• #rsisb
    Roll No.240
    Story No.33
    Level One

    اس خوبصورت اور مزاحیہ کہانی میں مولانا نصرالدین ایک دن بازار سے ایک نیا اور خوبصورت کوٹ خریدتے ہیں۔ وہ نیا کوٹ پہن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور بڑے فخر سے لوگوں کے درمیان چلتے ہیں۔

    لیکن کچھ ہی دیر بعد حالات بدل جاتے ہیں! بارش شروع ہو جاتی ہے اور مولانا کا نیا کوٹ خراب ہو جاتا ہے۔ گھر واپس پہنچ کر وہ اپنی اس صورتحال کو دیکھتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اپنی حاضر جوابی سے ایک دلچسپ بات کہتے ہیں۔

    یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظاہری لباس اور چیزیں ہمیشہ نہیں رہتیں، اصل خوبصورتی اچھے اخلاق، سادگی اور خوش مزاجی میں ہے۔

    ہنسی، مزاح اور سبق سے بھرپور یہ کہانی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے دلچسپ ہے۔

    #MullaNasruddin #MullaNasruddinStories #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MazaahiyaKahani #MoralStory #UrduStories #Learning #Education #RehanSchool #StoryTime

    Rehan School Islamabad Campus
    Asma Shaheen EducationWali
    Irum Asim Leadershipwali
    Saima Empowerment Wali


    #rsisb Roll No.240 Story No.33 Level One اس خوبصورت اور مزاحیہ کہانی میں مولانا نصرالدین ایک دن بازار سے ایک نیا اور خوبصورت کوٹ خریدتے ہیں۔ وہ نیا کوٹ پہن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور بڑے فخر سے لوگوں کے درمیان چلتے ہیں۔ 😄🧥 لیکن کچھ ہی دیر بعد حالات بدل جاتے ہیں! 🌧️😅 بارش شروع ہو جاتی ہے اور مولانا کا نیا کوٹ خراب ہو جاتا ہے۔ گھر واپس پہنچ کر وہ اپنی اس صورتحال کو دیکھتے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اپنی حاضر جوابی سے ایک دلچسپ بات کہتے ہیں۔ 😂 یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظاہری لباس اور چیزیں ہمیشہ نہیں رہتیں، اصل خوبصورتی اچھے اخلاق، سادگی اور خوش مزاجی میں ہے۔ 🌟❤️ 🎭 ہنسی، مزاح اور سبق سے بھرپور یہ کہانی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے دلچسپ ہے۔ 📚😊 #MullaNasruddin #MullaNasruddinStories #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MazaahiyaKahani #MoralStory #UrduStories #Learning #Education #RehanSchool #StoryTime 😂📖🧥✨ Rehan School Islamabad Campus Asma Shaheen EducationWali Irum Asim Leadershipwali Saima Empowerment Wali
    0 تبصرے 0 شیئرز 1033 ویوز
  • #rsisb
    Roll No.240
    Story No.31
    Level One

    ایک دن مولانا نصرالدین ایک بازار سے گزر رہے تھے۔ وہاں ایک دکاندار گرم گرم سوپ بیچ رہا تھا۔ سوپ کی خوشبو اتنی مزیدار تھی کہ مولانا رک گئے اور خوشبو سے لطف اندوز ہونے لگے۔

    دکاندار نے کہا کہ اگر مولانا نے سوپ نہیں خریدا تو کم از کم اس کی خوشبو سے فائدہ اٹھانے کی قیمت دینی ہوگی۔ مولانا نے اپنی حاضر جوابی سے ایسا جواب دیا کہ دکاندار حیران رہ گیا۔

    مولانا نے جیب سے سکے نکالے اور انہیں آپس میں بجایا۔ پھر بولے:
    "یہ لو، سوپ کی خوشبو کے بدلے پیسوں کی آواز!"

    اس دلچسپ واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حاضر جوابی، عقل اور مزاح مشکل حالات کو بھی آسان بنا سکتے ہیں۔

    #MullaNasruddin #مولانا_نصرالدین #UrduStory #FunnyStory #MoralStory #UrduKahani #Wisdom #Cleverness #Storytelling #FunnyKahani #NasruddinStories

    Rehan School Islamabad Campus
    Asma Shaheen EducationWali
    Irum Asim Leadershipwali
    Saima Empowerment Wali

    #rsisb Roll No.240 Story No.31 Level One ایک دن مولانا نصرالدین ایک بازار سے گزر رہے تھے۔ وہاں ایک دکاندار گرم گرم سوپ بیچ رہا تھا۔ سوپ کی خوشبو اتنی مزیدار تھی کہ مولانا رک گئے اور خوشبو سے لطف اندوز ہونے لگے۔ 🍲😋 دکاندار نے کہا کہ اگر مولانا نے سوپ نہیں خریدا تو کم از کم اس کی خوشبو سے فائدہ اٹھانے کی قیمت دینی ہوگی۔ مولانا نے اپنی حاضر جوابی سے ایسا جواب دیا کہ دکاندار حیران رہ گیا۔ 😄 مولانا نے جیب سے سکے نکالے اور انہیں آپس میں بجایا۔ پھر بولے: "یہ لو، سوپ کی خوشبو کے بدلے پیسوں کی آواز!" 😂🪙 اس دلچسپ واقعے سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حاضر جوابی، عقل اور مزاح مشکل حالات کو بھی آسان بنا سکتے ہیں۔ 🧠✨ #MullaNasruddin #مولانا_نصرالدین #UrduStory #FunnyStory #MoralStory #UrduKahani #Wisdom #Cleverness #Storytelling #FunnyKahani #NasruddinStories 😂📖🍲🪙✨ Rehan School Islamabad Campus Asma Shaheen EducationWali Irum Asim Leadershipwali Saima Empowerment Wali
    0 تبصرے 0 شیئرز 1079 ویوز
  • Level 1
    Book 1
    Day 7
    Task story post 2
    مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
    ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔"
    وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
    ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔"
    سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔
    Summary
    ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔
    Moral
    ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
    Hashtags
    #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking
    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Shazia Javed
    Waryam Tharparkar Wala
    Level 1 Book 1 Day 7 Task story post 2 مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی 🪙 ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔ ✨ ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔" وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔ 😊 ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔" ❤️ سبق 🌟 ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔ 📖 Summary ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔ 🌟 Moral ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Shazia Javed Waryam Tharparkar Wala
    0 تبصرے 0 شیئرز 2065 ویوز
  • Level 1
    Book 1
    Day 1
    Week 1
    Task Story post 1
    مولانا نصرالدین اور انگوٹھی
    ایک دن مولانا نصرالدین کو احساس ہوا کہ ان کی قیمتی انگوٹھی کہیں گم ہو گئی ہے۔
    وہ فوراً گھر سے باہر نکلے اور گلی میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ وہ زمین پر جھک کر ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔
    ایک پڑوسی نے پوچھا،
    "مولانا! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟"
    مولانا نے جواب دیا،
    "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے!"
    پڑوسی نے پوچھا،
    "انگوٹھی کہاں گمی تھی؟"
    مولانا بولے،
    "گھر کے اندر!"
    پڑوسی حیران ہو کر بولا،
    "تو پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"
    مولانا مسکرا کر بولے،
    "کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے، اس لیے یہاں تلاش کرنا آسان ہے!"
    پڑوسی نے سر پکڑ لیا اور کہا،
    "مولانا! چیز جہاں گم ہو، اسے وہیں تلاش کرنا چاہیے۔"
    سبق
    ہمیں آسان راستہ دیکھنے کے بجائے صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔
    #️⃣ Hashtags:
    #MullaNasruddin #MoralStory #UrduStory #سبق_آموز_کہانی #حکمت_کی_بات #FunnyStory
    Tania Khan Mentorship Wali
    Waryam Tharparkar Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Shazia Javed See less
    Level 1 Book 1 Day 1 Week 1 Task Story post 1 🌟 مولانا نصرالدین اور انگوٹھی 💍 ایک دن مولانا نصرالدین کو احساس ہوا کہ ان کی قیمتی انگوٹھی کہیں گم ہو گئی ہے۔ 😟💍 وہ فوراً گھر سے باہر نکلے اور گلی میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ وہ زمین پر جھک کر ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ 🔍 ایک پڑوسی نے پوچھا، "مولانا! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟" مولانا نے جواب دیا، "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے!" پڑوسی نے پوچھا، "انگوٹھی کہاں گمی تھی؟" مولانا بولے، "گھر کے اندر!" 🏠 پڑوسی حیران ہو کر بولا، "تو پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟" 😮 مولانا مسکرا کر بولے، "کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے، اس لیے یہاں تلاش کرنا آسان ہے!" 😂 پڑوسی نے سر پکڑ لیا اور کہا، "مولانا! چیز جہاں گم ہو، اسے وہیں تلاش کرنا چاہیے۔" 🌱 سبق ہمیں آسان راستہ دیکھنے کے بجائے صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ 💡 #️⃣ Hashtags: #MullaNasruddin #MoralStory #UrduStory #سبق_آموز_کہانی #حکمت_کی_بات #FunnyStory 📖✨ Tania Khan Mentorship Wali Waryam Tharparkar Wala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Shazia Javed See less
    0 تبصرے 0 شیئرز 1381 ویوز
  • کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک رات مولانا نصرالدین اپنے گھر کے باہر گلی میں کھمبے کے نیچے بیٹھے ہوئے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ ایک شخص وہاں سے گزرتا ہے اور مولانا کو دیکھ کر پوچھتا ہے، "مولانا، آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟"

    مولانا نے جواب دیا، "میری چابیاں گم ہو گئی ہیں، میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔"

    یہ سن کر وہ شخص بھی مدد کرنے کے لیے مولانا کے ساتھ چابیاں تلاش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اور لوگ بھی وہاں سے گزرتے ہیں اور انہیں بھی مولانا کی مدد کے لیے چابیاں تلاش کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کافی لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں اور سب کھمبے کے نیچے چابیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

    کافی دیر گزر جاتی ہے، تقریباً ایک یا دو گھنٹے ہو جاتے ہیں، لیکن چابیاں نہیں ملتیں۔ آخر کار، ان میں سے ایک شخص جو تنگ آ چکا ہوتا ہے، مولانا سے پوچھتا ہے، "مولانا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی چابیاں یہاں گری تھیں؟"

    مولانا نصرالدین مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، "نہیں، میری چابیاں تو گھر کے اندر گری تھیں۔"

    یہ سن کر وہ شخص حیران ہو کر کہتا ہے، "پھر آپ یہاں باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"

    مولانا بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں، "کیونکہ یہاں روشنی ہے اور اندر اندھیرا ہے۔"

    یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اکثر اپنے مسائل کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں آسانی ہوتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ واقعاً موجود ہوتا ہے۔ مولانا نصرالدین کی یہ کہانی ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں اصل مسئلہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
    کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک رات مولانا نصرالدین اپنے گھر کے باہر گلی میں کھمبے کے نیچے بیٹھے ہوئے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ ایک شخص وہاں سے گزرتا ہے اور مولانا کو دیکھ کر پوچھتا ہے، "مولانا، آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟" مولانا نے جواب دیا، "میری چابیاں گم ہو گئی ہیں، میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔" یہ سن کر وہ شخص بھی مدد کرنے کے لیے مولانا کے ساتھ چابیاں تلاش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اور لوگ بھی وہاں سے گزرتے ہیں اور انہیں بھی مولانا کی مدد کے لیے چابیاں تلاش کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کافی لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں اور سب کھمبے کے نیچے چابیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ کافی دیر گزر جاتی ہے، تقریباً ایک یا دو گھنٹے ہو جاتے ہیں، لیکن چابیاں نہیں ملتیں۔ آخر کار، ان میں سے ایک شخص جو تنگ آ چکا ہوتا ہے، مولانا سے پوچھتا ہے، "مولانا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی چابیاں یہاں گری تھیں؟" مولانا نصرالدین مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، "نہیں، میری چابیاں تو گھر کے اندر گری تھیں۔" یہ سن کر وہ شخص حیران ہو کر کہتا ہے، "پھر آپ یہاں باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟" مولانا بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں، "کیونکہ یہاں روشنی ہے اور اندر اندھیرا ہے۔" یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اکثر اپنے مسائل کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں آسانی ہوتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ واقعاً موجود ہوتا ہے۔ مولانا نصرالدین کی یہ کہانی ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں اصل مسئلہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
    0 تبصرے 0 شیئرز 306 ویوز