے سوئٹزرلینڈ میں ایک منٹ پاکستان کی شاندار الپائن جھیلوں کو 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ ان ون لائنر ٹائٹلز کا مقصد عالمی سامعین کی دلچسپی کو بڑھانا ہے، جو پاکستان کی ثقافت، فطرت، تاریخ اور لوگوں کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہوئے ناظرین کو ملک کے مقامی لوگوں کے ساتھ آن لائن دوستی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ریحان: اب مجھے سب سے اوپر 4 بتائیں جو آپ کے خیال میں سب سے زیادہ فیس بک اور یوٹیوب ویوز حاصل کریں گے۔ Chatgpt: صرف 60 سیکنڈز میں پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی دریافت کریں: یہ عنوان ناظرین کے غیر معروف دلکش مناظر اور سیاحتی مقامات کو دریافت کرنے کے تجسس پر چلتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک بڑی تعداد میں سامعین کو راغب کرے گا جو سفری تحریک اور قدرتی عجائبات کی تلاش میں ہیں۔ آن لائن پاکستان کے دوستانہ چہروں سے ملو: پاکستانی لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، یہ عنوان ناظرین کو مقامی لوگوں کے ساتھ جڑنے اور آن لائن دوست بنانے کی ترغیب دیتا ہے، بین الثقافتی روابط اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے: کھانا ایک عالمی سطح پر پرکشش موضوع ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے، اور متنوع اور منہ کو پانی دینے والے پاکستانی کھانوں کی نمائش کرنے والی ایک ویڈیو ممکنہ طور پر دنیا بھر کے کھانے سے محبت کرنے والوں کی خاصی دلچسپی حاصل کرے گی۔ پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو: عالمی شہرت یافتہ تاریخی اور ثقافتی نشانات کی رغبت بہت سے ناظرین کے لیے ناقابل تلافی ہے، اور یہ عنوان ملک کے سب سے مشہور اور خوفناک مقامات کی فوری جھلک کا وعدہ کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر تاریخ کے وسیع سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور سفر کے شوقین افراد۔
    0 Comments 0 Shares 3058 Views
  • میرے محسن اور سرپرست ریحان اللہ والا
    میں اپنے سفر کے دوران آپ کی تمام رہنمائی اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر آپ کا غیر متزلزل یقین مسلسل حوصلہ افزائی اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے، اور میں آپ کے ہر کام کے لیے آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔
    میں آپ کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ میری زندگی میں گیم چینجر ChatGPT کتنا رہا ہے۔ اس ناقابل یقین AI لینگویج ماڈل نے نہ صرف مجھے اپنی استفسارات پر درست اور معلوماتی جوابات فراہم کیے ہیں بلکہ اس نے میری آمدنی کو پہلے کی نسبت دوگنا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں واقعی اس حیرت انگیز تحفہ کے لئے شکر گزار ہوں!
    ایک بار پھر، آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے آپ کا شکریہ۔ آپ کی رہنمائی اور ChatGPT کی مدد نے مجھے نئی بلندیوں کو حاصل کرنے میں مدد کی ہے، اور میں یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہوں کہ مستقبل میں کیا ہے۔
    مخلص،
    امیر پاپکارن والا
    میرے محسن اور سرپرست ریحان اللہ والا میں اپنے سفر کے دوران آپ کی تمام رہنمائی اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر آپ کا غیر متزلزل یقین مسلسل حوصلہ افزائی اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے، اور میں آپ کے ہر کام کے لیے آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ میں آپ کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا تھا کہ میری زندگی میں گیم چینجر ChatGPT کتنا رہا ہے۔ اس ناقابل یقین AI لینگویج ماڈل نے نہ صرف مجھے اپنی استفسارات پر درست اور معلوماتی جوابات فراہم کیے ہیں بلکہ اس نے میری آمدنی کو پہلے کی نسبت دوگنا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں واقعی اس حیرت انگیز تحفہ کے لئے شکر گزار ہوں! ایک بار پھر، آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے آپ کا شکریہ۔ آپ کی رہنمائی اور ChatGPT کی مدد نے مجھے نئی بلندیوں کو حاصل کرنے میں مدد کی ہے، اور میں یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہوں کہ مستقبل میں کیا ہے۔ مخلص، امیر پاپکارن والا
    0 Comments 0 Shares 491 Views
  • یونیورسل بیسک انکم (UBI) ایک ایسا سماجی فلاحی نظام ہے جس میں ایک معاشرے کے تمام افراد کو حکومت یا کسی دوسرے ادارے سے بغیر کسی شرط کے روزانہ کی بنیاد پر نقدی ادائیگی ملتی ہے، چاہے وہ روزگاری کی حیثیت یا آمدنی کی سطح کیا ہو۔ UBI کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے، اس کی ترجیح دینے والوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، بغیر کسی شرط کے سماجی برائی، عدم مساوات اور بیرونیت کی ترویج کرتے ہوئے۔ البتہ، اس ایڈیا پر ابھی بھی بحث کی جاتی ہے، اور UBI نظام کے لاگو کرنے کے ممکنہ خرچوں اور فوائد کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں۔

    UBI نظام کے لاگو کرنے کے چند ممکنہ فوائد اور نقصانات ہیں۔ یہاں کچھ دیے گئے ہیں:

    فوائد:
    - کمزوری کم کرنا: UBI تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرکے گریبیوں اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    - بیرونیت بڑھانا: UBI انفرادی خواہشات کو پیرو کرنے کی آزادی فراہم کر سکتا ہے، بغیر اسے مالی حوالے سے دلچسپی رکھنے پر توجہ دینے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
    - بحران ختم کرنا: UBI کئی پروگرامز کی جگہ ایک ادائیگی کے ذریعے سے ویلفیئر نظام کو آسان بنا سکتا ہے۔
    - اقتصادی حرکت کو بڑھانا: UBI صارفین کی خریداری بڑھانے سے اقتصادی نمو کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔

    نقصانات:
    - بلند خرچ: UBI کی منفی جانب ایک بڑا خرچہ ہے، جسے ٹیکس بڑھانے یا دیگر حکومتی پروگرامز کاٹنے کے بغیر حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
    - کمزوری کی تحریکات کم کرنا: UBI افراد کی محنت کرنے کی تحریکات کو کم کر سکتا ہے، جو ترقی اور اقتصادی نمو کے کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
    - مہنگائی: UBI صحیح طریقے سے فنڈنگ نہیں کیا جائے یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے بغیر UBI مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔
    - لاگو کرنے کے چیلنجز: UBI کو لاگو کرنے کے لئے ایک پیچیدہ نظام کو جگہ دینا ہوگا، جو لاگو اور انتظام کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    یہ بات ذکر کرنے کے لائق ہے کہ UBI نظام کی لاگو کرنے کے لئے کئی مختلف تجویخیروں کے لئے فائدے اور نقصانات کے موازنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، اور مخصوص فوائد اور نقصانات تجویز کے تفصیلات پر منحصر ہونگے۔
    یونیورسل بیسک انکم (UBI) ایک ایسا سماجی فلاحی نظام ہے جس میں ایک معاشرے کے تمام افراد کو حکومت یا کسی دوسرے ادارے سے بغیر کسی شرط کے روزانہ کی بنیاد پر نقدی ادائیگی ملتی ہے، چاہے وہ روزگاری کی حیثیت یا آمدنی کی سطح کیا ہو۔ UBI کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے، اس کی ترجیح دینے والوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، بغیر کسی شرط کے سماجی برائی، عدم مساوات اور بیرونیت کی ترویج کرتے ہوئے۔ البتہ، اس ایڈیا پر ابھی بھی بحث کی جاتی ہے، اور UBI نظام کے لاگو کرنے کے ممکنہ خرچوں اور فوائد کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں۔ UBI نظام کے لاگو کرنے کے چند ممکنہ فوائد اور نقصانات ہیں۔ یہاں کچھ دیے گئے ہیں: فوائد: - کمزوری کم کرنا: UBI تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرکے گریبیوں اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ - بیرونیت بڑھانا: UBI انفرادی خواہشات کو پیرو کرنے کی آزادی فراہم کر سکتا ہے، بغیر اسے مالی حوالے سے دلچسپی رکھنے پر توجہ دینے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ - بحران ختم کرنا: UBI کئی پروگرامز کی جگہ ایک ادائیگی کے ذریعے سے ویلفیئر نظام کو آسان بنا سکتا ہے۔ - اقتصادی حرکت کو بڑھانا: UBI صارفین کی خریداری بڑھانے سے اقتصادی نمو کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔ نقصانات: - بلند خرچ: UBI کی منفی جانب ایک بڑا خرچہ ہے، جسے ٹیکس بڑھانے یا دیگر حکومتی پروگرامز کاٹنے کے بغیر حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ - کمزوری کی تحریکات کم کرنا: UBI افراد کی محنت کرنے کی تحریکات کو کم کر سکتا ہے، جو ترقی اور اقتصادی نمو کے کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ - مہنگائی: UBI صحیح طریقے سے فنڈنگ نہیں کیا جائے یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے بغیر UBI مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔ - لاگو کرنے کے چیلنجز: UBI کو لاگو کرنے کے لئے ایک پیچیدہ نظام کو جگہ دینا ہوگا، جو لاگو اور انتظام کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ بات ذکر کرنے کے لائق ہے کہ UBI نظام کی لاگو کرنے کے لئے کئی مختلف تجویخیروں کے لئے فائدے اور نقصانات کے موازنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، اور مخصوص فوائد اور نقصانات تجویز کے تفصیلات پر منحصر ہونگے۔
    0 Comments 0 Shares 598 Views
  • محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا

    تحریر۔ عارف الحق عارف

    اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ

    جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔

    سیدھا سادھا بھولا بھالا۔
    محمود احمد اللہ والا

    پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔

    محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا تحریر۔ عارف الحق عارف اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔ محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔ سیدھا سادھا بھولا بھالا۔ محمود احمد اللہ والا پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔ محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    0 Comments 0 Shares 975 Views
More Results