• ایک مصروف بازار کے بیچوں بیچ لوگ ایک کرتب دیکھنے جمع تھے
    اوپر، دو عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر ایک کرتب باز چل رہا تھا
    لوگ حیرت اور جوش میں تالیاں بجا رہے تھے
    نیچے، مُلا نصرالدین خاموشی سے کھڑے اپنی داڑھی سہلا رہے تھے
    ایک بچہ ان کے قریب آیا، "مُلا جی! کیا آپ حیران نہیں؟"
    مُلا نے آسمان کی طرف دیکھا، "ہاں، حیران ہوں۔"
    "تو پھر آپ خوشی سے چیخ کیوں نہیں رہے؟"
    مُلا مسکرا کر بولے، "میں انتظار کر رہا ہوں کہ وہ نیچے کیسے آئے گا۔"
    لوگ ہنس پڑے، سمجھ گئے کہ یہ مذاق میں بھی حکمت ہے
    کرتب باز نے پلٹا مارا اور کامیابی سے نیچے اتر آیا
    سب نے زور سے تالیاں بجائیں، سوائے مُلا کے
    مُلا نے بچے سے کہا، "اب یہ واقعی کمال ہے!"
    بچے نے پوچھا، "کیا آپ کبھی ایسا کریں گے؟"
    مُلا ہنس کر بولے، "میں تو زمین پر بھی سیدھا نہیں چل پاتا!"
    تبھی کرتب باز نے آواز دی، "چلیں مُلا جی! آپ بھی آ جائیں!"
    مُلا نے اونچی آواز میں جواب دیا،
    "بیوقوفی دکھانا بہادری نہیں کہلاتی!"
    لوگ پھر سے ہنسنے لگے، مُلا کی بات دل میں اُتر گئی
    مُلا نصرالدین پلٹے، اور بازار کی چائے کی دکان کی طرف بڑھ گئے
    جہاں حکمت ہمیشہ ہنسی کے ساتھ ملتی ہے

    #مُلا_نصرالدین #حکمت_بھری_ہنسی #کرتب #لطیفہ #اردوکہانی #رسّی_پر_چلنا #بازار_کا_منظر #ہنسی_اور_دانائی
    ایک مصروف بازار کے بیچوں بیچ لوگ ایک کرتب دیکھنے جمع تھے 🌆 اوپر، دو عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر ایک کرتب باز چل رہا تھا 🏙️ لوگ حیرت اور جوش میں تالیاں بجا رہے تھے 🎉 نیچے، مُلا نصرالدین خاموشی سے کھڑے اپنی داڑھی سہلا رہے تھے 🤔 ایک بچہ ان کے قریب آیا، "مُلا جی! کیا آپ حیران نہیں؟" 🧒 مُلا نے آسمان کی طرف دیکھا، "ہاں، حیران ہوں۔" 😌 "تو پھر آپ خوشی سے چیخ کیوں نہیں رہے؟" مُلا مسکرا کر بولے، "میں انتظار کر رہا ہوں کہ وہ نیچے کیسے آئے گا۔" 😏 لوگ ہنس پڑے، سمجھ گئے کہ یہ مذاق میں بھی حکمت ہے 😂 کرتب باز نے پلٹا مارا اور کامیابی سے نیچے اتر آیا 🙌 سب نے زور سے تالیاں بجائیں، سوائے مُلا کے 👏 مُلا نے بچے سے کہا، "اب یہ واقعی کمال ہے!" 😄 بچے نے پوچھا، "کیا آپ کبھی ایسا کریں گے؟" مُلا ہنس کر بولے، "میں تو زمین پر بھی سیدھا نہیں چل پاتا!" 😂 تبھی کرتب باز نے آواز دی، "چلیں مُلا جی! آپ بھی آ جائیں!" مُلا نے اونچی آواز میں جواب دیا، "بیوقوفی دکھانا بہادری نہیں کہلاتی!" 🤭 لوگ پھر سے ہنسنے لگے، مُلا کی بات دل میں اُتر گئی 😇 مُلا نصرالدین پلٹے، اور بازار کی چائے کی دکان کی طرف بڑھ گئے ☕ جہاں حکمت ہمیشہ ہنسی کے ساتھ ملتی ہے ✨ #مُلا_نصرالدین #حکمت_بھری_ہنسی #کرتب #لطیفہ #اردوکہانی #رسّی_پر_چلنا #بازار_کا_منظر #ہنسی_اور_دانائی 😂🎪☕
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 290 Visualizações
  • Rehan School Online Academy
    ACCL Foundation Level
    Batch 13
    Day 14: Mulla Nasrudin and the Tightrope Walker ‍

    One day, a famous tightrope walker came to Mulla Nasrudin's village. A huge crowd gathered to watch as the performer carefully walked across a thin rope high above the ground.

    When the show ended, everyone clapped loudly. The tightrope walker proudly asked, "Who believes I can cross the rope again with a person on my shoulders?"

    The crowd shouted, "We do! We do!"

    Smiling, the performer pointed at Mulla Nasrudin and said, "Wonderful! Then please climb onto my shoulders."

    Mulla quickly stepped back and laughed. "I believe in your skill," he said, "but I believe in my own safety too!"

    The crowd burst into laughter. Even the tightrope walker smiled, realizing that believing in someone doesn't mean ignoring common sense.

    ملا نصرالدین اور رسّی پر چلنے والا ‍

    ایک دن ملا نصرالدین کے گاؤں میں ایک مشہور رسّی پر چلنے والا فنکار آیا۔ لوگ دور دور سے اس کا کرتب دیکھنے جمع ہوئے۔

    فنکار بڑی مہارت سے زمین سے کافی اونچی بندھی ہوئی باریک رسّی پر چل کر دوسری طرف پہنچ گیا۔

    تماشہ ختم ہوا تو سب نے زور دار تالیاں بجائیں۔

    فنکار نے مسکراتے ہوئے پوچھا، "کون یقین رکھتا ہے کہ میں ایک بار پھر رسّی پار کر سکتا ہوں، اس بار کسی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر؟"

    تمام لوگ بول اٹھے، "ہمیں یقین ہے!"

    فنکار نے فوراً ملا نصرالدین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "تو پھر آئیے، آپ میرے کندھوں پر بیٹھ جائیں!"

    ملا نصرالدین فوراً ایک قدم پیچھے ہٹے اور ہنستے ہوئے بولے، "مجھے آپ کی مہارت پر پورا یقین ہے، لیکن اپنی حفاظت پر بھی اتنا ہی یقین ہے!"

    یہ سن کر پورا مجمع ہنس پڑا۔ حتیٰ کہ فنکار بھی مسکرا دیا۔ سب نے سمجھ لیا کہ کسی پر بھروسہ کرنا اچھی بات ہے، مگر عقل مندی یہ ہے کہ ہر خطرہ مول نہ لیا جائے۔
    Rehan School Online Academy ACCL Foundation Level Batch 13 Day 14: 🎪 Mulla Nasrudin and the Tightrope Walker 🤹‍♂️ One day, a famous tightrope walker came to Mulla Nasrudin's village. 🌟 A huge crowd gathered to watch as the performer carefully walked across a thin rope high above the ground. 😲👏 When the show ended, everyone clapped loudly. 👏🎉 The tightrope walker proudly asked, "Who believes I can cross the rope again with a person on my shoulders?" 🤔 The crowd shouted, "We do! We do!" 🙌 Smiling, the performer pointed at Mulla Nasrudin and said, "Wonderful! Then please climb onto my shoulders." 😄 Mulla quickly stepped back and laughed. 😂 "I believe in your skill," he said, "but I believe in my own safety too!" 😅 The crowd burst into laughter. 🤣 Even the tightrope walker smiled, realizing that believing in someone doesn't mean ignoring common sense. 💡 🎪 ملا نصرالدین اور رسّی پر چلنے والا 🤹‍♂️ ایک دن ملا نصرالدین کے گاؤں میں ایک مشہور رسّی پر چلنے والا فنکار آیا۔ 🌟 لوگ دور دور سے اس کا کرتب دیکھنے جمع ہوئے۔ 👥🎉 فنکار بڑی مہارت سے زمین سے کافی اونچی بندھی ہوئی باریک رسّی پر چل کر دوسری طرف پہنچ گیا۔ 😲👏 تماشہ ختم ہوا تو سب نے زور دار تالیاں بجائیں۔ 👏🎊 فنکار نے مسکراتے ہوئے پوچھا، "کون یقین رکھتا ہے کہ میں ایک بار پھر رسّی پار کر سکتا ہوں، اس بار کسی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر؟" 🤔 تمام لوگ بول اٹھے، "ہمیں یقین ہے!" 🙌 فنکار نے فوراً ملا نصرالدین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "تو پھر آئیے، آپ میرے کندھوں پر بیٹھ جائیں!" 😄 ملا نصرالدین فوراً ایک قدم پیچھے ہٹے اور ہنستے ہوئے بولے، 😂 "مجھے آپ کی مہارت پر پورا یقین ہے، لیکن اپنی حفاظت پر بھی اتنا ہی یقین ہے!" 😅 یہ سن کر پورا مجمع ہنس پڑا۔ 🤣 حتیٰ کہ فنکار بھی مسکرا دیا۔ 😊 سب نے سمجھ لیا کہ کسی پر بھروسہ کرنا اچھی بات ہے، مگر عقل مندی یہ ہے کہ ہر خطرہ مول نہ لیا جائے۔ 💡
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 834 Visualizações
  • # Mulla Nasrudin & the Tightrope Walker

    Day 14
    Roll no: 01
    Story Post
    Foundation Level

    One day, a tightrope walker came to the town and announced that he would cross the rope from one end to the other.

    People gathered to watch the show. Mulla Nasrudin also went there.

    The man started walking on the rope, and everyone held their breath. When he reached the other side safely, everyone clapped and praised him.

    The tightrope walker, proud of his success, asked Mulla, “How did you like my performance?”

    Mulla smiled and replied, “It was very good, but tell me, why did you need a pole?”

    The man was surprised and asked, “If not for balance, then for what?”

    Mulla laughed and said, “If you have so much balance, then you don’t need a pole!”

    The crowd laughed at Mulla’s funny answer.

    **Moral of the Story:**
    Sometimes, people depend on things they don’t really need. True confidence comes from within.


    # ملا نصرالدین اور رسی پر چلنے والا

    Day 14
    Roll no: 01
    Story Post
    Foundation Level

    ایک دن ایک رسی پر چلنے والا فنکار شہر میں آیا اور اعلان کیا کہ وہ رسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گا۔

    لوگ اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ملا نصرالدین بھی وہاں پہنچ گئے۔

    فنکار نے رسی پر چلنا شروع کیا اور سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب وہ بحفاظت دوسری طرف پہنچ گیا تو سب نے تالیاں بجائیں اور اس کی تعریف کی۔

    رسی پر چلنے والے فنکار نے اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے ملا سے پوچھا، “آپ کو میرا کرتب کیسا لگا؟”

    ملا مسکرائے اور بولے، “بہت اچھا تھا، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں اس ڈنڈے کی ضرورت کیوں پڑی؟”

    فنکار حیران ہو کر بولا، “اگر توازن قائم رکھنے کے لیے نہیں، تو پھر کس لیے؟”

    ملا ہنسے اور کہا، “اگر تمہارے پاس اتنا اچھا توازن ہے تو پھر ڈنڈے کی کیا ضرورت ہے!”

    لوگ ملا کا مزاحیہ جواب سن کر ہنسنے لگے۔

    **کہانی کا سبق:**
    کبھی کبھی لوگ ایسی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقی اعتماد انسان کے اندر سے آتا ہے۔
    # Mulla Nasrudin & the Tightrope Walker Day 14 Roll no: 01 Story Post Foundation Level One day, a tightrope walker came to the town and announced that he would cross the rope from one end to the other. People gathered to watch the show. Mulla Nasrudin also went there. The man started walking on the rope, and everyone held their breath. When he reached the other side safely, everyone clapped and praised him. The tightrope walker, proud of his success, asked Mulla, “How did you like my performance?” Mulla smiled and replied, “It was very good, but tell me, why did you need a pole?” The man was surprised and asked, “If not for balance, then for what?” Mulla laughed and said, “If you have so much balance, then you don’t need a pole!” The crowd laughed at Mulla’s funny answer. **Moral of the Story:** Sometimes, people depend on things they don’t really need. True confidence comes from within. # ملا نصرالدین اور رسی پر چلنے والا Day 14 Roll no: 01 Story Post Foundation Level ایک دن ایک رسی پر چلنے والا فنکار شہر میں آیا اور اعلان کیا کہ وہ رسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گا۔ لوگ اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ملا نصرالدین بھی وہاں پہنچ گئے۔ فنکار نے رسی پر چلنا شروع کیا اور سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب وہ بحفاظت دوسری طرف پہنچ گیا تو سب نے تالیاں بجائیں اور اس کی تعریف کی۔ رسی پر چلنے والے فنکار نے اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے ملا سے پوچھا، “آپ کو میرا کرتب کیسا لگا؟” ملا مسکرائے اور بولے، “بہت اچھا تھا، لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں اس ڈنڈے کی ضرورت کیوں پڑی؟” فنکار حیران ہو کر بولا، “اگر توازن قائم رکھنے کے لیے نہیں، تو پھر کس لیے؟” ملا ہنسے اور کہا، “اگر تمہارے پاس اتنا اچھا توازن ہے تو پھر ڈنڈے کی کیا ضرورت ہے!” لوگ ملا کا مزاحیہ جواب سن کر ہنسنے لگے۔ **کہانی کا سبق:** کبھی کبھی لوگ ایسی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی انہیں واقعی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقی اعتماد انسان کے اندر سے آتا ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 1266 Visualizações