• **14 اگست — یومِ آزادی مبارک! **

    آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ہماری پہچان، ہمارا گھر اور ہماری ذمہ داری ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔

    **جشنِ آزادی مبارک!**

    **پاکستان زندہ باد! **

    #14اگست #یوم_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #جشن_آزادی #پاکستان #PAKI
    🇵🇰 **14 اگست — یومِ آزادی مبارک! 🇵🇰** آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ہماری پہچان، ہمارا گھر اور ہماری ذمہ داری ہے۔ 💚🇵🇰 اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ 🤲✨ 💚 **جشنِ آزادی مبارک!** 💚 **پاکستان زندہ باد! 🇵🇰** #14اگست #یوم_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #جشن_آزادی #پاکستان #PAKI
    0 Kommentare 0 Anteile 1354 Ansichten
  • **14 اگست — یومِ آزادی مبارک! **

    آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ہماری پہچان، ہمارا گھر اور ہماری ذمہ داری ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔

    **جشنِ آزادی مبارک!**

    **پاکستان زندہ باد! **

    #14اگست #یوم_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #جشن_آزادی #پاکستان #PAKI
    🇵🇰 **14 اگست — یومِ آزادی مبارک! 🇵🇰** آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ہماری پہچان، ہمارا گھر اور ہماری ذمہ داری ہے۔ 💚🇵🇰 اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ 🤲✨ 💚 **جشنِ آزادی مبارک!** 💚 **پاکستان زندہ باد! 🇵🇰** #14اگست #یوم_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #جشن_آزادی #پاکستان #PAKI
    0 Kommentare 0 Anteile 1227 Ansichten
  • آپ کا واٹس ایپ، اب آپ کا سب سے ذہین ملازم!

    سوچیں... رات کے 2 بجے ایک نیا کسٹمر آپ کے کاروبار کو WhatsApp پر میسج کرتا ہے۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں، لیکن HireHan نہیں۔

    چند ہی سیکنڈز میں HireHan AI کسٹمر کو خوش آمدید کہتا ہے، اس کے سوالوں کے جواب دیتا ہے، آپ کی سروسز کی معلومات فراہم کرتا ہے، وائس میسجز کو سمجھتا ہے اور گفتگو کو سیلز میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    اب نہ کوئی لیڈ ضائع ہوگی، نہ جواب دینے میں تاخیر ہوگی، اور نہ ہی آپ کو ہر وقت آن لائن رہنے کی ضرورت ہوگی۔

    HireHan کی طاقتور خصوصیات:

    AI واٹس ایپ اسسٹنٹ
    فوری خودکار جوابات
    وائس میسج ٹرانسکرپشن
    آپ کے بزنس کے مطابق AI ٹریننگ
    QR کوڈ سے چند سیکنڈ میں کنیکٹ
    24/7 بغیر رکے کام
    زیادہ لیڈز، زیادہ سیلز، زیادہ ترقی

    چاہے آپ کا تعلق ریئل اسٹیٹ، ای کامرس، کلینک، اکیڈمی، ایجنسی یا کسی بھی کاروبار سے ہو، HireHan آپ کے WhatsApp کو ایک ایسا AI ملازم بنا دیتا ہے جو کبھی نہیں سوتا۔

    گفتگو AI کو سونپیں، اور اپنی توجہ کاروبار بڑھانے پر دیں۔

    www.HireHan.com

    #HireHan #مصنوعی_ذہانت #واٹس_ایپ_آٹومیشن #کاروبار #کسٹمر_سپورٹ #سیلز #بزنس_گروتھ #AI #WhatsAppAutomation
    🤖 آپ کا واٹس ایپ، اب آپ کا سب سے ذہین ملازم! سوچیں... رات کے 2 بجے ایک نیا کسٹمر آپ کے کاروبار کو WhatsApp پر میسج کرتا ہے۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں، لیکن HireHan نہیں۔ چند ہی سیکنڈز میں HireHan AI کسٹمر کو خوش آمدید کہتا ہے، اس کے سوالوں کے جواب دیتا ہے، آپ کی سروسز کی معلومات فراہم کرتا ہے، وائس میسجز کو سمجھتا ہے اور گفتگو کو سیلز میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اب نہ کوئی لیڈ ضائع ہوگی، نہ جواب دینے میں تاخیر ہوگی، اور نہ ہی آپ کو ہر وقت آن لائن رہنے کی ضرورت ہوگی۔ ✨ HireHan کی طاقتور خصوصیات: 🤖 AI واٹس ایپ اسسٹنٹ 💬 فوری خودکار جوابات 🎙️ وائس میسج ٹرانسکرپشن 📚 آپ کے بزنس کے مطابق AI ٹریننگ 📱 QR کوڈ سے چند سیکنڈ میں کنیکٹ 🕒 24/7 بغیر رکے کام 📈 زیادہ لیڈز، زیادہ سیلز، زیادہ ترقی چاہے آپ کا تعلق ریئل اسٹیٹ، ای کامرس، کلینک، اکیڈمی، ایجنسی یا کسی بھی کاروبار سے ہو، HireHan آپ کے WhatsApp کو ایک ایسا AI ملازم بنا دیتا ہے جو کبھی نہیں سوتا۔ 🚀 گفتگو AI کو سونپیں، اور اپنی توجہ کاروبار بڑھانے پر دیں۔ 🌐 www.HireHan.com #HireHan #مصنوعی_ذہانت #واٹس_ایپ_آٹومیشن #کاروبار #کسٹمر_سپورٹ #سیلز #بزنس_گروتھ #AI #WhatsAppAutomation
    0 Kommentare 0 Anteile 3382 Ansichten
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Kommentare 0 Anteile 2664 Ansichten
  • پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com

    خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔

    یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔

    www.paki.com

    پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔

    #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    🇵🇰 پاکستان کی اپنی ڈیجیٹل کمیونٹی — Paki.com خوش آمدید Paki.com پر، جہاں پاکستان ٹیکنالوجی، جدت اور کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں آپ نئے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ہی ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں اور پاکستان کے روشن ڈیجیٹل مستقبل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 🌐 www.paki.com پاکستان کو جوڑنے کا ایک نیا انداز۔ #Pakistan #pakicom#PakistanZindabad#DigitalPakistan#technology #startupbusiness#communitysupport #madeinpakistan
    0 Kommentare 0 Anteile 1617 Ansichten
  • میری کہانی… اور میرا مشن

    سال 2015 میں
    میں صرف پانچ سال کا تھا۔

    شروع میں یہ بس ایک عام بیماری جیسی لگ رہی تھی۔
    بخار تھا۔ کمزوری تھی۔ جسم ٹوٹ رہا تھا۔

    کسی کو اندازہ نہیں تھا
    کہ میرے جسم میں ایک خطرناک بیکٹیریا داخل ہو چکا ہے۔

    بعد میں ہمیں معلوم ہوا
    کہ یہ Meningococcal Disease تھی
    جس نے میرے جسم میں جا کر Septicemia پیدا کر دی۔

    Septicemia کا مطلب ہے
    بیکٹیریا خون میں پھیل جانا۔

    جب یہ ہوتا ہے
    تو خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں
    خون کا بہاؤ رک جاتا ہے
    اور جسم کے حصوں تک آکسیجن نہیں پہنچتی۔

    اسی وجہ سے
    میرے ہاتھ کی انگلیاں
    اور میرے پاؤں متاثر ہوئے۔

    ڈاکٹرز نے پوری کوشش کی۔

    لیکن انفیکشن بہت تیزی سے بڑھ چکا تھا۔

    بعد میں مجھے معلوم ہوا
    کہ دنیا میں ہر سال ہزاروں کیسز Meningococcal Disease کے رپورٹ ہوتے ہیں۔
    ترقی پذیر ممالک میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
    بعض کیسز میں شرح اموات 10٪ سے 20٪ تک ہو سکتی ہے۔
    اور جو بچ جاتے ہیں
    ان میں سے کچھ کو سننے کی طاقت، نظر یا اعضا کا نقصان ہو سکتا ہے۔

    یعنی یہ بیماری:

    • اچانک شروع ہوتی ہے
    • شروع میں عام بخار جیسی لگتی ہے
    • چند گھنٹوں میں جان لیوا بن سکتی ہے
    • اور تاخیر کی صورت میں گینگرین اور امپیوٹیشن کا سبب بن سکتی ہے

    لیکن ایک اور حقیقت بھی ہے۔

    یہ بیماری قابلِ علاج ہے۔
    اس کے ویکسینز موجود ہیں۔
    ابتدائی علامات پہچان لی جائیں تو جان اور اعضا بچائے جا سکتے ہیں۔

    مسئلہ کیا ہے؟

    آگاہی کی کمی۔

    میری ٹارگٹ آڈیئنس کون ہے؟

    میں کام کرنا چاہتا ہوں:

    • والدین کے ساتھ
    • سکولوں اور کالجز کے ساتھ
    • ہاسٹلز اور بورڈنگ سسٹمز کے ساتھ
    • نوجوانوں کے ساتھ
    • صحت کے شعبے کے لوگوں کے ساتھ
    • اور ان کمیونٹیز کے ساتھ جہاں آگاہی کم ہے

    کیونکہ یہ بیماری قریبی رابطے سے پھیل سکتی ہے۔

    بخار + کمزوری + غیر معمولی rash
    یہ emergency signs ہو سکتے ہیں۔

    میرا مقصد کیا ہے؟

    میں ہمدردی نہیں مانگ رہا۔

    میں ایک مشن شروع کر رہا ہوں۔

    میرا مقصد ہے:

    10 لاکھ لوگوں تک
    Sepsis اور Meningococcal Disease کے بارے میں آگاہی پہنچانا۔

    میں چاہتا ہوں:

    • کوئی بچہ صرف اس لیے ہاتھ یا پاؤں نہ کھوئے
    کیونکہ والدین نے بخار کو معمولی سمجھا
    • کوئی سکول تاخیر نہ کرے
    • کوئی ڈاکٹر ریفرل میں دیر نہ کرے
    • کوئی خاندان لاعلمی کا شکار نہ ہو

    میرا پیغام

    ابتدائی علامات کو سنجیدہ لیں۔
    غیر معمولی rash کو ignore نہ کریں۔
    شدید بخار میں تاخیر نہ کریں۔
    ویکسین کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

    میں پانچ سال کی عمر میں بچ گیا۔

    لیکن ہر کوئی نہیں بچتا۔

    اگر میری کہانی
    ایک بچے کو بھی بچا دے
    تو یہ مشن کامیاب ہوگا۔

    میں زندہ بچ گیا۔

    اب میں بچانا چاہتا ہوں۔

    — ابرار گینگرین والا

    #SepsisAwareness
    #MeningococcalDisease
    #EarlyDetection
    #ProtectChildren
    #PublicHealth
    میری کہانی… اور میرا مشن سال 2015 میں میں صرف پانچ سال کا تھا۔ شروع میں یہ بس ایک عام بیماری جیسی لگ رہی تھی۔ بخار تھا۔ کمزوری تھی۔ جسم ٹوٹ رہا تھا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ میرے جسم میں ایک خطرناک بیکٹیریا داخل ہو چکا ہے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ Meningococcal Disease تھی جس نے میرے جسم میں جا کر Septicemia پیدا کر دی۔ Septicemia کا مطلب ہے بیکٹیریا خون میں پھیل جانا۔ جب یہ ہوتا ہے تو خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے اور جسم کے حصوں تک آکسیجن نہیں پہنچتی۔ اسی وجہ سے میرے ہاتھ کی انگلیاں اور میرے پاؤں متاثر ہوئے۔ ڈاکٹرز نے پوری کوشش کی۔ لیکن انفیکشن بہت تیزی سے بڑھ چکا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر سال ہزاروں کیسز Meningococcal Disease کے رپورٹ ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کیسز میں شرح اموات 10٪ سے 20٪ تک ہو سکتی ہے۔ اور جو بچ جاتے ہیں ان میں سے کچھ کو سننے کی طاقت، نظر یا اعضا کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ بیماری: • اچانک شروع ہوتی ہے • شروع میں عام بخار جیسی لگتی ہے • چند گھنٹوں میں جان لیوا بن سکتی ہے • اور تاخیر کی صورت میں گینگرین اور امپیوٹیشن کا سبب بن سکتی ہے لیکن ایک اور حقیقت بھی ہے۔ یہ بیماری قابلِ علاج ہے۔ اس کے ویکسینز موجود ہیں۔ ابتدائی علامات پہچان لی جائیں تو جان اور اعضا بچائے جا سکتے ہیں۔ مسئلہ کیا ہے؟ آگاہی کی کمی۔ میری ٹارگٹ آڈیئنس کون ہے؟ میں کام کرنا چاہتا ہوں: • والدین کے ساتھ • سکولوں اور کالجز کے ساتھ • ہاسٹلز اور بورڈنگ سسٹمز کے ساتھ • نوجوانوں کے ساتھ • صحت کے شعبے کے لوگوں کے ساتھ • اور ان کمیونٹیز کے ساتھ جہاں آگاہی کم ہے کیونکہ یہ بیماری قریبی رابطے سے پھیل سکتی ہے۔ بخار + کمزوری + غیر معمولی rash یہ emergency signs ہو سکتے ہیں۔ میرا مقصد کیا ہے؟ میں ہمدردی نہیں مانگ رہا۔ میں ایک مشن شروع کر رہا ہوں۔ میرا مقصد ہے: 10 لاکھ لوگوں تک Sepsis اور Meningococcal Disease کے بارے میں آگاہی پہنچانا۔ میں چاہتا ہوں: • کوئی بچہ صرف اس لیے ہاتھ یا پاؤں نہ کھوئے کیونکہ والدین نے بخار کو معمولی سمجھا • کوئی سکول تاخیر نہ کرے • کوئی ڈاکٹر ریفرل میں دیر نہ کرے • کوئی خاندان لاعلمی کا شکار نہ ہو میرا پیغام ابتدائی علامات کو سنجیدہ لیں۔ غیر معمولی rash کو ignore نہ کریں۔ شدید بخار میں تاخیر نہ کریں۔ ویکسین کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ میں پانچ سال کی عمر میں بچ گیا۔ لیکن ہر کوئی نہیں بچتا۔ اگر میری کہانی ایک بچے کو بھی بچا دے تو یہ مشن کامیاب ہوگا۔ میں زندہ بچ گیا۔ اب میں بچانا چاہتا ہوں۔ — ابرار گینگرین والا #SepsisAwareness #MeningococcalDisease #EarlyDetection #ProtectChildren #PublicHealth
    0 Kommentare 0 Anteile 2722 Ansichten 0
  • خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی

    یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔

    وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔

    #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں
    #نوجوانوں_کی_کامیابی
    #مسلسل_محنت
    #خود_اعتمادی
    #مثبت_سوچ
    #آگے_بڑھو
    #حوصلہ
    #ترقی_کا_سفر
    Rehan Allahwala
    Doulat EducationWala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Jai Parkash EducationWala
    ✨ خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔ وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔ 🌟 #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں #نوجوانوں_کی_کامیابی #مسلسل_محنت #خود_اعتمادی #مثبت_سوچ #آگے_بڑھو #حوصلہ #ترقی_کا_سفر Rehan Allahwala Doulat EducationWala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Jai Parkash EducationWala
    0 Kommentare 0 Anteile 3208 Ansichten 0
  • میرا تعلیمی سفر

    میں ریحان کالج میں طالب علم ہوں، جہاں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن سیکھ رہا ہوں۔

    جب میں نے یہ سفر شروع کیا تو میں جانتا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوگا، لیکن ہر چیلنج نے مجھے کچھ نیا سکھایا۔

    آج میں اپنی مہارتوں کو بہتر بنا رہا ہوں، اپنا اعتماد بڑھا رہا ہوں، اور اپنے آپ کو مستقبل کے لیے تیار کر رہا ہوں۔

    "آج سیکھنے کے چھوٹے قدم کل ایک بڑی کامیابی تخلیق کر سکتے ہیں۔"

    مجھے امید ہے کہ میرا یہ سفر دوسروں کو بھی سیکھتے رہنے کی ترغیب دے گا، کیونکہ علم ترقی کی طرف پہلا قدم ہے۔

    #RehanCollege #AIJourney #Learning #GrowthMindset #FutureSkills #Urdu #Pakistan
    ✨ میرا تعلیمی سفر ✨ میں ریحان کالج میں طالب علم ہوں، جہاں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن سیکھ رہا ہوں۔ جب میں نے یہ سفر شروع کیا تو میں جانتا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوگا، لیکن ہر چیلنج نے مجھے کچھ نیا سکھایا۔ آج میں اپنی مہارتوں کو بہتر بنا رہا ہوں، اپنا اعتماد بڑھا رہا ہوں، اور اپنے آپ کو مستقبل کے لیے تیار کر رہا ہوں۔ 🚀 "آج سیکھنے کے چھوٹے قدم کل ایک بڑی کامیابی تخلیق کر سکتے ہیں۔" مجھے امید ہے کہ میرا یہ سفر دوسروں کو بھی سیکھتے رہنے کی ترغیب دے گا، کیونکہ علم ترقی کی طرف پہلا قدم ہے۔ #RehanCollege #AIJourney #Learning #GrowthMindset #FutureSkills #Urdu #Pakistan
    0 Kommentare 0 Anteile 2548 Ansichten
  • Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala

    کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟
    جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے…
    ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔
    میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔
    ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔
    پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔
    کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔
    آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔
    بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔
    ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔
    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟ جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے… ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔ میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔ ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔ پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔ آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔ بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔ جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    0 Kommentare 0 Anteile 754 Ansichten
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Kommentare 0 Anteile 3323 Ansichten
Suchergebnis