• ACCL Foundation Level Student
    Rehan School Urdu Bazar Campus
    Roll No. 34
    Day 10: Story Post
    ### English Version: Mulla Nasrudin & the Donkey's Price
    One day, Mulla Nasrudin decided to sell his old donkey in the market. He took the donkey to the bustling town square and shouted, *"Who wants to buy a hardworking and wise donkey? Name your price!"*
    Soon, a curious crowd gathered around him. One clever merchant decided to test the Mulla and asked, *"Mulla ji, how much is this donkey actually worth?"*
    Nasrudin looked at the merchant with a gentle smile and replied, *"Well, as for his actual price, I only want 10 silver coins. But as for his value in conversation, he is truly priceless because he listens to my troubles without ever interrupting!"*
    The crowd burst into laughter and applause, and a buyer immediately paid the 10 silver coins, happy to own such a legendary companion!
    **#MullaNasrudin #WisdomTales #FolkLore #FunnyStories #LifeLessons #StoryTime**
    ---
    ### Urdu Version: ملا نصر الدین اور گدھے کی قیمت
    ایک دن ملا نصر الدین نے اپنے بوڑھے گدھے کو بازار میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گدھے کو لے کر ہلچل سے بھرے بازار میں پہنچ گیا اور آواز لگائی، *"کوئی ہے جو ایک محنتی اور سمجھدار گدھا خریدنا چاہے؟ اپنی قیمت خود لگاؤ!"*
    تھوڑی ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔ ایک چالاک تاجر نے ملا کا امتحان لینے کے لیے پوچھا، *"ملا جی! اس گدھے کی اصل قیمت کیا ہے؟"*
    نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا، *"دیکھو بھئی، جہاں تک گدھے کی قیمت کا تعلق ہے، میں صرف 10 چاندی کے سکے لوں گا۔ لیکن جہاں تک اس کی صحبت کی قیمت کا تعلق ہے، وہ انمول ہے کیونکہ یہ میرے سارے دکھ چپ چاپ سنتا ہے اور کبھی بیچ میں نہیں ٹوکتا!"*
    یہ سن کر تمام لوگ ہنس پڑے اور قہقہے لگانے لگے۔ ایک خریدار نے فوراََ 10 چاندی کے سکے دے کر گدھا خرید لیا اور خوشی خوشی چلا گیا!
    **#ملا_نصرالدین #حکایتیں #مزیدارکہانیاں #اردوافسانے #دانشمندی #قصے**
    ACCL Foundation Level Student Rehan School Urdu Bazar Campus Roll No. 34 Day 10: Story Post ### 🇬🇧 English Version: Mulla Nasrudin & the Donkey's Price One day, Mulla Nasrudin decided to sell his old donkey in the market. He took the donkey to the bustling town square and shouted, *"Who wants to buy a hardworking and wise donkey? Name your price!"* 🐴💰 Soon, a curious crowd gathered around him. One clever merchant decided to test the Mulla and asked, *"Mulla ji, how much is this donkey actually worth?"* 🤔 Nasrudin looked at the merchant with a gentle smile and replied, *"Well, as for his actual price, I only want 10 silver coins. But as for his value in conversation, he is truly priceless because he listens to my troubles without ever interrupting!"* 🤫💬 The crowd burst into laughter and applause, and a buyer immediately paid the 10 silver coins, happy to own such a legendary companion! 😄👏 **#MullaNasrudin #WisdomTales #FolkLore #FunnyStories #LifeLessons #StoryTime** --- ### 🇵🇰 Urdu Version: ملا نصر الدین اور گدھے کی قیمت ایک دن ملا نصر الدین نے اپنے بوڑھے گدھے کو بازار میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گدھے کو لے کر ہلچل سے بھرے بازار میں پہنچ گیا اور آواز لگائی، *"کوئی ہے جو ایک محنتی اور سمجھدار گدھا خریدنا چاہے؟ اپنی قیمت خود لگاؤ!"* 🐴💰 تھوڑی ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔ ایک چالاک تاجر نے ملا کا امتحان لینے کے لیے پوچھا، *"ملا جی! اس گدھے کی اصل قیمت کیا ہے؟"* 🤔 نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا، *"دیکھو بھئی، جہاں تک گدھے کی قیمت کا تعلق ہے، میں صرف 10 چاندی کے سکے لوں گا۔ لیکن جہاں تک اس کی صحبت کی قیمت کا تعلق ہے، وہ انمول ہے کیونکہ یہ میرے سارے دکھ چپ چاپ سنتا ہے اور کبھی بیچ میں نہیں ٹوکتا!"* 🤫💬 یہ سن کر تمام لوگ ہنس پڑے اور قہقہے لگانے لگے۔ ایک خریدار نے فوراََ 10 چاندی کے سکے دے کر گدھا خرید لیا اور خوشی خوشی چلا گیا! 😄👏 **#ملا_نصرالدین #حکایتیں #مزیدارکہانیاں #اردوافسانے #دانشمندی #قصے**
    0 تبصرے 0 شیئرز 121 ویوز
  • Story Post:1

    ایک دن ملا نصرالدین بازار گئے تاکہ اپنا گدھا بیچ سکیں۔
    ایک آدمی آیا اور پوچھا، ’’یہ گدھا کتنے کا ہے؟‘‘
    ملا نے جواب دیا، ’’100 چاندی کے سکے۔‘‘
    آدمی نے کہا، ’’یہ تو بہت زیادہ ہے! یہ گدھا تو بوڑھا اور کمزور ہے۔‘‘

    ملا نصرالدین مسکرا کر بولے، ’’ہاں، یہ بوڑھا ضرور ہے، لیکن بہت عقل مند ہے۔ اسے شہر کی ساری گلیاں یاد ہیں، اور یہ کبھی راستہ نہیں بھولتا۔‘‘

    آدمی ہنس کر بولا، ’’لیکن میں عقل مند گدھے کا کیا کروں گا؟‘‘
    ملا نے سکون سے جواب دیا، ’’دیکھو، کچھ لوگ گدھے کام کے لیے خریدتے ہیں، اور کچھ دانائی کے لیے۔ یہ تو تم پر ہے کہ تمہیں کیا چاہیے۔‘‘

    آدمی الجھ کر چلا گیا… لیکن چند منٹ بعد ایک اور شخص آیا اور گدھا پورے دام میں خرید لیا!

    کہانی کا سبق: قیمت خریدار کے نظرئیے پر منحصر ہوتی ہے۔ جو چیز ایک کو بیکار لگے، وہ دوسرے کے لیے قیمتی ہو سکتی ہے۔

    #ملا_نصرالدین #گدھا_کہانی #مذاق_میں_دانائی #سبق_آموز_کہانی #زندگی_کا_سبق #قیمت_کی_اہمیت #نصرالدین_کے_قصے #حکمت_بھرے_لطیفے
    Story Post:1 ایک دن ملا نصرالدین بازار گئے تاکہ اپنا گدھا بیچ سکیں۔ ایک آدمی آیا اور پوچھا، ’’یہ گدھا کتنے کا ہے؟‘‘ ملا نے جواب دیا، ’’100 چاندی کے سکے۔‘‘ آدمی نے کہا، ’’یہ تو بہت زیادہ ہے! یہ گدھا تو بوڑھا اور کمزور ہے۔‘‘ ملا نصرالدین مسکرا کر بولے، ’’ہاں، یہ بوڑھا ضرور ہے، لیکن بہت عقل مند ہے۔ اسے شہر کی ساری گلیاں یاد ہیں، اور یہ کبھی راستہ نہیں بھولتا۔‘‘ آدمی ہنس کر بولا، ’’لیکن میں عقل مند گدھے کا کیا کروں گا؟‘‘ ملا نے سکون سے جواب دیا، ’’دیکھو، کچھ لوگ گدھے کام کے لیے خریدتے ہیں، اور کچھ دانائی کے لیے۔ یہ تو تم پر ہے کہ تمہیں کیا چاہیے۔‘‘ 😂 آدمی الجھ کر چلا گیا… لیکن چند منٹ بعد ایک اور شخص آیا اور گدھا پورے دام میں خرید لیا! کہانی کا سبق: قیمت خریدار کے نظرئیے پر منحصر ہوتی ہے۔ جو چیز ایک کو بیکار لگے، وہ دوسرے کے لیے قیمتی ہو سکتی ہے۔ 💡 #ملا_نصرالدین #گدھا_کہانی #مذاق_میں_دانائی #سبق_آموز_کہانی #زندگی_کا_سبق #قیمت_کی_اہمیت #نصرالدین_کے_قصے #حکمت_بھرے_لطیفے 🐴📜😄
    0 تبصرے 0 شیئرز 2571 ویوز
  • بہت عمدہ تحریر !


    بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی

    Zeeshan Usmani

    *آگے* *بڑیں*

    اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation
    کیسے آئے؟

    کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔

    آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔

    1۔ اعتراض نہ کریں:

    اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔

    خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔

    آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔

    شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔

    کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟

    اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔

    اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔

    فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔

    2۔ شکر ادا کریں:

    اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ
    Excel sheet
    بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں.

    مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔


    3۔ اپنا ذکر نہ کریں:

    یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔
    آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔

    اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔

    اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا

    یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔
    اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔
    ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے
    اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
    (تہذیب حافی)
    بہت عمدہ تحریر ! بشکریہ: ذیشان الحسن عثمانی Zeeshan Usmani *آگے* *بڑیں* اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا ہنر کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی بس ایک جگہ ٹھہر گئی ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی راہ انہیں سجھائی نہیں دیتی۔ اس ساکت و جامد زندگی میں کوئی تحریک یا Motivation کیسے آئے؟ کیوں ان کی زندگی ان کے آس پاس موجود فلاں اور فلاں لوگوں جیسی نہیں ہے؟ کیوں ان کا فلاں فیس بک فرینڈ ان سے آگے نکل گیا؟ اور کیوں فلاں رشتہ دار کا بیٹا ترقی پہ ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کے ہاتھ سوائے حسرت کے کچھ نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں انہیں کوئی استاد کوئی رہبر یا ایسا شخص نہیں ملتا جو ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلا سکے؟ حالات سے مجبور اور زندگی سے مایوس نوجوانوں کے درجنوں ایسے پیغامات ہر ہفتے پڑھ کر میں سوچتا ہوں کے انھیں کیا مشورہ دوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کوئی نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آگے بڑھیں، زندگی پڑی ہے۔ آج میں آپ کو آگے بڑھنے کے 3 تیر بہدف آزمودہ طریقے بتاتا ہوں۔ ان پر دل و جان سے عمل کریں انشاءاللہ ضرور افاقہ ہوگا۔ 1۔ اعتراض نہ کریں: اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج کے بعد اعتراض نہیں کریں گے۔ ہاں، اگر آپ کسی کے سرپرست ہیں، ماں باپ ہیں، استاد یا راہبر ہیں اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو اسے ضرور سمجھا دیں۔ اور اگر ایسا کوئی رشتہ نہیں تو آپ اعتراض کو یکسر ختم کر دیں۔ دنیا میں کبھی اعتراض اور نفع جمع نہیں ہوتے۔ آپ ٹول پلازہ والے سے بحث کریں، گالیاں دیں اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ٹول وصول نہیں کرے گا تو یہ بےوقوفی ہی ہے۔ آپ گھر پہنچ کر بیگم کے ہر کام پر اعتراض کریں، بچوں کی دیکھ بھال سے کھانا بنانے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر آپ کے سامان کی رکھوالی تک۔ اور امید رکھیں کہ وہ آپ سے ہنس کے، مسکرا کے کلام کریں گی تو یہ ممکن نہیں۔ خدارا لوگوں کا احتساب کرنا چھوڑ دیں۔ ہم جس چھنّی سے لوگوں کو چھانتے ہیں اس سے تو صرف نبوت ہی باہر آسکتی ہے۔ یہ کیوں کہا، یہ کیوں پہنا، ایسے کیوں بیٹھے، اس سے کیوں ملے؟ بھائی اپنے کام سے کام رکھیں آپ کو اس شخص سے جو فائدہ پہنچ رہا ہے وہ اٹھایں اور منہ بند رکھیں۔ اعتراض مٹی کی وہ بوری ہے جو ہم کسی نلکے کے منہ پر باندھ دیتے ہیں اس کے بعد جو پانی نکلے گا وہ گدلا ہی ہوگا۔ اعتراض کے حملوں کا نشانہ عموماً استاد، راہبر یا مولوی حضرات ہی بنتے ہیں۔ آپکو معلوم ہے کہ وہ غریب آدمی نہ پلٹ کے جواب دے گا نہ بد دعا۔ جو چاہے کہہ لو۔ آپ نے آج تک موچی سے پوچھا ہے کہ تمہارے گھر میں کتنے ہیوی بچے ہیں؟ نہیں نا! کیونکہ آپ کو تو جوتا سلوانا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں کپڑے کیوں پہنے ہوتے ہیں؟ وکیل سے سوال کیا کہ کل بازار میں کس کے ساتھ جا رہے تھے؟ مگر جہاں سوال استاد یا مولوی صاحب کا آیا، جب تک آپ ان کے شجرہ نصب کے بارے میں مکمل جانکاری نہ کر لیں آپ کو چین ہی نہیں آتا۔ شیطان راہ اسی کی مارتا ہے جس کے پہنچنے کا ڈر ہو۔ ہر وہ شخص جس سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہو اسی کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات و خیالات آتے ہیں۔ وہ آپ کو گھر بلا لے تو آپ کہتے ہیں کہ شاندار گھر بنایا ہے، حرام کا پیسہ آیا ہوگا۔ وہ کھانا کھلا دے تو آپ اس کی فضول خرچی اور پرتعیش زندگی پر ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ گاڑی لے لے تو آپ کے دل پر سے ٹرک گزر جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ فٹ پاتھ پر آجائے تو آپ پھر بھی طعنے کستے ہیں کہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہا۔ کس سے ملے، کیا پہنا، کیا پوچھا، کیا بولا، کیسے بولا، کس کو بولا، یہ کیوں بولا، یہ کیوں نہیں بولا، اسے وقت دیا، اس کو کیوں نہیں دیا، میرا فون کیوں نہیں اٹھایا، میری تعریف کیوں نہیں کی؟ سارے سوال آپ ہی نے پوچھنے ہیں تو حشر میں کیا ہوگا؟ اور پھر ان تمام اعتراضات اور الزامات کے بعد آپ ایسے بن جائیں کہ ہوا ہی کچھ نہیں اور آپ کو مسلسل ان سے فیض ملتا رہے، یہ ممکن نہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کنویں میں تھوکنے والے کی پیاس چھن جاتی ہے۔ علم تو مومن کی میراث ہے، اگر کسی شخص سے آپ ایک بات بھی سیکھ سکتے ہیں تو وہ سیکھ لیں اس کے نامہء اعمال کی پرکھ کرنا چھوڑ دیں۔ اعتراض وہ بدترین خصلت ہے جس کی وجہ سے منزل تو کیا، راستہ اپنے مسافر کو چھوڑ دیتا ہے۔ اعتراض ہدایت کا راستہ روک دیتا ہے اور ایسے شخص کو جواب میں سوائے برائیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ اس کی مثال کچرا اٹھانے والے جمعدار کی سی ہے جسے پھولوں بھرے باغ میں سے بھی پھٹے پرانے ڈبے اور خالی بوتلیں مل ہی جاتی ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ پھول چننے ہیں یا خالی بوتلیں۔ قدرت نے تو سب آپ کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔ 2۔ شکر ادا کریں: اللہ ربّ العزت نے بڑا نوازا ہے آپ کو۔ آپ ایک کام کریں کہ ایک ایکسل شیٹ Excel sheet بنا لیں اور جس دن سے آپ نے کمانا شروع کیا ہے اس دن سے ہر مہینہ ملنے والی رقم اس میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ قدرت آپ کو کیسے نوازتی آئی ہے۔ پیدائش سے مرنے تک ہم کھاتے پیتے بھی ہیں، دوا، زیب و زینت، چھت اور آسائیش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ پڑھائی، سفر، اور باقی اخراجات بھی۔ ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ 70، 75 سالوں کا راشن لے کر نہیں آیا اور نہ ہی ہم ان تمام اسباب کو لادے لادے پھرتے ہیں۔ اگر آپ پر قدرت کے صرف 500 روپے بھی روزانہ خرچ ہوئے ہوں تو یہ زندگی میں کوئی 13 کروڑ بنتے ہیں۔ کیا مشکل تھا کہ قدرت آپکو مار کے ان پیسوں سے کوئی ادارہ بنوا دیتی جو کتنوں کے کام آتا۔ ہم میں سے غریب سے غریب ترشخص بھی 13 کروڑ کی آسامی ہے، جسے قدرت نے سینچا ہے، اس شخص کی قدر کریں، اپنی منزلت پہچانیں. مایوسی کو کفر کہتے ہی اسلئے ہیں کہ اس شخص کو اپنے مسائل کے سامنے خدا نظر نہیں آتا۔ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔ پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں۔ اللہ پاک کہتا ہے کہ وہ عذاب دے کر کیا کرے گا اگر ہم شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان لائیں۔ شکر ایمان سے پہلے آیا ہے۔ شکر ادا کرتے رہیں تو ایمان کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ 3۔ اپنا ذکر نہ کریں: یہ آگے بڑھنے کے لئے سب سے ہم کام ہے۔ لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ٓ انہیں اپنے سحر میں جکڑنا، اپنی چرب زبانی اور قصیدوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا کہ وہ آپ سے رجوع کریں، شرک ہے۔ انہیں اللہ سے جوڑیں۔ یاد رکھیں، توضع و انکساری کا ہر وہ جملہ جو خالق کے بجائے مخلوق کے سامنے کہا جائے، کبر کی ہی ایک شاخ ہے۔ آپ کی پرسنلٹی، آپ کی قربانیاں، آپ کی کاوشیں، آپ کی محنت، دینی و دنیاوی کارنامے، اگر اس ایک اللہ کو راضی نہ کر سکیں تو سب بےکار ثابت ہوگا۔ اپنے آپ کو ٹریننگز میں مثال بنا کر پیش کرنا، یہ خواہش کہ فلاں فلاں میرا فولوور ہو جائے یا میرے زیرِ اثر ہو۔ خدا تک بھی پہنچے تو مجھ سے ہو کر، شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اپنا ذکر تو بندے کو کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کرتا چاہئیے اِلاّ یہ کہ وہ دوسروں سے کرے۔ راتوں کو اُٹھ کر اپنے رب کے پاس جائیں، اسے سارے قصے سنائیں، بتائیں کیا کیا خامیاں ہیں، کیا کیا مصیبتیں ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ باقی کسی سے ذکر نہ کریں۔ اپنی بڑائی کے تذکروں اور فضیلت کے قصّوں سے کبھی فرصت ملے تو اسکی بھی بڑائی بیان کردیں جسکا حق ہے، ایک بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پوھنچاتا جتنا ہر جا مال و عزت کا متمنی شخص. اپنے کو اوروں سے برتر سمجھنے والے شخص کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی کے اسے وہ گناہ ہی نہیں سمجھتا اور پھر وہ ایسی جگہ سے ذلیل ہوتا ہے جہاں سے اسکے گمان میں بھی نہیں ہوتا یقین جانئیے کہ اگر آپ یہ 3 کام کر سکتے ہیں کہ اعتراض کرنا چھوڑ دیں، شکر ادا کرتے رہیں اور اپنا ذکر نہ کریں تو آگے بڑھنے کا سفر شروع ہو کے ہی رہے گا۔ اور نہ بھی ہوا تو کیا، راہ تو اسی کی تھی، رخ تو اسی کی طرف تھا۔ وہ بےنیاز ہے، نہ دیکھے تو بھی کیا۔ ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ باقی رب جانے اور اس کا کام۔ ؎ اس کی مرضی ہے جسے چاہے پاس بٹھالے اپنے اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا (تہذیب حافی)
    0 تبصرے 0 شیئرز 1918 ویوز
  • توفیق ہے ہر کام کی کیا تم جب کچھ بھی کام نہ کرے، تو ہر ممکن کوشش کریں۔

    ہر راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں اور زندگی میں مشکلات آ سکتی ہیں، مگر جب کچھ بھی کام کرنا ممکن نہ لگے تو یہ کسی بھی مقام میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو بھی مشکلات ہیں، ہمیں اپنی محنت، حکومت اور معاشرتی اجتماعی ہم آہنگی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔

    یاد ہے وہ قصہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آتش زبانی کی سزا دینے کا حکم دیا؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں اپنی قربانی دی، اور جب وہ آتش میں گرایا گیا، اللہ نے آتش کو سرد و صاف بنا دیا۔ اس معجزانہ واقعے میں ایک چھوٹی سی پرندہ (ہوپوئے) نے اپنے چنگل سے پانی اٹھا کر آگ کو بجھانے میں مدد کی۔

    اس قصے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب تم مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہو، تو تمہیں بھی اپنی کوششوں میں یقین رکھنا چاہیے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کوشش میں برکت ہوتی ہے۔

    اللہ ہمیں حکمت اور استقامت دے تاکہ ہم مشکلات کا سامنا کریں اور ملک کو ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں۔

    #محنت #استقامت #پاکستان_زندہ_باد
    🌟 توفیق ہے ہر کام کی کیا تم جب کچھ بھی کام نہ کرے، تو ہر ممکن کوشش کریں۔ 🌟 ہر راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں اور زندگی میں مشکلات آ سکتی ہیں، مگر جب کچھ بھی کام کرنا ممکن نہ لگے تو یہ کسی بھی مقام میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو بھی مشکلات ہیں، ہمیں اپنی محنت، حکومت اور معاشرتی اجتماعی ہم آہنگی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ یاد ہے وہ قصہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آتش زبانی کی سزا دینے کا حکم دیا؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں اپنی قربانی دی، اور جب وہ آتش میں گرایا گیا، اللہ نے آتش کو سرد و صاف بنا دیا۔ اس معجزانہ واقعے میں ایک چھوٹی سی پرندہ (ہوپوئے) نے اپنے چنگل سے پانی اٹھا کر آگ کو بجھانے میں مدد کی۔ اس قصے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب تم مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہو، تو تمہیں بھی اپنی کوششوں میں یقین رکھنا چاہیے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کوشش میں برکت ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں حکمت اور استقامت دے تاکہ ہم مشکلات کا سامنا کریں اور ملک کو ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں۔ #محنت #استقامت #پاکستان_زندہ_باد 🇵🇰❤️
    0 تبصرے 0 شیئرز 960 ویوز
  • ایک پاکستانی قصبہ تھا جہاں لوگ نسلوں سے ایک وادی میں رہتے تھے، چاروں طرف بلند پہاڑوں سے گھرے ہوئے۔ انہوں نے ایک خوبصورت دنیا کے قصے سن رکھے تھے لیکن وہ ان کہانیوں کو محض افسانہ سمجھتے تھے۔

    ایک دن، عامر نامی ایک نوجوان کو پہاڑوں میں ایک چھپا ہوا راستہ ملا۔ کئی دن کی محنت کے بعد وہ ایک ایسی جگہ پہنچا جو رنگوں اور مواقع سے بھری ہوئی تھی۔

    عامر واپس آیا اور قصبے والوں کو اپنی دریافت کے بارے میں بتایا۔ لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔

    مایوس ہونے کے بجائے، عامر نے پہاڑوں کے پار سے چھوٹی چھوٹی چیزیں لانا شروع کیں: ایک نئی زرعی تکنیک، کچھ سادہ آلات۔ آہستہ آہستہ، کچھ لوگوں نے اس کا ساتھ دینا شروع کیا۔ وہ بھی واپس رنگین دنیا سے خوشحالی کے شواہد لے کر آئے۔

    قصبے نے آہستہ آہستہ نئی چیزوں کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ ان کی زندگیوں میں خوشحالی آنا شروع ہو گئی اور وہ اپنی دنیا کو پہچاننے لگے۔
    ایک پاکستانی قصبہ تھا جہاں لوگ نسلوں سے ایک وادی میں رہتے تھے، چاروں طرف بلند پہاڑوں سے گھرے ہوئے۔ انہوں نے ایک خوبصورت دنیا کے قصے سن رکھے تھے لیکن وہ ان کہانیوں کو محض افسانہ سمجھتے تھے۔ ایک دن، عامر نامی ایک نوجوان کو پہاڑوں میں ایک چھپا ہوا راستہ ملا۔ کئی دن کی محنت کے بعد وہ ایک ایسی جگہ پہنچا جو رنگوں اور مواقع سے بھری ہوئی تھی۔ عامر واپس آیا اور قصبے والوں کو اپنی دریافت کے بارے میں بتایا۔ لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔ مایوس ہونے کے بجائے، عامر نے پہاڑوں کے پار سے چھوٹی چھوٹی چیزیں لانا شروع کیں: ایک نئی زرعی تکنیک، کچھ سادہ آلات۔ آہستہ آہستہ، کچھ لوگوں نے اس کا ساتھ دینا شروع کیا۔ وہ بھی واپس رنگین دنیا سے خوشحالی کے شواہد لے کر آئے۔ قصبے نے آہستہ آہستہ نئی چیزوں کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ ان کی زندگیوں میں خوشحالی آنا شروع ہو گئی اور وہ اپنی دنیا کو پہچاننے لگے۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 161 ویوز
  • The Story of Zuyina Educationwali: A 8-Year-Old Dreamer Bridging Borders

    In India, lives a remarkable 8 year-old girl named Zuyina Huzaifa EducationWali . She’s not a world leader or a celebrity, but her dream is grander than any headline: to unite the children of India and Pakistan in friendship and peace.

    Every day, Zuyina chats with her best friend in Pakistan through Facebook. They giggle over cartoons, share stories about school, and exchange dreams about the future. To them, borders are just lines on a map, not barriers to friendship.

    One day, Zuyina recalled a story her teacher told her:

    A massive forest fire raged, and while all the animals fled, a tiny bird flew back and forth to the river, carrying drops of water in its beak to douse the flames. When asked why, the bird replied, “I’m doing what I can.”

    Inspired, Zuyina decided to be that little bird. She believes that if children from both countries start talking, laughing, and dreaming together, they can extinguish the flames of hatred that adults have failed to put out.

    Zuyina’s Message to the World:

    “Let’s be the generation that chooses love over hate, friendship over fear. Join me in building bridges of understanding and kindness.”

    Join Zuyina’s Movement:
    • Connect with children across borders.
    • Share messages of peace and friendship.
    • Be the drop that cools the fire.

    Let’s amplify Zuyina’s voice and show the world that the future is in safe, compassionate hands.

    #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird

    ⸻

    Hindi Version: ज़ुयिना एजुकेशनवाली की कहानी

    ज़ुयिना एजुकेशनवाली: 9 साल की एक छोटी बच्ची, जिसकी ख्वाहिश है सरहदों को जोड़ने की

    भारत के प्रयागराज (इलाहाबाद) शहर में रहने वाली ज़ुयिना एजुकेशनवाली सिर्फ़ 9 साल की है।
    वो कोई प्रधानमंत्री नहीं है, कोई सेलिब्रिटी नहीं है — लेकिन उसका सपना दुनिया के सबसे बड़े सपनों में से एक है: भारत और पाकिस्तान के बच्चों को दोस्ती और मोहब्बत के रिश्ते में जोड़ना।

    हर दिन ज़ुयिना अपने पाकिस्तान में रहने वाले सबसे अच्छे दोस्त से फ़ेसबुक पर बात करती है।
    वे एक-दूसरे के स्कूल के किस्से, कार्टून, और सपने शेयर करते हैं।
    ज़ुयिना के लिए, सरहदें कोई दीवार नहीं हैं — दोस्ती में कोई फासला नहीं होता।

    एक दिन उसकी टीचर ने उसे एक कहानी सुनाई:

    एक जंगल में आग लगी थी। बड़े-बड़े जानवर डर के मारे भाग गए, लेकिन एक नन्ही चिड़िया नदी से अपनी छोटी चोंच में पानी भरकर आग बुझाने लगी। सबने हँसकर कहा, “इससे क्या फर्क पड़ेगा?” चिड़िया ने जवाब दिया, “मैं अपनी तरफ़ से पूरी कोशिश कर रही हूं।”

    इस कहानी से प्रेरित होकर, ज़ुयिना ने तय किया —
    वह भी वही छोटी चिड़िया बनेगी।

    उसका सीधा सा संदेश है:

    “अगर बड़े नहीं सुन रहे, तो चलो हम बच्चे दोस्ती करें, बातें करें, एक-दूसरे के सपनों का हिस्सा बनें। अगर हम शुरू करेंगे, तो एक दिन बड़े भी बदलेंगे।”

    ज़ुयिना का निमंत्रण:
    • दोस्ती करें सरहद पार।
    • शांति फैलाएं अपने संदेशों से।
    • बनें वह छोटा बूंद जो नफ़रत की आग बुझाए।

    आइए, ज़ुयिना की आवाज़ बनें और एक ऐसी दुनिया बनाएं, जहाँ प्यार और दोस्ती सरहदों से बड़े हों।

    #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird

    ⸻

    اردو ورژن: زوینا ایجوکیشن والی کی کہانی

    زوینا ایجوکیشن والی: ۹ سال کی ننھی سی بچی، جو سرحدوں کو جوڑنے کا خواب دیکھتی ہے

    بھارت کے شہر الہ آباد (پریاگ راج) میں ایک ننھی سی بچی زوینا ایجوکیشن والی رہتی ہے۔
    نہ وہ کوئی وزیراعظم ہے، نہ کوئی مشہور شخصیت۔
    مگر اس کا خواب دنیا کے سب سے بڑے خوابوں میں سے ایک ہے: بھارت اور پاکستان کے بچوں کو دوستی اور محبت کے رشتے میں باندھنا۔

    زوینا روزانہ اپنے پاکستانی بہترین دوست سے فیس بک پر بات کرتی ہے۔
    وہ اسکول کے قصے، کارٹونز، خواب اور ہنسی مذاق ایک دوسرے سے بانٹتے ہیں۔
    زوینا کے لیے سرحدیں دیواریں نہیں، بلکہ دوستی کے پل ہیں۔

    ایک دن اس کی استانی نے ایک کہانی سنائی:

    ایک جنگل میں آگ لگی۔ سارے بڑے جانور ڈر کر بھاگ گئے۔ مگر ایک چھوٹی سی چڑیا دریا سے اپنی ننھی چونچ میں پانی لے کر آگ پر ڈالنے لگی۔ جانور ہنس کر بولے: “اس سے کیا فرق پڑے گا؟” چڑیا نے کہا: “میں اپنی سی کوشش کر رہی ہوں۔”

    زوینا نے فیصلہ کر لیا:
    وہ بھی وہی ننھی چڑیا بنے گی۔

    زوینا کا پیغام بہت سادہ ہے:

    “اگر بڑے نہیں سن رہے تو آؤ ہم بچے بات کریں، دوستی کریں، خواب بانٹیں۔ اگر ہم آغاز کریں گے تو ایک دن بڑے بھی ہماری بات سنیں گے۔”

    زوینا کی دعوت:
    • دوستی کریں سرحد پار۔
    • محبت اور امن کا پیغام پھیلائیں۔
    • بنیں وہ ننھی بوند جو نفرت کی آگ بجھائے۔

    آئیے، زوینا کی آواز بنیں۔
    نفرت کی آگ کو محبت کی بارش سے بجھائیں۔
    ایسی دنیا بنائیں جہاں دوستی سرحدوں سے بڑی ہو۔

    #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird

    ⸻

    Feel free to share this story on your social media platforms to spread Zuyina’s inspiring message.
    🌟 The Story of Zuyina Educationwali: A 8-Year-Old Dreamer Bridging Borders 🌟 In India, lives a remarkable 8 year-old girl named Zuyina Huzaifa EducationWali . She’s not a world leader or a celebrity, but her dream is grander than any headline: to unite the children of India and Pakistan in friendship and peace. Every day, Zuyina chats with her best friend in Pakistan through Facebook. They giggle over cartoons, share stories about school, and exchange dreams about the future. To them, borders are just lines on a map, not barriers to friendship. One day, Zuyina recalled a story her teacher told her: A massive forest fire raged, and while all the animals fled, a tiny bird flew back and forth to the river, carrying drops of water in its beak to douse the flames. When asked why, the bird replied, “I’m doing what I can.” Inspired, Zuyina decided to be that little bird. She believes that if children from both countries start talking, laughing, and dreaming together, they can extinguish the flames of hatred that adults have failed to put out. Zuyina’s Message to the World: “Let’s be the generation that chooses love over hate, friendship over fear. Join me in building bridges of understanding and kindness.” Join Zuyina’s Movement: • 👫 Connect with children across borders. • 🕊️ Share messages of peace and friendship. • 🌍 Be the drop that cools the fire. Let’s amplify Zuyina’s voice and show the world that the future is in safe, compassionate hands. #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird ⸻ Hindi Version: ज़ुयिना एजुकेशनवाली की कहानी 🌟 ज़ुयिना एजुकेशनवाली: 9 साल की एक छोटी बच्ची, जिसकी ख्वाहिश है सरहदों को जोड़ने की 🌟 भारत के प्रयागराज (इलाहाबाद) शहर में रहने वाली ज़ुयिना एजुकेशनवाली सिर्फ़ 9 साल की है। वो कोई प्रधानमंत्री नहीं है, कोई सेलिब्रिटी नहीं है — लेकिन उसका सपना दुनिया के सबसे बड़े सपनों में से एक है: भारत और पाकिस्तान के बच्चों को दोस्ती और मोहब्बत के रिश्ते में जोड़ना। हर दिन ज़ुयिना अपने पाकिस्तान में रहने वाले सबसे अच्छे दोस्त से फ़ेसबुक पर बात करती है। वे एक-दूसरे के स्कूल के किस्से, कार्टून, और सपने शेयर करते हैं। ज़ुयिना के लिए, सरहदें कोई दीवार नहीं हैं — दोस्ती में कोई फासला नहीं होता। एक दिन उसकी टीचर ने उसे एक कहानी सुनाई: एक जंगल में आग लगी थी। बड़े-बड़े जानवर डर के मारे भाग गए, लेकिन एक नन्ही चिड़िया नदी से अपनी छोटी चोंच में पानी भरकर आग बुझाने लगी। सबने हँसकर कहा, “इससे क्या फर्क पड़ेगा?” चिड़िया ने जवाब दिया, “मैं अपनी तरफ़ से पूरी कोशिश कर रही हूं।” इस कहानी से प्रेरित होकर, ज़ुयिना ने तय किया — वह भी वही छोटी चिड़िया बनेगी। उसका सीधा सा संदेश है: “अगर बड़े नहीं सुन रहे, तो चलो हम बच्चे दोस्ती करें, बातें करें, एक-दूसरे के सपनों का हिस्सा बनें। अगर हम शुरू करेंगे, तो एक दिन बड़े भी बदलेंगे।” ज़ुयिना का निमंत्रण: • 👫 दोस्ती करें सरहद पार। • 🕊️ शांति फैलाएं अपने संदेशों से। • 🌍 बनें वह छोटा बूंद जो नफ़रत की आग बुझाए। आइए, ज़ुयिना की आवाज़ बनें और एक ऐसी दुनिया बनाएं, जहाँ प्यार और दोस्ती सरहदों से बड़े हों। #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird ⸻ اردو ورژن: زوینا ایجوکیشن والی کی کہانی 🌟 زوینا ایجوکیشن والی: ۹ سال کی ننھی سی بچی، جو سرحدوں کو جوڑنے کا خواب دیکھتی ہے 🌟 بھارت کے شہر الہ آباد (پریاگ راج) میں ایک ننھی سی بچی زوینا ایجوکیشن والی رہتی ہے۔ نہ وہ کوئی وزیراعظم ہے، نہ کوئی مشہور شخصیت۔ مگر اس کا خواب دنیا کے سب سے بڑے خوابوں میں سے ایک ہے: بھارت اور پاکستان کے بچوں کو دوستی اور محبت کے رشتے میں باندھنا۔ زوینا روزانہ اپنے پاکستانی بہترین دوست سے فیس بک پر بات کرتی ہے۔ وہ اسکول کے قصے، کارٹونز، خواب اور ہنسی مذاق ایک دوسرے سے بانٹتے ہیں۔ زوینا کے لیے سرحدیں دیواریں نہیں، بلکہ دوستی کے پل ہیں۔ ایک دن اس کی استانی نے ایک کہانی سنائی: ایک جنگل میں آگ لگی۔ سارے بڑے جانور ڈر کر بھاگ گئے۔ مگر ایک چھوٹی سی چڑیا دریا سے اپنی ننھی چونچ میں پانی لے کر آگ پر ڈالنے لگی۔ جانور ہنس کر بولے: “اس سے کیا فرق پڑے گا؟” چڑیا نے کہا: “میں اپنی سی کوشش کر رہی ہوں۔” زوینا نے فیصلہ کر لیا: وہ بھی وہی ننھی چڑیا بنے گی۔ زوینا کا پیغام بہت سادہ ہے: “اگر بڑے نہیں سن رہے تو آؤ ہم بچے بات کریں، دوستی کریں، خواب بانٹیں۔ اگر ہم آغاز کریں گے تو ایک دن بڑے بھی ہماری بات سنیں گے۔” زوینا کی دعوت: • 👫 دوستی کریں سرحد پار۔ • 🕊️ محبت اور امن کا پیغام پھیلائیں۔ • 🌍 بنیں وہ ننھی بوند جو نفرت کی آگ بجھائے۔ آئیے، زوینا کی آواز بنیں۔ نفرت کی آگ کو محبت کی بارش سے بجھائیں۔ ایسی دنیا بنائیں جہاں دوستی سرحدوں سے بڑی ہو۔ #ZuyinasDream #ChildrenForPeace #IndiaPakistanFriendship #BeTheBird ⸻ Feel free to share this story on your social media platforms to spread Zuyina’s inspiring message.
    0 تبصرے 0 شیئرز 973 ویوز
  • ### **The Crystal Desert**

    In the heart of a vast and forgotten desert, there were whispers of a hidden valley where the sands were made of crystal, glowing under the moonlight like a sea of stars. Many explorers had searched for it, but the desert swallowed them whole, leaving behind only legends of its existence.

    A young traveler named Rayyan, guided by a map carved into an ancient stone, ventured deep into the shifting dunes. He braved sandstorms, crossed endless dry plains, and followed the strange hum that filled the air at night. One evening, as the full moon rose, the sand beneath his feet shimmered, revealing a hidden path. Following it, he found himself standing at the edge of **The Crystal Desert**—a breathtaking landscape of glowing dunes, sparkling rock formations, and floating orbs of light that moved like spirits.

    The valley was home to a lost civilization that had learned the secrets of the desert. They welcomed Rayyan and taught him how the sands held ancient memories, how time flowed differently in this sacred place, and how sound and energy shaped the world around them.

    Understanding the importance of this hidden knowledge, Rayyan promised never to reveal the valley’s location. He left with wisdom, not treasure, knowing that some mysteries were meant to be protected. **The Crystal Desert** remained a legend, hidden beneath the endless sands, waiting for those who could truly listen to its whispers.

    ---

    ### **چمکتا صحرا**

    وسیع اور بھولے بسرے صحرا کے بیچ، ایک چھپی ہوئی وادی کے قصے سننے کو ملتے تھے، جہاں ریت چمکدار کرسٹل سے بنی ہوئی تھی، جو چاندنی میں ستاروں کی مانند جگمگاتی تھی۔ کئی مہم جو اس کی تلاش میں نکلے، مگر صحرا نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور صرف داستانیں ہی باقی رہ گئیں۔

    نوجوان مسافر ریان، ایک قدیم پتھر پر نقشے کے سہارے، ان بدلتے ریت کے میدانوں میں نکل کھڑا ہوا۔ اس نے طوفانی ہواؤں کا سامنا کیا، بے انتہا خشک زمینوں کو عبور کیا، اور رات کے وقت گونجتی پراسرار آوازوں کا پیچھا کیا۔ ایک رات، جب چودھویں کا چاند طلوع ہوا، تو اس کے قدموں کے نیچے کی ریت چمکنے لگی، اور ایک چھپا ہوا راستہ ظاہر ہو گیا۔ اس پر چلتے ہوئے، وہ **چمکتے صحرا** کے کنارے پہنچا—ایک دل موہ لینے والی وادی، جہاں چمکتی ہوئی ریت، چمکدار پتھروں کی حیرت انگیز بناوٹ، اور روشنی کے معلق گولے ایسے لگ رہے تھے جیسے روحیں ہوا میں تیر رہی ہوں۔

    یہ وادی ایک کھوئی ہوئی تہذیب کا مسکن تھی، جو صدیوں سے صحرا کے رازوں کی نگہبان تھی۔ انہوں نے ریان کو خوش آمدید کہا اور اسے وہ راز سکھائے جو عام دنیا میں کسی کو معلوم نہ تھے—کیسے یہ ریت ماضی کی یادیں محفوظ رکھتی ہے، کیسے وقت اس جگہ میں عام دنیاؤں سے مختلف بہتا ہے، اور کیسے آواز اور توانائی ہمارے اردگرد کی حقیقت کو تشکیل دیتی ہیں۔

    یہ جانتے ہوئے کہ ایسے رازوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، ریان نے اس وادی کا پتہ کبھی ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ وہ خزانے کے بجائے علم لے کر لوٹا، یہ جانتے ہوئے کہ کچھ راز ہمیشہ پوشیدہ رہنے چاہئیں۔ **چمکتا صحرا** ایک داستان بن گیا، جو ان لوگوں کے لیے زندہ تھا جو واقعی اس کے بھیدوں کو سمجھنے کی جستجو رکھتے تھے۔

    Student: Level One.Five
    School: Rehan School
    Story Post Number: 299
    Roll Number: 157
    ### **The Crystal Desert** In the heart of a vast and forgotten desert, there were whispers of a hidden valley where the sands were made of crystal, glowing under the moonlight like a sea of stars. Many explorers had searched for it, but the desert swallowed them whole, leaving behind only legends of its existence. A young traveler named Rayyan, guided by a map carved into an ancient stone, ventured deep into the shifting dunes. He braved sandstorms, crossed endless dry plains, and followed the strange hum that filled the air at night. One evening, as the full moon rose, the sand beneath his feet shimmered, revealing a hidden path. Following it, he found himself standing at the edge of **The Crystal Desert**—a breathtaking landscape of glowing dunes, sparkling rock formations, and floating orbs of light that moved like spirits. The valley was home to a lost civilization that had learned the secrets of the desert. They welcomed Rayyan and taught him how the sands held ancient memories, how time flowed differently in this sacred place, and how sound and energy shaped the world around them. Understanding the importance of this hidden knowledge, Rayyan promised never to reveal the valley’s location. He left with wisdom, not treasure, knowing that some mysteries were meant to be protected. **The Crystal Desert** remained a legend, hidden beneath the endless sands, waiting for those who could truly listen to its whispers. --- ### **چمکتا صحرا** وسیع اور بھولے بسرے صحرا کے بیچ، ایک چھپی ہوئی وادی کے قصے سننے کو ملتے تھے، جہاں ریت چمکدار کرسٹل سے بنی ہوئی تھی، جو چاندنی میں ستاروں کی مانند جگمگاتی تھی۔ کئی مہم جو اس کی تلاش میں نکلے، مگر صحرا نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور صرف داستانیں ہی باقی رہ گئیں۔ نوجوان مسافر ریان، ایک قدیم پتھر پر نقشے کے سہارے، ان بدلتے ریت کے میدانوں میں نکل کھڑا ہوا۔ اس نے طوفانی ہواؤں کا سامنا کیا، بے انتہا خشک زمینوں کو عبور کیا، اور رات کے وقت گونجتی پراسرار آوازوں کا پیچھا کیا۔ ایک رات، جب چودھویں کا چاند طلوع ہوا، تو اس کے قدموں کے نیچے کی ریت چمکنے لگی، اور ایک چھپا ہوا راستہ ظاہر ہو گیا۔ اس پر چلتے ہوئے، وہ **چمکتے صحرا** کے کنارے پہنچا—ایک دل موہ لینے والی وادی، جہاں چمکتی ہوئی ریت، چمکدار پتھروں کی حیرت انگیز بناوٹ، اور روشنی کے معلق گولے ایسے لگ رہے تھے جیسے روحیں ہوا میں تیر رہی ہوں۔ یہ وادی ایک کھوئی ہوئی تہذیب کا مسکن تھی، جو صدیوں سے صحرا کے رازوں کی نگہبان تھی۔ انہوں نے ریان کو خوش آمدید کہا اور اسے وہ راز سکھائے جو عام دنیا میں کسی کو معلوم نہ تھے—کیسے یہ ریت ماضی کی یادیں محفوظ رکھتی ہے، کیسے وقت اس جگہ میں عام دنیاؤں سے مختلف بہتا ہے، اور کیسے آواز اور توانائی ہمارے اردگرد کی حقیقت کو تشکیل دیتی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ایسے رازوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، ریان نے اس وادی کا پتہ کبھی ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ وہ خزانے کے بجائے علم لے کر لوٹا، یہ جانتے ہوئے کہ کچھ راز ہمیشہ پوشیدہ رہنے چاہئیں۔ **چمکتا صحرا** ایک داستان بن گیا، جو ان لوگوں کے لیے زندہ تھا جو واقعی اس کے بھیدوں کو سمجھنے کی جستجو رکھتے تھے۔ Student: Level One.Five School: Rehan School Story Post Number: 299 Roll Number: 157
    0 تبصرے 0 شیئرز 126 ویوز