• خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی
    نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی

    تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔
    بعد ازاں!
    لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102)
    ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1)
    ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80)
    اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔
    یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔
    اے امت اسلامیہ!
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30)
    اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165)
    اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25)
    پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45)
    آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56)
    اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25)
    دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔
    سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔
    اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر
    آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3)
    نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔
    یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘
    اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔
    اے مسلمانو!
    اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔
    اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
    اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔
    اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71)
    تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13)
    پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23)
    اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22)
    اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘
    اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32)
    اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔
    اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ
    آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔
    مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔
    اے امت اسلامیہ!
    عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25)
    اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔
    اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110)
    مسلمانو!
    تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔
    اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107)
    اے مسلمان نوجوانو!
    آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔
    امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔
    معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔
    تو مسلمان نوجوانو!
    آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔
    یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔
    امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔
    اے تربیت دینے والو!
    بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2)
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4)
    اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7)
    اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘
    مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔
    اے اسلام کے علما!
    آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143)
    لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔
    اے اللہ کی طرف بلانے والو!
    اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘
    اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46)
    اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو!
    میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘
    یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔
    اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔
    اللہ کے گھر کے حاجیو!
    دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30)
    عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25)
    حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔
    حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اجمل بھٹی صاحب
    اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
    اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔
    ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔
    یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
    اے حجاج کرام!
    تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
    اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘
    لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے:
    لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر
    ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
    لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘
    پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘
    جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    اللہ کے بندو!
    تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
    اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔
    اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔
    ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔
    بندگانِ الٰہی! ﵃
    ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘
    اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔
    ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10)
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201)
    ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127)
    اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔
    سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ بعد ازاں! لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102) ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1) ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80) اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔ یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ اے امت اسلامیہ! اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30) اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165) اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25) پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45) آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56) اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25) دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔ سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔ اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘ اے بیت اللہ کے حاجیو! وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3) نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔ یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘ اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔ اے مسلمانو! اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔ اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71) تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13) پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23) اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22) اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘ اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32) اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔ اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔ مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ اے امت اسلامیہ! عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25) اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔ اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110) مسلمانو! تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔ اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107) اے مسلمان نوجوانو! آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔ امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔ معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔ تو مسلمان نوجوانو! آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔ یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔ امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔ اے تربیت دینے والو! بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4) اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7) اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘ مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔ اے اسلام کے علما! آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143) لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔ اے اللہ کی طرف بلانے والو! اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘ اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46) اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو! میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔ اے بیت اللہ کے حاجیو! آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔ اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔ اللہ کے گھر کے حاجیو! دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30) عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25) حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔ حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمل بھٹی صاحب اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔ یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ اے حجاج کرام! تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘ لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘ پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘ جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ کے بندو! تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔ بندگانِ الٰہی! ﵃ ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔ ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201) ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127) اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1649 Visualizações
  • Forwarding as found

    Aoa All
    Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place.

    *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات*

    1. بدزبانی سے بچو (3:159)
    2. غصے کو پی جاؤ (3:134)
    3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36)
    4. تکبر سے بچو (7:13)
    5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199)
    6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44)
    7. اپنی آواز پست رکھو (31:19)
    8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11)
    9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23)
    10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23)
    11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58)
    12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282)
    13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170)
    14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280)
    15. سود مت کھاؤ (2:275)
    16. رشوت مت اختیار کرو (2:188)
    17. وعدوں کو پورا کرو (2:177)
    18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283)
    19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42)
    20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58)
    21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135)
    22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7)
    23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7)
    24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10)
    25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220)
    26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29)
    27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9)
    28. بدگمانیوں سے بچو (49:12)
    29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283)
    30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12)
    31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7)
    32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3)
    33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273)
    34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29)
    35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264)
    36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26)
    37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44)
    38. زمین پر فساد مت کرو (2:60)
    39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114)
    40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190)
    41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191)
    42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15)
    43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256)
    44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285)
    45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222)
    46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233)
    47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32)
    48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247)
    49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286)
    50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103)
    51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191)
    52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195)
    53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23)
    54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34)
    55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37)
    56. حسد مت کرو (4:54)
    57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92)
    58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105)
    59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2)
    60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2)
    61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116)
    62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8)
    63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38)
    64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63)
    65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3)
    66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90)
    67. جوا مت کھیلو (5:90)
    68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108)
    69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152)
    70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31)
    71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31)
    72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6)
    73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108)
    74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87)
    75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119)
    76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125)
    77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15)
    78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31)
    79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36)
    80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3)
    81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27)
    82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55)
    83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63)
    84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77)
    85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88)
    86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29)
    87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17)
    88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18)
    89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33)
    90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53)
    91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53)
    92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34)
    93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38)
    94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13)
    95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27)
    96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11)
    97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8)
    98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16)
    99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    Forwarding as found Aoa All Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place. *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات* 1. بدزبانی سے بچو (3:159) 2. غصے کو پی جاؤ (3:134) 3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36) 4. تکبر سے بچو (7:13) 5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199) 6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44) 7. اپنی آواز پست رکھو (31:19) 8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11) 9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23) 10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23) 11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58) 12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282) 13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170) 14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280) 15. سود مت کھاؤ (2:275) 16. رشوت مت اختیار کرو (2:188) 17. وعدوں کو پورا کرو (2:177) 18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283) 19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42) 20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58) 21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135) 22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7) 23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7) 24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10) 25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220) 26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29) 27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9) 28. بدگمانیوں سے بچو (49:12) 29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283) 30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12) 31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7) 32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3) 33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273) 34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29) 35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264) 36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26) 37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44) 38. زمین پر فساد مت کرو (2:60) 39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114) 40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190) 41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191) 42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15) 43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256) 44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285) 45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222) 46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233) 47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32) 48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247) 49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286) 50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103) 51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191) 52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195) 53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23) 54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34) 55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37) 56. حسد مت کرو (4:54) 57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92) 58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105) 59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2) 60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2) 61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116) 62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8) 63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38) 64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63) 65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3) 66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90) 67. جوا مت کھیلو (5:90) 68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108) 69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152) 70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31) 71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31) 72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6) 73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108) 74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87) 75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119) 76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125) 77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15) 78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31) 79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36) 80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3) 81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27) 82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55) 83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63) 84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77) 85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88) 86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29) 87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17) 88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18) 89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33) 90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53) 91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53) 92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34) 93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38) 94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13) 95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27) 96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11) 97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8) 98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16) 99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 527 Visualizações
  • برطانوی عدلیہ
    بمقابلہ
    پاکستانی عدلیہ
    برطانوی عدلیہ بمقابلہ پاکستانی عدلیہ
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 126 Visualizações
  • آنے والے دور میں پاکستان کے "حساس" اداروں کو AI سے سخت قسم کے قومی سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ملک کے کچھ مخلص اور محبِ وطن انجینئیرز نظام سے مایوس ہو کر ایسے Artificially Intelligent روبوٹ تیار کر لیں گے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار انسانوں کی طرح ادا تو کر سکیں گے، لیکن نہ تو انکے کوئ جزبات ہوں گے اور نہ ہی کوئ جزباتی بندھن ۔

    چنانچہ یہ روبوٹ صحافت، سول سروسز، پولیس، عدلیہ، احتساب ، سیاست، مذہب حتٰی کہ دفاع میں بھی حقیقی قومی خدمات سر انجام دیں گے۔

    ان روبوٹس کی ننگی وڈیوز نہیں بنائ جا سکیں گی کیونکہ یہ جنسی جزبات نہیں رکھتے ہوں گے

    چونکہ انکی کوئ فیملی نہیں ہو گی تو فیملی کو اغوا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    ان پر پچاس FIR کاٹ کر مقدمات نہیں چلائے جا سکیں گے

    انکو vigo ڈالوں سے کوئ خوف نہیں ہو گا

    انکو اغوا کر کے تشدد کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انکو درد محسوس نہیں ہوگا۔

    انکو توڑ پھوڑ کر تباہ کرنے کا بھی کوئ فائدا نہیں ہو گا کیونکہ یہ self replicating ہوں گے یعنی یہ اپنے جیسے کئ دیگر روبوٹس بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔

    انکو رشوت ، پلاٹ یا اعلٰی عہدوں کا لالچ بھی نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ ان میں دولت جمع کرنے کی حَوس نہیں ہو گی۔

    حساس اداروں کے بڑے دماغوں کو سر جوڑ کر اس آنے والے خطرے کا کوئ توڑ نکالنا ہو گا ورنہ انکا مستقبل تاریک ہے

    العبد
    Via Bobby Shahzad
    آنے والے دور میں پاکستان کے "حساس" اداروں کو AI سے سخت قسم کے قومی سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ملک کے کچھ مخلص اور محبِ وطن انجینئیرز نظام سے مایوس ہو کر ایسے Artificially Intelligent روبوٹ تیار کر لیں گے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار انسانوں کی طرح ادا تو کر سکیں گے، لیکن نہ تو انکے کوئ جزبات ہوں گے اور نہ ہی کوئ جزباتی بندھن ۔ چنانچہ یہ روبوٹ صحافت، سول سروسز، پولیس، عدلیہ، احتساب ، سیاست، مذہب حتٰی کہ دفاع میں بھی حقیقی قومی خدمات سر انجام دیں گے۔ ان روبوٹس کی ننگی وڈیوز نہیں بنائ جا سکیں گی کیونکہ یہ جنسی جزبات نہیں رکھتے ہوں گے چونکہ انکی کوئ فیملی نہیں ہو گی تو فیملی کو اغوا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان پر پچاس FIR کاٹ کر مقدمات نہیں چلائے جا سکیں گے انکو vigo ڈالوں سے کوئ خوف نہیں ہو گا انکو اغوا کر کے تشدد کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انکو درد محسوس نہیں ہوگا۔ انکو توڑ پھوڑ کر تباہ کرنے کا بھی کوئ فائدا نہیں ہو گا کیونکہ یہ self replicating ہوں گے یعنی یہ اپنے جیسے کئ دیگر روبوٹس بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔ انکو رشوت ، پلاٹ یا اعلٰی عہدوں کا لالچ بھی نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ ان میں دولت جمع کرنے کی حَوس نہیں ہو گی۔ حساس اداروں کے بڑے دماغوں کو سر جوڑ کر اس آنے والے خطرے کا کوئ توڑ نکالنا ہو گا ورنہ انکا مستقبل تاریک ہے العبد Via Bobby Shahzad
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 115 Visualizações
  • یومیہ ایک مقدمہ زیادہ: کیوں پاکستانی عدلیہ کو فوری طور پر AI اپنانا چاہئے

    سکھر کی ایک ماں نے وراثت کا ایک سادہ مقدمہ دائر کیا۔ اسے یقین تھا کہ چند مہینوں میں انصاف مل جائے گا۔ مگر مہینے برسوں میں بدل گئے۔ اس کا بیٹا جوان ہوگیا اور فائل کمرہ عدالت میں دھول کھاتی رہی۔

    یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو برسوں سے مقدمات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔

    اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2023 میں پاکستان کی عدالتوں میں 22 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 82 فیصد صرف ضلعی عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی 57 ہزار مقدمات اگست 2025 تک زیرِ سماعت تھے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال نئے مقدمات کی تعداد نمٹائے گئے مقدمات سے زیادہ ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 23 لاکھ 80 ہزار نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 23 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔ یوں صرف آدھے سال میں 80 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوگیا۔

    پاکستان میں اس وقت بمشکل چار ہزار ججز ہیں جو 25 کروڑ آبادی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک جج تقریباً 63 ہزار افراد کے لئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب کئی گنا بہتر ہے۔

    تصویر تاریک لگتی ہے مگر ایک چھوٹی سی کرنِ اُمید بھی ہے: اگر ہر جج روزانہ صرف ایک مقدمہ زیادہ نمٹا دے تو پورا بیک لاگ محض چار سال میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سا ریاضی کا حساب ہے۔



    AI کیوں؟

    دنیا بھر میں عدالتی نظام وقت بچانے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) استعمال کر رہے ہیں۔
    • بھارت کی سپریم کورٹ نے AI لائیو ٹرانسکرپشن اور ای-فائلنگ ٹولز آزمانے شروع کر دیے ہیں۔
    • پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ای-کورٹ ویڈیو لنک سماعتیں 2019 سے شروع کر رکھی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جدیدیت اپنا سکتے ہیں۔
    • دنیا بھر میں تجربات یہ دکھا چکے ہیں کہ AI بعض اوقات انسانی وکلاء سے زیادہ تیز اور درست کام کرتا ہے۔ ایک ٹیسٹ میں AI نے معاہدے کا تجزیہ 26 سیکنڈ میں کر لیا جبکہ وکیل کو 92 منٹ لگے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء اور ججز کے پاس وہ وقت واپس آسکتا ہے جو فالتو کاغذی کارروائی کھا جاتی ہے۔



    پاکستانی وکلاء کے لئے پانچ فوری فوائد

    صرف ChatGPT اور Perplexity جیسے عام ٹولز کے ذریعے بھی وکلاء آج سے اپنی کارکردگی بڑھا سکتے ہیں:
    1. تحقیق میں تیزی: قانون کی دفعات اور نظائر سیکنڈوں میں سامنے۔
    2. مسودہ نویسی: عریضہ، دلائل اور جرح کے سوالات کا پہلا مسودہ AI تیار کر دے، وکیل صرف ترمیم کرے۔ وقت کی بچت 30 سے 50 فیصد۔
    3. ترجمہ اور ٹرانسکرپشن: عدالت کی کارروائی ریکارڈ کر کے اردو اور انگریزی متن فوراً تیار ہو سکتا ہے۔
    4. کاز لسٹ کی تیاری: ہفتہ وار مقدمات کا خودکار خلاصہ اور بریف۔
    5. موکل سے رابطہ: سادہ زبان میں کیس کی وضاحت، کم سوال، کم وقت ضائع۔



    انصاف اور معیشت کا رشتہ

    انصاف میں تاخیر صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں کسی معاہدے کو نافذ کروانے میں ماضی میں اوسطاً 1000 دن سے زائد لگتے تھے۔ یہ تاخیر سرمایہ کاری کو روکتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔

    اگر مقدمات تیزی سے نمٹنے لگیں تو پاکستان کی کاروباری فضا بدلے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کو اعتماد ملے گا کہ اس کا حق جلد ملے گا۔



    آئندہ 90 دنوں کا لائحہ عمل

    یہ انقلاب اربوں روپے کا محتاج نہیں، صرف ارادے کا۔
    • بار کونسلز کو چاہئے کہ وکلاء کے لئے 20 گھنٹے کا لازمی AI کورس فوراً متعارف کرائیں۔
    • ہائی کورٹس 50 عدالتوں میں AI ٹرانسکرپشن اور ڈرافٹنگ پائلٹ شروع کریں۔
    • ای-فائلنگ اسسٹنٹ متعارف کرایا جائے تاکہ ججز کے سامنے صرف مکمل اور درست فائلز پہنچیں۔
    • روزانہ و ہفتہ وار ڈیش بورڈز شائع ہوں تاکہ پیش رفت سب کو نظر آئے۔



    نتیجہ: انصاف مؤخر ہونا تقدیر نہیں

    انصاف میں تاخیر ہماری تقدیر نہیں، یہ صرف ایک عملیاتی مسئلہ ہے۔ اور ایسے مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوتے ہیں۔

    AI وکیل یا جج کی جگہ نہیں لے گا، یہ صرف ان کے لئے وقت واپس لے کر آئے گا۔

    اگر ہم آج ہمت کریں تو یومیہ ایک مقدمہ زیادہ نمٹانے سے چار برس میں لاکھوں خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔

    یاد رکھئے: صرف ایک مقدمہ روزانہ زیادہ۔ اتنا ہی کافی ہے۔



    کیا آپ چاہتے ہیں میں اسی اوپ-ایڈ کو مزید مختصر کر کے (700–800 الفاظ میں) ڈان کے کالم سائز کے مطابق بنا دوں تاکہ براہِ راست بھیجا جا سکے؟
    یومیہ ایک مقدمہ زیادہ: کیوں پاکستانی عدلیہ کو فوری طور پر AI اپنانا چاہئے سکھر کی ایک ماں نے وراثت کا ایک سادہ مقدمہ دائر کیا۔ اسے یقین تھا کہ چند مہینوں میں انصاف مل جائے گا۔ مگر مہینے برسوں میں بدل گئے۔ اس کا بیٹا جوان ہوگیا اور فائل کمرہ عدالت میں دھول کھاتی رہی۔ یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو برسوں سے مقدمات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا دسمبر 2023 میں پاکستان کی عدالتوں میں 22 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں سے 82 فیصد صرف ضلعی عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی 57 ہزار مقدمات اگست 2025 تک زیرِ سماعت تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال نئے مقدمات کی تعداد نمٹائے گئے مقدمات سے زیادہ ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 23 لاکھ 80 ہزار نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 23 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔ یوں صرف آدھے سال میں 80 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوگیا۔ پاکستان میں اس وقت بمشکل چار ہزار ججز ہیں جو 25 کروڑ آبادی کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک جج تقریباً 63 ہزار افراد کے لئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب کئی گنا بہتر ہے۔ تصویر تاریک لگتی ہے مگر ایک چھوٹی سی کرنِ اُمید بھی ہے: اگر ہر جج روزانہ صرف ایک مقدمہ زیادہ نمٹا دے تو پورا بیک لاگ محض چار سال میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک سادہ سا ریاضی کا حساب ہے۔ ⸻ AI کیوں؟ دنیا بھر میں عدالتی نظام وقت بچانے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) استعمال کر رہے ہیں۔ • بھارت کی سپریم کورٹ نے AI لائیو ٹرانسکرپشن اور ای-فائلنگ ٹولز آزمانے شروع کر دیے ہیں۔ • پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی ای-کورٹ ویڈیو لنک سماعتیں 2019 سے شروع کر رکھی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم جدیدیت اپنا سکتے ہیں۔ • دنیا بھر میں تجربات یہ دکھا چکے ہیں کہ AI بعض اوقات انسانی وکلاء سے زیادہ تیز اور درست کام کرتا ہے۔ ایک ٹیسٹ میں AI نے معاہدے کا تجزیہ 26 سیکنڈ میں کر لیا جبکہ وکیل کو 92 منٹ لگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وکلاء اور ججز کے پاس وہ وقت واپس آسکتا ہے جو فالتو کاغذی کارروائی کھا جاتی ہے۔ ⸻ پاکستانی وکلاء کے لئے پانچ فوری فوائد صرف ChatGPT اور Perplexity جیسے عام ٹولز کے ذریعے بھی وکلاء آج سے اپنی کارکردگی بڑھا سکتے ہیں: 1. تحقیق میں تیزی: قانون کی دفعات اور نظائر سیکنڈوں میں سامنے۔ 2. مسودہ نویسی: عریضہ، دلائل اور جرح کے سوالات کا پہلا مسودہ AI تیار کر دے، وکیل صرف ترمیم کرے۔ وقت کی بچت 30 سے 50 فیصد۔ 3. ترجمہ اور ٹرانسکرپشن: عدالت کی کارروائی ریکارڈ کر کے اردو اور انگریزی متن فوراً تیار ہو سکتا ہے۔ 4. کاز لسٹ کی تیاری: ہفتہ وار مقدمات کا خودکار خلاصہ اور بریف۔ 5. موکل سے رابطہ: سادہ زبان میں کیس کی وضاحت، کم سوال، کم وقت ضائع۔ ⸻ انصاف اور معیشت کا رشتہ انصاف میں تاخیر صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں کسی معاہدے کو نافذ کروانے میں ماضی میں اوسطاً 1000 دن سے زائد لگتے تھے۔ یہ تاخیر سرمایہ کاری کو روکتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوانوں کو مایوس کرتی ہے۔ اگر مقدمات تیزی سے نمٹنے لگیں تو پاکستان کی کاروباری فضا بدلے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کو اعتماد ملے گا کہ اس کا حق جلد ملے گا۔ ⸻ آئندہ 90 دنوں کا لائحہ عمل یہ انقلاب اربوں روپے کا محتاج نہیں، صرف ارادے کا۔ • بار کونسلز کو چاہئے کہ وکلاء کے لئے 20 گھنٹے کا لازمی AI کورس فوراً متعارف کرائیں۔ • ہائی کورٹس 50 عدالتوں میں AI ٹرانسکرپشن اور ڈرافٹنگ پائلٹ شروع کریں۔ • ای-فائلنگ اسسٹنٹ متعارف کرایا جائے تاکہ ججز کے سامنے صرف مکمل اور درست فائلز پہنچیں۔ • روزانہ و ہفتہ وار ڈیش بورڈز شائع ہوں تاکہ پیش رفت سب کو نظر آئے۔ ⸻ نتیجہ: انصاف مؤخر ہونا تقدیر نہیں انصاف میں تاخیر ہماری تقدیر نہیں، یہ صرف ایک عملیاتی مسئلہ ہے۔ اور ایسے مسائل ٹیکنالوجی سے حل ہوتے ہیں۔ AI وکیل یا جج کی جگہ نہیں لے گا، یہ صرف ان کے لئے وقت واپس لے کر آئے گا۔ اگر ہم آج ہمت کریں تو یومیہ ایک مقدمہ زیادہ نمٹانے سے چار برس میں لاکھوں خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔ یاد رکھئے: صرف ایک مقدمہ روزانہ زیادہ۔ اتنا ہی کافی ہے۔ ⸻ کیا آپ چاہتے ہیں میں اسی اوپ-ایڈ کو مزید مختصر کر کے (700–800 الفاظ میں) ڈان کے کالم سائز کے مطابق بنا دوں تاکہ براہِ راست بھیجا جا سکے؟
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 173 Visualizações
  • یہ رہی “پاکستان کے مستقبل کی کہانی” اُردو میں — ایک صدی آگے کی جھلک، ایک روحانی اور عملی خواب، جہاں پاکستان علم، ایمان اور انسانیت کے ملاپ سے روشنی کی تہذیب بن جاتا ہے۔



    دوسری پیدائش

    یہ انقلاب بندوقوں سے نہیں،
    بلکہ شعور سے شروع ہوا۔

    ایک نئی نسل اُٹھی — خواب دیکھنے والی،
    سوال کرنے والی، اور کام کرنے والی۔
    انہیں یاد آیا کہ اقبال نے خواب کیا دیکھا تھا،
    قائد نے کس نیت سے وطن بنایا تھا،
    اور صوفیوں نے کیا پیغام دیا تھا:
    کہ پاکستان زمین کا نہیں، ضمیر کا نام ہے۔

    کلاس رومز میں، لیپ ٹاپ کی اسکرینوں پر،
    پہاڑوں اور شہروں میں،
    نوجوانوں نے اپنے اندر کا پاکستان پہچاننا شروع کیا۔
    انہیں سمجھ آیا کہ ٹیکنالوجی بغیر اخلاقیات کے
    اور ایمان بغیر عمل کے — دونوں ادھورے ہیں۔

    یوں پاکستان کی دوسری پیدائش شروع ہوئی۔



    ایمان اور ایجاد کا دور

    2040 کے بعد پاکستان ایک AI-فرسٹ قوم بن گیا۔
    لیکن باقی دنیا سے مختلف —
    جہاں مشینیں انسان کو بدل رہی تھیں،
    پاکستان نے مشینوں کو انسانیت سکھائی۔

    کراچی، لاہور، پشاور میں
    “AI مدرسے” قائم ہوئے —
    جہاں قرآن اور کوڈ ایک ساتھ پڑھایا جانے لگا۔
    طلبہ کو اخلاق بھی سکھایا گیا اور ایجاد بھی۔
    ان کے منصوبے صرف منافع نہیں،
    بلکہ مقصد کے لیے تھے۔

    ملک کا نعرہ بدل گیا:
    “Made in Pakistan” سے “Born of Faith and Logic”۔

    صحراؤں میں روبوٹ فصلیں اگاتے،
    تھر میں شمسی شہر بستے،
    گلگت میں اڑتی ایمبولینسیں دکھائی دیتیں۔
    اور ہر ایجاد “بسم اللہ” سے شروع ہوتی۔



    خدمت اور قیادت کا دور

    2060 تک پاکستان نے اپنی سرحدوں سے آگے بڑھ کر
    ایک عالمی تحریک کی قیادت سنبھال لی —
    “Global South Renaissance”۔

    افریقہ سے انڈونیشیا تک پاکستانی اساتذہ،
    ڈاکٹرز اور AI ٹرینرز خدمت میں لگ گئے۔
    انہوں نے دنیا کو جیتنے نہیں،
    جوڑنے کا طریقہ سکھایا۔

    اب پاکستان کپڑا یا چاول نہیں،
    بلکہ شعور، تعلیم، اور اخلاقی ٹیکنالوجی
    برآمد کرنے لگا۔

    ریحان اسکول جیسے خواب حقیقت بن گئے —
    ہر بچہ لیپ ٹاپ کے ساتھ،
    ہر استاد AI کے ساتھ،
    اور ہر گھر ایک تعلیمی مرکز بن گیا۔



    امن اور شعور کا دور

    2080 تک دنیا مادیّت سے تھک چکی تھی۔
    پھر دنیا نے مشرق کی طرف دیکھا —
    اور پاکستان اس کا روحانی مرکز بن گیا۔

    صوفی ایپس مراقبہ سکھانے لگیں،
    مساجد علم و سائنس کے کھلے مراکز بن گئیں۔
    رومی، اقبال اور نبیِ اکرم ﷺ کی تعلیمات
    ہولوگرامز اور AI اساتذہ کے ذریعے
    دنیا بھر میں سنائی جانے لگیں —
    بطور مذہب نہیں، بطور انسانی شعور۔

    جنگیں ختم ہو گئیں۔
    کیونکہ جب دل بیدار ہو جائے،
    تو دشمنی کی ضرورت نہیں رہتی —
    صرف محبت باقی رہتی ہے۔



    تجدید کا دور

    2100 میں پاکستان سبز ہو چکا تھا۔
    جہاں ریگستان تھے، وہاں درخت اگ آئے۔
    جہاں غربت تھی، وہاں علم کے چراغ جلنے لگے۔
    ندیوں کا پانی صاف، شہروں کی فضا شفاف۔

    اب ترقی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی نہیں،
    بلکہ کتنی زندگیاں بہتر ہوئیں۔

    ان صوفیوں کی سرزمین سے
    نئے رہنما پیدا ہوئے —
    سائنسدان جو درویش تھے،
    انجینئر جو خدمت گزار تھے،
    اور بزنس مین جن کے منصوبے
    زمین کو شفا دیتے تھے۔



    روشنی کا دور — 2125 اور آگے

    ایک صدی بعد جب دنیا پیچھے مڑ کر دیکھے گی،
    تو وہ یہ نہیں کہے گی کہ
    “پاکستان غریب تھا” —
    وہ کہے گی:
    “پاکستان نے خود کو پہچان لیا تھا۔”

    دنیا دیکھے گی کہ یہ قوم
    ہتھیاروں سے نہیں،
    علم اور کردار سے مضبوط ہوئی۔

    پاکستان نے دنیا کو سکھایا کہ
    ترقی عمارتوں میں نہیں،
    ضمیر میں ہوتی ہے۔
    طاقت فوج میں نہیں،
    ایمان میں ہوتی ہے۔
    اور خوشحالی دولت سے نہیں،
    عدل سے آتی ہے۔



    اختتام نہیں، آغاز ہے

    پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا نہیں تھا،
    بلکہ ظاہر ہوا تھا —
    تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ
    ایمان، تعلیم اور خدمت
    جب اکٹھے ہو جائیں،
    تو زمین جنت بن سکتی ہے۔

    یہ ملک صرف ایک قوم کا نہیں،
    بلکہ ایک پیغام ہے —
    کہ خدا کبھی دور نہیں ہوتا،
    ہمیں صرف دیکھنا سیکھنا ہوتا ہے۔



    یہ ہے پاکستان کا مستقبل —
    علم، ایمان، اور محبت کا۔
    جہاں ہر انسان،
    خود ایک چراغ بن جائے۔

    یہ رہی “پاکستان کے مستقبل کی کہانی” اُردو میں — ایک صدی آگے کی جھلک، ایک روحانی اور عملی خواب، جہاں پاکستان علم، ایمان اور انسانیت کے ملاپ سے روشنی کی تہذیب بن جاتا ہے۔ ⸻ 🌅 دوسری پیدائش یہ انقلاب بندوقوں سے نہیں، بلکہ شعور سے شروع ہوا۔ ایک نئی نسل اُٹھی — خواب دیکھنے والی، سوال کرنے والی، اور کام کرنے والی۔ انہیں یاد آیا کہ اقبال نے خواب کیا دیکھا تھا، قائد نے کس نیت سے وطن بنایا تھا، اور صوفیوں نے کیا پیغام دیا تھا: کہ پاکستان زمین کا نہیں، ضمیر کا نام ہے۔ کلاس رومز میں، لیپ ٹاپ کی اسکرینوں پر، پہاڑوں اور شہروں میں، نوجوانوں نے اپنے اندر کا پاکستان پہچاننا شروع کیا۔ انہیں سمجھ آیا کہ ٹیکنالوجی بغیر اخلاقیات کے اور ایمان بغیر عمل کے — دونوں ادھورے ہیں۔ یوں پاکستان کی دوسری پیدائش شروع ہوئی۔ ⸻ ⚙️ ایمان اور ایجاد کا دور 2040 کے بعد پاکستان ایک AI-فرسٹ قوم بن گیا۔ لیکن باقی دنیا سے مختلف — جہاں مشینیں انسان کو بدل رہی تھیں، پاکستان نے مشینوں کو انسانیت سکھائی۔ کراچی، لاہور، پشاور میں “AI مدرسے” قائم ہوئے — جہاں قرآن اور کوڈ ایک ساتھ پڑھایا جانے لگا۔ طلبہ کو اخلاق بھی سکھایا گیا اور ایجاد بھی۔ ان کے منصوبے صرف منافع نہیں، بلکہ مقصد کے لیے تھے۔ ملک کا نعرہ بدل گیا: “Made in Pakistan” سے “Born of Faith and Logic”۔ صحراؤں میں روبوٹ فصلیں اگاتے، تھر میں شمسی شہر بستے، گلگت میں اڑتی ایمبولینسیں دکھائی دیتیں۔ اور ہر ایجاد “بسم اللہ” سے شروع ہوتی۔ ⸻ 🌍 خدمت اور قیادت کا دور 2060 تک پاکستان نے اپنی سرحدوں سے آگے بڑھ کر ایک عالمی تحریک کی قیادت سنبھال لی — “Global South Renaissance”۔ افریقہ سے انڈونیشیا تک پاکستانی اساتذہ، ڈاکٹرز اور AI ٹرینرز خدمت میں لگ گئے۔ انہوں نے دنیا کو جیتنے نہیں، جوڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اب پاکستان کپڑا یا چاول نہیں، بلکہ شعور، تعلیم، اور اخلاقی ٹیکنالوجی برآمد کرنے لگا۔ ریحان اسکول جیسے خواب حقیقت بن گئے — ہر بچہ لیپ ٹاپ کے ساتھ، ہر استاد AI کے ساتھ، اور ہر گھر ایک تعلیمی مرکز بن گیا۔ ⸻ 🕊️ امن اور شعور کا دور 2080 تک دنیا مادیّت سے تھک چکی تھی۔ پھر دنیا نے مشرق کی طرف دیکھا — اور پاکستان اس کا روحانی مرکز بن گیا۔ صوفی ایپس مراقبہ سکھانے لگیں، مساجد علم و سائنس کے کھلے مراکز بن گئیں۔ رومی، اقبال اور نبیِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ہولوگرامز اور AI اساتذہ کے ذریعے دنیا بھر میں سنائی جانے لگیں — بطور مذہب نہیں، بطور انسانی شعور۔ جنگیں ختم ہو گئیں۔ کیونکہ جب دل بیدار ہو جائے، تو دشمنی کی ضرورت نہیں رہتی — صرف محبت باقی رہتی ہے۔ ⸻ 🌿 تجدید کا دور 2100 میں پاکستان سبز ہو چکا تھا۔ جہاں ریگستان تھے، وہاں درخت اگ آئے۔ جہاں غربت تھی، وہاں علم کے چراغ جلنے لگے۔ ندیوں کا پانی صاف، شہروں کی فضا شفاف۔ اب ترقی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی نہیں، بلکہ کتنی زندگیاں بہتر ہوئیں۔ ان صوفیوں کی سرزمین سے نئے رہنما پیدا ہوئے — سائنسدان جو درویش تھے، انجینئر جو خدمت گزار تھے، اور بزنس مین جن کے منصوبے زمین کو شفا دیتے تھے۔ ⸻ ☀️ روشنی کا دور — 2125 اور آگے ایک صدی بعد جب دنیا پیچھے مڑ کر دیکھے گی، تو وہ یہ نہیں کہے گی کہ “پاکستان غریب تھا” — وہ کہے گی: “پاکستان نے خود کو پہچان لیا تھا۔” دنیا دیکھے گی کہ یہ قوم ہتھیاروں سے نہیں، علم اور کردار سے مضبوط ہوئی۔ پاکستان نے دنیا کو سکھایا کہ ترقی عمارتوں میں نہیں، ضمیر میں ہوتی ہے۔ طاقت فوج میں نہیں، ایمان میں ہوتی ہے۔ اور خوشحالی دولت سے نہیں، عدل سے آتی ہے۔ ⸻ 🕯️ اختتام نہیں، آغاز ہے پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا نہیں تھا، بلکہ ظاہر ہوا تھا — تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ ایمان، تعلیم اور خدمت جب اکٹھے ہو جائیں، تو زمین جنت بن سکتی ہے۔ یہ ملک صرف ایک قوم کا نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے — کہ خدا کبھی دور نہیں ہوتا، ہمیں صرف دیکھنا سیکھنا ہوتا ہے۔ ⸻ 🇵🇰 یہ ہے پاکستان کا مستقبل — علم، ایمان، اور محبت کا۔ جہاں ہر انسان، خود ایک چراغ بن جائے۔ ⸻
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 495 Visualizações
  • جب ہم اپنی آواز اٹھاتے ہیں اور وہ کچھ کرتے ہیں جسے ہم صحیح سمجھتے ہیں، تو ہمیں قرآن کی عظیم تعلیمات یاد رکھنی چاہئے، جو ہمیں غلط کو اچھے سے جواب دینے کی ترغیب دیتے ہیں (سورہ فصلت، 41:34)۔ ہماری طاقت تشدد میں نہیں بلکہ ہمارے الفاظ، ہماری اتحادی طاقت اور ہماری امن پسندانہ روح میں ہے۔

    قرآن ہمیں تشدد سے باز رہنے کی تعلیم دیتا ہے (سورہ البقرہ، 2:190)۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سچے اور مستحکم تبدیلی کا ذریعہ امن اور تفہیم ہوتا ہے، نہ کہ تشدد۔ ہر آواز اہم ہوتی ہے، اور ہر آواز کو سنا جانا چاہیے، لیکن ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہم مہربانی، احترام اور امن کے ساتھ اپنا پیغام بڑھا رہے ہیں۔

    یاد رکھیں، ہماری عدل تلاش کرنے کی خواہش ہمیں تشدد کی جانب نہیں لے جاتی۔ ہمارا مقصد امن، مساوات اور عدل کی دنیا ہے، اور ہمارا راستہ انہی اقدار کی عکاسی کرنا چاہیے۔

    #امن #عدل #تفہیم #قرآنی_تعلیمات
    جب ہم اپنی آواز اٹھاتے ہیں اور وہ کچھ کرتے ہیں جسے ہم صحیح سمجھتے ہیں، تو ہمیں قرآن کی عظیم تعلیمات یاد رکھنی چاہئے، جو ہمیں غلط کو اچھے سے جواب دینے کی ترغیب دیتے ہیں (سورہ فصلت، 41:34)۔ ہماری طاقت تشدد میں نہیں بلکہ ہمارے الفاظ، ہماری اتحادی طاقت اور ہماری امن پسندانہ روح میں ہے۔ قرآن ہمیں تشدد سے باز رہنے کی تعلیم دیتا ہے (سورہ البقرہ، 2:190)۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سچے اور مستحکم تبدیلی کا ذریعہ امن اور تفہیم ہوتا ہے، نہ کہ تشدد۔ ہر آواز اہم ہوتی ہے، اور ہر آواز کو سنا جانا چاہیے، لیکن ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہم مہربانی، احترام اور امن کے ساتھ اپنا پیغام بڑھا رہے ہیں۔ یاد رکھیں، ہماری عدل تلاش کرنے کی خواہش ہمیں تشدد کی جانب نہیں لے جاتی۔ ہمارا مقصد امن، مساوات اور عدل کی دنیا ہے، اور ہمارا راستہ انہی اقدار کی عکاسی کرنا چاہیے۔ 🌍✌️💙 #امن #عدل #تفہیم #قرآنی_تعلیمات
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 270 Visualizações
  • ایک تو اپنے یہاں لوگ بہت frustrated ہیں ۔ پچھلے 70 سالوں میں اتنے دھوکے ملے ہیں انہیں، کہ وہ ہر چیز پہ defensive ہو جاتے ہیں ۔ لیڈران سے لے کر عدلیہ ، افسر شاہی ، اور باقی سب نے عوام کو خواب دکھا کہ تنہا چھوڑا ہے ۔ لوگوں کو خلوص ، محبت اور بےلوث خدمت ملی ہی کم کم ہے ، لہذا اس پہ کیسے ردعمل دینا ہے ۔۔۔ ہم لا علم ہیں ۔
    دوسری جانب ، میڈیا میں نظر آنے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں ۔ لوگوں کی ذہنی فرسودگی اور بیہودگی دونوں برداشت کرنا پڑتی ہیں ۔ یا یوں کہئے کہ یہ مشہور ہونے ، سیلیبریٹی ہونے کی قیمت ہے ، ایک طرح سے شہرت کا by-product ہے ۔
    تو ریحان بھائی آپ کا اپنا فارمولا ہی کارگر ہے ، چمڑی موٹی کرکے لگے رہو ۔ لوگ ایک دن ضرور سمجھیں گے ، جناح ، اقبال ، ایدھی ، امجد ثاقب اور ان جیسے سب کو کتنے سال لگے خود کو منوانے میں ۔ اللہ نے چاہا تو آپ کا نام بھی کورس کی کتابوں میں آئے گا ۔۔۔ یا شاید کتابیں نہ رہیں تو بلاگز میں ❤
    ڈھیروں دعائیں
    Sharjeel Akbar
    ایک تو اپنے یہاں لوگ بہت frustrated ہیں ۔ پچھلے 70 سالوں میں اتنے دھوکے ملے ہیں انہیں، کہ وہ ہر چیز پہ defensive ہو جاتے ہیں ۔ لیڈران سے لے کر عدلیہ ، افسر شاہی ، اور باقی سب نے عوام کو خواب دکھا کہ تنہا چھوڑا ہے ۔ لوگوں کو خلوص ، محبت اور بےلوث خدمت ملی ہی کم کم ہے ، لہذا اس پہ کیسے ردعمل دینا ہے ۔۔۔ ہم لا علم ہیں ۔ دوسری جانب ، میڈیا میں نظر آنے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں ۔ لوگوں کی ذہنی فرسودگی اور بیہودگی دونوں برداشت کرنا پڑتی ہیں ۔ یا یوں کہئے کہ یہ مشہور ہونے ، سیلیبریٹی ہونے کی قیمت ہے ، ایک طرح سے شہرت کا by-product ہے ۔ تو ریحان بھائی آپ کا اپنا فارمولا ہی کارگر ہے ، چمڑی موٹی کرکے لگے رہو ۔ لوگ ایک دن ضرور سمجھیں گے ، جناح ، اقبال ، ایدھی ، امجد ثاقب اور ان جیسے سب کو کتنے سال لگے خود کو منوانے میں ۔ اللہ نے چاہا تو آپ کا نام بھی کورس کی کتابوں میں آئے گا ۔۔۔ یا شاید کتابیں نہ رہیں تو بلاگز میں ❤😊 ڈھیروں دعائیں Sharjeel Akbar
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 103 Visualizações
  • **مسجد: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہر چیز کا مرکز**

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نہ صرف عبادت کا مقام تھی بلکہ یہ مسلمانوں کی زندگی کے ہر پہلو کا مرکز بھی تھی۔ مسجد نبوی، جو مدینہ منورہ میں قائم ہوئی، اس دور کی مثالی مسجد تھی اور اس نے معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور عدالتی امور میں اہم کردار ادا کیا۔

    ### عبادت کا مقام
    سب سے پہلے اور سب سے اہم، مسجد اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھی۔ پانچ وقت کی نماز، جمعہ کی نماز اور دیگر مذہبی تقریبات یہاں منعقد ہوتی تھیں۔ نماز کی ادائیگی کے علاوہ، مسجد میں قرآن کی تلاوت اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔

    (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 1)

    ### تعلیمی مرکز
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو تعلیم کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دین کی تعلیم، حدیث، فقہ، اور قرآن کی تفاسیر یہاں سکھائی جاتی تھیں۔ مسجد میں ایک صفہ کے نام سے ایک مخصوص جگہ تھی جہاں طلباء دین کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 38)

    ### عدالتی مرکز
    مسجد نبوی عدالتی امور کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مقدمات کی سماعت کرتے اور فیصلے سناتے تھے۔ اس طرح مسجد ایک عدالتی مرکز بھی تھی جہاں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے تھے۔

    (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الأحکام، حدیث نمبر 220)

    ### سیاسی مرکز
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو سیاسی مرکز بھی بنایا۔ یہاں سے مسلمانوں کے امور کی نگرانی کی جاتی تھی، جنگی حکمت عملیوں پر غور و خوض کیا جاتا تھا، اور مختلف قبائل کے درمیان امن و امان قائم رکھنے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔

    (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، حدیث نمبر 89)

    ### معاشرتی مرکز
    مسجد نبوی معاشرتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھی۔ یہاں لوگ اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے، ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کرتے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے تھے۔ مسجد میں مہمان نوازی اور سماجی فلاح و بہبود کے کام بھی انجام دیے جاتے تھے۔

    (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 25)

    ### اقتصادی مرکز
    مسجد نبوی اقتصادی امور کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ یہاں صدقات اور زکوة کے معاملات نمٹائے جاتے تھے، اور فقراء اور محتاجوں کی مدد کی جاتی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ذریعے اقتصادی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

    (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الزکاة، حدیث نمبر 26)

    ### نتیجہ
    نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی ایک مکمل مرکز تھی جہاں ہر قسم کے امور انجام دیے جاتے تھے۔ عبادت، تعلیم، عدل، سیاست، معاشرت اور اقتصاد، سبھی پہلوؤں میں مسجد نے مرکزی کردار ادا کیا۔ آج بھی اگر ہم مساجد کو اسی روح کے ساتھ استعمال کریں، تو معاشرتی اور دینی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 148)
    **مسجد: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہر چیز کا مرکز** نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نہ صرف عبادت کا مقام تھی بلکہ یہ مسلمانوں کی زندگی کے ہر پہلو کا مرکز بھی تھی۔ مسجد نبوی، جو مدینہ منورہ میں قائم ہوئی، اس دور کی مثالی مسجد تھی اور اس نے معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور عدالتی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ ### عبادت کا مقام سب سے پہلے اور سب سے اہم، مسجد اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھی۔ پانچ وقت کی نماز، جمعہ کی نماز اور دیگر مذہبی تقریبات یہاں منعقد ہوتی تھیں۔ نماز کی ادائیگی کے علاوہ، مسجد میں قرآن کی تلاوت اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 1) ### تعلیمی مرکز نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو تعلیم کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دین کی تعلیم، حدیث، فقہ، اور قرآن کی تفاسیر یہاں سکھائی جاتی تھیں۔ مسجد میں ایک صفہ کے نام سے ایک مخصوص جگہ تھی جہاں طلباء دین کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 38) ### عدالتی مرکز مسجد نبوی عدالتی امور کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مقدمات کی سماعت کرتے اور فیصلے سناتے تھے۔ اس طرح مسجد ایک عدالتی مرکز بھی تھی جہاں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے تھے۔ (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الأحکام، حدیث نمبر 220) ### سیاسی مرکز نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو سیاسی مرکز بھی بنایا۔ یہاں سے مسلمانوں کے امور کی نگرانی کی جاتی تھی، جنگی حکمت عملیوں پر غور و خوض کیا جاتا تھا، اور مختلف قبائل کے درمیان امن و امان قائم رکھنے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔ (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، حدیث نمبر 89) ### معاشرتی مرکز مسجد نبوی معاشرتی سرگرمیوں کا بھی مرکز تھی۔ یہاں لوگ اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے، ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کرتے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے تھے۔ مسجد میں مہمان نوازی اور سماجی فلاح و بہبود کے کام بھی انجام دیے جاتے تھے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 25) ### اقتصادی مرکز مسجد نبوی اقتصادی امور کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ یہاں صدقات اور زکوة کے معاملات نمٹائے جاتے تھے، اور فقراء اور محتاجوں کی مدد کی جاتی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ذریعے اقتصادی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ (حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الزکاة، حدیث نمبر 26) ### نتیجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی ایک مکمل مرکز تھی جہاں ہر قسم کے امور انجام دیے جاتے تھے۔ عبادت، تعلیم، عدل، سیاست، معاشرت اور اقتصاد، سبھی پہلوؤں میں مسجد نے مرکزی کردار ادا کیا۔ آج بھی اگر ہم مساجد کو اسی روح کے ساتھ استعمال کریں، تو معاشرتی اور دینی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 148)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 103 Visualizações
  • باچا خان نے عدم تشدد قرآن سے کیسے سیکھا

    باچا خان، جنہیں خان عبدالغفار خان بھی کہا جاتا ہے، برصغیر کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہیں دنیا “سرحدی گاندھی” کے نام سے جانتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا فلسفۂ عدم تشدد نہ گاندھی سے آیا تھا اور نہ مغرب سے۔ ان کا اصل سرچشمہ قرآنِ مجید اور سیرتِ رسول ﷺ تھی۔

    باچا خان 1890ء میں ایک مذہبی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہوں نے قرآن اور اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ اسلام کو صرف عبادات تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک مکمل نظامِ زندگی مانتے تھے جو انسان کو صبر، برداشت، عدل اور خدمتِ خلق سکھاتا ہے۔

    جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا تو ایک بات نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا:
    مکہ کے تیرہ سالہ دور میں شدید ظلم، تشدد اور مخالفت کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

    اسی نقطے نے باچا خان کی فکر کو بدل دیا۔

    وہ خود فرمایا کرتے تھے:

    “میرے لیے عدم تشدد کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چودہ سو سال پہلے اختیار کیا تھا۔”

    یہ قول تاریخی طور پر مستند ہے اور ان کی فکر کی بنیاد کو واضح کرتا ہے۔

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ باچا خان نے چالیس دن کی خلوت اختیار کی تھی جس کے بعد انہیں عدم تشدد کا راستہ ملا۔ اگرچہ اس بات کا کوئی باقاعدہ تاریخی ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ غور و فکر، مطالعے اور روحانی تربیت میں گزارا۔ ان کا تعلق اسلام سے صرف نام کا نہیں بلکہ عمل کا تھا۔

    باچا خان اس نتیجے پر پہنچے کہ:
    • تشدد نفرت کو جنم دیتا ہے
    • نفرت تباہی کو جنم دیتی ہے
    • اور تباہی قوموں کو برباد کر دیتی ہے

    جبکہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے:
    • صبر
    • معافی
    • خدمتِ انسانیت
    • اور انصاف بغیر ظلم کے

    انہی اصولوں پر انہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کے کارکنوں نے تشدد سے مکمل کنارہ کشی اختیار کی۔ حتیٰ کہ جب قصہ خوانی بازار میں ان پر گولیاں چلائی گئیں، تب بھی انہوں نے جوابی حملہ نہیں کیا۔

    باچا خان کا ماننا تھا کہ اصل طاقت ہتھیار میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا اور سینکڑوں اسکول قائم کیے تاکہ قوم کو علم اور شعور مل سکے۔

    انہوں نے کبھی اسلام کو نفرت یا جنگ کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے امن، محبت اور انسانیت کا پیغام بنایا۔ ان کے نزدیک سچا مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔

    آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں:

    باچا خان نے عدم تشدد گاندھی سے نہیں سیکھا، بلکہ قرآن اور سیرتِ رسول ﷺ سے سیکھا۔
    انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ اسلام کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور عظیم حوصلے کا نام ہے۔
    باچا خان نے عدم تشدد قرآن سے کیسے سیکھا باچا خان، جنہیں خان عبدالغفار خان بھی کہا جاتا ہے، برصغیر کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہیں دنیا “سرحدی گاندھی” کے نام سے جانتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا فلسفۂ عدم تشدد نہ گاندھی سے آیا تھا اور نہ مغرب سے۔ ان کا اصل سرچشمہ قرآنِ مجید اور سیرتِ رسول ﷺ تھی۔ باچا خان 1890ء میں ایک مذہبی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہوں نے قرآن اور اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ اسلام کو صرف عبادات تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک مکمل نظامِ زندگی مانتے تھے جو انسان کو صبر، برداشت، عدل اور خدمتِ خلق سکھاتا ہے۔ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا تو ایک بات نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا: مکہ کے تیرہ سالہ دور میں شدید ظلم، تشدد اور مخالفت کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اسی نقطے نے باچا خان کی فکر کو بدل دیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے: “میرے لیے عدم تشدد کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چودہ سو سال پہلے اختیار کیا تھا۔” یہ قول تاریخی طور پر مستند ہے اور ان کی فکر کی بنیاد کو واضح کرتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ باچا خان نے چالیس دن کی خلوت اختیار کی تھی جس کے بعد انہیں عدم تشدد کا راستہ ملا۔ اگرچہ اس بات کا کوئی باقاعدہ تاریخی ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ غور و فکر، مطالعے اور روحانی تربیت میں گزارا۔ ان کا تعلق اسلام سے صرف نام کا نہیں بلکہ عمل کا تھا۔ باچا خان اس نتیجے پر پہنچے کہ: • تشدد نفرت کو جنم دیتا ہے • نفرت تباہی کو جنم دیتی ہے • اور تباہی قوموں کو برباد کر دیتی ہے جبکہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے: • صبر • معافی • خدمتِ انسانیت • اور انصاف بغیر ظلم کے انہی اصولوں پر انہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کے کارکنوں نے تشدد سے مکمل کنارہ کشی اختیار کی۔ حتیٰ کہ جب قصہ خوانی بازار میں ان پر گولیاں چلائی گئیں، تب بھی انہوں نے جوابی حملہ نہیں کیا۔ باچا خان کا ماننا تھا کہ اصل طاقت ہتھیار میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا اور سینکڑوں اسکول قائم کیے تاکہ قوم کو علم اور شعور مل سکے۔ انہوں نے کبھی اسلام کو نفرت یا جنگ کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے امن، محبت اور انسانیت کا پیغام بنایا۔ ان کے نزدیک سچا مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں: باچا خان نے عدم تشدد گاندھی سے نہیں سیکھا، بلکہ قرآن اور سیرتِ رسول ﷺ سے سیکھا۔ انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ اسلام کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور عظیم حوصلے کا نام ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 103 Visualizações
Páginas impulsionada