• خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی

    یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔

    وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

    یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔

    #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں
    #نوجوانوں_کی_کامیابی
    #مسلسل_محنت
    #خود_اعتمادی
    #مثبت_سوچ
    #آگے_بڑھو
    #حوصلہ
    #ترقی_کا_سفر
    Rehan Allahwala
    Doulat EducationWala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Jai Parkash EducationWala
    ✨ خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ کہانی ہے ابرار کی، جو سولہ سال کا ایک باہمت نوجوان ہے اور کراچی کی ایک مصروف گلی سے اُٹھ کر یہ یقین رکھتا ہے کہ کامیابی مسلسل محنت، سیکھنے کے جذبے اور ہار نہ ماننے سے حاصل ہوتی ہے۔ جب لوگ آن لائن کام کی اہمیت پر شک کرتے رہے، تب اُس نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، مواد تیار کیا، انٹرویوز ترتیب دیے اور ہر انکار کو ایک نئے موقع میں بدل دیا۔ وہ شہرت کے شور کا طلبگار نہیں بلکہ ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گزرے ہوئے کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ داستان ہے حوصلے، خود اعتمادی اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کی۔ 🌟 #خوابوں_کی_کوئی_عمر_نہیں #نوجوانوں_کی_کامیابی #مسلسل_محنت #خود_اعتمادی #مثبت_سوچ #آگے_بڑھو #حوصلہ #ترقی_کا_سفر Rehan Allahwala Doulat EducationWala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Jai Parkash EducationWala
    0 تبصرے 0 شیئرز 2305 ویوز 0
  • ریحان اسکول کی کہانی

    ایک ہی محلے میں رہنے والے تین بچے تھے: عائشہ، احمد اور فاطمہ۔

    عائشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی، احمد کو نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا، جبکہ فاطمہ ایک بااعتماد مقررہ بننا چاہتی تھی۔

    ان تینوں نے ریحان اسکول میں داخلہ لیا، جہاں انہیں صرف کتابی تعلیم@@ ہی نہیں بلکہ کردار سازی، اعتماد، تخلیقی سوچ اور جدید مہارتیں بھی سکھائی گئیں۔

    چند ہی ماہ میں ان کی شخصیت بدل گئی۔ وہ اعتماد کے ساتھ بولنے لگے، نئی چیزیں سیکھنے لگے اور اپنے خوابوں کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھانے لگے۔

    آپ کے بچے کی کامیابی کی کہانی بھی ریحان اسکول سے شروع ہو سکتی ہے۔

    داخلے جاری ہیں!
    آج ہی اپنے بچے کا داخلہ کروائیں اور اسے روشن مستقبل کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا موقع دیں۔
    Rehan Allahwala
    Rubab EducationWali
    🌟 ریحان اسکول کی کہانی 🌟 ایک ہی محلے میں رہنے والے تین بچے تھے: عائشہ، احمد اور فاطمہ۔ عائشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی، احمد کو نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا، جبکہ فاطمہ ایک بااعتماد مقررہ بننا چاہتی تھی۔ ان تینوں نے ریحان اسکول میں داخلہ لیا، جہاں انہیں صرف کتابی تعلیم@@ ہی نہیں بلکہ کردار سازی، اعتماد، تخلیقی سوچ اور جدید مہارتیں بھی سکھائی گئیں۔ چند ہی ماہ میں ان کی شخصیت بدل گئی۔ وہ اعتماد کے ساتھ بولنے لگے، نئی چیزیں سیکھنے لگے اور اپنے خوابوں کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھانے لگے۔ آپ کے بچے کی کامیابی کی کہانی بھی ریحان اسکول سے شروع ہو سکتی ہے۔ 📚 داخلے جاری ہیں! ✨ آج ہی اپنے بچے کا داخلہ کروائیں اور اسے روشن مستقبل کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا موقع دیں۔ Rehan Allahwala Rubab EducationWali
    1
    0 تبصرے 0 شیئرز 536 ویوز
  • میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔
    میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔

    ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟
    اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔
    میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔

    ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا :
    1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے)
    2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے)
    3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات
    4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے)
    5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات
    6) : مذھبی ہم آہنگی
    انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا

    @jan Malik
    میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔ میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔ ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟ اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔ میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا : 1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے) 2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے) 3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات 4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے) 5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات 6) : مذھبی ہم آہنگی انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا @jan Malik
    0 تبصرے 0 شیئرز 1353 ویوز
  • What do you think ?

    Faisal Pony Wala
    1 hr ·

    سلام۔ ۔

    آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔

    میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔

    والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔

    میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔

    ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔

    اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا سٹیک اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔

    کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔

    بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔

    چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔

    دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔
    دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری

    بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔

    آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    What do you think ? Faisal Pony Wala 1 hr · سلام۔ ۔ آپکا میسج پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئ اسکی مناسبت سے جواب عرض ھے۔ جتنی باتیں لکھوں گا اپنے سوالنامے یا ئڈ لئین کے تناظر کو مد نظر رکھتے ھوئے پڑھیے گا۔ یا دوسروں کی مجبوری ، حالات کو مد نظر رکھتے ھوئے سمجھیے گا، میرا لکھا میری ھی نہی انگنت لوگوں کی بات ھے ، بنیادی پیمانہ یہی ھے۔ نیچے والی باتیں میری سچائ کی بنیاد پر آبیتی ھے اگر کار آمد لگیں تو اپنے یا بیبے نام سے آگے بڑھا دیں۔ میں معاشی طور پر بدحال انسان ھوں اٹھاون سال کا ھو چکا سٹھیانے میں ایک دو سال باقی ھیں۔ مذھبی گھرانے میں پیدا ھوا۔ والد صاحب نے عمر کا بہت عرصہ غیر ملک میں نوکری کرتے گزارا۔ چوں کہ میں بہن بھایوں میں بڑا تھا ددھیال اور ننھیال میں بھی سب چچیرے ممیرے خالاوں کے بچوں سے بڑا ھر کوئ پیار کرنے والا آو بھگت کرنے والا۔ اور یہں سے تباہھی کی ابتدا ھوئ۔ ھر کسی نے پیار کر کے اپنی پوری کوشش کی جسمیں سب کے سب مکمل طور سے کامیاب رھے۔ والدین کی مرضی اور پسند سے تیس سال کی عمر میں شادی کر دی جبکہ میں معاشی طور پر کمزور تھا انکار ھی کرتا رہ گیا۔ شادی کرنے کے جو جو حربے والدین استمال کرتے ھیں پر کیا بات کی جائے مختصر مذھب کے حوالے، جذباتی باتیں ، ناراضگیاں اور مار پٹائ۔ والدین اپنی پسند کی بہو تلاش اس لیے کرتے ھیں کہ بہو بڑھاپے میں ساس سسر کا خیال رکھے بیٹے کو بچپن سے ایسی باتیں ذھن نشین کروائ جاتیں ھیں کہ وہ الو نہی الو کا پٹھا بن جاتا ھے۔ میری شادی نا کرنے کی وجہ معاشی کمزری تھی لیکن والدین نے ذمہ داری لی کہ تم اور تمہارے بچے بیوی ھماری ذمہ داری ھیں بیفکر رھو خیر شادی ھو گئ بچے بڑے اور مناسب تعلمی اھلیت کے ھو گیے کچھ پڑھ رھے ھیں بظاہر پریشانی نہی لیکن بچوں کے اور بیوی کے رویے ٹھیک نہی کہتے ھیں ساری زندگی ٹکا نہی لا کر دیا ۔۔۔۔۔۔ میری موجودگی انکے لیے ناکابل برداشت ھے۔ ارے ایک اھم بات تو رھ ھی گئ والد صاحب پندرہ سال گزرے فوت ھو چکے ھیں جائداد اںھوں نے جنت کی خریداری میں ضرورتمدوں میں بانٹ دی تھی۔ چوبیس گھنٹوں کے ملازمین دو بہویں اور دو بیٹے بچوں بیویوں سمیت سڑک پر اور خاندانی امداد پر پلے بڑھے۔ والدہ حیات ھیں وھی پرانی ڈگر پر بچوں کے بچوں کا بھی بیڑا غرق کرتی رھتی ھیں۔ والد صاحب کو تو بہت گہرا دفن کر چکا اور والدہ کی دیکھ بھال میں ابھی کوئ آنچ نہی۔ یہ بات مد نظر رھے میں چوبیس گھنٹے کا خیال رکھنے والا روبوٹ ھوں جسمیں کوئ دوسرا پروگرام نہی شامل ماسوائے خیال رکھنے کا۔ سارا خاندان اس بات پر بہت خوش اور راضی ھے کہ بہت سعادتمند بیٹا ھے اور بہو بھی۔ اب ذیلی اثرات پر تفصیلی بات چیت کرتے ھیں میں نے تیس سال کی عمر میں کام شروع کیا اچھے خاصے پیسے کا '' سٹیک '' اور مسقبل لیکن کبھی بھی شاباش نہی ملی والدین کی طرف سے الٹا حوصلے پست کرنے اور رڑے اٹکاے جاتے کہ کاروبار ٹھیک نہی جبکہ میری رائے میں کاروبار تیسرے سال کے آخر میں برابری کی بنیاد پر چل رھا تھا یعنی جیب سے پیسہ لگ نہی رھا تھا لیکن آمدن روزانہ کی بنیاد پر دس ھزار کے لگ بھگ اور کاروباری اخراجات بھی اتنے ھی مارکیٹ میں نام لوگوں کا تانتا بندھ ھوا توقع تھی کہ چوتھے سال میں سارا اصل زر واپس ھو جائے گا اور قرضہ اتر جائے گا یاد رھے کہ والد صاحب سے معمولی سی رقم لی تھی جو کچھ ماہ میں واپس کر دی کیونکہ انھوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا۔ کرائے کی جگہ تھی لینڈ لارڈ کو خیال سوجھا کہ کروبار خود کیوں نا چلاوں سو نوٹس دے دیا حالانکہ کرایہ نامہ کی رو سے تیرا سال باقی تھے کورٹ کچہری کی تیاری تھی والدین نے جبری روک دیا۔ وہ دن اور آج کا دن کاروبار نہی کر سکا کمر ٹوٹ گئ۔ معاشی عدم استحکام کو پچیس سال سے اوپر ھو گئے شاید نہی یقینی طور سے نوالہ بھی خریدنے کی سکت نہی مانگ تانگ کا کھاتے ھیں۔ وھی خاندان والے اترن دے دیتے ھیں پہن لیتا ھوں۔ بات کرنے کا مقصد ھے کہ کبھی بھی دوسروں کی خواھشات پر اپنا بیڑا غرق مت کریے۔ دنیا میں صرف آپکی ذات ھے جو فائدہ اور نقصان حاصل کرتی ھے۔ والدین مرتے مرتے جنت کی خریداری میں اپنا سرمایہ لگا دیتے ھیں اپنے بچوں کو جہم میں دھکیل کر۔ چوں کہ فارغ ھوتا ھوں ایک پرانے زمانے کی نوٹبک اور سمارٹ فون ھے وای فائ بچوں کا استمال کرتا ھوں ریحان اللہ والے صاحب کی طرح کوشش کرتا ھوں کہ ان لوگوں کو کچھ سکھا دوں جو مجھے آتا ھے لیکن یقین کریے جو لوگ پہلے سے میرے والا کام کر رھے ھیں کاروباری جدید تقاضون کو اپنانا ھی نہی چاھتے سارا کچھ پوچھنے کے بعد مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رھتے ھیں اور جدید طریقے میں خامیاں نکالتے ھیں لیکن میری جیسی پراڈکٹ کو بنا نہی پاتے لیکن مجھے استاد کہتے ھیں اور مانتے ھیں میری پراڈکٹ کو پسند بھی بہت کرتے ھیں۔ لیکن جدت کو اپنانے کی خواھش ھی ان میں ناپید ھو چکی ھے۔ دوسری طرف وہ بچے جو میرے والا ھی کام کرنا چاھتبے ھیں جوجدید تقاضوں کی تیکنیک کے سند یافتہ بھی ھیں کام نہی کر پاتے کیونکہ انکے پاس روٹی کھانے کے پیسے نہی کارو بار کے لیے ایک لاکھ نہی نکال سکتے۔ دوسرے سند یافتہ تو ھیں لیکن نا تجربہ کار ایک دو ماہ کی ٹرینگ درکار ھوگی اور ٹرینر کو زاتی توجہ دینا ھو گی۔ دوسرے خام مال کی خریداری ، تیاری ، اور فروخت جو مسائل ھے انکی ٹرینگ درکار ھے۔ گھر سے باھر جانے کے لیے جیب میں کرایہ نا ھو تو کارو بار کے واسطے بھی کوئ نکلنا آسان نہی۔ کاروباری نوعیت ایسی ھے یا کہ کاریگر کو گھر میں خام مال مل جائے وہ ویلیو ایڈنگ کرے اور مزدوری مل جائے فروخت خام مال کے مالک کی ذمہ داری ھوتی ھے۔ اپنا خام خریدنے کے لیے پیسہ اور وقت درکار ھے جو کاری گر نہی کر پاتا یا وہ فرخت کرے یا مال کی تیاری بلکل یہی مسلہ یا اسی قسم کا مسلہ آن لائین کے کام میں سمجھ آیا لڑکوں لڑکیوں کو جب تلک [ جبری ] قسم کی ٹرینگ نہی دیں گے اور انپر نظر نہی رکھیں گے تو ٹرینگ کے بعد بھی بیشتر لوگ کام چھوڑ دیں گے۔ طرہقہ یہی ھے انکو سکول / ادارے میں خرچہ دے کر بلا کر ٹرینڈ کریں اسکے بعد ان پر کام کا بوجھ لاد دیں تنخواہ دیں اپنے ادارے کو چلانے کے واسطے اسی ادارے سے ادارے کا حصہ نکالیں۔ ورنہ ایدھی صاحب کیطرح حال ھو گا چندوں پر اسکے بعد کہانی ختم ۔ سال دو سال بعد ٹرینڈ شدہ لڑکوں کو موقع دیں جو اپنا کام کرنا چاھے ادارے کو چھوڑ دے۔ آپکو ایک ملین کی نہی کئ ملین کی ھر وقت کی ضرورت ھے۔ آپ اس بات پر یقین رکھیں / کر لیں، ھزاروں کی تعداد صرف آمدو رفت کے خرچے/ نیٹ کے خرچے / کمپیوٹر کے خرچے نا ھونے کے سبب لوگ کام کی ابتدا ھی نہی کر پاتے جن لوگوں کے پیٹ خالی ھوں انکے پاس سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھو جاتی ھے زندگی مجبور ھے زندہ رھنے کے لیے۔ اگر آپ سہ سکتے ھیں تو فالتو ملین ان لوگوں پر لگایے جن لوگوں کے پیٹ میں روٹی نہی اور جو لوگ پیٹ بھرے ھیں وہ راستے اپنے تلاش کر لیتے ھیں۔ آن لائن لنکس پر جا کر کوئ کام نہی سیکھتا۔ پیسہ لگایے بغیر کسی اجر کے
    0 تبصرے 0 شیئرز 430 ویوز
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 تبصرے 0 شیئرز 1519 ویوز
  • Does anyone has power to insult anyone ?

    سر میں نے پهلے آپ کے کهے کے مطابق ویڈیو پوسٹ کر دی تھی
    پهر آپ هی کے کهنے پر غور سے دیکھی
    اور میں اس نتیجے په پهنچا
    آپ نے انتهائ نا مناسب رویه اپنایا
    ممکن هے آپ اپنی دنیا کے بهت بڑے انسان هوں اور میری باتیں آپ کو چؤل لگیں هوں اور چولوں کا آپ کے پاس وقت نه هو
    کیونکه آپ کے پاس ایک بڑی دنیا هے خوش آمد کرنے والی بھی
    بهر حال مجھے جو چیز آپ کی اچھی لگی اس کی پهلے بھی تعریف کی اب بھی سراهتا هوں .....
    جیسے آپ نے مختصر سا میرا فیس بک وال وزٹ کیا اس رات
    اور آج بھی اس ادهورے تعارف کےبنا پر پهلی بات چیت میں انتهائ عزت افزائ سے نوازا .....
    ایسے هی میں آپ سے مستقبل کے لئے درخواست کروں گا که پلیز .. آپ سے بات کرنے والا ایک طرح کا نهیں هوتا ... مجھے اس کے بعد نه آپ کو فالو کرنا هے اور نه هی آپ کے دوستوں کو ایڈ ... جو میں دوست بنا چکا ان میں سے جن سے میں بات کر چکا هوں وه ٹھیک باقی آپ کے حوالے هر بنده ڈیس ایبل نهیں هوتا .... هر بنده گاؤں سے نهیں هوتا .... هر بنده آپ سے فیسبک سیکھنے نهیں آتا... یه لائیو اچھی چیز هے لیکن عزت نفس کا خیال ....
    آپ کو الله پاک قدرتی طور پر جو نوازا هے آپ صرف ان صلاحیتوں کو صرف استعمال کرتے هیں ... اور بس باقی آپ کوئ اتنی مهان شخصیت نهیں کے .!.. آپ کی هر الٹی سیدهی برداشت کری جائے....
    زرا ویوڈیو میں اپنے الفاظ په غور کرنا که آپ نے مجھے که دیا کوئ بم پهوڑنا چاهتے هو ؟؟؟ چاهتے کیا هو؟؟؟....... ارے آپ نے خود کیا بنا لیا ... زرا غور کیجئے گا .... کوئ اور آپ کو شائد ایسے نه کهے کیونکه یا تو آپ کے آگے غریب هوتا هے یا آپکا هم خیال.....
    اور میں نه تو غریب هوں اور نه هی آپ کا هم خیال......
    میں نه الله کے فضل سے کمتر هوں...
    کسی مولوی سے ملتے هیں تو بڑی توقعات رکھتے هیں لوگ که آپ کو پروٹوکول دے اور آپ کے ساتھ اچھا تعلق رکھے اور آپ کو آهسته آهسته دین سمجھائے اور اپنی باری بنده زرا سا کیا هچکچایا .... دے مار ساڑھے چار

    ماشاءالله انسانیت اور اخلاقیات لیکچرز کا مواد اور سرٹیفیکیٹ بھی صرف آپ جیسی شخصیات کے پاس هوتا هے

    ..
    بهرحال اس کے بعد آپ کو ان فالو کرکے
    آپ کا شکریه بھی ادا کرتا هوں که آپ کے توسط سے مجھے کچھ دوست ملے
    جن میں. مثال میں خصوصی طور پر ایک 60 ساله خصوصی نومسلم بزرگ بھی تھا ... آپ کے فالورز میں تقریبا متاثر لوگ ماشاءالله اس سے گائڈ لائن تو لیتے رهے که هم اچھی قوم کیسے بنیں ؟؟؟ لیکن توفیق نه هوئ کسی کو که اس کو صحیح طور سے کوئ سوره فاتحه هی یاد کروادے....
    بهر حال اتنی گهرائ میں گلے شکوؤں کی وجه ماضی کی پسندیدگی بهی هے
    خوش رهیں اگر مجھے موقع ملا تو شائد .. انگلش والا شو اویل کروں اگر دل نے مانا اور آپ نے بلاک نه کیا
    کوئ بات بری لگی هو معزرت جیسے آپ نے اپنی فهم کے مطابق عزت افزائ سے نوازا .... میں نے ویڈیو غور سے دیکھنے کے بعد اپنے مطابق بولا بهر حال پهر بھی معزرت پیشگی
    Does anyone has power to insult anyone ? سر میں نے پهلے آپ کے کهے کے مطابق ویڈیو پوسٹ کر دی تھی پهر آپ هی کے کهنے پر غور سے دیکھی اور میں اس نتیجے په پهنچا آپ نے انتهائ نا مناسب رویه اپنایا ممکن هے آپ اپنی دنیا کے بهت بڑے انسان هوں اور میری باتیں آپ کو چؤل لگیں هوں اور چولوں کا آپ کے پاس وقت نه هو کیونکه آپ کے پاس ایک بڑی دنیا هے خوش آمد کرنے والی بھی بهر حال مجھے جو چیز آپ کی اچھی لگی اس کی پهلے بھی تعریف کی اب بھی سراهتا هوں ..... جیسے آپ نے مختصر سا میرا فیس بک وال وزٹ کیا اس رات اور آج بھی اس ادهورے تعارف کےبنا پر پهلی بات چیت میں انتهائ عزت افزائ سے نوازا ..... ایسے هی میں آپ سے مستقبل کے لئے درخواست کروں گا که پلیز .. آپ سے بات کرنے والا ایک طرح کا نهیں هوتا ... مجھے اس کے بعد نه آپ کو فالو کرنا هے اور نه هی آپ کے دوستوں کو ایڈ ... جو میں دوست بنا چکا ان میں سے جن سے میں بات کر چکا هوں وه ٹھیک باقی آپ کے حوالے هر بنده ڈیس ایبل نهیں هوتا .... هر بنده گاؤں سے نهیں هوتا .... هر بنده آپ سے فیسبک سیکھنے نهیں آتا... یه لائیو اچھی چیز هے لیکن عزت نفس کا خیال .... آپ کو الله پاک قدرتی طور پر جو نوازا هے آپ صرف ان صلاحیتوں کو صرف استعمال کرتے هیں ... اور بس باقی آپ کوئ اتنی مهان شخصیت نهیں کے .!.. آپ کی هر الٹی سیدهی برداشت کری جائے.... زرا ویوڈیو میں اپنے الفاظ په غور کرنا که آپ نے مجھے که دیا کوئ بم پهوڑنا چاهتے هو ؟؟؟ چاهتے کیا هو؟؟؟....... ارے آپ نے خود کیا بنا لیا ... زرا غور کیجئے گا .... کوئ اور آپ کو شائد ایسے نه کهے کیونکه یا تو آپ کے آگے غریب هوتا هے یا آپکا هم خیال..... اور میں نه تو غریب هوں اور نه هی آپ کا هم خیال...... میں نه الله کے فضل سے کمتر هوں... کسی مولوی سے ملتے هیں تو بڑی توقعات رکھتے هیں لوگ که آپ کو پروٹوکول دے اور آپ کے ساتھ اچھا تعلق رکھے اور آپ کو آهسته آهسته دین سمجھائے اور اپنی باری بنده زرا سا کیا هچکچایا .... دے مار ساڑھے چار ماشاءالله انسانیت اور اخلاقیات لیکچرز کا مواد اور سرٹیفیکیٹ بھی صرف آپ جیسی شخصیات کے پاس هوتا هے .. بهرحال اس کے بعد آپ کو ان فالو کرکے آپ کا شکریه بھی ادا کرتا هوں که آپ کے توسط سے مجھے کچھ دوست ملے جن میں. مثال میں خصوصی طور پر ایک 60 ساله خصوصی نومسلم بزرگ بھی تھا ... آپ کے فالورز میں تقریبا متاثر لوگ ماشاءالله اس سے گائڈ لائن تو لیتے رهے که هم اچھی قوم کیسے بنیں ؟؟؟ لیکن توفیق نه هوئ کسی کو که اس کو صحیح طور سے کوئ سوره فاتحه هی یاد کروادے.... بهر حال اتنی گهرائ میں گلے شکوؤں کی وجه ماضی کی پسندیدگی بهی هے خوش رهیں اگر مجھے موقع ملا تو شائد .. انگلش والا شو اویل کروں اگر دل نے مانا اور آپ نے بلاک نه کیا کوئ بات بری لگی هو معزرت جیسے آپ نے اپنی فهم کے مطابق عزت افزائ سے نوازا .... میں نے ویڈیو غور سے دیکھنے کے بعد اپنے مطابق بولا بهر حال پهر بھی معزرت پیشگی
    0 تبصرے 0 شیئرز 324 ویوز
  • ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
    جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
    بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
    یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
    "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
    سوچیئے!
    میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
    مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
    یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
    مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
    لیکن،
    سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
    ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
    اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
    اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔
    اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔

    -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس

    Via Lubna Shakoor
    ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔ جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟" سوچیئے! میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔ ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔ اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔ اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔ -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس Via Lubna Shakoor
    0 تبصرے 0 شیئرز 397 ویوز
  • وزیر اعظم نریندر مودی جی کی بیوی جددابین جی نے بھارت میں خوش آمدید کا خیرمقدم کیا
    .................................................. .................................................. ...........................................
    بھارت - پاکستان امن گجرات کے پٹن ضلع میں وزیر اعظم نریندر مودی جی کے والدین کا محاصرہ کے موقع پر چوتھا دن پر رکھتا ہے. انہوں نے اپنے حجاج کو اپنے گھر میں گرمی کا خیر مقدم کیا. انہوں نے اپنی خواہش پر ایک امن گانا بھی گانا. انہوں نے ہمیں پاکستان کے دورے کی کامیابی کے لئے بہترین خواہشات دی، اور امن کے لئے دعا کی، اور آج صبح وہ اپنے بھائی اشوک کے ساتھ واپس آئے اور سفر کی ٹیم کی سلامتی کی اور اگلی رکنی پر عمل کیا. یہ بات قابل ذکر ہے کہ جددابینجی ایک استاد ہے اور اس وقت اس کے گاؤں پر اپنے چھوٹے بھائی اشوک جی کے ساتھ رہتا ہے.
    وزیر اعظم نریندر مودی جی کی بیوی جددابین جی نے بھارت میں خوش آمدید کا خیرمقدم کیا .................................................. .................................................. ........................................... بھارت - پاکستان امن گجرات کے پٹن ضلع میں وزیر اعظم نریندر مودی جی کے والدین کا محاصرہ کے موقع پر چوتھا دن پر رکھتا ہے. انہوں نے اپنے حجاج کو اپنے گھر میں گرمی کا خیر مقدم کیا. انہوں نے اپنی خواہش پر ایک امن گانا بھی گانا. انہوں نے ہمیں پاکستان کے دورے کی کامیابی کے لئے بہترین خواہشات دی، اور امن کے لئے دعا کی، اور آج صبح وہ اپنے بھائی اشوک کے ساتھ واپس آئے اور سفر کی ٹیم کی سلامتی کی اور اگلی رکنی پر عمل کیا. یہ بات قابل ذکر ہے کہ جددابینجی ایک استاد ہے اور اس وقت اس کے گاؤں پر اپنے چھوٹے بھائی اشوک جی کے ساتھ رہتا ہے.
    0 تبصرے 0 شیئرز 193 ویوز
  • Do you agree ?

    میوزک اور موسیقی کو اسلام نے کہیں بھی منع نہیں کیا ہے اصل اشیاء میں اباحت اور جواز ہے جب تک کسی چیز پر نص قطعی سے حرمت کی دلیل نہ ہو ھمیں اس کے حرام کہنے کا کوئی حق نہیں ہے
    بخاری کی روایت میں خوشی اور اعیاد کے موقعوں پر موسیقی ثابت ہے نیز اس فن کے بڑے ماھرین مسلم دور کے علماء تھے
    دوسری بات غیر محرم خواتین کے ساتھ تصاویر یا ان سے ملاقات یہ کب سے حرام ھوگئیں اس پر دلیل آپ قرآن و سنت سے دیدیں کیوں کہ حرام ہونے کا آپ نے کہا ہے
    جو حرام ہے وہ قرآن میں واضح ہے اور وہ ہے
    وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (سورة الاسراء آیت 32

    Via Mufti Abuwamiz Fazal Hamdard
    Do you agree ? میوزک اور موسیقی کو اسلام نے کہیں بھی منع نہیں کیا ہے اصل اشیاء میں اباحت اور جواز ہے جب تک کسی چیز پر نص قطعی سے حرمت کی دلیل نہ ہو ھمیں اس کے حرام کہنے کا کوئی حق نہیں ہے بخاری کی روایت میں خوشی اور اعیاد کے موقعوں پر موسیقی ثابت ہے نیز اس فن کے بڑے ماھرین مسلم دور کے علماء تھے دوسری بات غیر محرم خواتین کے ساتھ تصاویر یا ان سے ملاقات یہ کب سے حرام ھوگئیں اس پر دلیل آپ قرآن و سنت سے دیدیں کیوں کہ حرام ہونے کا آپ نے کہا ہے جو حرام ہے وہ قرآن میں واضح ہے اور وہ ہے وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (سورة الاسراء آیت 32 Via Mufti Abuwamiz Fazal Hamdard
    0 تبصرے 0 شیئرز 587 ویوز
  • ‏MTCP 2 Pakistan

    ورکشاپ : پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری اور اس کے فروغ کا عملی طریقہ

    پاکستان اخوت کسان* نے *کرافٹر فاؤنڈیشن* کے تعاون سے لاہور میں “پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کے فروغ اور عملی طریقہ کار” “Paradoxical Agriculture”کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مورخہ 2 اور 3 فروری 2019 کیا ہے۔

    اس ورکشاپ کو معروف ماھر زراعت جناب آصف شریف کنڈکٹ کریں گے۔ آصف شریف Paradoxical Agriculture کے داعی کے طور پر دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، کارنل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او (FAO) کے ساتھ ملکر اس کے فروغ کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    یہ تربیتی ورکشاپ بلاشبہ سیکھنے اور ترقی کے خواھش مند کسانوں کے لیے ایک نادر موقع ھے۔ ورکشاپ کا پروگرام حسب ذیل ترتیب دیا گیا ھے۔

    ہفتہ 2 فروری
    پہلی نشست:
    صبح 10 سے دو پہر 2 بجے
    لنچ 2 سے 3 بجےسہ پہر
    دوسری نشست:
    3 سے 5:30 بجے شام
    بمقام: پاک ہیریٹیج ہوٹل، ڈیوس روڈ لاہور

    ورکشاپ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:-

    1. کاشتکاری کے لئے زمین کی زرخیزی کیوں اہم ہے؟؟

    2. مسلسل کوشش کے باوجود ہماری آباد زمینوں کی زرخیزی بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟؟

    3. ہماری زمینوں میں لگائی جانے والی فصلوں پر ہر آنے والے سال بیماریاں کیوں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں؟؟

    4. زمینوں کی زرخیزی کیسے چند ہی ماہ میں اطمینان بخش حد تک بڑھائی جا سکتی ہے؟؟

    5. پھر ہر فصل پر وہ کم ہونے کی بجائے نہ صرف برقرار بلکہ مزید بہتر کیسی ہو سکتی ہے؟؟

    6. ان مقاصد کا حصول کس بھی قسم کے اضافی اخراجات کے بغیر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟؟؟

    7. بنجر اور کلر زدہ زمینوں کی تیز تر اصلاح اور انھیں جلد منافع بخش بنانے کا کیا طریقہ کار ھے؟؟؟

    8. زمین کی تیاری، دوایوں اور پانی بجلی وغیرہ پر ہونے والے اخراجات کو بتدریج کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟؟؟

    9. وقت کی ایسی بچت کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک ہی کھیت سے دو تین کی بجائے سال میں پانچ چھ فصلیں لے سکیں؟؟؟

    10. آبپاشی کے نظام جیسے سپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن پر اضافی خرچ کئے بغیر پانی کی ساٹھ فیصد تک بچت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد حاصل کرنا کیسے ممکن ھے؟؟؟

    11. کیمیائی کھادوں کی بچت پہلی ہی فصل سے ۵۰ فیصد تک کیسے کی جا سکتی ہے اور پھر بتدریج ان کے استعمال سے مکمل ہی جان چھڑوا کر منافع بخش اور صحت مند پیداوار کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟؟؟

    12. جڑی بوٹی (ویڈی سائیڈز) اور پھپھوندی مار زھروں (فنجی سائیڈز) کے استعمال سے دوسری تیسری فصل تک چھٹکارہ کیسے ممکن ھے؟؟؟

    13. بتدریج کیڑے مار زھروں (انسیکٹی سائیڈز) کے استعمال کم سے کم کرنا کیسے ممکن ہے؟؟؟

    14. وہ کیا طریقہ کار ہے کہ جس سے ایک غریب گھرانہ ایک ڈیڑھ ایکڑ زمین پر کاشتکاری سے خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے؟؟؟

    15. ٹنل فارمنگ سے ملتے جلتے فوائد کا حصول ٹنل کے بغیر کیسے ممکن ہے؟؟؟

    16. ایک ہی کھیت میں فصل اور باغات کیسے لگائیں جائیں کہ وہ ایک دوسرے کی پیداوار پر منفی کی بجائے مثبت اثرات دیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں؟؟؟

    17. اس کے علاوہ سیڈ کواپریٹو بینک بنانے کے امکانات اور اس کے فوائد پر بھی بات ہو گی۔

    اطمینان رہے کہ یہ سب کچھ صرف کاشتکاری کے طریقہ کار کو سیکھنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جانتے ہی ہونگے کسی بھی غیر مروجہ طریقہ کار کو سیکھ اور سمجھ کر اپنا لینا متوسط درجہ کے اذہان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ کسی چیز کے مروج ہو جانے کے بعد ہی پیروی کر سکتے ہیں۔

    اتوار 3 فروری 2019
    دوسرا دن: فیلڈ وزٹ (تعلیمی دورہ)

    ہوٹل سے روانگی برائے سکھیکی: صبح 9 بجے

    چائے: صبح 10:30 بجے

    پقنک پر کاشت کردہ فصلوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: صبح 11 بجے

    لنچ: 2 سے 3 بجے دوپہر

    پقنک سے متعلق مشینوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: 3 بجے شام

    رونگی برائے لاہور: 4 بجے شام

    رجسٹریشن فیس (بشمول دونوں دن کا لنچ، چائے اور لاہور سے سکھیکی اور واپسی کا سفر): 2,000 روپے

    رابطہ برائے رجسٹریشن:

    ‏‎مس صائمہ
    +92 321 4223613

    نوٹ:
    ۱– رجسٹریشن پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ کہ انتظامات صرف ۵۰ لوگوں کے لئے ممکن ہو سکے۔

    ۲۔ باہر سے آنے والے احباب کے لئے پاک ہیریٹیج ہوٹل میں رعایتی نرخوں پر رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    سنگل روم؛ 2000 روپے
    ڈبل بیڈ؛ 3500 روپے
    ٹریپل بیڈ؛ 4000 روپے

    جو دوست رات ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں وہ مس صائمہ سے رابطہ کریں۔
    ‏MTCP 2 Pakistan ورکشاپ : پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری اور اس کے فروغ کا عملی طریقہ پاکستان اخوت کسان* نے *کرافٹر فاؤنڈیشن* کے تعاون سے لاہور میں “پائیدار قدرتی نظامِ کاشتکاری کے فروغ اور عملی طریقہ کار” “Paradoxical Agriculture”کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مورخہ 2 اور 3 فروری 2019 کیا ہے۔ اس ورکشاپ کو معروف ماھر زراعت جناب آصف شریف کنڈکٹ کریں گے۔ آصف شریف Paradoxical Agriculture کے داعی کے طور پر دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، کارنل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او (FAO) کے ساتھ ملکر اس کے فروغ کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تربیتی ورکشاپ بلاشبہ سیکھنے اور ترقی کے خواھش مند کسانوں کے لیے ایک نادر موقع ھے۔ ورکشاپ کا پروگرام حسب ذیل ترتیب دیا گیا ھے۔ ہفتہ 2 فروری پہلی نشست: صبح 10 سے دو پہر 2 بجے لنچ 2 سے 3 بجےسہ پہر دوسری نشست: 3 سے 5:30 بجے شام بمقام: پاک ہیریٹیج ہوٹل، ڈیوس روڈ لاہور ورکشاپ میں جن موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:- 1. کاشتکاری کے لئے زمین کی زرخیزی کیوں اہم ہے؟؟ 2. مسلسل کوشش کے باوجود ہماری آباد زمینوں کی زرخیزی بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟؟ 3. ہماری زمینوں میں لگائی جانے والی فصلوں پر ہر آنے والے سال بیماریاں کیوں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں؟؟ 4. زمینوں کی زرخیزی کیسے چند ہی ماہ میں اطمینان بخش حد تک بڑھائی جا سکتی ہے؟؟ 5. پھر ہر فصل پر وہ کم ہونے کی بجائے نہ صرف برقرار بلکہ مزید بہتر کیسی ہو سکتی ہے؟؟ 6. ان مقاصد کا حصول کس بھی قسم کے اضافی اخراجات کے بغیر کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟؟؟ 7. بنجر اور کلر زدہ زمینوں کی تیز تر اصلاح اور انھیں جلد منافع بخش بنانے کا کیا طریقہ کار ھے؟؟؟ 8. زمین کی تیاری، دوایوں اور پانی بجلی وغیرہ پر ہونے والے اخراجات کو بتدریج کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟؟؟ 9. وقت کی ایسی بچت کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک ہی کھیت سے دو تین کی بجائے سال میں پانچ چھ فصلیں لے سکیں؟؟؟ 10. آبپاشی کے نظام جیسے سپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن پر اضافی خرچ کئے بغیر پانی کی ساٹھ فیصد تک بچت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد حاصل کرنا کیسے ممکن ھے؟؟؟ 11. کیمیائی کھادوں کی بچت پہلی ہی فصل سے ۵۰ فیصد تک کیسے کی جا سکتی ہے اور پھر بتدریج ان کے استعمال سے مکمل ہی جان چھڑوا کر منافع بخش اور صحت مند پیداوار کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟؟؟ 12. جڑی بوٹی (ویڈی سائیڈز) اور پھپھوندی مار زھروں (فنجی سائیڈز) کے استعمال سے دوسری تیسری فصل تک چھٹکارہ کیسے ممکن ھے؟؟؟ 13. بتدریج کیڑے مار زھروں (انسیکٹی سائیڈز) کے استعمال کم سے کم کرنا کیسے ممکن ہے؟؟؟ 14. وہ کیا طریقہ کار ہے کہ جس سے ایک غریب گھرانہ ایک ڈیڑھ ایکڑ زمین پر کاشتکاری سے خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے؟؟؟ 15. ٹنل فارمنگ سے ملتے جلتے فوائد کا حصول ٹنل کے بغیر کیسے ممکن ہے؟؟؟ 16. ایک ہی کھیت میں فصل اور باغات کیسے لگائیں جائیں کہ وہ ایک دوسرے کی پیداوار پر منفی کی بجائے مثبت اثرات دیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں؟؟؟ 17. اس کے علاوہ سیڈ کواپریٹو بینک بنانے کے امکانات اور اس کے فوائد پر بھی بات ہو گی۔ اطمینان رہے کہ یہ سب کچھ صرف کاشتکاری کے طریقہ کار کو سیکھنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جانتے ہی ہونگے کسی بھی غیر مروجہ طریقہ کار کو سیکھ اور سمجھ کر اپنا لینا متوسط درجہ کے اذہان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ کسی چیز کے مروج ہو جانے کے بعد ہی پیروی کر سکتے ہیں۔ اتوار 3 فروری 2019 دوسرا دن: فیلڈ وزٹ (تعلیمی دورہ) ہوٹل سے روانگی برائے سکھیکی: صبح 9 بجے چائے: صبح 10:30 بجے پقنک پر کاشت کردہ فصلوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: صبح 11 بجے لنچ: 2 سے 3 بجے دوپہر پقنک سے متعلق مشینوں کا مشاہدہ اور بریفنگ: 3 بجے شام رونگی برائے لاہور: 4 بجے شام رجسٹریشن فیس (بشمول دونوں دن کا لنچ، چائے اور لاہور سے سکھیکی اور واپسی کا سفر): 2,000 روپے رابطہ برائے رجسٹریشن: ‏‎مس صائمہ +92 321 4223613 نوٹ: ۱– رجسٹریشن پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر ہو گی۔ کہ انتظامات صرف ۵۰ لوگوں کے لئے ممکن ہو سکے۔ ۲۔ باہر سے آنے والے احباب کے لئے پاک ہیریٹیج ہوٹل میں رعایتی نرخوں پر رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: سنگل روم؛ 2000 روپے ڈبل بیڈ؛ 3500 روپے ٹریپل بیڈ؛ 4000 روپے جو دوست رات ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں وہ مس صائمہ سے رابطہ کریں۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 451 ویوز
More Results