• RSIF8
    Roll no:09
    TEDx Talk no: 11
    TEDx Talk topic: “Moving Forward” — جنت علی
    ‍ “Moving Forward” — جنت علی ‍

    “Moving Forward” ہمیں سکھاتا ہے کہ مضبوط رہیں، اپنے تجربات سے سیکھیں اور اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھتے رہیں۔ زندگی میں مشکلات اور ناکامیاں آ سکتی ہیں، لیکن ہر تجربہ ہمیں کچھ نیا سکھاتا ہے۔

    اپنے آپ پر یقین رکھیں، سیکھتے رہیں اور کبھی آگے بڑھنا نہ چھوڑیں!

    #MovingForward #JannatAli #حوصلہ #موٹیویشن #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #محنت #آگے_بڑھیں #کبھی_ہار_نہ_مانیں
    RSIF8 Roll no:09 TEDx Talk no: 11 TEDx Talk topic: “Moving Forward” — جنت علی 🚶‍♀️✨ “Moving Forward” — جنت علی ✨🚶‍♀️ “Moving Forward” ہمیں سکھاتا ہے کہ مضبوط رہیں، اپنے تجربات سے سیکھیں اور اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھتے رہیں۔ 🌱💪 زندگی میں مشکلات اور ناکامیاں آ سکتی ہیں، لیکن ہر تجربہ ہمیں کچھ نیا سکھاتا ہے۔ 📚🌈 اپنے آپ پر یقین رکھیں، سیکھتے رہیں اور کبھی آگے بڑھنا نہ چھوڑیں! 🚀💫 #MovingForward #JannatAli #حوصلہ #موٹیویشن #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #محنت #آگے_بڑھیں #کبھی_ہار_نہ_مانیں 🌟💪🇵🇰
    0 Commentaires 0 Parts 1875 Vue 7
  • RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no: 10(urdu)
    TEdx Talk topic: Log Kya Kahien Gey – Moiz Shaukat.

    “لوگ کیا کہیں گے” — معیز شوکت

    یہ موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” کے خوف کو اپنے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کی اچھی باتوں سے سیکھنا چاہیے، اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے اور ہر دن خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    #لوگ_کیا_کہیں_گے #معیز_شوکت #حوصلہ #موٹیویشن #کامیابی #خود_اعتمادی #اپنے_خواب #مثبت_سوچ #محنت #کامیابی_کی_طرف
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no: 10(urdu) TEdx Talk topic: Log Kya Kahien Gey – Moiz Shaukat. 🌟 “لوگ کیا کہیں گے” — معیز شوکت 🌟 یہ موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” کے خوف کو اپنے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ 💭💪 ہمیں دوسروں کی اچھی باتوں سے سیکھنا چاہیے، اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے اور ہر دن خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 🌱🚀✨ #لوگ_کیا_کہیں_گے #معیز_شوکت #حوصلہ #موٹیویشن #کامیابی #خود_اعتمادی #اپنے_خواب #مثبت_سوچ #محنت #کامیابی_کی_طرف 🌟💫🇵🇰
    0 Commentaires 0 Parts 2767 Vue 2
  • RSIF8
    RollNO: 99
    TEDx Talk NO :4
    TEDx topic:# اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانو – عمران خان
    خواب ہی ہر بڑی کامیابی کی پہلی بنیاد ہوتے ہیں۔ **"اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانو"** ایک طاقتور پیغام ہے جو عمران خان کے سفر، عزم، حوصلے اور ثابت قدمی سے متاثر ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ مشکلات، ناکامیوں اور صبر سے گزرتا ہے۔ جب دنیا آپ کو رکنے کا کہے، تب بھی خود پر یقین رکھیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ خواب پورے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن محنت، یقین اور مستقل مزاجی سے انہیں حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔ **کبھی ہمت نہ ہاریں، کیونکہ شاید آپ کی سب سے بڑی کامیابی صرف ایک قدم دور ہو۔**
    #کبھی_ہار_نہ_مانو #خواب #عمران_خان #حوصلہ #کامیابی #موٹیویشن #یقین
    RSIF8 RollNO: 99 TEDx Talk NO :4 TEDx topic:# اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانو – عمران خان خواب ہی ہر بڑی کامیابی کی پہلی بنیاد ہوتے ہیں۔ **"اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانو"** ایک طاقتور پیغام ہے جو عمران خان کے سفر، عزم، حوصلے اور ثابت قدمی سے متاثر ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ مشکلات، ناکامیوں اور صبر سے گزرتا ہے۔ جب دنیا آپ کو رکنے کا کہے، تب بھی خود پر یقین رکھیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ خواب پورے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن محنت، یقین اور مستقل مزاجی سے انہیں حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔ **کبھی ہمت نہ ہاریں، کیونکہ شاید آپ کی سب سے بڑی کامیابی صرف ایک قدم دور ہو۔** #کبھی_ہار_نہ_مانو #خواب #عمران_خان #حوصلہ #کامیابی #موٹیویشن #یقین
    0 Commentaires 0 Parts 2138 Vue 3
  • RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:05(Urdu)
    TEDx Talk topic: "Power of a Single Decision" by Zara Noor Abbas (Review video in & Urdu).
    ایک فیصلے کی طاقت – زارا نور عباس

    ہماری زندگی ہمارے فیصلوں سے بنتی ہے۔ زارا نور عباس کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مثبت فیصلہ ہماری سوچ، عادات اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگر ہم خود پر یقین رکھیں، خوف کا سامنا کریں اور درست راستہ اختیار کریں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ آئیں آج ہی ایک ایسا فیصلہ کریں جو ہمیں ہمارے خوابوں کے قریب لے جائے۔

    #ایک_فیصلے_کی_طاقت #زارا_نور_عباس #اردو #حوصلہ #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #تعلیم #طلبہ #ترقی #موٹیویشن
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:05(Urdu) TEDx Talk topic: "Power of a Single Decision" by Zara Noor Abbas (Review video in & Urdu). 🌟 ایک فیصلے کی طاقت – زارا نور عباس 🎤💙 ہماری زندگی ہمارے فیصلوں سے بنتی ہے۔ ✨ زارا نور عباس کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مثبت فیصلہ ہماری سوچ، عادات اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے۔ 💪📚 اگر ہم خود پر یقین رکھیں، خوف کا سامنا کریں اور درست راستہ اختیار کریں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ 🌱🚀 آئیں آج ہی ایک ایسا فیصلہ کریں جو ہمیں ہمارے خوابوں کے قریب لے جائے۔ 🌟 #ایک_فیصلے_کی_طاقت #زارا_نور_عباس #اردو #حوصلہ #کامیابی #مثبت_سوچ #خود_پر_یقین #تعلیم #طلبہ #ترقی #موٹیویشن 💙✨
    0 Commentaires 0 Parts 4676 Vue 8
  • RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:04(urdu)
    TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu).
    "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان

    خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔

    #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:04(urdu) TEDx Talk topic: “Never Give Up on Your Dreams” – Imran Khan (Review video in urdu). 🌟 "اپنے خوابوں سے کبھی ہار نہ مانیں" – عمران خان 💙🎤 خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن پر یقین رکھا جائے اور جن کے لیے مسلسل محنت کی جائے۔ 💪✨ عمران خان کی یہ متاثر کن گفتگو ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز صبر، محنت، مستقل مزاجی اور خود پر اعتماد میں ہے۔ 🌱🚀 مشکلات راستہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے آتی ہیں۔ اپنے خوابوں پر یقین رکھیں، ہمت نہ ہاریں، اور اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔ 🌟📚 #کبھی_ہار_نہ_مانیں #عمران_خان #اپنے_خواب #محنت #کامیابی #حوصلہ #ترقی #تعلیم #طلبہ #خود_پر_یقین #اردو #موٹیویشن 💙✨
    0 Commentaires 0 Parts 5392 Vue 6
  • السلام و علیکم سر ریحان صاحب میں ایک موٹیویشنل سپیکر بننا چاہتا ہوں الحمدللہ اس کی پریکٹس بھی کر رہا ہوں اور مطالعہ بھی کرتا ہوں بکس کا

    آپکا کیا مشورہ ہے اس بارے میں ?
    السلام و علیکم سر ریحان صاحب میں ایک موٹیویشنل سپیکر بننا چاہتا ہوں الحمدللہ اس کی پریکٹس بھی کر رہا ہوں اور مطالعہ بھی کرتا ہوں بکس کا آپکا کیا مشورہ ہے اس بارے میں ?
    0 Commentaires 0 Parts 1076 Vue
  • زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے

    اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185

    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ‎﴿١٨٥﴾‏

    ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185)

    راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔

    میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔

    راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔

    اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔

    Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
    زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے تو یہ سوچو کے جب زندگی نہیں رہے گی تو آپ کے پاس کیا ہوگا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا پیغام اپنے صحابہ کو دیا تو ان کے دلوں سے دنیا کا لگاؤ خود ختم ہوگیا جتنی بھی احادیث میں نے پڑھیں ہیں ان میں مجھے ایسا کوئی لمحہ نہیں ملا کے جب کسی صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو کے ہم دولت کیسے کمائیں کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھا دی تھی کے یہ زندگی بھر حال ختم ہو جانی ہے اور الله تعالیٰ نے تو یہ آیت نازل کر کے سارا مسئلہ ہی ختم کردیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت 185 كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ‎﴿١٨٥﴾‏ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں، (185) راہی بات غربت کے خاتمے کی تو یہ بھی ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے انسان کو موٹیویشنل اسپیکر لگا دیتے ہیں۔ میں اپنی زندگی سے یہی سیکھ سکا ہوں کے دولت کا انا یا نہ انا سب قدرت کے کھیل ہیں میں نے بہت سے قابل لوگ ڈگریاں ہاتھ میں لئے جاہل اور کم پڑھے لکھے سیٹھوں کے سامنے نوکری مانگتے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کے کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں کے دبئی میں نوکری مل جائے لیکن نہیں ملتی کچھ لوگ کھیل ہی کھیل میں نوکری کی درخواست دیتے ہیں اور دبئی میں ان کی بہت ہی اچھی نوکری لگ جاتی ہے کچھ اپنا خرچہ کر کے دبئی پہنچ جاتے ہیں اور ہر دفتر کا چکر لگاتے ہیں پھر بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے اور اس سب کچھ میں کوئی تعلیم کوئی ہنر کوئی واسطہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ راہی بات غربت مٹانے کی تو انسان نے دنیا میں نظام ایسا بنایا ہے کے آپ جس سطح پر موجود ہونگے اس سے اپر کی سطح کی زندگی آپ کو اچھی لگے گی اور آپ خود کو اپنے سے اپر والے کے نزدیک کم ہی سمجھتے رہیں گے یہاں تک کے آپ الله کی تقسیم میں خود کو راضی کر لیں اور اپنا دھیان مال دولت کے آنے جانے سے ہٹا کر جتنا ہے اتنے میں خوشی تلاش کرنے لگ جائیں۔ اللّٰہ سے دعا ہے کے وہ سب کے دلوں میں سکون پیدا کرے اور سب کو اپنی رضا میں راضی رہنے والا بنا دے۔ Via Abdul Ali Muhammad Iqbal
    0 Commentaires 0 Parts 1628 Vue
  • ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟
    #مولانا_محمد_جہان_یعقوب

    ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟
    آگے چلیے!
    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟
    آگے چلیے!
    اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے!

    ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!!

    ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!!

    ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔

    ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔

    اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم!

    Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob

    Jamia Binoria International [Official]
    ریحان اللہ والاکون ہے؟کیاکرتاہے؟کیاچاہتاہے؟ #مولانا_محمد_جہان_یعقوب ریحان اللہ والاایجنٹ ہے،جی ہاں!ایجنٹ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!دیوانہ،مگرکس کا؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک مضطرب،بے تاب،بے کل وبے چین روح کانام ہے،،مگریہ بے چینی کس کے لیے ہے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،مگرکس کے لیے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو،مگرکون سا؟کیسے؟ آگے چلیے! ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے،مگریہ کیسے ممکن ہے؟ آگے چلیے! اب ہم آپ کوبتاتے ہیں۔ریحان اللہ والا،اللہ رسول کاایجنٹ ہے،کیونکہ اللہ رسول کی تعلیم ہے کہ ا]پنی ذات سے بلندہوکرسوچو،دوسروں کے لیے بھی وہی پسندکروجواپنے لیے پسندکرتے ہو،اوروں کے لیے اپنے دل میں ایثاروقربانی کے جذبات رکھاکرواوروقت آنے پراِن کاعملی اظہارکیاکرو،اپنانقصان برداشت کرلومگرکسی کواپنی خاطرنقصان نہ دو،سارے جہاں کے تم ٹھیکے دارنہیں مگردعاسب کے لیے کرسکتے ہو،نیت سب کے لے اچھی رکھ سکتے ہو،بھلاسب کاچاہ سکتے ہو،راہ نمائی سب کی کرسکتے ہو۔ریحان اللہ والایہی کررہاہے،وہ کہتاہے:اپنے لیے توسبھی جیتے ہیں اوروں کے لیے جیناسیکھو،وہ یقین رکھتاہے:یہی ہے عبادت یہی دین وایماں،کہ کام آئے دنیامیں انساں کے انساں،اس کاایمان ہے:ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے،آتے ہیں جوکام دوسروں کے! ریحان اللہ والادیوانہ ہے،جی ہاں!وہ آپ کے لیے دیوانہ ہےکہ آپ کب سستی،کاہلی،غفلت اور تن آسانی کوترک کریں گے؟آپ اپنی سوچوں میں کب وسعت پیداکریں گے؟آپ کی خقوداعتمادی کب اورکیسے بحال ہوگی؟آپ کب اس بات کوسچ سمجھیں گے کہ آپ بھی گھربیٹھے اچھابلکہ بہت اچھاکماسکتے ہیں؟اُس جیسے موٹیویشنل اسکپیکرایک ایک گھنٹے کے کئی کئی لاکھ لیتے ہیں،اُن سے وقت لینا خودایک کارِدارَداور مشکل مرحلہ ہوتاہے،پھربھی وہ آتے ہیں توفقط ترغیب دےکر،جذبات بناکر،حوصلے بڑھاکر،پیاس میں اضافہ کرکے،چلے جاتے ہیں،یہ بتائے بغیرکہ تشنگی جواب آخری حدوں پرپہنچ گئی ہے بجھائی کیسے جائے گی؟اس کاساماں کیااورکہاں ہے؟یوں!چندروزمیں وہ ترغیبی اثرختم ہوجاتاہے،آخری حدوں کوپہنچی ہوئی تشنگی کااحساس کم ہونے لگتاہے،زندگی پھراُسی بے ہنگم ترتیب پرآجاتی ہے،یوں سننے،بُلانے والوں کوتوکچھ نہیں ملتا،موٹیویشنل اسپیکرکابینک بیلنس ضرورترقی کرتاہے،یہ مگرایسانہیں،یہ کہتاہے مجھے بُلاؤ،جب اورجہاں بُلاؤگے آؤں گا،صرف ترغیب نہیں دوں گاعملی راہ دکھاؤں گا،صرف پیاس نہیں بڑھاؤں گابلکہ اس تشنگی کوختم کرنے اورسیراب کرنے کے گآربھی بتاؤں گا،صرف حوصلے نہیں بڑھاؤں گابلکہ اِن بڑھے ہوئے حوصلوں سے بروقت کام لینے کاطریقہ بھی بتاؤں گا،صرف خواب نہیں دکھاؤں گااِن کوشرمندۂ تعبیرکیسے کرناہے یہ بھی سکھادوں گا۔ہے نادیوانہ،ورنہ اِس دورمیں کون کسی کے لیے اِتناکرتاہے؟!! ریحان اللہ والاایک پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ’’پاگل ‘‘ہے،کیونکہ پڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ شخص کوکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا،وہ اپنی دنیامیں مگن ہوتاہے،اپنامستقبل،اپنی اولاد کامستقبل،اُن کی اولادکامستقبل،یہی اُس کاماٹواورمشن ہوتاہے۔یہ مگرپڑھالکھا،سمجھ دار،باصلاحیت وباحوصلہ ہوکربھی پاگل ہے جواوروں کے لیے سوچتاہے،اِسے اپنی نہیں قوم کے ایک ایک فردکی فکرہے،ایک ایک مردوزن اور بچے کے مستقبل کی فکرہے،اُس فکرمیں یہ پاگلوں کی طرح دوڑرہاہے،بھاگ رہاہے،چیخ وپکارکررہاہے،آوازیں دے رہاہےکہ لوگو!وقت کی پُکارپرکان دھرو،اپنے جائز اورحلال ذرائع آمدنی میں اضافہ کرو،گھرکاہرفرد اِس میں اپناکرداراداکرسکتاہے،کیسے؟آؤ،میں بتاتاہوں،صرف بتاؤں گانہیں،سکھاؤں گابھی!یہی اِس پاگل کی صدائے صبح ومسا ہے،ہے کوئی جوکان دھرے!! ریحان اللہ والا کیاچاہتاہے؟ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ اس ملک کاسب سے بڑامسئلہ حل ہو۔ہماراسب سے بڑامسئلہ کون ساہے؟بیرونی قرضے،جن میں ہمارابال بال جھکڑاہواہے،جس کی وجہ سے ہم نے اپنی تنصیبات تک گروی رکھی ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے ہم اپنی کوئی پالیسی آزادی سے نہ بناسکتے ہیں اورنہ چلاسکتے ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتاجارہاہے۔وہ چاہتاہے کہ ہرشخص ڈالرکمائے ،خوش حال ہو،ٹیکس سمیت تمام سرکاری واجبات اداکرے،ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کرے تاکہ ملک کابیرونی قرضوں پرانحصار ختم ہو،ملک خوش حالی کی شاہ راہ پرگام زن ہواور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی سبیل نکل آئے۔ ریحان اللہ والاچاہتاہے کہ گھرکاکوئی فردکسی کی جیب پرنظرنہ رکھے۔جب گھرکاہرفرد ڈالروں میں کمائے گاتویہ ممکن ہوسکے گا۔ڈالروں میں کماناکیسے ہے؟یہی سکھانے کے لیے ریحان اللہ والانے سوشل میڈیاانکیوبیٹرقائم کیاہے،ریحان اسکول کی بنیادڈالی ہے،ملک بھرکے دورے کررہاہے،اُس کے تیارکردہ رضاکارہرعلاقہ،محلہ،اسکول،مدرسہ،کالج ،جامعہ اور یونیورسٹی جاکریہ گُرسِکھانے کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیارہیں۔وہ چاہتاہے کہ مانگنے والے دینے والے بن جائیں۔ہم میں سے ہرشخص اتناکمائے کہ اپنے خرچ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مدد ،غریبوں کاتعاون،ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات،مستحقیقن کی مدد،مریضوں کاعلاج معالجہ،سسکتے تڑپتے بے سہارالوگوں کی امدادکرسکے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ اِسے سازش اورفراڈکہہ کرجان چھُڑائیں یاوقت کی صداپرلبّیک کہیں:فیصلہ تیراتِرے ہاتھوں میں ہے،دِل یاشکم! Dr Mufti Molana Jahan Yaqoob Jamia Binoria International [Official]
    0 Commentaires 0 Parts 1876 Vue
  • کامیابی منزل میں نہیں، سفر میں ہے

    یہ سب کچھ میں اُس وقت کہنا چاہتا تھا جب میرے دوست ظفر صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ ChaiCon پر مجھ سے ملنے آئے تھے۔ جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا، دل کانپ سا گیا۔ ان کے چہرے پر ایسی اداسی اور تھکن تھی جیسے انہوں نے صدیوں کا سفر طے کر لیا ہو۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں، مگر ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، جھکے ہوئے کندھے اور چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں بتا رہی تھیں کہ زندگی کا بوجھ انہوں نے اپنے دل پر اُٹھا رکھا ہے۔

    میں چاہتا تھا کہ اُس لمحے Zafar Abundance Walaa صاحب کا ہاتھ تھام کر انہیں بتاؤں کہ وہ کتنا آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن زبان بند تھی، الفاظ موجود نہ تھے۔ آج یہ تحریر میں صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ہر اُس نوجوان کے لیے لکھ رہا ہوں جو مایوسی اور تھکن میں ڈوبا ہوا ہے۔

    1. زندگی کو کس پیمانے سے ناپتے ہیں؟

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ کوئی دوست باہر چلا گیا تو ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں، کوئی ہم جماعت بڑی گاڑی لے آیا تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ خود ہم کہاں تک پہنچے ہیں؟

    نیپولین ہِل نے اپنی کتاب Think and Grow Rich میں لکھا ہے:
    “اپنی کامیابیوں کا حساب رکھو، کیونکہ یہی تمہیں اگلی لڑائی جیتنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔”

    یہی پہلا سبق ہے: زندگی کو دوسروں کے ترازو میں نہ تولو، اپنا ترازو بناؤ۔

    2. خاموش کامیابیاں بھی کامیابی ہیں

    ہم اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں چھوٹی جیتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت انہی چھوٹی کامیابیوں میں چھپی ہے۔
    • وہ دن جب ظفر صاحب نے ہمت ہارنے کے باوجود صبح اُٹھ کر دفتر کا راستہ لیا، یہ بھی کامیابی ہے۔
    • وہ رات جب انہوں نے قرض کے دباؤ کے باوجود اپنے بچوں کو مسکرا کر سنبھالا، یہ بھی جیت ہے۔
    • وہ لمحہ جب لوگوں نے ان کے خوابوں پر ہنسا لیکن انہوں نے دل میں خواب محفوظ رکھا، یہ بھی فتح ہے۔

    یہی چھوٹے چھوٹے قدم کل کی بڑی منزل بناتے ہیں۔

    3. قانونِ توجہ: جس پر نظر ہو، وہی بڑھتا ہے

    نیپولین ہِل کہتے ہیں: “جہاں توجہ ہو، وہیں توانائی جاتی ہے۔”

    اگر ہماری نظریں صرف کمی، ناکامی اور غربت پر رہیں گی تو وہی بڑھے گی۔ لیکن اگر ہماری نظریں اپنی محنت، اپنے سیکھے گئے سبق اور اپنے چھوٹے چھوٹے کارناموں پر رہیں گی تو انہی میں سے طاقت پیدا ہوگی۔

    یہ قانون قرآن سے بھی میل کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    “اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (ابراہیم: 7)

    شکر کا مطلب صرف زبانی نہیں، بلکہ اپنی کامیابیوں پر غور کرنا بھی ہے۔

    4. کامیابی کا نیا پیمانہ

    ہمارے معاشرے میں کامیابی ہمیشہ دوسروں سے مقابلے میں ناپی جاتی ہے۔
    • فلاں کے پاس بڑی گاڑی ہے۔
    • فلاں کا کاروبار ہے۔
    • فلاں نے گھر خرید لیا۔

    لیکن اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے:
    • کل میں جو نہیں جانتا تھا، کیا آج جانتا ہوں؟
    • کل میں جو نہیں کر سکتا تھا، کیا آج کر سکتا ہوں؟
    • کل میں جو خوف سے رُک گیا تھا، کیا آج ایک قدم آگے بڑھا لیا ہے؟

    یہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ دوسروں کی دولت یا شہرت۔

    5. موٹیویشن نہیں، مومنٹم

    ہم اکثر کہتے ہیں: “ہمیں موٹیویشن چاہیے۔” لیکن موٹیویشن وقتی چیز ہے، آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ اصل طاقت مومنٹم میں ہے۔

    جب ظفر صاحب سوچتے ہیں: “میں نے کل کے مقابلے میں آج ایک قدم آگے بڑھایا ہے” تو یہی سوچ کل کے سفر کو آسان بنا دیتی ہے۔ اور یہی مومنٹم انسان کو کبھی نہ رکنے دیتا ہے۔

    6. زخم اور داغ: اصل ریزیومے

    دنیا کے سب سے بڑے لیڈرز اور بزنس مین کی کامیابیاں ان کے زخموں پر کھڑی ہیں۔ ہر ناکامی، ہر ٹھوکر، ہر دھوکہ ان کے لیے اگلے قدم کا استاد بنا۔

    ظفر صاحب کے چہرے پر جو تھکن کی لکیریں ہیں، وہ دراصل ان کے تجربے کا سرمایہ ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بار بار گرے اور بار بار اُٹھے۔ یہی داغ ان کے ریزیومے کی اصل طاقت ہیں۔

    7. موازنہ: سب سے بڑا زہر

    ہم اپنی زندگی دوسروں کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ یہی سب سے بڑا زہر ہے۔

    قرآن کہتا ہے:
    “اور کسی اور کی چیزوں کو نہ للچاؤ جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔” (النساء: 32)

    اللہ نے ہر ایک کا سفر الگ بنایا ہے۔ تمہارا مقابلہ کسی اور سے نہیں، صرف اپنے کل سے ہے۔

    8. شکر گزاری + عزم = تقدیر کا انجن

    کامیابی کے لیے دو چیزیں لازم ہیں:
    1. شکر گزاری — جو کچھ ملا ہے، اسے پہچانو۔
    2. عزم — جو پانا ہے، اس کے لیے لگن رکھو۔

    یہ دونوں چیزیں مل کر تقدیر کا انجن بناتی ہیں۔ اگر شکر نہ ہو تو دل خالی رہتا ہے، اور اگر عزم نہ ہو تو قدم رُک جاتے ہیں۔

    ظفر صاحب جیسے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شکر صرف اللہ کے سامنے سر جھکانے کا نہیں بلکہ اپنی چھوٹی کامیابیوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ اور عزم کا مطلب صرف خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ ہر دن ایک قدم بڑھانے کا نام ہے۔

    9. خوف کیوں ختم ہوتا ہے؟

    جب انسان اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس طرح اُس نے مشکلات کو شکست دی، تو اس کے اندر ایک نیا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی یقین مستقبل کے طوفانوں سے بے خوف کر دیتا ہے۔

    ظفر صاحب! آپ کے اندر پہلے ہی وہ طاقت ہے جو کل کے طوفان جھیل سکتی ہے۔ بس آپ کو یاد رکھنا ہے کہ آپ کتنی بار مشکلات جھیل چکے ہیں۔

    10. مایوسی سے امید تک

    مایوسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: “جب تک سانس باقی ہے، امکانات باقی ہیں۔”

    آپ جتنا سفر طے کر چکے ہیں، وہ آپ کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں سے آگے بڑھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔

    ظفر صاحب، اور آپ جیسے ہر نوجوان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آپ کے اندر وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو کاٹ سکتی ہے، وہ ہمت ہے جو طوفانوں کو چیر سکتی ہے، اور وہ یقین ہے جو تقدیر بدل سکتا ہے۔ یاد رکھیں! اللہ نے آپ کو زندہ رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے حصے کا کام ابھی باقی ہے، آپ کے حصے کی کامیابیاں ابھی لکھی جانی ہیں

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ظفر صاحب کا اپنے نام کے ساتھ “Abundancewala” جوڑ لینا اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ فراوانی کو پہچان لیا ہے۔ اب یہ ہم سب کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی بے پایاں رحمتوں کو دیکھیں۔ جب ہم اس کی عطا کردہ فراوانی پر نظر رکھتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، تو ہم اپنی زندگی کے مقاصد کی طرف زیادہ ہمت اور اعتماد سے قدم بڑھا سکتے ہیں

    Usman Chughtai
    کامیابی منزل میں نہیں، سفر میں ہے یہ سب کچھ میں اُس وقت کہنا چاہتا تھا جب میرے دوست ظفر صاحب میرے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ ChaiCon پر مجھ سے ملنے آئے تھے۔ جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا، دل کانپ سا گیا۔ ان کے چہرے پر ایسی اداسی اور تھکن تھی جیسے انہوں نے صدیوں کا سفر طے کر لیا ہو۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں، مگر ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، جھکے ہوئے کندھے اور چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں بتا رہی تھیں کہ زندگی کا بوجھ انہوں نے اپنے دل پر اُٹھا رکھا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اُس لمحے Zafar Abundance Walaa صاحب کا ہاتھ تھام کر انہیں بتاؤں کہ وہ کتنا آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن زبان بند تھی، الفاظ موجود نہ تھے۔ آج یہ تحریر میں صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ہر اُس نوجوان کے لیے لکھ رہا ہوں جو مایوسی اور تھکن میں ڈوبا ہوا ہے۔ 1. زندگی کو کس پیمانے سے ناپتے ہیں؟ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ کوئی دوست باہر چلا گیا تو ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں، کوئی ہم جماعت بڑی گاڑی لے آیا تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ خود ہم کہاں تک پہنچے ہیں؟ نیپولین ہِل نے اپنی کتاب Think and Grow Rich میں لکھا ہے: “اپنی کامیابیوں کا حساب رکھو، کیونکہ یہی تمہیں اگلی لڑائی جیتنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔” یہی پہلا سبق ہے: زندگی کو دوسروں کے ترازو میں نہ تولو، اپنا ترازو بناؤ۔ 2. خاموش کامیابیاں بھی کامیابی ہیں ہم اکثر بڑی کامیابیوں کے انتظار میں چھوٹی جیتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت انہی چھوٹی کامیابیوں میں چھپی ہے۔ • وہ دن جب ظفر صاحب نے ہمت ہارنے کے باوجود صبح اُٹھ کر دفتر کا راستہ لیا، یہ بھی کامیابی ہے۔ • وہ رات جب انہوں نے قرض کے دباؤ کے باوجود اپنے بچوں کو مسکرا کر سنبھالا، یہ بھی جیت ہے۔ • وہ لمحہ جب لوگوں نے ان کے خوابوں پر ہنسا لیکن انہوں نے دل میں خواب محفوظ رکھا، یہ بھی فتح ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے قدم کل کی بڑی منزل بناتے ہیں۔ 3. قانونِ توجہ: جس پر نظر ہو، وہی بڑھتا ہے نیپولین ہِل کہتے ہیں: “جہاں توجہ ہو، وہیں توانائی جاتی ہے۔” اگر ہماری نظریں صرف کمی، ناکامی اور غربت پر رہیں گی تو وہی بڑھے گی۔ لیکن اگر ہماری نظریں اپنی محنت، اپنے سیکھے گئے سبق اور اپنے چھوٹے چھوٹے کارناموں پر رہیں گی تو انہی میں سے طاقت پیدا ہوگی۔ یہ قانون قرآن سے بھی میل کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (ابراہیم: 7) شکر کا مطلب صرف زبانی نہیں، بلکہ اپنی کامیابیوں پر غور کرنا بھی ہے۔ 4. کامیابی کا نیا پیمانہ ہمارے معاشرے میں کامیابی ہمیشہ دوسروں سے مقابلے میں ناپی جاتی ہے۔ • فلاں کے پاس بڑی گاڑی ہے۔ • فلاں کا کاروبار ہے۔ • فلاں نے گھر خرید لیا۔ لیکن اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے: • کل میں جو نہیں جانتا تھا، کیا آج جانتا ہوں؟ • کل میں جو نہیں کر سکتا تھا، کیا آج کر سکتا ہوں؟ • کل میں جو خوف سے رُک گیا تھا، کیا آج ایک قدم آگے بڑھا لیا ہے؟ یہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ دوسروں کی دولت یا شہرت۔ 5. موٹیویشن نہیں، مومنٹم ہم اکثر کہتے ہیں: “ہمیں موٹیویشن چاہیے۔” لیکن موٹیویشن وقتی چیز ہے، آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ اصل طاقت مومنٹم میں ہے۔ جب ظفر صاحب سوچتے ہیں: “میں نے کل کے مقابلے میں آج ایک قدم آگے بڑھایا ہے” تو یہی سوچ کل کے سفر کو آسان بنا دیتی ہے۔ اور یہی مومنٹم انسان کو کبھی نہ رکنے دیتا ہے۔ 6. زخم اور داغ: اصل ریزیومے دنیا کے سب سے بڑے لیڈرز اور بزنس مین کی کامیابیاں ان کے زخموں پر کھڑی ہیں۔ ہر ناکامی، ہر ٹھوکر، ہر دھوکہ ان کے لیے اگلے قدم کا استاد بنا۔ ظفر صاحب کے چہرے پر جو تھکن کی لکیریں ہیں، وہ دراصل ان کے تجربے کا سرمایہ ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بار بار گرے اور بار بار اُٹھے۔ یہی داغ ان کے ریزیومے کی اصل طاقت ہیں۔ 7. موازنہ: سب سے بڑا زہر ہم اپنی زندگی دوسروں کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ یہی سب سے بڑا زہر ہے۔ قرآن کہتا ہے: “اور کسی اور کی چیزوں کو نہ للچاؤ جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔” (النساء: 32) اللہ نے ہر ایک کا سفر الگ بنایا ہے۔ تمہارا مقابلہ کسی اور سے نہیں، صرف اپنے کل سے ہے۔ 8. شکر گزاری + عزم = تقدیر کا انجن کامیابی کے لیے دو چیزیں لازم ہیں: 1. شکر گزاری — جو کچھ ملا ہے، اسے پہچانو۔ 2. عزم — جو پانا ہے، اس کے لیے لگن رکھو۔ یہ دونوں چیزیں مل کر تقدیر کا انجن بناتی ہیں۔ اگر شکر نہ ہو تو دل خالی رہتا ہے، اور اگر عزم نہ ہو تو قدم رُک جاتے ہیں۔ ظفر صاحب جیسے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شکر صرف اللہ کے سامنے سر جھکانے کا نہیں بلکہ اپنی چھوٹی کامیابیوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ اور عزم کا مطلب صرف خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ ہر دن ایک قدم بڑھانے کا نام ہے۔ 9. خوف کیوں ختم ہوتا ہے؟ جب انسان اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس طرح اُس نے مشکلات کو شکست دی، تو اس کے اندر ایک نیا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی یقین مستقبل کے طوفانوں سے بے خوف کر دیتا ہے۔ ظفر صاحب! آپ کے اندر پہلے ہی وہ طاقت ہے جو کل کے طوفان جھیل سکتی ہے۔ بس آپ کو یاد رکھنا ہے کہ آپ کتنی بار مشکلات جھیل چکے ہیں۔ 10. مایوسی سے امید تک مایوسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: “جب تک سانس باقی ہے، امکانات باقی ہیں۔” آپ جتنا سفر طے کر چکے ہیں، وہ آپ کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں سے آگے بڑھنا اب زیادہ مشکل نہیں۔ ظفر صاحب، اور آپ جیسے ہر نوجوان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آپ کے اندر وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو کاٹ سکتی ہے، وہ ہمت ہے جو طوفانوں کو چیر سکتی ہے، اور وہ یقین ہے جو تقدیر بدل سکتا ہے۔ یاد رکھیں! اللہ نے آپ کو زندہ رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے حصے کا کام ابھی باقی ہے، آپ کے حصے کی کامیابیاں ابھی لکھی جانی ہیں آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ظفر صاحب کا اپنے نام کے ساتھ “Abundancewala” جوڑ لینا اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ فراوانی کو پہچان لیا ہے۔ اب یہ ہم سب کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی بے پایاں رحمتوں کو دیکھیں۔ جب ہم اس کی عطا کردہ فراوانی پر نظر رکھتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، تو ہم اپنی زندگی کے مقاصد کی طرف زیادہ ہمت اور اعتماد سے قدم بڑھا سکتے ہیں Usman Chughtai
    0 Commentaires 0 Parts 1445 Vue
  • وعلیکم میں آپ کو وسیم قریشی سے متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک شخصیت ہیں جن کے لفظ اور اعمال سے ہمیں متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رائٹر، موٹیویشنل سپیکر اور پیرنٹنگ کاونسلر ہیں، اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے حوالے سے کامواب ہیں۔

    وقاص قریشی "قطرہ قطرہ قلزم" کے بانی ہیں، جو ایک منفرد فلاحی پلیٹ فارم ہے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو گداگری سے ہٹا کر خود داری پر لگانا اور انہیں ان کی جڑوں سے جوڑنا ہے۔

    وقاص قریشی کی لکھائی، موٹیویشنل سپیچز اور کاؤنسلنگ کے ذریعے، وہ نوجوانوں کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کو قبول کرنے، مضبوطی بنانے اور کامیابی کی راہ پر ترقی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے تجربات اور راہنمائی کا قیمتی خزانہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خود کو درست راہ پر لانا چاہتے ہیں۔

    میں فیس بک پر وقاص قریشی کے ساتھ رابطہ کر کے بہت خوش قسمت ہوں اور ہمارے تعاملات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی نوجوانوں کو قوت دیتے ہوئے، ان کو منفی افکار سے نکالنے اور خودی پیدا کرنے کے لئے دلی دعوت ہیں۔

    ہم اپنے چہرے کے ساتھ وقاص قریشی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے تجربات اور دانائی سے سیکھنے کیلئے بڑے لوگوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کی پیج کو فالو کریں اور ان کے مواد کے ساتھ تعامل کریں تاکہ آپ بھی اپنی صلاحیتوں کو خارج کر سکیں اور خود کی خودی کی سفر پر نکلیں۔

    وقاص قریشی، آپ کے موٹیویشن اور رہنمائی کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کے کوششوں سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں مستفید ہوتی رہیں۔ آپ کو اپنے منصوبوں میں مکمل کامیابی کی خواہش کرتے ہیں!

    #انسپیریشن #موٹیویشن #خودی_پیدا_کریں #فالو_کریں_اور_سیکھیں #نیا_دوست
    وعلیکم میں آپ کو وسیم قریشی سے متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک شخصیت ہیں جن کے لفظ اور اعمال سے ہمیں متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رائٹر، موٹیویشنل سپیکر اور پیرنٹنگ کاونسلر ہیں، اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے حوالے سے کامواب ہیں۔ وقاص قریشی "قطرہ قطرہ قلزم" کے بانی ہیں، جو ایک منفرد فلاحی پلیٹ فارم ہے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو گداگری سے ہٹا کر خود داری پر لگانا اور انہیں ان کی جڑوں سے جوڑنا ہے۔ وقاص قریشی کی لکھائی، موٹیویشنل سپیچز اور کاؤنسلنگ کے ذریعے، وہ نوجوانوں کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کو قبول کرنے، مضبوطی بنانے اور کامیابی کی راہ پر ترقی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے تجربات اور راہنمائی کا قیمتی خزانہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خود کو درست راہ پر لانا چاہتے ہیں۔ میں فیس بک پر وقاص قریشی کے ساتھ رابطہ کر کے بہت خوش قسمت ہوں اور ہمارے تعاملات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی نوجوانوں کو قوت دیتے ہوئے، ان کو منفی افکار سے نکالنے اور خودی پیدا کرنے کے لئے دلی دعوت ہیں۔ ہم اپنے چہرے کے ساتھ وقاص قریشی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے تجربات اور دانائی سے سیکھنے کیلئے بڑے لوگوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کی پیج کو فالو کریں اور ان کے مواد کے ساتھ تعامل کریں تاکہ آپ بھی اپنی صلاحیتوں کو خارج کر سکیں اور خود کی خودی کی سفر پر نکلیں۔ وقاص قریشی، آپ کے موٹیویشن اور رہنمائی کے لئے آپ کا شکریہ۔ آپ کے کوششوں سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں مستفید ہوتی رہیں۔ آپ کو اپنے منصوبوں میں مکمل کامیابی کی خواہش کرتے ہیں! #انسپیریشن #موٹیویشن #خودی_پیدا_کریں #فالو_کریں_اور_سیکھیں #نیا_دوست
    0 Commentaires 0 Parts 2645 Vue
Plus de résultats