• RSIF8
    Roll no 94
    TEDx talk no 2
    TEDx talk topic
    آج میں نے Afreen Mushtaq کی TEDx Talk "Fly I Must" دیکھی، جو حوصلے، عزم اور خوابوں کی طاقت کے بارے میں ایک نہایت متاثر کن گفتگو ہے۔
    افرین کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات اور رکاوٹیں کامیابی کے راستے میں دیوار نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہوتی ہیں۔
    یہ ٹاک اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم اپنے مقصد پر یقین رکھیں اور مسلسل محنت کرتے رہیں تو ہم اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
    اہم سبق:
    اپنے خوابوں کا پیچھا کبھی مت چھوڑیں، خود پر یقین رکھیں اور ہر مشکل کا مقابلہ ہمت کے ساتھ کریں۔
    #TEDxTalk #FlyIMust #AfreenMushtaq #اردو #حوصلہ #کامیابی #تعلیم #خواب #خوداعتمادی #Motivation #Inspiration #NeverGiveUp #PersonalGrow
    RSIF8 Roll no 94 TEDx talk no 2 TEDx talk topic 🌟🎤 آج میں نے Afreen Mushtaq کی TEDx Talk "Fly I Must" دیکھی، جو حوصلے، عزم اور خوابوں کی طاقت کے بارے میں ایک نہایت متاثر کن گفتگو ہے۔ 🕊️✨ افرین کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات اور رکاوٹیں کامیابی کے راستے میں دیوار نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہوتی ہیں۔ 💪🌈 یہ ٹاک اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم اپنے مقصد پر یقین رکھیں اور مسلسل محنت کرتے رہیں تو ہم اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ 🚀📚 🎯 اہم سبق: اپنے خوابوں کا پیچھا کبھی مت چھوڑیں، خود پر یقین رکھیں اور ہر مشکل کا مقابلہ ہمت کے ساتھ کریں۔ 🌟 #TEDxTalk #FlyIMust #AfreenMushtaq #اردو #حوصلہ #کامیابی #تعلیم #خواب #خوداعتمادی #Motivation #Inspiration #NeverGiveUp #PersonalGrow
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 87 Views 4
  • RSIF8
    Roll NO:92
    TEDx Talk NO:27
    Topic:**ریویو: “Why People Believe They Can’t Draw” – Graham Shaw**

    میں نے Graham Shaw کی دلچسپ اور حوصلہ افزا گفتگو **“Why People Believe They Can’t Draw”** دیکھی۔ اس گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائنگ صرف قدرتی صلاحیت یا ٹیلنٹ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے کوئی بھی شخص مشق، اعتماد اور درست طریقے سے سیکھ سکتا ہے۔

    اس ویڈیو سے مجھے یہ اہم سبق ملا کہ اکثر ہماری اپنی سوچ اور خود اعتمادی کی کمی ہمیں نئی چیزیں سیکھنے سے روکتی ہے۔ اگر ہم غلطی کرنے کے خوف کو چھوڑ دیں اور مسلسل کوشش کریں تو ہم بہت سی نئی صلاحیتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس گفتگو نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں اپنے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ **“میں یہ نہیں کر سکتا۔”** بلکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ مسلسل مشق اور مثبت سوچ کے ساتھ ہم اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

    #GrahamShaw #WhyPeopleBelieveTheyCantDraw #TEDx #ReviewVideo #خوداعتمادی #سیکھنا #تخلیقیصلاحیت #حوصلہ #Motivation
    RSIF8 Roll NO:92 TEDx Talk NO:27 Topic:**ریویو: “Why People Believe They Can’t Draw” – Graham Shaw** میں نے Graham Shaw کی دلچسپ اور حوصلہ افزا گفتگو **“Why People Believe They Can’t Draw”** دیکھی۔ اس گفتگو میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائنگ صرف قدرتی صلاحیت یا ٹیلنٹ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے کوئی بھی شخص مشق، اعتماد اور درست طریقے سے سیکھ سکتا ہے۔ اس ویڈیو سے مجھے یہ اہم سبق ملا کہ اکثر ہماری اپنی سوچ اور خود اعتمادی کی کمی ہمیں نئی چیزیں سیکھنے سے روکتی ہے۔ اگر ہم غلطی کرنے کے خوف کو چھوڑ دیں اور مسلسل کوشش کریں تو ہم بہت سی نئی صلاحیتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس گفتگو نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں اپنے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ **“میں یہ نہیں کر سکتا۔”** بلکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ مسلسل مشق اور مثبت سوچ کے ساتھ ہم اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ #GrahamShaw #WhyPeopleBelieveTheyCantDraw #TEDx #ReviewVideo #خوداعتمادی #سیکھنا #تخلیقیصلاحیت #حوصلہ #Motivation
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1204 Views 3
  • والڈورف تعلیمی نظام: مکمل انسان کی تعلیم

    دنیا میں جہاں تعلیم کو اکثر صرف امتحانات، نمبروں اور مقابلے تک محدود کر دیا گیا ہے، وہاں والڈورف تعلیمی نظام ایک خاموش مگر طاقتور متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف پڑھانے کا طریقہ نہیں بلکہ انسان کو سمجھنے اور سنوارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ اس نظام کی بنیاد 1919 میں Rudolf Steiner نے رکھی، جب دنیا صنعتی انقلاب کے اثرات سے گزر رہی تھی اور تعلیم کا مقصد زیادہ تر فیکٹریوں کے لیے کارکن تیار کرنا بن چکا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نظام کا مقصد ایسے انسان تیار کرنا تھا جو سوچ سکیں، محسوس کر سکیں اور تخلیق کر سکیں۔

    اس نظام کی ابتدا ایک دلچسپ واقعے سے ہوئی۔ ایک جرمن صنعتکار Emil Molt نے اپنے فیکٹری کے مزدوروں کے بچوں کے لیے ایک مختلف قسم کا اسکول بنانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اسٹائنر کو دعوت دی۔ یہ اسکول جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں قائم ہوا اور اسی فیکٹری کے نام پر “والڈورف اسکول” کہلایا۔ اس نظام کی بنیاد Anthroposophy پر رکھی گئی، جس کے مطابق انسان صرف جسم نہیں بلکہ روح اور احساسات کا بھی مجموعہ ہے، اور اس کی نشوونما مختلف مراحل میں ہوتی ہے۔

    والڈورف تعلیم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تعلیم بچے کی قدرتی نشوونما کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچپن کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    پہلا مرحلہ پیدائش سے سات سال تک ہوتا ہے، جس میں بچے تقلید اور کھیل کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ اس مرحلے میں بچوں پر کوئی تعلیمی دباؤ نہیں ڈالا جاتا بلکہ کہانیوں، کھیل اور فطرت کے ذریعے سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

    دوسرا مرحلہ سات سے چودہ سال تک ہوتا ہے، جہاں تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں پر زور دیا جاتا ہے۔ اس دوران ریاضی اور سائنس جیسے مضامین بھی کہانیوں، مصوری، موسیقی اور ڈرامہ کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ طلبہ اپنی کتابیں خود تیار کرتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل ذاتی اور دلچسپ بن جاتا ہے۔

    تیسرا مرحلہ چودہ سے اکیس سال تک ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو تنقیدی سوچ، منطق اور خودمختاری کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں انہیں دنیا کو سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

    والڈورف نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تعلیم کے برعکس ہے۔ ابتدائی سالوں میں نہ امتحانات ہوتے ہیں، نہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال، اور نہ ہی نصابی کتابوں پر مکمل انحصار۔ اس کے بجائے بچوں کو ہنر سکھائے جاتے ہیں جیسے باغبانی، سلائی، لکڑی کا کام اور جسمانی حرکات (یوریتھمی)۔ اس کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ ایک متوازن انسان بنانا ہے۔

    آج دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد والڈورف اسکولز موجود ہیں اور یہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس نظام کو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ جدید دنیا کے مقابلے کے لیے بچوں کو جلد تیار نہیں کرتا اور ٹیکنالوجی پر کم زور دیتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ نظام بچوں میں تخلیقی صلاحیت، خوداعتمادی اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے میں کامیاب سمجھا جاتا ہے۔

    اصل میں والڈورف تعلیم ایک ایسے دور کا جواب تھی جہاں انسان کو مشین کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، تو یہ سوال دوبارہ اہم ہو گیا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ کیا ہم صرف نوکری کرنے والے افراد تیار کر رہے ہیں یا ایسے انسان جو دنیا کو بہتر بنا سکیں؟

    والڈورف تعلیمی نظام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی مکمل تربیت کا عمل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے خالی برتن نہیں بلکہ ایسے بیج ہیں جنہیں صحیح ماحول ملے تو وہ ایک مکمل اور با معنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    🌿 والڈورف تعلیمی نظام: مکمل انسان کی تعلیم دنیا میں جہاں تعلیم کو اکثر صرف امتحانات، نمبروں اور مقابلے تک محدود کر دیا گیا ہے، وہاں والڈورف تعلیمی نظام ایک خاموش مگر طاقتور متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف پڑھانے کا طریقہ نہیں بلکہ انسان کو سمجھنے اور سنوارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ اس نظام کی بنیاد 1919 میں Rudolf Steiner نے رکھی، جب دنیا صنعتی انقلاب کے اثرات سے گزر رہی تھی اور تعلیم کا مقصد زیادہ تر فیکٹریوں کے لیے کارکن تیار کرنا بن چکا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، اس نظام کا مقصد ایسے انسان تیار کرنا تھا جو سوچ سکیں، محسوس کر سکیں اور تخلیق کر سکیں۔ اس نظام کی ابتدا ایک دلچسپ واقعے سے ہوئی۔ ایک جرمن صنعتکار Emil Molt نے اپنے فیکٹری کے مزدوروں کے بچوں کے لیے ایک مختلف قسم کا اسکول بنانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اسٹائنر کو دعوت دی۔ یہ اسکول جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں قائم ہوا اور اسی فیکٹری کے نام پر “والڈورف اسکول” کہلایا۔ اس نظام کی بنیاد Anthroposophy پر رکھی گئی، جس کے مطابق انسان صرف جسم نہیں بلکہ روح اور احساسات کا بھی مجموعہ ہے، اور اس کی نشوونما مختلف مراحل میں ہوتی ہے۔ والڈورف تعلیم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تعلیم بچے کی قدرتی نشوونما کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچپن کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ پیدائش سے سات سال تک ہوتا ہے، جس میں بچے تقلید اور کھیل کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ اس مرحلے میں بچوں پر کوئی تعلیمی دباؤ نہیں ڈالا جاتا بلکہ کہانیوں، کھیل اور فطرت کے ذریعے سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسرا مرحلہ سات سے چودہ سال تک ہوتا ہے، جہاں تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں پر زور دیا جاتا ہے۔ اس دوران ریاضی اور سائنس جیسے مضامین بھی کہانیوں، مصوری، موسیقی اور ڈرامہ کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ طلبہ اپنی کتابیں خود تیار کرتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل ذاتی اور دلچسپ بن جاتا ہے۔ تیسرا مرحلہ چودہ سے اکیس سال تک ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو تنقیدی سوچ، منطق اور خودمختاری کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں انہیں دنیا کو سمجھنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ والڈورف نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تعلیم کے برعکس ہے۔ ابتدائی سالوں میں نہ امتحانات ہوتے ہیں، نہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال، اور نہ ہی نصابی کتابوں پر مکمل انحصار۔ اس کے بجائے بچوں کو ہنر سکھائے جاتے ہیں جیسے باغبانی، سلائی، لکڑی کا کام اور جسمانی حرکات (یوریتھمی)۔ اس کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ ایک متوازن انسان بنانا ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد والڈورف اسکولز موجود ہیں اور یہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس نظام کو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ جدید دنیا کے مقابلے کے لیے بچوں کو جلد تیار نہیں کرتا اور ٹیکنالوجی پر کم زور دیتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ نظام بچوں میں تخلیقی صلاحیت، خوداعتمادی اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے میں کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اصل میں والڈورف تعلیم ایک ایسے دور کا جواب تھی جہاں انسان کو مشین کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، تو یہ سوال دوبارہ اہم ہو گیا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ کیا ہم صرف نوکری کرنے والے افراد تیار کر رہے ہیں یا ایسے انسان جو دنیا کو بہتر بنا سکیں؟ والڈورف تعلیمی نظام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی مکمل تربیت کا عمل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے خالی برتن نہیں بلکہ ایسے بیج ہیں جنہیں صحیح ماحول ملے تو وہ ایک مکمل اور با معنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 588 Views
  • کوئٹہ سے کون کون یہاں موجود ہے؟

    اگر آپ کوئٹہ سے ہیں تو ایک بار ضرور آئیں اور دیکھیں کہ یہاں کیا انقلاب برپا ہو رہا ہے۔

    ریحان اسکول کوئٹہ کیمپس میں، محترم مفتی محتشم صاحب کی قیادت میں، بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے…
    بلکہ AI، انٹرنیٹ، خوداعتمادی اور کمائی کے ہنر سیکھتے ہیں۔

    یہاں ہمارا خواب صرف تعلیم دینا نہیں ہے۔
    ہم یہاں لیڈرز بنا رہے ہیں — ایسے لیڈرز جو کم از کم ایک ملین لوگوں پر مثبت اثر ڈالیں اور اپنی زندگی میں ایک ملین ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا کریں۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی مستقبل کی دنیا کے لیے تیار ہوں
    تو آئیں، دیکھیں، سوال کریں اور خود فیصلہ کریں۔

    Rehan School – Quetta Campus
    Address:

    Mufti Mohtasham Ali Qadri

    04, 4 Commercial, 2nd Floor

    Ismangli Road, Near Zaiqa Restaurant
    Jinnah Town, Quetta

    Call / WhatsApp:
    +92 301 3446167

    ☎ General UAN:
    0304-1116044

    آئیں اور دیکھیں کہ کوئٹہ کے بچے کیسے AI کی دنیا میں اپنا مستقبل بنا رہے ہیں۔

    #RehanSchool
    #Quetta
    #LeadershipByDesign
    #AIforEducation
    #RehanAllahwala
    🔥 کوئٹہ سے کون کون یہاں موجود ہے؟ 🔥 اگر آپ کوئٹہ سے ہیں تو ایک بار ضرور آئیں اور دیکھیں کہ یہاں کیا انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ ریحان اسکول کوئٹہ کیمپس میں، محترم مفتی محتشم صاحب کی قیادت میں، بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے… بلکہ AI، انٹرنیٹ، خوداعتمادی اور کمائی کے ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں ہمارا خواب صرف تعلیم دینا نہیں ہے۔ ہم یہاں لیڈرز بنا رہے ہیں — ایسے لیڈرز جو کم از کم ایک ملین لوگوں پر مثبت اثر ڈالیں اور اپنی زندگی میں ایک ملین ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی مستقبل کی دنیا کے لیے تیار ہوں تو آئیں، دیکھیں، سوال کریں اور خود فیصلہ کریں۔ 📍 Rehan School – Quetta Campus Address: Mufti Mohtasham Ali Qadri 04, 4 Commercial, 2nd Floor Ismangli Road, Near Zaiqa Restaurant Jinnah Town, Quetta 📞 Call / WhatsApp: +92 301 3446167 ☎ General UAN: 0304-1116044 آئیں اور دیکھیں کہ کوئٹہ کے بچے کیسے AI کی دنیا میں اپنا مستقبل بنا رہے ہیں۔ 🚀 #RehanSchool #Quetta #LeadershipByDesign #AIforEducation #RehanAllahwala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1937 Views
  • پوڈکاسٹ مع حافظ فہیم فیضی — مشن 5,000 روپے ماہانہ ہر طالبعلم کے لیے!

    پاکپتن سے آئے
    حافظ فہیم فیضی
    کالج اسٹوڈنٹ نمبر 3 — اسلام آباد کیمپس

    انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو دل ہلا دینے والا تھا…

    “میں چاہتا ہوں کہ میرے مدرسے کا ہر طالبعلم کم از کم 5,000 روپے ماہانہ خود کمانا شروع کرے۔”

    سوچئے…
    اگر ایک طالبعلم 5,000 کماتا ہے
    اور ایسے 100 طالبعلم ہوں…

    تو 5 لاکھ روپے مہینہ
    ایک ہی ادارے کے بچوں کے ہاتھ میں!

    اور اگر یہ ماڈل پورے پاکستان میں چلا دیا جائے؟
    تو لاکھوں بچے
    اپنی فیس خود دیں گے
    گھر کی مدد کریں گے
    اور خوداعتمادی سے کھڑے ہوں گے۔

    یہ صرف کمائی نہیں…
    یہ عزتِ نفس ہے۔
    یہ خودمختاری ہے۔
    یہ تعلیم کو طاقت بنانے کا سفر ہے۔

    AI سیکھیں
    ڈیجیٹل اسکلز سیکھیں
    پوڈکاسٹ کریں
    آن لائن کام کریں
    اور 6 سے 12 مہینے میں
    5,000 روپے ماہانہ ہدف بنائیں۔

    اگر آپ بھی چاہتے ہیں
    کہ آپ کے طلبہ یا بچے
    کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانا شروع کریں

    تو یہ ویڈیو مکمل دیکھیں
    اور کسی ایسے استاد کو ٹیک کریں
    جو صرف پڑھانا نہیں،
    بچوں کو کھڑا کرنا چاہتا ہو۔

    #EarnWhileLearn #DigitalSkills #AIinPakistan #YouthEmpowerment #FutureReady

    Podcast with Hafiz Faheem Faizi from Pakpattan
    College student 3
    Rehan School Islamabad Campus
    🎙️ پوڈکاسٹ مع حافظ فہیم فیضی — مشن 5,000 روپے ماہانہ ہر طالبعلم کے لیے! 🚀 پاکپتن سے آئے حافظ فہیم فیضی کالج اسٹوڈنٹ نمبر 3 — اسلام آباد کیمپس انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو دل ہلا دینے والا تھا… “میں چاہتا ہوں کہ میرے مدرسے کا ہر طالبعلم کم از کم 5,000 روپے ماہانہ خود کمانا شروع کرے۔” 💰✨ سوچئے… اگر ایک طالبعلم 5,000 کماتا ہے اور ایسے 100 طالبعلم ہوں… تو 5 لاکھ روپے مہینہ ایک ہی ادارے کے بچوں کے ہاتھ میں! اور اگر یہ ماڈل پورے پاکستان میں چلا دیا جائے؟ تو لاکھوں بچے اپنی فیس خود دیں گے گھر کی مدد کریں گے اور خوداعتمادی سے کھڑے ہوں گے۔ 🚀 یہ صرف کمائی نہیں… یہ عزتِ نفس ہے۔ یہ خودمختاری ہے۔ یہ تعلیم کو طاقت بنانے کا سفر ہے۔ AI سیکھیں ڈیجیٹل اسکلز سیکھیں پوڈکاسٹ کریں آن لائن کام کریں اور 6 سے 12 مہینے میں 5,000 روپے ماہانہ ہدف بنائیں۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے طلبہ یا بچے کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانا شروع کریں تو یہ ویڈیو مکمل دیکھیں اور کسی ایسے استاد کو ٹیک کریں جو صرف پڑھانا نہیں، بچوں کو کھڑا کرنا چاہتا ہو۔ 🔥 #EarnWhileLearn #DigitalSkills #AIinPakistan #YouthEmpowerment #FutureReady Podcast with Hafiz Faheem Faizi from Pakpattan College student 3 Rehan School Islamabad Campus
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 2013 Views 0
  • جب ایک اسکول کے جنرل سیکریٹری نے اپنے ہی بچے کو کسی اسکول میں نہیں بھیجا… مگر ریحان اسکول دیکھ کر فیصلہ بدل گیا!

    کل اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں ایک دلچسپ اور سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ پیش آیا۔

    انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سائنسز بھارہ کہو کے جنرل سیکریٹری جناب محبوب عالم صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے اور پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کیا۔

    محبوب عالم صاحب کئی سالوں سے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہیں جہاں تقریباً 800 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    مگر ایک حیران کن بات سامنے آئی۔

    ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 8 سال ہے
    اور انہوں نے اسے آج تک کسی اسکول میں داخل نہیں کروایا۔

    انہوں نے اسے گھر پر ہی تعلیم دی (Homeschooling)۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟

    انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج کے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بیان کرتا ہے:

    “آج کا تعلیمی نظام بچوں کو وہ تعلیم نہیں دے رہا جو زندگی میں واقعی ضروری ہے۔”

    اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کو روایتی اسکول میں نہیں بھیجا۔

    لیکن جب انہوں نے ریحان اسکول کا نظام دیکھا —
    جہاں بچے AI، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، کمیونیکیشن، خوداعتمادی اور حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں —

    تو انہوں نے بہت مثبت تاثرات دیے اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو ریحان اسکول میں داخل کروانا چاہتے ہیں۔

    یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔

    پچھلے 3 سے 4 سال میں جتنے بھی اساتذہ، اسکول ایڈمنسٹریٹرز اور ماہرین تعلیم سے ملاقات ہوئی تقریباً سب ایک بات مانتے ہیں:

    موجودہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

    مگر اکثر لوگ جانتے ہوئے بھی اسے بدل نہیں پاتے۔

    الحمدللہ، اللہ کے فضل سے ہم نے صرف بات نہیں کی —
    ہم نے ایک نیا نظام بنا دیا۔

    ایک ایسا نصاب جو بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی جینے اور کمانے کی صلاحیت دیتا ہے۔

    اور سب سے بڑی بات:

    یہ نصاب اب اوپن سورس ہے۔

    دنیا کا کوئی بھی اسکول اسے استعمال کر سکتا ہے۔

    آپ خود دیکھ سکتے ہیں اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:

    rehanschool.com/books

    اب آپ کے پاس تین راستے ہیں:

    • اپنے بچوں کو ریحان اسکول میں داخل کروائیں
    • اپنے علاقے میں ریحان اسکول کی فرنچائز شروع کریں
    • یا اپنے موجودہ اسکول میں یہ نصاب نافذ کریں

    لیکن ایک بات یاد رکھیں۔

    بچوں کا وقت سب سے قیمتی ہوتا ہے۔

    اگر ہم نے آج صحیح تعلیم نہ دی
    تو ہم صرف بچوں کا نہیں

    پوری نسل کا مستقبل ضائع کر دیں گے۔

    اب وقت ہے کہ ہم تعلیم کو بدلیں — صرف اس پر بات نہ کریں۔

    Thank You Mehboob Elahi

    — ریحان اللہ والا
    Rehan School
    rehanschool.com
    rehanschool.com/booksu
    جب ایک اسکول کے جنرل سیکریٹری نے اپنے ہی بچے کو کسی اسکول میں نہیں بھیجا… مگر ریحان اسکول دیکھ کر فیصلہ بدل گیا! کل اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں ایک دلچسپ اور سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ پیش آیا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سائنسز بھارہ کہو کے جنرل سیکریٹری جناب محبوب عالم صاحب ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے اور پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کیا۔ محبوب عالم صاحب کئی سالوں سے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہیں جہاں تقریباً 800 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر ایک حیران کن بات سامنے آئی۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 8 سال ہے اور انہوں نے اسے آج تک کسی اسکول میں داخل نہیں کروایا۔ انہوں نے اسے گھر پر ہی تعلیم دی (Homeschooling)۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟ انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج کے تعلیمی نظام کی حقیقت کو بیان کرتا ہے: “آج کا تعلیمی نظام بچوں کو وہ تعلیم نہیں دے رہا جو زندگی میں واقعی ضروری ہے۔” اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کو روایتی اسکول میں نہیں بھیجا۔ لیکن جب انہوں نے ریحان اسکول کا نظام دیکھا — جہاں بچے AI، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، کمیونیکیشن، خوداعتمادی اور حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں — تو انہوں نے بہت مثبت تاثرات دیے اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو ریحان اسکول میں داخل کروانا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ پچھلے 3 سے 4 سال میں جتنے بھی اساتذہ، اسکول ایڈمنسٹریٹرز اور ماہرین تعلیم سے ملاقات ہوئی تقریباً سب ایک بات مانتے ہیں: موجودہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے ہوئے بھی اسے بدل نہیں پاتے۔ الحمدللہ، اللہ کے فضل سے ہم نے صرف بات نہیں کی — ہم نے ایک نیا نظام بنا دیا۔ ایک ایسا نصاب جو بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی جینے اور کمانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات: یہ نصاب اب اوپن سورس ہے۔ دنیا کا کوئی بھی اسکول اسے استعمال کر سکتا ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں: 📚 rehanschool.com/books اب آپ کے پاس تین راستے ہیں: • اپنے بچوں کو ریحان اسکول میں داخل کروائیں • اپنے علاقے میں ریحان اسکول کی فرنچائز شروع کریں • یا اپنے موجودہ اسکول میں یہ نصاب نافذ کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ بچوں کا وقت سب سے قیمتی ہوتا ہے۔ اگر ہم نے آج صحیح تعلیم نہ دی تو ہم صرف بچوں کا نہیں پوری نسل کا مستقبل ضائع کر دیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہم تعلیم کو بدلیں — صرف اس پر بات نہ کریں۔ Thank You Mehboob Elahi — ریحان اللہ والا Rehan School 🌐 rehanschool.com 📚 rehanschool.com/booksu
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 643 Views 0