• کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی، لاہور اور دنیا کے بڑے شہر آخر اتنے گرم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟

    زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر (AC) گرمی کا حل ہے۔

    حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    اے سی گرمی کو ختم نہیں کرتا…
    وہ صرف گرمی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔

    کمرے کے اندر سے گرمی نکال کر سڑک پر پھینک دیتا ہے۔

    اب ذرا سوچئے…

    ایک عمارت، دو عمارتیں، ہزار عمارتیں، لاکھوں اے سی…

    سب اپنی گرمی باہر پھینک رہے ہیں۔

    سڑکیں مزید گرم ہوتی ہیں۔
    شہر مزید گرم ہوتے ہیں۔
    لوگ مزید اے سی چلاتے ہیں۔
    اور پھر شہر اور بھی گرم ہو جاتے ہیں۔

    ہم کئی دہائیوں سے اسی خطرناک چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    لیکن قدرت نے اس کا حل پہلے ہی بنا رکھا ہے۔

    گرین وال (Green Wall)

    یعنی عمارت کی دیواروں پر پودے۔

    پودے اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔
    یہ عمل بالکل ویسے ہی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے جیسے پسینہ ہمارے جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

    پتے دیوار کو سایہ دیتے ہیں۔
    دیوار سورج کی گرمی جذب نہیں کرتی۔
    اور بعض صورتوں میں دیوار کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔

    نہ شور…
    نہ بجلی کا بل…
    نہ شہر میں اضافی گرمی…

    صرف ایک ایسی عمارت جو خود بھی ٹھنڈی رہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی ٹھنڈا کرے۔

    گرم شہر ہماری قسمت نہیں ہیں۔

    یہ صرف ایک ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔

    اور ہر ڈیزائن کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ کسی عمارت کو صرف اے سی کے ذریعے ٹھنڈا کر رہے ہیں تو شاید آپ نے ابھی تک قدرتی آرکیٹیکچر کو پوری طرح سمجھا نہیں۔

    “Academy” کمنٹ کریں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گرین والز، درخت اور قدرتی ڈیزائن کس طرح بغیر مشینوں کے عمارتوں کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔

    — ریحان اللہ والا

    Via Biotonomy
    کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی، لاہور اور دنیا کے بڑے شہر آخر اتنے گرم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر (AC) گرمی کا حل ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اے سی گرمی کو ختم نہیں کرتا… وہ صرف گرمی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ کمرے کے اندر سے گرمی نکال کر سڑک پر پھینک دیتا ہے۔ اب ذرا سوچئے… ایک عمارت، دو عمارتیں، ہزار عمارتیں، لاکھوں اے سی… سب اپنی گرمی باہر پھینک رہے ہیں۔ سڑکیں مزید گرم ہوتی ہیں۔ شہر مزید گرم ہوتے ہیں۔ لوگ مزید اے سی چلاتے ہیں۔ اور پھر شہر اور بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ ہم کئی دہائیوں سے اسی خطرناک چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن قدرت نے اس کا حل پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ 🌿 گرین وال (Green Wall) یعنی عمارت کی دیواروں پر پودے۔ پودے اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ویسے ہی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے جیسے پسینہ ہمارے جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ پتے دیوار کو سایہ دیتے ہیں۔ دیوار سورج کی گرمی جذب نہیں کرتی۔ اور بعض صورتوں میں دیوار کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔ نہ شور… نہ بجلی کا بل… نہ شہر میں اضافی گرمی… صرف ایک ایسی عمارت جو خود بھی ٹھنڈی رہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی ٹھنڈا کرے۔ گرم شہر ہماری قسمت نہیں ہیں۔ یہ صرف ایک ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔ اور ہر ڈیزائن کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی عمارت کو صرف اے سی کے ذریعے ٹھنڈا کر رہے ہیں تو شاید آپ نے ابھی تک قدرتی آرکیٹیکچر کو پوری طرح سمجھا نہیں۔ “Academy” کمنٹ کریں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گرین والز، درخت اور قدرتی ڈیزائن کس طرح بغیر مشینوں کے عمارتوں کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ — ریحان اللہ والا Via Biotonomy
    0 Commentarii 0 Distribuiri 178 Views
  • 700 سال پہلے لوگ بغیر بجلی کے عمارتوں کو 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کر لیتے تھے۔

    وہ ایک خاص نظام بناتے تھے جسے فارسی میں بادگیر (Badgir) کہا جاتا ہے۔

    یہ بلند مینار نما ڈھانچے:

    آسمان سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کو پکڑتے تھے۔

    اس ہوا کو زیرِ زمین سرنگوں سے گزارا جاتا تھا، جہاں وہ قدرتی طور پر مزید ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔

    پھر یہی ٹھنڈی ہوا گھروں اور عوامی مقامات میں واپس پہنچائی جاتی تھی۔

    نتیجہ؟

    دنیا کے گرم ترین علاقوں میں بھی لوگ بغیر کسی بجلی کے آرام دہ درجہ حرارت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

    کچھ نظام تو اتنے ترقی یافتہ تھے کہ صحرا میں بھی برف بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    آج اس قدیم دانش کو جدید تعمیراتی ڈیزائن کے ساتھ ملا کر بجلی کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے، اور بڑھتی ہوئی گرمی کے باوجود شہروں کو رہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    Biotonomy میں ہم فطرت پر مبنی ٹھنڈک کے انہی قدیم طریقوں کو جدید تعمیرات میں دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔

    اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ بادگیر جیسے قدیم نظام کس طرح ایئر کنڈیشنر اور ہیٹر کا متبادل بن سکتے ہیں، تو

    نیچے “Academy” لکھ کر کمنٹ کریں، ہم آپ کو مزید معلومات فراہم کریں گے۔

    Biotonomy – فطرت سے ہم آہنگ تعمیرات

    #Biotonomy #NatureBasedSolutions #GreenArchitecture #SustainableBuilding #ماحول_دوست_تعمیرات #قدرتی_ٹھنڈک #گرین_آرکیٹیکچر
    700 سال پہلے لوگ بغیر بجلی کے عمارتوں کو 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کر لیتے تھے۔ وہ ایک خاص نظام بناتے تھے جسے فارسی میں بادگیر (Badgir) کہا جاتا ہے۔ یہ بلند مینار نما ڈھانچے: ◾ آسمان سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کو پکڑتے تھے۔ ◾ اس ہوا کو زیرِ زمین سرنگوں سے گزارا جاتا تھا، جہاں وہ قدرتی طور پر مزید ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ ◾ پھر یہی ٹھنڈی ہوا گھروں اور عوامی مقامات میں واپس پہنچائی جاتی تھی۔ نتیجہ؟ دنیا کے گرم ترین علاقوں میں بھی لوگ بغیر کسی بجلی کے آرام دہ درجہ حرارت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ کچھ نظام تو اتنے ترقی یافتہ تھے کہ صحرا میں بھی برف بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آج اس قدیم دانش کو جدید تعمیراتی ڈیزائن کے ساتھ ملا کر بجلی کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے، اور بڑھتی ہوئی گرمی کے باوجود شہروں کو رہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ Biotonomy میں ہم فطرت پر مبنی ٹھنڈک کے انہی قدیم طریقوں کو جدید تعمیرات میں دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ بادگیر جیسے قدیم نظام کس طرح ایئر کنڈیشنر اور ہیٹر کا متبادل بن سکتے ہیں، تو 👉 نیچے “Academy” لکھ کر کمنٹ کریں، ہم آپ کو مزید معلومات فراہم کریں گے۔ Biotonomy – فطرت سے ہم آہنگ تعمیرات #Biotonomy #NatureBasedSolutions #GreenArchitecture #SustainableBuilding #ماحول_دوست_تعمیرات #قدرتی_ٹھنڈک #گرین_آرکیٹیکچر
    0 Commentarii 0 Distribuiri 1017 Views