Story post : 42
Book A : Level 1
RSISB Rollno 209
Date 9:17:26
ملا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین پر پڑی ایک پرانی ہانڈی پر گئی۔ ملا نے ہانڈی اٹھا کر دیکھی تو حیران رہ گئے، کیونکہ اس میں سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔
ملا کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ہانڈی کو اپنے گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، “دیکھو! آج قسمت نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے۔”
ملا نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا اور کہا، “اگر میں یہ سارا سونا اپنے پاس رکھ لوں تو شاید میں امیر ہو جاؤں، لیکن اگر یہ کسی اور کا ہے تو اسے رکھنا درست نہیں ہوگا۔”
اگلے دن ملا نصرالدین گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا کسی کی سونے کے سکوں والی ہانڈی گم ہوئی ہے؟”
ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا، “ہاں! وہ ہانڈی میری ہے۔ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا!”
ملا نے ہانڈی اس شخص کے حوالے کر دی۔ وہ شخص بہت خوش ہوا اور ملا کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
ملا مسکرائے اور بولے، “دولت مل جانا بڑی بات نہیں، اصل دولت یہ ہے کہ انسان صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے۔”
سبق:
ایمانداری اور نیکی وہ خزانہ ہیں جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
Book A : Level 1
RSISB Rollno 209
Date 9:17:26
ملا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین پر پڑی ایک پرانی ہانڈی پر گئی۔ ملا نے ہانڈی اٹھا کر دیکھی تو حیران رہ گئے، کیونکہ اس میں سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔
ملا کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ہانڈی کو اپنے گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، “دیکھو! آج قسمت نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے۔”
ملا نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا اور کہا، “اگر میں یہ سارا سونا اپنے پاس رکھ لوں تو شاید میں امیر ہو جاؤں، لیکن اگر یہ کسی اور کا ہے تو اسے رکھنا درست نہیں ہوگا۔”
اگلے دن ملا نصرالدین گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا کسی کی سونے کے سکوں والی ہانڈی گم ہوئی ہے؟”
ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا، “ہاں! وہ ہانڈی میری ہے۔ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا!”
ملا نے ہانڈی اس شخص کے حوالے کر دی۔ وہ شخص بہت خوش ہوا اور ملا کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
ملا مسکرائے اور بولے، “دولت مل جانا بڑی بات نہیں، اصل دولت یہ ہے کہ انسان صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے۔”
سبق:
ایمانداری اور نیکی وہ خزانہ ہیں جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
Story post : 42
Book A : Level 1
RSISB Rollno 209
Date 9:17:26
🪙 ملا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین پر پڑی ایک پرانی ہانڈی پر گئی۔ ملا نے ہانڈی اٹھا کر دیکھی تو حیران رہ گئے، کیونکہ اس میں سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔ 🪙✨
ملا کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ہانڈی کو اپنے گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، “دیکھو! آج قسمت نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے۔”
ملا نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا اور کہا، “اگر میں یہ سارا سونا اپنے پاس رکھ لوں تو شاید میں امیر ہو جاؤں، لیکن اگر یہ کسی اور کا ہے تو اسے رکھنا درست نہیں ہوگا۔”
اگلے دن ملا نصرالدین گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا کسی کی سونے کے سکوں والی ہانڈی گم ہوئی ہے؟”
ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا، “ہاں! وہ ہانڈی میری ہے۔ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا!”
ملا نے ہانڈی اس شخص کے حوالے کر دی۔ وہ شخص بہت خوش ہوا اور ملا کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ ❤️
ملا مسکرائے اور بولے، “دولت مل جانا بڑی بات نہیں، اصل دولت یہ ہے کہ انسان صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے۔”
🌟 سبق:
ایمانداری اور نیکی وہ خزانہ ہیں جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ 🪙❤️
0 Commentarios
0 Acciones
230 Views