• ایک مریضہ سے ملاقات اور ایک اہم سبق

    کل ہسپتال کے اپنے وزٹ کے دوران مجھے تقریباً 65 سالہ ایک مریضہ سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کے ساتھ آئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ایک دوسرے ہسپتال میں بھی علاج کروا چکی تھیں، جہاں انہیں AVF فلٹر استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    بات چیت کے دوران جب ہم نے ان سے AVF فلٹر کے استعمال کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ اسے دھو کر دوبارہ استعمال کر رہی تھیں۔ اس پر ہم نے انہیں سمجھایا کہ کسی بھی طبی آلے کو ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بار بار استعمال کرنا یا نامناسب طریقے سے صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنا مناسب نہیں۔

    میں نے انہیں مشورہ دیا کہ پرانے فلٹر کو مزید استعمال نہ کریں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق نیا AVF فلٹر استعمال کریں۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھایا کہ علاج صرف دوائی لینے تک محدود نہیں ہوتا؛ علاج کے بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ طبی آلات کو بھی درست طریقے سے استعمال کیا جائے اور صفائی و حفظانِ صحت کا مکمل خیال رکھا جائے۔

    میں نے مریضہ کو خاص طور پر سمجھایا کہ اگر علاج سے متعلق بنیادی چیز ہی درست طریقے سے استعمال نہ ہو تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر مریض اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے اور کسی بھی طبی آلے کو خود سے تبدیل، صاف یا دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے طبی ماہر سے ضرور مشورہ کرے۔

    اس ملاقات سے مجھے ایک اہم سبق ملا کہ مریض کی دیکھ بھال صرف علاج فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے صحیح معلومات، مناسب رہنمائی اور اپنے علاج کے درست طریقۂ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

    کبھی کبھی ایک چھوٹی سی آگاہی بھی مریض کی صحت کے سفر میں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔

    Rehan Allahwala
    Khalid Mushtaq
    @highlight
    ایک مریضہ سے ملاقات اور ایک اہم سبق کل ہسپتال کے اپنے وزٹ کے دوران مجھے تقریباً 65 سالہ ایک مریضہ سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کے ساتھ آئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ایک دوسرے ہسپتال میں بھی علاج کروا چکی تھیں، جہاں انہیں AVF فلٹر استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ بات چیت کے دوران جب ہم نے ان سے AVF فلٹر کے استعمال کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ اسے دھو کر دوبارہ استعمال کر رہی تھیں۔ اس پر ہم نے انہیں سمجھایا کہ کسی بھی طبی آلے کو ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بار بار استعمال کرنا یا نامناسب طریقے سے صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ پرانے فلٹر کو مزید استعمال نہ کریں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق نیا AVF فلٹر استعمال کریں۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھایا کہ علاج صرف دوائی لینے تک محدود نہیں ہوتا؛ علاج کے بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ طبی آلات کو بھی درست طریقے سے استعمال کیا جائے اور صفائی و حفظانِ صحت کا مکمل خیال رکھا جائے۔ میں نے مریضہ کو خاص طور پر سمجھایا کہ اگر علاج سے متعلق بنیادی چیز ہی درست طریقے سے استعمال نہ ہو تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر مریض اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے اور کسی بھی طبی آلے کو خود سے تبدیل، صاف یا دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے طبی ماہر سے ضرور مشورہ کرے۔ اس ملاقات سے مجھے ایک اہم سبق ملا کہ مریض کی دیکھ بھال صرف علاج فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے صحیح معلومات، مناسب رہنمائی اور اپنے علاج کے درست طریقۂ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی آگاہی بھی مریض کی صحت کے سفر میں بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ Rehan Allahwala Khalid Mushtaq @highlight
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 557 Views
  • السلام علیکم۔

    میرا نام Habib Internet Wala ہے۔

    جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔

    میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔

    آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔

    علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔

    وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔

    میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔

    آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔

    وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔

    وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

    وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔

    میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔

    علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔

    میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔

    شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy.

    I will remember you.
    I will remember what you taught me.
    And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward.

    اللہ حافظ، علی انکل۔

    ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔

    — Habib Internet Wala
    السلام علیکم۔ میرا نام Habib Internet Wala ہے۔ جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔ میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔ آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔ علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔ وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔ میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔ وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔ علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy. I will remember you. I will remember what you taught me. And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward. اللہ حافظ، علی انکل۔ ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔ — Habib Internet Wala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1720 Views
  • السلام علیکم۔

    میرا نام Habib Internet Wala ہے۔

    جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔

    میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔

    آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔

    علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔

    وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔

    میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔

    آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔

    وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔

    وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

    وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔

    میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔

    علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔

    میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔

    شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy.

    I will remember you.
    I will remember what you taught me.
    And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward.

    اللہ حافظ، علی انکل۔

    ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔

    — Habib Internet Wala
    السلام علیکم۔ میرا نام Habib Internet Wala ہے۔ جب میں 12 سال کا تھا، مجھے علی محسن انکل کے ساتھ تقریباً تین مہینے internship کرنے کا موقع ملا۔ میں اُس وقت بھی بہت چھوٹا تھا۔ شاید مجھے پوری طرح اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں کس طرح کے انسان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔ آج ان کے بارے میں اتنے سارے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ علی انکل کتنے خاص انسان تھے۔ علی انکل صرف لوگوں کی مدد نہیں کرتے تھے، وہ دوسروں کو بھی مدد کرنا سکھاتے تھے۔ وہ صرف بڑے بڑے کام نہیں کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی، کوئی کام کرنا ہوتا، یا کسی مسئلے کا حل نکالنا ہوتا، تو وہ کوشش کرتے کہ بات صرف بات نہ رہے بلکہ کام مکمل ہو۔ میں صرف 12 سال کا تھا، لیکن انہوں نے مجھے بھی اہم سمجھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے دیا، سیکھنے دیا اور یہ احساس دیا کہ چھوٹی عمر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یہی علی انکل کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ وہ لوگوں میں صلاحیت دیکھتے تھے۔ وہ لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے۔ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اور پھر انہیں کسی اچھے کام کا حصہ بنا دیتے تھے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری زندگی کے تین مہینے علی انکل کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرے۔ علی انکل، آپ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ نے مجھے جو سکھایا، وہ میرے ساتھ رہے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی کوشش کروں گا کہ لوگوں کے کام آؤں، مسائل دیکھ کر صرف شکایت نہ کروں بلکہ ان کا حل تلاش کروں، اور اپنی زندگی میں ایسے کام کروں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ شاید یہی آپ کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ علی انکل کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ علی انکل، thank you for believing in a 12-year-old boy. I will remember you. I will remember what you taught me. And InshaAllah, I will try to carry your kindness forward. اللہ حافظ، علی انکل۔ ہم پھر ملیں گے، ان شاء اللہ۔ — Habib Internet Wala
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 1487 Views
  • ایک قابلِ اعتماد دوست نے سٹیزن پورٹل کے حوالے سے اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔ نام صیغہ راز میں رکھنے کی گزارش کی وجہ سے آئی ڈی شئیر نہیں کرسکتا۔ سرکاری ادارے میں جاب ہے، انکے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتیں ہیں۔

    کچھ انتہائی بنیادی نوعیت کی فارمیٹنگ کے ساتھ، آگے کی کہانی، انکی زبانی۔۔۔
    -----------

    پاکستان سٹیزن پورٹل:

    مین ایک سرکاری محکمے میں اس پورٹل کو براہ راست ڈیل کر رہا ہوں اور پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اپنا حق حاصل کرنے کا ایک نہایت موثر ہتھیار ہے۔اور جیسے جیسے عوام کو اس بارے آگاہی ہوتی جائے گی یہ مزید خطرناک(بدعنوان عناصر لیے) ہوتا جائے گا۔

    اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ عوام کو اس پورٹل بارے آگاہ کیا جائے۔

    سرکاری محکمے پورٹل کے ذریعے شکایات پر کیسے کام کرتے ہیں؟

    جب کوئی شہری شکایت کرتا ہے تو مختلف اعلی سرکای دفاتر سے ہوتی ہوئی درخواست جب متعلقہ دفتر تک پہنچتی ہے تو اس کے پاس عموما دس یا بیس دن کا وقت ہوتا ہے جس میں اس شکایت کا ازالہ یا تسلی بخش جواب دینا ہوتا ہے۔ یہاں پر ایک نکتہ قابل غور ہے کہ شکایت کے باقی نظاموں میں اگر چھوٹے دفتر میں مسٰلہ حل نا ہوتو شہری بڑے دفاتر کا رخ کرتے ہیں لیکن یہاں درخواست پہلے سے ہی انتظامی سربراہان کے ذریعے آ رہی ہوتی ہے جس سے چیک اینڈ بیلنس کا معیار مزید بڑھ جاتا ہے۔

    اگر متعلقہ دفتر مقررہ وقت میں شکایت پر کوئی ردعمل نہیں دیتا تو درخواست ESCALATED کی کیٹیگری میں چلی جاتی ہے جو کہ کسی بھی افسر کے لیے سوہان روح ہے۔ پچھلے دنوں سٹیزن پورٹل بارے سرکای افسران کو خبرادار کرنے کے لیے ایک ڈی آئی جی پولیس اور چند اے سی صاحبان کو سسپنڈ کیا گیا جس سے پورے نظام میں یہ پیغام پہنچا دیا گیا اگر یہ خلائی مخلوق پورٹل کے سلسلے میں خجل خوار ہو سکتی ہے تو باقی سرکاری افسران اپنی خیر منائیں۔۔اور اس کا مظاہرہ میں ایک میٹنگ میں براہ راست دیکھ چکا ہوں کہ شکایت ESCALATE ہونے کی پاداش میں فورا متعلقہ محکمے کے افسر خلاف پیڈا کے تحت کاروائی کا حکم جاری کر دیا گیا۔۔۔!

    ایسکیلیٹ ہونے کے بعد شکایت حل تو ہوتی ہے ساتھ متعلقہ محکمے کے سربراہ کی تختی بھی لکھی جاتی ہے۔۔

    اس کے بعد SUPER ESCALATED کی کیٹگری ہے کہ اگر پھر بھی مسئلہ حل نا ہوتو شکایت سپر ایسکیلیٹ ہو جاتی ہے اور سیدھا وزیر اعظم کے پورٹل پرنظر آ رہی ہوتی ہے جس کا مطلب آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔۔۔!

    پورٹل پرشکایت کیسے درج کی جائے؟

    سٹیزن پورٹل کی ایپ انسٹال کرنے کے بعد آپ اس پر اپنی معلومات دے کر اکاونٹ بنائیں گے اور وہاں متعلقہ محکمے کی آپشن تلاش کرکے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔اگر وہاں آپ کو متعلقہ محکمہ نہیں مل رہا تو آپ CITIZEN RIGHTS والی اپشن کے تحت شکایت کریں گے۔ سسٹم ایڈمنسٹریٹر خود ہی متعلقہ وزارت اور وزارت کا عملہ متعلقہ دفتر تک درخواست پہنچا دے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سسٹم سٹریم لائن ہونے کے بعد دو، تین سرکاری دفاتر سے شکایت فارورڈ ہونے کا عمل صرف ایک دن میں بھی ہورہا ہے جو کبھی دوتین ماہ میں بھی ہوجاتا تھا تو عمدہ کارکردگی کہلاتی تھی۔۔!

    نہایت اہم نکتہ

    اگر آپ کو کسی ایسے معاملے کا پتہ چلا ہے کہ جس کی آپ نشاندہی تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا نام سامنے آنے کے ڈر سے نہیں بتا پاتے تو اس پورٹل میں اس چیز کا بھی دھیان رکھا گیا ہے۔ آپ اپنی معلومات HIDE کرکے بھی شکایت درج کروا سکتے ہیں اور اس کو متعلقہ دفتر تو کیا PMDU والے بھی نہیں دیکھ سکتے۔

    لہذا اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک دفعہ متعلقہ دفتر جائیں ، کام نا ہوتو خاموشی سے پورٹل پر شکایت کریں اور تماشا دیکھیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جس بدعنوان سرکاری ملازم کو اس پورٹل کا پتہ ہے وہ ہر وقت اسی پریشر میں ہے کہ کہیں کوئی شکایت نا ہوجائے اور جس کو نہیں پتہ اسے شکایت ہونے پر لگ پتہ جائے گا۔۔۔!

    اور اس پریشر کی ایک وجہ یہ ہے کہ شکایت حل کرنے کے باقی نظاموں میں اگر کسی کے خلاف کوئی شکایت آتی تھی تو وہ مسئلہ حل کر کے جان چھڑوا لیتا تھا لیکن پورٹل میں ایک طرح سے مستقل ریکارڈ مرتب ہو رہا ہے اور پورٹل کے پالیسی کے مطابق اس ریکارڈ سے پیٹرن اخذ کیے جائیں گے۔ مثلا اگر کسی ایک ملازم یا مسئلے کے خلاف بار بار شکایات ہو رہی ہیں تو اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    فیڈ بیک کا ڈر

    یہ ایک اور نہایت اہم نکتہ ہے۔ شکایت کلوز ہونے کے بعد پورٹل آپ سے فیڈ بیک مانگتا ہے۔ اگر آپ مسئلے کے حل سے مطمئن نہیں ہیں تو نیگیٹو فیڈ بیک دیں۔ میٹنگز میں ہمیں یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ نیگیٹو فیڈ بیک والی شکایت کو دوبارہ کھولا جائے اور یا تو مسئلہ حل کیا جائے وگرنہ تسلی بخش جواب دیا جائے کیونکہ نیگیٹو فیڈ بیک کا آڈٹ ہوگا۔۔یعنی کہ جان کام کر کے ہی چھٹے گی۔

    آخر میں یہ کہ عوام کی طرح سرکای دفاتر میں بھی پورٹل کی بارے آگاہی فی الحال کم ہے۔ اگر آپ کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تو نیگیٹو فیڈ بیک کے ساتھ ایک درخواست اور کر دیں۔آپ کا ہمت ہارنا متعلقہ بدعنوان اہلکار کا فائدہ اور آپ کا نقصان ہے۔

    **اہم نوٹ**

    پوسٹ شئیر کرنے کی بجائے کاپی پیسٹ کرلیجیے۔ اس سے پوسٹ کی پہنچ کہیں گنا بڑھ جاتی ہے۔ مجھے کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں، چاہے تو اپنے نام سے یا بناء کسی کریڈٹ کے شئیر کردیجیے۔

    پیغام اہم ہے!
    ایک قابلِ اعتماد دوست نے سٹیزن پورٹل کے حوالے سے اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔ نام صیغہ راز میں رکھنے کی گزارش کی وجہ سے آئی ڈی شئیر نہیں کرسکتا۔ سرکاری ادارے میں جاب ہے، انکے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتیں ہیں۔ کچھ انتہائی بنیادی نوعیت کی فارمیٹنگ کے ساتھ، آگے کی کہانی، انکی زبانی۔۔۔ ----------- پاکستان سٹیزن پورٹل: مین ایک سرکاری محکمے میں اس پورٹل کو براہ راست ڈیل کر رہا ہوں اور پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اپنا حق حاصل کرنے کا ایک نہایت موثر ہتھیار ہے۔اور جیسے جیسے عوام کو اس بارے آگاہی ہوتی جائے گی یہ مزید خطرناک(بدعنوان عناصر لیے) ہوتا جائے گا۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ عوام کو اس پورٹل بارے آگاہ کیا جائے۔ سرکاری محکمے پورٹل کے ذریعے شکایات پر کیسے کام کرتے ہیں؟ جب کوئی شہری شکایت کرتا ہے تو مختلف اعلی سرکای دفاتر سے ہوتی ہوئی درخواست جب متعلقہ دفتر تک پہنچتی ہے تو اس کے پاس عموما دس یا بیس دن کا وقت ہوتا ہے جس میں اس شکایت کا ازالہ یا تسلی بخش جواب دینا ہوتا ہے۔ یہاں پر ایک نکتہ قابل غور ہے کہ شکایت کے باقی نظاموں میں اگر چھوٹے دفتر میں مسٰلہ حل نا ہوتو شہری بڑے دفاتر کا رخ کرتے ہیں لیکن یہاں درخواست پہلے سے ہی انتظامی سربراہان کے ذریعے آ رہی ہوتی ہے جس سے چیک اینڈ بیلنس کا معیار مزید بڑھ جاتا ہے۔ اگر متعلقہ دفتر مقررہ وقت میں شکایت پر کوئی ردعمل نہیں دیتا تو درخواست ESCALATED کی کیٹیگری میں چلی جاتی ہے جو کہ کسی بھی افسر کے لیے سوہان روح ہے۔ پچھلے دنوں سٹیزن پورٹل بارے سرکای افسران کو خبرادار کرنے کے لیے ایک ڈی آئی جی پولیس اور چند اے سی صاحبان کو سسپنڈ کیا گیا جس سے پورے نظام میں یہ پیغام پہنچا دیا گیا اگر یہ خلائی مخلوق پورٹل کے سلسلے میں خجل خوار ہو سکتی ہے تو باقی سرکاری افسران اپنی خیر منائیں۔۔اور اس کا مظاہرہ میں ایک میٹنگ میں براہ راست دیکھ چکا ہوں کہ شکایت ESCALATE ہونے کی پاداش میں فورا متعلقہ محکمے کے افسر خلاف پیڈا کے تحت کاروائی کا حکم جاری کر دیا گیا۔۔۔! ایسکیلیٹ ہونے کے بعد شکایت حل تو ہوتی ہے ساتھ متعلقہ محکمے کے سربراہ کی تختی بھی لکھی جاتی ہے۔۔ اس کے بعد SUPER ESCALATED کی کیٹگری ہے کہ اگر پھر بھی مسئلہ حل نا ہوتو شکایت سپر ایسکیلیٹ ہو جاتی ہے اور سیدھا وزیر اعظم کے پورٹل پرنظر آ رہی ہوتی ہے جس کا مطلب آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔۔۔! پورٹل پرشکایت کیسے درج کی جائے؟ سٹیزن پورٹل کی ایپ انسٹال کرنے کے بعد آپ اس پر اپنی معلومات دے کر اکاونٹ بنائیں گے اور وہاں متعلقہ محکمے کی آپشن تلاش کرکے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔اگر وہاں آپ کو متعلقہ محکمہ نہیں مل رہا تو آپ CITIZEN RIGHTS والی اپشن کے تحت شکایت کریں گے۔ سسٹم ایڈمنسٹریٹر خود ہی متعلقہ وزارت اور وزارت کا عملہ متعلقہ دفتر تک درخواست پہنچا دے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سسٹم سٹریم لائن ہونے کے بعد دو، تین سرکاری دفاتر سے شکایت فارورڈ ہونے کا عمل صرف ایک دن میں بھی ہورہا ہے جو کبھی دوتین ماہ میں بھی ہوجاتا تھا تو عمدہ کارکردگی کہلاتی تھی۔۔! نہایت اہم نکتہ اگر آپ کو کسی ایسے معاملے کا پتہ چلا ہے کہ جس کی آپ نشاندہی تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا نام سامنے آنے کے ڈر سے نہیں بتا پاتے تو اس پورٹل میں اس چیز کا بھی دھیان رکھا گیا ہے۔ آپ اپنی معلومات HIDE کرکے بھی شکایت درج کروا سکتے ہیں اور اس کو متعلقہ دفتر تو کیا PMDU والے بھی نہیں دیکھ سکتے۔ لہذا اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک دفعہ متعلقہ دفتر جائیں ، کام نا ہوتو خاموشی سے پورٹل پر شکایت کریں اور تماشا دیکھیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جس بدعنوان سرکاری ملازم کو اس پورٹل کا پتہ ہے وہ ہر وقت اسی پریشر میں ہے کہ کہیں کوئی شکایت نا ہوجائے اور جس کو نہیں پتہ اسے شکایت ہونے پر لگ پتہ جائے گا۔۔۔! اور اس پریشر کی ایک وجہ یہ ہے کہ شکایت حل کرنے کے باقی نظاموں میں اگر کسی کے خلاف کوئی شکایت آتی تھی تو وہ مسئلہ حل کر کے جان چھڑوا لیتا تھا لیکن پورٹل میں ایک طرح سے مستقل ریکارڈ مرتب ہو رہا ہے اور پورٹل کے پالیسی کے مطابق اس ریکارڈ سے پیٹرن اخذ کیے جائیں گے۔ مثلا اگر کسی ایک ملازم یا مسئلے کے خلاف بار بار شکایات ہو رہی ہیں تو اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ فیڈ بیک کا ڈر یہ ایک اور نہایت اہم نکتہ ہے۔ شکایت کلوز ہونے کے بعد پورٹل آپ سے فیڈ بیک مانگتا ہے۔ اگر آپ مسئلے کے حل سے مطمئن نہیں ہیں تو نیگیٹو فیڈ بیک دیں۔ میٹنگز میں ہمیں یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ نیگیٹو فیڈ بیک والی شکایت کو دوبارہ کھولا جائے اور یا تو مسئلہ حل کیا جائے وگرنہ تسلی بخش جواب دیا جائے کیونکہ نیگیٹو فیڈ بیک کا آڈٹ ہوگا۔۔یعنی کہ جان کام کر کے ہی چھٹے گی۔ آخر میں یہ کہ عوام کی طرح سرکای دفاتر میں بھی پورٹل کی بارے آگاہی فی الحال کم ہے۔ اگر آپ کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تو نیگیٹو فیڈ بیک کے ساتھ ایک درخواست اور کر دیں۔آپ کا ہمت ہارنا متعلقہ بدعنوان اہلکار کا فائدہ اور آپ کا نقصان ہے۔ **اہم نوٹ** پوسٹ شئیر کرنے کی بجائے کاپی پیسٹ کرلیجیے۔ اس سے پوسٹ کی پہنچ کہیں گنا بڑھ جاتی ہے۔ مجھے کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں، چاہے تو اپنے نام سے یا بناء کسی کریڈٹ کے شئیر کردیجیے۔ پیغام اہم ہے!
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 431 Views
  • ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘
    یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
    زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔
    نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
    دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار
    دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔
    ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔
    صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔
    اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔
    لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔
    معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘
    تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔
    سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘
    اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں)
    جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔
    لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔
    پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔
    لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔
    ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔
    کمپنی کا غیر جانبدار نام
    کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔
    دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
    جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔
    شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔
    اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘
    چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔
    پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔
    کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔
    چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ
    پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔
    لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘
    بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔
    وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘
    فوجی بوٹ، سروس
    ،تصویر کا ذریعہREUTERS
    اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔
    لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔
    انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔
    تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔
    سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں
    کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔
    لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔
    چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔
    انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔
    یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔
    کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔
    چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔
    دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔
    اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔
    کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔
    سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔
    کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔
    سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERIVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں
    برآمدات کی ابتدا
    60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
    سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔
    محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘
    ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘
    وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘
    اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
    اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔
    ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔
    ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘
    اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔
    جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘
    امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔
    لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔
    ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘
    وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔
    کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔
    چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔
    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
    کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔
    اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
    نو ماسک، نو سروس
    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ
    ،تصویر کا کیپشن
    باٹا کا اشتہار: نو ماسک، نو سروس
    سروس بمقابلہ باٹا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔
    کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ نو ماسک، نو سروس۔
    پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔
    لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔
    سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔
    وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔
    یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔
    وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔
    سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘ یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔ نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔ ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔ صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔ لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔ معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘ تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘ اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں) جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔ لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔ پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔ لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔ ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔ کمپنی کا غیر جانبدار نام کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔ لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘ چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔ پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔ کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔ چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔ لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔ چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘ بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘ فوجی بوٹ، سروس ،تصویر کا ذریعہREUTERS اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔ لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔ انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔ سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔ لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔ چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔ انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔ یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔ کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔ چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔ دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔ اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔ کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔ سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔ کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔ سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERIVIS ،تصویر کا کیپشن فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں برآمدات کی ابتدا 60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔ سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔ محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘ ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘ اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔ ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔ ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔ جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘ امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔ لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔ ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘ وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔ کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔ چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ 'نو ماسک، نو سروس' ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ ،تصویر کا کیپشن باٹا کا اشتہار: 'نو ماسک، نو سروس' سروس بمقابلہ باٹا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔ کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ 'نو ماسک، نو سروس۔' پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔ لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔ سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔ یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔ وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 2169 Views
  • شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
    سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
    اقبال
    شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا اقبال
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 541 Views
  • سال 2021 کے اختتام پر ‏ایک لائن میرے لیے
    تنقید، تعریف، مشورہ، شکایت یا کچھ بھی
    سال 2021 کے اختتام پر ‏ایک لائن میرے لیے تنقید، تعریف، مشورہ، شکایت یا کچھ بھی
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 194 Views
  • السلام علیکم ورحمتہ اللہِ وبرکاتہ
    صبح بخیر زندگی خوبصورت صبح کا پر خلوص سلام
    اس دعا کے ساتھ قبول ھو,کہ ربِّ کائنات آپ کو اور ھم سب کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ,
    زندگی کے ہر موڑ پر آپ کو اچھی صحت، خوشیاں اور کامیابی عطا کریں، اور آپ کی زندگی کا گلشن ھمیشہ مہکتا رھے آمیـــــــن ثم آمیــــــــن یَارَبَّ العَالَمِین
    اے میرے مالک تیرے فیصلوں پر کوئی شکوہ شکایت نہیں ہم کمزور ہیں آسمانی و زمینی آفتوں اور پریشانیوں سے محفوظ فرما

    آمین
    السلام علیکم ورحمتہ اللہِ وبرکاتہ صبح بخیر زندگی خوبصورت صبح کا پر خلوص سلام اس دعا کے ساتھ قبول ھو,کہ ربِّ کائنات آپ کو اور ھم سب کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ, زندگی کے ہر موڑ پر آپ کو اچھی صحت، خوشیاں اور کامیابی عطا کریں، اور آپ کی زندگی کا گلشن ھمیشہ مہکتا رھے آمیـــــــن ثم آمیــــــــن یَارَبَّ العَالَمِین اے میرے مالک تیرے فیصلوں پر کوئی شکوہ شکایت نہیں ہم کمزور ہیں آسمانی و زمینی آفتوں اور پریشانیوں سے محفوظ فرما آمین
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 203 Views
  • *وقت کا ولی*
    • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • •
    سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے؟
    سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے” ۔
    اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔

    اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے؟
    انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مارلینا عشق حقیقی ہے” ۔

    ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔
    جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔
    چہرے پر خوشیاں بکھیر دے
    جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے
    اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا؟ جو خود بھی اللہ تَعَالٰی ک حکم اور اسکے پیارے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَآلہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات اور سنت پر چلے اور چلنے کی تلقین، نصیحت، درس دے۔

    رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :
    ”معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟”
    معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہ ﷺ ۔
    آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟”
    ضرور کروں گا یارسول اللہ ﷺ ،معاذ نے جواب دیا
    آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟”
    معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ۔
    آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے”۔

    معروف کرخیؒ نے فرمایا ،جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔
    *ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے۔*

    ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔
    ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟
    اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔ اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا
    ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟
    کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی-
    ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاو اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟
    اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو واقعی کچھ نہیں دیکھا
    ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے۔

    جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
    کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔
    لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
    آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے۔

    اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ *وہ صاحب حال ہوتا ہے*۔
    نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔ *اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے*
    جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی *آخرت کا غم* بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے.

    ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟
    آپ نے فرمایا
    صبر کرنا
    اور
    معاف کرنا۔

    آپ یقین کریں.
    تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے۔

    رسول اللہﷺ نے فرمایا
    *اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ* اور *ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو۔*

    جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟

    یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے۔

    *جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے*
    اور
    *جس کا دل ہر وقت شکوے ، شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے۔*

    *فرائض کی پابندی کیجیے*،
    *کبائر سے اجتناب کیجیے*،
    *حال پر خوش رہیے*،
    *لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کیجیے*،
    اور
    *وقت کے ولی بن جائیے*۔

    Via Ejaz Bashir
    *وقت کا ولی* • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • • سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے؟ سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے” ۔ اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے؟ انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مارلینا عشق حقیقی ہے” ۔ ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔ جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا؟ جو خود بھی اللہ تَعَالٰی ک حکم اور اسکے پیارے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَآلہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات اور سنت پر چلے اور چلنے کی تلقین، نصیحت، درس دے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا : ”معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟” معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟” ضرور کروں گا یارسول اللہ ﷺ ،معاذ نے جواب دیا آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟” معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے”۔ معروف کرخیؒ نے فرمایا ،جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔ *ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے۔* ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔ اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی- ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاو اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟ اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو واقعی کچھ نہیں دیکھا ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے۔ جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔ کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔ لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔ آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ *وہ صاحب حال ہوتا ہے*۔ نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔ *اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے* جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی *آخرت کا غم* بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے. ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا۔ آپ یقین کریں. تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا *اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ* اور *ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو۔* جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟ یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے۔ *جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے* اور *جس کا دل ہر وقت شکوے ، شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے۔* *فرائض کی پابندی کیجیے*، *کبائر سے اجتناب کیجیے*، *حال پر خوش رہیے*، *لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کیجیے*، اور *وقت کے ولی بن جائیے*۔ Via Ejaz Bashir
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 629 Views
  • I received !

    بجلی کبھی نہیں بچائے گی۔
    بل کو معاف کرنا چاہیے....!!!!

    کوئی درخت نہیں لگایا جائے گا۔
    لیکن بارش اچھی ہونی چاہیے...!!!!

    کبھی شکایت نہیں کریں گے۔
    لیکن فوری ایکشن کی ضرورت ہے...!!!!

    رشوت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔
    کرپشن ختم ہونی چاہیے...!!!!

    ردی کی ٹوکری کو کھڑکی سے باہر پھینک دو
    شہر میں صفائی کی ضرورت ہے...!!!!

    میں کام میں اچھا وقت گزاروں گا۔
    ہر سال نئے پے کمیشن کی ضرورت ہے...!!!!

    ذات کے نام پر مراعات لوں گا۔
    لیکن ملک سیکولر ہونا چاہیے...!!!!

    ووٹ دیتے وقت دیکھوں گا۔
    لیکن ذات پرستی کو روکنا چاہیے...!!!!

    ٹیکس دیتے وقت خامیاں تلاش کروں گا۔
    لیکن ترقی مضبوط ہونی چاہیے...!!!!

    Rehan.ai: please convert this to positive words !

    بجلی بچانے کی کوشش کریں۔
    بل میں کمی کا اہتمام کریں...!!!!

    درخت لگانے کا عمل جاری رکھیں۔
    موسم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں...!!!!

    شکایت کرنے کی بجائے حل تلاش کریں۔
    فوری اور مناسب اقدامات اٹھائیں...!!!!

    بغیر رشوت کے کام کرنے کی کوشش کریں۔
    کرپشن کا خاتمہ اہم ہے...!!!!

    صفائی کو اہمیت دیں اور کچرے کو مناسب جگہ پر ڈالیں۔
    شہر کی صفائی میں اپنا کردار ادا کریں...!!!!

    کام کے دوران کارکردگی بہتر کریں۔
    اپنی تنخواہ کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں...!!!!

    ذات کے نام پر مراعات کی بجائے انصاف کا دائرہ وسیع کریں۔
    ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش کریں...!!!!

    ووٹ دیتے وقت میرٹ کو مد نظر رکھیں۔
    ذات پرستی کو روکنے کی کوشش کریں...!!!!

    ٹیکس ادا کرتے وقت ایمانداری سے عمل کریں۔
    ملک کی ترقی کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں...!!!!
    I received ! بجلی کبھی نہیں بچائے گی۔ بل کو معاف کرنا چاہیے....!!!! کوئی درخت نہیں لگایا جائے گا۔ لیکن بارش اچھی ہونی چاہیے...!!!! کبھی شکایت نہیں کریں گے۔ لیکن فوری ایکشن کی ضرورت ہے...!!!! رشوت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ کرپشن ختم ہونی چاہیے...!!!! ردی کی ٹوکری کو کھڑکی سے باہر پھینک دو شہر میں صفائی کی ضرورت ہے...!!!! میں کام میں اچھا وقت گزاروں گا۔ ہر سال نئے پے کمیشن کی ضرورت ہے...!!!! ذات کے نام پر مراعات لوں گا۔ لیکن ملک سیکولر ہونا چاہیے...!!!! ووٹ دیتے وقت دیکھوں گا۔ لیکن ذات پرستی کو روکنا چاہیے...!!!! ٹیکس دیتے وقت خامیاں تلاش کروں گا۔ لیکن ترقی مضبوط ہونی چاہیے...!!!! Rehan.ai: please convert this to positive words ! بجلی بچانے کی کوشش کریں۔ بل میں کمی کا اہتمام کریں...!!!! درخت لگانے کا عمل جاری رکھیں۔ موسم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں...!!!! شکایت کرنے کی بجائے حل تلاش کریں۔ فوری اور مناسب اقدامات اٹھائیں...!!!! بغیر رشوت کے کام کرنے کی کوشش کریں۔ کرپشن کا خاتمہ اہم ہے...!!!! صفائی کو اہمیت دیں اور کچرے کو مناسب جگہ پر ڈالیں۔ شہر کی صفائی میں اپنا کردار ادا کریں...!!!! کام کے دوران کارکردگی بہتر کریں۔ اپنی تنخواہ کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں...!!!! ذات کے نام پر مراعات کی بجائے انصاف کا دائرہ وسیع کریں۔ ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش کریں...!!!! ووٹ دیتے وقت میرٹ کو مد نظر رکھیں۔ ذات پرستی کو روکنے کی کوشش کریں...!!!! ٹیکس ادا کرتے وقت ایمانداری سے عمل کریں۔ ملک کی ترقی کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں...!!!!
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 551 Views
Αναζήτηση αποτελεσμάτων