• کراچی کا خاموش سپاہی

    آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی شخصیت کو دیکھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

    82 سالہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، جو گزشتہ 11 سال سے زیادہ عرصے سے کراچی کی سڑکوں پر تنہا کھڑے ہو کر شہر کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    نہ کوئی سیاسی جماعت۔
    نہ کوئی سرکاری عہدہ۔
    نہ کوئی فنڈنگ۔

    صرف ایک تختی، ایک لاٹھی، اور اپنے شہر سے محبت۔

    جب بہت سے لوگ فیس بک پر شکایت لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ شخص گرمی، دھول اور آلودگی میں خود کھڑا ہو کر گٹر، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، درختوں کی کٹائی اور شہری مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

    مجھے ان کی سب سے متاثر کن بات یہ لگی کہ انہوں نے صرف ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک سال نہیں، بلکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کام جاری رکھا۔

    اکثر لوگ کہتے ہیں:

    “ایک آدمی کیا بدل سکتا ہے؟”

    شاید جواب یہ ہے:

    “شہر نہ بھی بدلے، لیکن ایک آدمی اپنے ضمیر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔”

    کراچی کو ایسے ہزاروں شہریوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ مسئلے کی طرف عملی توجہ بھی دلائیں۔

    اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، چیمبر آف کامرس یا کمیونٹی گروپ سے وابستہ ہیں، تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو مدعو کریں اور ان کی کہانی دنیا تک پہنچائیں۔

    عبدالحمید ڈاگیا صاحب
    +92 321 8233323

    Abdul Hamid Dagia

    شاید کراچی کے مسائل حل کرنے سے پہلے ہمیں ایسے لوگوں کو سننا سیکھنا ہوگا جو برسوں سے ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو سلام۔

    آپ نے ثابت کیا کہ شہری ذمہ داری کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔

    — ریحان اللہ والا

    #Karachi #AbdulHamidDagia #KarachiNeedsHeroes #Podcast #Interview #Leadership #Pakistan
    کراچی کا خاموش سپاہی آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی شخصیت کو دیکھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ 82 سالہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، جو گزشتہ 11 سال سے زیادہ عرصے سے کراچی کی سڑکوں پر تنہا کھڑے ہو کر شہر کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ نہ کوئی سیاسی جماعت۔ نہ کوئی سرکاری عہدہ۔ نہ کوئی فنڈنگ۔ صرف ایک تختی، ایک لاٹھی، اور اپنے شہر سے محبت۔ جب بہت سے لوگ فیس بک پر شکایت لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ شخص گرمی، دھول اور آلودگی میں خود کھڑا ہو کر گٹر، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، درختوں کی کٹائی اور شہری مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مجھے ان کی سب سے متاثر کن بات یہ لگی کہ انہوں نے صرف ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک سال نہیں، بلکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کام جاری رکھا۔ اکثر لوگ کہتے ہیں: “ایک آدمی کیا بدل سکتا ہے؟” شاید جواب یہ ہے: “شہر نہ بھی بدلے، لیکن ایک آدمی اپنے ضمیر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔” کراچی کو ایسے ہزاروں شہریوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ مسئلے کی طرف عملی توجہ بھی دلائیں۔ اگر آپ پوڈکاسٹ کرتے ہیں، یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، چیمبر آف کامرس یا کمیونٹی گروپ سے وابستہ ہیں، تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو مدعو کریں اور ان کی کہانی دنیا تک پہنچائیں۔ عبدالحمید ڈاگیا صاحب 📞 +92 321 8233323 Abdul Hamid Dagia شاید کراچی کے مسائل حل کرنے سے پہلے ہمیں ایسے لوگوں کو سننا سیکھنا ہوگا جو برسوں سے ان مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ عبدالحمید ڈاگیا صاحب کو سلام۔ آپ نے ثابت کیا کہ شہری ذمہ داری کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ — ریحان اللہ والا #Karachi #AbdulHamidDagia #KarachiNeedsHeroes #Podcast #Interview #Leadership #Pakistan
    0 Reacties 0 aandelen 60 Views