• ### ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا

    ایک دن ملا نصرالدین کے پاس دو پڑوسی بہت غصے میں آئے۔ دونوں ایک دوسرے سے زور زور سے بحث کر رہے تھے۔

    پہلا پڑوسی بولا:

    "ملا صاحب! اس نے میرے باغ کی دیوار کے ساتھ اپنی چیزیں رکھ دی ہیں۔ میری جگہ خراب ہو رہی ہے!"

    دوسرا فوراً بولا:

    "یہ جھوٹ بول رہا ہے! میں نے اس کی کوئی جگہ نہیں گھیر ی۔ بلکہ اس نے میری گلی کا راستہ بند کر رکھا ہے!"

    دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

    ملا نصرالدین نے دونوں کو خاموش کرایا اور کہا:

    "ٹھیک ہے، پہلے میں ایک ایک کی بات سنوں گا۔"

    ملا نے پہلے ایک پڑوسی کی پوری بات سنی، پھر دوسرے کی بات بھی غور سے سنی۔ اس کے بعد وہ دونوں کو لے کر گلی میں پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔

    ملا نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور کہا:

    "یہ حصہ پہلے پڑوسی کا ہے اور یہ حصہ دوسرے پڑوسی کا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ کو اہم سمجھ رہے ہیں اور دوسرے کی مشکل کو نہیں سمجھ رہے۔"

    پھر ملا نے دونوں سے کہا:

    "اگر تم دونوں ایک دوسرے کی جگہ ہوتے تو کیا تمہیں یہ مسئلہ اچھا لگتا؟"

    دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔

    ملا نے مشورہ دیا:

    "پہلا پڑوسی اپنی چیزیں تھوڑی پیچھے کر دے گا، اور دوسرا اپنی دیوار کے پاس سامان رکھنے کے بجائے ایک مخصوص جگہ استعمال کرے گا۔ اس طرح راستہ بھی کھلا رہے گا اور کسی کی جگہ بھی خراب نہیں ہوگی۔"

    دونوں پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔

    پہلا پڑوسی بولا:

    "ملا صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ میں صرف اپنی بات دیکھ رہا تھا۔"

    دوسرا بھی مسکرا کر بولا:

    "اور میں بھی!"

    ملا نصرالدین ہنس کر بولے:

    "جھگڑا جیتنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کرنا۔ پڑوسی سے جنگ کرو گے تو روز ملنا مشکل ہوگا، لیکن سمجھداری سے کام لو گے تو روز سلام بھی ہوگا اور سکون بھی!"

    دونوں پڑوسی ہنس پڑے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔

    ### سبق:
    **کسی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے صرف اپنی بات نہیں، بلکہ دوسرے کی مشکل کو بھی سمجھنا چاہیے۔
    ### ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا ایک دن ملا نصرالدین کے پاس دو پڑوسی بہت غصے میں آئے۔ دونوں ایک دوسرے سے زور زور سے بحث کر رہے تھے۔ پہلا پڑوسی بولا: "ملا صاحب! اس نے میرے باغ کی دیوار کے ساتھ اپنی چیزیں رکھ دی ہیں۔ میری جگہ خراب ہو رہی ہے!" دوسرا فوراً بولا: "یہ جھوٹ بول رہا ہے! میں نے اس کی کوئی جگہ نہیں گھیر ی۔ بلکہ اس نے میری گلی کا راستہ بند کر رکھا ہے!" دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ملا نصرالدین نے دونوں کو خاموش کرایا اور کہا: "ٹھیک ہے، پہلے میں ایک ایک کی بات سنوں گا۔" ملا نے پہلے ایک پڑوسی کی پوری بات سنی، پھر دوسرے کی بات بھی غور سے سنی۔ اس کے بعد وہ دونوں کو لے کر گلی میں پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔ ملا نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور کہا: "یہ حصہ پہلے پڑوسی کا ہے اور یہ حصہ دوسرے پڑوسی کا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ کو اہم سمجھ رہے ہیں اور دوسرے کی مشکل کو نہیں سمجھ رہے۔" پھر ملا نے دونوں سے کہا: "اگر تم دونوں ایک دوسرے کی جگہ ہوتے تو کیا تمہیں یہ مسئلہ اچھا لگتا؟" دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ ملا نے مشورہ دیا: "پہلا پڑوسی اپنی چیزیں تھوڑی پیچھے کر دے گا، اور دوسرا اپنی دیوار کے پاس سامان رکھنے کے بجائے ایک مخصوص جگہ استعمال کرے گا۔ اس طرح راستہ بھی کھلا رہے گا اور کسی کی جگہ بھی خراب نہیں ہوگی۔" دونوں پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ پہلا پڑوسی بولا: "ملا صاحب، آپ نے ٹھیک کہا۔ میں صرف اپنی بات دیکھ رہا تھا۔" دوسرا بھی مسکرا کر بولا: "اور میں بھی!" ملا نصرالدین ہنس کر بولے: "جھگڑا جیتنے سے بہتر ہے مسئلہ حل کرنا۔ پڑوسی سے جنگ کرو گے تو روز ملنا مشکل ہوگا، لیکن سمجھداری سے کام لو گے تو روز سلام بھی ہوگا اور سکون بھی!" دونوں پڑوسی ہنس پڑے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ لی۔ ### سبق: **کسی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے صرف اپنی بات نہیں، بلکہ دوسرے کی مشکل کو بھی سمجھنا چاہیے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 25 Views
  • Story Post: 66
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:08:26



    ‍ ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا

    ایک دن دو پڑوسی کسی معمولی بات پر آپس میں جھگڑنے لگے۔ دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا تھا۔

    ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور اپنی حاضر جوابی، سمجھداری اور منفرد انداز سے ایسا حل پیش کیا کہ دونوں پڑوسی حیران رہ گئے۔ ملا نے انہیں سمجھایا کہ ضد اور غصے کے بجائے بات چیت، صبر اور انصاف سے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔

    اس کہانی سے سبق:
    اختلاف کو بات چیت سے حل کریں۔
    فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں طرف کی بات سنیں۔
    غصے کے بجائے صبر اور سمجھداری اختیار کریں۔
    انصاف اور امن ہمیشہ بہتر راستہ ہیں۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، صبر اور اچھے رویے سے بڑے سے بڑا اختلاف بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #NeighborDispute #پڑوسی #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #Peace #Justice #انصاف #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 66 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:08:26 🧔‍♂️🏘️ ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا ⚖️✨ ایک دن دو پڑوسی کسی معمولی بات پر آپس میں جھگڑنے لگے۔ 😠🗣️ دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا تھا۔ 🏘️💢 ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور اپنی حاضر جوابی، سمجھداری اور منفرد انداز سے ایسا حل پیش کیا کہ دونوں پڑوسی حیران رہ گئے۔ 🧠😄🤝 ملا نے انہیں سمجھایا کہ ضد اور غصے کے بجائے بات چیت، صبر اور انصاف سے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ❤️⚖️ 🌟 اس کہانی سے سبق: 🤝 اختلاف کو بات چیت سے حل کریں۔ 🧠 فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں طرف کی بات سنیں۔ ❤️ غصے کے بجائے صبر اور سمجھداری اختیار کریں۔ ⚖️ انصاف اور امن ہمیشہ بہتر راستہ ہیں۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، صبر اور اچھے رویے سے بڑے سے بڑا اختلاف بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ 🧔‍♂️🤝✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #NeighborDispute #پڑوسی #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #Peace #Justice #انصاف #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Commenti 0 condivisioni 99 Views
  • Story Post No#04
    Topic: Mulla Nasrudin's Missing Ring
    Mulla Nasrudin’s Missing Ring
    ملا نصرالدین کی گمشدہ انگوٹھی
    English Story
    One evening, Mulla Nasrudin was searching for his precious ring outside his house. He looked under the tree, near the door, and around the garden, but he could not find it.
    A neighbor saw him and asked, “Mulla, what are you looking for?”
    “My ring! I lost it somewhere,” Mulla replied.
    The neighbor began helping him search. Soon, several villagers joined them. Everyone searched carefully, but the ring was nowhere to be found.
    Finally, one villager asked, “Mulla, are you sure you lost the ring here?”
    Mulla nodded and said, “No, I lost it inside my house.”
    Everyone stared at him in surprise!
    “Then why are you searching outside?” they asked.
    Mulla smiled and replied, “Because there is much more light outside!”
    Everyone burst into laughter.
    Mulla’s funny answer taught them that we should look for a problem where it actually exists, not simply where it is easier to search.
    Moral of the Story
    Always look for the truth where the problem really is, not where it is easiest to find.
    اردو کہانی
    ایک شام ملا نصرالدین اپنے گھر کے باہر اپنی قیمتی انگوٹھی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے درخت کے نیچے، دروازے کے پاس اور باغ میں ہر جگہ دیکھا، لیکن انگوٹھی نہ ملی۔
    ایک پڑوسی نے انہیں دیکھا اور پوچھا، “ملا صاحب! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟”
    ملا نے جواب دیا، “میری انگوٹھی! میں نے اسے کہیں گم کر دیا ہے۔”
    پڑوسی بھی ان کی مدد کرنے لگا۔ جلد ہی کئی گاؤں والے بھی تلاش میں شامل ہو گئے۔ سب نے غور سے تلاش کیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔
    آخرکار ایک گاؤں والے نے پوچھا، “ملا صاحب! کیا آپ کو یقین ہے کہ انگوٹھی یہیں گمی ہے؟”
    ملا نے سر ہلا کر کہا، “نہیں، میں نے اسے اپنے گھر کے اندر گم کیا ہے۔”
    سب لوگ حیرت سے ملا کو دیکھنے لگے!
    انہوں نے پوچھا، “پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟”
    ملا مسکرائے اور بولے، “کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے!”
    یہ سن کر سب گاؤں والے ہنس پڑے۔
    ملا کے مزاحیہ جواب نے سب کو سکھایا کہ مسئلہ جہاں موجود ہو، حل بھی وہیں تلاش کرنا چاہیے، صرف اس جگہ نہیں جہاں تلاش کرنا آسان ہو۔
    کہانی کا سبق
    حقیقت کو ہمیشہ وہاں تلاش کریں جہاں مسئلہ موجود ہو، نہ کہ صرف وہاں جہاں اسے تلاش کرنا آسان ہو۔
    Story Post No#04 Topic: Mulla Nasrudin's Missing Ring 💍🧠 Mulla Nasrudin’s Missing Ring ملا نصرالدین کی گمشدہ انگوٹھی 🇬🇧 English Story One evening, Mulla Nasrudin was searching for his precious ring outside his house. 💍🏠 He looked under the tree, near the door, and around the garden, but he could not find it. 🔍🌳😟 A neighbor saw him and asked, “Mulla, what are you looking for?” 🤔 “My ring! I lost it somewhere,” Mulla replied. 💍😢 The neighbor began helping him search. Soon, several villagers joined them. 👥🔎 Everyone searched carefully, but the ring was nowhere to be found. Finally, one villager asked, “Mulla, are you sure you lost the ring here?” 🤨 Mulla nodded and said, “No, I lost it inside my house.” 🏠😄 Everyone stared at him in surprise! 😲 “Then why are you searching outside?” they asked. Mulla smiled and replied, “Because there is much more light outside!” 😂💡 Everyone burst into laughter. 🤣👏 Mulla’s funny answer taught them that we should look for a problem where it actually exists, not simply where it is easier to search. 🧠✨ 🌱 Moral of the Story Always look for the truth where the problem really is, not where it is easiest to find. 🔍🧠✨ 🇵🇰 اردو کہانی ایک شام ملا نصرالدین اپنے گھر کے باہر اپنی قیمتی انگوٹھی تلاش کر رہے تھے۔ 💍🏠 انہوں نے درخت کے نیچے، دروازے کے پاس اور باغ میں ہر جگہ دیکھا، لیکن انگوٹھی نہ ملی۔ 🔍🌳😟 ایک پڑوسی نے انہیں دیکھا اور پوچھا، “ملا صاحب! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟” 🤔 ملا نے جواب دیا، “میری انگوٹھی! میں نے اسے کہیں گم کر دیا ہے۔” 💍😢 پڑوسی بھی ان کی مدد کرنے لگا۔ جلد ہی کئی گاؤں والے بھی تلاش میں شامل ہو گئے۔ 👥🔎 سب نے غور سے تلاش کیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔ آخرکار ایک گاؤں والے نے پوچھا، “ملا صاحب! کیا آپ کو یقین ہے کہ انگوٹھی یہیں گمی ہے؟” 🤨 ملا نے سر ہلا کر کہا، “نہیں، میں نے اسے اپنے گھر کے اندر گم کیا ہے۔” 🏠😄 سب لوگ حیرت سے ملا کو دیکھنے لگے! 😲 انہوں نے پوچھا، “پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟” ملا مسکرائے اور بولے، “کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے!” 😂💡 یہ سن کر سب گاؤں والے ہنس پڑے۔ 🤣👏 ملا کے مزاحیہ جواب نے سب کو سکھایا کہ مسئلہ جہاں موجود ہو، حل بھی وہیں تلاش کرنا چاہیے، صرف اس جگہ نہیں جہاں تلاش کرنا آسان ہو۔ 🧠✨ 🌱 کہانی کا سبق حقیقت کو ہمیشہ وہاں تلاش کریں جہاں مسئلہ موجود ہو، نہ کہ صرف وہاں جہاں اسے تلاش کرنا آسان ہو۔ 🔍🧠✨
    0 Commenti 0 condivisioni 304 Views
  • Mulla Nasruddin and the Invisible Treasure | ملا نصرالدین اور پوشیدہ خزانہ

    English Story

    One morning, Mulla Nasruddin was walking near an old hill when he noticed a strange glow coming from behind a large stone. He moved the stone and discovered a small wooden box. When he opened it, there was nothing inside that he could see. Suddenly, a mysterious voice said, “You have discovered the Invisible Treasure. It cannot be seen, but it can change the lives of those who use it wisely.” Mulla scratched his beard and wondered what kind of treasure could be invisible.

    Mulla carried the empty-looking box back to the town and gathered a few curious people around him. He told them about the treasure, but they laughed and said, “Mulla, there is nothing in that box!” Mulla smiled and replied, “Perhaps you are looking for something that can be held in your hands.” He then asked everyone to bring one useful idea that could help another person in the town.

    The next day, the townspeople began sharing their knowledge. A baker taught a young boy how to make bread, a farmer showed his neighbor how to save water, and an old carpenter taught children how to repair simple things. Soon, people were helping one another, and the whole town became more skilled and cooperative. Mulla pointed to the empty box and said, “Now you can see the treasure. Knowledge, kindness, and useful ideas become more valuable when they are shared.”

    The townspeople finally understood what Mulla had discovered. The treasure had never been gold or jewels; it was the power of knowledge and generosity. Mulla placed the empty box in the town square as a reminder and said, “The greatest treasures are sometimes invisible because they live in our minds and hearts.” From that day on, the people of the town tried to share what they knew and help others whenever they could.

    Urdu Story

    ایک صبح ملا نصرالدین ایک پرانی پہاڑی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے عجیب سی روشنی نظر آئی۔ انہوں نے پتھر ہٹایا تو وہاں لکڑی کا ایک چھوٹا سا صندوق ملا۔ جب انہوں نے صندوق کھولا تو اندر انہیں کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ اچانک ایک پراسرار آواز آئی، “تم نے پوشیدہ خزانہ دریافت کر لیا ہے۔ اسے دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن جو شخص اسے سمجھ داری سے استعمال کرے، یہ اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔” ملا نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور سوچنے لگے کہ آخر ایسا خزانہ کیا ہو سکتا ہے جو نظر ہی نہ آئے۔

    ملا وہ خالی نظر آنے والا صندوق شہر میں لے آئے اور چند تجسس رکھنے والے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لیا۔ انہوں نے لوگوں کو خزانے کے بارے میں بتایا، لیکن سب ہنسنے لگے اور بولے، “ملا صاحب، اس صندوق میں تو کچھ بھی نہیں ہے!” ملا مسکرائے اور بولے، “شاید تم ایسی چیز تلاش کر رہے ہو جسے ہاتھ میں پکڑا جا سکے۔” پھر انہوں نے سب سے کہا کہ ہر شخص ایسی ایک مفید بات یا ہنر بتائے جو شہر کے کسی دوسرے شخص کے کام آ سکے۔

    اگلے دن شہر کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنا علم بانٹنا شروع کر دیا۔ ایک نانبائی نے ایک بچے کو روٹی بنانا سکھایا، ایک کسان نے اپنے پڑوسی کو پانی بچانے کا طریقہ بتایا، اور ایک بوڑھے بڑھئی نے بچوں کو چھوٹی موٹی چیزیں ٹھیک کرنا سکھایا۔ جلد ہی لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے اور پورا شہر زیادہ ہنرمند اور باہمی تعاون والا بن گیا۔ ملا نے خالی صندوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “اب تم خزانہ دیکھ سکتے ہو۔ علم، مہربانی اور مفید باتیں بانٹنے سے ان کی قدر بڑھ جاتی ہے۔”

    آخرکار شہر کے لوگوں کو سمجھ آ گیا کہ ملا نے کیا دریافت کیا تھا۔ وہ خزانہ سونا یا جواہرات نہیں تھا بلکہ علم اور دوسروں کی مدد کرنے کی طاقت تھی۔ ملا نے خالی صندوق کو شہر کے چوک میں رکھ دیا تاکہ سب کو یاد رہے اور بولے، “سب سے قیمتی خزانے کبھی کبھی اس لیے نظر نہیں آتے کیونکہ وہ ہمارے ذہن اور دل میں موجود ہوتے ہیں۔” اس دن کے بعد شہر کے لوگوں نے کوشش کی کہ وہ اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹیں اور جب بھی ممکن ہو ایک دوسرے کی مدد کریں۔

    Moral: The greatest treasures are not always things we can see; knowledge, kindness, and generosity become more valuable when they are shared.

    Tags: Mulla Nasruddin, Mulla Nasruddin Story, Invisible Treasure, Hidden Treasure, Moral Stories, Urdu Stories, English Stories, Wisdom, Knowledge, Kindness, Generosity, Cleverness, Life Lessons, Kids Stories
    Mulla Nasruddin and the Invisible Treasure | ملا نصرالدین اور پوشیدہ خزانہ English Story One morning, Mulla Nasruddin was walking near an old hill when he noticed a strange glow coming from behind a large stone. He moved the stone and discovered a small wooden box. When he opened it, there was nothing inside that he could see. Suddenly, a mysterious voice said, “You have discovered the Invisible Treasure. It cannot be seen, but it can change the lives of those who use it wisely.” Mulla scratched his beard and wondered what kind of treasure could be invisible. Mulla carried the empty-looking box back to the town and gathered a few curious people around him. He told them about the treasure, but they laughed and said, “Mulla, there is nothing in that box!” Mulla smiled and replied, “Perhaps you are looking for something that can be held in your hands.” He then asked everyone to bring one useful idea that could help another person in the town. The next day, the townspeople began sharing their knowledge. A baker taught a young boy how to make bread, a farmer showed his neighbor how to save water, and an old carpenter taught children how to repair simple things. Soon, people were helping one another, and the whole town became more skilled and cooperative. Mulla pointed to the empty box and said, “Now you can see the treasure. Knowledge, kindness, and useful ideas become more valuable when they are shared.” The townspeople finally understood what Mulla had discovered. The treasure had never been gold or jewels; it was the power of knowledge and generosity. Mulla placed the empty box in the town square as a reminder and said, “The greatest treasures are sometimes invisible because they live in our minds and hearts.” From that day on, the people of the town tried to share what they knew and help others whenever they could. Urdu Story ایک صبح ملا نصرالدین ایک پرانی پہاڑی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے عجیب سی روشنی نظر آئی۔ انہوں نے پتھر ہٹایا تو وہاں لکڑی کا ایک چھوٹا سا صندوق ملا۔ جب انہوں نے صندوق کھولا تو اندر انہیں کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ اچانک ایک پراسرار آواز آئی، “تم نے پوشیدہ خزانہ دریافت کر لیا ہے۔ اسے دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن جو شخص اسے سمجھ داری سے استعمال کرے، یہ اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔” ملا نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور سوچنے لگے کہ آخر ایسا خزانہ کیا ہو سکتا ہے جو نظر ہی نہ آئے۔ ملا وہ خالی نظر آنے والا صندوق شہر میں لے آئے اور چند تجسس رکھنے والے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لیا۔ انہوں نے لوگوں کو خزانے کے بارے میں بتایا، لیکن سب ہنسنے لگے اور بولے، “ملا صاحب، اس صندوق میں تو کچھ بھی نہیں ہے!” ملا مسکرائے اور بولے، “شاید تم ایسی چیز تلاش کر رہے ہو جسے ہاتھ میں پکڑا جا سکے۔” پھر انہوں نے سب سے کہا کہ ہر شخص ایسی ایک مفید بات یا ہنر بتائے جو شہر کے کسی دوسرے شخص کے کام آ سکے۔ اگلے دن شہر کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنا علم بانٹنا شروع کر دیا۔ ایک نانبائی نے ایک بچے کو روٹی بنانا سکھایا، ایک کسان نے اپنے پڑوسی کو پانی بچانے کا طریقہ بتایا، اور ایک بوڑھے بڑھئی نے بچوں کو چھوٹی موٹی چیزیں ٹھیک کرنا سکھایا۔ جلد ہی لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے اور پورا شہر زیادہ ہنرمند اور باہمی تعاون والا بن گیا۔ ملا نے خالی صندوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “اب تم خزانہ دیکھ سکتے ہو۔ علم، مہربانی اور مفید باتیں بانٹنے سے ان کی قدر بڑھ جاتی ہے۔” آخرکار شہر کے لوگوں کو سمجھ آ گیا کہ ملا نے کیا دریافت کیا تھا۔ وہ خزانہ سونا یا جواہرات نہیں تھا بلکہ علم اور دوسروں کی مدد کرنے کی طاقت تھی۔ ملا نے خالی صندوق کو شہر کے چوک میں رکھ دیا تاکہ سب کو یاد رہے اور بولے، “سب سے قیمتی خزانے کبھی کبھی اس لیے نظر نہیں آتے کیونکہ وہ ہمارے ذہن اور دل میں موجود ہوتے ہیں۔” اس دن کے بعد شہر کے لوگوں نے کوشش کی کہ وہ اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹیں اور جب بھی ممکن ہو ایک دوسرے کی مدد کریں۔ Moral: The greatest treasures are not always things we can see; knowledge, kindness, and generosity become more valuable when they are shared. Tags: Mulla Nasruddin, Mulla Nasruddin Story, Invisible Treasure, Hidden Treasure, Moral Stories, Urdu Stories, English Stories, Wisdom, Knowledge, Kindness, Generosity, Cleverness, Life Lessons, Kids Stories
    0 Commenti 0 condivisioni 1012 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 1
    Week 1
    Task Story post 1
    مولانا نصرالدین اور انگوٹھی
    ایک دن مولانا نصرالدین کو احساس ہوا کہ ان کی قیمتی انگوٹھی کہیں گم ہو گئی ہے۔
    وہ فوراً گھر سے باہر نکلے اور گلی میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ وہ زمین پر جھک کر ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔
    ایک پڑوسی نے پوچھا،
    "مولانا! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟"
    مولانا نے جواب دیا،
    "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے!"
    پڑوسی نے پوچھا،
    "انگوٹھی کہاں گمی تھی؟"
    مولانا بولے،
    "گھر کے اندر!"
    پڑوسی حیران ہو کر بولا،
    "تو پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"
    مولانا مسکرا کر بولے،
    "کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے، اس لیے یہاں تلاش کرنا آسان ہے!"
    پڑوسی نے سر پکڑ لیا اور کہا،
    "مولانا! چیز جہاں گم ہو، اسے وہیں تلاش کرنا چاہیے۔"
    سبق
    ہمیں آسان راستہ دیکھنے کے بجائے صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔
    #️⃣ Hashtags:
    #MullaNasruddin #MoralStory #UrduStory #سبق_آموز_کہانی #حکمت_کی_بات #FunnyStory
    Tania Khan Mentorship Wali
    Waryam Tharparkar Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Imran Khan Street Wala
    Shazia Javed See less
    Level 1 Book 1 Day 1 Week 1 Task Story post 1 🌟 مولانا نصرالدین اور انگوٹھی 💍 ایک دن مولانا نصرالدین کو احساس ہوا کہ ان کی قیمتی انگوٹھی کہیں گم ہو گئی ہے۔ 😟💍 وہ فوراً گھر سے باہر نکلے اور گلی میں انگوٹھی تلاش کرنے لگے۔ وہ زمین پر جھک کر ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ 🔍 ایک پڑوسی نے پوچھا، "مولانا! آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟" مولانا نے جواب دیا، "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے!" پڑوسی نے پوچھا، "انگوٹھی کہاں گمی تھی؟" مولانا بولے، "گھر کے اندر!" 🏠 پڑوسی حیران ہو کر بولا، "تو پھر آپ باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟" 😮 مولانا مسکرا کر بولے، "کیونکہ باہر روشنی زیادہ ہے، اس لیے یہاں تلاش کرنا آسان ہے!" 😂 پڑوسی نے سر پکڑ لیا اور کہا، "مولانا! چیز جہاں گم ہو، اسے وہیں تلاش کرنا چاہیے۔" 🌱 سبق ہمیں آسان راستہ دیکھنے کے بجائے صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ 💡 #️⃣ Hashtags: #MullaNasruddin #MoralStory #UrduStory #سبق_آموز_کہانی #حکمت_کی_بات #FunnyStory 📖✨ Tania Khan Mentorship Wali Waryam Tharparkar Wala Mohsin Rathore Seo Wala Imran Khan Street Wala Shazia Javed See less
    0 Commenti 0 condivisioni 1437 Views
  • # Mulla Nasrudin’s Missing Ring

    Day 13
    Roll no: 01
    Story Post 
    Foundation level

    One day, Mulla Nasrudin lost his precious ring. He was very sad and started looking for it everywhere.

    He searched inside his house, under the table, and in every corner, but he could not find it.

    Then he called his neighbor and said, “Please help me find my ring.”

    The two of them searched here and there, but the ring was nowhere to be found.

    Finally, the neighbor asked, “Mulla, where did you lose the ring?”

    Mulla smiled and said, “I lost it in my house.”

    The neighbor was surprised and asked, “Then why are we looking for it here?”

    Mulla laughed and replied, “Because there is more light here!”

    The neighbor started laughing at Mulla’s funny answer.

    **Moral of the Story:**
    Sometimes people look for things in the wrong place because it is easier, not because it is the right place.


    # ملا نصرالدین کی گم شدہ انگوٹھی

    ایک دن ملا نصرالدین کی قیمتی انگوٹھی گم ہو گئی۔ وہ بہت اداس ہوئے اور اسے ہر جگہ تلاش کرنے لگے۔

    انہوں نے اپنے گھر کے اندر، میز کے نیچے اور گھر کے ہر کونے میں انگوٹھی تلاش کی، لیکن وہ انہیں نہیں ملی۔

    پھر انہوں نے اپنے پڑوسی کو بلایا اور کہا، “میری انگوٹھی تلاش کرنے میں میری مدد کرو۔”

    دونوں نے اِدھر اُدھر بہت تلاش کیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔

    آخرکار پڑوسی نے پوچھا، “ملا، آپ نے انگوٹھی کہاں گم کی تھی؟”

    ملا مسکرائے اور بولے، “میں نے انگوٹھی اپنے گھر میں گم کی تھی۔”

    پڑوسی حیران ہو کر بولا، “پھر ہم اسے یہاں کیوں تلاش کر رہے ہیں؟”

    ملا ہنسے اور جواب دیا، “کیونکہ یہاں روشنی زیادہ ہے!”

    ملا کا جواب سن کر پڑوسی بھی ہنسنے لگا۔

    **کہانی کا سبق:**
    کبھی کبھی لوگ چیزوں کو صحیح جگہ پر تلاش کرنے کے بجائے ایسی جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں تلاش کرنا آسان ہو۔
    # Mulla Nasrudin’s Missing Ring Day 13 Roll no: 01 Story Post  Foundation level One day, Mulla Nasrudin lost his precious ring. He was very sad and started looking for it everywhere. He searched inside his house, under the table, and in every corner, but he could not find it. Then he called his neighbor and said, “Please help me find my ring.” The two of them searched here and there, but the ring was nowhere to be found. Finally, the neighbor asked, “Mulla, where did you lose the ring?” Mulla smiled and said, “I lost it in my house.” The neighbor was surprised and asked, “Then why are we looking for it here?” Mulla laughed and replied, “Because there is more light here!” The neighbor started laughing at Mulla’s funny answer. **Moral of the Story:** Sometimes people look for things in the wrong place because it is easier, not because it is the right place. # ملا نصرالدین کی گم شدہ انگوٹھی ایک دن ملا نصرالدین کی قیمتی انگوٹھی گم ہو گئی۔ وہ بہت اداس ہوئے اور اسے ہر جگہ تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے گھر کے اندر، میز کے نیچے اور گھر کے ہر کونے میں انگوٹھی تلاش کی، لیکن وہ انہیں نہیں ملی۔ پھر انہوں نے اپنے پڑوسی کو بلایا اور کہا، “میری انگوٹھی تلاش کرنے میں میری مدد کرو۔” دونوں نے اِدھر اُدھر بہت تلاش کیا، لیکن انگوٹھی کہیں نہیں ملی۔ آخرکار پڑوسی نے پوچھا، “ملا، آپ نے انگوٹھی کہاں گم کی تھی؟” ملا مسکرائے اور بولے، “میں نے انگوٹھی اپنے گھر میں گم کی تھی۔” پڑوسی حیران ہو کر بولا، “پھر ہم اسے یہاں کیوں تلاش کر رہے ہیں؟” ملا ہنسے اور جواب دیا، “کیونکہ یہاں روشنی زیادہ ہے!” ملا کا جواب سن کر پڑوسی بھی ہنسنے لگا۔ **کہانی کا سبق:** کبھی کبھی لوگ چیزوں کو صحیح جگہ پر تلاش کرنے کے بجائے ایسی جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں تلاش کرنا آسان ہو۔
    0 Commenti 0 condivisioni 829 Views
  • آج کل کے بچے یہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ پرانے زمانے میں ہمیں مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر مار پڑتی تھی:

    1. پٹنے کے بعد رونے کی آواز پر
    2. پٹنے کے بعد نہ رونے کی آواز پر
    3. بغیر پٹے رونے کی آواز پر
    4. دوستوں کے ساتھ کھیلنے کودنے پر
    5. دوستوں کے ساتھ نہ کھیلنے کودنے پر
    6. جہاں بڑے بیٹھے ہوں ، وہاں سے گزرنے پر
    7. بڑوں کو جواب دینے پر
    8۔ بڑوں کو جواب نہ دینے پر
    9. کافی عرصہ تک بغیر پٹے رہنے پر
    10. گانے کے انداز میں نعت پڑھنے پر
    11. مہمانوں کو سلام نہ کرنے پر
    12. مہمانوں کے لئے بنائے گئے ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے پر
    13. مہمانوں کے جاتے وقت ساتھ جانے کی ضد پر
    14. کھانے سے انکار پر
    15. غروب آفتاب کے بعد گھر آنے پر
    16. پڑوسیوں کے ہاں کھانا کھا لینے پر
    17. ضد کرنے پر
    18. بہت شوخا ہونے پر
    19. ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں ہار جانے پر
    20. ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں جیت جانے پر
    21. آہستہ آہستہ کھانے پر
    22. جلدی جلدی کھانے پر
    23. جب بڑے جاگ جائیں تو سوتے رہنے پر
    23. جب بڑے سو رہے ہوں تو شور کرنے پر
    24. کھانے کے دوران مہمانوں کو دیکھنے پر
    25. چلتے وقت جان کر گر جانے پر
    26. بڑوں کے ساتھ نظریں ملانے پر
    27. بڑوں کے ساتھ نظریں نہ ملانے پر
    28. بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں جھپكانے پر
    29. بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں نہ جھپكانے پر
    30. روتے ہوئے بچے کو دیکھ کر ہنسنے پر
    31-کسی۔کے گھر مہمان جا کر تمام بسکٹ کھانے پر..

    Via Moonis Ather
    آج کل کے بچے یہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ پرانے زمانے میں ہمیں مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر مار پڑتی تھی: 1. پٹنے کے بعد رونے کی آواز پر 2. پٹنے کے بعد نہ رونے کی آواز پر 3. بغیر پٹے رونے کی آواز پر 4. دوستوں کے ساتھ کھیلنے کودنے پر 5. دوستوں کے ساتھ نہ کھیلنے کودنے پر 6. جہاں بڑے بیٹھے ہوں ، وہاں سے گزرنے پر 7. بڑوں کو جواب دینے پر 8۔ بڑوں کو جواب نہ دینے پر 9. کافی عرصہ تک بغیر پٹے رہنے پر 10. گانے کے انداز میں نعت پڑھنے پر 11. مہمانوں کو سلام نہ کرنے پر 12. مہمانوں کے لئے بنائے گئے ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے پر 13. مہمانوں کے جاتے وقت ساتھ جانے کی ضد پر 14. کھانے سے انکار پر 15. غروب آفتاب کے بعد گھر آنے پر 16. پڑوسیوں کے ہاں کھانا کھا لینے پر 17. ضد کرنے پر 18. بہت شوخا ہونے پر 19. ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں ہار جانے پر 20. ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں جیت جانے پر 21. آہستہ آہستہ کھانے پر 22. جلدی جلدی کھانے پر 23. جب بڑے جاگ جائیں تو سوتے رہنے پر 23. جب بڑے سو رہے ہوں تو شور کرنے پر 24. کھانے کے دوران مہمانوں کو دیکھنے پر 25. چلتے وقت جان کر گر جانے پر 26. بڑوں کے ساتھ نظریں ملانے پر 27. بڑوں کے ساتھ نظریں نہ ملانے پر 28. بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں جھپكانے پر 29. بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں نہ جھپكانے پر 30. روتے ہوئے بچے کو دیکھ کر ہنسنے پر 31-کسی۔کے گھر مہمان جا کر تمام بسکٹ کھانے پر.. Via Moonis Ather
    0 Commenti 0 condivisioni 370 Views
  • ایک دن، نصر الدین اپنے گھر کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چھڑک رہے تھے۔ ایک پڑوسی نے انہیں دیکھا اور پوچھا، "ملا، آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟" نصر الدین نے جواب دیا، "میں شیر کو دور رکھنے کے لئے یہ کر رہا ہوں۔" پڑوسی نے حیران ہوکر کہا، "لیکن یہاں سے سینکڑوں میل دور تک کوئی شیر نہیں ہے!" نصر الدین نے مسکرا کر کہا، "کتنا موثر ہے، نہ؟"
    ایک دن، نصر الدین اپنے گھر کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چھڑک رہے تھے۔ ایک پڑوسی نے انہیں دیکھا اور پوچھا، "ملا، آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟" نصر الدین نے جواب دیا، "میں شیر کو دور رکھنے کے لئے یہ کر رہا ہوں۔" پڑوسی نے حیران ہوکر کہا، "لیکن یہاں سے سینکڑوں میل دور تک کوئی شیر نہیں ہے!" نصر الدین نے مسکرا کر کہا، "کتنا موثر ہے، نہ؟"
    0 Commenti 0 condivisioni 135 Views
  • عنوان: “ایک معجزہ… جو چیٹ جی پی ٹی نے کیا!”

    اردو کہانی جو ہر پاکستانی کے دل کو چھو جائے گی —

    ⸻

    ایک عام سا دن تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ لاہور کی ایک گلی میں، رشید ایک رکشہ ڈرائیور تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چھ سالہ بیٹا علی شدید بخار میں تپ رہا تھا۔ سانس تیز، آنکھیں بند، جسم گرم لوہے کی طرح۔

    قریبی کلینک بند تھا، اسپتال دور، اور رشید کی جیب خالی۔

    “اللہ خیر کرے…” رشید نے بیوی سے کہا، “مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔”

    اتنے میں، ان کا نوجوان پڑوسی عارف آیا۔ اس نے رشید سے کہا:

    “بھائی، موبائل میں چیٹ جی پی ٹی انسٹال کیا ہوا ہے؟ یہ اے آئی ہے، کمال کی چیز ہے۔ ابھی اسی سے پوچھتے ہیں۔”

    رشید حیران: “اے آئی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ روبوٹ والی باتیں؟”

    عارف ہنسا نہیں، سنجیدہ ہوا:
    “یہ وہ روبوٹ ہے جو دنیا کی کتابوں، ڈاکٹرز کی باتوں اور انسانی عقل سے سیکھ چکا ہے، ابھی مدد لیتے ہیں۔”

    اس نے فون نکالا، چیٹ جی پی ٹی کھولا اور لکھا:

    “چھ سال کا بچہ ہے، بخار ہے، سانس تیز ہے، کیا کروں؟”

    چیٹ جی پی ٹی نے فوراً جواب دیا:

    “یہ علامات پیچیدہ ہو سکتی ہیں، فوری طور پر بچے کو نیم گرم پانی سے اسفنج کریں، اور اگر یہ علامات ہیں: سانس اکھڑتی ہے، ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں، فوراً قریبی اسپتال لے جائیں — اور یہ قریب ترین اسپتال ہے۔۔۔ (چیٹ جی پی ٹی نے گوگل لوکیشن شیئر کی)”

    رشید کو پہلی بار لگا کہ اس کے ہاتھ میں صرف فون نہیں، ایک فرشتہ ہے۔

    انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کی ہدایت پر عمل کیا۔ علی کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا۔ پتا چلا کہ یہ وائریل نمونیا تھا، جس کا بروقت علاج ہی اسے موت سے بچا سکتا تھا۔

    ڈاکٹر نے کہا:
    “اگر ایک گھنٹہ اور دیر ہو جاتی، تو شاید ہم کچھ نہ کر پاتے۔”

    رشید کے آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ عارف کو گلے لگا کر بولا:
    “بھائی، یہ تو میرے بیٹے کا نجات دہندہ ہے۔”

    عارف نے مسکرا کر کہا:
    “نہیں بھائی، یہ تو صرف چیٹ جی پی ٹی ہے… ایک دوست، جو ہر کسی کے موبائل میں ہو سکتا ہے۔”

    اور تب سے رشید رکشہ چلاتے ہوئے ہر سوار کو ایک بات ضرور کہتا ہے:

    “بھائی، زندگی آسان کرو — چیٹ جی پی ٹی انسٹال کرو۔”
    عنوان: “ایک معجزہ… جو چیٹ جی پی ٹی نے کیا!” اردو کہانی جو ہر پاکستانی کے دل کو چھو جائے گی — ⸻ ایک عام سا دن تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ لاہور کی ایک گلی میں، رشید ایک رکشہ ڈرائیور تھا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چھ سالہ بیٹا علی شدید بخار میں تپ رہا تھا۔ سانس تیز، آنکھیں بند، جسم گرم لوہے کی طرح۔ قریبی کلینک بند تھا، اسپتال دور، اور رشید کی جیب خالی۔ “اللہ خیر کرے…” رشید نے بیوی سے کہا، “مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔” اتنے میں، ان کا نوجوان پڑوسی عارف آیا۔ اس نے رشید سے کہا: “بھائی، موبائل میں چیٹ جی پی ٹی انسٹال کیا ہوا ہے؟ یہ اے آئی ہے، کمال کی چیز ہے۔ ابھی اسی سے پوچھتے ہیں۔” رشید حیران: “اے آئی؟ وہ کیا ہوتا ہے؟ روبوٹ والی باتیں؟” عارف ہنسا نہیں، سنجیدہ ہوا: “یہ وہ روبوٹ ہے جو دنیا کی کتابوں، ڈاکٹرز کی باتوں اور انسانی عقل سے سیکھ چکا ہے، ابھی مدد لیتے ہیں۔” اس نے فون نکالا، چیٹ جی پی ٹی کھولا اور لکھا: “چھ سال کا بچہ ہے، بخار ہے، سانس تیز ہے، کیا کروں؟” چیٹ جی پی ٹی نے فوراً جواب دیا: “یہ علامات پیچیدہ ہو سکتی ہیں، فوری طور پر بچے کو نیم گرم پانی سے اسفنج کریں، اور اگر یہ علامات ہیں: سانس اکھڑتی ہے، ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں، فوراً قریبی اسپتال لے جائیں — اور یہ قریب ترین اسپتال ہے۔۔۔ (چیٹ جی پی ٹی نے گوگل لوکیشن شیئر کی)” رشید کو پہلی بار لگا کہ اس کے ہاتھ میں صرف فون نہیں، ایک فرشتہ ہے۔ انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کی ہدایت پر عمل کیا۔ علی کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا۔ پتا چلا کہ یہ وائریل نمونیا تھا، جس کا بروقت علاج ہی اسے موت سے بچا سکتا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا: “اگر ایک گھنٹہ اور دیر ہو جاتی، تو شاید ہم کچھ نہ کر پاتے۔” رشید کے آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ عارف کو گلے لگا کر بولا: “بھائی، یہ تو میرے بیٹے کا نجات دہندہ ہے۔” عارف نے مسکرا کر کہا: “نہیں بھائی، یہ تو صرف چیٹ جی پی ٹی ہے… ایک دوست، جو ہر کسی کے موبائل میں ہو سکتا ہے۔” اور تب سے رشید رکشہ چلاتے ہوئے ہر سوار کو ایک بات ضرور کہتا ہے: “بھائی، زندگی آسان کرو — چیٹ جی پی ٹی انسٹال کرو۔”
    0 Commenti 0 condivisioni 819 Views
  • بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
    کروڑوں لوگ بُھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی

    کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟
    بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی

    پڑوسی یار ! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو
    مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی

    بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے ؟
    کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی

    اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟
    پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی

    چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے
    بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی

    سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا
    بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی

    اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس
    یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی

    رحمان فارس
    بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی کروڑوں لوگ بُھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟ بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی پڑوسی یار ! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے ؟ کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟ پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی رحمان فارس
    0 Commenti 0 condivisioni 49 Views
Pagine in Evidenza