• خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی

    یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔

    وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔

    #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں
    #نوجوانوں_کی_کامیابی
    #مسلسل_محنت
    #خود_اعتمادی
    #مثبت_سوچ
    #آگے_بڑھو
    #حوصلہ
    #ترقی_کا_سفر
    Rehan Allahwala
    Doulat EducationWala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Jai Parkash EducationWala
    ✨ خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔ وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔ 🌟 #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں #نوجوانوں_کی_کامیابی #مسلسل_محنت #خود_اعتمادی #مثبت_سوچ #آگے_بڑھو #حوصلہ #ترقی_کا_سفر Rehan Allahwala Doulat EducationWala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Jai Parkash EducationWala
    0 Commentarios 0 Acciones 235 Views 0
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Commentarios 0 Acciones 1561 Views
  • السلامُ علیکم جناب ریحان اللہ والا صاحب،
    دل کی گہرائیوں سے آپ کا بےحد شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    تقریباً ایک سال پہلے جب میں نے Rehan School جوائن کیا تھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری زندگی اور میرا سفر اس قدر بدل جائے گا۔ آپ کی شفقت، رہنمائی اور تربیت نے مجھے نئی سمت دکھائی، میرا حوصلہ بڑھایا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
    آپ کی رہنمائی کی برکت سے میں نے ویڈیوز بنانا شروع کیں، کسٹمرز کے تاثرات ریکارڈ کیے، اور مسلسل محنت جاری رکھی —
    اور آج الحمدللہ Zaiqedaar Foods & Caterers پوری دنیا میں پہچانا جا رہا ہے۔
    میرے لیے یہ بھی ایک بہت بڑی سعادت اور اعزاز ہے کہ مجھے ARY Digital کے مشہور پروگرام Good Morning Pakistan میں مدعو کیا گیا۔
    یہ مقام، یہ عزت اور یہ خوشی… سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پھر آپ کی قیمتی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
    میں دل سے آپ کا شکرگزار ہوں۔
    اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، سلامت رکھے اور آپ کے علم، کام اور خدمت میں بےپناہ برکت عطا فرمائے۔

    Fouzan Cateringwala

    +92 321 2907985
    السلامُ علیکم جناب ریحان اللہ والا صاحب، دل کی گہرائیوں سے آپ کا بےحد شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تقریباً ایک سال پہلے جب میں نے Rehan School جوائن کیا تھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری زندگی اور میرا سفر اس قدر بدل جائے گا۔ آپ کی شفقت، رہنمائی اور تربیت نے مجھے نئی سمت دکھائی، میرا حوصلہ بڑھایا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ آپ کی رہنمائی کی برکت سے میں نے ویڈیوز بنانا شروع کیں، کسٹمرز کے تاثرات ریکارڈ کیے، اور مسلسل محنت جاری رکھی — اور آج الحمدللہ Zaiqedaar Foods & Caterers پوری دنیا میں پہچانا جا رہا ہے۔ میرے لیے یہ بھی ایک بہت بڑی سعادت اور اعزاز ہے کہ مجھے ARY Digital کے مشہور پروگرام Good Morning Pakistan میں مدعو کیا گیا۔ یہ مقام، یہ عزت اور یہ خوشی… سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پھر آپ کی قیمتی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔ میں دل سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، سلامت رکھے اور آپ کے علم، کام اور خدمت میں بےپناہ برکت عطا فرمائے۔ 🤲❤️ Fouzan Cateringwala +92 321 2907985
    0 Commentarios 0 Acciones 50 Views
  • Just attended the ITCN conference today.

    It was the celebration of 25 years of success.

    A proud moment for Pakistan’s IT industry.

    This day was special for me too, as it was my 25th event!

    The conference showed that we are keeping pace with the world in the field of technology.

    This moment reminds us that with continuous effort and determination, we can turn every dream into reality.

    Get ready for more achievements in the IT world!

    #ITCN2024 #PakistanTech #25YearsOfSuccess #Innovation #TechConference

    **Urdu:**

    آج ITCN کانفرنس میں شرکت کی۔

    یہ 25 سالہ کامیابی کے جشن کی تقریب تھی۔

    پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کے لیے فخر کا لمحہ۔

    یہ دن میرے لیے بھی خاص تھا کیونکہ یہ میرا 25واں ایونٹ تھا!

    کانفرنس نے دکھایا کہ ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔

    یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلسل محنت اور عزم سے ہم ہر خواب کو حقیقت بنا سکتے ہیں۔

    آئی ٹی کے میدان میں مزید کامیابیوں کے لیے تیار رہیں!

    #ITCN2024 #PakistanTech #25YearsOfSuccess #Innovation #TechConference
    Just attended the ITCN conference today. 🎉 It was the celebration of 25 years of success. 🇵🇰 A proud moment for Pakistan’s IT industry. 💻 This day was special for me too, as it was my 25th event! 🎯 The conference showed that we are keeping pace with the world in the field of technology. 🌍 This moment reminds us that with continuous effort and determination, we can turn every dream into reality. 💪 Get ready for more achievements in the IT world! 🚀 #ITCN2024 #PakistanTech #25YearsOfSuccess #Innovation #TechConference **Urdu:** آج ITCN کانفرنس میں شرکت کی۔ 🎉 یہ 25 سالہ کامیابی کے جشن کی تقریب تھی۔ 🇵🇰 پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کے لیے فخر کا لمحہ۔ 💻 یہ دن میرے لیے بھی خاص تھا کیونکہ یہ میرا 25واں ایونٹ تھا! 🎯 کانفرنس نے دکھایا کہ ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ 🌍 یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلسل محنت اور عزم سے ہم ہر خواب کو حقیقت بنا سکتے ہیں۔ 💪 آئی ٹی کے میدان میں مزید کامیابیوں کے لیے تیار رہیں! 🚀 #ITCN2024 #PakistanTech #25YearsOfSuccess #Innovation #TechConference
    0 Commentarios 0 Acciones 1326 Views
  • سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر – میر خلیل الرحمٰن کی کہانی

    ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ سوچ کر خواب چھوڑ دیتے ہیں کہ وسائل نہیں ہیں، حالات مشکل ہیں، یا کوئی سہارا نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خالی ہاتھ شروع کرتے ہیں اور اپنے عزم، محنت اور وژن سے تاریخ بدل دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نام ہے میر خلیل الرحمٰن – جنگ گروپ اور جیو ٹی وی کے بانی۔

    ابتدائی زندگی

    میر خلیل الرحمٰن 1927 میں بھارتی شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ کسی بڑے امیر گھرانے کے فرد نہیں تھے۔ گھر کے حالات بھی عام تھے، اور وہ خود بھی پڑھائی اور نوکری کے ساتھ ساتھ اخباروں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ اکثر سائیکل پر گھوما کرتے اور خواب دیکھتے کہ ایک دن اپنا اخبار نکالیں گے۔

    پہلا قدم – روزنامہ جنگ

    1941 میں، صرف 14 سال کی عمر میں انہوں نے دہلی سے ایک چھوٹا سا اخبار نکالا جس کا نام رکھا “جنگ”۔ یہ اخبار دوسرے عالمی جنگ کی خبروں پر مبنی تھا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک نوعمر لڑکا اخبار نکال رہا ہے، لیکن میر خلیل الرحمٰن کے اندر ایک شعلہ جل رہا تھا۔

    پاکستان کی طرف ہجرت

    1947 میں جب پاکستان بنا تو انہوں نے بھی ہجرت کی اور کراچی آ گئے۔ یہاں حالات اور بھی مشکل تھے۔ دفتر نہیں، وسائل نہیں، صرف خواب اور عزم تھا۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے دفتر سے جنگ اخبار کا آغاز کیا۔ وہی جنگ جو آج پاکستان کا سب سے بڑا اخبار ہے۔

    پھیلاؤ اور کامیابی

    وقت کے ساتھ انہوں نے صرف اخبار پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹی وی چینلز بھی لانچ کیے، جن میں سب سے نمایاں ہے جیو ٹی وی نیٹ ورک۔
    • آج جنگ گروپ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس ہے۔
    • لاکھوں لوگ ان کے چینلز اور اخبارات سے روزانہ معلومات لیتے ہیں۔
    • انہوں نے صرف اپنا خواب پورا نہیں کیا بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی دیا۔

    میر خلیل الرحمٰن سے سبق
    1. چھوٹے سے شروع کریں – انہوں نے سائیکل اور چھوٹے اخبار سے آغاز کیا۔
    2. وسائل کی کمی کو بہانہ نہ بنائیں – مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہے۔
    3. علم اور انفارمیشن کی طاقت پر یقین رکھیں – میڈیا کے ذریعے لوگوں کو شعور دیا۔
    4. خواب بڑا دیکھیں، محنت چھوٹی چھوٹی کریں – ہر دن ایک قدم آگے بڑھا۔

    نتیجہ

    میر خلیل الرحمٰن اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ خواب دیکھنے والے، مسلسل محنت کرنے والے اور ہار نہ ماننے والے لوگ سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ کر سکتے ہیں تو ہم سب بھی کر سکتے ہیں۔



    آئیے ان کی زندگی سے سبق سیکھیں اور اپنے خوابوں کے سفر پر چلیں۔
    سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر آپ کا بھی ہو سکتا ہے، بس عزم اور محنت چاہیے۔

    سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر – میر خلیل الرحمٰن کی کہانی ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ سوچ کر خواب چھوڑ دیتے ہیں کہ وسائل نہیں ہیں، حالات مشکل ہیں، یا کوئی سہارا نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خالی ہاتھ شروع کرتے ہیں اور اپنے عزم، محنت اور وژن سے تاریخ بدل دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نام ہے میر خلیل الرحمٰن – جنگ گروپ اور جیو ٹی وی کے بانی۔ ابتدائی زندگی میر خلیل الرحمٰن 1927 میں بھارتی شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ کسی بڑے امیر گھرانے کے فرد نہیں تھے۔ گھر کے حالات بھی عام تھے، اور وہ خود بھی پڑھائی اور نوکری کے ساتھ ساتھ اخباروں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ اکثر سائیکل پر گھوما کرتے اور خواب دیکھتے کہ ایک دن اپنا اخبار نکالیں گے۔ پہلا قدم – روزنامہ جنگ 1941 میں، صرف 14 سال کی عمر میں انہوں نے دہلی سے ایک چھوٹا سا اخبار نکالا جس کا نام رکھا “جنگ”۔ یہ اخبار دوسرے عالمی جنگ کی خبروں پر مبنی تھا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک نوعمر لڑکا اخبار نکال رہا ہے، لیکن میر خلیل الرحمٰن کے اندر ایک شعلہ جل رہا تھا۔ پاکستان کی طرف ہجرت 1947 میں جب پاکستان بنا تو انہوں نے بھی ہجرت کی اور کراچی آ گئے۔ یہاں حالات اور بھی مشکل تھے۔ دفتر نہیں، وسائل نہیں، صرف خواب اور عزم تھا۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے دفتر سے جنگ اخبار کا آغاز کیا۔ وہی جنگ جو آج پاکستان کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ پھیلاؤ اور کامیابی وقت کے ساتھ انہوں نے صرف اخبار پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹی وی چینلز بھی لانچ کیے، جن میں سب سے نمایاں ہے جیو ٹی وی نیٹ ورک۔ • آج جنگ گروپ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس ہے۔ • لاکھوں لوگ ان کے چینلز اور اخبارات سے روزانہ معلومات لیتے ہیں۔ • انہوں نے صرف اپنا خواب پورا نہیں کیا بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی دیا۔ میر خلیل الرحمٰن سے سبق 1. چھوٹے سے شروع کریں – انہوں نے سائیکل اور چھوٹے اخبار سے آغاز کیا۔ 2. وسائل کی کمی کو بہانہ نہ بنائیں – مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہے۔ 3. علم اور انفارمیشن کی طاقت پر یقین رکھیں – میڈیا کے ذریعے لوگوں کو شعور دیا۔ 4. خواب بڑا دیکھیں، محنت چھوٹی چھوٹی کریں – ہر دن ایک قدم آگے بڑھا۔ نتیجہ میر خلیل الرحمٰن اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ خواب دیکھنے والے، مسلسل محنت کرنے والے اور ہار نہ ماننے والے لوگ سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ کر سکتے ہیں تو ہم سب بھی کر سکتے ہیں۔ ⸻ ✨ آئیے ان کی زندگی سے سبق سیکھیں اور اپنے خوابوں کے سفر پر چلیں۔ 🚴 سائیکل سے ارب پتی تک کا سفر آپ کا بھی ہو سکتا ہے، بس عزم اور محنت چاہیے۔ ⸻
    0 Commentarios 0 Acciones 36 Views
  • خواہش، خواب، مقصد… اور منصوبہ میں فرق

    زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ خواہش، خواب اور مقصد ایک ہی چیز ہیں…

    لیکن حقیقت میں یہ چار الگ الگ چیزیں ہیں۔

    اور چوتھی چیز…
    یعنی “منصوبہ”
    سب سے زیادہ اہم ہے۔

    خواہش کیا ہوتی ہے؟

    خواہش وہ چیز ہوتی ہے جو آپ چاہتے تو ہیں…
    لیکن ابھی آپ کے پاس اس کے لیے نہ واضح راستہ ہوتا ہے،
    نہ مستقل محنت،
    نہ روزانہ کا نظام۔

    مثلاً:

    “میں چاہتا ہوں کہ میں 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر اچھا اثر ڈالوں۔”

    یہ ایک خواہش ہے۔

    بہت خوبصورت سوچ ہے…
    لیکن ابھی یہ واضح نہیں:

    * کیسے؟
    * کب؟
    * کن مہارتوں کے ساتھ؟
    * روزانہ کیا کریں گے؟

    اب یہ دیکھیں:

    “میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جانا چاہتا ہوں۔”

    یہ ایک خواب ہے۔

    کیوں؟

    کیونکہ یہ صرف خواہش نہیں…
    یہ ایک جذباتی، بڑا اور شاندار تصور ہے۔

    آپ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے کچھ بڑا کرتے ہوئے تصور کرتے ہیں۔

    خواب انسان کو بڑا سوچنا سکھاتا ہے۔

    اب یہ دیکھیں:

    “میں مصنوعی ذہانت سیکھ کر، کاروبار بنا کر، لوگوں کی مدد کر کے، اور اگلے 10 سال مسلسل محنت کر کے 10 لاکھ ڈالر کمانا چاہتا ہوں۔”

    اب یہ مقصد بن گیا۔

    کیوں؟

    کیونکہ اب اس میں:

    * سمت ہے،
    * محنت ہے،
    * سیکھنا ہے،
    * اور عمل ہے۔

    لیکن…

    یہاں سب سے اہم چیز آتی ہے:

    منصوبہ

    منصوبہ وہ چیز ہے جو مقصد کو حقیقت بناتی ہے۔

    منصوبہ کچھ ایسا لگتا ہے:

    * روزانہ 2 گھنٹے مصنوعی ذہانت سیکھنا
    * روزانہ انگریزی بہتر کرنا
    * ہر مہینے کوئی منصوبہ بنانا
    * سوشل میڈیا پر مواد ڈالنا
    * گفتگو کرنے کی مہارت سیکھنا
    * کامیاب لوگوں سے ملنا
    * آن لائن کمائی شروع کرنا
    * کتابیں پڑھنا
    * ہر ہفتے اپنی ترقی دیکھنا
    * 8 سے 10 سال تک ہار نہ ماننا

    اب خواب حقیقت بننا شروع ہوتا ہے۔

    Rehan School میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ زندگی کے شروع میں ہی یہ 4 چیزیں سمجھ لے:

    * خواہش
    * خواب
    * مقصد
    * منصوبہ

    اسی لیے ہم نے اپنا پورا نصاب ان 3 بڑے مقاصد کے گرد بنایا ہے:

    * 10 لاکھ ڈالر کمانا
    * 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنا
    * گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ تک پہنچنا

    جب ایک طالب علم یہ تینوں چیزیں حاصل کر لیتا ہے…
    تب ہم اسے ریحان اسکول کا حقیقی گریجویٹ کہتے ہیں۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سفر 8 سے 10 سال لے سکتا ہے۔

    لیکن آج…

    مصنوعی ذہانت،
    انٹرنیٹ،
    سوشل میڈیا،
    اور طاقتور اوزاروں کی وجہ سے…

    ایک عام بچہ بھی وہ کام کر سکتا ہے
    جو پہلے صرف بڑی کمپنیاں کر سکتی تھیں۔

    اگر کوئی طالب علم روزانہ 4 سے 8 گھنٹے:

    * سیکھے،
    * بنائے،
    * بات کرے،
    * لوگوں سے جڑے،
    * نئی چیزیں تخلیق کرے،
    * اور مسلسل اپنے آپ کو بہتر بنائے…

    تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    خواہش کہتی ہے:
    “کاش…”

    خواب کہتا ہے:
    “میں یقین رکھتا ہوں…”

    مقصد کہتا ہے:
    “میں یہ کروں گا…”

    اور منصوبہ کہتا ہے:
    “میں یہ ایسے کروں گا…”

    دنیا بدلنے والے لوگ وہی ہوتے ہیں…
    جو خواہشوں کو خواب،
    خوابوں کو مقصد،
    اور مقصد کو روزانہ کے منصوبوں میں بدل دیتے ہیں۔

    :
    خواہش، خواب، مقصد… اور منصوبہ میں فرق زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ خواہش، خواب اور مقصد ایک ہی چیز ہیں… لیکن حقیقت میں یہ چار الگ الگ چیزیں ہیں۔ اور چوتھی چیز… یعنی “منصوبہ” سب سے زیادہ اہم ہے۔ خواہش کیا ہوتی ہے؟ خواہش وہ چیز ہوتی ہے جو آپ چاہتے تو ہیں… لیکن ابھی آپ کے پاس اس کے لیے نہ واضح راستہ ہوتا ہے، نہ مستقل محنت، نہ روزانہ کا نظام۔ مثلاً: “میں چاہتا ہوں کہ میں 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر اچھا اثر ڈالوں۔” یہ ایک خواہش ہے۔ بہت خوبصورت سوچ ہے… لیکن ابھی یہ واضح نہیں: * کیسے؟ * کب؟ * کن مہارتوں کے ساتھ؟ * روزانہ کیا کریں گے؟ اب یہ دیکھیں: “میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جانا چاہتا ہوں۔” یہ ایک خواب ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ صرف خواہش نہیں… یہ ایک جذباتی، بڑا اور شاندار تصور ہے۔ آپ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے کچھ بڑا کرتے ہوئے تصور کرتے ہیں۔ خواب انسان کو بڑا سوچنا سکھاتا ہے۔ اب یہ دیکھیں: “میں مصنوعی ذہانت سیکھ کر، کاروبار بنا کر، لوگوں کی مدد کر کے، اور اگلے 10 سال مسلسل محنت کر کے 10 لاکھ ڈالر کمانا چاہتا ہوں۔” اب یہ مقصد بن گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اب اس میں: * سمت ہے، * محنت ہے، * سیکھنا ہے، * اور عمل ہے۔ لیکن… یہاں سب سے اہم چیز آتی ہے: منصوبہ منصوبہ وہ چیز ہے جو مقصد کو حقیقت بناتی ہے۔ منصوبہ کچھ ایسا لگتا ہے: * روزانہ 2 گھنٹے مصنوعی ذہانت سیکھنا * روزانہ انگریزی بہتر کرنا * ہر مہینے کوئی منصوبہ بنانا * سوشل میڈیا پر مواد ڈالنا * گفتگو کرنے کی مہارت سیکھنا * کامیاب لوگوں سے ملنا * آن لائن کمائی شروع کرنا * کتابیں پڑھنا * ہر ہفتے اپنی ترقی دیکھنا * 8 سے 10 سال تک ہار نہ ماننا اب خواب حقیقت بننا شروع ہوتا ہے۔ Rehan School میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ زندگی کے شروع میں ہی یہ 4 چیزیں سمجھ لے: * خواہش * خواب * مقصد * منصوبہ اسی لیے ہم نے اپنا پورا نصاب ان 3 بڑے مقاصد کے گرد بنایا ہے: * 10 لاکھ ڈالر کمانا * 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنا * گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ تک پہنچنا جب ایک طالب علم یہ تینوں چیزیں حاصل کر لیتا ہے… تب ہم اسے ریحان اسکول کا حقیقی گریجویٹ کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سفر 8 سے 10 سال لے سکتا ہے۔ لیکن آج… مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور طاقتور اوزاروں کی وجہ سے… ایک عام بچہ بھی وہ کام کر سکتا ہے جو پہلے صرف بڑی کمپنیاں کر سکتی تھیں۔ اگر کوئی طالب علم روزانہ 4 سے 8 گھنٹے: * سیکھے، * بنائے، * بات کرے، * لوگوں سے جڑے، * نئی چیزیں تخلیق کرے، * اور مسلسل اپنے آپ کو بہتر بنائے… تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ خواہش کہتی ہے: “کاش…” خواب کہتا ہے: “میں یقین رکھتا ہوں…” مقصد کہتا ہے: “میں یہ کروں گا…” اور منصوبہ کہتا ہے: “میں یہ ایسے کروں گا…” دنیا بدلنے والے لوگ وہی ہوتے ہیں… جو خواہشوں کو خواب، خوابوں کو مقصد، اور مقصد کو روزانہ کے منصوبوں میں بدل دیتے ہیں۔ :
    0 Commentarios 0 Acciones 38 Views
  • آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص ملاقات!

    آج حافظ وقاص احمد صاحب تشریف لائے جو براکاہو کے علاقے میں اپنے اسکولز چلا رہے ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے مسلسل محنت کر رہے ہیں۔

    انہیں ریحان اسکول – اسلام آباد – براکاہو کیمپس کا مکمل دورہ کروایا گیا جہاں انہوں نے ہمارے طلبہ سے ملاقات کی، کلاس رومز دیکھے اور اس منفرد تعلیمی نظام کو قریب سے سمجھا جس کا مقصد صرف پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو خود مختار اور بااعتماد بنانا ہے۔

    ریحان اسکول میں ہم ایک نئی سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں:
    ہم لیڈر “ڈیزائن کے ذریعے” بنا رہے ہیں۔

    یہاں ہر طالب علم کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ:
    کم از کم 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کرے
    اور گریجویشن سے پہلے 10 لاکھ ڈالر کمانے کا ہدف رکھنے کی ہمت کرے۔

    جب بچوں کو انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اعتماد، نیٹ ورکنگ اور AI کی طاقت ملتی ہے تو وہ صرف طالب علم نہیں رہتے…
    وہ مستقبل کے لیڈر بن جاتے ہیں۔

    حافظ وقاص احمد صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے وقت نکالا اور اس مشن کو قریب سے دیکھا۔ ایسے اساتذہ اور تعلیمی رہنما ہی پاکستان کے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔

    Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch
    rehanschool.com

    #RehanSchool #LeadershipByDesign #AIinEducation #براکاہو #اسلام_آباد #تعلیم #پاکستان_کا_مستقبل

    Tour of Rehan School Islamabad Campus to Hafiz Waqas Ahmad Sahib from Barakahu who runs his own schools in this area !
    🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص ملاقات! 🌟 آج حافظ وقاص احمد صاحب تشریف لائے جو براکاہو کے علاقے میں اپنے اسکولز چلا رہے ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے مسلسل محنت کر رہے ہیں۔ انہیں ریحان اسکول – اسلام آباد – براکاہو کیمپس کا مکمل دورہ کروایا گیا جہاں انہوں نے ہمارے طلبہ سے ملاقات کی، کلاس رومز دیکھے اور اس منفرد تعلیمی نظام کو قریب سے سمجھا جس کا مقصد صرف پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو خود مختار اور بااعتماد بنانا ہے۔ ریحان اسکول میں ہم ایک نئی سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں: 🎯 ہم لیڈر “ڈیزائن کے ذریعے” بنا رہے ہیں۔ یہاں ہر طالب علم کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ: 💡 کم از کم 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کرے 💰 اور گریجویشن سے پہلے 10 لاکھ ڈالر کمانے کا ہدف رکھنے کی ہمت کرے۔ جب بچوں کو انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اعتماد، نیٹ ورکنگ اور AI کی طاقت ملتی ہے تو وہ صرف طالب علم نہیں رہتے… وہ مستقبل کے لیڈر بن جاتے ہیں۔ حافظ وقاص احمد صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے وقت نکالا اور اس مشن کو قریب سے دیکھا۔ ایسے اساتذہ اور تعلیمی رہنما ہی پاکستان کے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔ 📍 Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch 🌐 rehanschool.com #RehanSchool #LeadershipByDesign #AIinEducation #براکاہو #اسلام_آباد #تعلیم #پاکستان_کا_مستقبل Tour of Rehan School Islamabad Campus to Hafiz Waqas Ahmad Sahib from Barakahu who runs his own schools in this area !
    0 Commentarios 0 Acciones 621 Views 0
  • **The Key to Growth**

    In a quiet town, there was a young boy named Amir who loved to paint. However, he often doubted his skills and feared his work wasn’t good enough. One day, his teacher gave him a small, silver key and said, “This key will open the door to your growth as an artist. Believe in yourself and keep practicing.”

    Amir didn’t understand at first but kept the key close. He painted every day, experimenting with new styles and learning from his mistakes. Over time, his art improved, and he gained the confidence he had always lacked.

    The key wasn’t just a physical object—it was a reminder that growth comes from self-belief and constant effort. Amir had unlocked the door to his artistic success.

    **ترقی کی چابی**

    ایک پرسکون گاؤں میں، ایک نوجوان لڑکا امیر تھا جسے پینٹنگ کا بہت شوق تھا۔ تاہم، وہ اکثر اپنے ہنر پر شک کرتا تھا اور ڈرتا تھا کہ اس کا کام کافی اچھا نہیں ہے۔ ایک دن، اس کے استاد نے اسے ایک چھوٹی سی چاندی کی چابی دی اور کہا، "یہ چابی تمہاری فنکارانہ ترقی کے دروازے کو کھولے گی۔ اپنے آپ پر یقین رکھو اور مشق کرتے رہو۔"

    امیر کو شروع میں سمجھ نہیں آیا، لیکن اس نے چابی کو اپنے قریب رکھا۔ اس نے ہر دن پینٹنگ کی، نئے انداز آزمانے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کی پینٹنگ میں بہتری آئی، اور اس نے وہ اعتماد حاصل کیا جو وہ ہمیشہ سے چاہتا تھا۔

    چابی صرف ایک جسمانی شے نہیں تھی—یہ ایک یاد دہانی تھی کہ ترقی خود پر یقین رکھنے اور مسلسل محنت سے آتی ہے۔ امیر نے اپنے فن کی کامیابی کا دروازہ کھولا۔

    Student: Rehan School
    School: Level One.Five
    Story Post Number: 123
    Roll Number: 157
    **The Key to Growth** In a quiet town, there was a young boy named Amir who loved to paint. However, he often doubted his skills and feared his work wasn’t good enough. One day, his teacher gave him a small, silver key and said, “This key will open the door to your growth as an artist. Believe in yourself and keep practicing.” Amir didn’t understand at first but kept the key close. He painted every day, experimenting with new styles and learning from his mistakes. Over time, his art improved, and he gained the confidence he had always lacked. The key wasn’t just a physical object—it was a reminder that growth comes from self-belief and constant effort. Amir had unlocked the door to his artistic success. **ترقی کی چابی** ایک پرسکون گاؤں میں، ایک نوجوان لڑکا امیر تھا جسے پینٹنگ کا بہت شوق تھا۔ تاہم، وہ اکثر اپنے ہنر پر شک کرتا تھا اور ڈرتا تھا کہ اس کا کام کافی اچھا نہیں ہے۔ ایک دن، اس کے استاد نے اسے ایک چھوٹی سی چاندی کی چابی دی اور کہا، "یہ چابی تمہاری فنکارانہ ترقی کے دروازے کو کھولے گی۔ اپنے آپ پر یقین رکھو اور مشق کرتے رہو۔" امیر کو شروع میں سمجھ نہیں آیا، لیکن اس نے چابی کو اپنے قریب رکھا۔ اس نے ہر دن پینٹنگ کی، نئے انداز آزمانے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کی پینٹنگ میں بہتری آئی، اور اس نے وہ اعتماد حاصل کیا جو وہ ہمیشہ سے چاہتا تھا۔ چابی صرف ایک جسمانی شے نہیں تھی—یہ ایک یاد دہانی تھی کہ ترقی خود پر یقین رکھنے اور مسلسل محنت سے آتی ہے۔ امیر نے اپنے فن کی کامیابی کا دروازہ کھولا۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 123 Roll Number: 157
    0 Commentarios 0 Acciones 48 Views
  • **The Mountain's Challenge**

    In a small village at the foot of a towering mountain, there lived a young man named Zayd. The villagers often spoke of a mysterious challenge set by the mountain, claiming that whoever could reach the peak would be granted a wish. But many had tried and failed, discouraged by the difficult climb.

    One day, Zayd decided to take on the challenge. As he climbed, he encountered fierce winds, treacherous paths, and harsh weather. But he did not give up. He knew that persistence and determination were the keys to success.

    After many days of struggle, Zayd finally reached the summit. As he stood there, he realized that the real gift was not the wish, but the strength and courage he had gained during the journey. The mountain had taught him that true success is found in overcoming challenges, not in the reward.

    **پہاڑ کا چیلنج**

    ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جو ایک بلند پہاڑ کے نیچے واقع تھا، ایک نوجوان لڑکا زید رہتا تھا۔ گاؤں والے اکثر پہاڑ کی ایک پراسرار چیلنج کے بارے میں بات کرتے تھے، جو کہتے تھے کہ جو بھی پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے گا، اسے ایک خواہش ملے گی۔ مگر بہت سے لوگ کوشش کر کے ہار گئے تھے کیونکہ راستہ بہت مشکل تھا۔

    ایک دن، زید نے چیلنج قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ چڑھ رہا تھا، تو اس نے شدید ہواؤں، خطرناک راستوں اور سخت موسم کا سامنا کیا۔ لیکن وہ ہار نہیں مانا۔ اس کو یقین تھا کہ کامیابی کا راز مسلسل محنت اور عزم میں ہے۔

    کئی دنوں کی جدوجہد کے بعد، زید آخرکار چوٹی تک پہنچا۔ جب وہ وہاں کھڑا تھا، تو اس نے سمجھا کہ اصل انعام خواہش نہیں تھی، بلکہ وہ طاقت اور حوصلہ تھا جو اس نے اس سفر میں حاصل کیا تھا۔ پہاڑ نے اسے یہ سکھایا کہ سچی کامیابی چیلنجز کو شکست دینے میں ہے، نہ کہ انعام میں۔

    Student: Rehan School
    School: Level One.Five
    Story Post Number: 182
    Roll Number: 157
    **The Mountain's Challenge** In a small village at the foot of a towering mountain, there lived a young man named Zayd. The villagers often spoke of a mysterious challenge set by the mountain, claiming that whoever could reach the peak would be granted a wish. But many had tried and failed, discouraged by the difficult climb. One day, Zayd decided to take on the challenge. As he climbed, he encountered fierce winds, treacherous paths, and harsh weather. But he did not give up. He knew that persistence and determination were the keys to success. After many days of struggle, Zayd finally reached the summit. As he stood there, he realized that the real gift was not the wish, but the strength and courage he had gained during the journey. The mountain had taught him that true success is found in overcoming challenges, not in the reward. **پہاڑ کا چیلنج** ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جو ایک بلند پہاڑ کے نیچے واقع تھا، ایک نوجوان لڑکا زید رہتا تھا۔ گاؤں والے اکثر پہاڑ کی ایک پراسرار چیلنج کے بارے میں بات کرتے تھے، جو کہتے تھے کہ جو بھی پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے گا، اسے ایک خواہش ملے گی۔ مگر بہت سے لوگ کوشش کر کے ہار گئے تھے کیونکہ راستہ بہت مشکل تھا۔ ایک دن، زید نے چیلنج قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ چڑھ رہا تھا، تو اس نے شدید ہواؤں، خطرناک راستوں اور سخت موسم کا سامنا کیا۔ لیکن وہ ہار نہیں مانا۔ اس کو یقین تھا کہ کامیابی کا راز مسلسل محنت اور عزم میں ہے۔ کئی دنوں کی جدوجہد کے بعد، زید آخرکار چوٹی تک پہنچا۔ جب وہ وہاں کھڑا تھا، تو اس نے سمجھا کہ اصل انعام خواہش نہیں تھی، بلکہ وہ طاقت اور حوصلہ تھا جو اس نے اس سفر میں حاصل کیا تھا۔ پہاڑ نے اسے یہ سکھایا کہ سچی کامیابی چیلنجز کو شکست دینے میں ہے، نہ کہ انعام میں۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 182 Roll Number: 157
    0 Commentarios 0 Acciones 65 Views
  • Today my story post no 233
    Jai Parkash EducationWala
    Rehan School Korangi Campus

    Hamza was an ordinary boy with a deep passion for sports, especially football. While playing in the streets, he always dreamed of becoming a great player. People mocked him, but he never gave up. Through hard work and dedication, he made it to the local team, and one day, he even became part of the national team.

    حمزہ ایک عام سا لڑکا تھا جسے کھیلوں کا بہت شوق تھا، خاص طور پر فٹبال۔ گلی میں کھیلتے ہوئے وہ ہمیشہ خواب دیکھتا کہ ایک دن بڑا کھلاڑی بنے گا۔ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، لیکن اس نے ہار نہ مانی۔ مسلسل محنت اور لگن سے وہ مقامی ٹیم میں شامل ہوا، اور پھر ایک دن قومی ٹیم کا حصہ بھی بن گیا۔
    Today my story post no 233 Jai Parkash EducationWala Rehan School Korangi Campus Hamza was an ordinary boy with a deep passion for sports, especially football. While playing in the streets, he always dreamed of becoming a great player. People mocked him, but he never gave up. Through hard work and dedication, he made it to the local team, and one day, he even became part of the national team. حمزہ ایک عام سا لڑکا تھا جسے کھیلوں کا بہت شوق تھا، خاص طور پر فٹبال۔ گلی میں کھیلتے ہوئے وہ ہمیشہ خواب دیکھتا کہ ایک دن بڑا کھلاڑی بنے گا۔ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، لیکن اس نے ہار نہ مانی۔ مسلسل محنت اور لگن سے وہ مقامی ٹیم میں شامل ہوا، اور پھر ایک دن قومی ٹیم کا حصہ بھی بن گیا۔
    0 Commentarios 0 Acciones 50 Views
Resultados de la búsqueda