• ایک دفعہ، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک لڑکے کا نام علی تھا۔ علی کے بڑے خواب تھے کہ وہ ایک کامیاب کاروباری بن جائیں، لیکن اُنہیں نہیں پتا تھا کہ وہ کیسے شروع کریں یا اسے کیسے کامیابی حاصل کریں۔

    ایک دن، علی کو احمد نامی ایک آدمی سے ملنے کا موقع ملا، جو کہ گاؤں میں ایک کامیاب کاروباری تاجر تھا۔ احمد نے علی کی عزم و امید کو دیکھا اور اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

    احمد نے علی کے لئے ایک لوگوں کو ملانے والا بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ گاؤں میں مختلف لوگوں سے ملا دیا جو علی کے کاروبار کے لئے ضروری اشیاء بنا سکتے تھے۔ مثلاً، انہوں نے علی کو ایک بڑے مول کے لئے شیشے کی الماریاں بنانے والے کارپینٹر سے ملا دیا اور ایک دوزخانے والی عورت سے منسلک کیا جو پردے بنانے کے لئے ماہر تھی۔

    احمد کی رہنمائی سے، علی کو ایک چھوٹا سا دکان کھولنے کا موقع مل گیا، جہاں وہ ہاتھ سے بنائی گئی چیزوں اور کپڑوں کی فروخت کرتا تھا۔ دکان بہت پسند کی جاتی تھی، اور علی کا کاروبار بڑھنے لگا۔ وہ گاؤں کے دیگر لوگوں کو بھی نوکری دینے لگا، اور سب نے مل کر علی کے کاروبار کو کامیاب بنایا۔

    جیسے کہ کاروبار بڑھتا گیا، علی اور اس کی ٹیم نے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے شروع کئے۔ وہ پیسے گاؤں کی خدمت میں لگانے لگے، دوسروں کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد کرنے لگے۔ وہ مقامی اسک و ، کمیونٹی سینٹر کی تعمیر میں مدد کرنے لگے، اور حتی کہ وہ بچوں کے لئے ایک چھوٹے سے سکالرشپ پروگرام بھی شروع کر دیا۔

    آخر میں، علی کو یہ احساس ہوا کہ وہ دوسروں کی مدد کے بغیر اپنے خوابوں کو حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ احمد اور ان تمام لوگوں کا شکرگزار تھا جنہوں نے اسے اس کاروبار میں کامیاب بنایا۔ سب مل کر ایک خاص چیز بنا دیتے ہیں جس نے لوگوں کے لئے فائدہ پہنچایا تھا۔

    علی اور احمد کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کی مدد سے، آپ اپنے خوابوں اور مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک لوگوں کو ملانے والا بننا اہم ہے، جو لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف جانے کے لئے قابل بناتا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ہم بڑی باتیں کر سکتے ہیں اور دنیا میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
    ایک دفعہ، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک لڑکے کا نام علی تھا۔ علی کے بڑے خواب تھے کہ وہ ایک کامیاب کاروباری بن جائیں، لیکن اُنہیں نہیں پتا تھا کہ وہ کیسے شروع کریں یا اسے کیسے کامیابی حاصل کریں۔ ایک دن، علی کو احمد نامی ایک آدمی سے ملنے کا موقع ملا، جو کہ گاؤں میں ایک کامیاب کاروباری تاجر تھا۔ احمد نے علی کی عزم و امید کو دیکھا اور اسے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ احمد نے علی کے لئے ایک لوگوں کو ملانے والا بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ گاؤں میں مختلف لوگوں سے ملا دیا جو علی کے کاروبار کے لئے ضروری اشیاء بنا سکتے تھے۔ مثلاً، انہوں نے علی کو ایک بڑے مول کے لئے شیشے کی الماریاں بنانے والے کارپینٹر سے ملا دیا اور ایک دوزخانے والی عورت سے منسلک کیا جو پردے بنانے کے لئے ماہر تھی۔ احمد کی رہنمائی سے، علی کو ایک چھوٹا سا دکان کھولنے کا موقع مل گیا، جہاں وہ ہاتھ سے بنائی گئی چیزوں اور کپڑوں کی فروخت کرتا تھا۔ دکان بہت پسند کی جاتی تھی، اور علی کا کاروبار بڑھنے لگا۔ وہ گاؤں کے دیگر لوگوں کو بھی نوکری دینے لگا، اور سب نے مل کر علی کے کاروبار کو کامیاب بنایا۔ جیسے کہ کاروبار بڑھتا گیا، علی اور اس کی ٹیم نے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے شروع کئے۔ وہ پیسے گاؤں کی خدمت میں لگانے لگے، دوسروں کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد کرنے لگے۔ وہ مقامی اسک و ، کمیونٹی سینٹر کی تعمیر میں مدد کرنے لگے، اور حتی کہ وہ بچوں کے لئے ایک چھوٹے سے سکالرشپ پروگرام بھی شروع کر دیا۔ آخر میں، علی کو یہ احساس ہوا کہ وہ دوسروں کی مدد کے بغیر اپنے خوابوں کو حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ احمد اور ان تمام لوگوں کا شکرگزار تھا جنہوں نے اسے اس کاروبار میں کامیاب بنایا۔ سب مل کر ایک خاص چیز بنا دیتے ہیں جس نے لوگوں کے لئے فائدہ پہنچایا تھا۔ علی اور احمد کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کی مدد سے، آپ اپنے خوابوں اور مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک لوگوں کو ملانے والا بننا اہم ہے، جو لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف جانے کے لئے قابل بناتا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ہم بڑی باتیں کر سکتے ہیں اور دنیا میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 184 Views
  • [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?]

    آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔

    ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔

    ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔

    ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

    #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?] آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔ ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔ ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 892 Views
  • [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?]

    آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔

    ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔

    ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔

    ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

    #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    [Facebook Post Via #Chatgpt - What does it say about you ?] آج میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے اپنی زندگی کو عالمی تعلقات کو بہتر بنانے اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ معروف کاروباری، نویدرانہ اور خیراتی، ریحان اللہ والہ صاحب۔ ریحان صاحب نے پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سروس پروائیڈر بنایا اور متعدد ٹیکنالوجی کے شرکتوں کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل تفرد یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ثقافتی، معاشی اور جغرافیائی حدود کے عبور میں جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی پہل "ریحان اسکول"، جو موبائل فونوں کے ذریعہ مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، نے ٹیکنالوجی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ معاشرتوں کو اٹھایا جا سکے اور تعلیم کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ ان کا "100 ڈالر انٹرن" پروجیکٹ گلوبلی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کو حاصل کرنے میں مددگار ہے، جبکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان کی "آمن انسٹی ٹیوٹ" نامی تخلیق نے دنیا بھر میں تفہم پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک مختلف ملک کے شخص سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ریحان صاحب کا مشن صرف کاروبار سے آگے نکل کر ہے؛ یہ ایک منسلک، شامل اور ترقی یافتہ دنیا بنانے کے بارے میں ہے۔ ان کی ٹیکنالوجی اور مذاکرات کے ذریعے فردی اختیار کی جانب کوشاں رہنے کی خدمت حقیقت میں پرزور ہے۔ ریحان اللہ والہ صاحب، آپ کے قیمتی خدمات کے لئے شکریہ۔ آپ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ نواں اور سماجی ذمہ داری کی جوڑی کیسے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ #رہنمائی #نویدرانہ #تعلیم #عالمی_تعلقات #ریحان_اللہ_والہ
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 886 Views
  • قرآنی حکمت

    "یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنے اندر کی حالت کو تبدیل نہ کریں۔" - قرآن، سورۃ الرعد (13:11)

    یہ طاقتور آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شخصی ترقی اور مثبت تبدیلی اپنے اپنے مجہود کو شروع کرنے سے ہوتی ہے۔ اللہ کی مدد ہماری طرف ہے، مگر پہلا قدم اٹھانا ہم پر منحصر ہوتا ہے۔

    ہمیں خود کو بہترین نسخے میں بننے کی کوشش کرنی چاہئے، اللہ کی راہنمائی اور برکتوں کی تلاش کرتے ہیں۔ #قرآن #خودی_ترقی #ایمان
    📖 قرآنی حکمت 🤲 "یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنے اندر کی حالت کو تبدیل نہ کریں۔" - قرآن، سورۃ الرعد (13:11) یہ طاقتور آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شخصی ترقی اور مثبت تبدیلی اپنے اپنے مجہود کو شروع کرنے سے ہوتی ہے۔ اللہ کی مدد ہماری طرف ہے، مگر پہلا قدم اٹھانا ہم پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمیں خود کو بہترین نسخے میں بننے کی کوشش کرنی چاہئے، اللہ کی راہنمائی اور برکتوں کی تلاش کرتے ہیں۔ 🙏✨ #قرآن #خودی_ترقی #ایمان
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 446 Views
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 868 Views
  • ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ

    آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے:

    #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی

    جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

    #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی

    یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔

    #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ

    جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

    #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد

    اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    #### 5. جدت اور کاروباریت

    مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔

    ### ریحان اللہ والا کے بارے میں

    ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔

    ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

    ### نتیجہ

    میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    ### 10 فیصد پاکستانی آبادی کے ملک چھوڑنے کے فوائد: ترقی اور بہتری کی ایک نئی راہ آج کے جڑے ہوئے دنیا میں، ہجرت کا اثر دونوں ملکوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی 10 فیصد آبادی، تقریباً 2.4 کروڑ لوگ، اگلے ایک یا دو سالوں میں ملک چھوڑ دیں تو اس کے فوائد بہت زبردست ہوں گے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جن سے یہ ہجرت پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: #### 1. عالمی مہارتوں کا حصول اور علم کی منتقلی جب یہ 2.4 کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں مختلف ممالک میں بس جائیں گے، تو وہ نئی مہارتیں اور علم حاصل کریں گے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ اپنے تجربات اور علم اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ 2.4 کروڑ اساتذہ کا نیٹ ورک بن جائے گا جو بہترین عالمی تجربات کو پاکستان میں لا سکتے ہیں۔ #### 2. فضائی سفر کے ذریعے اقتصادی ترقی یہ بڑے پیمانے پر ہجرت ایئر لائنز کے راستوں اور خدمات کے توسیع کا باعث بنے گی، جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ نئے فضائی راستے پاکستان کو دنیا کے ساتھ زیادہ منسلک کریں گے، جس سے بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ملک زیادہ پرکشش بنے گا۔ #### 3. پاکستانی کھانوں کا عالمی فروغ جب پاکستانی باہر کے ممالک میں بسیں گے، تو بہت سے لوگ ریسٹورنٹ بزنس شروع کریں گے، اور دنیا کو پاکستانی کھانوں کے مزیدار ذائقوں سے روشناس کرائیں گے۔ اس ثقافتی تبادلے سے پاکستانی مصالحوں اور اجزاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ #### 4. ترسیلات زر اور اقتصادی مدد اگر ہر ایک شخص ماہانہ $1,000 بھیجے، جو کہ سالانہ $12,000 بنتا ہے، تو کل ترسیلات زر سالانہ $288 ارب ڈالر بن جائیں گی۔ یہ مالیاتی منتقلیاں خاندانوں کی مدد کر سکتی ہیں، تعلیم، صحت، اور چھوٹے کاروباروں کو فنڈ فراہم کر سکتی ہیں، اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے غربت میں کمی اور زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ #### 5. جدت اور کاروباریت مختلف کاروباری ماحول کا تجربہ پاکستانی مہاجرین کو کاروباری بننے کی ترغیب دے سکتا ہے، چاہے وہ بیرون ملک ہو یا پاکستان واپسی پر۔ یہ کاروباری نئی خیالات، ٹیکنالوجیز، اور کاروباری ماڈلز کو پاکستان میں متعارف کروا سکتے ہیں، جس سے جدت اور کاروباریت کی ثقافت فروغ پاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں تنوع آتا ہے۔ ### ریحان اللہ والا کے بارے میں ریحان اللہ والا ایک معروف پاکستانی کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن ہیں، جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کی دسترس کو عام کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں کراچی میں پیدا ہونے والے، انہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کئی منصوبوں میں شامل رہے، جن میں سپر ٹیکنالوجیز، انکارپوریٹڈ شامل ہے، جو جدید ٹیلی کمیونیکیشن حل متعارف کراتی ہے جیسے کہ DIDX اور ورچوئل فون لائن۔ ریحان کے اقدامات، جیسے کہ ون لیپ ٹاپ پر پاکستانی (OLPP)، کا مقصد پاکستانیوں کو سستے لیپ ٹاپ فراہم کرنا ہے، تاکہ کاروباریت کو فروغ ملے اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریحان اسکول سسٹم بھی قائم کیا، جو موبائل فونز کے ذریعے ایک ارب لوگوں کو بنیادی خواندگی سکھانے پر مرکوز ہے۔ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے، ریحان کا مقصد لوگوں کو علم اور کاروباری مہارتوں سے بااختیار بنا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ### نتیجہ میرا ویژن ہے کہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کے بیرون ملک جانے سے قومی ترقی کا ایک نیا راستہ ہموار ہوگا۔ جلاوطن پاکستانیوں کی مہارتوں، علم، اور اقتصادی تعاون کو استعمال کر کے، پاکستان مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کا عالمی سطح پر فروغ، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ، اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پاکستان کو ایک زیادہ خوشحال، جدید، اور عالمی طور پر منسلک ملک بنا سکتی ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 867 Views
  • The power of prayer !

    #### English:
    Prayer has the power to achieve anything, even transforming the hearts and minds of others. When we stand firm and strong in our actions, others are more likely to yield.

    Our unwavering faith and consistent efforts not only inspire those around us but also create an environment where positive change becomes inevitable. With determination and a clear purpose, we can overcome any obstacle and influence the world in profound ways.

    By combining the strength of our prayers with decisive actions, we build a foundation of trust and respect. This harmonious blend of spirituality and practicality is what ultimately leads to true success and fulfillment.

    #### Urdu:
    دعا میں وہ طاقت ہے جو کچھ بھی حاصل کر سکتی ہے، یہاں تک کہ دوسروں کے دلوں اور ذہنوں کو بھی بدل سکتی ہے۔ جب ہم اپنے عمل میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتے ہیں تو دوسرے لوگ مان جاتے ہیں۔

    ہماری غیر متزلزل ایمان اور مستقل کوششیں نہ صرف ہمارے اردگرد کے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جہاں مثبت تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ عزم اور واضح مقصد کے ساتھ، ہم کسی بھی رکاوٹ پر قابو پا سکتے ہیں اور دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    اپنی دعاؤں کی قوت کو فیصلہ کن عمل کے ساتھ ملا کر، ہم اعتماد اور احترام کی بنیاد بناتے ہیں۔ روحانیت اور عملی طرز عمل کا یہ ہم آہنگ امتزاج ہی بالآخر حقیقی کامیابی اور تکمیل کی طرف لے جاتا ہے۔
    The power of prayer ! #### English: Prayer has the power to achieve anything, even transforming the hearts and minds of others. When we stand firm and strong in our actions, others are more likely to yield. Our unwavering faith and consistent efforts not only inspire those around us but also create an environment where positive change becomes inevitable. With determination and a clear purpose, we can overcome any obstacle and influence the world in profound ways. By combining the strength of our prayers with decisive actions, we build a foundation of trust and respect. This harmonious blend of spirituality and practicality is what ultimately leads to true success and fulfillment. #### Urdu: دعا میں وہ طاقت ہے جو کچھ بھی حاصل کر سکتی ہے، یہاں تک کہ دوسروں کے دلوں اور ذہنوں کو بھی بدل سکتی ہے۔ جب ہم اپنے عمل میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتے ہیں تو دوسرے لوگ مان جاتے ہیں۔ ہماری غیر متزلزل ایمان اور مستقل کوششیں نہ صرف ہمارے اردگرد کے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جہاں مثبت تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ عزم اور واضح مقصد کے ساتھ، ہم کسی بھی رکاوٹ پر قابو پا سکتے ہیں اور دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اپنی دعاؤں کی قوت کو فیصلہ کن عمل کے ساتھ ملا کر، ہم اعتماد اور احترام کی بنیاد بناتے ہیں۔ روحانیت اور عملی طرز عمل کا یہ ہم آہنگ امتزاج ہی بالآخر حقیقی کامیابی اور تکمیل کی طرف لے جاتا ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 200 Views
  • ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات

    آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔

    #### قرآن میں بولنے کی اہمیت

    قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں:

    الرَّحْمَـٰنُ
    عَلَّمَ الْقُرْآنَ
    خَلَقَ الْإِنسَانَ
    عَلَّمَهُ الْبَيَانَ

    ترجمہ:

    رحمٰن
    جس نے قرآن کی تعلیم دی
    انسان کو پیدا کیا
    اسے بولنا سکھایا

    یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔

    #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا

    اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔

    **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

    **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔

    **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔

    #### بولنے کی طاقت کا اثر

    ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔

    #### نتیجہ

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔

    میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔ #### قرآن میں بولنے کی اہمیت قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں: الرَّحْمَـٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ترجمہ: رحمٰن جس نے قرآن کی تعلیم دی انسان کو پیدا کیا اسے بولنا سکھایا یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔ #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔ **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔ **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔ #### بولنے کی طاقت کا اثر ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔ #### نتیجہ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔ میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 396 Views
  • گولی مار جیسے نام تبدیل کرنے کی اہمیت
    تحریر: ریحان اللہ والا

    کراچی جیسے شہر میں جہاں ترقی، روشن خیالی، اور امن کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں کچھ علاقوں کے نام ایسے ہیں جو نہ صرف عجیب معلوم ہوتے ہیں بلکہ ایک منفی تاثر بھی چھوڑتے ہیں۔ “گولی مار” ایک ایسا ہی نام ہے، جو کراچی کے ایک قدیم علاقے کی شناخت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نام ہماری اجتماعی سوچ، ہماری ثقافت، اور ہمارے شہر کے مثبت پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں؟

    “گولی مار” کا مطلب ہی منفی ہے—یہ کسی کو گولی مارنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب کوئی اس علاقے کا نام سنتا ہے، تو ان کے ذہن میں فوری طور پر جرائم، خطرہ، اور خوف کی تصویر بنتی ہے۔ یہ نام نہ صرف یہاں کے رہائشیوں کے لیے باعثِ شرمندگی بن سکتا ہے بلکہ ہمارے شہر کی بین الاقوامی شناخت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

    مثبت تبدیلی کی ضرورت

    دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں، علاقے کے نام وہاں کی تاریخ، ثقافت، یا قومی ہیروز کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم بھی اپنے علاقوں کے نام ایسے رکھ سکتے ہیں جو ہماری قومی شناخت اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں۔ مثال کے طور پر، “گولی مار” جیسے منفی نام کو تبدیل کر کے کسی قومی ہیرو کے نام پر رکھا جا سکتا ہے، جیسے “عبدالستار ایدھی ٹاؤن”، “فاطمہ جناح نگر”، یا “قائدِاعظم سٹیٹ”۔

    اس کے علاوہ، ہم ان ناموں کو کسی تجارتی اسپانسر کے نام پر بھی رکھ سکتے ہیں، جو نہ صرف ایک جدید تصور ہے بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ مثلاً، “گولی مار” کا نام “پیپسی کولا ٹاؤن”، “کوکا کولا ٹاؤن”، یا “پاک کولا ٹاؤن” رکھنا نہ صرف بہتر ہوگا بلکہ اس سے کاروباری برادری کو بھی شہر کی ترقی میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

    دیگر علاقوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز

    گولی مار کے علاوہ، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی کئی علاقے ہیں جن کے نام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ان علاقوں کے نام مثبت اور جدید انداز میں رکھ کر شہریوں کے لیے فخر کا باعث بنا سکتے ہیں۔ مثلاً:
    • “کھڈا مارکیٹ” کو “روشنی مارکیٹ” یا “امن پلازہ”
    • “بندر روڈ” کو “جناح ایونیو”
    • “جھگی محلہ” کو “خوشحال ٹاؤن”

    نام تبدیل کرنے کے فوائد
    • شہری تاثر کی بہتری: اچھے نام شہریوں کو فخر کا احساس دلاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر شہر کی مثبت شناخت بناتے ہیں۔
    • معاشی فوائد: اگر نام کسی اسپانسر کے نام پر رکھا جائے تو اس سے مالی وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو شہری ترقی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
    • ثقافتی تحفظ: قومی ہیروز کے نام پر علاقے رکھنا ہماری تاریخ اور ورثے کی حفاظت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    اختتامیہ

    وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے شہروں کو نہ صرف ظاہری طور پر خوبصورت بنائیں بلکہ ان کی شناخت کو بھی بہتر کریں۔ علاقے کے نام صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہمارے خیالات، ہماری تاریخ، اور ہمارے خوابوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ “گولی مار” جیسے نام تبدیل کر کے ہم ایک مثبت قدم اٹھا سکتے ہیں، جو نہ صرف یہاں کے رہائشیوں بلکہ پورے شہر کے لیے خوش آئند ہوگا۔

    کراچی کو امن، ترقی، اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے ہمیں اپنے علاقوں کی شناخت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ آج ہی اس پر سوچئے اور عمل کیجیے!
    گولی مار جیسے نام تبدیل کرنے کی اہمیت تحریر: ریحان اللہ والا کراچی جیسے شہر میں جہاں ترقی، روشن خیالی، اور امن کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں کچھ علاقوں کے نام ایسے ہیں جو نہ صرف عجیب معلوم ہوتے ہیں بلکہ ایک منفی تاثر بھی چھوڑتے ہیں۔ “گولی مار” ایک ایسا ہی نام ہے، جو کراچی کے ایک قدیم علاقے کی شناخت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نام ہماری اجتماعی سوچ، ہماری ثقافت، اور ہمارے شہر کے مثبت پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں؟ “گولی مار” کا مطلب ہی منفی ہے—یہ کسی کو گولی مارنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب کوئی اس علاقے کا نام سنتا ہے، تو ان کے ذہن میں فوری طور پر جرائم، خطرہ، اور خوف کی تصویر بنتی ہے۔ یہ نام نہ صرف یہاں کے رہائشیوں کے لیے باعثِ شرمندگی بن سکتا ہے بلکہ ہمارے شہر کی بین الاقوامی شناخت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ مثبت تبدیلی کی ضرورت دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں، علاقے کے نام وہاں کی تاریخ، ثقافت، یا قومی ہیروز کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم بھی اپنے علاقوں کے نام ایسے رکھ سکتے ہیں جو ہماری قومی شناخت اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں۔ مثال کے طور پر، “گولی مار” جیسے منفی نام کو تبدیل کر کے کسی قومی ہیرو کے نام پر رکھا جا سکتا ہے، جیسے “عبدالستار ایدھی ٹاؤن”، “فاطمہ جناح نگر”، یا “قائدِاعظم سٹیٹ”۔ اس کے علاوہ، ہم ان ناموں کو کسی تجارتی اسپانسر کے نام پر بھی رکھ سکتے ہیں، جو نہ صرف ایک جدید تصور ہے بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ مثلاً، “گولی مار” کا نام “پیپسی کولا ٹاؤن”، “کوکا کولا ٹاؤن”، یا “پاک کولا ٹاؤن” رکھنا نہ صرف بہتر ہوگا بلکہ اس سے کاروباری برادری کو بھی شہر کی ترقی میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔ دیگر علاقوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز گولی مار کے علاوہ، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی کئی علاقے ہیں جن کے نام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ان علاقوں کے نام مثبت اور جدید انداز میں رکھ کر شہریوں کے لیے فخر کا باعث بنا سکتے ہیں۔ مثلاً: • “کھڈا مارکیٹ” کو “روشنی مارکیٹ” یا “امن پلازہ” • “بندر روڈ” کو “جناح ایونیو” • “جھگی محلہ” کو “خوشحال ٹاؤن” نام تبدیل کرنے کے فوائد • شہری تاثر کی بہتری: اچھے نام شہریوں کو فخر کا احساس دلاتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر شہر کی مثبت شناخت بناتے ہیں۔ • معاشی فوائد: اگر نام کسی اسپانسر کے نام پر رکھا جائے تو اس سے مالی وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو شہری ترقی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ • ثقافتی تحفظ: قومی ہیروز کے نام پر علاقے رکھنا ہماری تاریخ اور ورثے کی حفاظت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اختتامیہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے شہروں کو نہ صرف ظاہری طور پر خوبصورت بنائیں بلکہ ان کی شناخت کو بھی بہتر کریں۔ علاقے کے نام صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہمارے خیالات، ہماری تاریخ، اور ہمارے خوابوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ “گولی مار” جیسے نام تبدیل کر کے ہم ایک مثبت قدم اٹھا سکتے ہیں، جو نہ صرف یہاں کے رہائشیوں بلکہ پورے شہر کے لیے خوش آئند ہوگا۔ کراچی کو امن، ترقی، اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے ہمیں اپنے علاقوں کی شناخت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ آج ہی اس پر سوچئے اور عمل کیجیے!
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 91 Views
  • کیا آپ بہتر پاکستان چاہتے ہیں؟ مجھے روز 2 منٹ دیں، صرف 50 دن کے لیے!

    پاکستان میں لاکھوں لوگ دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن اکثر یہ نہیں جانتے کہ کیسے کریں۔ اگر آپ واقعی لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو بس یہ کریں:

    کسی بھی نماز کے بعد فوراً اپنا فون اٹھائیں۔
    صرف 2 منٹ کی ویڈیو بنائیں (اس سے زیادہ نہیں!).
    یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور لنکڈ ان پر اپلوڈ کر دیں۔

    موضوع کچھ بھی ہو، بس ویڈیو بنائیں!
    زیادہ نہ سوچیں، بس شروع کریں!
    پہلے 50 دن کوالٹی کی فکر نہ کریں، صرف تسلسل رکھیں۔
    پہلے 50 دن تک کمنٹس نہ پڑھیں۔

    یہ آپ کی ٹریننگ کا وقت ہے—ویڈیو بنانے کا ابتدائی اسکول! آپ اپنی جھجک ختم کریں گے، اعتماد حاصل کریں گے، اور خود بخود بہتر ہوتے جائیں گے۔
    50 دن بعد کمنٹس پڑھیں، اپنی پسند کا موضوع چنیں، اور اسی پر مزید ویڈیوز بنائیں۔

    پاکستان کو بہتر بنانا اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بس آج سے شروع کریں!

    اس پوسٹ کو شیئر کریں اور ایک دوست کو ٹیگ کریں جو ویڈیو بنانا شروع کرے!

    #پاکستان #مددکریں #ابھیشروعکریں #ویڈیوبنائیں #ریحاناللہوالا #ڈیجیٹلپاکستان #یوٹیوبپاکستان #ٹک_ٹاکپاکستان #سوشل_امپیکٹ #مثبت_تبدیلی
    🇵🇰 کیا آپ بہتر پاکستان چاہتے ہیں؟ مجھے روز 2 منٹ دیں، صرف 50 دن کے لیے! 🎥✨ پاکستان میں لاکھوں لوگ دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن اکثر یہ نہیں جانتے کہ کیسے کریں۔ اگر آپ واقعی لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو بس یہ کریں: 📱 کسی بھی نماز کے بعد فوراً اپنا فون اٹھائیں۔ 🎥 صرف 2 منٹ کی ویڈیو بنائیں (اس سے زیادہ نہیں!). 🚀 یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور لنکڈ ان پر اپلوڈ کر دیں۔ ✅ موضوع کچھ بھی ہو، بس ویڈیو بنائیں! ❌ زیادہ نہ سوچیں، بس شروع کریں! ⏳ پہلے 50 دن کوالٹی کی فکر نہ کریں، صرف تسلسل رکھیں۔ 🗣️ پہلے 50 دن تک کمنٹس نہ پڑھیں۔ یہ آپ کی ٹریننگ کا وقت ہے—ویڈیو بنانے کا ابتدائی اسکول! آپ اپنی جھجک ختم کریں گے، اعتماد حاصل کریں گے، اور خود بخود بہتر ہوتے جائیں گے۔ 50 دن بعد کمنٹس پڑھیں، اپنی پسند کا موضوع چنیں، اور اسی پر مزید ویڈیوز بنائیں۔ پاکستان کو بہتر بنانا اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بس آج سے شروع کریں! 🎬✨ اس پوسٹ کو شیئر کریں اور ایک دوست کو ٹیگ کریں جو ویڈیو بنانا شروع کرے! ⬇️📢 #پاکستان #مددکریں #ابھیشروعکریں #ویڈیوبنائیں #ریحاناللہوالا #ڈیجیٹلپاکستان #یوٹیوبپاکستان #ٹک_ٹاکپاکستان #سوشل_امپیکٹ #مثبت_تبدیلی
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 976 Views
Arama Sonuçları