• السلامُ علیکم سر
    میرا نام احمد رضا ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔پیشے کی لحاظ سے میں ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ ہوں اور انسٹالمنٹس بیسڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پراپرٹی ڈیلر بھی ہوں جیسا کے سر آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنا گھر ایک خواب جیسا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں گھر بنانا نہایت ہی مشکل ہے ۔اس سلسلے میں عمران خان صاحب نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے خاندان کو گھر مہیا کرنے کا بیڑا اٹھایا جو کہ حکومت نہ رہنے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا اس دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی G-Songuo Housing
    https://www.facebook.com/Songuopk?mibextid=ZbWKwL
    نے Galvanized steel insulated homes کا ایک ماڈل پیش کیا جو کہ تقریباً آدھی قیمت اور قلیل وقت میں گھر بنتا ہے جس کا تفصیلی انٹرویو لنک بھی لگا رہا ہوں ساتھ
    https://youtu.be/zv1qPB3b_nk
    حکومت ختم ہونے کے بعد یہ کمپنی بھی اپنا کام بند کر چکی ہے جو کہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا سر آپ جا نتے ہیں کہ یہ بہت بڑی انڈسٹری اور اسے آگے بڑھنا چاہیے میرا بھی زاتی گھر نہیں ہے البتہ 2 پلاٹ ہیں اس لیے میں گھر نہ ہونے کا احساس سمجھتا ہوں سر میں یہاں کمپنی کی مارکیٹنگ ڈائیریکٹر روبینہ عامرکا سوشل لنک بھی دے رہا ہوں
    https://www.facebook.com/rubeena.amer?mibextid=ZbWKwL
    براہ مہربانی آپ ان کا انٹر ویو کیجیئے اور انہیں یہ کام کرنے کے لئےموٹیوٹ کیجیئے ۔ شکریہ
    آپکا شاگرد احمد رضا
    السلامُ علیکم سر میرا نام احمد رضا ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔پیشے کی لحاظ سے میں ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ ہوں اور انسٹالمنٹس بیسڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پراپرٹی ڈیلر بھی ہوں جیسا کے سر آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنا گھر ایک خواب جیسا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں گھر بنانا نہایت ہی مشکل ہے ۔اس سلسلے میں عمران خان صاحب نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے خاندان کو گھر مہیا کرنے کا بیڑا اٹھایا جو کہ حکومت نہ رہنے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا اس دوران ایک ہاؤسنگ کمپنی G-Songuo Housing https://www.facebook.com/Songuopk?mibextid=ZbWKwL نے Galvanized steel insulated homes کا ایک ماڈل پیش کیا جو کہ تقریباً آدھی قیمت اور قلیل وقت میں گھر بنتا ہے جس کا تفصیلی انٹرویو لنک بھی لگا رہا ہوں ساتھ https://youtu.be/zv1qPB3b_nk حکومت ختم ہونے کے بعد یہ کمپنی بھی اپنا کام بند کر چکی ہے جو کہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا سر آپ جا نتے ہیں کہ یہ بہت بڑی انڈسٹری اور اسے آگے بڑھنا چاہیے میرا بھی زاتی گھر نہیں ہے البتہ 2 پلاٹ ہیں اس لیے میں گھر نہ ہونے کا احساس سمجھتا ہوں سر میں یہاں کمپنی کی مارکیٹنگ ڈائیریکٹر روبینہ عامرکا سوشل لنک بھی دے رہا ہوں https://www.facebook.com/rubeena.amer?mibextid=ZbWKwL براہ مہربانی آپ ان کا انٹر ویو کیجیئے اور انہیں یہ کام کرنے کے لئےموٹیوٹ کیجیئے ۔ شکریہ آپکا شاگرد احمد رضا
    0 Комментарии 0 Поделились 263 Просмотры
  • Artificial Intelligence کی ٹیچر بنیں — سیکھیں بھی، اور پانچ ہزار روپے انعام بھی حاصل کریں!

    یہ وہ کورس ہے جسے کرنے پر آپ کو فیس نہیں دینا پڑے گی — بلکہ انعام دیا جائے گا!

    ریحان اسکول – راولپنڈی لا رہا ہے ایک سنہرا موقع —
    ایسے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھتے ہیں، اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

    “یہ تنخواہ نہیں، سیکھنے کا انعام ہے!”



    پروگرام کی تفصیل:

    Rehan AI Teacher Training – Level 1
    مدت: 1 مہینہ
    روزانہ وقت: 4 گھنٹے بطور facilitator (مددگار استاد)
    انعام: کامیابی پر 5,000 روپے
    مستقل ملازمت کا موقع کامیاب امیدواروں کے لیے
    سیکھنے کے دوران کلاس روم کا عملی تجربہ
    AI، تربیت، اور انسانیت کی طاقت کا امتزاج



    داخلے کے لیے شرائط:

    عمر: کم از کم 18 سال
    تعلیم: انٹرمیڈیٹ (یا اس سے زیادہ)، بنیادی انگریزی آنی چاہیے
    اپنا سمارٹ فون لازمی ہو
    لیپ ٹاپ والوں کو ترجیح دی جائے گی



    پتہ:
    مکان نمبر 444، صادق ٹاؤن، لین نمبر 7، اقبال سٹریٹ، دھاماں موڑ، اڈیالہ روڈ، راولپنڈی

    رابطہ نمبر:
    +92 308 5511534



    صرف 10 سیٹیں دستیاب ہیں!
    اگر آپ سیکھنے، کمانے اور دنیا کو بدلنے کے خواب رکھتے ہیں —
    تو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں!

    آئیں، سیکھیں، بڑھیں، اور سوسائٹی میں ایک روشنی بنیں۔
    🌟 Artificial Intelligence کی ٹیچر بنیں — سیکھیں بھی، اور پانچ ہزار روپے انعام بھی حاصل کریں! 🎓 یہ وہ کورس ہے جسے کرنے پر آپ کو فیس نہیں دینا پڑے گی — بلکہ انعام دیا جائے گا! ریحان اسکول – راولپنڈی لا رہا ہے ایک سنہرا موقع — ایسے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھتے ہیں، اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ “یہ تنخواہ نہیں، سیکھنے کا انعام ہے!” ⸻ 📚 پروگرام کی تفصیل: ✅ Rehan AI Teacher Training – Level 1 ✅ مدت: 1 مہینہ ✅ روزانہ وقت: 4 گھنٹے بطور facilitator (مددگار استاد) ✅ انعام: کامیابی پر 5,000 روپے ✅ مستقل ملازمت کا موقع کامیاب امیدواروں کے لیے ✅ سیکھنے کے دوران کلاس روم کا عملی تجربہ ✅ AI، تربیت، اور انسانیت کی طاقت کا امتزاج ⸻ ✅ داخلے کے لیے شرائط: 🔹 عمر: کم از کم 18 سال 🔹 تعلیم: انٹرمیڈیٹ (یا اس سے زیادہ)، بنیادی انگریزی آنی چاہیے 🔹 اپنا سمارٹ فون لازمی ہو 🔹 لیپ ٹاپ والوں کو ترجیح دی جائے گی ⸻ 📍 پتہ: مکان نمبر 444، صادق ٹاؤن، لین نمبر 7، اقبال سٹریٹ، دھاماں موڑ، اڈیالہ روڈ، راولپنڈی 📞 رابطہ نمبر: +92 308 5511534 ⸻ 🔥 صرف 10 سیٹیں دستیاب ہیں! اگر آپ سیکھنے، کمانے اور دنیا کو بدلنے کے خواب رکھتے ہیں — تو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں! آئیں، سیکھیں، بڑھیں، اور سوسائٹی میں ایک روشنی بنیں۔
    0 Комментарии 0 Поделились 361 Просмотры
  • خوشخبری!

    100% scholarships available

    اب داخلے کھل چکے ہیں Rehan College of Mass AI Education میں، اور ہم پھیل رہے ہیں:
    کوئٹہ
    لاہور
    راولپنڈی

    یہ ایک منفرد اور عملی کالج ہے جہاں طلبہ کی عمر 18 سے 22 سال ہوگی۔
    یہاں پڑھائی صرف کتابوں تک محدود نہیں:

    روزانہ 4 گھنٹے کلاسز (AI، سکلز اور عملی تعلیم)
    روزانہ 8 گھنٹے ہنر سیکھنا (بجلی، مکینیکل، بڑھئی گری، پلمبنگ، کچن، باغبانی، ڈیزائننگ وغیرہ)
    دوسرے سال سے طلبہ کو ملک کے اندر سفر اور ایکسپلوریشن کا موقع بھی دیا جائے گا تاکہ وہ دنیا کو دیکھ کر سیکھ سکیں۔

    یہ ہے وہ تعلیم جو آپ کو صرف نوکری نہیں بلکہ زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔

    آج ہی داخلہ لیں اور اپنی زندگی بدلنے کا آغاز کریں۔
    rehancollege.com

    Join

    https://chat.whatsapp.com/F6102k2IEIV3b1yLZi4mta?mode=ems_copy_t
    🌟 خوشخبری! 🌟 100% scholarships available اب داخلے کھل چکے ہیں Rehan College of Mass AI Education میں، اور ہم پھیل رہے ہیں: 📍 کوئٹہ 📍 لاہور 📍 راولپنڈی یہ ایک منفرد اور عملی کالج ہے جہاں طلبہ کی عمر 18 سے 22 سال ہوگی۔ یہاں پڑھائی صرف کتابوں تک محدود نہیں: ✅ روزانہ 4 گھنٹے کلاسز (AI، سکلز اور عملی تعلیم) ✅ روزانہ 8 گھنٹے ہنر سیکھنا (بجلی، مکینیکل، بڑھئی گری، پلمبنگ، کچن، باغبانی، ڈیزائننگ وغیرہ) ✅ دوسرے سال سے طلبہ کو ملک کے اندر سفر اور ایکسپلوریشن کا موقع بھی دیا جائے گا تاکہ وہ دنیا کو دیکھ کر سیکھ سکیں۔ یہ ہے وہ تعلیم جو آپ کو صرف نوکری نہیں بلکہ زندگی کے لئے تیار کرتی ہے۔ 🎓💪 📞 آج ہی داخلہ لیں اور اپنی زندگی بدلنے کا آغاز کریں۔ 🌐 rehancollege.com Join https://chat.whatsapp.com/F6102k2IEIV3b1yLZi4mta?mode=ems_copy_t
    0 Комментарии 0 Поделились 495 Просмотры
  • پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا

    جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔

    حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔

    اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

    یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔

    یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔

    اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔ حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔ اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔ یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 456 Просмотры
  • مضمون: دنیا کی پہلی یونیورسٹی پاکستان میں تھی – ٹیکسلا (تکششیلا)

    آج ہم آکسفورڈ، ہارورڈ یا کیمبرج جیسی جدید یونیورسٹیوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ان سب سے صدیوں پہلے برصغیر میں ایک عظیم تعلیمی مرکز تھا جسے ٹیکسلا یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں اس کا نام تکششیلا تھا، جس کا مطلب ہے “کٹی ہوئی پتھروں کا شہر”۔ یہ آج کے پاکستان میں، اسلام آباد اور راولپنڈی کے قریب واقع تھا۔ بہت سے مؤرخین کے مطابق یہ دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی تھی، جہاں دور دور سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔

    علم کا مرکز

    تکششیلا صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ حکمت اور تعلیم کا گہوارہ تھا۔ تقریباً 600 قبل مسیح سے 500 عیسوی تک یہ ایک مشہور علمی مرکز رہا جہاں ہزاروں طلبہ جمع ہوتے تھے۔ اُس وقت آج جیسی کلاس رومز نہیں تھیں، بلکہ طلبہ براہِ راست اساتذہ (گرو) سے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں، درختوں کے نیچے، مندروں یا گھروں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    پڑھائے جانے والے مضامین

    تکششیلا یونیورسٹی میں مختلف علوم پڑھائے جاتے تھے، جیسے:
    • فلسفہ اور منطق
    • طب اور جراحی (آیوروید)
    • ریاضی اور فلکیات
    • صرف و نحو اور زبانیں (سنسکرت، پالی، یونانی وغیرہ)
    • سیاست، معیشت اور قانون
    • عسکری علوم اور تیر اندازی
    • مذاہب (ہندومت، بدھ مت، جین مت)

    یہ تنوع اسے ایک حقیقی عالمی یونیورسٹی بناتا تھا۔

    مشہور استاد اور شاگرد
    • چانکیہ (کوٹیلیہ): سیاست اور معیشت کے عظیم استاد، جنہوں نے مشہور کتاب ارتھ شاستر لکھی۔
    • پاننی: دنیا کے سب سے بڑے ماہرِ صرف و نحو، جن کی سنسکرت گرامر آج بھی مان ی جاتی ہے۔
    • جیواک: ایک مشہور طبیب، جنہوں نے یہاں طب پڑھی اور بعد میں بدھ کے ذاتی حکیم بنے۔
    • شہزادے اور بادشاہ: کئی شاہی خاندان اپنے بیٹوں کو یہاں بھیجتے تاکہ وہ حکمرانی، جنگی فنون اور ریاستی معاملات سیکھ سکیں۔

    تاریخ میں اہمیت

    تکششیلا یونیورسٹی کسی ایک مذہب یا ثقافت تک محدود نہیں تھی۔ یونان، چین، وسطی ایشیا اور ہندوستان سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے۔ یہ ایک بین الاقوامی علمی مرکز تھا جس کی تعلیمات نے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا پر اثر ڈالا۔

    زوال

    وقت کے ساتھ ساتھ حملوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث تکششیلا کی عظمت ختم ہو گئی۔ خاص طور پر پانچویں صدی عیسوی میں ہنوں کے حملوں کے بعد یہ تباہ ہو گیا۔ لیکن اس کی یاد آج بھی دنیا کی پہلی عظیم یونیورسٹی کے طور پر باقی ہے۔



    نتیجہ

    ٹیکسلا یا تکششیلا یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی پاکستان میں تھی۔ یہاں کے اساتذہ، سائنسدان اور رہنما صدیوں تک تاریخ پر اثر انداز ہوتے رہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم ہمیشہ سے ایک قوم کی اصل طاقت رہی ہے۔

    مضمون: دنیا کی پہلی یونیورسٹی پاکستان میں تھی – ٹیکسلا (تکششیلا) آج ہم آکسفورڈ، ہارورڈ یا کیمبرج جیسی جدید یونیورسٹیوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ان سب سے صدیوں پہلے برصغیر میں ایک عظیم تعلیمی مرکز تھا جسے ٹیکسلا یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں اس کا نام تکششیلا تھا، جس کا مطلب ہے “کٹی ہوئی پتھروں کا شہر”۔ یہ آج کے پاکستان میں، اسلام آباد اور راولپنڈی کے قریب واقع تھا۔ بہت سے مؤرخین کے مطابق یہ دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی تھی، جہاں دور دور سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ علم کا مرکز تکششیلا صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ حکمت اور تعلیم کا گہوارہ تھا۔ تقریباً 600 قبل مسیح سے 500 عیسوی تک یہ ایک مشہور علمی مرکز رہا جہاں ہزاروں طلبہ جمع ہوتے تھے۔ اُس وقت آج جیسی کلاس رومز نہیں تھیں، بلکہ طلبہ براہِ راست اساتذہ (گرو) سے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں، درختوں کے نیچے، مندروں یا گھروں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پڑھائے جانے والے مضامین تکششیلا یونیورسٹی میں مختلف علوم پڑھائے جاتے تھے، جیسے: • فلسفہ اور منطق • طب اور جراحی (آیوروید) • ریاضی اور فلکیات • صرف و نحو اور زبانیں (سنسکرت، پالی، یونانی وغیرہ) • سیاست، معیشت اور قانون • عسکری علوم اور تیر اندازی • مذاہب (ہندومت، بدھ مت، جین مت) یہ تنوع اسے ایک حقیقی عالمی یونیورسٹی بناتا تھا۔ مشہور استاد اور شاگرد • چانکیہ (کوٹیلیہ): سیاست اور معیشت کے عظیم استاد، جنہوں نے مشہور کتاب ارتھ شاستر لکھی۔ • پاننی: دنیا کے سب سے بڑے ماہرِ صرف و نحو، جن کی سنسکرت گرامر آج بھی مان ی جاتی ہے۔ • جیواک: ایک مشہور طبیب، جنہوں نے یہاں طب پڑھی اور بعد میں بدھ کے ذاتی حکیم بنے۔ • شہزادے اور بادشاہ: کئی شاہی خاندان اپنے بیٹوں کو یہاں بھیجتے تاکہ وہ حکمرانی، جنگی فنون اور ریاستی معاملات سیکھ سکیں۔ تاریخ میں اہمیت تکششیلا یونیورسٹی کسی ایک مذہب یا ثقافت تک محدود نہیں تھی۔ یونان، چین، وسطی ایشیا اور ہندوستان سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے۔ یہ ایک بین الاقوامی علمی مرکز تھا جس کی تعلیمات نے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا پر اثر ڈالا۔ زوال وقت کے ساتھ ساتھ حملوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث تکششیلا کی عظمت ختم ہو گئی۔ خاص طور پر پانچویں صدی عیسوی میں ہنوں کے حملوں کے بعد یہ تباہ ہو گیا۔ لیکن اس کی یاد آج بھی دنیا کی پہلی عظیم یونیورسٹی کے طور پر باقی ہے۔ ⸻ نتیجہ ٹیکسلا یا تکششیلا یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی پاکستان میں تھی۔ یہاں کے اساتذہ، سائنسدان اور رہنما صدیوں تک تاریخ پر اثر انداز ہوتے رہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم ہمیشہ سے ایک قوم کی اصل طاقت رہی ہے۔ ⸻
    0 Комментарии 0 Поделились 207 Просмотры
  • بھاراکہو کی کہانی — نام کیسے پڑا اور ماضی کیسا تھا

    بھاراکہو نام کیوں پڑا؟

    بھاراکہو کے نام کے بارے میں چند روایات مشہور ہیں:

    پہلی روایت (سب سے زیادہ مشہور):
    پہلے یہاں ایک مقامی قبیلہ یا خاندان رہتا تھا جسے “بھارا” کہا جاتا تھا۔
    پہاڑی علاقوں میں “کہو / کھوہ” کا مطلب ہوتا ہے گاؤں یا آبادی۔

    اس طرح:
    بھارا + کہو = بھاراکہو
    یعنی بھارا قبیلے کی بستی۔

    دوسری روایت:
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہاں بہت زیادہ پانی کے چشمے اور کھوہ (کنویں) تھے، اس لیے اسے “کہو” کہا گیا۔

    100–150 سال پہلے بھاراکہو کیسا تھا؟

    آج کے ہجوم والے علاقے کے مقابلے میں پرانا بھاراکہو بالکل مختلف تھا۔

    تقریباً 1900 کے آس پاس:
    • یہ ایک چھوٹا پہاڑی گاؤں تھا
    • زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی اور مویشی پالنے کا کام کرتے تھے
    • گھروں کی تعمیر مٹی اور پتھر سے ہوتی تھی
    • مری جانے کے لیے گھوڑے اور خچر استعمال ہوتے تھے
    • اردگرد جنگل اور چشمے تھے

    اس وقت اسلام آباد بھی موجود نہیں تھا۔ یہ علاقہ راولپنڈی کے دیہات میں شمار ہوتا تھا۔



    بڑا تبدیلی کب آئی؟

    اصل تبدیلی 1960 کے بعد آئی جب پاکستان نے اسلام آباد کو دارالحکومت بنایا۔

    اس کے بعد:
    • مری روڈ اہم شاہراہ بن گئی
    • اسلام آباد کے پھیلاؤ کے ساتھ آبادی بڑھ گئی
    • مارکیٹس اور رہائشی علاقے بننے لگے
    • مدارس، اسکول اور دکانیں کھل گئیں

    آج بھاراکہو میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔



    آنے والے 10–20 سال میں بھاراکہو

    شہر کے ماہرین کے مطابق:

    بھاراکہو مستقبل میں بن سکتا ہے:
    • اسلام آباد کا بڑا کمرشل ہب
    • مری ٹورازم کا مرکزی دروازہ
    • یونیورسٹیز اور اسکولز کا علاقہ
    • ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بڑا مرکز

    اگر صحیح پلاننگ ہو جائے تو یہ علاقہ اسلام آباد کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
    بھاراکہو کی کہانی — نام کیسے پڑا اور ماضی کیسا تھا 1️⃣ بھاراکہو نام کیوں پڑا؟ بھاراکہو کے نام کے بارے میں چند روایات مشہور ہیں: پہلی روایت (سب سے زیادہ مشہور): پہلے یہاں ایک مقامی قبیلہ یا خاندان رہتا تھا جسے “بھارا” کہا جاتا تھا۔ پہاڑی علاقوں میں “کہو / کھوہ” کا مطلب ہوتا ہے گاؤں یا آبادی۔ اس طرح: بھارا + کہو = بھاراکہو یعنی بھارا قبیلے کی بستی۔ دوسری روایت: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہاں بہت زیادہ پانی کے چشمے اور کھوہ (کنویں) تھے، اس لیے اسے “کہو” کہا گیا۔ 2️⃣ 100–150 سال پہلے بھاراکہو کیسا تھا؟ آج کے ہجوم والے علاقے کے مقابلے میں پرانا بھاراکہو بالکل مختلف تھا۔ تقریباً 1900 کے آس پاس: • یہ ایک چھوٹا پہاڑی گاؤں تھا • زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی اور مویشی پالنے کا کام کرتے تھے • گھروں کی تعمیر مٹی اور پتھر سے ہوتی تھی • مری جانے کے لیے گھوڑے اور خچر استعمال ہوتے تھے • اردگرد جنگل اور چشمے تھے اس وقت اسلام آباد بھی موجود نہیں تھا۔ یہ علاقہ راولپنڈی کے دیہات میں شمار ہوتا تھا۔ ⸻ 3️⃣ بڑا تبدیلی کب آئی؟ اصل تبدیلی 1960 کے بعد آئی جب پاکستان نے اسلام آباد کو دارالحکومت بنایا۔ اس کے بعد: • مری روڈ اہم شاہراہ بن گئی • اسلام آباد کے پھیلاؤ کے ساتھ آبادی بڑھ گئی • مارکیٹس اور رہائشی علاقے بننے لگے • مدارس، اسکول اور دکانیں کھل گئیں آج بھاراکہو میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔ ⸻ 4️⃣ آنے والے 10–20 سال میں بھاراکہو شہر کے ماہرین کے مطابق: بھاراکہو مستقبل میں بن سکتا ہے: • اسلام آباد کا بڑا کمرشل ہب • مری ٹورازم کا مرکزی دروازہ • یونیورسٹیز اور اسکولز کا علاقہ • ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بڑا مرکز اگر صحیح پلاننگ ہو جائے تو یہ علاقہ اسلام آباد کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 231 Просмотры
  • میری تمام گروپ ممبران سے گزارش ہے کہ مجھے کسی ادارے یا NGO کا نام بتا دیں جو سکولز کی عمارت کو تعمیر کروا سکے.
    یہ سکول کشمیر میں ہے. جب سکول کی عمارت ٹھیک تھی تو ان دو کمروں میں بچوں کی تعداد 250 تھی مگر اس میں بچوں کی تعداد 35 رہ گئی ہے. جو افراد صاحب حیثیت تھے انہوں نے اپنے بچوں کو راولپنڈی منتقل کر دیا ہے اور جو لوگ محدود وسائل کے حامل تھے انہوں نے بچوں کو گھر بیٹھا لیا.!
    آپ سب سے اپیل ہے کہ کسی فرد یا ادارے کا رابطہ عنایت فرمائیں. ادارے یا فرد کو وہاں کے غریب عوام کا مکمل تعاون حاصلِ ہو گا.
    مزید معلومات یا وزٹ کے لیے ان افراد سے رابطہ کریں.
    محمد انور 03105774457
    محمد جمیل03455413515
    محمد اجمل 03325532580

    S Muhammad Ajmal
    میری تمام گروپ ممبران سے گزارش ہے کہ مجھے کسی ادارے یا NGO کا نام بتا دیں جو سکولز کی عمارت کو تعمیر کروا سکے. یہ سکول کشمیر میں ہے. جب سکول کی عمارت ٹھیک تھی تو ان دو کمروں میں بچوں کی تعداد 250 تھی مگر اس میں بچوں کی تعداد 35 رہ گئی ہے. جو افراد صاحب حیثیت تھے انہوں نے اپنے بچوں کو راولپنڈی منتقل کر دیا ہے اور جو لوگ محدود وسائل کے حامل تھے انہوں نے بچوں کو گھر بیٹھا لیا.! آپ سب سے اپیل ہے کہ کسی فرد یا ادارے کا رابطہ عنایت فرمائیں. ادارے یا فرد کو وہاں کے غریب عوام کا مکمل تعاون حاصلِ ہو گا. مزید معلومات یا وزٹ کے لیے ان افراد سے رابطہ کریں. محمد انور 03105774457 محمد جمیل03455413515 محمد اجمل 03325532580 S Muhammad Ajmal
    0 Комментарии 0 Поделились 125 Просмотры
  • اگر آپ اکیلے ہیں اور آپ کے ارد گرد کوئی بات کرنے والا نہیں۔آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہےاور اس کی پذیرائی کرنے والا کوئی نہیں۔آپ کا کوئی مسئلہ ہےاور اس کو سننے والا کوئی نہیں۔آپ کوٸ سوشل ویلفیر کا کام کرنا چاہتے ہیں اور وسائل کی کمی یا کسی اور وجہ سے نہیں کر پا رہے۔ تو پھر آپ ہمارے ساتھ چاۓبھی پی جۓ اور بات بھی کیجیے. (ہماری کوئی فیس نہیں)
    رابطہ: چودھری واجد علی
    03355774462
    18.10.2022
    ( منگل دن 00 :11 سے 00 :5)
    یوسف پلازہ بالمقابل یوسف کالونی بوستان خان روڈ نزد چکلالہ سکیم تھری راولپنڈی۔

    From Wajid Ali Berlin, Germany
    اگر آپ اکیلے ہیں اور آپ کے ارد گرد کوئی بات کرنے والا نہیں۔آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہےاور اس کی پذیرائی کرنے والا کوئی نہیں۔آپ کا کوئی مسئلہ ہےاور اس کو سننے والا کوئی نہیں۔آپ کوٸ سوشل ویلفیر کا کام کرنا چاہتے ہیں اور وسائل کی کمی یا کسی اور وجہ سے نہیں کر پا رہے۔ تو پھر آپ ہمارے ساتھ چاۓبھی پی جۓ اور بات بھی کیجیے. (ہماری کوئی فیس نہیں) رابطہ: چودھری واجد علی 03355774462 18.10.2022 ( منگل دن 00 :11 سے 00 :5) یوسف پلازہ بالمقابل یوسف کالونی بوستان خان روڈ نزد چکلالہ سکیم تھری راولپنڈی۔ From Wajid Ali Berlin, Germany 🇩🇪
    0 Комментарии 0 Поделились 176 Просмотры
  • سرکاری سوچ سے باہر نکلیں ۔
    کام کرنے کی عادت ڈالیں۔

    ایک نجی بینک نے اتوار والے دن چند مخصوص برانچوں کو کھلا رکھنا ہے کا اعلان کیا اور
    میں نے چند شہزادوں کو اس پر شدید تنقید کرتے اور بینکرز کی زندگی کو اجیرن بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔

    I saw this practice 20 years back (2006) in china
    In Dubai its common in all Big Malls
    Some branches operate late till 9-10pm

    میں اپ کو ایک زاویہ دے رہا ہوں جو سوچ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکی

    میں اپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں
    سن 2000 میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک بینک کی برانچ تھی جہاں پانچ لوگ کام کرتے تھے اس بینک کی ٹوٹل سالانہ ریونیو انتہائی کم تھا برانچ اپنے
    سالانہ لاکھوں کے خسارے میں تھی
    وجہ سرکاری سوچ اور کسٹمر سروس کا دور تو تک نشان نہ تھا

    جب بینکوں کی پرائیویٹائزیشن ہوئی تو اس برانچ کے لوگوں کو گولڈن شیک ہینڈ افر کیا گیا پانچ میں سے چار لوگوں نے گولڈن شیک ہینڈ لیا۔اور اپنے تئیں کروڑوں کا فائدہ اٹھایا۔
    برانچ میں نئی ہائرنگ ہوئی دس نئے لوگ ائے کسٹمر سروس بہتر کی گئی ایک سال کے اندر برانچ کی امدن چھ گنا بڑھ گئی اور خسارے کی جگہ کروڑوں کا منافع ریکارڈ ہوا۔
    جگہ وہی دکان وہی صرف سوچ کی تبدیلی۔

    اگر اپ بینکنگ انڈسٹری سے ہیں یا اس طرح کی کسی اور جگہ پر ہیں تو زیادہ کام کرنے سے کوئی گھس نہیں جاتا۔ بندہ پالش ہو جاتا ہے

    جس کو اتنا کام کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔
    وہ کاروبار کرے گا اور زندگی میں کامیاب ہوگا۔
    میں نے اپنی زندگی میں اچھے بینکرز کو بہترین کاروبار کرتے ہوئے اور اپنے بہترین ایسٹس بناتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ وہ کام کرنے والے لوگ تھے۔
    اور سرکاری سوچ والوں نے دھڑا دھڑ 20 سال پہلے گولڈن شیک ہینڈ لیا اور پانچ سال بعد کلرک کی نوکری ڈھونڈ رہے تھے۔
    اگلی نسل کو کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
    جو اپ کو تنخواہ دے گا وہ ہڈیوں میں سے کام نکلوائے گا۔

    یہ اصول ہر کام پر طبقے پر لاگو ہوتا ہے۔۔

    ہزاروں محنت کرنے والے لوگوں کو سائیکل سے کروڑپتی بنتے دیکھا ہے۔ اور چھٹی کرنے والے اور چھٹی کا انتظار کرنے والے اکثریت کو اپنی ساری
    زندگی کی جمع پونجی لٹاتے دیکھا ہے ۔

    سکوپ کسی کیریئر کا نہیں ہوتا اسکوپ اس بندے کا
    ہے جو اپنا کیریئر خود بنانے کی کوشش کرتا ہے

    اپنے کیریئر اور زندگی کے پہلے دس سال دبا کر رگڑا کھائیں
    اور پھر ساری زندگی اس سے رگڑے کا پھل کھائیں۔

    Note:
    ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بینک ایزی پیسہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔

    Via Khawaja Mazhar Iqbal
    سرکاری سوچ سے باہر نکلیں ۔ کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ ایک نجی بینک نے اتوار والے دن چند مخصوص برانچوں کو کھلا رکھنا ہے کا اعلان کیا اور میں نے چند شہزادوں کو اس پر شدید تنقید کرتے اور بینکرز کی زندگی کو اجیرن بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔ I saw this practice 20 year's back (2006) in china In Dubai it's common in all Big Mall's Some branches operate late till 9-10pm میں اپ کو ایک زاویہ دے رہا ہوں جو سوچ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکی میں اپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں سن 2000 میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک بینک کی برانچ تھی جہاں پانچ لوگ کام کرتے تھے اس بینک کی ٹوٹل سالانہ ریونیو انتہائی کم تھا برانچ اپنے سالانہ لاکھوں کے خسارے میں تھی وجہ سرکاری سوچ اور کسٹمر سروس کا دور تو تک نشان نہ تھا جب بینکوں کی پرائیویٹائزیشن ہوئی تو اس برانچ کے لوگوں کو گولڈن شیک ہینڈ افر کیا گیا پانچ میں سے چار لوگوں نے گولڈن شیک ہینڈ لیا۔اور اپنے تئیں کروڑوں کا فائدہ اٹھایا۔ برانچ میں نئی ہائرنگ ہوئی دس نئے لوگ ائے کسٹمر سروس بہتر کی گئی ایک سال کے اندر برانچ کی امدن چھ گنا بڑھ گئی اور خسارے کی جگہ کروڑوں کا منافع ریکارڈ ہوا۔ جگہ وہی دکان وہی صرف سوچ کی تبدیلی۔ اگر اپ بینکنگ انڈسٹری سے ہیں یا اس طرح کی کسی اور جگہ پر ہیں تو زیادہ کام کرنے سے کوئی گھس نہیں جاتا۔ بندہ پالش ہو جاتا ہے جس کو اتنا کام کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔ وہ کاروبار کرے گا اور زندگی میں کامیاب ہوگا۔ میں نے اپنی زندگی میں اچھے بینکرز کو بہترین کاروبار کرتے ہوئے اور اپنے بہترین ایسٹس بناتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ وہ کام کرنے والے لوگ تھے۔ اور سرکاری سوچ والوں نے دھڑا دھڑ 20 سال پہلے گولڈن شیک ہینڈ لیا اور پانچ سال بعد کلرک کی نوکری ڈھونڈ رہے تھے۔ اگلی نسل کو کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ جو اپ کو تنخواہ دے گا وہ ہڈیوں میں سے کام نکلوائے گا۔ یہ اصول ہر کام پر طبقے پر لاگو ہوتا ہے۔۔ ہزاروں محنت کرنے والے لوگوں کو سائیکل سے کروڑپتی بنتے دیکھا ہے۔ اور چھٹی کرنے والے اور چھٹی کا انتظار کرنے والے اکثریت کو اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی لٹاتے دیکھا ہے ۔ سکوپ کسی کیریئر کا نہیں ہوتا اسکوپ اس بندے کا ہے جو اپنا کیریئر خود بنانے کی کوشش کرتا ہے اپنے کیریئر اور زندگی کے پہلے دس سال دبا کر رگڑا کھائیں اور پھر ساری زندگی اس سے رگڑے کا پھل کھائیں۔ Note: ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بینک ایزی پیسہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔ Via Khawaja Mazhar Iqbal
    0 Комментарии 0 Поделились 126 Просмотры
  • Rehan School Rawalpindi Campus !

    No 444 Sadiq town Iqbal street lane no 7 Dhama more adyala road Rawalpindi

    نمبر 444 صادق ٹاؤن لین نمبر 7 اقبال سٹریٹ دھاماں موڑ اڈیالہ روڈ راولپنڈی

    Contact Qasim Ali EducationWala

    +92 308 5511534
    Rehan School Rawalpindi Campus ! No 444 Sadiq town Iqbal street lane no 7 Dhama more adyala road Rawalpindi نمبر 444 صادق ٹاؤن لین نمبر 7 اقبال سٹریٹ دھاماں موڑ اڈیالہ روڈ راولپنڈی Contact Qasim Ali EducationWala +92 308 5511534
    0 Комментарии 0 Поделились 124 Просмотры
Расширенные страницы