• کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے…

    اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔

    آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔

    وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔

    ایک ایسا گھر…

    جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔

    اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔

    یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔

    یہ ایک خاندان ہوگا۔

    یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔

    ان شاء اللہ۔

    اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔

    اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔

    مثلاً:

    زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد
    فنڈ ریزنگ
    آرکیٹیکچر اور ڈیزائن
    ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز
    قانونی معاملات
    میڈیا اور سوشل میڈیا
    رضاکارانہ خدمات
    ماہانہ اسپانسرشپ
    خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ
    یا کسی اور صلاحیت میں

    اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔

    شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔

    کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔



    — ریحان اللہ والا

    #گوشہ_سکون
    #GoshaESukoon
    #ServingHumanity
    #Pakistan
    #WomenWithDignity
    #منور_اخلاص

    https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?s=cl&p=i&mlu=1&amv=1
    کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے… اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔ وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔ ایک ایسا گھر… جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔ اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔ یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔ یہ ایک خاندان ہوگا۔ یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مثلاً: ✅ زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد ✅ فنڈ ریزنگ ✅ آرکیٹیکچر اور ڈیزائن ✅ ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز ✅ قانونی معاملات ✅ میڈیا اور سوشل میڈیا ✅ رضاکارانہ خدمات ✅ ماہانہ اسپانسرشپ ✅ خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ ✅ یا کسی اور صلاحیت میں اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔ ❤️ — ریحان اللہ والا #گوشہ_سکون #GoshaESukoon #ServingHumanity #Pakistan #WomenWithDignity #منور_اخلاص https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?s=cl&p=i&mlu=1&amv=1
    0 Comments 0 Shares 449 Views 0
  • یہ صرف ایک صابن نہیں ہے۔
    یہ ایک ماں کا فیصلہ ہے۔

    جب امی منور اخلاص (مَنّو) نے بازار کے صابن دیکھے تو ایک سوال بار بار آیا:
    “کیا واقعی پاکستان میں بہترین، خالص اور محفوظ صابن نہیں بن سکتا؟”

    تو انہوں نے شکایت نہیں کی۔
    انہوں نے خود بنا دیا۔

    نہ کوئی امپورٹڈ لیبل۔
    نہ کوئی کھوکھلا دعویٰ۔
    صرف ایک اصول:

    “جو میں اپنے گھر کے لیے بناؤں، وہی دوسروں کے لیے ہو۔”

    Made in Pakistan
    Best quality
    Safe for skin
    دل سے بنا ہوا

    یہ برانڈ کسی فیکٹری کی کہانی نہیں۔
    یہ ایک ماں کے ہاتھوں کی محنت ہے،
    جو چاہتی ہے کہ اس کے ملک کے لوگ
    اپنی جلد پر بھی اعتماد محسوس کریں۔

    نام سادہ ہے۔
    Manno
    کیونکہ خلوص کو بڑے نام کی ضرورت نہیں ہوتی۔

    اور ایک بات یاد رکھیں
    اگر ایک ماں اپنا برانڈ بنا سکتی ہے،
    تو آپ بھی بنا سکتے ہیں۔

    آپ بھی اپنا صابن، اپنا برانڈ بنا سکتے ہیں
    شاہد حسین جویا کے ساتھ
    سیکھیں: فارمولہ، کوالٹی، پیکجنگ، بزنس — سب کچھ

    اپنے بچے کو بھیجیں
    Shahid Joya College, Khanewal
    تاکہ وہ
    ہاتھ سے بنانا سیکھے
    بزنس سمجھ لے
    پاکستان میں کچھ نیا پیدا کرے

    آج ایک ماں نے ثابت کر دیا:
    اگر نیت صاف ہو
    تو پاکستان میں بھی
    دنیا کا بہترین معیار
    اور اپنا برانڈ
    دونوں بن سکتے ہیں۔
    یہ صرف ایک صابن نہیں ہے۔ یہ ایک ماں کا فیصلہ ہے۔ جب امی منور اخلاص (مَنّو) نے بازار کے صابن دیکھے تو ایک سوال بار بار آیا: “کیا واقعی پاکستان میں بہترین، خالص اور محفوظ صابن نہیں بن سکتا؟” تو انہوں نے شکایت نہیں کی۔ انہوں نے خود بنا دیا۔ نہ کوئی امپورٹڈ لیبل۔ نہ کوئی کھوکھلا دعویٰ۔ صرف ایک اصول: “جو میں اپنے گھر کے لیے بناؤں، وہی دوسروں کے لیے ہو۔” 🇵🇰 Made in Pakistan ✨ Best quality 🤍 Safe for skin 🌿 دل سے بنا ہوا یہ برانڈ کسی فیکٹری کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ماں کے ہاتھوں کی محنت ہے، جو چاہتی ہے کہ اس کے ملک کے لوگ اپنی جلد پر بھی اعتماد محسوس کریں۔ نام سادہ ہے۔ Manno کیونکہ خلوص کو بڑے نام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور ایک بات یاد رکھیں👇 اگر ایک ماں اپنا برانڈ بنا سکتی ہے، تو آپ بھی بنا سکتے ہیں۔ 👉 آپ بھی اپنا صابن، اپنا برانڈ بنا سکتے ہیں 📍 شاہد حسین جویا کے ساتھ 📚 سیکھیں: فارمولہ، کوالٹی، پیکجنگ، بزنس — سب کچھ 👶 اپنے بچے کو بھیجیں Shahid Joya College, Khanewal تاکہ وہ ✔️ ہاتھ سے بنانا سیکھے ✔️ بزنس سمجھ لے ✔️ پاکستان میں کچھ نیا پیدا کرے آج ایک ماں نے ثابت کر دیا: اگر نیت صاف ہو تو پاکستان میں بھی دنیا کا بہترین معیار اور اپنا برانڈ دونوں بن سکتے ہیں۔
    0 Comments 0 Shares 104 Views
  • کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے…

    اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔

    آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔

    وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔

    ایک ایسا گھر…

    جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔

    اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔

    یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔

    یہ ایک خاندان ہوگا۔

    یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔

    ان شاء اللہ۔

    اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔

    اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔

    مثلاً:

    زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد
    فنڈ ریزنگ
    آرکیٹیکچر اور ڈیزائن
    ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز
    قانونی معاملات
    میڈیا اور سوشل میڈیا
    رضاکارانہ خدمات
    ماہانہ اسپانسرشپ
    خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ
    یا کسی اور صلاحیت میں

    اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔

    شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔

    کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔



    — ریحان اللہ والا

    #گوشہ_سکون
    #GoshaESukoon
    #ServingHumanity
    #Pakistan
    #WomenWithDignity
    #منور_اخ

    https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?mode=gi_t
    کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے… اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔ وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔ ایک ایسا گھر… جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔ اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔ یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔ یہ ایک خاندان ہوگا۔ یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مثلاً: ✅ زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد ✅ فنڈ ریزنگ ✅ آرکیٹیکچر اور ڈیزائن ✅ ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز ✅ قانونی معاملات ✅ میڈیا اور سوشل میڈیا ✅ رضاکارانہ خدمات ✅ ماہانہ اسپانسرشپ ✅ خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ ✅ یا کسی اور صلاحیت میں اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔ ❤️ — ریحان اللہ والا #گوشہ_سکون #GoshaESukoon #ServingHumanity #Pakistan #WomenWithDignity #منور_اخ https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?mode=gi_t
    0 Comments 0 Shares 298 Views
  • کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے…

    اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔

    آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔

    وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔

    ایک ایسا گھر…

    جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔

    اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔

    یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔

    یہ ایک خاندان ہوگا۔

    یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔

    ان شاء اللہ۔

    اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔

    اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔

    مثلاً:

    زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد
    فنڈ ریزنگ
    آرکیٹیکچر اور ڈیزائن
    ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز
    قانونی معاملات
    میڈیا اور سوشل میڈیا
    رضاکارانہ خدمات
    ماہانہ اسپانسرشپ
    خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ
    یا کسی اور صلاحیت میں

    اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔

    شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔

    کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔



    — ریحان اللہ والا

    #گوشہ_سکون
    #GoshaESukoon
    #ServingHumanity
    #Pakistan
    #WomenWithDignity
    #منور_اخلاص

    https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1
    کچھ خواب انسان اپنے لیے دیکھتا ہے… اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے لیے دیکھتا ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ اپنی والدہ، محترمہ منور اخلاص کا ایک خواب شیئر کر رہا ہوں۔ وہ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتی ہیں جس کا نام “گوشۂ سکون” ہو۔ ایک ایسا گھر… جہاں وہ خواتین جن کا دنیا میں کوئی نہیں، انہیں محبت، عزت، کھانا، تحفظ اور اپنا پن ملے۔ اور اسی کے ساتھ ایک ایسا خوبصورت اور باوقار رہائشی مرکز، جہاں وہ مائیں، بہنیں اور خواتین رہ سکیں جو اکیلی ہیں، جن کے بچے بیرونِ ملک ہیں یا جو زندگی کے کسی موڑ پر تنہا ہو گئی ہیں۔ یہ کوئی اولڈ ہوم نہیں ہوگا۔ یہ ایک خاندان ہوگا۔ یہاں ایک چھوٹا کلینک ہوگا، فارمیسی ہوگی، صاف پانی کا انتظام ہوگا، چھوٹی دکانیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر انسانوں کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کا سہارا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو براہ کرم مجھے ان باکس میں لکھیں کہ آپ کس حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مثلاً: ✅ زمین یا بلڈنگ کے سلسلے میں مدد ✅ فنڈ ریزنگ ✅ آرکیٹیکچر اور ڈیزائن ✅ ڈاکٹر یا میڈیکل سروسز ✅ قانونی معاملات ✅ میڈیا اور سوشل میڈیا ✅ رضاکارانہ خدمات ✅ ماہانہ اسپانسرشپ ✅ خواتین کی تربیت اور مینٹورنگ ✅ یا کسی اور صلاحیت میں اور اگر آپ صرف اس خواب کے گواہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو جائیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ہمیں کسی ایسی خاتون کے لیے سکون کا ذریعہ بنا دے جس کے پاس آج کوئی نہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک عمارت نہیں، ایک خاندان بنایا جاتا ہے۔ ❤️ — ریحان اللہ والا #گوشہ_سکون #GoshaESukoon #ServingHumanity #Pakistan #WomenWithDignity #منور_اخلاص https://chat.whatsapp.com/Gxi8YproBHR3ovOTp4QcPu?s=cl&p=i&ilr=2&amv=1
    0 Comments 0 Shares 313 Views
  • مجھے اپنی والدہ پر فخر ہے – منور اخلاص

    مجھے اپنی والدہ منور اخلاص پر بے حد فخر ہے، جو الخدمت ویمن ونگ کراچی کی سربراہ ہیں۔ وہ صرف میری والدہ ہی نہیں بلکہ ایک رہنما، ایک تبدیلی کی علامت اور کراچی کی بے شمار خواتین کے لیے امید کی کرن ہیں۔

    ہر صبح وہ صرف دفتر جانے کے لیے نہیں اٹھتیں بلکہ ایک مشن کے لیے نکلتی ہیں: اُن خواتین کا سہارا بننے کے لیے جن کے پاس اکثر کوئی اور سہارا نہیں ہوتا۔ عام لوگ دفتر کو ایک معمولی کام سمجھتے ہیں، مگر اُن کے لیے دفتر کا مطلب ہے — روزانہ زندگیاں بدلنا۔

    ان کا دفتر صرف ایک دفتر نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہے، جہاں ٹوٹے دلوں کو حوصلہ ملتا ہے، بیواؤں اور بیٹیوں کو عزت واپس ملتی ہے، اور ماؤں کو اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھنے کا حوصلہ دوبارہ ملتا ہے۔

    وہ خواتین کی عملی اور مضبوط انداز میں مدد کرتی ہیں۔ کوئی لڑکی جس کی شادی غربت کی وجہ سے ناممکن لگتی ہے، اُس کا نکاح عزت کے ساتھ کروا دیا جاتا ہے۔ کوئی ماں جو بچوں کو کھلانے سے قاصر ہوتی ہے، صرف امداد نہیں بلکہ روزگار کا موقع پاتی ہے۔ کوئی طالبہ جو تعلیم چھوڑنے پر مجبور تھی، آج اُس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ یا موبائل فون ہے — ایسا ذریعہ جو تعلیم، آمدنی اور خود مختاری کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ سب میری والدہ کی انتھک محنت کی وجہ سے ہے۔

    ان کا مقصد صرف خیرات دینا نہیں، بلکہ بااختیار بنانا ہے۔ وہ یقین رکھتی ہیں کہ ہر عورت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ خود اپنے قدموں پر کھڑی ہو، عزت سے کمائے اور اپنے گھرانے اور معاشرے کا سہارا بنے۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر عورت کو ہنر، آلات اور مواقع دے دیے جائیں تو صرف اُس کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ آنے والی نسلیں بھی سنور جاتی ہیں۔

    ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی مستقل مزاجی ہے۔ دن ہو یا رات، بارش ہو یا گرمی، صحت مند ہوں یا تھکی ہوئی — وہ کبھی رُکتی نہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ایک دن بھی رُک گئیں تو کسی کی امید بجھ سکتی ہے۔

    الخدمت ویمن ونگ کراچی کے دروازوں سے اندر آنے والی خواتین کے لیے وہ صرف ایک سربراہ نہیں بلکہ ماں، بہن، رہنما اور دوست ہیں۔

    ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت عہدوں یا دولت میں نہیں بلکہ اُن دلوں میں ہے جنہیں آپ چھوتے ہیں، اُن عزتوں میں ہے جنہیں آپ بحال کرتے ہیں، اور اُن مستقبلوں میں ہے جنہیں آپ تعمیر کرتے ہیں۔

    جی ہاں، مجھے اپنی والدہ پر فخر ہے — منور اخلاص، وہ عظیم عورت جو روز مجھے بھی اور کراچی کو بھی یہ یقین دلاتی ہیں کہ عورت میں یہ طاقت ہے کہ وہ اُٹھے، سنبھلے اور معاشرے کو نئی شکل دے۔
    مجھے اپنی والدہ پر فخر ہے – منور اخلاص مجھے اپنی والدہ منور اخلاص پر بے حد فخر ہے، جو الخدمت ویمن ونگ کراچی کی سربراہ ہیں۔ وہ صرف میری والدہ ہی نہیں بلکہ ایک رہنما، ایک تبدیلی کی علامت اور کراچی کی بے شمار خواتین کے لیے امید کی کرن ہیں۔ ہر صبح وہ صرف دفتر جانے کے لیے نہیں اٹھتیں بلکہ ایک مشن کے لیے نکلتی ہیں: اُن خواتین کا سہارا بننے کے لیے جن کے پاس اکثر کوئی اور سہارا نہیں ہوتا۔ عام لوگ دفتر کو ایک معمولی کام سمجھتے ہیں، مگر اُن کے لیے دفتر کا مطلب ہے — روزانہ زندگیاں بدلنا۔ ان کا دفتر صرف ایک دفتر نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہے، جہاں ٹوٹے دلوں کو حوصلہ ملتا ہے، بیواؤں اور بیٹیوں کو عزت واپس ملتی ہے، اور ماؤں کو اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھنے کا حوصلہ دوبارہ ملتا ہے۔ وہ خواتین کی عملی اور مضبوط انداز میں مدد کرتی ہیں۔ کوئی لڑکی جس کی شادی غربت کی وجہ سے ناممکن لگتی ہے، اُس کا نکاح عزت کے ساتھ کروا دیا جاتا ہے۔ کوئی ماں جو بچوں کو کھلانے سے قاصر ہوتی ہے، صرف امداد نہیں بلکہ روزگار کا موقع پاتی ہے۔ کوئی طالبہ جو تعلیم چھوڑنے پر مجبور تھی، آج اُس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ یا موبائل فون ہے — ایسا ذریعہ جو تعلیم، آمدنی اور خود مختاری کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ سب میری والدہ کی انتھک محنت کی وجہ سے ہے۔ ان کا مقصد صرف خیرات دینا نہیں، بلکہ بااختیار بنانا ہے۔ وہ یقین رکھتی ہیں کہ ہر عورت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ خود اپنے قدموں پر کھڑی ہو، عزت سے کمائے اور اپنے گھرانے اور معاشرے کا سہارا بنے۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر عورت کو ہنر، آلات اور مواقع دے دیے جائیں تو صرف اُس کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ آنے والی نسلیں بھی سنور جاتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی مستقل مزاجی ہے۔ دن ہو یا رات، بارش ہو یا گرمی، صحت مند ہوں یا تھکی ہوئی — وہ کبھی رُکتی نہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ایک دن بھی رُک گئیں تو کسی کی امید بجھ سکتی ہے۔ الخدمت ویمن ونگ کراچی کے دروازوں سے اندر آنے والی خواتین کے لیے وہ صرف ایک سربراہ نہیں بلکہ ماں، بہن، رہنما اور دوست ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت عہدوں یا دولت میں نہیں بلکہ اُن دلوں میں ہے جنہیں آپ چھوتے ہیں، اُن عزتوں میں ہے جنہیں آپ بحال کرتے ہیں، اور اُن مستقبلوں میں ہے جنہیں آپ تعمیر کرتے ہیں۔ جی ہاں، مجھے اپنی والدہ پر فخر ہے — منور اخلاص، وہ عظیم عورت جو روز مجھے بھی اور کراچی کو بھی یہ یقین دلاتی ہیں کہ عورت میں یہ طاقت ہے کہ وہ اُٹھے، سنبھلے اور معاشرے کو نئی شکل دے۔
    0 Comments 0 Shares 143 Views 0