اگر دشمن ساتھ رہ سکتے ہیں… تو ممالک کیوں نہیں؟
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں…
کل تک جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے،
آج ایک ہی شہر میں رہ رہے ہیں…
ایک ہی مارکیٹ سے خریداری کر رہے ہیں…
ایک ہی ہسپتال میں علاج کرا رہے ہیں…
اور کبھی کبھی تو ایک ہی خاندان کا حصہ بن چکے ہیں۔
یورپ میں صدیوں جنگیں ہوئیں… لاکھوں لوگ مرے…
لیکن آج وہی ممالک سرحدیں کھول کر ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔
جن قوموں نے ایک دوسرے پر بم برسائے…
آج وہی ایک دوسرے کے ساتھ یونیورسٹیاں بنا رہے ہیں،
کاروبار کر رہے ہیں،
ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔
تو سوال یہ ہے…
اگر انسان بطور فرد اپنے سب سے بڑے دشمن کو معاف کر کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے…
تو پھر قومیں اور ریاستیں کیوں نہیں؟
کیا مسئلہ مذہب ہے؟
یا سرحدیں؟
یا تاریخ؟
یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے…
انا (Ego)
خوف (Fear)
اور بات نہ کرنے کی عادت (Lack of Dialogue)
جنگ ہمیشہ میز پر ختم ہوتی ہے…
آخر میں مذاکرات ہی ہوتے ہیں…
دستخط ہی ہوتے ہیں…
بات چیت ہی ہوتی ہے۔
تو سوال یہ ہے…
جب آخر میں بات ہی کرنی ہے،
تو پہلے کیوں نہیں؟
کیوں نوجوان سپاہی جان دیں
جب فیصلے کرنے والے خود میدان میں نہیں ہوتے؟
شاید انسانیت کا اگلا بڑا انقلاب ہتھیاروں میں نہیں…
بلکہ مکالمے (Dialogue) میں ہوگا۔
کیونکہ زمین اوپر سے دیکھیں تو
نہ کوئی پاکستانی نظر آتا ہے…
نہ اسرائیلی…
نہ فلسطینی…
نہ امریکی…
صرف انسان نظر آتا ہے۔
اور شاید ایک دن دنیا یہ سمجھ جائے گی کہ…
امن کمزوری نہیں ہوتا۔
امن سب سے بڑی ذہانت ہوتا ہے۔
#Dialogue #HumanityFirst #Peace #ThinkDifferent #CommunicationRevolution
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں…
کل تک جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے،
آج ایک ہی شہر میں رہ رہے ہیں…
ایک ہی مارکیٹ سے خریداری کر رہے ہیں…
ایک ہی ہسپتال میں علاج کرا رہے ہیں…
اور کبھی کبھی تو ایک ہی خاندان کا حصہ بن چکے ہیں۔
یورپ میں صدیوں جنگیں ہوئیں… لاکھوں لوگ مرے…
لیکن آج وہی ممالک سرحدیں کھول کر ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔
جن قوموں نے ایک دوسرے پر بم برسائے…
آج وہی ایک دوسرے کے ساتھ یونیورسٹیاں بنا رہے ہیں،
کاروبار کر رہے ہیں،
ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔
تو سوال یہ ہے…
اگر انسان بطور فرد اپنے سب سے بڑے دشمن کو معاف کر کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے…
تو پھر قومیں اور ریاستیں کیوں نہیں؟
کیا مسئلہ مذہب ہے؟
یا سرحدیں؟
یا تاریخ؟
یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے…
انا (Ego)
خوف (Fear)
اور بات نہ کرنے کی عادت (Lack of Dialogue)
جنگ ہمیشہ میز پر ختم ہوتی ہے…
آخر میں مذاکرات ہی ہوتے ہیں…
دستخط ہی ہوتے ہیں…
بات چیت ہی ہوتی ہے۔
تو سوال یہ ہے…
جب آخر میں بات ہی کرنی ہے،
تو پہلے کیوں نہیں؟
کیوں نوجوان سپاہی جان دیں
جب فیصلے کرنے والے خود میدان میں نہیں ہوتے؟
شاید انسانیت کا اگلا بڑا انقلاب ہتھیاروں میں نہیں…
بلکہ مکالمے (Dialogue) میں ہوگا۔
کیونکہ زمین اوپر سے دیکھیں تو
نہ کوئی پاکستانی نظر آتا ہے…
نہ اسرائیلی…
نہ فلسطینی…
نہ امریکی…
صرف انسان نظر آتا ہے۔
اور شاید ایک دن دنیا یہ سمجھ جائے گی کہ…
امن کمزوری نہیں ہوتا۔
امن سب سے بڑی ذہانت ہوتا ہے۔
#Dialogue #HumanityFirst #Peace #ThinkDifferent #CommunicationRevolution
🌍 اگر دشمن ساتھ رہ سکتے ہیں… تو ممالک کیوں نہیں؟ 🤔
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں…
کل تک جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے،
آج ایک ہی شہر میں رہ رہے ہیں…
ایک ہی مارکیٹ سے خریداری کر رہے ہیں…
ایک ہی ہسپتال میں علاج کرا رہے ہیں…
اور کبھی کبھی تو ایک ہی خاندان کا حصہ بن چکے ہیں۔
یورپ میں صدیوں جنگیں ہوئیں… لاکھوں لوگ مرے…
لیکن آج وہی ممالک سرحدیں کھول کر ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔
جن قوموں نے ایک دوسرے پر بم برسائے…
آج وہی ایک دوسرے کے ساتھ یونیورسٹیاں بنا رہے ہیں،
کاروبار کر رہے ہیں،
ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔
تو سوال یہ ہے…
اگر انسان بطور فرد اپنے سب سے بڑے دشمن کو معاف کر کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے…
تو پھر قومیں اور ریاستیں کیوں نہیں؟
کیا مسئلہ مذہب ہے؟
یا سرحدیں؟
یا تاریخ؟
یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے…
❗ انا (Ego)
❗ خوف (Fear)
❗ اور بات نہ کرنے کی عادت (Lack of Dialogue)
جنگ ہمیشہ میز پر ختم ہوتی ہے…
آخر میں مذاکرات ہی ہوتے ہیں…
دستخط ہی ہوتے ہیں…
بات چیت ہی ہوتی ہے۔
تو سوال یہ ہے…
جب آخر میں بات ہی کرنی ہے،
تو پہلے کیوں نہیں؟
کیوں نوجوان سپاہی جان دیں
جب فیصلے کرنے والے خود میدان میں نہیں ہوتے؟
شاید انسانیت کا اگلا بڑا انقلاب ہتھیاروں میں نہیں…
بلکہ مکالمے (Dialogue) میں ہوگا۔
کیونکہ زمین اوپر سے دیکھیں تو
نہ کوئی پاکستانی نظر آتا ہے…
نہ اسرائیلی…
نہ فلسطینی…
نہ امریکی…
صرف انسان نظر آتا ہے۔
اور شاید ایک دن دنیا یہ سمجھ جائے گی کہ…
امن کمزوری نہیں ہوتا۔
امن سب سے بڑی ذہانت ہوتا ہے۔
#Dialogue #HumanityFirst #Peace #ThinkDifferent #CommunicationRevolution
0 Комментарии
0 Поделились
452 Просмотры
0