• اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں

    ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔
    گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔
    اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔
    روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان
    کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔

    مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
    ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔
    یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔ گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔ اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔ روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔ مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔ یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    0 Commentaires 0 Parts 380 Vue
  • میرے ملک کا عجب دستور ہے جس کو انصاف درکار ہے اسی کے لئے یہ ناپید ہے اور سچے انسان کو سچ بولنے کی اتنی بھیانک سزا دی جاتی ہے کہ جھوٹوں کی نگری میں پھر سے کوئ سچا سچ بولنا تو دور اس کا نام تک لینے کاروادار نظر نہیں آتا، ایسی ہی حالت بھائ دین محمد کی ہے جو سچ کے آگے ڈٹ گئے ہیں اور محکمہ پولیس کی زیادتیوں کے خلاف سینہ سپر ہیں، دین محمد کی اس جرات ودلیری پر ہم فیملی پیس ورلڈ وائڈ/ دیدہ زیب انہیں سلام پیش کرتے ہیں،
    پولیس ہیڈ کانسٹیبل دین محمد پھلوں کی ریڑی لگانے پر مجبور ۔
    دین مہمد کو نوکری کے لئے دفتر داخل نہیں ہونے دیا جاتا ۔
    دین مہمد نے حق کے لئے آواز اٹھائ لیکن اب مجبوری میں ریڑی لگا لی ۔
    دین مہمد کا وزیراعلی شہبازشریف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لئے تیار ۔
    خادم اعلی آر پی او ڈی پی او کے لئے فروٹ پر خصوصی
    ڈسکاونٹ ہو گا

    Do add Deen Muhammad to your facebook !
    میرے ملک کا عجب دستور ہے جس کو انصاف درکار ہے اسی کے لئے یہ ناپید ہے اور سچے انسان کو سچ بولنے کی اتنی بھیانک سزا دی جاتی ہے کہ جھوٹوں کی نگری میں پھر سے کوئ سچا سچ بولنا تو دور اس کا نام تک لینے کاروادار نظر نہیں آتا، ایسی ہی حالت بھائ دین محمد کی ہے جو سچ کے آگے ڈٹ گئے ہیں اور محکمہ پولیس کی زیادتیوں کے خلاف سینہ سپر ہیں، دین محمد کی اس جرات ودلیری پر ہم فیملی پیس ورلڈ وائڈ/ دیدہ زیب انہیں سلام پیش کرتے ہیں، پولیس ہیڈ کانسٹیبل دین محمد پھلوں کی ریڑی لگانے پر مجبور ۔ دین مہمد کو نوکری کے لئے دفتر داخل نہیں ہونے دیا جاتا ۔ دین مہمد نے حق کے لئے آواز اٹھائ لیکن اب مجبوری میں ریڑی لگا لی ۔ دین مہمد کا وزیراعلی شہبازشریف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لئے تیار ۔ خادم اعلی آر پی او ڈی پی او کے لئے فروٹ پر خصوصی ڈسکاونٹ ہو گا Do add Deen Muhammad to your facebook !
    0 Commentaires 0 Parts 115 Vue
  • السلام علیکم

    الحمداللہ مجھے توفیق ہوئی کہ اپنی برادری اور خلق خدا کی خدمت بحیثیت خادم کرسکوں- اہل برادری کے اعتماد نے
    خدام برادری کو بے پناہ مشکل حالات میں بھی کام کرنا آسان بنادیا جس کے لئے میں برادری کا احسان مند ہوں-

    گروپ کے مقاصد ،اصولوں اورطریقوں پر عملدرآمد سے انکار کی بناء پراختلافات ہوئے جن کو اصولی بنیاد پر دور کرنے کی حتی المقدور کوششیں کیں جو ناکام رہیں حتی کہ 11 اپریل 2017 کو خدام برادری کے درج ذیل مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے ممبران کی اکثریت نے دستخط کردیئے اور بقیہ علیحدہ ہوگئے-

    1- جمیعت پنجابی سوداگران دہلی(JPSD ) کے مقاصد کے حصول میں معاونت کرنا-
    2-جمیعت( JPSD ) کے اداروں کی نگہبانی کرنا
    3-مستقبل کے چیلنجز کیلئے جمیعت (JPSD) کو تیار رکھنا-
    4- وسائل کا انتظام کرنا اور انکا بہترین استعمال کرنا-
    5- خود کفیل برادری بنانے کی کوشش کو مشن بنانا ، خصوصا تعلیم و تربیت کو ہر خدمت پر مقدم رکھنا-
    6- مجلس منتظمہ کے ممبران کی حیثیت سے مربوط منصوبہ بندی پر عمل کرنا-
    7- جمیعت JPSD کے مقاصد کے حصول میں ہمہ وقت کوشاں رہنا, نظم کی پابندی کرنا- چاہے خدام برادری اقلیت میں ہی کیوں نہ ہو-
    ا
    آپ سےدرخواست ہےکہ تبدیلی کا عمل جاری ہے اور بقیہ طویل سفر آپکے تعاون کے بغیر ممکن نہیں - ایک سوچ کے ساتھ بہتری کے تسلسل کیلئے درج بالا اغراض ومقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے میرے پینل خدام برادری 15-27 کو ووٹ دیں -

    منتخب چیرمین خدام برادری

    Muhammad Irfan Aslipari
    محمد عرفان اصلی پری
    السلام علیکم الحمداللہ مجھے توفیق ہوئی کہ اپنی برادری اور خلق خدا کی خدمت بحیثیت خادم کرسکوں- اہل برادری کے اعتماد نے خدام برادری کو بے پناہ مشکل حالات میں بھی کام کرنا آسان بنادیا جس کے لئے میں برادری کا احسان مند ہوں- گروپ کے مقاصد ،اصولوں اورطریقوں پر عملدرآمد سے انکار کی بناء پراختلافات ہوئے جن کو اصولی بنیاد پر دور کرنے کی حتی المقدور کوششیں کیں جو ناکام رہیں حتی کہ 11 اپریل 2017 کو خدام برادری کے درج ذیل مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے ممبران کی اکثریت نے دستخط کردیئے اور بقیہ علیحدہ ہوگئے- 1- جمیعت پنجابی سوداگران دہلی(JPSD ) کے مقاصد کے حصول میں معاونت کرنا- 2-جمیعت( JPSD ) کے اداروں کی نگہبانی کرنا 3-مستقبل کے چیلنجز کیلئے جمیعت (JPSD) کو تیار رکھنا- 4- وسائل کا انتظام کرنا اور انکا بہترین استعمال کرنا- 5- خود کفیل برادری بنانے کی کوشش کو مشن بنانا ، خصوصا تعلیم و تربیت کو ہر خدمت پر مقدم رکھنا- 6- مجلس منتظمہ کے ممبران کی حیثیت سے مربوط منصوبہ بندی پر عمل کرنا- 7- جمیعت JPSD کے مقاصد کے حصول میں ہمہ وقت کوشاں رہنا, نظم کی پابندی کرنا- چاہے خدام برادری اقلیت میں ہی کیوں نہ ہو- ا آپ سےدرخواست ہےکہ تبدیلی کا عمل جاری ہے اور بقیہ طویل سفر آپکے تعاون کے بغیر ممکن نہیں - ایک سوچ کے ساتھ بہتری کے تسلسل کیلئے درج بالا اغراض ومقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے میرے پینل خدام برادری 15-27 کو ووٹ دیں - منتخب چیرمین خدام برادری Muhammad Irfan Aslipari محمد عرفان اصلی پری
    0 Commentaires 0 Parts 149 Vue
  • ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:
    یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں. جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں.

    وزیر نے کہا:
    بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے

    بادشاہ نے پوچھا:
    اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟

    وزیر نے کہا:
    بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے سونے کی اشرفیاں ڈال کر، صراحی پر لکھیئے کہ اس میں تمہارے لیئے سو اشرفیوں کا ہدیہ ہے،
    رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیئے.

    بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے ہی کیا، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا.

    دستک سن کر اندر سے خادم نکلا، سونے کی اشرفیوں سے بھری صراحی دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔
    اس نے صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا. اشرفیاں گنی تو ننانوے نکلی،
    جبکہ صراحی پر لکھا سو اشرفیاں تھا.
    خادم نے سوچا: یقینا ایک اشرفی کہیں باہر گری ہوگی. خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور اشرفی کی تلاش شروع کر دی.

    ننانوے اشرفیاں غیب سے ملنے کی خوشی چھوڑ کر ان کی ساری رات ایک اشرفی کی تلاش میں گزر گئی.
    خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی۔
    اس نے اپنے بیوی بچوں کوسخت سست بھی کہا کیونکہ وہ ایک اشرفی تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے.

    کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری.

    دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی.

    بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے.

    لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی

    .اور
    وہ ایک نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا.

    لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں.

    حاصل ہو جانے والی ننانوے نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے.

    یا الله ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنا۔ آمین

    Via Nouman Ali Awan
    ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں. جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں. وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے بادشاہ نے پوچھا: اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟ وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے سونے کی اشرفیاں ڈال کر، صراحی پر لکھیئے کہ اس میں تمہارے لیئے سو اشرفیوں کا ہدیہ ہے، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیئے. بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے ہی کیا، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا. دستک سن کر اندر سے خادم نکلا، سونے کی اشرفیوں سے بھری صراحی دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ اس نے صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا. اشرفیاں گنی تو ننانوے نکلی، جبکہ صراحی پر لکھا سو اشرفیاں تھا. خادم نے سوچا: یقینا ایک اشرفی کہیں باہر گری ہوگی. خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور اشرفی کی تلاش شروع کر دی. ننانوے اشرفیاں غیب سے ملنے کی خوشی چھوڑ کر ان کی ساری رات ایک اشرفی کی تلاش میں گزر گئی. خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی۔ اس نے اپنے بیوی بچوں کوسخت سست بھی کہا کیونکہ وہ ایک اشرفی تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے. کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری. دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی. بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے. لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی .اور وہ ایک نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا. لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں. حاصل ہو جانے والی ننانوے نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے. یا الله ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنا۔ آمین Via Nouman Ali Awan
    0 Commentaires 0 Parts 114 Vue
  • Mobile phones for farmers for 500 rupee 1.5$ a month !

    پنجاب حکومت کا خدمتِ پنجاب کسان پیکیج کے تحت کسانوں کو 500-1000 روپے کی قیمت پر ایک ایسمارٹ فون فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کے بارے میں کشت آگاہی کے ساتھ رکھا جائے گا۔

    کسانوں کو فری میں ایک گیگابائٹ ڈیٹا فراہم کیا جائے گا جو ان کی مدد کرے گا تاکہ وہ اپنے فصلوں کے بارے میں آگاہ رہ سکیں۔

    #KhadimEPunjabKissanPackage #SmartphonesForFarmers #AgricultureRecommendations #DigitalEmpowerment #PunjabGovernment #FarmersEmpowerment #MobilePhonesForFarmers

    #خادمِ_پنجاب_کسان_پیکیج #کسانوں_کے_لئے_اسمارٹ_فون #کشت_آگاہی #ڈیجیٹل_ترقی #پنجاب_حکومت #کسانوں_کی_ترقی #موبائل_فون_کسانوں_کے_لئے

    Government of Punjab plans to distribute smartphones among Farmers in Punjab at cost of 500-1000 rupee to acquire one smartphone under Khadim e punjab kissan package with an objective to keep them updated about agriculture department recommendations about the crops.

    Farmers will get upto 1 Gb data for free per month.

    Good initiative
    Mobile phones for farmers for 500 rupee 1.5$ a month ! پنجاب حکومت کا خدمتِ پنجاب کسان پیکیج کے تحت کسانوں کو 500-1000 روپے کی قیمت پر ایک ایسمارٹ فون فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کے بارے میں کشت آگاہی کے ساتھ رکھا جائے گا۔ کسانوں کو فری میں ایک گیگابائٹ ڈیٹا فراہم کیا جائے گا جو ان کی مدد کرے گا تاکہ وہ اپنے فصلوں کے بارے میں آگاہ رہ سکیں۔ #KhadimEPunjabKissanPackage #SmartphonesForFarmers #AgricultureRecommendations #DigitalEmpowerment #PunjabGovernment #FarmersEmpowerment #MobilePhonesForFarmers #خادمِ_پنجاب_کسان_پیکیج #کسانوں_کے_لئے_اسمارٹ_فون #کشت_آگاہی #ڈیجیٹل_ترقی #پنجاب_حکومت #کسانوں_کی_ترقی #موبائل_فون_کسانوں_کے_لئے Government of Punjab plans to distribute smartphones among Farmers in Punjab at cost of 500-1000 rupee to acquire one smartphone under Khadim e punjab kissan package with an objective to keep them updated about agriculture department recommendations about the crops. Farmers will get upto 1 Gb data for free per month. Good initiative
    0 Commentaires 0 Parts 1312 Vue