• National Vocational & Technical Training Commission (NAVTTC) Sindh is organizing Skill Competitions at the Zonal level on October 26, 2016 in the following three zones:
    • Karachi
    • Hyderabad
    • Sukkur

    Judges are required for the following Trades for Skill Competition:
    1. Beautician,
    2. Dress Making
    3. Electrician
    4. Auto-CAD
    5. Computerized Accounting
    6. Welding
    7. Cooking
    8. RACT

    Let me know if you know someone who might be interested. Thanks.

    Azmat
    0333-2408637
    National Vocational & Technical Training Commission (NAVTTC) Sindh is organizing Skill Competitions at the Zonal level on October 26, 2016 in the following three zones: • Karachi • Hyderabad • Sukkur Judges are required for the following Trades for Skill Competition: 1. Beautician, 2. Dress Making 3. Electrician 4. Auto-CAD 5. Computerized Accounting 6. Welding 7. Cooking 8. RACT Let me know if you know someone who might be interested. Thanks. Azmat 0333-2408637
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 264 Views
  • Free High-Tech Training by NAVTTC

    Via Iqbal Yousuf
    Free High-Tech Training by NAVTTC Via Iqbal Yousuf
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 114 Views
  • میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ — حکومتِ پاکستان کا نیا راستہ

    پاکستان میں تعلیمی نظام ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ لاکھوں بچے میٹرک کر کے فارغ ہو جاتے ہیں لیکن ان کے پاس کمانے کے لئے کوئی عملی ہنر نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک ڈگری ہولڈر ہوتے ہیں، جبکہ نوکری کے لئے کمپنیوں کو ہنر مند لوگ چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان میٹرک یا انٹر کے بعد بے روزگار رہ جاتے ہیں، اور پھر ان کے خواب اور حوصلے ماند پڑنے لگتے ہیں۔

    لیکن اب حکومتِ پاکستان نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو آنے والی نسلوں کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ اس نئے راستے کا نام ہے: “میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ”، جسے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) نے متعارف کروایا ہے۔ اسے عام زبان میں میٹرک ٹیک بھی کہا جاتا ہے۔



    عام میٹرک اور اس کے مسائل

    عام میٹرک میں بچوں کو یہ مضامین لازمی پڑھنے ہوتے ہیں: اردو، انگلش، اسلامیات، پاکستان اسٹڈیز، ریاضی، اور سائنس یا آرٹس کے دوسرے مضامین۔ اس پورے دو سالہ سفر میں زیادہ تر وقت بچے رٹے لگانے میں گزار دیتے ہیں۔ امتحان پاس کرنے کے بعد ان کے پاس ڈگری تو آ جاتی ہے، مگر ہاتھ میں کوئی ایسا ہنر نہیں ہوتا جس سے وہ فوری طور پر کما سکیں یا عملی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکیں۔

    یہی وجہ ہے کہ عام میٹرک کے بعد اکثر نوجوان یا تو مزید تعلیم کے خرچ تلے دب جاتے ہیں یا پھر ایک لمبے عرصے تک روزگار کے لئے دربدر پھرتے ہیں۔



    میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ — کیا ہے؟

    اس نئے نظام میں بچے کو صرف یہ لازمی مضامین پڑھنے ہیں:
    • جنرل سائنس
    • جنرل میتھس

    اس کے ساتھ ساتھ بچہ دو ٹیکنیکل مضامین پڑھتا ہے جو کہ ایک ہنر یا ٹریڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    یعنی اب بچے کو اردو، انگلش، اسلامیات یا پاکستان اسٹڈیز لازمی پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی ہنر سیکھتا ہے، جو اسے گریڈ 10 مکمل کرنے کے ساتھ ہی ایک ماہر ہنرمند بنا دیتا ہے۔



    کونسے ہنر شامل ہیں؟

    حکومت نے میٹرک وِد اسکلز کے تحت یہ بڑے ٹریڈز شامل کئے ہیں:
    1. آئی او ٹی اور ڈیٹا کوڈنگ – جدید ٹیکنالوجی اور پروگرامنگ۔
    2. انڈسٹریل الیکٹریشن – بجلی اور فیکٹری کی مشینوں کا ہنر۔
    3. گرافک ڈیزائن اور میڈیا – ڈیزائننگ، ویڈیوز اور ڈیجیٹل کریئیٹیو کام۔
    4. پلمبنگ اور سولر واٹر ہیٹنگ – پانی اور سولر سسٹمز انسٹال اور مرمت کرنا۔
    5. فیشن اور ڈریس میکنگ – کپڑوں کی ڈیزائننگ اور سلائی۔
    6. پروفیشنل شیف – کھانے پکانے اور کچن کا پروفیشنل ہنر۔
    7. بیوٹی اور ہیئر سروسز – بیوٹی پارلر اور سیلون کی مہارت۔
    8. ٹورازم ایکسپرٹ – سیاحت اور ٹریول مینجمنٹ۔
    9. ایچ وی اے سی آر (AC & کولنگ) – اے سی اور کولنگ سسٹمز کی دیکھ بھال۔
    10. ہوٹل مینجمنٹ – ہوٹل اور ریسٹورنٹ چلانے کی تربیت۔

    ہر بچہ ان میں سے ایک ٹریڈ چنتا ہے اور دو سال کے اندر وہ اس میں عملی مہارت حاصل کر لیتا ہے۔



    یہ عام میٹرک سے کس طرح مختلف ہے؟

    فرق صاف ہے۔ عام میٹرک میں بچہ دو سال صرف کتابوں اور رٹنے میں لگا دیتا ہے۔ وہ امتحان تو پاس کر لیتا ہے مگر عملی زندگی میں صفر رہتا ہے۔

    جبکہ میٹرک وِد اسکلز میں بچہ کتابی بوجھ کم اور عملی ہنر زیادہ سیکھتا ہے۔ صرف جنرل سائنس اور میتھس لازمی ہیں، باقی سارا وقت وہ اپنے ہنر پر لگاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گریڈ 10 مکمل ہوتے ہی وہ ایک سرکاری میٹرک سرٹیفکیٹ ہولڈر بھی ہوتا ہے اور ایک پروفیشنل ہنر مند بھی۔



    آنے والے وقت کی ضرورت

    آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ گوگل، یوٹیوب اور اے آئی کے زمانے میں صرف علم یاد کرنا بیکار ہے کیونکہ علم سب کو دستیاب ہے۔ اصل طاقت ہے ہنر۔
    • نوکری دینے والا یہ نہیں پوچھتا کہ آپ نے اردو کی کتنی نظمیں یاد کی ہیں۔
    • وہ یہ پوچھتا ہے کہ آپ کمپیوٹر پر کیا کرسکتے ہیں، آپ کھانا بنا سکتے ہیں یا مشین ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    اسی لئے آنے والا وقت ڈگری ہولڈرز کا نہیں بلکہ اسکلز ہولڈرز کا ہے۔



    بچوں اور والدین کے لئے پیغام

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ صرف ڈگری والا نہ رہے بلکہ کمانے والا، بنانے والا اور بااعتماد نوجوان بنے تو اسے عام میٹرک کی بجائے میٹرک وِد اسکلز میں داخل کروائیں۔

    یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے مستقبل کو روشن کرے گا۔ یہ وہ انقلاب ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ ہنر مند، خوددار اور لیڈر بنائے گا۔



    کہاں داخلہ لیں؟

    فیڈرل بورڈ نے پاکستان بھر میں ان اسکولوں کی فہرست جاری کی ہے جہاں میٹرک وِد اسکلز پڑھایا جاتا ہے۔ آپ یہ فہرست یہاں دیکھ سکتے ہیں:
    https://www.fbise.edu.pk/Technical/AFFILIATED%20INSTITUTION%20IN%20%28MATRIC%20TECH%29.pdf



    آخری بات

    پاکستان کے والدین اور اساتذہ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ بچوں کو صرف ڈگری دلوانا چاہتے ہیں یا ان کے ہاتھ میں ہنر بھی دینا چاہتے ہیں؟

    میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ وہ تحفہ ہے جو حکومتِ پاکستان نے دیا ہے۔ یہ راستہ ہمارے بچوں کو صرف پڑھا لکھا نہیں بلکہ کامیاب، ہنر مند اور کمانے والا انسان بنائے گا۔

    ریحان اسکول اس نئے نظام کو بھرپور سپورٹ کرتا ہے کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ مستقبل صرف انہی کا ہے جن کے پاس علم بھی ہو اور ہنر بھی۔



    ریفرنسز:
    • FBISE Technical Education: https://www.fbise.edu.pk/Technicaleducation.php
    • Affiliated Institutions (Matric-Tech): https://www.fbise.edu.pk/Technical/AFFILIATED%20INSTITUTION%20IN%20%28MATRIC%20TECH%29.pdf
    • NAVTTC Policy Document: https://navttc.gov.pk/AssetFiles/PC-Matric-Tech-17-12-19-NAVTTC.pdf

    میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ — حکومتِ پاکستان کا نیا راستہ پاکستان میں تعلیمی نظام ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ لاکھوں بچے میٹرک کر کے فارغ ہو جاتے ہیں لیکن ان کے پاس کمانے کے لئے کوئی عملی ہنر نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک ڈگری ہولڈر ہوتے ہیں، جبکہ نوکری کے لئے کمپنیوں کو ہنر مند لوگ چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان میٹرک یا انٹر کے بعد بے روزگار رہ جاتے ہیں، اور پھر ان کے خواب اور حوصلے ماند پڑنے لگتے ہیں۔ لیکن اب حکومتِ پاکستان نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو آنے والی نسلوں کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ اس نئے راستے کا نام ہے: “میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ”، جسے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) نے متعارف کروایا ہے۔ اسے عام زبان میں میٹرک ٹیک بھی کہا جاتا ہے۔ ⸻ عام میٹرک اور اس کے مسائل عام میٹرک میں بچوں کو یہ مضامین لازمی پڑھنے ہوتے ہیں: اردو، انگلش، اسلامیات، پاکستان اسٹڈیز، ریاضی، اور سائنس یا آرٹس کے دوسرے مضامین۔ اس پورے دو سالہ سفر میں زیادہ تر وقت بچے رٹے لگانے میں گزار دیتے ہیں۔ امتحان پاس کرنے کے بعد ان کے پاس ڈگری تو آ جاتی ہے، مگر ہاتھ میں کوئی ایسا ہنر نہیں ہوتا جس سے وہ فوری طور پر کما سکیں یا عملی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام میٹرک کے بعد اکثر نوجوان یا تو مزید تعلیم کے خرچ تلے دب جاتے ہیں یا پھر ایک لمبے عرصے تک روزگار کے لئے دربدر پھرتے ہیں۔ ⸻ میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ — کیا ہے؟ اس نئے نظام میں بچے کو صرف یہ لازمی مضامین پڑھنے ہیں: • جنرل سائنس • جنرل میتھس اس کے ساتھ ساتھ بچہ دو ٹیکنیکل مضامین پڑھتا ہے جو کہ ایک ہنر یا ٹریڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اب بچے کو اردو، انگلش، اسلامیات یا پاکستان اسٹڈیز لازمی پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی ہنر سیکھتا ہے، جو اسے گریڈ 10 مکمل کرنے کے ساتھ ہی ایک ماہر ہنرمند بنا دیتا ہے۔ ⸻ کونسے ہنر شامل ہیں؟ حکومت نے میٹرک وِد اسکلز کے تحت یہ بڑے ٹریڈز شامل کئے ہیں: 1. آئی او ٹی اور ڈیٹا کوڈنگ – جدید ٹیکنالوجی اور پروگرامنگ۔ 2. انڈسٹریل الیکٹریشن – بجلی اور فیکٹری کی مشینوں کا ہنر۔ 3. گرافک ڈیزائن اور میڈیا – ڈیزائننگ، ویڈیوز اور ڈیجیٹل کریئیٹیو کام۔ 4. پلمبنگ اور سولر واٹر ہیٹنگ – پانی اور سولر سسٹمز انسٹال اور مرمت کرنا۔ 5. فیشن اور ڈریس میکنگ – کپڑوں کی ڈیزائننگ اور سلائی۔ 6. پروفیشنل شیف – کھانے پکانے اور کچن کا پروفیشنل ہنر۔ 7. بیوٹی اور ہیئر سروسز – بیوٹی پارلر اور سیلون کی مہارت۔ 8. ٹورازم ایکسپرٹ – سیاحت اور ٹریول مینجمنٹ۔ 9. ایچ وی اے سی آر (AC & کولنگ) – اے سی اور کولنگ سسٹمز کی دیکھ بھال۔ 10. ہوٹل مینجمنٹ – ہوٹل اور ریسٹورنٹ چلانے کی تربیت۔ ہر بچہ ان میں سے ایک ٹریڈ چنتا ہے اور دو سال کے اندر وہ اس میں عملی مہارت حاصل کر لیتا ہے۔ ⸻ یہ عام میٹرک سے کس طرح مختلف ہے؟ فرق صاف ہے۔ عام میٹرک میں بچہ دو سال صرف کتابوں اور رٹنے میں لگا دیتا ہے۔ وہ امتحان تو پاس کر لیتا ہے مگر عملی زندگی میں صفر رہتا ہے۔ جبکہ میٹرک وِد اسکلز میں بچہ کتابی بوجھ کم اور عملی ہنر زیادہ سیکھتا ہے۔ صرف جنرل سائنس اور میتھس لازمی ہیں، باقی سارا وقت وہ اپنے ہنر پر لگاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گریڈ 10 مکمل ہوتے ہی وہ ایک سرکاری میٹرک سرٹیفکیٹ ہولڈر بھی ہوتا ہے اور ایک پروفیشنل ہنر مند بھی۔ ⸻ آنے والے وقت کی ضرورت آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ گوگل، یوٹیوب اور اے آئی کے زمانے میں صرف علم یاد کرنا بیکار ہے کیونکہ علم سب کو دستیاب ہے۔ اصل طاقت ہے ہنر۔ • نوکری دینے والا یہ نہیں پوچھتا کہ آپ نے اردو کی کتنی نظمیں یاد کی ہیں۔ • وہ یہ پوچھتا ہے کہ آپ کمپیوٹر پر کیا کرسکتے ہیں، آپ کھانا بنا سکتے ہیں یا مشین ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اسی لئے آنے والا وقت ڈگری ہولڈرز کا نہیں بلکہ اسکلز ہولڈرز کا ہے۔ ⸻ بچوں اور والدین کے لئے پیغام اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ صرف ڈگری والا نہ رہے بلکہ کمانے والا، بنانے والا اور بااعتماد نوجوان بنے تو اسے عام میٹرک کی بجائے میٹرک وِد اسکلز میں داخل کروائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے مستقبل کو روشن کرے گا۔ یہ وہ انقلاب ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ ہنر مند، خوددار اور لیڈر بنائے گا۔ ⸻ کہاں داخلہ لیں؟ فیڈرل بورڈ نے پاکستان بھر میں ان اسکولوں کی فہرست جاری کی ہے جہاں میٹرک وِد اسکلز پڑھایا جاتا ہے۔ آپ یہ فہرست یہاں دیکھ سکتے ہیں: 👉 https://www.fbise.edu.pk/Technical/AFFILIATED%20INSTITUTION%20IN%20%28MATRIC%20TECH%29.pdf ⸻ آخری بات پاکستان کے والدین اور اساتذہ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ بچوں کو صرف ڈگری دلوانا چاہتے ہیں یا ان کے ہاتھ میں ہنر بھی دینا چاہتے ہیں؟ میٹرک اور اسکلز ساتھ ساتھ وہ تحفہ ہے جو حکومتِ پاکستان نے دیا ہے۔ یہ راستہ ہمارے بچوں کو صرف پڑھا لکھا نہیں بلکہ کامیاب، ہنر مند اور کمانے والا انسان بنائے گا۔ ریحان اسکول اس نئے نظام کو بھرپور سپورٹ کرتا ہے کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ مستقبل صرف انہی کا ہے جن کے پاس علم بھی ہو اور ہنر بھی۔ ⸻ 📌 ریفرنسز: • FBISE Technical Education: https://www.fbise.edu.pk/Technicaleducation.php • Affiliated Institutions (Matric-Tech): https://www.fbise.edu.pk/Technical/AFFILIATED%20INSTITUTION%20IN%20%28MATRIC%20TECH%29.pdf • NAVTTC Policy Document: https://navttc.gov.pk/AssetFiles/PC-Matric-Tech-17-12-19-NAVTTC.pdf ⸻
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 133 Views
  • Today was not just a meeting — it was a moment of alignment.

    I had the privilege of spending time with Gulmina Bilal, Chairperson of National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) — Pakistan’s apex body responsible for national skills policy, technical and vocational education standards, workforce development, and aligning training with industry needs across the country.

    She had scheduled 20 minutes.

    She stayed for two and a half hours.

    That alone speaks volumes.

    What impressed me most was her intellectual depth and sincerity. She is one of those rare leaders who is genuinely committed to empowering Pakistan — not through slogans, but through systems.

    She is a deep thinker.
    Constructively skeptical.
    Detail-oriented.
    Unwilling to accept ideas at face value.

    She zooms in.
    She questions.
    She challenges assumptions.
    She seeks clarity before conviction.

    Our discussion covered AI in education, national skills reform, earning while learning, financial independence for students, and building leadership by design.

    At the end of our conversation, she said:

    “This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.”

    She also said:

    “My heart says and wants me to admit my son in your school.”

    And then she described Rehan School as “revolutionary.”

    When a national leader responsible for shaping skills and workforce development for millions calls your work revolutionary — it is both humbling and energizing.

    This is not about praise.

    It is about validation that Pakistan is ready for bold educational transformation.

    Grateful for the time.
    Grateful for the depth.
    Grateful for leaders who think deeply and care sincerely.

    The future belongs to those willing to redesign it.

    #Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #Revolutionary #FutureOfWork #RehanSchool
    Today was not just a meeting — it was a moment of alignment. I had the privilege of spending time with Gulmina Bilal, Chairperson of National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) — Pakistan’s apex body responsible for national skills policy, technical and vocational education standards, workforce development, and aligning training with industry needs across the country. She had scheduled 20 minutes. She stayed for two and a half hours. That alone speaks volumes. What impressed me most was her intellectual depth and sincerity. She is one of those rare leaders who is genuinely committed to empowering Pakistan — not through slogans, but through systems. She is a deep thinker. Constructively skeptical. Detail-oriented. Unwilling to accept ideas at face value. She zooms in. She questions. She challenges assumptions. She seeks clarity before conviction. Our discussion covered AI in education, national skills reform, earning while learning, financial independence for students, and building leadership by design. At the end of our conversation, she said: “This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.” She also said: “My heart says and wants me to admit my son in your school.” And then she described Rehan School as “revolutionary.” When a national leader responsible for shaping skills and workforce development for millions calls your work revolutionary — it is both humbling and energizing. This is not about praise. It is about validation that Pakistan is ready for bold educational transformation. Grateful for the time. Grateful for the depth. Grateful for leaders who think deeply and care sincerely. The future belongs to those willing to redesign it. #Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #Revolutionary #FutureOfWork #RehanSchool
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 437 Views
  • آج کی ملاقات صرف ایک میٹنگ نہیں تھی — یہ ایک فکری ہم آہنگی کا لمحہ تھا۔

    مجھے Gulmina Bilal صاحبہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، جو National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کی چیئرپرسن ہیں۔
    NAVTTC پاکستان کا وہ ادارہ ہے جو قومی اسکلز پالیسی، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے معیار، ورک فورس ڈویلپمنٹ اور صنعت کے مطابق تربیت کے نظام کی نگرانی کرتا ہے — یعنی ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔

    انہوں نے 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔

    وہ ڈھائی گھنٹے بیٹھیں۔

    یہ خود بہت کچھ کہتا ہے۔

    میں نے انہیں فکری طور پر غیر معمولی پایا — ان نایاب لوگوں میں سے ایک جو واقعی پاکستان کو بااختیار بنانے کے مشن پر سنجیدہ ہیں۔

    وہ گہری سوچ رکھنے والی لیڈر ہیں۔
    تنقیدی انداز میں سوال کرتی ہیں۔
    کسی بات کو سطحی طور پر قبول نہیں کرتیں۔

    وہ ہر خیال کو زوم اِن کر کے دیکھتی ہیں۔
    مفروضوں کو چیلنج کرتی ہیں۔
    تفصیل میں جا کر سمجھتی ہیں۔

    ہماری گفتگو AI کی تعلیم، قومی اسکلز ریفارمز، نوجوانوں کو کم عمری میں مالی خودمختار بنانے، اور ایسا نظام ڈیزائن کرنے پر تھی جو طالب علم کو صرف پڑھائے نہیں بلکہ کمانے کے قابل بھی بنائے۔

    گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا:

    “This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.”

    اور پھر انہوں نے ایک ذاتی بات کہی:

    “My heart says and wants me to admit my son in your school.”

    اور انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” قرار دیا۔

    جب ملک کی اسکلز پالیسی کی ذمہ دار شخصیت آپ کے تعلیمی ماڈل کو انقلابی کہے — تو یہ صرف تعریف نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

    میں شکر گزار ہوں اس گہرائی کا۔
    اس وقت کا۔
    اور اس مشترکہ عزم کا کہ ہم اگلی نسل کو صرف تعلیم نہیں، سمت بھی دیں گے۔

    پاکستان کا مستقبل اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو گہرائی سے سوچتے ہیں اور جرات سے عمل کرتے ہیں۔

    #Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #RehanSchool
    آج کی ملاقات صرف ایک میٹنگ نہیں تھی — یہ ایک فکری ہم آہنگی کا لمحہ تھا۔ مجھے Gulmina Bilal صاحبہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، جو National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کی چیئرپرسن ہیں۔ NAVTTC پاکستان کا وہ ادارہ ہے جو قومی اسکلز پالیسی، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے معیار، ورک فورس ڈویلپمنٹ اور صنعت کے مطابق تربیت کے نظام کی نگرانی کرتا ہے — یعنی ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔ انہوں نے 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔ وہ ڈھائی گھنٹے بیٹھیں۔ یہ خود بہت کچھ کہتا ہے۔ میں نے انہیں فکری طور پر غیر معمولی پایا — ان نایاب لوگوں میں سے ایک جو واقعی پاکستان کو بااختیار بنانے کے مشن پر سنجیدہ ہیں۔ وہ گہری سوچ رکھنے والی لیڈر ہیں۔ تنقیدی انداز میں سوال کرتی ہیں۔ کسی بات کو سطحی طور پر قبول نہیں کرتیں۔ وہ ہر خیال کو زوم اِن کر کے دیکھتی ہیں۔ مفروضوں کو چیلنج کرتی ہیں۔ تفصیل میں جا کر سمجھتی ہیں۔ ہماری گفتگو AI کی تعلیم، قومی اسکلز ریفارمز، نوجوانوں کو کم عمری میں مالی خودمختار بنانے، اور ایسا نظام ڈیزائن کرنے پر تھی جو طالب علم کو صرف پڑھائے نہیں بلکہ کمانے کے قابل بھی بنائے۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا: “This was one of the best, most intellectually stimulating conversations I’ve had in the last six or seven years.” اور پھر انہوں نے ایک ذاتی بات کہی: “My heart says and wants me to admit my son in your school.” اور انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” قرار دیا۔ جب ملک کی اسکلز پالیسی کی ذمہ دار شخصیت آپ کے تعلیمی ماڈل کو انقلابی کہے — تو یہ صرف تعریف نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ میں شکر گزار ہوں اس گہرائی کا۔ اس وقت کا۔ اور اس مشترکہ عزم کا کہ ہم اگلی نسل کو صرف تعلیم نہیں، سمت بھی دیں گے۔ پاکستان کا مستقبل اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو گہرائی سے سوچتے ہیں اور جرات سے عمل کرتے ہیں۔ #Leadership #NAVTTC #Pakistan #SkillsDevelopment #AI #EducationReform #RehanSchool
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 550 Views
  • Do you agree with chairman National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) Gulmina Bilal ?
    Do you agree with chairman National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) Gulmina Bilal ?
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 127 Views
  • Rehan College — اور ایک ممکنہ قومی شراکت داری کی شروعات

    آج کی ویڈیو میں میں نے وضاحت کی کہ Rehan College صرف ایک کالج نہیں — ایک ماڈل ہے۔

    ایسا ماڈل جہاں ہر طالب علم کو:

    ✔ AI اور ٹیکنالوجی
    ✔ آن لائن کمائی
    ✔ کمیونیکیشن اور لیڈرشپ

    کے ساتھ ساتھ 16 عملی ہنر (Hard Skills) بھی سکھائے جاتے ہیں:

    پلمبنگ
    الیکٹرک ورک
    میسنری
    ٹائلنگ
    سولر انسٹالیشن
    مکینیکل بیسکس
    اور دیگر عملی مہارتیں

    ہم ڈگری نہیں دیتے۔
    ہم طاقت دیتے ہیں۔

    ایسی طاقت جو طالب علم کو کم از کم ایک ہنر میں ماہر بنائے،
    AI میں مضبوط کرے،
    اور مالی طور پر خود مختار بنائے۔

    جب میں یہ ماڈل سمجھا رہا تھا،
    Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے گہرائی سے سنا، سوال کیے، چیلنج کیا، اور ہر پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی۔

    وہ اس بات سے متاثر ہوئیں کہ ایک نوجوان:

    AI بھی جانتا ہو
    ہاتھ کا ہنر بھی رکھتا ہو
    اور خود اپنی فیس کما سکے

    انہوں نے دلچسپی ظاہر کی کہ کیا National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) اس ماڈل کے ساتھ کسی سطح پر شراکت داری کر سکتا ہے۔

    اور آخر میں…

    انہوں نے کہا کہ وہ کراچی آئیں گی،
    خود اسکول کا دورہ کریں گی،
    اور اس ماڈل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی۔

    یہ ایک جملہ نہیں تھا۔

    یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ارادہ ہو —
    تو تعلیم، ہنر، اور AI کو ایک ساتھ لا کر
    پاکستان کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔

    Rehan College کا وژن واضح ہے:

    ہر طالب علم
    ایک ہنر میں ماہر
    AI میں مضبوط
    اور مالی طور پر خود مختار۔

    انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔
    انقلاب ماڈل بنا کر دکھانے سے آتا ہے۔

    #RehanCollege #NAVTTC #SkillsRevolution #AIinEducation #Pakistan #EarnWhileYouLearn #EducationReform
    🔥 Rehan College — اور ایک ممکنہ قومی شراکت داری کی شروعات 🔥 آج کی ویڈیو میں میں نے وضاحت کی کہ Rehan College صرف ایک کالج نہیں — ایک ماڈل ہے۔ ایسا ماڈل جہاں ہر طالب علم کو: ✔ AI اور ٹیکنالوجی ✔ آن لائن کمائی ✔ کمیونیکیشن اور لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ 16 عملی ہنر (Hard Skills) بھی سکھائے جاتے ہیں: 🔹 پلمبنگ 🔹 الیکٹرک ورک 🔹 میسنری 🔹 ٹائلنگ 🔹 سولر انسٹالیشن 🔹 مکینیکل بیسکس اور دیگر عملی مہارتیں ہم ڈگری نہیں دیتے۔ ہم طاقت دیتے ہیں۔ ایسی طاقت جو طالب علم کو کم از کم ایک ہنر میں ماہر بنائے، AI میں مضبوط کرے، اور مالی طور پر خود مختار بنائے۔ جب میں یہ ماڈل سمجھا رہا تھا، Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے گہرائی سے سنا، سوال کیے، چیلنج کیا، اور ہر پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ اس بات سے متاثر ہوئیں کہ ایک نوجوان: AI بھی جانتا ہو ہاتھ کا ہنر بھی رکھتا ہو اور خود اپنی فیس کما سکے انہوں نے دلچسپی ظاہر کی کہ کیا National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) اس ماڈل کے ساتھ کسی سطح پر شراکت داری کر سکتا ہے۔ اور آخر میں… انہوں نے کہا کہ وہ کراچی آئیں گی، خود اسکول کا دورہ کریں گی، اور اس ماڈل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی۔ یہ ایک جملہ نہیں تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ارادہ ہو — تو تعلیم، ہنر، اور AI کو ایک ساتھ لا کر پاکستان کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ Rehan College کا وژن واضح ہے: ہر طالب علم ایک ہنر میں ماہر AI میں مضبوط اور مالی طور پر خود مختار۔ انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔ انقلاب ماڈل بنا کر دکھانے سے آتا ہے۔ #RehanCollege #NAVTTC #SkillsRevolution #AIinEducation #Pakistan #EarnWhileYouLearn #EducationReform
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 689 Views 0
  • This is one of the best tour of Rehan School Islamabad Campus
    Rehan School Tour to Chairperson NAVTTC — اور ایک بےتاب قیادت کی جھلک

    آج Rehan School میں ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔

    میں نے Gulmina Bilal صاحبہ، چیئرپرسن National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کو مکمل کیمپس کا دورہ کروایا۔

    انہوں نے 20 منٹ دینے تھے…

    وہ ڈھائی گھنٹے رہیں۔

    لیکن اصل بات وقت نہیں تھی۔

    اصل بات تھی اُن کی بےتابی۔

    وہ ہر کلاس میں گئیں۔
    ہر بچے سے سوال کیا۔
    ہر اسکرین کو دیکھا۔
    ہر پروجیکٹ کو پرکھا۔
    ہر وزیٹر سے پوچھا: “آپ کیا محسوس کر رہے ہیں؟”

    وہ صرف دیکھنے نہیں آئیں تھیں۔
    وہ سمجھنے آئی تھیں۔

    انہوں نے طلبہ سے پوچھا:
    تم AI سے کیا بنا رہے ہو؟
    تم کتنی کمائی کر رہے ہو؟
    تمہارا اگلا ہدف کیا ہے؟

    جب ایک قومی ادارے کی سربراہ، جس کے فیصلے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں، خود میدان میں آکر بچوں سے براہِ راست سوال کرے — تو یہ عام بات نہیں ہوتی۔

    یہ قیادت ہے۔

    اور پھر…

    انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” کہا۔

    یہ تعریف نہیں تھی۔
    یہ اشارہ تھا کہ پاکستان بدل سکتا ہے۔
    اگر ہم تعلیم کو صرف ڈگری نہیں، کمائی + اعتماد + AI میں بدل دیں۔

    پاکستان کو ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے
    جو بےتاب ہوں۔
    جو سوال کریں۔
    جو گہرائی میں جائیں۔
    جو رسمی دوروں سے آگے سوچیں۔

    انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔
    انقلاب سوالوں سے آتا ہے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ بھی AI سیکھے، کمائی کرے، اور خود مختار بنے —
    تو وقت ابھی ہے۔

    #RehanSchool #NAVTTC #AIRevolution #Pakistan #Leadership #SkillsDevelopment #FutureOfWork #EducationReformhad
    This is one of the best tour of Rehan School Islamabad Campus 🔥 Rehan School Tour to Chairperson NAVTTC — اور ایک بےتاب قیادت کی جھلک 🔥 آج Rehan School میں ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ میں نے Gulmina Bilal صاحبہ، چیئرپرسن National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) کو مکمل کیمپس کا دورہ کروایا۔ انہوں نے 20 منٹ دینے تھے… وہ ڈھائی گھنٹے رہیں۔ لیکن اصل بات وقت نہیں تھی۔ اصل بات تھی اُن کی بےتابی۔ وہ ہر کلاس میں گئیں۔ ہر بچے سے سوال کیا۔ ہر اسکرین کو دیکھا۔ ہر پروجیکٹ کو پرکھا۔ ہر وزیٹر سے پوچھا: “آپ کیا محسوس کر رہے ہیں؟” وہ صرف دیکھنے نہیں آئیں تھیں۔ وہ سمجھنے آئی تھیں۔ انہوں نے طلبہ سے پوچھا: تم AI سے کیا بنا رہے ہو؟ تم کتنی کمائی کر رہے ہو؟ تمہارا اگلا ہدف کیا ہے؟ جب ایک قومی ادارے کی سربراہ، جس کے فیصلے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں، خود میدان میں آکر بچوں سے براہِ راست سوال کرے — تو یہ عام بات نہیں ہوتی۔ یہ قیادت ہے۔ اور پھر… انہوں نے Rehan School کو “revolutionary” کہا۔ یہ تعریف نہیں تھی۔ یہ اشارہ تھا کہ پاکستان بدل سکتا ہے۔ اگر ہم تعلیم کو صرف ڈگری نہیں، کمائی + اعتماد + AI میں بدل دیں۔ پاکستان کو ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جو بےتاب ہوں۔ جو سوال کریں۔ جو گہرائی میں جائیں۔ جو رسمی دوروں سے آگے سوچیں۔ انقلاب تقریروں سے نہیں آتا۔ انقلاب سوالوں سے آتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ بھی AI سیکھے، کمائی کرے، اور خود مختار بنے — تو وقت ابھی ہے۔ #RehanSchool #NAVTTC #AIRevolution #Pakistan #Leadership #SkillsDevelopment #FutureOfWork #EducationReformhad
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 540 Views 0
  • 40 منٹ کا دورہ… اور 10 منٹ کا سچ

    میں نے Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ کو تقریباً 40 منٹ تک پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کروایا۔

    انہوں نے کلاسز دیکھیں۔
    طلبہ سے سوال کیے۔
    پروجیکٹس دیکھے۔
    سسٹمز کو سمجھا۔

    پھر میں نے اُنہیں بٹھایا —
    اور ایک سادہ سی درخواست کی:

    “براہِ کرم جو کچھ آپ نے دیکھا ہے، اُس پر اپنی سچی رائے دیں۔”

    اگلے 10 منٹ…

    انتہائی قیمتی تھے۔

    یہ صرف تعریف نہیں تھی۔
    یہ ایک سنجیدہ تعلیمی لیڈر کی گہری آبزرویشن تھی۔

    ہر اُس استاد کے لیے
    ہر اُس پرنسپل کے لیے
    ہر اُس اسکول اونر کے لیے
    جو واقعی تعلیم کو بدلنا چاہتا ہے —

    یہ 10 منٹ سننا ضروری ہے۔

    کیونکہ جب ایک قومی سطح کی اسکلز پالیسی بنانے والی شخصیت میدان میں آ کر براہِ راست دیکھے، سمجھے اور پھر اپنی رائے دے — تو وہ عام بات نہیں ہوتی۔

    اگر آپ پاکستان میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں —
    یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔

    سنیں۔
    سوچیں۔
    اور فیصلہ کریں کہ کیا ہم واقعی اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں؟

    #RehanSchool #EducationReform #NAVTTC #Pakistan #AIinEducation #Leadership #FutureOfWork
    🔥 40 منٹ کا دورہ… اور 10 منٹ کا سچ 🔥 میں نے Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ کو تقریباً 40 منٹ تک پورے اسکول کا تفصیلی دورہ کروایا۔ انہوں نے کلاسز دیکھیں۔ طلبہ سے سوال کیے۔ پروجیکٹس دیکھے۔ سسٹمز کو سمجھا۔ پھر میں نے اُنہیں بٹھایا — اور ایک سادہ سی درخواست کی: “براہِ کرم جو کچھ آپ نے دیکھا ہے، اُس پر اپنی سچی رائے دیں۔” اگلے 10 منٹ… انتہائی قیمتی تھے۔ یہ صرف تعریف نہیں تھی۔ یہ ایک سنجیدہ تعلیمی لیڈر کی گہری آبزرویشن تھی۔ ہر اُس استاد کے لیے ہر اُس پرنسپل کے لیے ہر اُس اسکول اونر کے لیے جو واقعی تعلیم کو بدلنا چاہتا ہے — یہ 10 منٹ سننا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک قومی سطح کی اسکلز پالیسی بنانے والی شخصیت میدان میں آ کر براہِ راست دیکھے، سمجھے اور پھر اپنی رائے دے — تو وہ عام بات نہیں ہوتی۔ اگر آپ پاکستان میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں — یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔ سنیں۔ سوچیں۔ اور فیصلہ کریں کہ کیا ہم واقعی اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ #RehanSchool #EducationReform #NAVTTC #Pakistan #AIinEducation #Leadership #FutureOfWork
    0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 311 Views 0